Explained with ayahs 24–27
اللہ عزوجل کی صفات۔
اللہ تعالیٰ اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ صرف وہی خالق و رازق ہے اور صرف وہی الوہیت والا ہے۔ جیسے ان لوگوں کو اس کا اقرار ہے کہ آسمان سے بارشیں برسانے والا اور زمینوں سے اناج اگانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ایسے ہی انہیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ عبادت کے لائق بھی فقط وہی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے نہیں ہوسکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا ہیں اور واضح ہم بیان کرچکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں۔ پس یقینا ہم ہدایت پر اور…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 45
یہ اس معاملہ پر غور کرنے کے لیے آخری اور سب سے بڑا محرک ہے جس کی طرف سامعین کی توجہ دلائی گئی ہے۔ بات اسی حد پر ختم نہیں ہوجاتی کہ اس زندگی میں ہمارے اور تمہارے درمیان حق و باطل کا اختلاف ہے اور ہم میں سے کوئی ایک ہی حق پر ہے، بلکہ اس کے آگے حقیقت نفس الامری یہ بھی ہے کہ ہمیں اور تمہیں، دونوں ہی کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور رب وہ ہے جو حقیقت کو بھی جانتا ہے اور ہم دونوں گروہوں کے حالات سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ وہاں جا کر نہ صرف اس امر کا فیصلہ ہوگا کہ ہم میں اور تم میں سے حق پر کون تھا اور باطل پر کون۔ بلکہ اس مقدمے کا فیصلہ بھی ہوجائے گا کہ ہم نے تم پر حق واضح کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
بحث و مناظرہ میں مخاطب کے نفسیات کی رعایت اور اشتعال انگیزی سے پرہیز
(آیت) وانا او ایاکم لعلی ھدی او فی ضلال مبین، یہ مشرکین و کفار کے ساتھ خطاب ہے۔ دلائل واضحہ سے اللہ تعالیٰ کا خالق ومالک ہونا اور قادر و مطلق ہونا واضح کردیا گیا، بتوں اور غیر اللہ کی بےبسی اور کمزوری کا مشاہدہ کرا دیا گیا، ان سب باتوں کے بعد موقع اس کا تھا کہ مشرکین کو خطاب کر کے کہا جاتا کہ تم جاہل اور گمراہ ہو کہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور شیاطین کی پرستش کرتے ہو۔ مگر قرآن حکیم نے اس جگہ جو حکیمانہ عنوان اختیار فرمایا وہ دعوت و تبلیغ اور مخالفین اسلام اور اہل باطل سے بحث و مناظرہ کرنے والوں کے لئے ایک اہم ہدایت نامہ…
Read the full tafseer →قل یجمع بیننا ربنا ثم یقتح بیننا بالحق وھو الفتاح العلیم (26)
یعنی ان سے کہہ دو کہ اگر یہاں تم ہماری بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہو تو نہ مانو، ایک ایسا دن آنے والا ہے جس میں ہمارا رب ہم کو اور تم کو، دونوں کو، جمع کرے گا اور پھر بالکل ٹھیک ٹھیک فیسلہ فرمائے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ وہ بہت بڑا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس کے فیصلہ کے خلاف کوئی دھاندلی مچانا کسی کے بس میں نہ ہوگا اور ہر چیز کو پورا پوراو علم رکھنے والا ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →26۔ 1 یعنی اس کے مطابق جزا دے گا، نیکوں کو جنت میں اور بدوں کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
16: آیت نمبر : 22۔ 23 میں مشرکین کے مختلف عقیدوں کی تردید کی گئی ہے، ان میں سے بعض مشرکین تو وہ تھے کہ وہ اپنے تراشے ہوئے بتوں ہی کو اپنا خدا مانتے تھے، اور انہی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ براہ راست ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں، ان کی تردید کے لئے آیت 22 میں فرمایا گیا ہے کہ : وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور بعض مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کی تردید کے لئے اسی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ : اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور بعض…
Read the full tafseer →قل یجمع بیننا ۔۔۔۔۔ العلیم (26)
پہلے سبق میں اللہ اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مشترکہ فیصلہ دیا گیا کہ دونوں میں سے ایک ہی حق پر ہے ، اور ایک باطل پر ہے۔ اور حق اور باطل کا آمنا سامنا ہوا تھا تاکہ اہل حق ، حق کی طرف آئیں ، داعی اپنی دعوت پیش کریں اور حق و باطل باہم کشمکش کریں۔ دلائل کے سامنے شبہات لائے جائیں اور باطل حق کو بچھاڑنے کی کوشش کرے۔ لیکن یہ صورت ایک مختصر وقت کے لئے ہوتی ہے۔ اس کے بعد فریقین کے درمیان فیصلہ ہوجاتا ہے۔ یہ فیصلہ دو ٹوک ہے اور فیصلہ کرنے والا بہت بڑا حاکم ہے اور علیم بھی ہے۔ وہ علم اور معرفت پر فیصلہ کرتا ہے۔
اللہ کو فتاح علیم کہہ کر یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
1 یعنی ہر ایک کو اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہیے۔ کوئی شخص دوسرے کے قصور اور غلطی کا جواب دہ نہ ہوگا اگر اتنی صاف باتیں سننے کے بعد بھی تم اپنی حالت میں غور کرنے کے لیے تیار نہیں تو یاد رکھو ہم حجت تمام کرچکے۔ اور کلمہ حق پہنچا چکے۔ اب تم اپنے اعمال کے خود جواب دہ ہو گے ہم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ نہ ایسی حالت میں ہمارا تمہارا کوئی واسطہ۔ خدا کے یہاں حاضر ہونے کے لیے ہر ایک اپنی اپنی فکر کر رکھے۔ وہ سب کو اکٹھا کر کے ٹھیک ٹھیک انصاف کا فیصلہ کر دے گا۔
Read the full tafseer →آیت 26 { قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَہُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہم سب کو ایک دن جمع کرے گا ‘ پھر وہ فیصلہ کر دے گا ہمارے مابین حق کے ساتھ ‘ اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا ‘ خوب جاننے والا ہے۔“
اس دن جو فیصلہ بھی ہوگا بر بنائے علم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک ایک شخص کی ایک ایک حرکت کا علم ہے۔
Read the full tafseer →41 اور اگر تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ آخرت کا اور جواب دہی کا تصور ہی غلط ہے تو یقین جانو کہ جو اللہ ہم سب کو عدم سے وجود میں لایا ہے۔ پھر بھی ہم سب کو دوبارہ مرنے کے بعد زندہ کرکے اکٹھا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ آج تم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہو اور ہم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہیں۔ لیکن اس دن اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان اس طرح انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا جس کی تمہیں بھی ٹھیک سمجھ آجائے گی۔ اور اس کا فیصلہ اس لحاظ سے درست ہوگا کہ وہ ہم سب کا خالق ہے۔ اور خالق کو اپنی بنائی ہوئی چیز کی جس قدر سمجھ ہوسکتی ہے دوسروں کو نہیں ہوسکتی۔ وہ تو ہمارے اور تمہارے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے۔ لہذا اس کے فیصلہ پر…
Read the full tafseer →43۔ وہ نہ کسی فیصلہ سے عاجز ہے اور نہ اس کے کسی فیصلہ میں غلطی کا امکان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
آیت نمبر 22 تا 30
ترجمہ : اے محمد ! کفار مکہ سے کہہ دیجئے کہ جن چیزوں کے بارے میں تمہیں خدا کے سوا (خدائی) کا گمان ہے یعنی جن کو تم اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو ان کو پکارو تاکہ وہ تمہارے گمان کے مطابق تم کو نفع پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا وہ ذرہ برابر خیر و شر کا اختیار نہیں رکھتے، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونون (کے پیدا کرنے) میں شرکت ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کا ان معبودوں میں سے کوئی مددگار ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی یہ ان کے اس قول کو رد کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کے معبود اس کے سامنے سفارش کریں گے بجز ان کے کہ جن کے لئے اجازت…
Read the full tafseer →قل یجمع بیننا ربنا ثم یفتح بیننا بالحق وھو الفتاح العلیم . آپ کہہ دیجئے کہ ہمارا رب ہم کو (یعنی
مجھے اور تمہیں قیامت کے دن) جمع کرے گا ‘ پھر ہمارے درمیان فیصلۂ حق کر دے گا ‘ اور وہی بڑا فیصلہ کرنے والا (اور) جاننے والا ہے۔ یَفْتَحُ فیصلہ کر دے گا ‘ حکم دے دے گا۔ بِالْحَقِّ یعنی ہم میں سے جو کوئی جس بدلہ کا مستحق ہوگا ‘ اللہ وہی بدلہ اس کو دے دے گا۔ حق پرستوں کو جنت میں اور باطل پرستوں کو دوزخ میں داخل کر دے گا۔ الفتّاح حاکم اور لاینحل معاملات کا فیصلہ کرنے والا۔ العلیم یعنی فیصلہ کیا ہونا چاہئے ‘ اس کو خوب جاننے والا۔ آیت سابقہ میں کفار کی مذمت کا اظہار بطور مناظرہ کیا گیا ہے اور اس کے بعد…
Read the full tafseer →اس آیت کو آیت سیف نے منسوخ کردیا اور قیامت کے دن ہمارا رب ہم سب کو جمع کردے گا پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا وہ تمام احکام کا فیصلہ فرمانے والا ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ۔۔ : عبد الرحمان کیلانی ؓ لکھتے ہیں : ”اور اگر تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ آخرت کا اور جواب دہی کا تصور ہی غلط ہے تو یقین جانو کہ جو اللہ ہم سب کو عدم سے وجود میں لایا ہے، پھر ہم سب کو دوبارہ مرنے کے بعد زندہ کر کے اکٹھا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، آج تم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہو اور ہم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہیں، لیکن اس دن اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان اس طرح انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا جس کی تمہیں بھی ٹھیک سمجھ آجائے گی اور اس کا فیصلہ اس لحاظ سے درست ہوگا کہ وہ ہم سب کا خالق ہے اور خالق کو اپنی بنائی ہوئی چیز کی جس قدر سمجھ…
Read the full tafseer →آیت : قل یجمع بینا ربنا مراد یوم قیامت ہے۔ آیت : ثم یفتح بیننا با لحق وہ فیصلہ فرمائے گا ہدایت یا فتہ کو ثواب عطا فرمائے گا اور گمراہ کو سزا دے گا۔ و ھو الفتاح وہ حق کے ساتھ فیصلہ فرما نے والا ہے۔ العلیم وہ مخلوق کے احوال سے آگاہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فزع عن قلوبہم یعنی جب ان کے دل گھبراہٹ سے خالی کردئیے گئے۔
کلام الٰہی سن کر سجدہ میں گرنا
2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب جبار نے محمد ﷺ کی طرف وحی کا ارادہ کیا تو فرشتوں میں سے ایک قاصد کو بلایا تاکہ اس کو پیغام دے کر بھیجیں۔ فرشتوں نے کہا جبار کی آواز کو سنا کہ وہ وحی کے ساتھ کلام فرما رہے ہیں۔ پھر جب ان کے دلوں سے حجاب اٹھا تو ان سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حق فرمایا اور وہ جانتے تھے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق ہی فرماتے ہیں ابن عباس نے فرمایا کہ وحی کی آواز…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ کہیے ][يَجْمَعُ : جمع کرے گا ][بَيْـنَنَا : ہمارے مابین (سب کو)] [ رَبُّنَا : ہمارا رب ][ ثُمَّ يَفْتَـحُ : پھر وہ فیصلہ کرے گا ][بَيْـنَنَا : ہمارے درمیان ][ بِالْحَقِّ ۭ: حق کے ساتھ ][ وَهُوَ الْفَتَّاحُ : اور وہی سارے فیصلے کرنے والا ][ الْعَلِـيْمُ : سب کچھ جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →(قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بالْحَقِّ ) (آپ فرما دیجیے کہ ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائے گا) جب قیامت کے دن توحید والوں کے لیے انعام و اکرام کا اور مشرکین و کافرین کے لیے عذاب کا فیصلہ ہوگا اس وقت تمہیں اپنی گمراہی کا پتہ چل جائے گا۔
(وَھُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ ) (اور وہ بڑا فیصلہ فرمانے والا ہے اور خوب جاننے والا ہے) چونکہ ہر ہر شخص کا ہر ہر عمل اسے معلوم ہے اور ہر ایک کے عقیدوں کا بھی اسے پتہ ہے اس لیے اس کے سارے فیصلے حق ہوں گے اور حقیقت کے مطابق ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
اثبات توحید وتوبیخ وتجہیل مشرکین
قال اللہ تعالیٰ قل ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ بل ھو اللہ العزیز الحکیم۔
(ربط) شروع سورت میں تحمید اور دلائل توحید کا ذکر فرمایا اور پھر داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) پر اپنے انعامات کا اور ان کی شکر گذاری کا ذکر کیا اور بعد ازاں اہل سبا کا قصہ ذکر کیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو بڑی نعمتیں عطا کی تھیں مگر کفر اور شرک اور کفران نعمت کی وجہ سے ان کی عزت و راحت مبدل بہ ذلت و مصیبت ہوگئی۔ پس جب شاکرین اور کافرین کا حال بیان ہوچکا تو اب ان آیات میں مشرکین کی توبیخ اور تجہیل فرماتے ہیں کہ کیسے نادان ہیں کہ جن بتوں میں ذرہ برابر قدرت نہیں ان کو خدا اور…
Read the full tafseer →29:۔ قل یجمع الخ : یہ تیسرا طریق تبلیغ ہے۔ دنیا میں تو واضح اور کھلے دلائل کے باوجود تم حق کا انکار کرتے ہو اور دلائل کا فیصلہ نہیں مانتے ہو آخر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہل حق کو جنت میں اور اہل شرک کو جہنم میں داخل کر کے اپنا فیصلہ ظاہر فرمائیگا تو اس فیصلے کے ماننے سے تمہارے لیے انکار کی کوئی گنجائش نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ عدل پر مبنی اور سراسر حق ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
ربط آیات
ابتدائے سورة میں اللہ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے ، پھر درمیان میں شکر گزاروں اور ناشکر گزاروں کا حال ذکر کیا اس کے بعد شرک اور مشرکوں کا رد کیا ان کے تدبیر اور تصرف میں غلط عقائد کی نفی کی اور ساتھ ساتھ جبری اور قہری سفارش کے مزعومہ نظریات کی تردید کی۔ فرمایا بعض لوگ فرشتوں کو اپنا کارساز اور سفارشی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ تو خود خدا تعالیٰ کے سامنے خوفزدہ رہتے ہیں اور اللہ کے حضور ہمیشہ عاجزی کا اظہار کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے پر پھیلا دیتے ہیں۔ ان پر مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ پھر جب ان کی دہشت کسی حد تک دور ہوتی ہے تو نیچے طبقے والے فرشتے اوپر والوں…
Read the full tafseer →قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بِالْحَقِّ 0 ۭ وَہُوَالْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ 26
جمع
الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ،
( ج م ع ) الجمع
کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
ترکیب : زعتمم ای زعتموھم الہۃ وھما مفعولا زعم حذف الاول لطول الموصول بصلۃ والثانی لقیام صفتہ مقامہ، قالوا قال القول الحق، لمن اذن یتعلق بالشفاعۃ فزع مالم یسم فاعلہ عن قلوبہم قائم مقام الفاعل۔ او ایاکم معطوف علی اسم ان و اما الخبر فیجب ان یکون 1 ؎ مکرا کقولک ان زید او عمرا قائم۔
تفسیر : شکر اور ناشکری کے نتائج بیان فرما کر عرب خصوصاً اہل مکہ کی ناشکری کا رد کرتا ہے۔ انسان کے لیے اس سے زیادہ اور کیا ناشکری ہے کہ وہ اپنے معبود حقیقی اور منعم کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرے، فقال قل ادعوا الذین زعمتم کہ بت پرستوں سے کہو کہ جن کو تم اس کا شریک سمجھتے ہو، ان کو پکارو، دیکھیں وہ تمہاری کہاں تک مدد…
Read the full tafseer →قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ ط وَھُوَالْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ ۔ (السباء : 26)
(کہہ دیجیے، ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا، اور وہی فیصلہ فرمانے والا اور علم والا ہے۔ )
بات کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر تم ہماری بات ماننے کو تیار نہیں ہو تو نہ مانو، لیکن یہ بات کبھی نہ بھولو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان حق و باطل کا اختلاف ہے، کوئی معمولی اختلاف نہیں۔ اور یہ بات طے ہے کہ ہم میں سے ایک حق پر ہے اور دوسرا باطل پر۔ آج اگر اس کا فیصلہ ہوتا نظر نہیں آتا تو اللہ تعالیٰ ایک ایسا دن لائے گا جس میں وہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
فہم القرآن
ربط کلام : مشرک کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جن بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیار دے رکھے ہیں وہ ان کے رزق کے بارے میں بھی اختیار رکھتے ہیں۔
مشرک کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب تک کسی بت یا قبر پر نذرانہ پیش نہ کیا جائے اس وقت تک ہمارے رزق میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے مشرک سمجھتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ ان بزرگوں کی طفیل ملتا ہے۔ اسی بناء پر بت پرست بتوں کے سامنے، فوت شدگان کے سامنے جھکنے والے مزارات پر اور حضرت خضر کو حاجت روا سمجھنے والے دریاؤں اور سمندروں میں نذرانے ڈالتے ہیں۔ یہاں تک کہ کلمہ پڑھنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ اگر ہم نے پیر عبدالقادر…
Read the full tafseer →26: قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا (کہہ دیجئے کہ ہمارا رب ہم سب کو جمع کریگا) قیامت کے دنثُمَّ یَفْتَحُ (پھر وہ فیصلہ فرمائے گا) ۔ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ (ہمارے مابین حق کے ساتھ) بلا ظلم ومیلان کے وَھُوَ الْفَتَّاحُ (اور وہی بڑا فیصلہ فرمانے والا ہے) یعنی حاکم الْعَلِیْمُ (وہ جاننے والا ہے) اپنے فیصلے کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
تفسیر 24۔ ، قل من یرزقکم من فی السموات والارض ، آسمانوں سے بصورت بارش اور زمین سے بصورت سبزہ کون رزق عطافرماتا ہے۔ ، قل اللہ، وہ یہی کہیں گے کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ ، وانا اوایا کم لعلی ھدی اوفی ضلال مبین، یہ شک کے طریق پر نہیں ہے بلکہ یہ بطور انصاف کے ہے ۔ جیسا کہ کہنے والا دوسرے کو کہتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے اور اس کو معلوم ہے کہ یہ شخص سچا ہے اور اس کا دوست جھوٹا ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ نہیں تم ایک امر پر متحد بلکہ تم میں سے ایک فریق ہدایت یافتہ ہے اور دوسراگمراہ ہے۔ پس جس نے نبی کریم ﷺ کی اتباع کی وہ ہدایت پر رہا اور جس نے مخالفت کی وہ گمراہی میں پڑارہا۔ ان کی تکذیب کو ذکر کیا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–32
24 تا 30۔ اوپر گزرا کہ اہل مکہ کی سرکشی کے سبب سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور اس قحط کی بلا کے دفع کرنے میں اہل مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے آخر اللہ تعالیٰ نے ہی جب اپنے فضل سے مینہ بر سایا تو وہ قحط کی بلادفع ہوگئی اسی واسطے ان مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے سرول اللہ کے تم ان بت پرستوں سے یہ تو پوچھ کر آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیدا وار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے مکہ کے فحط کے تجربہ کے بعد اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ کام اللہ کا ہے اس جواب کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ مکہ کے قحط کے تجریہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیت 22
(قل) اے رسول ! جو لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتی انہیں خود ساختہ معبودوں کا عجز اور ان کی عبادت کا بطلان واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ) یعنی جنہیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو، اگر تمہارا پکارنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے، تو انہیں پکار دیکھو۔ ان کی بےبسی اور تمہاری پکار کا جواب دینے پر عدم قدرت کے اسباب ہر لحاظ سے بہت زیادہ اور واضح ہیں۔
بلاشبہ وہ کسی ادنی سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ (لایملکون مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض) ” وہ زمین و آسمان میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں “ یعنی وہ مستقل طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →65 قیامت کے یوم الفصل کی تذکیر و یاددہانی : سو قیامت کے یوم الفصل کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ جمع فرمائے گا ہمارا رب تم ہم سب کو "۔ پس ہم سب کو جمع اور حشر کے اس یوم عظیم کی فکر و تیاری کرنی چاہیئے کہ وہاں کیا بنے گی اور کیا صورت پیش آئے گی کہ وہاں سے لوٹ کر پھر کسی نے آنا نہیں اور کمائی کا پھر کوئی موقع پانا نہیں کہ کمائی کی جگہ اور فرصت یہی دنیا اور اس کی یہ زندگی ہے اور بس۔ سو اصل حقیقت بہرحال یہی ہے لیکن تم لوگ آج اگر ہماری بات ماننے کو تیار نہیں ہو تو تمہاری مرضی۔ تم بیشک نہ مانو لیکن یہ یاد رکھو کہ ایک دن بہرحال ایسا آنے والا ہے جس میں ہمارا رب تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
اللہ تعالیٰ مدد گاروں سے بےنیاز ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت، بڑائی، عظمت، علیم (علم رکھنے والا) ، غالب اور حکمت والا ہونا مثالوں سے بتایا گیا ہے بلکہ ثابت کیا گیا ہے۔ کوئی اسے کسی نام سے بھی پکارے مگر اس کے ” وجود “ سے ہرگز کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کیونکہ آسمانوں اور زمین پوری کائنات کا ذرہ ذرہ صرف اسی کے قوانین کے تحت چل رہا ہے۔ انسان جیسے جیسے علم میں ترقی کرتا چلا جا رہا ہے اللہ کے وجود کا زیادہ پکا یقین کرنے لگا ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ سائنسی ترقی انسان کو روحانیت کی طرف تیزی سے لا رہی ہے۔ یہی تعلیم نبی اکرم ﷺ نے بھی دی ” لا الہ الا اللہ “ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–30
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 تا 30:
اسرار و معارف :
آپ اپنے مخاطبین سے بھی فرما دیجیے کہ اپنے مشرکانہ عقاید میں اللہ کے علاوہ جن بتوں سے تم نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ان کی بھی کوئی حیثیت نہیں کہ اگر پہلی امتوں پر آنے والے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکا تو تمہارے معبودان باطلہ بھی تمہیں کوئی مدد نہ پہنچا سکیں گے اس لیے کہ کائنات میں وہ کسی ذرہ بھر شئے کے مالک نہیں نہ ان کی ذات باری کی ملکیت میں کسی طرح کی کوئی شراکت ہے اور نہ ہی ان میں یہ استعداد ہے کہ کسی کی مدد کرسکیں گے اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ ان کی شراکت تو نہیں لیکن یہ اللہ کریم کے نزدیک سفارش کرسکتے ہیں تو ان میں سفارش کرنے کی بھی استعداد نہیں…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی ظاہر کر دے گا کہ ہم دونوں میں کون ہدایت پر تھا اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا تھا۔7 لہٰذا اسی کا فیصلہ مبنی بر علم و حکمت اور خواہش سے خال ہوسکتا ہے۔ ( کبیر)
Read the full tafseer →(34:26) یجمع۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ جمع مصدر (باب فتح) وہ جمع کرے گا۔ وہ اکٹھا کرے گا۔ بیننا۔ بین۔ درمیان ۔ بیچ۔ مضاف۔ نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ ہمارے درمیان ہمارے بیچ۔
یفتح۔ مضارع واحد مذکر غائب فتح مصدر۔ وہ فیصلہ کرے گا۔ عربی میں کہتے ہیں فتح القضیۃ فتاحا۔ یعنی اس نے معاملہ کا فیصلہ کردیا۔ اور اس سے مشکل اور پیچیدگی کو دور کردیا۔ ثم یفتح بیننا بالحق۔ پھر وہ ہمارے حق و انصاف سے فیصلہ کر دے گا۔ اس سے الفتاح مبالغہ کا صیغہ بمعنی بہت بڑا فیصلہ کرنے والا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 30
یرزق : وہ دیتا ہے
انا : بیشک ہم
ایاکم : تم ہی
لا تسئلون : تم سوال نہ کیے جاؤ گے
اجرمنا : ہم نے گناہ کیا
یفتح : وہ کھولتا ہے
الحقتم : تم نے ملا دیا
کلا : ہرگز نہیں
کافۃ : تمام۔ سب
متی : کب ؟
میعا : مقرر
لا تستاخرون : تم پیچھے نہ ہٹو گے
لا تستقدمون : تم آگے نہ بڑھو گے
تشریح : آیت نمبر 24 تا 30
کفار مکہ اللہ کا نام لیتے ، اس کی ہستی کو مانتے ، اس کے اختیا اور قدرت کے قائل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی تمام کنجیاں اس کے دست قدرت میں ہیں لیکن ان کا گمان یہ تھا کہ اللہ نے ساری دنیا اور اس کے نظام کو پیدا کر کے ا اس کو چلانے کا اختیار ان کے بتوں اور کاہنوں کو دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب تم ان بت پرستوں سے یہ پوچھو کہ آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیداوار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے اور جب مکہ میں قحط پڑا تو تم نے بتوں سے اس قحط کے رفع کی بہت ہی التجا کی ، آخرکار ہمارے محبوب ﷺ سے دعا کراکر اس قحط کو رفع کیا، اس کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیاجائے کہ مکہ کے قحط کے تجربہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں کون حق پر ہے پھر فرمایا کہ ان سے کہہ دیاجائے جو نصیحت تم کو کی جاتی ہے اگر تم لوگ اس کو نہ مانو گے تو ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ ہمیں تمہیں سب کو اللہ کے روبروکھڑا ہوناپڑے گا۔ اس دن حق ناحق سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
[23] مطلب یہ ہے کہ ہم تو تم کو ایک معقول بات سمجھاتے ہیں اور تم سے اس کا کوئی جواب دیتے بن نہیں پڑتا۔ پھر تم خود ہی سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں کون فریق راہ راست پر ہے۔ اس طریق خطاب میں تعلیم ہے مجادلہ کے ساتھ لب و لہجے میں نرمی کی جس سے مخالف کو اپنے نفس میں غور کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
حقیقت ثانیہ
حضور کو مخاطب فرمایا ہے اور کہا ہے ۔ کہ ان لوگوں سے پوچھئے جو ماسوا میں الجھے ہوئے ہیں ۔ اور شرافت انسانی سے قطع نظر کرکے کائنات کے حقیر مظاہر کے سامنے جھکتے ہیں ۔ کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے کوئی روزی عطا کرتا ہے ؟ یعنی یہ ابروباد کا انتظام کس کے ہاتھ میں ہے ۔ کون پانی سے لدی ہوئی ہوائیں بھیجتا ہے اور کون مردہ کھیتوں کو ہرا بھرا اور شاداب بنادیتا ہے ؟ کون انگوریاں ۔ غلہ اور چارہ پیدا کرتا ہے ؟ فرمایا : کہ اس سوال کا جواب سوائے اسکے کیا ہوسکتا ہے کہ یہ اللہ کا اختیار میں ہے ۔ گیا یہ جواب اتنا سچا اور وقیت پر مبنی ہے ۔ کہ کوئی شخص اس سے اختلاف نہیں کرے گا اس کے بعد فرمایا : کہ اس…
Read the full tafseer →(26) اے پیغمبر آپ یہ بھی فرما دیجئے کہ ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہم سب کے مابین ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا اور وہی بڑا خوب فیصلہ کرنے والا ہے۔ سب کا حال جانتا۔ یعنی ایک دن ضرور ایسا آنا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ ہم کو اور تم سب کو جمع کرے گا۔ پھر ہم سب کے درمیان انصاف کے ساتھ صحیح اور حق فیصلہ فرما دے گا وہ بڑا فیصلہ کرنیوالا اور خوب فیصلہ کرنیوالا اور ہر ایک کے حال سے واقف اور جاننے والا ہے آگے پھر شرک کا رد فرمایا۔
Read the full tafseer →ف 1۔ اس سے کسی کا حال پوشیدہ نہیں جس سے غلط فیصلہ کا شبہ ہوسکے۔
Read the full tafseer →اپنے پروردگار کے ہاں ہم سب کو جمع ہونا ہے وہ ہمارا فیصلہ فرمادے گا
26 ۔ گزشتہ آیت میں حق و باطل کے فیصلے کے متعلق ارشاد فرمایا تھا کہ فریقین جب اپنے اپنے موقف پر قائم رہیں اور کوئی بھی دوسرے کی دلیل کو دلیل تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اس کی وضاحت کیونکر ممکن ہے ؟ اس کا یہ جواب دیا گیا تھا کہ جب حالات ایسے ہوں تو مخالف فریق کو کہہ دو کہ تم سمجھتے ہو کہ ہم مجرم ہیں اور جرم کر رہے ہیں اگر بات ایسی ہے تو ہم جو جرم کر رہے ہیں اس کے ہم جواب دہ ہیں اور تم جو عمل کر رہے ہو کرتے رہو کہ تم خود ہی ان کے جواب دہ ہو اور اب ذرا نظر آیت میں مزید فرمادیا کہ آخر ہم اور تم سب کو اللہ تعالیٰ کے ہاں جمع ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
Commentary
That Allah is One and that His power is absolute was the subject in previous verses. In the present verse, it is being said that the Holy Prophet ﷺ “ was sent as the Messenger of Allah to all peoples of the world who are there now or will come in the future.
The word: كَافَّةً (Kaaffah) in: كَافَّةً لِلنَاس Kaaffatal-lin-naas: for all peoples) is used in the sense of making something universal and inclusive of all without the exclusion of anyone from it. The grammatical arrangement of the text required saying: لِلنَاس (lin-naasi kaaffatan: for the people as a whole) because the…
Read the full tafseer →45 This is the last and the strongest motive for the consideration of which the listeners' attention has been invited. It means to impress: "The thing is not only that there is the difference of the truth and the falsehood between you and us, but that both we and you have to be presented before our Lord, the Being Who knows the truth and is also fully aware of the affairs of each of us. There before Him not only will this thing be decided who, between you and us, was in the right and who in the wrong, but this issue also will be settled how we made every possible effort to make the truth…
Read the full tafseer →