حضرت ابن عباس فرماتے ہیں فاطر کی بالکل ٹھیک معنی میں نے سب سے پہلے ایک اعرابی کی زبان سے سن کر معلوم کئے۔ وہ اپنے ایک ساتھی اعرابی سے جھگڑتا ہوا آیا ایک کنویں کے بارے میں ان کا اختلاف تھا تو اعرابی نے کہا انا فطرتھا یعنی پہلے پہل میں نے ہی اسے بنایا ہے پس معنی یہ ہوئے کہ ابتداء بےنمونہ صرف اپنی قدرت کاملہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ ضحاک سے مروی ہے کہ فاطر کے معنی خالق کے ہیں۔ اپنے اور اپنے نبیوں کے درمیان قاصد اس نے اپنے فرشتوں کو بنایا ہے۔ جو پر والے ہیں اڑتے ہیں تاکہ جلدی سے اللہ کا پیغام اس کے رسولوں تک پہنچا دیں۔ اس میں سے بعض دو پروں والے ہیں بعض کے تین تین ہیں…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 1
اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرشتے اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان پیغام رسانی کی خدمت انجام دیتے ہیں، اور یہ بھی کہ تمام کائنات میں اللہ جل شانہ کے احکام لے جانا اور ان کو نافذ کرنا انہی فرشتوں کا کام ہے۔ ذکر کا مقصود یہ حقیقت ذہن نشین کرنا ہے کہ فرشتے جن کو مشرکین دیوی اور دیوتا بنائے بیٹھے ہیں، ان کی حیثیت اللہ وحدہ لا شریک کے فرماں بردار خادموں سے زائد کچھ نہیں ہے۔ جس طرح کسی بادشاہ کے خدام اس کے احکام کی تعمیل کے لیے دوڑے پھرتے ہیں اسی طرح یہ فرشتے کائنات کے فرمانروائے حقیقی کی خدمت بجا لانے کے لیے اڑے پھرتے ہیں۔ ان خادموں کے اختیار میں کچھ نہیں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
تمام تر حمدو ثناء اسی) اللہ کو لائق ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جو فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا ہے، جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر دار بازو ہیں (پیغام سے مراد انبیاء (علیہم السلام) کی طرف وحی لانا ہے خواہ وہ شرائع احکام سے متعلق ہو یا محض بشارت وغیرہ سے، اور بازوؤں کی تعداد کچھ چار چار ہی میں منحصر نہیں بلکہ) وہ پیدائش میں جو چاہتا ہے زیادہ کردیتا ہے (یہاں تک کہ بعض فرشتوں کے چھ سو بازو (پیدا کیے ہیں جیسا کہ حدیث میں حضرت جبرئیل کے متعلق آیا ہے) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (اور قادر بھی ایسا جس کا کوئی مزاحم نہیں کہ وہ) اللہ جو رحمت لوگوں کے لئے…
Read the full tafseer →1۔ الفاط کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 1
یاد ہوگا، پچھلی سورة کا آغاز الحمد اللہ ہی سے ہوا ہے۔ اس سے دونوں سورتوں کے مزاج کی مناسبت واضح ہوتی ہے۔ دین کی بنیاد توحید پر اور توحید کی حقیقت اللہ ہی کی شکر گزاری ہے اس لئے کہ آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا اللہ ہی ہے اور بندوں کو جو ظاہری و باطنی نعمتیں بھی حاصل ہے سب اللہ ہی کا عطیہ ہیں۔
’ جاعل الملئکۃ رسلا والی اجنحہ مثنی وثلث وربع۔ جاعل الملئکۃ بدل ہے ’ فاطر السموت ‘ سے۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذر اس کی اہمیت کے پہلو سے فرمایا کہ جو اللہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اسی نے فرشتوں کو بھی پیغام رسانی کے مقصد سے وجود بخشا ہے۔ فرشتوں کے…
Read the full tafseer →1۔ 1 فَاطِر، ُ کے معنی ہیں، پہلے پہل ایجاد کرنے والا، یہ اشارہ ہے اللہ کی قدرت کی طرف کہ اس نے آسمان و زمین پہلے پہل بغیر نمونے کے بنائے، تو اس کے لئے دوبارہ انسانوں کو پیدا کرنا کون سا مشکل ہے ؟۔
1۔ 2 مراد جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ انبیاء کی طرف یا مختلف مہمات پر قاصد بنا کر بھیجتا ہے۔ ان میں کسی کے دو کسی کے تین کسی کے چار پر ہیں جن کے ذریعے سے وہ زمین پر آتے اور زمین سے آسمان پر جاتے ہیں۔
1۔ 3 یعنی بعض فرشتوں کے اس سے بھی زیادہ پر ہیں، جیسے حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، میں نے معراج کی رات جبرائیل ؑ کو اصلی صورت میں دیکھا اس کے چھ سو پر تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: پچھلے جملے کی مناسبت سے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن فرشتوں کی پروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، اضافہ کردیتا ہے، چنانچہ حضرت جبرئیل ؑ کے چھ سو پروں کی تعداد حدیث میں آئی ہے، لیکن الفاظ عام ہیں، اور ہر تخلیق کو شامل ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی تخلیق میں چاہتا ہے، کسی خاص وصف کا اضافہ فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 199 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا۔۔ 3
﷽
الحمدللہ فاطر السمٰوٰت ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل شیء قدیر (1) “۔ سورة کا آغاز حمد باری سے ہو رہا ہے ۔ اس پوری سورة کا مضمون یہ ہے کہ انسانی دل کو اللہ کی طرف متوجہ کیا جائے ۔ اللہ کی نعمتوں کو دیکھا جائے ، اللہ کی رحمتوں کا شعور زندہ کیا جائے اور انسان کو اس طرف متوجہ کیا جائے کہ اپنی مخلوقات میں اللہ نے کیا کیا عجائبات پیدا لیے ہیں ۔ انسانی احساس کو ان عجائنات کے شعور سے بھر دیا جائے اور نتیجہ انسان اللہ کی حمد وثنا میں رطب اللسان ہو۔
سب حمد اللہ کے لیے ہے ۔
الحمدللہ (35: 1) ” سب تعریف اللہ کے لیے ہے “۔ اور اس کے بعد اللہ کی وہ صفت بیان ہورہی ہے جو خلق اور ایجاد پر…
Read the full tafseer →3 یعنی آسمان و زمین کو ابتداء عدم سے نکال کر وجود میں لایا، پہلے سے کوئی نمونہ اور تخلیق کا قانون موجود نہ تھا۔
4 یعنی بعض فرشتے انبیاء کے پاس اللہ کا پیغام لاتے ہیں اور بعض دوسرے جسمانی و روحانی نظام کی تدبیر و تشکیل پر مامور ہیں۔ فالمدبرات امرا۔
5 یعنی بعض فرشتوں کے دو بازو (یا دو پر) بعض کے تین بعض کے چار ہیں۔ ان بازوؤں اور پروں کی کیفیت کو اللہ ہی جانتا ہے یا جس نے دیکھے ہوں وہ کچھ بتلا سکیں۔
6 یعنی اللہ تعالیٰ جس مخلوق میں جو عضو اور جو صفت چاہے اپنی حکمت کے موافق بڑھا دے۔ فرشتوں کے دو ، تین، چار بازو (یا پر) اسی نے بنائے چاہے تو بعض فرشتوں کے چار سے زیادہ بنا دے۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت 1 { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”کل حمد اور کل شکر اللہ کے لیے ہے جو پید ا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا“
فَاطِرکے لغوی معنی ہیں : عدم کے پردے کو چاک کر کے کسی چیز کو وجود بخشنے والا۔ یہاں پر ایک اہم لغوی نکتہ ضمنی طور پر نوٹ کرلیں کہ ”ف“ سے شروع ہونے والے عربی کے اکثر الفاظ میں توڑنے ‘ چاک کرنے ‘ پھاڑنے وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مثلاً فَطَرَکے علاوہ فَلَقَ ‘ فَرَطَ ‘ فَلَحَ ‘ فَتَحَ ‘ فَصَلَ ‘ فَتَرَوغیرہ الفاظ میں یہی مفہوم پایا جاتا ہے۔ فَترۃ الوحی سے وہ عرصہ مراد ہے جس میں وحی رکی رہی ‘ یعنی وحی کا تسلسل ٹوٹ گیا اور فترۃ من الرسل سے مراد چھ سو برس کا وہ…
Read the full tafseer →1 فَطَرَ کا مفہوم :۔ پیدا کرنے کے معنوں میں قرآن کریم میں چھ مترادف الفاظ آئے ہیں۔ اور ہر لفظ کے مفہوم میں کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے۔ فطر کا معنی کسی چیز کو پیدا کرنا، پھر اس کو تراش خراش کرکے اسے خوبصورت شکل دینا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں یا زمین یعنی کائنات کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ اسے تراش خراش کر بہترین شکل و صورت پر بنایا ہے۔
2 پیغام رساں فرشتے :۔ فرشتوں کے ذمہ کئی قسم کے کام ہیں۔ جن میں سے ایک کام پیغام رسانی بھی ہے۔ پیغام رسانی کی ایک قسم تو معروف ہے کہ جبرئیل فرشتہ اللہ کا پیغام لے کر نبی کے دل پر نازل ہوتا ہے۔ باقی صورتیں یہ ہیں کہ جو فرشتے تدبیر امور کائنات پر مامور ہیں ان کے…
Read the full tafseer →1۔ آیت میں بتایا ہے کہ یہ آکاش دیوتا یہ دھرتی مائی قادر اور متصرف تو کیا ہوتے غیر مخلوق یا خود آفریدہ بھی نہیں جیسا کہ بہت سی مشرک قوموں نے سمجھ رکھا ہے، بلکہ تمامتر مخلوق ہیں۔ اور اللہ ہی ساری مخلوقات کی طرح ان کا بھی خالق وفاطر ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ انگریزی۔ (آیت) ” فاطر “۔ وہ ہے جو عدم سے وجود میں، نیستی سے ہستی میں لائے، نہ وہ کہ جو صرف ترتیب وتنظیم از سر نو کر دے۔ فطر اللہ الخلق وھو ایجاد الشیء وابداعہ (راغب) اے خالقھا ومبتدعھا علی غیر مثال سبق (معالم) الفطر الابتداع والاختراع (قرطبی)
2۔ فرشتے نہ دیوی دیوتا ہیں نہ متصرف فی الامور، وہ اللہ کے صرف کارندے ہیں، جس خدمت پر بھی لگادیئے جائیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفوں کا سزاوار وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا کسی سابقہ نمونہ کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون سے اپنی حمد بیان فرمائی ہے، جیسا کہ سورة سبا کے شروع میں بیان کیا گیا تھا اور جو فرشتوں کو انبیاء کی جانب پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین چارچار پر ہیں اور وہ ملائکہ کی تخلیق میں جو چاہے اضافہ کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ یقیناً پر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے جو رحمت مثلاً رزق اور بارش کھول دے تو اسے بند کرنے والا نہیں اور ان میں سے جس کو بند کردے اس کے بند کرنے…
Read the full tafseer →الحمد اللہ فاطر السموت والارض . تمام حمد (ستائش) اسی اللہ کو زیبا ہے جو آسمانوں کو ‘ زمین کو عدم کا پردہ پھاڑ
کر وجود میں لانے والا ہے۔ یعنی سب کا خالق ہے ‘ بغیرسابق مثال کے ایجاد کرنے والا ہے۔
فاطر ‘ فطرۃ سے مشتق ہے (فطرۃ کا معنی ہے پھاڑنا) مراد ہے نیستی کو پھاڑ کر ہستی میں لانا۔ اس جگہ فاطر بمعنی ماضی ہے یعنی اللہ نے سارے جہان کو پیدا کیا ہے۔ اس صورت میں فاطر اللہ کی صفت ہوگا۔
جاعل الملئکۃ رسلاً اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع جو فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے
دو دو ‘ تین تین اور چار چار پر دار بازو ہیں۔
رُسُلاً (پیام رساں) یعنی اللہ اور انبیاء اور نیک بندوں کے درمیان وحی یا الہام یا…
Read the full tafseer →تمام تر حمد وثناء اسی اللہ کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق اور فرشتوں کو پیدا کرنے والا اور ان کو یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل، ملک الموت اور رعد و حفظہ کو پیغام رساں بنا کر سرفراز فرمانے والا ہے۔ ان فرشتوں میں سے بعض کے دو پر اور بازو ہیں کہ جن سے وہ اڑتے ہیں اور بعض کے تین ہیں اور بعضوں کے چار۔
بلکہ وہ فرشتوں کی پیدائش میں جو چاہے زیادہ کردیتا ہے یا یہ کہ ان پروں میں یا چھی اچھی نعمتوں میں یا عمدہ آواز میں جو چاہے اضافہ کردیتا ہے۔
وہ نقصان اور زیادتی ہر چیز پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : ”فَطَرَ یَفْطِرُ فَطْرًا“ (ض، ن) نئے سرے سے پیدا کرنا، پھاڑنا۔ سورت کی ابتدا اس دعوے کے ساتھ ہوئی ہے کہ تمام خوبیوں اور سب تعریف کا حق دار اللہ وحدہ ہے۔ ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کی تفسیر سورة فاتحہ کی ابتدا میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس کے بعد پوری سورت میں اس بات کے دلائل بیان ہوئے ہیں کہ وہ اکیلا تمام خوبیوں کا مالک اور معبود برحق ہے۔ درمیان میں توحید کے ساتھ ساتھ نبوت، قیامت اور ان سے متعلق بعض باتوں کا ذکر بھی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے اکیلے معبود برحق ہونے کی پہلی دلیل یہ بیان فرمائی کہ وہ آسمان و زمین کو ابتداءً کسی نمونے کے بغیر عدم سے پھاڑ…
Read the full tafseer →آیت : الحمد للہ فاطر السموت والا رض، فاطر میں تین و جوہ ہیں : (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 461) جر یہ صفت ہونے کی بناء پر ہے (2) رفع یہ مبدا مضمر ہونے کی بناء پر ہے۔ (3) نصب مدح کی بنا پر ہے۔ سیبویہ نے یہ حکایت بیان کی ہے الحمد للہ اھل الحمد مثلہ اس طرح جاعل الملائکتہ میں تین اعراب ہو سکتے ہیں۔ فاطر سے مراد خالق ہے۔ سورة یوسف اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ فطر سے مراد کسی شئے سے کسی چیز کو پھاڑنا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : فطرتہ فانقطر میں نے اسے پھاڑا تو وہ پھٹ گیا۔ اسی سے یہ جملہ بولا جاتا ہے : فطر ناب البعیر اونٹ کی دارھ ظاہر ہوئی۔ بعیر فاطر جس اونٹ کی داڑھ ظاہر ہوچکی ہو۔ تفطر…
Read the full tafseer →(1) ابوعبید نے اپنے فضائل میں عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ (آیت) ” فاطر السموت والارض “ سے کیا مراد ہے یہاں تک کہ میرے پاس دو دیہاتی آئے اور وہ ایک کنویں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے ان میں سے ایک نے کہا ” انا فطرتھا “ یعنی میں نے اس کنویں کو شروع کیا تھا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاطر السموت والارض “ سے مراد ہے (آیت) ” بدیع السموت والارض “ یعنی نمونہ کے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں بھی (آیت) ” فاطر السموت والارض “ ہے اس…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ [تمام شکر و سپاس اللہ کے لئے ہے ] فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [جو زمین اور آسمانوں کو وجود میں لانے والا ہے ] جَاعِلِ الْمَلٰۗىِٕكَةِ [جو فرشتوں کو بنانے والا ہے ] رُسُلًا [پیغامبر ] اُولِيْٓ اَجْنِحَةٍ [جو پروں والے ہیں ] مَّثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۭ [دو دو اور تین تین اور چار چار ] يَزِيْدُ [وہ زیادہ کرتا ہے ] فِي الْخَلْقِ [پیدا کرنے میں ] مَا يَشَاۗءُ ۭ [جو وہ چاہتا ہے ] اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [بیشک اللہ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [قدرت رکھنے والا ہے ] ۔
نوٹ۔ 1: ہمارے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ فرشتوں کے بازؤوں اور پروں کی کیفیت کیا ہے۔ مگر جب اللہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ خالق ارض و سما ہے ہر چیز پر قادر ہے، اس کے سوا کوئی پیدا کرنے والا نہیں اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں
یہاں سے سورة فاطر شروع ہو رہی ہے جس کا دوسرا نام سورة الملائکہ بھی ہے۔ سورة الفاتحہ سورة الکہف اور سورة سباء کی طرح یہ سورت بھی اللہ تعالیٰ کی تعریف سے شروع ہے، فرمایا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے، اس کی مخلوق میں فرشتے بھی ہیں ان فرشتوں کو بھی اس نے پیدا فرمایا اور کاموں پر مقرر فرمایا، ان کاموں میں سے ایک یہ کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اور اس کے نبیوں کے درمیان پیغام رسانی کا کام کرتے رہے ہیں، ان کی تخلیق بھی دوسری مخلوق سے علیحدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تحمید خداوند حمید ومجید برائے اثبات توحید وتذکیر نعم وتحذیر از نقم
قال تعالیٰ الحمد للہ فاطر السموت والارض جاعل الملئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم بما یصنعون۔
(ربط) گذشتہ سورت کے اخیر میں کفار ومشرکین کی ہلاکت کا ذکر تھا کہ ان پر اللہ کا قہر نازل ہوا۔ اور ہلاک اور برباد ہوئے اور کافروں کی ہلاکت اور بربادی اللہ کی نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے۔ کما قال تعالیٰ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔
اس لئے اس سورت کا آغاز اللہ کی حمد وثنا سے کیا گیا (روح المعانی ص 148 ج 22) اور اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا ذکر کر کے شکر پر متنبہ کیا…
Read the full tafseer →2:۔ الحمد للہ الخ : اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ حاجات و مشکلات اور مصائب و بلیات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو۔ اس کے کسی پیغمبر، فرشتے اور جن و بشر کو مت پکارو اس مضمون کو بارہ دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔ جن میں گیارہ دلائل عقلیہ ہیں اور ایک دلیل وحی۔ بعض دلائل میں بیان کیا گیا ہے کہ سب کچھ کرنے والا اور ہر چیز پر قادر اللہ تعالیٰ ہی ہے اور بعض میں مذکور ہے کہ سب کچھ جاننے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ کارساز اور حاجت روا بھی وہی لہذا مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے جس کا پہلا جزو یعنی (الحمد للہ) تمام صفات کمال کا جامع ہے۔ یعنی تمام صفات کارسازی…
Read the full tafseer →اس سورة کا نام سورة فاطر ہے۔ یہ نام سورة کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ فاطر سے ماخوذ ہے۔ مفسرین (ابو سعود ص 236 در منشور ص 244 وج 5 و مدارک ص 332 ج 3) کرام نے اس سورة کا دوسرا نام سورة ملائکہ بھی ذکر کیا ہے۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو قاصد بنانے کا ذکر کیا ہے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سورة مکی زندگی میں سورة الفرقان کے بعد نازل ہوئی ، اس کی پینتالیس آیات اور پانچ رکوع ہیں۔ یہ سورة مبارکہ 197 الفاظ اور 3120 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کی طرح یہ بھی مکی سورة ہے اور اس میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت ہی کا ذکر ہے۔ توحید کے ضمن میں…
Read the full tafseer →بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْحَمْدُ لِلہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ رُسُلًا اُولِيْٓ اَجْنِحَۃٍ مَّثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ 0 ۭ يَزِيْدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاۗءُ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 1
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترکیب : فاطر السمٰوٰت الاضافۃ معنویۃ لانہ بمعنی الماضی فصح و قوع فاطر صفتہ للہ، وکذلک جاعل الملائکۃ قال الطیبی ان جاعل باعتبارانہ یدل علی المضی یصلح کونہ صفۃ للمعرفۃ و باعتبارانہ یدل علی الحال والا ستقبال، یصلح للعمل فرسلاً مفعول ثانٍ ۔ و اولی بدل من رسل او لغت لہ ویجوزان یکون جاعل بمعنی خالق فیکون رسلاحا لا مقدرۃ و مثنی لغت للاجنحۃ یزید فی الخلق مستانف مایفتح اللہ ماشرطیۃ موضع نصب و من رحمتہ بیان لذلک۔
تفسیر : قرطبی کہتے ہیں، سب کے نزدیک یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے اور بخاری وغیرہ نے بھی ابن عباس ؓ سے یہی روایت کی ہے اور جو سورتیں الحمد کے ساتھ شروع ہوئی ہیں، یہ ان کا خاتمہ ہے۔ ہم پہلے بھی…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُلِلّٰہِ فَاطِرِالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلاً اُوْلِیْٓ اَجْنِحَۃٍ مَّثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ط یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَایَشَآئُ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (فاطر : 1)
(ہر طرح کی خوبصورت تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اور فرشتوں کو دو دو تین تین اور چار چار پروں والے پیغام رساں بنانے والا ہے، وہ مخلوق میں جو چاہے اضافہ کردیتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
اعمال کی اصلاح کا انحصار عقائد کی اصلاح پر ہے
مکی سورتوں میں بنیادی طور پر زور اصلاحِ عقائد و اخلاق پر ہے۔ اور عقائد کی بنیاد چونکہ تصور توحید پر ہے اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
تمام تعریفات ” اللہ “ ہی کے لیے ہیں جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ وہی ملائکہ کو پیغام رساں بنانے والا ہے۔ اسی نے ملائکہ کو دو دو، تین تین اور چارچار پَر عطا فرمائے ہیں۔ وہ جو چاہے اور جس طرح چاہے پیدا کرتا ہے کیونکہ وہ ہر کام کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس لیے بھی تعریف کا مستحق ہے کہ اس نے زمین و آسمانوں کو نہ صرف پیدا کیا بلکہ اس نے آسمانوں کو اسی ساخت اور پرداخت کیساتھ بنایا جس طرح ان کی تخلیق کا مقصد تھا۔ زمین کو تہہ در تہہ بچھایا اور اس میں ایسی صلاحیتیں رکھیں جو اس کے بسنے والوں کے لیے ضروری تھیں۔
ملائکہ کی تخلیق کے بیان کے فوراً بعد ” یَزِیْدُ “ کا لفظ لا کر یہ واضح…
Read the full tafseer →فرشتوں میں ہر تخلیقی اضافہ وہی کرنے والا ہے :
1: اَلْحمْدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓپکَۃِ (تمام تر حمد اللہ تعالیٰ کے لائق ہے جو آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ جو فرشتوں) رُسُلًا اُوْلِیْ اَجْنِحَۃٍ مَّثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ یَزِیْدُ (کو پیغام رساں بنانے والا ہے۔ جن کے دو دو، تین تین اور چارچار پر دار بازو ہیں۔ وہ) فِی الْخَلْقِ مَایَشَآ ئُ اِنَّ اللّٰہَ علٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (پیدائش میں جو چاہے زیادہ کرتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے) ۔
اَلْحمْدُ لِلّٰہِ (اللہ تعالیٰ نے تعلیم و تعظیم کیلئے اپنی ذات کی حمد فرمائی ہے) ۔ فَاطِرِ…
Read the full tafseer →تفسیر 1۔ ، الحمد اللہ فاطر السموات والا رض، ان دونوں کو پیدا کیا اور ان کو ابتداء بغیر کسی مثال کے پیدا کیا ۔ ، جاعل المائکۃ رسلا اولی اجنحۃ، بازوالے، مثنی وثلاث ورباع، قتا دہ اور مقاتل نے کہا ہے کہ بعض ملائکہ کے دو بازوبعض کے تین اور بعض کے چار اللہ نے بنائے ہیں لیکن تعداد محد ود نہیں ہے۔ حدبندی کے خیال کو دور کرنے کے لیے آگے فرمایا ، یزید فی الخلق مایشاء ابن مسعود ؓ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ، لقد رای من آیات ربہ الکبری ، کے بارے میں رشاد فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سوبازو تھے۔ ابن شہاب نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ، یزید فی الخلق…
Read the full tafseer →1۔ فاطر کے معنے حالق کے ہیں حاصل معنے یہ ہیں کہ سب تعریف اللہ کو ہے و پیدا کرنے والا ہے آسمان اور زمین کا مطلب اس سے یہ ہے کہ جو ایسی بڑی چیز کے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے تو وہ دوسری بار بھی سب کچھ پیدا کرسکتا ہے خدا تعالیٰ نے جو اس صفت کے ساتھ اپنی ذات پاک کی تعریف کی ہے مقصود اس سے خالص اللہ کی تعظیم ہے اور بندوں کو یہ تعلیم بھی ہے کہ وہ اس طرح خدا کی ثنا کیا کریں اور اللہ کی تعظیم اور عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں پھر فرمایا وہ اللہ جو ٹھہرانے والا ہے فرشتوں کو رسولوں کے پاس پیغام پہنچانے والا جن فرشتوں کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں جن سے وہ اڑتے ہیں اور خدا کا حکم لے کر رسلولوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ خو دپاین ذات مقدس کی مدح و ثنا کرتا ہے کہ اس نے زمین و آسمان اور ان کے اندر موجود تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ یہ اس کے کمال قدرت، وسعت، اقتدار، بےپایاں رحمت، انوکھی حکمت اور احاطہ علم کی دلیل ہے۔ تخلیق کائنات کا ذکر کرنے کے بعد اس چیز کا تذکرہ کیا کہ بیشک وہی (جاعل الملئکۃ رسلا) ” فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے “ اس نے اپنے حکم قدری کی تدبیر اور اپنے حکم دینی کی تبلیغ کے لئے اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان واسطے کے لئے، فرشتوں کو پیغام رساں بنایا۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیغام رساں بنانے کا ذکر فرمایا اور ان میں سے کسی کو مستثنی نہیں کیا، یہ ان کی اپنے رب کے لئے کامل…
Read the full tafseer →1 سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں جو فاطر ہے آسمانوں اور زمین کا "۔ یعنی انکو بغیر کسی نمونے اور مثال کے پیدا کرنے والا ہے ۔ " اَیْ مُبْدِع " ۔ (جامع البیان، المراغی، الصفوۃ، المعالم وغیرہ) ۔ حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ کہتے ہیں کہ مجھے " اِبْداَع " کے معنیٰ پوری طرح اس وقت سمجھ آئے جب کہ میں نے دو اعرابی بدؤوں کو آپس میں ایک کنوئیں کے بارے میں لڑتے دیکھا جن میں سے ایک کہہ رہا تھا " اَنَا اَبْدَعْتُہُ " یعنی یہ کنواں میرا ہے کہ اس کو سب سے پہلے میں نے بنایا تھا (ابن کثیر، مدارک، وغیرہ) ۔ سو جب اللہ پاک کے اس فعل خلق و ابداع میں کوئی اس…
Read the full tafseer →آسمان زمین اور فرشتے سب اللہ کے بنائے ہوئے ہیں
تشریح : یہ آیت علم و عرفان کا خزانہ ہے۔ جیسے جیسے ہم اوپر نیچے دیکھتے ہیں اللہ کی کاریگری کے بیشمار عجوبے نظر آتے ہیں۔ آسمان کو دیکھیں تو بہترین اور عجیب، زمین کو دیکھیں تو وہ بھی بہترین اور عجیب۔ یہ کب پیدا ہوئے ؟ کیسے بنے ؟ اور کس نے بنائے ؟ قرآن پاک ان تمام سوالوں کا جواب مختصراً دیتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ نے اپنی قدرت سے انسان کے لیے اور باقی تمام مخلوقات کے لیے بنائے ہیں کیونکہ وہ ہر چیز، ہر بات، ہر وقت اور ہر زمانے پر پوری قدرت رکھتا ہے اس لیے یہ سب بنانے کے لیے اس نے بغیر کسی کی مدد بغیر نقشے اور بغیر مادے کے صرف یہ فرمایا ” کن “ ” ہوجا “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 7:
اسرار و معارف :
سورۃ فاطر اسی مضمون کو لیکر آگے بڑھتی ہے کہ تمام تر کمالا صرف اللہ واحد کو سزاوار ہیں کہ وہ اکیلا خالق ہے آسمانوں اور زمینوں کا ان کی تمام تر مخلوقات اور مخلوقات کے تمام تر اوصاف کا فرشتے بھی اس کی مخلوق ہیں جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں اس کے اور اس کی دوسری مخلوق کے درمیان واسطے کا کام کرتے ہیں جیسے سب سے اعلی انبیاء (علیہم السلام) اور ان پر وحی لانے کا کام مخلوق کو روزی روزق پہنچانے یا عذاب وثواب اور صحت و بیماری یعنی وہ خود ہر آن اللہ کی اطاعت پر کمر بستہ ہیں نہ یہ کہ انہیں معبود بنا لیا جائے ان کی قوت و طاقت اللہ ک عطا کردہ ہے جیسے کسی کو دو…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی انہیں پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے ان کا سرے سے کوئی وجود نہ تھا۔7 جیسا کہ حدیث میں ہے کہ شب معراج میں نبی ﷺ نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو تھے۔ ( ابن کثیر) ۔ (یریدون فی الخلق ما یشئا) کو عام بھی رکھا رکھتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو چاہے اضافہ کرسکتا ہے۔ ( شوکانی) معلوم ہوا کہ فرشتے جسم اور پر ( بازو) رکھتے ہیں اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ باقی کیفیت ان کی اللہ کو معلوم ہے تاویلات فاسدہ کرنا گمراہی ہے۔ ( وجیز وغیرہ)
Read the full tafseer →( 35:1) فاطر السموت والارض۔ فاطر ۔ اسم فاعل واحد مذکر فطر مصدر (باب نصر، ضرب) مضاف السموت والارض۔ مضاف الیہ۔ الفطر کے اصل معنی کسی چیز کو (پہلی دفعہ) طول میں پھاڑنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی کائنات کو عدم کا پردہ پھاڑ کر وجود میں لایا ہے اس لئے فاطر ہے۔ اہل تفسیر نے اس کے معنی مبدع لئے ہیں یعنی بغیر نظیر و مثال کے عدم محض سے عالم وجود میں لانے والا۔
راغب فرماتے ہیں کہ :۔
ھو ایجادہ تعالیٰ الشیء وابداعہ علی ھیئۃ مترشحۃ بفعل من الافعال۔ اللہ تعالیٰ کا کسی شے کو پہلی مرتبہ اس طرح تخلیق کرنا کہ اس میں کچھ کرنے کی استعداد موجود ہے۔
آیۃ کریمہ فاقم وجھک للذین حنیفا ۔ فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن ۔ (آیت نمبر 1 تا 7) فاطر (پیدا کرنے والا) جاعل ( بنانے والا) اجنحۃ ( جناح) (پر ۔ بازو) مثنی۔ (دو دو) ثلث۔ ( تین تین) ربع ( چار چار) لایفتح (وہ نہیں کھولتا ہے) ممسک ( روکنے والا) انی (کہاں) تو فکون (الٹے پھرے جا رہے ہیں) لا تغرن ( ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے) الغرور (دھوکا ، فریب) حزب ( جماعت) مغفرۃ (معافی) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 :۔ اس کائنات میں جتنی بھی قابل تعریف خوبیاں ہیں وہ اس اللہ کی ذات کے لئے مخصوص ہیں جو ارض و سماء کا مالک اور سب کا رازق ہے۔ کائنات میں ہر طرف اس کی عظمت کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں ۔ اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی کہ اللہ نے زمین…
Read the full tafseer →(ف 1) سب خوبیاں اللہ ہی کو ہی جو آسمان اور زمین کا ابتداہی سے پیدا کرنے والا ہے اور جس نے پیغمبروں تک وحی لے جانے کا قاصد ملائکہ کو کردیا کیسے ملائکہ جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں وہ اپنی مخلوق میں خواہ فرشتے ہیں خواہ ان کے غیر، جو چاہتا ہے زیادہ کردیتا ہے بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] رسول اکرم ﷺ کو تسلی دینی مقصود ہے کہ ان لوگوں کا تم کو جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ تم سے پہلے بھی لوگوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا لیکن انہوں نے صبر کیا لہذا تم بھی صبر کرو۔ علاوہ بریں آخرکار معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ وہ جھٹلانے والوں سے سمجھ لے گا۔
Read the full tafseer →ف 1: یہ سورت مکی ہے ۔ اور اس میں دوسری مکی سورتوں کی طرح عام طور پر توحید و رسالت کے معارف سے بحث کی گئی ہے ۔ اور حشر ونشر پر دلائل قائم کئے گئے ہیں ۔ اور ان تمام شکوک و شبہات کو دور کیا گیا ہے جو اس وقت کے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئے تھے ۔ اور بتایا گیا ہے کہ یہ اللہ کا سچا اور آخری پیغام ہے ۔ اللہ کی حمدوستائیش سے اس کا آغاز فرمایا ہے ۔ تاکہ معلوم ہو کہ روحانیت کی پہلی منزل نفیس انسانی کا تذلل اور اللہ کی جلالت قدر کا اعتراف اور یقین ہے ۔ جب تک یہ مقام عبودیت طے نہ ہو ۔ اس وقت تک عارف وسالک دوسری منزلوں تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا ۔ فاطر کے معنے جیسا کہ حضرت ابن عباس کی تصریح ہے ۔ مبداء اور…
Read the full tafseer →(1) تمام تعریفیں اور تمام حمدوثناء اس اللہ تعالیٰ کو لائق اور سزاوار ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو بنایا اور فرشتوں کو پیغام لانے والا بنایا جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں وہ اپنی مخلوق کی پیدائش اور بناوٹ میں جو چیز چاہے بڑھا دیتا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ کو تمام تعریفیں سزاوار ہیں وہ ایسا ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو عدم سے وجود بخشا آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا۔ فرشتوں کو پیغامبر بنایا۔ یعنی وحی اور بشارتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے پیغمبروں کے پاس لاتے ہیں۔ فرشتوں کے پر والے بازو ہیں، نہ معلوم ان کی کیفیت کیا ہوگی جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2۔ پیغام سے مراد وحی لانا انبیاء (علیہم السلام) کی طرف عام اس سے کہ شرائع ہوں یا بشارات وغیرہ ہوں۔
Read the full tafseer →آسمانوں زمین کا پیدا کرنے والا ، فرشتوں کو قاصد بناکر بھیجنے والا اللہ ہے
1 ۔ سب اچھی تعریفوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ سارے کمالات اسی کے ہیں۔ اس کی وضاحت سورة فاتحہ میں کردی گئی ہے کہ تعریف فی نفسہ اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی اور جس کو ستائش کہتے ہیں وہ ایسی تعریف ہی ہوسکتی ہے جو اچھی ہو بری تعریف کو ستائش نہیں کہا جاتا۔ پھر دنیا میں جس چیز کو بھی ستائش کی جائے دراصل وہ ستائش اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہوگی اس لئے کہ جو وجہ ستائش ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اگر کوئی چیز براہ راست اللہ کی تخلیق ہے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر اس کی ستائش کی جائے گی تو ظاہر ہے کہ اس صنعت وکاریگری جس کا…
Read the full tafseer →Commentary
As for the statement: جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا (who makes the angels messengers), it means that angels were assigned to convey the messages and injunctions of Allah Ta’ ala. From this, it is obvious that they are sent to the noble prophets (علیہم السلام) as the message-bearers or envoys of Allah. They convey the revelations and the injunctions of Allah to them. And it is also possible that the word: رسول (Rasul) used here may be denoting the sense of link at this place, that is, they become a link between Allah Ta’ ala and His universal creation out of which the noble…
Read the full tafseer →1 This can have two meanings: (1) "That these angels perform the service of communicating messages between Allah and His Prophets :" and (2) "that it is the duty of these angels to convey and enforce the Commands of Allah Almighty throughout the universe." The object is to impress this truth: The position of the angels whom the polytheists have made their gods and goddesses is no more than of obedient servants of Allah, the One. Just as the servants of a king run about for the implementation of his orders, so do these angels fly about in the service of the real Sovereign of the Universe.…
Read the full tafseer →