35. Surah Faatir
فاطرThe Originator · 45 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
سورة نمبر ٣٥۔ کل رکوع ٥۔ آیات ٤٥۔ الفاظ وکلمات ٧٩٢۔ حروف ٣٢٨٩۔ مقام نزول مکہ مکرمہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرماتے ہوئے کہا، کہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی زمین کے اندر سے پانی کے ایسے چشمے بہا دیے ہیں کہ جن میں کوئی میٹھا اور پسندیدہ پانی ہے، اور کوئی کڑوا ہی کیوں نہ ہو اس میں پیدا ہونے والی مچھلیوں میں پانی کی کرواہٹ نہیں ہوتی، جب مچھلی پکا کر کھائی جائے، تو اسپر نمک لگا کر کھایاجاتا ہے، نہ صرف اللہ کی قدرت ہے، کہ اس نے ہر چیز کی تاثیر کو اپنے قبضے میں رکھا ہے، وہی ہر چیز میں تاثیر پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ زمین ، آسمان اور فرشتوں کا خالق ومالک اللہ ہی ہے ۔ وہ جس پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے تو کسی کو یہ جرأت و طاقت نہیں کہ اس کو روک سکے اور جس وہ اپنی رحمتوں اور کرم کے دروازے بند کر دے اس کو کوئی کھلوانے والا نہیں ہے۔ ٭ انسان پر اللہ نے ہزاروں نعمتیں نازل فرمائی ہیں ان کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ کی ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کرتا رہے کیونکہ اللہ کو بندے کا جذبہ شکر بہت پسند ہے ، شکر سے نعمتوں میں اضافہ اور ترقی نصیب ہوتی ہے صرف ایک اللہ ہی شکر کا حق دار ہے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جا نثاروں کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ کفار و مشرکین اور بت پرست اللہ کے نبی اور اس کی آیات کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی ایسی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے کیونکہ ہر دور میں جب بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) نے دنیا کے لالچ میں ڈوبے ہوئے رسم پرستوں اور بت پرستوں کو اللہ کے دین کی طرف بلایا تو انہوں نے نہ صرف اس کا انکار کیا بلکہ شدید مزاحمت بھی کی ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) نے ہر طرح کے مصائب پر صبر کیا جس پر انہوں نے ان کی امتوں کو دنیا اور آخرت کی خیر ، بھلائی اور نعمتوں سے نوازا گیا ۔ ٭کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے اس کا فیصلہ انسان نہیں کرسکتا ، ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی ایک بات کو بہت پسند کرتا ہو مگر وہی بات اللہ کو ناپسند ہو تو اس بات کا فیصلہ دنیا میں اللہ کا کلام کر دے گا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ خود فرما دیں گے کہ ان کو انسانوں کے کون کون سے اعمال پسند یا ناپسند تھے۔ ٭حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کے ذریعہ نسل انسانی کی ابتداء ہوئی ، ان لوگوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام نازل فرمایا اور لوگوں کی اصلاح کے لئے انبیاء کرام (علیہ السلام) جیسے منتخب بندوں کو بھیجا ۔ یہاں تک کہ اللہ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیج کر سلسلہ نبوت کو مکمل فرمایا ۔ (اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی زمین کے اندر سے پانی کے ایسے چشمے بہا دیئے ہیں کہ جن میں کوئی میٹھا اور پسندیدہ پانی ہے اور کوئی کڑوا ، کسیلا ، کھارا اور نمکین پانی ہے اگرچہ پانی کڑوا ہی کیوں نہ ہو اس میں پیدا ہونے والی مچھلیوں میں پانی کی کوئی کڑواہٹ نہیں ہوتی بلکہ جب مچھلی پکا کر کھائی جاتی ہے تو اس پر نمک چھڑک کر کھاتا جاتا ہے۔ نہ صرف اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے ہر چیز کی تاثیر کو اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے ، وہی ہر چیز میں تاثیر پیدا کرتا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ جو کتاب الٰہی کو پڑھ کر اس کے مطابق ایمان اور عمل صالح کا پیکر بن جاتے ہیں ، نمازوں کا اہتمام اور اللہ کے بندوں پر مال خرچ کرتے ہیں وہ در حقیقت ایسی تجارت کر رہے ہیں جس میں کسی نقصان کا اندیشہ یا خوف نہیں ہے۔ ) اب صرف نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرمانبرداری ہی انسانوں کی کامیابی کی ضمانت ہے جو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کے ڈگر سے ہٹے گا وہ راہ ہدایت سے بھٹک جائے گا اور جو ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرے گا دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور نجات اس کو عطاء کی جائیں گی۔ ٭اللہ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی زمین سے میٹھے ، کڑوے ، کھارے اور پانی کے سوتے جا ری کردیئے ہیں جو ہر ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں آپس میں نہیں ملتے ۔ اسی کڑوے اور نمکین پانی میں جب کوئی مچھلی اپنی رزق حاصل کرتی ہے تو اس میں پانی کی کوئی کڑواہٹ نہیں آتی اسی کڑوے اور کسیلے پانی میں بہترین سچے موتی اور مونگے پیدا ہوتے ہیں اور اپنی چمک دمک سے وہ لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کردیتے ہیں یہ سب اللہ کی قدرت سے ہے۔ اللہ نے دریا ، چشمے اور سمندر بنائے اس میں کشتیاں جہاز چلتے ہیں اور کنارے سے دوسرے کنارے تک لوگوں کو اور ان کی ضرورت کے سامان کو لے کر دن رات سفر کرتے ہیں ۔ ہوائیں ان جہازوں کو سہارا دیتی ہیں اس طرح ہر شخص اس کی نعمت سے فائدہ حاصل کرتا ہے۔ چاند ، سورج ، ستارے ، حیوانات سب اللہ نے انسان کے خادم بنا دیئے ہیں ۔ وہ اللہ کی قدرت سے انسانوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ فرمایا کہ آدمی یہ نہیں سوچتا کہ ان تمام چیزوں کو صرف ایک اللہ ہی نے پیدا کیا ہے وہ ان کا خالق ہے اور وہی ان سب چیزوں کا مالک ہے وہی اس نظام کائنات کو اپنے حکم سے چلا رہا ہے۔ ٭انسان ان میں سے ہر چیز کا محتاج ہے لیکن ان چیزوں کا خالق کسی کا محتاج نہیں ہے۔ ساری قدرتیں اس کے ہاتھ میں ہیں وہ اگر چاہے تو دنیا کے سارے لوگوں کو ختم کر کے ایک دوسری مخلوق کو لے آئے کوئی چیز اس کے دست قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اس کے قبضے اور اختیار میں ہے۔ ٭اللہ تو اپنے بندوں پر بہت مہربان اور کرم کرنے والا ہے مگر انسان نا شکری کر کے اپنے لیے تباہی کے گڑھے اپنے ہاتھوں سے کھود لیتا ہے اور اس میں فرق نہیں کرتا کہ کون سی چیز بہتر ہے اور کون سی بدتر ۔ فرمایا کہ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔ ٭جس طرح اندھا اور آنکھوں والا ، اندھیرا اور روشنی ، دھوپ اور سایہ برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح زندہ اور مردہ بھی برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ کفار در حقیقت اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے مردہ ہوچکے ہیں اور زندگی کے اندھیروں میں اس طرح ڈوب چکے ہیں کہ انہیں روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی ۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول آئے ان کو واضح دلائل ، کھلے معجزات ، صحیفے اور روشنی کتابیں دی گئیں لیکن کفار نے ان سب کو دیکھنے ، سمجھنے اور سننے کے باوجود انکار کردیا ۔ ان کو مہلت بھی دی گئی لیکن جب وہ حد سے گزر گئے تو ان پر اللہ کا قہر نازل ہو کر رہا ۔ ٭اللہ نے ایسا انتظام کردیا ہے کہ آسمانی بلندیوں سے پانی برستا ہے جس سے مختلف قسم کے پھل ، پھول ، سبزی ، ترکاری اور میوے نکلتے ہیں ۔ اسی طرح پہاڑوں کے رنگ بھی مختلف ہیں کوئی سفید کوئی سیاہ کوئی سرخ اور کوئی زرد رنگ کا ہوتا ہے۔ جانوروں میں بھی مختلف رنگ روپے ہوتے ہیں ان سب چیزوں کو سوائے اللہ کے اور کس نے پیدا کیا ؟ یہ سب اسی کی قدرت کے شاہکار ہیں ۔ منکرین کو اللہ سے ڈرنا اور توبہ کرنا چاہیے لیکن اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم و فہم رکھنے والے ہیں جو ہر سچائی سے منہ پھیر کر چلنے کو اپنی شان سمجھتے ہیں وہ کبھی اس سچائی کو قبول نہ کریں گے ۔ ٭جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب کو پڑھ کر اس کے مطابق ایمان و عمل صالح اختیار کرتے ہیں ، اپنی عبادات میں خاص طور پر نمازوں کا اہتمام اور ادائیگی کرتے ہیں اور مالی عبادت میں وہ کھل کھلایا چھپ کر اپنا مال خرچ کرتے ہیں وہ در حقیقت ایسی تجارت کر رہے ہیں جس میں نقصان کا کوئی اندیشہ یا خوف نہیں ہے۔ اس پر انہیں اتنا عظیم صلہ اور بدلہ ملے گا جس کا وہ اس دنیا میں تصور میں بھی نہیں کرسکتے لیکن جو کفر پر جمے بیٹھے ہیں ان کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس میں جانے کے بعد روئیں گے ، فریاد کریں گے ، جلائیں گے مگر یہ سب چیزیں ان کے کام نہ آسکیں گی۔ ٭اللہ ہی ہر غیب اور چھپے ہوئے کا جاننے والا اور دلوں کے بھید سے واقف ہے۔ وہ ہر شخص کو ایک خاص مہلت دیتا ہے تا کہ وہ اچھی طرح سوچ کر اپنے حق میں بہتر فیصلہ کرے۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ ہر شخص کو اس کے ہر عمل پر اسی وقت سزا نہیں دیتا بلکہ اس کو پھر ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے لیکن وہ ڈینگیں مارنے والے بد قسمت اپنے گناہوں پر شرمندہ نہیں ہوتے اس لیے مدت گزرنے کے بعدان کو سخت سزا دی جاتی ہے جو دوسروں کے لیے بھی عبرت و نصیحت بن جاتے ہیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اسی نے فرشتوں کو پیغام پہنچانے والا بنایا ہے جو دو دو تین تین اور چار چار بازو ( پر ) رکھتے ہیں ۔ وہ اللہ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے اضافہ کردیتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader
اگر وہ اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو ان کو بند کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو بند کر دے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں ہے۔ وہی غالب حکمت والا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader
اے لوگو ! تم پر جو بھی اللہ کے احسانات ہیں ( نعمتیں ہیں) ان کو یاد رکھو ۔ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا ایسا ہے جو ان ( نعمتوں) کو پیدا کرنے والا ہے۔ جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق عطاء کرتا ہے۔ جب اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پھر تم کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو ۔
وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader
اور اے نبی ﷺ ! اگر وہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو ( ایسی کوئی نئی بات نہیں ہے) آپ سے پہلے بھی وہ رسولوں کو اسی طرح جھٹلاتے رہے ہیں ۔ لیکن سارے معاملات آخر کار اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader
اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا وعدہ ہے۔ دنیا کی زندگی کہیں تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور ( کہیں ایسا نہ ہو) کہ دھوکے باز شیطان تمہیں کسی فریب میں مبتلا کر دے۔
اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader
بلا شک و شبہ شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اس کو اپنا دشمن ہی سمجھو ۔ وہ تو اپنے پیچھے چلنے والوں کو بلا رہا ہے تا کہ وہ جہنم والے بن جائیں۔
اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader
( یاد رکھو ) جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے شدید ترین عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے تو ان کے لئے سامان مغفرت اور بہت بڑا اجر وثواب ہے۔
اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader
( اس سے بڑا گمراہ کون ہوگا) جس کے ( برے اور بد ترین) اعمال اس کی اپنی نظروں میں خوبصورت بنا دیئے گئے ہوں اور وہ خود بھی ان کو اچھا سمجھتا ہو ؟ بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے۔ (اے نبی ﷺ آپ حسرت و افسوس میں اپنی جان نہ گھلایئے۔ اللہ ان کی حرکتوں سے واقف ہے۔
وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader
اللہ تو وہ ہے جو ان ہوائوں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں ( اللہ نے فرمایا کہ) پھر ہم ان بادلوں کو ایک خشک اور بنجر شہر کی طرف لے جاتے ہیں ۔ پھر ان کے ذریعہ مردہ زمین کو دوبارہ زندگی دیتے ہیں ۔ اسی طرح ہم ( قیامت کے دن) کے مردوں کو دوبارہ اٹھا کر کھڑا کریں گے۔
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader
جو کوئی عزت چاہتا ہے تو وہ ( یاد رکھے کہ) ساری عزت صرف اللہ کے لیے ہے۔ اسی کی طرف اچھے اور پاکیزہ اعمال اٹھائے ( پہنچائے) جاتے ہیں ۔ اور جو لوگ بری تدبیر ( برے اعمال) کرتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے۔ اور ان کا مکروفریب خود ہی غارت ہوجانے والا ہے۔
وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader
اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنا دیا۔ کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ کوئی عورت کسی بچے کو جنم دیتی ہے مگر یہ کہ وہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی بڑی عمر پاتا ہے یا کسی کی عمر میں کمی کی جاتی ہے وہ سب کچھ کتاب ( لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے۔ بیشک یہ سب کچھ اللہ کے لئے آسان ہے ۔
وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader
اور دو سمندر ( دریا) یکساں نہیں ہوتے۔ ان میں سے ایک میٹھا اور شیریں ہے جس سے پیاس بجھتی ہے اور پینے میں بھی خوش گوار ہے۔ اور دوسرا پانی سخت کڑوا ہے۔ مگر دونوں ( پانیوں) سے تمہیں تر و تازہ گوشت کھانے کو ملتا ہے ۔ اور ان میں سے تم زیور ( موتی وغیرہ) نکال کر ( زیور کے طور پر) پہنتے ہو ۔ اور تم اسی پانی میں کشتیوں ( جہازوں) کو دیکھتے ہو جو پانی کو چیرتی پھارتی ہوئی چلتی ہیں تا کہ تم اللہ کا فضل تلاش کرسکو اور امید ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو گے ۔
یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader
وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے۔ ( مسخر کردیا ہے) جو ایک مقرر مدت تک چلتے رہیں گے۔ یہی تو اللہ ہے جو تمہارا رب ہے اور یہ ساری سلطنت اسی کی ملکیت ہے اور اللہ کو چھوڑ کر جنہیں تم پکارتے ہو وہ گٹھلی کے چھلکے کو پیدا کرنے کا بھی اختیار نہیں رکھتے ۔
اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader
اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے اور اگر فرض کرلیا جائے کہ وہ سن بھی لیں تو وہ تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ اور ( وہ دن کتنا حسرت ناک ہوگا) جب قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے اور ایسی صحیح خبر تمہیں اس خبر رکھنے والے اللہ کے سوا اور کون دے سکتا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader
اے لوگو ! تم اللہ کے محتاج ہو ۔ اللہ تو بےنیاز اور تمام تعریفوں والا ہے۔
اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader
اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور دوسری مخلوق کو لے آئے
وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader
اور ایسا کرنا اللہ کے لئے ذرا بھی مشکل نہیں ہے
وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader
اور کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا ۔ اور اگر کوئی اپنا بوجھ دوسرے سے اٹھانے کے لئے کہے گا تو اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو وہ ذرا بھی بوجھ نہ اٹھا سکے گا ۔ آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں ۔ جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص بھی پاکیزگی حاصل کرے گا وہ اس کے اپنے لئے ہے اور اللہ ہی کی طرف (سب کو ) لوٹ کر جانا ہے۔
وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader
اندھا اور آنکھوں والا ، برابر نہیں ہو سکتے۔
وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader
اندھیرا اور اجالا
وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader
جھلسا دینے والی دھوپ اور سایہ ،
وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader
زندہ اور مردہ بیشک وہ اللہ جس کو سنوانا چاہتا ہے سنوا دیتا ہے۔ اور تم ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں ۔
اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader
آپ تو صرف ڈرانے ( برے انجام سے آگاہ کرنے والے) ہیں ۔
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader
اور بیشک ہم نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اور ( آپ سے پہلے) کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو
وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader
( اے نبی ﷺ ! ) اگر وہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ( کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے) کیونکہ آپ سے پہلے آنے والے پیغمبروں کو بھی اسی طرح جھٹلایا گیا ہے۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی دلیلوں ، صحیفوں اور روشن کتاب کے ساتھ آئے تھے۔
ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader
پھر جن لوگوں نے (میری بات کو) نہ مانا تو میں نے انہیں پکڑ لیا ۔ پھر دیکھو ان پر میرا کیسا عذاب آیا ۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان ( بلندی) سے پانی برسایا ۔ پھر ہم نے اس سے مختلف پھل پھول نکالے جن کے رنگ جدا جدا ہیں ۔ اسی طرح پہاڑوں میں سرخ وسفید اور گہری سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں جن کے رنگ الگ الگ ہیں ۔
وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader
اسی طرح انسانوں ، جانوروں اور مویشوں کے رنگ بھی مختلف ہوتے ہیں ( حقیقت یہ ہے کہ) اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم وفکر رکھنے والے ہیں ۔ بیشک اللہ زبردست مغفرت کرنے والا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader
جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھنے ، نماز قائم کرتے اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے چھپ کر یا کھل کھلا اس امید پر خرچ کرتے ہیں کہ وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں گھاٹایا نقصان نہیں ہے (یہ ان کی بڑی کامیابی ہے)
لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader
یہ اس لئے ہے کہ اللہ انہیں ان کا بدلہ بہتر بلکہ اس سے بڑھ کر اجر عطاء فرمادے۔ بیشک وہ قدر کرنے والا اور معاف کرنے والا ہے۔
وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader
( اے نبی ﷺ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب بھیجی ہے وہی بر حق ہے یہ ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس ہیں ۔ بیشک اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہے۔
ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader
( درحقیقت) ہم نے ان ہی لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا ہے جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا ہے۔ پھر بعض تو ان میں سے وہ ہیں جو اپنی جان پر ظلم و زیادتی کرنے والے ہیں ۔ بعض اعتدال پسند ہیں اور بعض وہ لوگ ہیں جو اللہ کے حکم سے نیکیوں اور بھلائیوں میں سب سے آگے بڑھ جانے والے ہیں ۔ یہی ( اس کا) سب سے بڑا فضل و کرم ہے۔
جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader
یہ لوگ ان جنتوں میں داخل ہوں گے جو ہمیشہ کی جنتیں ہیں ۔ وہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے اور اس میں ان کا ریشمی لباس ہوگا ۔
وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader
وہ کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے رنج و غم کو دور کردیا ۔ بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا اور قدر دان ہے
اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader
جس نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے ہمیشگی والے گھروں میں اتارا ۔ نہ ان میں ہمیں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ( کوئی محنت اور) تھکاوٹ ہوگی ۔
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader
اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا ان کے لئے جہنم کی آگ ہے۔ نہ ان پر موت آئے گی کہ وہ مر جائیں اور نہ ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی ۔ اور ہم ہر نا شکرے کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں ۔
وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader
وہ کفار دوزخ میں چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکالئے تا کہ ہم اس سے مختلف نیک کام کریں جو ہم ( دنیا میں) کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہ دی تھی کہ اگر تم نصیحت حاصل کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے جب کہ تمہیں خبر دار کرنے والا بھی آگیا تھا ۔ اب تم عذاب کا مزہ چکھو۔ ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ہے۔