Saba 34:54

Saba · from ayah 54

34:54

وَحِیْلَ بَیْنَهُمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ؕ— اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ ۟۠وَحِيۡلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُوۡنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشۡيَاعِهِمۡ مِّنۡ قَبۡلُؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا فِىۡ شَكٍّ مُّرِيۡبٍ

اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And prevention will be placed between them and what they desire, as was done with their kind before. Indeed, they were in disquieting denial.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:54

اُس وقت جس چیز کی یہ تمنا کر رہے ہوں گے اس سے محروم کر دیے جائیں گے جس طرح اِن کے پیش رو ہم مشرب محروم ہو چکے ہوں گے یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پرده حائل کردیا گیا جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا، وه بھی (ان ہی کی طرح) شک وتردد میں (پڑے ہوئے) تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس وقت یہ جس (ایمان) کی آرزو کریں گے اس کے اور ان کے درمیان ایک آڑ کردی جائے گی، جیسا کہ ان جیسے جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایسے شک میں پڑے ہوئے تھے جس نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور روک کردی گئی ان میں اور اس میں جسے چاہتے ہیں جیسے ان کے پہلے گروہوں سے کیا گیا تھا بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی جیسا کہ پہلے اُن کے مثل گروہوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ بیشک وہ دھوکہ میں ڈالنے والے شک میں مبتلا تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے درمیان اور ان چیزوں کے درمیان جن کی وہ خواہش کریں گے، رکاوٹ ڈال دی جائے گی، جیسا کہ اس سے پہلے ان جیسے لوگوں کے ساتھ کیا گیا۔ یقینا وہ ایسے شک میں پڑے ہوئے تھے جو بےچین رکھنے والا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس وقت ان کے اور ان کی خواہش کی چیزوں کے درمیان پردہ حائل کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے ان کے ہم جنسوں سے یہی سلوک کیا گیا تھا۔ وہ بھی ایسے شک میں پڑے ہوئے تھے جو انہیں بےچین کئے ہوئے تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے اور ان کی چاہتوں کے درمیان دیوار حائل ہوجائے گی جس طرح اس سے پہلے ان کے ہم مشیریوں کے ساتھ معاملہ ہوا۔ بیشک وہ بھی الجھن میں ڈالنے ولاے شک میں پڑے رہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آڑ کردی گئی ہوگی ان کے درمیان اور اس چیز کے درمیان جس کی یہ خواہش کریں گے جیسا کہ ان کے ہم مشربوں کے ساتھ کیا گیا ان سے پہلے بیشک یہ سب پڑے تھے الجھن انگیز شک میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان میں اور ان کی آرزوؤں کے درمیان ایک آڑ حائل کردی جائے گی جیسا کہ ان سے قبل والے ان کے ہم مشربوں سے بھی کیا جائے گا۔ یہ (سب) بڑے شک میں تھے تذبذب میں پڑے ہوئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آڑ کردی جائے گی ان کے اور ان کی من پسند چیزوں کے مابین جیسا کہ اس سے پہلے ان جیساطرز عمل اختیار کرنے والے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ } وہ لوگ بھی (ایسے ہی) اضطراب والے شک میں پڑے رہے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان میں ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان جیسے لوگوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

A barrier will be placed between them and what they desire, as was done with the likes of them before. Surely they were in a disquieting doubt.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And a barrier will be placed between them and that which they desire, as it will be done with the people of their kind who were before (them). They have been in a perplexing doubt.

— Muhammad Taqi Usmani

And a barrier will be placed between them and that which they desire, as it will be done with the people of their kind who were before (them). They have been in a perplexing doubt.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And a barrier will be set between them and that which they desire, as was done in the past with the people of their kind. Verily, they have been in grave doubt.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And a gulf is set between them and that which they desire, as was done for people of their kind of old. Lo! they were in hopeless doubt.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And prevention will be placed between them and what they desire, as was done with their kind before. Indeed, they were in disquieting denial.

— Saheeh International

A gulf will exist between them and their desires on the Day of Judgment like the similar people who lived before. They, too, had lived in doubt and uncertainty (about the life hereafter).

— Muhammad Sarwar

And a barrier shall be placed between them and that which they desire, as was done with the likes of them before: surely they are in a disquieting doubt.

— Muhammad Habib Shakir

And they will be shut off from that which they will eagerly desire, as shall be done with the likes of them of yore. Verily they have been in doubt perplexing.

— Abdul Majid Daryabadi

And between them and their desires, is placed a barrier, as was done in the past with their partisans: for they were indeed in suspicious (disquieting) doubt.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–54

عذاب قیامت اور کافر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے اے نبی کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے۔ کہ ہرچند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔ نہ بھاگ کر، نہ چھپ کر، نہ کسی کی حمایت سے، نہ کسی کی پناہ سے۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے پکڑ لئے جائیں گے۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لئے گئے۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لئے گئے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں۔ بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکہ مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے۔ ابن جریر نے اسے بیان کر کے اس کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 76 درحقیقت شرک اور دہریت اور انکار آخرت کے عقائد کوئی شخص بھی یقین کی بنا پر اختیار نہیں کرتا اور نہیں کرسکتا۔ اس لیے کہ یقین صرف علم سے حاصل ہوتا ہے، اور کسی شخص کو بھی یہ علم حاصل نہیں ہے کہ خدا نہیں ہے، یا بہت سے خدا ہیں یا خدائی کے اختیارات میں بہت سی ہستیوں کو دخل حاصل ہے، یا آخرت نہیں ہونی چاہیے۔ پس جس نے بھی دنیا میں یہ عقائد اختیار کیے ہیں اس نے محض قیاس و گمان پر ایک عمارت کھڑی کرلی ہے جس کی اصل بنیاد شک کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور یہ شک انہیں سخت گمراہی کی طرف لے گیا ہے۔ انہیں خدا کے وجود میں شک ہوا۔ انہیں توحید کی صداقت میں شک ہوا۔ انہیں آخرت کے آنے میں شک ہوا۔ حتّیٰ کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وحیل بینہم وبین ما یشتھون، یعنی ان لوگوں کو جو چیز محبوب اور مقصود تھی ان کے اور اس چیز کے درمیان پردہ حائل کر کے ان کو محروم کردیا گیا۔ یہ مضمون قیامت کے حال پر بھی صادق ہے کہ قیامت میں یہ لوگ نجات اور جنت کے طالب ہوں گے وہاں تک نہ پہنچ سکیں گے اور دنیا میں وقت موت پر بھی صادق ہے کہ دنیا میں ان کو یہاں کی دولت و سامان مقصود تھا موت نے ان کے اس مطلوب کے درمیان حائل ہو کر ان کو اس سے جدا کردیا۔ کما فعل باشیاء عہم، اشیاع شیعہ کی جمع ہے، کسی شخص کے تابع اور ہم خیال کو اس کا شیعہ کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو عذاب ان کو دیا گیا کہ اپنے مطلوب و محبوب سے محروم کردیئے گئے۔ یہی عذاب اس سے پہلے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 54 یعنی جب فیصلہ کن عذاب نمودار ہوجائے گا تو ان کے اور ان کی تمام چاہتوں کے مابین دیوار حائل ہوجائے گی۔ وہ ایمان لانا چاہیں گے لیکن ان کا یہ چاہنا بےسود ہوگا۔ وہ مہلت کی درخواست کریں گے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوگی۔ وہ اپنے شریکوں کو پکاریں گے لیکن ان کی طرف سے بھی ان کی کوئی فریاد رسی نہیں ہوگی۔ غرض امید کے تمام دروازے ان پر بند ہوجائیں گے اور ایک ابدی مایوسی سے ان کو سابقہ پیش آئے گا۔ ’ کما فعل باشیاعھم ‘ یعنی ان کو بھی اسی صورت حال سے دو چار ہونا پڑے گا جس سے ان کے پشرو ہم مشربوں کو دو چار ہونا پڑا۔ یہ اشارہ عاد، ثمود، اہل مدین اور فرعون وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل کے ساتھ قرآن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

54۔ 1 یعنی آخرت میں وہ چاہیں گے کہ ان کا ایمان قبول کرلیا جائے، عذاب سے ان کی نجات ہوجائے، لیکن ان کے درمیان اور ان کی اس خواہش کے درمیاں پردہ حائل کردیا گیا یعنی اس خواہش کو رد کردیا گیا۔ 54۔ 2 یعنی پچھلی امتوں کا ایمان بھی اس وقت قبول نہیں کیا گیا جب وہ عذاب کے آنے کے بعد ایمان لائیں۔ 54۔ 1 اس لیے اب معائنہ عذاب کے بعد ان کا ایمان بھی کسی طرح قبول ہوسکتا ہے ؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ریب وشک سے بچو، جو شک کی حالت میں فوت ہوگا اسی حالت میں اٹھے گا اور جو یقین پر مرے گا، قیامت والے دن یقین پر ہی اٹھے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 52–54

23: یعنی ایمان لانے کی اصل جگہ دنیا تھی جو اب دور جا چکی، اب یہاں اتنی دور پہنچنے کے بعد وہ ایمان تمہارے ہاتھ نہیں آسکتا جو دنیا ہی میں مطلوب تھا، کیونکہ دیکھنا تو یہی تھا کہ دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو کر تم اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے ہو، یا بھول جاتے ہو ؟ اب جبکہ آخرت کا سارا منظر آنکھوں کے سامنے آگیا تو اب ایمان لانا کون سے کمال کی بات ہے جس کی بنا پر تمہیں معاف کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–54

اب خاتمہ اس سورة کا قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ منظر حرکت اور دوڑ دھوپ سے پر ہے ۔ اس میں دنیا اور آخرت کے ڈانڈے ملے ہوئے ہیں ۔ گویا دنیا اور آخرت ایک ہی اسٹیج پر ہیں ۔ اس منظر کی جھلکیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر گزرتی ہیں۔ فزعوا (34: 51) اچانک ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔ یہ بھا گنا چاہتے تو تھے لیکن دیکھو پکڑے جارہے ہیں ، کوئی ایک بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ دور تک نہیں بھاگ سکتے قریب قریب ہی سے پکڑے جارہے ہیں ۔ واخذوا من مکان قریب (34: 51) اچانک انہوں نے تھوڑی بہت حرکت تو کی بھاگنے کے لیے مگر نہ بھاگ سگے ۔ اب سب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے بعد ازوقت ۔ اب تو ایمان ان سے بہت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جس چیز کی آرزو رکھتے ہیں مثلا ایمان مقبول یا نجات، یا دنیا کی طرف واپس جانا، یا دنیاوی لذتیں اور عیش و آرام۔ ان چیزوں کے اور ان کفار کے درمیان سخت روک قائم کردی گئی۔ کبھی ان تک نہیں پہنچ سکتے۔ 2 یعنی پہلے جو اسی قماش کے لوگ گزرے ہیں جیسا معاملہ ان سے کیا گیا تھا ان سے بھی ہوا۔ کیونکہ وہ لوگ بھی ایسے ہی مہمل شبہات اور بیجا شک و تردد میں گھرے ہوئے تھے جو کسی طرح ان کو چین نہ لینے دیتا تھا۔ تم سورة سبا

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 54 { وَحِیْلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَہُوْنَ } ”اور آڑ کردی جائے گی ان کے اور ان کی من پسند چیزوں کے مابین“ مَا یَشْتَہُوْنَ سے مرادجنت اور جنت کی نعمتیں ہیں۔ سورة قٓ‘ آیت 35 میں اہل جنت کے لیے ان نعمتوں کا ذکر یوں آیا ہے : { لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ فِیْہَا } ”ان کے لیے اس میں ہوگا جو وہ چاہیں گے“۔ یعنی جو جو چیزیں انسان کو مرغوب ہوتی ہیں وہ اہل جنت کو جنت میں فراہم کی جائیں گی۔ جیسا کہ سورة حٰمٓ السجدۃ کی آیت 31 میں فرمایا گیا : { وَلَـکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ } ”اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہوگا جس کی خواہش تمہارے جی کریں گے“۔ جبکہ مجرموں کو اس دن ان نعمتوں سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

79 اس وقت ان کی خواہشات کیا ہوں گی۔ یہی کہ ہم ایمان لے آئیں یا ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے یا کوئی ایسی صورت بن جائے کہ ہم عذاب سے بچ سکیں یا ہمارے لئے کوئی سفارش کرنے والا یا ہمارا کوئی مددگار ہی اٹھ کھڑا ہو۔ اس دن ان کی اس قسم کی تمام خواہشات کو یوں ختم کرکے انہیں مایوس کردیا جائے گا جیسے ان کی خواہشات کے آگے بند باندھ کر انہیں ان سے یکسر اوجھل کردیا گیا ہے۔ پھر انہیں سوا عذاب بھگتنے کے کوئی دوسرا خیال بھی نہ آسکے گا۔ 80 أشیاع شیعہ کی جمع ہے اور شیعہ کے معنی پارٹی یا سیاسی فرقہ ہے۔ جس کی بنیاد عقیدہ کا اختلاف ہو اور شیعہ کی جمع شیعا بھی آتی ہے۔ اور اشیاعجس اس کی جمع اشیاع آئے تو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72۔ (اور ان کی یہ آرزو پوری نہ ہونے پائے گی) مطلب یہ ہوا کہ منکروں اور کافروں کی ساری اکڑ مرتے ہی ختم ہوجائے گی، اب گڑگڑائیں گے کہ توبہ قبول ہو، ایمان قبول ہو، دنیا میں واپس جانے کی اجازت ملے، عذاب سے نجات دی جائے، لیکن کوئی بھی آرزو قبول نہ ہوگی، ہر درخواست رد کردی جائے گی۔ (آیت) ” ما یشتھون “۔ یعنی ان کی آرزو سے قبول ایمان، اس کی تفسیریں بھی آئی ہیں لیکن الفاظ قرآنی جامع ہیں، ہر تفسیر وتعبیر پر حاوی۔ 73۔ (کہ بین سے بین دلائل کے باوجود بھی دولت ایمان سے بہرہ ور نہ ہوسکے) (آیت) ” مریب “۔ میں متشککین کا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ شک میں تردو وتذبذب ہی میں پڑے حیران وسرگردان رہا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–54

آیت نمبر 46 تا 54 ترجمہ : آپ کہئے کہ میں تمہیں صرف ایک (مختصر سی) بات کی نصحیت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم خدا کے وسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو یا تنہا تنہا کھڑے (مستعد) ہوجاؤ، پھر سوچو تو تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے ساتھی محمد کو کوئی جنون نہیں وہ تو تم کو آخرت کے سخت عذاب سے اس کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے اگر تم اس کی بات نہ مانو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرنے اور تبلیغ پر تم سے جو معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو یعنی میں اس انذار و تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ طلب نہیں کرتا، میرا صلہ تو اللہ ہی کے ذمہ ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے میری صداقت سے واقف ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق بات اپنے نبیوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وحیل بینھم وبین ما یشتھون . اور ان میں اور ان کی مطلوب چیزوں میں آڑ کردی جائے گی۔ مَا یَشْتَھُوْنَ سے مراد ہے ایمان کا نفع ‘ دوزخ سے نجات ‘ دنیا کی طرف واپسی یا وہ تمام ماکولات و مشروبات وغیرہ مراد ہیں جو دنیا میں حاصل تھے اور جن کی طرف ان کی طبعی رغبت ہوگی۔ کما فعل باشیاعھم من قبل انھم کانوا فی شک مریب . جیسا کہ ان کو ہم مشرب لوگوں کے ساتھ کیا جائے گا جو ان سے پہلے تھے کیونکہ یہ سب بڑے شک میں پڑے ہوئے تھے جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا تھا۔ اَشْیَاع یعنی اقوام گذشتہ کے ان جیسے کافر۔ فِیْ شَکٍّ یعنی قیامت اور نزول عذاب کے متعلق وہ شک میں پڑے ہوئے تھے۔ مُرِیْبٍ شک پیدا کرنے والا یا شک والا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اس لیے ان میں اور ان کی پھر دنیا کی طرف واپسی کی درخواست میں ایک آڑ کردی گئی۔ جیسا کہ ان کے ہم مشربوں کے ساتھ بھی یہی برتاؤ کیا جاچکا جو ان سے پہلے کفر کرچکے تھے۔ یہ سب آسمانوں اور زمین کے خالق کے بارے میں بڑے شک میں تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ۔۔ : ”أَشْیَاعٌ“ ”شِیْعَۃٌ“ کی جمع ہے، ایک جیسے لوگوں کی جماعت۔ ”مَا يَشْتَهُوْنَ“ (جس کی وہ خواہش کریں گے) سے مراد توبہ اور ایمان لانا ہے۔ یعنی وہ آخرت میں چاہیں گے کہ ان کا ایمان قبول ہوجائے اور عذاب سے ان کی نجات ہوجائے، مگر ان کے درمیان اور ان کی خواہش کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ جیسا کہ ان سے پہلے توحید و رسالت اور آخرت کے منکرین کے ساتھ کیا گیا کہ عذاب دیکھنے کے بعد کسی کی توبہ قبول ہوئی نہ ایمان لانا معتبر ہوا، جیسا کہ فرمایا : (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا ۭ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : و حیل بینھم و بین ما یشتھون یعنی ان کے درمیان اور ان کی نجات کے درمیان عذاب حائل ہوجائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے درمیان اور دنیا میں جو وہ اموال اور اہل کے خواہش کرتے تھے ان کے درمیان عذاب حائل ہوجائے گا۔ قتادہ کا مذہب ہے جب انہوں نے عذاب دیکھا تو اس وقت وہ خواہش رکھتے تھے کہ ان کی جانب سے یہ قبول ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے اس کو بجا لائیں اور با قی چیزوں سے رک جائیں، تو ان کے درمیان اور ان کی خواہش کے درمیان رکاوٹ قائم کردی جائے گی، کیونکہ اس کا وقت دنیا تھا اور اس وقت یہ چیز زائل ہوچکی ہے۔ اصل حول ہے وائو کی حرکت حاء کو دی گئی تو وائو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وحیل بینہم وبین مایشتہوں (اور ان میں اور ان کی مطلوب چیزوں میں آڑ کردی جائے گی) یعنی ان کے اور ایمان کے درمیان رکاوٹ پیدا ہوگی۔ 2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جرری وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وحیل بینہم وبین مایشتہوں (یعنی قیامت کے آڑ کردی جائے گی) ” مایشتہوں “ سے مراد ہے مال اولاد شان و شوکت اور اہل عیال آیت ” کما فعل باشیاعہم من قبل (جیسا کہ ان کے ہم مشرب لوگوں کے ساتھ کیا جائے گا) یعنی جیسے ان سے پہلے کافروں کے ساتھ کیا۔ 3۔ البیہقی نے شعب الایمان میں سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَحِيْلَ [اور حائل کی جائے گی (رکاوٹ)] بَيْنَهُمْ [ان کے درمیان ] وَبَيْنَ مَا [اور س کے درمیان جو ] يَشْتَهُوْنَ [وہ لوگ چاہتے ہوں گے ] كَمَا فُعِلَ [اس کے مانند جو کیا گیا ] بِاَشْيَاعِهِمْ [ان کی (ہم عقیدہ) جماعتوں کے ساتھ ] مِّنْ قَبْلُ ۭ [اس سے پہلے ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [بیشک وہ لوگ تھے ] فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ [ایک الجھا دینے والے شک میں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–54

آخری آیتوں میں منکرین کے لیے وعید ہے، فرمایا (وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا) (الی اخر السورۃ) (اور اگر آپ اس وقت کو دیکھیں جب یہ لوگ گھبرا جائیں گے تو پھر چھوٹنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور قریبی جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لائے اور اتنی دور سے ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے اس کا انکار کرچکے ہیں، اور دور ہی دور سے بےتحقیق باتیں پھینکا کرتے ہیں اور ان کے اور ان کی آرزو کے درمیان آڑ کردی جائے گی۔ بلاشبہ وہ تردد میں ڈالنے والے شک میں تھے۔ بتوفیق اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ سورة سبا کی تفسیر تمام ہوئی والحمد للّٰہ اولاً واخرًا و باطناً وظاھرًا والسلام علی من…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–54

خاتمہء سورت برکلمہء حکمت وموعظت قال اللہ تعالی۔ قل انما اعظکم بواحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ انہم کانوا فی شک مریب۔ (ربط) ابتدائے سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت اور قیامت تینوں مضمون بیان ہوئے اب سورت کو ایک نصیحت پر ختم فرماتے ہیں جس سے توحید اور رسالت اور قیامت یعنی دین کے اصول ثلاثہ کی حقانیت واضح ہوجائے۔ ان تقوموا للہ سے توحید کی طرف اشارہ ہے اور ما بصحبکم من جنۃ ان ھو الا نذیر لکم۔ سے رسالت کی طرف اشارہ ہے اور بین یدی عذاب شدید سے یوم آخرت کی طرف اشارہ ہے تفسیر کبیر ص 24 ج 7۔ اور قل ما سالتکم من اجر سے مشرکین کے اس شبہ کو قطع کرنا ہے کہ آپ ﷺ کا فرمانا کسی طمع اور غرض پر مبنی نہیں بلکہ فقط تمہاری…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

56:۔ وحیل الخ : حیل اور فعل دونوں بمعنی مضارع ہیں مشکرین قیامت کے دن کئی آرزوئیں کریں گے۔ توبہ قبول ہوجائے۔ ایمان قبول ہو۔ دنیا میں واپس بھیجدئیے جائیں۔ عذاب سے نجات مل جائے وغیرہ وغیرہ لیکن ان کی کوئی آرزوپوری نہ ہونے دی جائے گی۔ ان کے اور ان کی آرزؤں کے درمیان آڑ حائل کردی جائے گی۔ جیسا کہ ان کے دوسرے ہم مشربوں سے بھی یہی سلوک کیا جائے گا جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں۔ یہ لوگ دنیا میں بھی دین اسلام کی سچائی اور توحید کے بارے میں بڑے شک اور تذبذب میں تھے اور انہیں اطمینان قلب نصیب نہ ہوا۔ اس لیے آخرت میں بھی وہ حیران و سرگرداں رہیں گے۔ اور انہیں سکون میسر نہ ہوگا۔ فی شک ای من امر الرسل والبعث…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–54

ربط آیات گزشتہ آیات میں مشرکین کے باطل نظریات کا رد ہوا وہ بدبخت پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت و نبوت کا انکار کرتے تھے اور قرآن پاک کو کلام الٰہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، پھر جب قرآن کے اثر انداز ہونے کی بات ہوئی تو اسے جاننے سے تعبیر کرتے۔ اللہ نے مشرکین کو سخت تنبیہ کی اور اب آخر میں نصیحت کے پیرائے میں فرمایا کہ اگر مشرک لوگ ذرا بھی غور و فکر کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ حضور ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور ان کا لایا ہوا قرآن اللہ کی برحق کتاب ہے۔ قیامت یقینا آنے والی ہے اور سب کو محاسبے کے عمل سے گزرنا ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے سابقہ ادوار کے مشرکوں کا حال بھی بیان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَحِيْلَ بَيْنَہُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَہُوْنَ كَـمَا فُعِلَ بِاَشْـيَاعِہِمْ مِّنْ قَبْلُ۝ 0 ۭ اِنَّہُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ۝ 54ۧ حول أصل الحَوْل تغيّر الشیء وانفصاله عن غيره، وباعتبار التّغيّر قيل : حَالَ الشیء يَحُولُ حُؤُولًا، واستحال : تهيّأ لأن يحول، وباعتبار الانفصال قيل : حَالَ بيني وبینک کذا، وقوله تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24] ( ح ول ) ' الحوال ( ن ) دراصل اس کے معنی کسی چیز کے متغیر ہونے اور دوسری چیزوں سے الگ ہونا کے ہیں ۔ معنی تغییر کے اعتبار سے حال الشئی یحول حوولا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کی شے کے متغیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–54

دلائل قائم کرکے ہٹ دھرم مخاطبوں کو اب ایک اور طریقہ سے ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ فقال قل انما اعظکم بواحدۃ کہ میں تم کو ایک ہی بات کہتا ہوں، نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر اس کے بھی معنی نہیں کہ آپ ان کو صرف ایک ہی حکم پر مامور کرتے تھے۔ توحید وغیرہ کہ پھر باقی شاخیں قرار دی جاویں، جیسا کہ تفسیر کبیر میں ہے بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ جیسا کہ کہا کرتے ہیں۔ لو اب تم ایک کام کرو۔ ان تقوموا للّٰہ کہ ایک ایک تنہا ہو کر اور باہم مل کر خدا کے لیے یہ تو سوچو کہ تمہارے صاحب کو یعنی مجھے کچھ جنون تو نہیں ہے۔ یہ رسالت کے اثبات میں کلام ہے کہ خوب غور کرو کہ میں دیوانہ نہیں ہوں۔ جب دیوانہ نہیں تو کون عاقل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَحِیْلَ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ مَایَشْتَھُوْنَ کَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِہِمْ مِّنْ قَبْلُ ط اِنَّھُمْ کَانُوْا فِیْ شَکٍّ مُّرِیْبٍ ۔ (السباء : 54) (اور ان کے اور ان کی چاہتوں کے درمیان دیوار حائل کردی جائے گی، جس طرح اس سے پہلے ان کے ہم مشربوں کے ساتھ کیا گیا، بیشک وہ بھی گمراہ کن شک میں پڑے رہے۔ ) امیدوں کا اختتام گزشتہ آیت کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ عذاب کو سامنے دیکھ کر ایمان لانے کا اعلان کریں گے، لیکن اس کو بری طرح رد کردیا جائے گا۔ وہ مہلت کی درخواست کریں گے کہ ہمیں ایک دفعہ پھر دنیا میں جانے کی اجازت دی جائے وہاں ہم وہی زندگی اختیار کریں گے جس کی دعوت اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 52–54

فہم القرآن ربط کلام : کفر و شرک پر قائم رہنے والوں کا انجام۔ کفار اور مشرکین جہنم کو دہکتے اور ہانپتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے پسینے چھوٹ جائیں گے اور ان کے کلیجے منہ کو آجائیں گے وہ اپنے طور پر بھاگنے کی کوشش کریں گے۔ ابھی وہ بھاگنے کا سوچ ہی رہے ہوں گے کہ ملائکہ ان کی گردنیں دبوچتے ہوئے ان کے گلے میں جہنم کے طوق ڈال دیں گے اور ان کے پاؤں میں بیڑیاں پہنا دیں گے۔ ان کو کوڑوں سے ہانکتے ہوئے جہنم کی طرف دھکیل دیں گے۔ اس صورت حال میں جہنمی حسرت بھرے الفاظ اور انداز میں فریاد کریں گے کہ اب ہم ایمان لاتے ہیں کیونکہ ہم نے وہ سب کچھ دیکھ اور پالیا ہے جس کی ہم تکذیب کیا کرتے تھے۔ لیکن اس وقت ایمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ان کی تمنائوں پر پانی پھرجائے گا : 54: وَحِیْلَ (اور روک ڈال دی گئی) ۔ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَھُوْنَ (ان میں اور ان کی تمنائوں میں) ایمان کا نفع اس دن اور اس کے ذریعہ آگ سے چھٹکارا اور جنت کی کامیابی۔ یا نمبر 2 دنیا کی طرف واپسی جیسا کہ ان کے متعلق اس قول میں مذکور ہے۔ فارجعنا نعمل صالحًا ] السجدہ : 12[ یقینی وقوع کی بناء پر یہ افعال ماضیہ لائے گئے ہیں۔ اگرچہ مراد استقبال ہے اور وہ افعال یہ ہیں : فزعوا، اخذوا وحیل۔ کَمَا فُعِلُ بِاَشْیَا عِہِمْ مِّنْ قَبْلُ (جیسا کہ ان کے ہم مشربوں کے ساتھ یہی کیا جائے گا۔ جو ان سے پہلے ہوئے تھے) ۔ اشیاع سے مراد وہ کفار جو ان کے مشابہ تھے۔ اِنَّھُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

54، وحیل بینھم وبین ما یشتھون، اس سے مراد ایمان ، توبہ اور دنیا کی طرف واپس جانے کی خواہش رکھنا ۔ بعض نے کہا کہ دنیا کی نعمتیں اور اس کے پھل وغیرہ ۔ ، کما فعل باشیاعھم ، ان کے نظائر بھی ماقبل گزرے ہوئے کفار کی حالت کی طرح ہوگی ۔ ، من قبل ، ان کا بھی ایمان اور توبہ قبول نہیں ہوگی ناامیدی کے وقت ۔ ، انھم کانوا فی شک ، یعنی قیامت اور نزول عذاب کے متعلق وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ، مریب، شک پید ا کرنے والا ، تہمت پیدا کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–54

50۔ سعد بن ابی وقاص کے بیٹے عمر بن سعد ؓ کہا کرتے تھے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا ہے جو مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی شان میں کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ نے خود بھی اپنے باپ دادا کا دین چھوڑا نا چاہتے ہیں اوپر کی آیتوں میں مشریکن مکہ کا یہ قول جو گذرا کہ ما ھذا الارجل یرید ان یصد کم عماکان یعبد آیا ثمکم اس سے عمر بن سعد کے اس قول کی تصدیق بھی ہوتی ہے ‘ یہ عمر بن سعدثقہ تابعیوں میں ہیں لیکن یزید کی طرف سے جو لشکر حضرت حسین ؓ نے کوفہ پر لڑا اس لشکر کے یہ عمر بن سعد سردار تھے اس واسطے اسماء الرجال اور تاریخ کی کتابوں میں ان عمر بن سعد ؓ پر لوگ طعن کرتے ہیں لیکن ان کی روایت میں کچھ طعن نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–54

آیت 51 اللہ تبارک فرماتا ہے : (ولو تری) ” اور اگر آپ دیکھیں “ اے رسول ! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال (اذفرعوا) ” جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے “ عذبا اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انہوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب ان کے لئے عذاب کا فیصلہ کردیا جائے گا تو ان کے لئے بھاگنے کی کوئی جگہ ہوگی نہ وہ بچ ہی سکیں گے (واخذوا من مکان قریب) ” اور وہ قریب ہی سے پکڑ لئے جائیں گے۔ “ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے کہ ان کو پکڑ لیا جائے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

112 منکرین کے لیے ہمیشہ کی یاس و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے لیے آخرت میں آس وامید کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ دائمی یاس و محرومی کے ہاویے میں جا گریں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور آڑ کردی گئی انکے اور ان کی خواہشات کے درمیان "۔ { مَا یَشْتَہُوْنَ } عام ہے ہر خواہش کو شامل ہے۔ یعنی ان کے درمیان اور ان کی ہر خواہش کے درمیان آڑ کردی جائے گی۔ پہلے تو یہ لوگ چاہتے تھے کہ دنیا سے جائیں ہی نہ تاکہ یہاں کی نعمتوں میں ہمیشہ کے لئے عیش کرتے رہیں مگر ان کو دنیا بہرحال چھوڑنا پڑی اور اس سے ان کو اپنے وقت پر کوچ کرنا پڑا۔ پھر وہاں پہنچنے کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–54

ایمان لانے کا مقام دنیا ہے آخرت نہیں تشریح : انسانی فطرت کا بیان ہے کہ جب تک اس کے اندر یقین کی کیفیت پیدا نہ ہوجائے وہ کچھ نہیں کرسکتا یہ صرف مکہ والوں کا حال ہی نہیں بلکہ یہ ان سے پہلے اور ان سے بعد میں آنے والے سب لوگوں کا ایک ہی طریقہ ہے۔ موجودہ زمانہ ترقی اور علم و عرفان کا زمانہ ہے مگر جب ہم کفار و مشرکین اور مسلمانوں کی تعداد کا حساب لگاتے ہیں تو نسبتاً مسلمان پوری دنیا میں کم تعداد رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اس وقت دنیا کی آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی ہیں۔ اکثر مسلم ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں اور یہ کل ارکان کا ایک تہائی ہیں۔ باقی کل آبادی یہ بھی جانتی ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–54

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 46 تا 54: اسرار و معارف : آپ ان کے اندیشوں کے جواب میں انہیں فرما دیجئے کہ ایک کام کرو محض جذباتی باتیں نہ کرو ذرا خلوص کے ساتھ جذبات سے الگ ہو کر محض اللہ کے لیے غور کرو اکیلے میں یا مل کر اور اچھی طرح سے فکر کرو کہ اللہ کا جو بندہ تم سے مخاطب ہے وہ کیسا ہے اتنا بڑا دعوی کرتا ہے اور پھر اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد یا لاؤ لشکر اور مال و دولت کے وہ بات کہہ رہا ہے جو نہ صرف اہل مکہ بلکہ دنیا بھر کے کفار کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ان کے صدیوں کے مذاہب کو باطل قرار دے رہا ہے اہل عرب کے سامنے صرف یہ ایک دعوی کہ جو کتاب میں پیش کر رہا ہوں دنیا کے سب اہل علم مل کر بھی اس جیسا ایک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی عذاب سے چھٹکارا، یا دنیا کا مال و متاع اور عیش و آرام یا دنیا کی طرف پلٹنا یا توبہ اور ایمان وغیرہ۔ الغرض اس قسم کی جو خواہشیں بھی کریں گے اس سے محروم کردیئے جائیں گے۔ ( ابن کثیر)4 یعنی انہیں اللہ، رسول، آخرت الغرض ہر چیز میں شک تھا اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز شک کرنے والوں کا حشر بھی وہی ہوگا جو کھلم کھلا انکار کرنے والوں کا ( وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 53–54

(34:53) یقذفون بالغیب۔ یقذفون کے لئے ملاحظہ ہو آیۃ (34:48) ۔ جب کوئی شخص لا یعنی باتیں کرتا ہے اور ہر زہ سرائی کرتا ہے تو عرب کہتے ہیں ھو یقذف بالغیب وہ اندھیرے میں تیر چلانا ہے۔ اس جملہ کا عطف وقد کفروا پر ہے۔ اور جملہ حالیہ ہے۔ من مکان بعید دور جگہ سے یعنی بغیر کسی عقلی دلیل کے اپنے کفریہ عقائد پر اڑے رہے کبھی توحید کا انکار کیا اور کبھی قرآن کو من گھڑت افسانہ قرار دیا۔ ملائکہ کو خدا کا شریک گردانا۔ رسول خدا ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیں۔ کبھی ان کو ساحر کبھی شاعر اور کبھی مجنون کہا۔ اور کبھی بھی نزدیک سے رسول اللہ ﷺ کے پیغام پر غوروخوض نہ کیا۔ حقیقت کو جاننے سے دور ہی رہے۔ تو ایسی صورت میں جب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–54

لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 54 اعظ : میں نصیحت کرتا ہوں مثنی : دو دو فرادی : ایک ایک صاحب : ساتھی یقذف : وہ پھینکتا ہے ما یبدی : وہ ابتدا نہیں کرتا فزعوا : وہ گھبرا گئے التناوش : جھپٹ کر پکڑ لینا یشتھون : وہ خواہش رکھتے ہیں تشریح ـ : آیات نمبر 46 تا 54 اعلان نبوت سے پہلے بھی عرب کا بچہ بچہ بنی کریم حضرت محمد رسول ﷺ کی متا نت و سنجیدگی ، عقل و دانش ، دیانت و امانت ، حسن عمل اور خاندانی شرافت سے نہ صرف اچھی طرح واقف تھا بلکہ ہر شخص آپ سے ملنے کے بعد صرف آپ ہی کی تعریف کرتا نظرآتا تھا لیکن جیسے ہی آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور ان کی رسموں اور طریقوں کو غلط بتایا بت پرستی ، جہالت اور بہت سی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–54

منکرین حشر کا زکر۔ (ف 2) فرمایا اے محبوب ﷺ اگر آپ کافروں کے بدانجام احوال دیکھیں جب وہ موت کے قریب ، یا دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنے کے وقت یا جنگ بدر کے دن گھبرائیں گے تو ایک عجیب ہولناک بات دیکھیں گے یہ لوگ وہاں سے بھاگ کر کہاں جاسکتے ہیں اور اس روز یہ ہمارے عذاب سے بھاگ نہ سکیں گے ، اور پاس ہی کے مقام یعنی قبروں سے پکڑ لیے جائیں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہم محمد ﷺ اور قرآن شریف پر ایمان لے آئے لیکن ایمان ان کے ہاتھ اس قدر دور مقام سے کیسے لگ سکتا ہے یعنی ایمان کی جگہ دنیا تھی اور یہ اس وقت آخرت میں ہیں پہلے سے تو یہ لوگ کفر کررہے تھے اور ان باتوں میں جن کی ان کو خبر نہ تھی اٹکلیں مارتے رہے، اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: یعنی حق وصداقت کا آفتاب اپنی پوری تابانی کیس اتھ جلوہ گر ہوچکا ہے ۔ اس لئے اب باطل اس کے مقابلہ میں نہیں پنپ سکتا ۔ بلکہ یوں سمجھ لیجئے ۔ کہ باطل کا اصلاً وجود ہی نہیں ۔ اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کی صحیح صحیح حیثیت متعین کردی جائے ۔ اور بتا دیا جائے ۔ کہ دنیا کا سچا مذہب صرف اسلام ہے ۔ اور اس کے سوا جو کچھ ہے ۔ فریب نظر ہے ! اور نفس کا دھوکہ ہے ۔ حل لغات :۔ القناوش ۔ نوش سے ہے ۔ جس کے معنے کسی چیز کو ہاتھ پکڑنے اور کسی کو بھلائی پہنچانے کے ہیں یاشیاعھم ۔ شیعۃ کی جمع ہے ۔ بمعنے ہم مشرب ۔ ہم خیال گروہ بھیجنا ، اتباع وانصار ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(54) اور ان کے اور ان کی خواہشات کے مابین اسی طرح روک اور آڑ کردی جائے گی جس طرح ان لوگوں کی آرزوئوں کے مابین آڑ کردی جائے گی جو ان کے ہم مذہب اور ہم مشرب ان سے پہلے ہو گزرے ہیں کیونکہ یہ سب لوگ ایک ایسے شک میں مبتلا تھے جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو دوسرے منکروں کے ساتھ سلوک ہوا ہے یعنی جس طرح تمام نعمتوں سے وہ محروم کئے گئے اسی طرح یہ بھی تمام نعمتوں سے محروم کردیئے جائیں گے۔ ان کی خواہشات کے مابین روک کردی جائے گی۔ خواہ وہ خواہش ایمان لانے کی ہو یا دنیا میں واپس جانے کی ہو، یا ٹھنڈے پانی کی آرزو ہو۔ جیسا کہ ابن عمر ؓ نے ٹھنڈا پانی پی کر یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اب ان کے اور ان کی خواہش کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے گی 54 ۔ اب اسی طرح کی تتر تیزیاں اور چلاکیاں جو یہ کر رہے ہیں ان کا اصل مقصد اور مدعا تو ہی ہوسکتا ہے کہ جس کھڑکی میں وہ آگئے ہیں کسی نہ کسی طرح اس سے ان کی گلو خلاصی ہوجائے اور جان چھوٹ جائے لیکن اب ع این خیال است ومحال است وجنوں ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی اور گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آسکتا۔ ان کے ساتھ اب وہی کچھ ہوگا جو ان سے پہلے گروہوں کے ساتھ ہوچکا۔ وہ بھی ان ہی کے ساتھی تھے اور انہی کے ہم مشرب تھے جو کچھ انہوں نے کہا ان لوگوں نے کہا اور جو کچھ انہوں نے کیا وہی کچھ ان لوگوں نے کیا نہ قول وفعل میں ذرا برابر فرق رہا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the last verse (54), it was said: وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ (And a barrier will be placed between them and that which they desire,) that is, they were not allowed to have it. This description could be true about the Day of Judgment in the sense that these people will be seeking salvation and Paradise but would fail to have it. Then, it could also apply to the time of death in the world, that is, they wished to have worldly wealth that was made to stay away from them by the barrier of death. The word: اَشیَاع (ashya’) in: كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم (as it will be done…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

76 As a matter of fact, no one adopts shirk and atheism and denial of the Hereafter by conviction, nor can he, for conviction comes from knowledge. And no one has the knowledge that there is no God, or that many others have a share in Divine authority, or that there should be no Hereafter. Thus, whoever has adopted these beliefs in the world, has raised a structure on mere conjecture, which has no basis except doubt and suspicion, and this suspicion has led him to sheer error. Consequently, they doubted God's existence, they doubted the truth of Tauhid, they doubted the coming of the…

Read the full tafseer →