35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نمبر ٣٥۔ کل رکوع ٥۔ آیات ٤٥۔ الفاظ وکلمات ٧٩٢۔ حروف ٣٢٨٩۔ مقام نزول مکہ مکرمہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرماتے ہوئے کہا، کہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی زمین کے اندر سے پانی کے ایسے چشمے بہا دیے ہیں کہ جن میں کوئی میٹھا اور پسندیدہ پانی ہے، اور کوئی کڑوا ہی کیوں نہ ہو اس میں پیدا ہونے والی مچھلیوں میں پانی کی کرواہٹ نہیں ہوتی، جب مچھلی پکا کر کھائی جائے، تو اسپر نمک لگا کر کھایاجاتا ہے، نہ صرف اللہ کی قدرت ہے، کہ اس نے ہر چیز کی تاثیر کو اپنے قبضے میں رکھا ہے، وہی ہر چیز میں تاثیر پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ زمین ، آسمان اور فرشتوں کا خالق ومالک اللہ ہی ہے ۔ وہ جس پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے تو کسی کو یہ جرأت و طاقت نہیں کہ اس کو روک سکے اور جس وہ اپنی رحمتوں اور کرم کے دروازے بند کر دے اس کو کوئی کھلوانے والا نہیں ہے۔ ٭ انسان پر اللہ نے ہزاروں نعمتیں نازل فرمائی ہیں ان کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ کی ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کرتا رہے کیونکہ اللہ کو بندے کا جذبہ شکر بہت پسند ہے ، شکر سے نعمتوں میں اضافہ اور ترقی نصیب ہوتی ہے صرف ایک اللہ ہی شکر کا حق دار ہے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جا نثاروں کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ کفار و مشرکین اور بت پرست اللہ کے نبی اور اس کی آیات کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی ایسی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے کیونکہ ہر دور میں جب بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) نے دنیا کے لالچ میں ڈوبے ہوئے رسم پرستوں اور بت پرستوں کو اللہ کے دین کی طرف بلایا تو انہوں نے نہ صرف اس کا انکار کیا بلکہ شدید مزاحمت بھی کی ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) نے ہر طرح کے مصائب پر صبر کیا جس پر انہوں نے ان کی امتوں کو دنیا اور آخرت کی خیر ، بھلائی اور نعمتوں سے نوازا گیا ۔ ٭کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے اس کا فیصلہ انسان نہیں کرسکتا ، ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی ایک بات کو بہت پسند کرتا ہو مگر وہی بات اللہ کو ناپسند ہو تو اس بات کا فیصلہ دنیا میں اللہ کا کلام کر دے گا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ خود فرما دیں گے کہ ان کو انسانوں کے کون کون سے اعمال پسند یا ناپسند تھے۔ ٭حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کے ذریعہ نسل انسانی کی ابتداء ہوئی ، ان لوگوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام نازل فرمایا اور لوگوں کی اصلاح کے لئے انبیاء کرام (علیہ السلام) جیسے منتخب بندوں کو بھیجا ۔ یہاں تک کہ اللہ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیج کر سلسلہ نبوت کو مکمل فرمایا ۔ (اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی زمین کے اندر سے پانی کے ایسے چشمے بہا دیئے ہیں کہ جن میں کوئی میٹھا اور پسندیدہ پانی ہے اور کوئی کڑوا ، کسیلا ، کھارا اور نمکین پانی ہے اگرچہ پانی کڑوا ہی کیوں نہ ہو اس میں پیدا ہونے والی مچھلیوں میں پانی کی کوئی کڑواہٹ نہیں ہوتی بلکہ جب مچھلی پکا کر کھائی جاتی ہے تو اس پر نمک چھڑک کر کھاتا جاتا ہے۔ نہ صرف اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے ہر چیز کی تاثیر کو اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے ، وہی ہر چیز میں تاثیر پیدا کرتا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ جو کتاب الٰہی کو پڑھ کر اس کے مطابق ایمان اور عمل صالح کا پیکر بن جاتے ہیں ، نمازوں کا اہتمام اور اللہ کے بندوں پر مال خرچ کرتے ہیں وہ در حقیقت ایسی تجارت کر رہے ہیں جس میں کسی نقصان کا اندیشہ یا خوف نہیں ہے۔ ) اب صرف نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرمانبرداری ہی انسانوں کی کامیابی کی ضمانت ہے جو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کے ڈگر سے ہٹے گا وہ راہ ہدایت سے بھٹک جائے گا اور جو ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرے گا دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور نجات اس کو عطاء کی جائیں گی۔ ٭اللہ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی زمین سے میٹھے ، کڑوے ، کھارے اور پانی کے سوتے جا ری کردیئے ہیں جو ہر ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں آپس میں نہیں ملتے ۔ اسی کڑوے اور نمکین پانی میں جب کوئی مچھلی اپنی رزق حاصل کرتی ہے تو اس میں پانی کی کوئی کڑواہٹ نہیں آتی اسی کڑوے اور کسیلے پانی میں بہترین سچے موتی اور مونگے پیدا ہوتے ہیں اور اپنی چمک دمک سے وہ لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کردیتے ہیں یہ سب اللہ کی قدرت سے ہے۔ اللہ نے دریا ، چشمے اور سمندر بنائے اس میں کشتیاں جہاز چلتے ہیں اور کنارے سے دوسرے کنارے تک لوگوں کو اور ان کی ضرورت کے سامان کو لے کر دن رات سفر کرتے ہیں ۔ ہوائیں ان جہازوں کو سہارا دیتی ہیں اس طرح ہر شخص اس کی نعمت سے فائدہ حاصل کرتا ہے۔ چاند ، سورج ، ستارے ، حیوانات سب اللہ نے انسان کے خادم بنا دیئے ہیں ۔ وہ اللہ کی قدرت سے انسانوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ فرمایا کہ آدمی یہ نہیں سوچتا کہ ان تمام چیزوں کو صرف ایک اللہ ہی نے پیدا کیا ہے وہ ان کا خالق ہے اور وہی ان سب چیزوں کا مالک ہے وہی اس نظام کائنات کو اپنے حکم سے چلا رہا ہے۔ ٭انسان ان میں سے ہر چیز کا محتاج ہے لیکن ان چیزوں کا خالق کسی کا محتاج نہیں ہے۔ ساری قدرتیں اس کے ہاتھ میں ہیں وہ اگر چاہے تو دنیا کے سارے لوگوں کو ختم کر کے ایک دوسری مخلوق کو لے آئے کوئی چیز اس کے دست قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اس کے قبضے اور اختیار میں ہے۔ ٭اللہ تو اپنے بندوں پر بہت مہربان اور کرم کرنے والا ہے مگر انسان نا شکری کر کے اپنے لیے تباہی کے گڑھے اپنے ہاتھوں سے کھود لیتا ہے اور اس میں فرق نہیں کرتا کہ کون سی چیز بہتر ہے اور کون سی بدتر ۔ فرمایا کہ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔ ٭جس طرح اندھا اور آنکھوں والا ، اندھیرا اور روشنی ، دھوپ اور سایہ برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح زندہ اور مردہ بھی برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ کفار در حقیقت اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے مردہ ہوچکے ہیں اور زندگی کے اندھیروں میں اس طرح ڈوب چکے ہیں کہ انہیں روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی ۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول آئے ان کو واضح دلائل ، کھلے معجزات ، صحیفے اور روشنی کتابیں دی گئیں لیکن کفار نے ان سب کو دیکھنے ، سمجھنے اور سننے کے باوجود انکار کردیا ۔ ان کو مہلت بھی دی گئی لیکن جب وہ حد سے گزر گئے تو ان پر اللہ کا قہر نازل ہو کر رہا ۔ ٭اللہ نے ایسا انتظام کردیا ہے کہ آسمانی بلندیوں سے پانی برستا ہے جس سے مختلف قسم کے پھل ، پھول ، سبزی ، ترکاری اور میوے نکلتے ہیں ۔ اسی طرح پہاڑوں کے رنگ بھی مختلف ہیں کوئی سفید کوئی سیاہ کوئی سرخ اور کوئی زرد رنگ کا ہوتا ہے۔ جانوروں میں بھی مختلف رنگ روپے ہوتے ہیں ان سب چیزوں کو سوائے اللہ کے اور کس نے پیدا کیا ؟ یہ سب اسی کی قدرت کے شاہکار ہیں ۔ منکرین کو اللہ سے ڈرنا اور توبہ کرنا چاہیے لیکن اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم و فہم رکھنے والے ہیں جو ہر سچائی سے منہ پھیر کر چلنے کو اپنی شان سمجھتے ہیں وہ کبھی اس سچائی کو قبول نہ کریں گے ۔ ٭جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب کو پڑھ کر اس کے مطابق ایمان و عمل صالح اختیار کرتے ہیں ، اپنی عبادات میں خاص طور پر نمازوں کا اہتمام اور ادائیگی کرتے ہیں اور مالی عبادت میں وہ کھل کھلایا چھپ کر اپنا مال خرچ کرتے ہیں وہ در حقیقت ایسی تجارت کر رہے ہیں جس میں نقصان کا کوئی اندیشہ یا خوف نہیں ہے۔ اس پر انہیں اتنا عظیم صلہ اور بدلہ ملے گا جس کا وہ اس دنیا میں تصور میں بھی نہیں کرسکتے لیکن جو کفر پر جمے بیٹھے ہیں ان کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ اس میں جانے کے بعد روئیں گے ، فریاد کریں گے ، جلائیں گے مگر یہ سب چیزیں ان کے کام نہ آسکیں گی۔ ٭اللہ ہی ہر غیب اور چھپے ہوئے کا جاننے والا اور دلوں کے بھید سے واقف ہے۔ وہ ہر شخص کو ایک خاص مہلت دیتا ہے تا کہ وہ اچھی طرح سوچ کر اپنے حق میں بہتر فیصلہ کرے۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ ہر شخص کو اس کے ہر عمل پر اسی وقت سزا نہیں دیتا بلکہ اس کو پھر ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے لیکن وہ ڈینگیں مارنے والے بد قسمت اپنے گناہوں پر شرمندہ نہیں ہوتے اس لیے مدت گزرنے کے بعدان کو سخت سزا دی جاتی ہے جو دوسروں کے لیے بھی عبرت و نصیحت بن جاتے ہیں۔

Ayahs 35:1–7

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اسی نے فرشتوں کو پیغام پہنچانے والا بنایا ہے جو دو دو تین تین اور چار چار بازو ( پر ) رکھتے ہیں ۔ وہ اللہ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے اضافہ کردیتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

اگر وہ اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو ان کو بند کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو بند کر دے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں ہے۔ وہی غالب حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

اے لوگو ! تم پر جو بھی اللہ کے احسانات ہیں ( نعمتیں ہیں) ان کو یاد رکھو ۔ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا ایسا ہے جو ان ( نعمتوں) کو پیدا کرنے والا ہے۔ جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق عطاء کرتا ہے۔ جب اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پھر تم کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو ۔

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ ! اگر وہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو ( ایسی کوئی نئی بات نہیں ہے) آپ سے پہلے بھی وہ رسولوں کو اسی طرح جھٹلاتے رہے ہیں ۔ لیکن سارے معاملات آخر کار اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا وعدہ ہے۔ دنیا کی زندگی کہیں تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور ( کہیں ایسا نہ ہو) کہ دھوکے باز شیطان تمہیں کسی فریب میں مبتلا کر دے۔

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

بلا شک و شبہ شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اس کو اپنا دشمن ہی سمجھو ۔ وہ تو اپنے پیچھے چلنے والوں کو بلا رہا ہے تا کہ وہ جہنم والے بن جائیں۔

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

( یاد رکھو ) جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے شدید ترین عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے تو ان کے لئے سامان مغفرت اور بہت بڑا اجر وثواب ہے۔

لغات القرآن ۔ (آیت نمبر 1 تا 7) فاطر (پیدا کرنے والا) جاعل ( بنانے والا) اجنحۃ ( جناح) (پر ۔ بازو) مثنی۔ (دو دو) ثلث۔ ( تین تین) ربع ( چار چار) لایفتح (وہ نہیں کھولتا ہے) ممسک ( روکنے والا) انی (کہاں) تو فکون (الٹے پھرے جا رہے ہیں) لا تغرن ( ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے) الغرور (دھوکا ، فریب) حزب ( جماعت) مغفرۃ (معافی) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 :۔ اس کائنات میں جتنی بھی قابل تعریف خوبیاں ہیں وہ اس اللہ کی ذات کے لئے مخصوص ہیں جو ارض و سماء کا مالک اور سب کا رازق ہے۔ کائنات میں ہر طرف اس کی عظمت کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں ۔ اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی کہ اللہ نے زمین و آسمان اور اس کے درمیان جتنی بھی چیزیں اور مخلوق کو پیدا کیا ہے اس میں ایک خاص تو ازن اور اعتدال رکھا ہے۔ اگر یہ تو ازن (Balance) نہ ہوتا تو زمین و آسمان کی ہر چیز ایک دوسرے سے ٹکرا کر فنا ہوجاتی اس نے اس نظام کو اپنی قدرت سے چلانے کے لئے بیشمار فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اگرچہ نظر نہیں آتے لیکن وہ اللہ کے حکم سے ہر کام کو اسی طرح انجام دیتے ہیں جیسا ان سے کہا جاتا ہے۔ وہ اللہ کے ہر حکم اور فیصلے کو بندوں تک اور ان کے اعمال کو اللہ کی بارگاہ تک پہنچانے کے فرائض سر انجام دیتے ہیں ۔ اللہ نے ان فرشتوں کو پوری قوت و طاقت سے نوازا ہے جس سے وہ ہر کام کو احسن طریقے پر انجام دیتے ہیں ۔ جس طرح اللہ نے ہر جان دار کو ہاتھ پیر اور بازو عطاء کئے ہیں کوئی پیٹ کے بل رینگ رہا ہے ، کسی کے دو پاؤں ہیں ، کوئی چار ہاتھ پاؤں رکھتا ہے اسی طرح اللہ نے انی نورانی مخلوق فرشتوں کو دو دو تین تین اور چار چار بازو عطاء فرماتے ہیں بلکہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں نے جبریل کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ ان کے چھ سو بازو تھے۔ اسی طرح کی ایک روایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی نقل کی گئی ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جبرئیل کو اس طرح دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو ( اور پر) تھے۔ خلاصہ یہ ہے کہ فرشتے بھی انسان اور جنات کی طرح ایک نورانی مخلوق ہیں جو نہایت فرماں برداری کا مظاہرہ کرتے اور اپنے فرائض کو احسن طریقے پر ادا کرتے ہیں ۔ حضرت جبرئیل کے ذمے یہ ہے کہ وہ اللہ کے پیغمبروں کے پاس اللہ کا کلام اور پیغام لے کر پہنچاتے ہیں تا کہ بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ ہدایت نصیب ہو سکے اسی طرح حضرت اسرافیل (علیہ السلام) بارشیں برسانے اور اللہ کا رزق اللہ کے بندوں تک پہنچانے کی ذمہ داری پر مقرر ہیں حضرت اسرافیل (علیہ السلام) قیامت میں صور پھونکنے اور حضرت عزرائیل (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے موت دینے کی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں ۔ اسی طرح اللہ کے لا تعداد فرشتے مختلف کاموں پر مقرر کئے گئے ہیں ، بادلوں سے بارش برستی ہے ، سورج اپنی گرمی سے حرارت اور روشنی پیدا کرتا ہے ، ہوائیں بادلوں کو لے کر چلتی ہیں جن سے بارشیں برسنے کے بعد ہر طرح کا سبزہ ، سبزی ، پھل ، میوے ، غلے پیدا ہوتے ہیں جن سے انسانی ضروریات پوری ہوتی ہیں ۔ ایک مومن کا یہ اعتقاد اور یقین ہوتا ہے کہ اس کائنات کے نظام اور پیداوار کے پیچھے اللہ کا حکم چلتا ہے اور وہ اپنے فرشتوں کے ذریعہ کائنات میں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔ اللہ اپنی قوت و طاقت کے اظہار کے لئے دنیا کے ظاہری اسباب کا محتاج نہیں ہے لہٰذا اگر وہ کسی پر اپنی رحمتیں نازل کرنا چاہے تو کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے اور اگر وہ روک لے تو کوئی زبردستی اس سے کسی کو دلوانے والا نہیں ہے۔ دینے والی ذات اسی ایک اللہ کی ہے اس کے سوا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے لہٰذا اللہ کو چھوڑ کر اپنی مرادوں کے لئے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا اور ان سے توقع رکھنا شرک ہے جو اللہ کے ہاں ناقابل معافی جرم ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے ان کفار مکہ سے جو اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بتوں کو اپنا مشکل کشا مانتے تھے اور ان سے اپنی مرادوں کے پورا ہونے کی توقع رکھتے تھے یہ فرمایا کہ اس کائنات میں ساری قوت و طاقت ایک اللہ کی ہے اور جن بتوں کو وہ اپنا مشکل کشا مان رہے ہیں ان میں کوئی طاقت و قوت نہیں ہے۔ اس پر کفار بھڑک اٹھے اور انہوں نے آپ کی شدید مخالفت کی اور پھر وہ جاہلانہ مزاحمت و مخالفت پر اتر آئے۔ اللہ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اگر آج یہ لوگ آپ کو اور آپ کی لائی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں اور شدید مخالفت پر اتر آئے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ آپ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر تشریف لائے ہیں ان کو اسی طرح جھٹلایا گیا اور ان کی تعلیمات کو ماننے کے بجائے ان کا مذاق اڑایا گیا ۔ لیکن اس مخالفت اور مزاحمت کا انجام یہ ہوا کہ ان کی بستیوں اور تہذیب و تمدن کو اس طرح ملیا میٹ کردیا گیا کہ ان کے شہروں کے کھنڈرات اور منکرین کی زندگیاں نشان عبرت بن چکی ہیں ۔ اگر غور کیا جائے تو یہی بات ان کی ہدایت کے لئے کافی ہے لیکن جو اللہ کے سچے وعدے کے بر خلاف دنیا کی زندگی اور عیش و عشرت کے دھوکے میں پڑگئے اور شیطان کے جھانسے اور فریب میں آگئے انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنی دنیا اور آخرت کو برباد کر ڈالا ۔ اصل میں شیطان انسان کا ازالی دشمن ہے وہ اپنی پوری قوت و طاقت اس بات پر لگا دیتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جہنم میں اس کے ساتھ بن جائیں لیکن جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرتے ہیں ان کے لئے نہ صرف مغفرت کا سامان کیا جاتا ہے بلکہ ان کو آخرت میں بہت بڑا اجر وثواب عطاء کیا جائے گا ۔
Ayahs 35:8–10

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

( اس سے بڑا گمراہ کون ہوگا) جس کے ( برے اور بد ترین) اعمال اس کی اپنی نظروں میں خوبصورت بنا دیئے گئے ہوں اور وہ خود بھی ان کو اچھا سمجھتا ہو ؟ بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے۔ (اے نبی ﷺ آپ حسرت و افسوس میں اپنی جان نہ گھلایئے۔ اللہ ان کی حرکتوں سے واقف ہے۔

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اللہ تو وہ ہے جو ان ہوائوں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں ( اللہ نے فرمایا کہ) پھر ہم ان بادلوں کو ایک خشک اور بنجر شہر کی طرف لے جاتے ہیں ۔ پھر ان کے ذریعہ مردہ زمین کو دوبارہ زندگی دیتے ہیں ۔ اسی طرح ہم ( قیامت کے دن) کے مردوں کو دوبارہ اٹھا کر کھڑا کریں گے۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو کوئی عزت چاہتا ہے تو وہ ( یاد رکھے کہ) ساری عزت صرف اللہ کے لیے ہے۔ اسی کی طرف اچھے اور پاکیزہ اعمال اٹھائے ( پہنچائے) جاتے ہیں ۔ اور جو لوگ بری تدبیر ( برے اعمال) کرتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے۔ اور ان کا مکروفریب خود ہی غارت ہوجانے والا ہے۔

لغات القرآن ( آیت نمبر 8 تا 10) زین (خوبصورت بنا دیا گیا) سوئ (برائی) را (اس نے دیکھا) یصنعون (وہ بناتے ہیں) تثیر (اٹھاتی ہے) سقنا ( ہم نے سیراب کردیا) بلد (شہر ، بستی ( ب ۔ ل د) النشور (قیامت میں) دوبارہ اٹھایا جانا) یصعد ( وہ چڑھتا ہے) الکلم (باتیں ، اعمال) یرفع (وہ بلند کرتا ہے) یمکرون ( وہ فریب دیتے ہیں) یبور ( برباد ہوتا ہے ، اکارت جائے گی) تشریح : آیت نمبر 8 تا 10 :۔ اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ نے اپنے بندوں سے جو بھی وعدے کئے ہیں وہ سچے ہیں اور پورے ہو کر رہیں گے لیکن شیطان اپنے جھوٹے وعدوں میں لوگوں کو پھنسا کر اپنے ساتھ جہنم میں لے جانا چاہتا ہے ۔ اس کی تدبیریں اس قدر پر فریب ہوتی ہیں کہ انسان ان کو مشکل کشا سمجھنے لگتا ہے لہٰذا اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنا چاہیے۔ شیطان کا سب سے بڑا فریب یہ ہے کہ وہ انسان کو برے اعمال پر اکساکر یہ سمجھاتا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو وہی سب سے بہتر اور نیک کام ہے۔ وہ آدمی ان کاموں کو کرتے کرتے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ واقعی وہی صحیح راستے پر ہے اور اس کا ہر عمل بر حق ہے یہ وہ دھوکہ ہے کہ جو بھی اس میں پھنس جاتا ہے وہ گمراہی کو ہدایت ، اندھیرے کو روشنی اور باطل کو حق سمجھنے لگتا ہے اور بھٹک کر اللہ کی رحمتوں سے بہت دور نکل جاتا ہے لیکن جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کرلیتے ہیں وہ دنیا اور آخرت کی ہر کامیابی حاصل کرلیتے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جب ہدایت و گمراہی ، حق و باطل ایک جیسے نہیں ہو سکتے تو ان دونوں کا انجام بھی یکساں نہیں ہو سکتا لہٰذا آپ اس حسرت اور افسوس میں اپنی جان نہ گھلائیں کہ لوگ راہ مستقیم کو چھوڑ کر گمراہی کی دلدل میں کیوں پھنسے ہوئے ہیں ۔ فرمایا کہ اللہ کو ان جیسے لوگوں کے سارے کرتوت اچھی طرح معلوم ہیں کہ کون کیا کر رہا ہے اور اس کا انجام کیا ہے ؟ فرمایا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا انہیں کائنات کے اس نظام پر غور کرنا چاہیے کہ جب زمین خشک ، بنجر اور بےرونق ہو کر رہ جاتی ہے اور ہر طرف دھول اڑنے لگتی ہے تو اللہ سمندروں میں ایسی کیفیت پیدا کردیتا ہے کہ اس سے مون سون اٹھتا ہے اور وہ بادلوں کی شکل اختیار کر کے ایک اختیار زمین پر برستا ہے تو اس مردہ زمین میں دوبارہ ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی ہے اور خشک زمین سر سبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ فرمایا کہ اسی طرح جب تمام کائنات کے جان دار مر چکے ہوں گے تو اللہ کی یہ قدرت ہے کہ وہ تمام لوگوں کو زندہ کر کے میدان حشر میں جمع کرے گا اور ان سے زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لے گا ۔ اس بات پر یقین کامل رکھنے والوں کو آخرت کی عزت نصیب ہوگی کیونکہ ساری عزت و عظمت اللہ ہی کے پاس ہے۔ فرمایا کہ انسان اچھے یا برے جیسے بھی اعمال کرتا ہے وہ اللہ کی طرف بلند کئے جاتے ہیں اور فیصلے بھی وہیں سے آتے ہیں ۔ گناہ گاروں کو شدید عذاب دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور نیکو کاروں کو ان کا بہترین بدلہ دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ برائیاں اختیار کرنے والے فوری برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
Ayahs 35:11–14

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنا دیا۔ کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ کوئی عورت کسی بچے کو جنم دیتی ہے مگر یہ کہ وہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی بڑی عمر پاتا ہے یا کسی کی عمر میں کمی کی جاتی ہے وہ سب کچھ کتاب ( لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے۔ بیشک یہ سب کچھ اللہ کے لئے آسان ہے ۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور دو سمندر ( دریا) یکساں نہیں ہوتے۔ ان میں سے ایک میٹھا اور شیریں ہے جس سے پیاس بجھتی ہے اور پینے میں بھی خوش گوار ہے۔ اور دوسرا پانی سخت کڑوا ہے۔ مگر دونوں ( پانیوں) سے تمہیں تر و تازہ گوشت کھانے کو ملتا ہے ۔ اور ان میں سے تم زیور ( موتی وغیرہ) نکال کر ( زیور کے طور پر) پہنتے ہو ۔ اور تم اسی پانی میں کشتیوں ( جہازوں) کو دیکھتے ہو جو پانی کو چیرتی پھارتی ہوئی چلتی ہیں تا کہ تم اللہ کا فضل تلاش کرسکو اور امید ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو گے ۔

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے۔ ( مسخر کردیا ہے) جو ایک مقرر مدت تک چلتے رہیں گے۔ یہی تو اللہ ہے جو تمہارا رب ہے اور یہ ساری سلطنت اسی کی ملکیت ہے اور اللہ کو چھوڑ کر جنہیں تم پکارتے ہو وہ گٹھلی کے چھلکے کو پیدا کرنے کا بھی اختیار نہیں رکھتے ۔

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے اور اگر فرض کرلیا جائے کہ وہ سن بھی لیں تو وہ تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ اور ( وہ دن کتنا حسرت ناک ہوگا) جب قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے اور ایسی صحیح خبر تمہیں اس خبر رکھنے والے اللہ کے سوا اور کون دے سکتا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 14۔ ۔ نطفۃ ( نطفہ ، پانی کی حقیر بوند) انثی (عورت) لا تصنع (پیدا نہیں کرتی ، جنم نہیں دیتی) یعمر ( وہ عمر کو بڑھاتا ہے) لا ینقص ( وہ کمی نہیں کرتا) یسیر ( آسان کرتا ہے) لا یستوی (برابر نہیں ہے) عذب فرات (میٹھا پانی ، پیاس بجھانے والا) سائغ (خوش گوار) شراب ( پینے کی چیز) ملح ( کھارا ، نمکین) اجاج ( کڑوا) طری ( تازہ) حلیۃ ( زیور) تلبسون ( تم پہنتے ہو) مواخر ( پانی پھاڑنے والا) یولج ( داخل کرتا ہے) مسمی (مقرر مدت ، متعین) قطمیر (چھلکا ، کھجور کی گٹھلی پر لگی جھلی) یا ینبی (وہ جبر نہیں دیتا) خبیر ( بہت خبر رکھنے والا ، نگہبان) تشریح : آیت نمبر 11 تا 14 :۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اپنی بعض نشانیوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہی اس ساری کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا خالق ومالک ہے اور اس کی ہر بات کا پوری طرح علم ہے۔ اس نے انسانوں کو بنا کر یوں ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس نے رزق کے تمام اسباب مہیا فرما کر آزمایا ہے کہ اپنے اختیار سے کوئی شخص کیا عمل کرتا ہے اور اپنے لئے جنت یا جہنم میں سے کون سا راستہ منتخب کرتا ہے۔ 1۔ اللہ نے انسانی نسل کی ابتداء حضرت آدم (علیہ السلام) سے فرمائی جنہیں مٹی سے پیدا کیا گیا تھا پھر اس نے پانی کی ایک حقیر بوند ( نطفہ) سے انسانی نسل کو ساری دنیا میں پھیلا دیا ۔ اور ہر ایک کے لئے اسکے جوڑے اور ساتھی کو بھی پیدا کیا تا کہ اس کے ذریعہ سکون قلب حاصل ہو سکے۔ 2۔ اپنی ساری مخلوق کے متعلق اس کا علم اس قدر وسیع ہے کہ جو بچہ بھی اس دنیا میں قدم رکھ رہا ہے اس کے متعلق اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ کیا ہے ؟ کیسا ہے ؟ اس کی عمر کتنی ہوگی ؟ اور اس کو کتنا رزق دیا جائے گا ؟ ان تمام باتوں کا حساب اور علم رکھنا انتہائی آسان ہے اور اس میں اس ذات پاک کے لئے کوئی دشواری نہیں ہے کیونکہ ایک ایک بات لوح محفوظ میں لکھ دی گئی ہے۔ 3۔ یہ اللہ ہی کی قدرت ہے کہ جس نے ایک ہی زمین کے سوتوں سے نکلنے والی پانی کی خصوصیات کو اس طرح کنٹرول کیا ہوا ہے اگر ایک طرف صاف ستھرا اور میٹھا پانی ہے جس سے دریا ، نہریں اور چشمے جاری ہیں تو دوسری طرف اس نے کھارے ، کڑوے اور تلخ پانی کو پیدا کر کے بےانتہاء گہرے اور عظیم سمندر بنا دیئے اور کنوؤں سے کھارے پانی کو پیدا کیا لیکن یہ اس کی ایک عظیم قدرت ہے کہ سمندر کے انتہائی کڑوے اور نمکین پانی میں پلنے اور بڑھنے والی مچھلیوں کے گوشت کو نمک اور کڑواہٹ سے محفوظ فرما دیا جو انسانوں کی بہترین عذا ہے اس میں نمک اور کڑواہٹ محسوس تک نہیں ہوتی بلکہ مچھلیوں کو پکانے کے بعد ہر انسان اپنی مرضی سے اس پر نمک چھڑک کر لطف اور لذت حاصل کرتا ہے۔ اس کڑوے اور کسیلے پانی میں اس نے نہایت خوبصورت اور قیمتی موتی ، مونگے اور مرجان کو پیدا کیا جن کو زیب وزینت کے لئے زیور بنا کر پہنا جاتا ہے۔ ان ہی پانیوں میں کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز چلتے ہیں جو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک انسانی ضرورت کا سامان پہنچاتے ہیں ۔ یہ تمام چیزیں ایسی نعمتیں ہیں جن پر جس قدر شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ 4۔ اسی نے اپنی قدرت سے رات اور دن ، اندھیرے اور اجالے کو نعمت کے طور پر پیدا کیا ۔ کبھی کے دن بڑے ہوتے ہیں اور کبھی کی راتیں ، موسم بدلتے رہتے ہیں ، کبھی سردی ، گرمی ، جاڑا اور برسات ہے کبھی خوش گوار ہوائیں ، کبھی خشک موسم، ان کو اس لئے تبدیل کیا جاتا ہے کہ انسان زندگی اور موسموں کی یکسانیت سے کتا نہ جائے۔ 5۔ وہی ایک اللہ ہے جس نے اپنی قدرت سے چاند ، سورج اور ستاروں کو پیدا کر کے ان کو انسانوں کے لئے مسخر اور تابع کردیا یہ تمام چیزیں خادم کی حیثیت سے ان کے کاموں میں لگا دی گئی ہیں جن سے انسان بہت سے فائدہ حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب ساری کائنات کا خالق ومالک اللہ ہی ہے اور ہر طرف اس کی قدرت کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں تو پھر اس کے سوا عبادت و بندگی کے لائق اور کون ہو سکتا ہے ؟ یقینا وہی ایک اللہ سب چیزوں کا خالق ہے اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ ایک بڑی جہالت اور نادانی میں مبتلا ہیں کیونکہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو ” قطمیر “ کو بھی پیدا کرسکے یعنی کھجور تو بڑی چیز ہے یہ جھوٹے معبود تو کھجور پر جو ہلکی سی ایک جھلی ہوتی ہے اس کو پیدا کرنے کی اہلیت اور صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ وہ کسی کو نفع اور نقصان کیا پہنچا سکتے ہیں ۔ اگر ان کو پکارا جائے تو وہ کسی کی پکار کو سن نہیں سکتے اور اگر فرض کرلیا جائے کہ وہ سن بھی لیں تو وہ سن کر کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں کیونکہ وہ تو خود اپنے وجود میں دوسروں کے ہاتھوں کے محتاج ہیں ۔ ان کو اگر توڑ پھوڑ دیا جائے تو وہ اپنے آپ کو بچا نہیں سکتے اور اگر ان سے کسی حاجت کے لئے سوال کیا جائے تو وہ اس کو پورا نہیں کرسکتے۔ اور فرمایا کہ وہ دن کتنا حسرت ناک ہوگا جب یہ جھوٹے معبود خود اپنے ماننے والوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہہ دیں گے کہ الٰہی ! ہم نے ان سے نہیں کہا تھا کہ وہ ہماری عبادت کریں یہ ان کے اپنے تصورات تھے جن کی وہ عبادت و بندگی کرتے تھے ۔ فرمایا کہ یہ ایک ایسی سچی اور صحیح خبر ہے جو تمہیں اس ذات کی طرف سے دی جا رہی ہے جو ہر چیز اور ہر بات کا جاننے والا ہے۔
Ayahs 35:15–26

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگو ! تم اللہ کے محتاج ہو ۔ اللہ تو بےنیاز اور تمام تعریفوں والا ہے۔

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور دوسری مخلوق کو لے آئے

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور ایسا کرنا اللہ کے لئے ذرا بھی مشکل نہیں ہے

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا ۔ اور اگر کوئی اپنا بوجھ دوسرے سے اٹھانے کے لئے کہے گا تو اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو وہ ذرا بھی بوجھ نہ اٹھا سکے گا ۔ آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں ۔ جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص بھی پاکیزگی حاصل کرے گا وہ اس کے اپنے لئے ہے اور اللہ ہی کی طرف (سب کو ) لوٹ کر جانا ہے۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اندھا اور آنکھوں والا ، برابر نہیں ہو سکتے۔

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اندھیرا اور اجالا

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

جھلسا دینے والی دھوپ اور سایہ ،

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

زندہ اور مردہ بیشک وہ اللہ جس کو سنوانا چاہتا ہے سنوا دیتا ہے۔ اور تم ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں ۔

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

آپ تو صرف ڈرانے ( برے انجام سے آگاہ کرنے والے) ہیں ۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اور ( آپ سے پہلے) کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ ! ) اگر وہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ( کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے) کیونکہ آپ سے پہلے آنے والے پیغمبروں کو بھی اسی طرح جھٹلایا گیا ہے۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی دلیلوں ، صحیفوں اور روشن کتاب کے ساتھ آئے تھے۔

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے (میری بات کو) نہ مانا تو میں نے انہیں پکڑ لیا ۔ پھر دیکھو ان پر میرا کیسا عذاب آیا ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26 فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب) تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے فرمایا گیا ہے کہ انسان اور دنیا کی تمام چیزیں اسی ایک اللہ کی محتاج ہیں اس بےنیاز اور تمام تعریفوں کی مستحق ذات نے انسان کو پیدا کر کے اس کے لئے زندگی گزارنے کے اسباب عطاء فرمائے ہیں ۔ اب اگر وہ ان کفار و مشرکین کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹا کر کسی دوسری ایسی مخلوق کو لے آئے جو ہر طرح اس کی اطاعت گزار اور فرماں بردار ہو تو یہ اس کے لئے کوئی مشکل اور دشوار کام نہیں ہے۔ ارشاد ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال و کردار کا خود ذمہ دار ہے اور قیامت کے ہولناک دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا ۔ رشتہ دار ، دوست احباب یہاں تک کہ مشفق و مہر بان ماں باپ بھی اس کو سہارا دینے سے انکار کردیں گے اور ہر ایک اس طرح اپنی فکر میں لگا ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے اور اس طرح وہ اپنی بد عملیوں کے سبب جہنم کے ابدی عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔ اس کے بر خلاف ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والے جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار ہوں گے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کو ان کے اعمال کے برے انجام اور عذاب جہنم سے ڈراتے رہیے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں وہی ان باتوں پر غور و فکر کریں گے اور اس پر دھیان دیں گے۔ لہٰذا جو لوگ ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کر کے ظاہری و باطنی پاکیزگی حاصل کریں گے وہی آخرت کے تمام فائدے حاصل کرسکیں گے۔ اور جب وہ اللہ کی طرف لوٹیں گے تو کامیاب و بامراد ہوں گے۔ فرمایا کہ وہ لوگ اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ ایک اندھا اور آنکھوں والا ، اندھیرا اور روشنی جھلسا دینے والی گرم ہوا اور درختوں کی ٹھنڈی ہوا اور چھاؤں ، مردہ اور زندگی برابر نہیں ہوتے تو وہ لوگ جو گناہوں بھری زندگی گزار رہے ہیں وہ ان کے برابر اور انجام کے اعتبار سے ایک کیسے ہو سکتے ہیں جو ایمان اور عمل صالح اختیار کر کے زندگی گزار رہے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان سچائیوں کو سمجھنے کے باوجود اگر لوگوں کے دل مردہ ہوچکے ہیں اور ان پر روحانی موت طاری ہوچکی ہے اور وہ مردوں کی طرح سن نہیں سکتے تو اگرچہ ان کو سنانا یا نہ سنانا برابر ہے مگر آپ کا کام یہ ہے کہ ان کو برے انجام سے ڈراتے رہیے۔ کیونکہ ہم نے آپ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اگر وہ ضد ، ہٹ دھرمی اور جہالت کی وجہ سے آپ کو جھٹلاتے ہیں تو اس میں پریشان اور رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر آئے ہیں ان کو اسی طرح کے حالات سے واسطہ پڑا ہے حالانکہ وہ صحیفے اور روشن کتابیں بھی لائے تھے لیکن کافروں نے ان کا انکار کیا اور اس طرح وہ اپنے برے انجام سے دو چار ہو کر رہے۔
Ayahs 35:27–30

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان ( بلندی) سے پانی برسایا ۔ پھر ہم نے اس سے مختلف پھل پھول نکالے جن کے رنگ جدا جدا ہیں ۔ اسی طرح پہاڑوں میں سرخ وسفید اور گہری سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں جن کے رنگ الگ الگ ہیں ۔

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اسی طرح انسانوں ، جانوروں اور مویشوں کے رنگ بھی مختلف ہوتے ہیں ( حقیقت یہ ہے کہ) اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم وفکر رکھنے والے ہیں ۔ بیشک اللہ زبردست مغفرت کرنے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھنے ، نماز قائم کرتے اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے چھپ کر یا کھل کھلا اس امید پر خرچ کرتے ہیں کہ وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں گھاٹایا نقصان نہیں ہے (یہ ان کی بڑی کامیابی ہے)

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے کہ اللہ انہیں ان کا بدلہ بہتر بلکہ اس سے بڑھ کر اجر عطاء فرمادے۔ بیشک وہ قدر کرنے والا اور معاف کرنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 30 :۔ جدد ( جدۃ) ( راستے) بیض (سفید) حمر (سرخ) غرابیب (بےانتہا سیاہ) سود (سیاہ ، تاریک) دواب ( جانور) لن تبور ( ہرگز نقصان نہ ہوگا) شکور ( قدر دان ، قدر کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 27 تا 30 :۔ گزشتہ آیات سے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اگر انسان کائنات میں بکھری ہوئی نعمتوں میں غور و فکر اور تدبر سے کام لے تو وہ اس خالق ومالک کو پہچان سکتا ہے جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ آسمان سے جب بارش برستی ہے تو زمین میں ایک ترو تازگی پیدا ہوجاتی ہے، کھیت لہلہانے لگتے ہیں ، درختوں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوجاتا ہے، سبزہ ، سبزی ، پھل اور طرح طرح کے میوے اگنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طرف متوجہ فرما رہے ہیں کہ ایک ہی زمین اور ایک ہی آب و ہوا لیکن درخت اور پھل کس قدر الگ الگ ہیں کہ ان کی خوشبو اور رنگ جداگانہ ہیں ۔ اونچے اور بلند وبالا پہاڑوں کے سلسلہ پر غور کیا جائے کہ وہ اپنے اندر کتنے خزانوں کو چھپائے ہوئے ہیں ۔ پہاڑوں میں ایسے راستے بنا دیئے گئے ہیں جن سے مال و اسباب کا لانالیجانا اور آنا جانا کتنا آسان ہے۔ یہ پہاڑ ایسے پتھروں سے بنا دیئے گئے ہیں کہ ان کے رنگ مختلف ہیں کوئی سفید ، کوئی سرخ ، کوئی گہرے رنگے کا اور کوئی ہلکے رنگ کا کوئی بالکل سیاہ پتھر ۔ فرمایا کہ ذرا اس پر تو غور کرو کہ اس نے چٹانوں اور طرح طرح کے پتھر کس خوبصورتی سے بنائے ہیں ۔ اگر کوئی ان چیزوں کو دیکھ کر بھی اس پر اللہ پر ایمان نہیں لاتا جس نے ان تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے تو اس کی عقل پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ فرمایا کہ صرف نباتات اور جمادات تک ہی اس کی قدرت محدد نہیں ہے بلکہ خود آدمی کے وجود کے اندر کتنی نشانیاں موجود ہیں مثلاً ایک ہی گھرانہ ، اس کا ماحول ایک جیسا ، ایک ہی ماں اور باپ لیکن اولادوں میں کس قدر مختلف ذہن و فکر والے بچے ہوتے ہیں جن کے خیالات ، جذبات اور انداز ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ اسی طرح چوپائے ، جانور ، کیڑے ، مکوڑے یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں لیکن کس قدر جدا جدا ہیں سب کی ضروریات اور حاجات مختلف ہیں ۔ فرمایا ان باتوں پر وہی غور و فکر کرتے ہیں جو علم و فکر رکھنے والے علماء ہیں ۔ یہ علماء کون ہیں ؟ فرمایا کہ غور و فکر اور تدبر کرنے والے علماء وہ ہیں جو اللہ کی کتاب کی آیات کی تلاوت کرتے ، نماز قائم کرتے اور اللہ نے ان کی جو کچھ دیا ہے اس کو علانیہ یا چھپ کر ہر طرح اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت پر یقین رکھتے ہیں جس میں گھاٹے اور نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا یعنی جو لوگ آخرت کی زندگی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں وہ اللہ سے ایسی تجارت کر رہے ہیں جس میں نفع ہی نفع ہے نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں ہے ۔ فرمایا کہ ان جیسے لوگوں کو ان کی محنت کا پورا پورا صلہ اور بدلہ ملے گا ۔ فرمایا کہ اگر نیک نیتی سے کئے جانے والے کاموں میں بھول چک ہوجائے تو اللہ ان کی خطاؤں کو ان کے نیک اعمال کے بدلے میں معاف فرما دے گا ۔
Ayahs 35:31–37

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ ہم نے آپ کی طرف جو کتاب بھیجی ہے وہی بر حق ہے یہ ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس ہیں ۔ بیشک اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہے۔

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

( درحقیقت) ہم نے ان ہی لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا ہے جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا ہے۔ پھر بعض تو ان میں سے وہ ہیں جو اپنی جان پر ظلم و زیادتی کرنے والے ہیں ۔ بعض اعتدال پسند ہیں اور بعض وہ لوگ ہیں جو اللہ کے حکم سے نیکیوں اور بھلائیوں میں سب سے آگے بڑھ جانے والے ہیں ۔ یہی ( اس کا) سب سے بڑا فضل و کرم ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

یہ لوگ ان جنتوں میں داخل ہوں گے جو ہمیشہ کی جنتیں ہیں ۔ وہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے اور اس میں ان کا ریشمی لباس ہوگا ۔

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے رنج و غم کو دور کردیا ۔ بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا اور قدر دان ہے

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے ہمیشگی والے گھروں میں اتارا ۔ نہ ان میں ہمیں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ( کوئی محنت اور) تھکاوٹ ہوگی ۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا ان کے لئے جہنم کی آگ ہے۔ نہ ان پر موت آئے گی کہ وہ مر جائیں اور نہ ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی ۔ اور ہم ہر نا شکرے کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں ۔

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

وہ کفار دوزخ میں چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکالئے تا کہ ہم اس سے مختلف نیک کام کریں جو ہم ( دنیا میں) کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہ دی تھی کہ اگر تم نصیحت حاصل کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے جب کہ تمہیں خبر دار کرنے والا بھی آگیا تھا ۔ اب تم عذاب کا مزہ چکھو۔ ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ اور ثنا ( ہم نے وارث بنایا) اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) مقتصد (اعتدال اختیار کرنے والا) سابق (آگے بڑھنے والا) اساور (کنگن ، سونے کا ایک زیور) لولو ( موتی) حریر (ریشم) احلنا (ہم نے بسایا ، آباد کیا) دارالمقامۃ (رہنے کا گھر) نصب ( محنت ، مشقت) لغوب ( کام کے بعد کی تھکاوٹ) لا یقضی (فیصلہ نہ کیا جائے گا) لا یخفف (کمی نہ کی جائے گی) یطر خون (وہ چیخیں گے ، چلائیں گے) نعمر (ہم نے عمر دی تھی) نصیر (مدد گار) تشریح : آیت نمبر 31 تا 37 :۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے امت کو اور ساری دنیا کے لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جو کتاب قرآن مجید آپ کی طرف نازل کی گئی ہے وہ نہ صرف ” بر حق “ ہے بلکہ اس کے ذریعہ ان کتابوں کے سچا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جو آپ سے پہلے ناز ل کی گئی تھیں۔ نصاری ( عیسائی) اور یہودی ( بنی اسرائیل) جن کو اہل کتاب ہونے پر ناز تھا وہ ایک دوسرے کی کتابوں کو ماننے سے انکار کرتے تھے لیکن قرآن کریم کے ذریعے توریت ، زبور اور انجیل کے سچا ہونے کی تصدق کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اگرچہ لوگوں نے اپنے معمولی اور گھٹیا مقاصد کے لئے ان کتابوں میں بہت سی باتیں خود گھڑ کر شامل کردی ہیں لیکن وہ کلام جو اللہ نے نازل کیا تھا وہ بالکل سچا کلام تھا اور اسی کی تصدیق قرآن کریم کی طرف سے کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم جیسی عظیم کتاب حضور اکرم ﷺ کی اس امت کی طرف نازل کی گئی ہے جو تمام امتوں میں ” خیر امت “ ہے۔ اب وہی اس کے وارث اور ذمہ دار ہیں وہی اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت پر مقرر کردیئے گئے ہیں ۔ فرمایا کہ بیشک اس قرآن کریم کی ذمہ داریاں اٹھانے والے بعض اعمال کی وجہ سے ذرا مختلف ہوں گے لیکن اس قرآن کریم کی برکت سے ان سب کی نجات ہوگی ۔ (1) ۔ بعض تو وہ لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کو پوری طرح ماننے کے باوجود اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوں گے یعنی گناہوں اور خطائو میں ملوث ہوں گے لیکن ان کے اندر یہ احساس زندہ رہے گا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ غلط ہے انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں اس احساس کے زندہ ہونے سے کبھی نہ کبھی توبہ کی توفیق مل ہی جائے گی کیونکہ جو بالکل بےحس ہوجائے کہ اپنے گناہوں پر بھی شرمندہ نہ ہو اس کو توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوا کرتی۔ ( 2) دوسرے ’ مقتصد “ ہیں یعنی درمیانہ درجہ کے اعمال کرنے والے کچھ اعتدال و تو ازن رکھنے والے یعنی جو لوگ نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف زیادہ رغبت رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو گناہوں سے بچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ایسے لوگوں کو اگرچہ تقویٰ کا اعلیٰ مقام نہیں ملتا لیکن بہر حال وہ اپنا ایک درجہ اور مقام رکھتے ہیں۔ (3) لیکن وہ لوگ جو ” سابق الخیرات “ یعنی ہر نیکی اور بھلائی کے کام کی طرف بےتابانہ دوڑتے اور لپکتے ہیں ۔ اللہ کے کامل بندے اور اللہ و رسول کی مکمل اطاعت رکنے والے ، فرائض و واجبات کی پابندی کرنے والے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ کے ہاں بہت اعلیٰ مقام اور جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار کیا جائے گا ۔ یہ تینوں طبقے جو ” وارثین کتاب “ ہیں سب کے سب جنت میں جائیں گے۔ اسی بناء پر ہمارے علماء اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر ایک شخص مومن اور وارث کتاب ہے اور اس سے گناہ بھی ہوجاتے ہیں تو وہ معمولی فرق کے ساتھ جنت میں ضرور جائے گا ۔ حضرت ابو دردا ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جو لوگ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں وہ جنت میں بغیر حساب کے داخل کئے جائیں گے اور جو مقتصد یعنی درمیانی راہ اختیار کرنے والے ہیں ان سے ہلکا سکا حساب لیا جائے گا ۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہوگا وہ بھی جنت میں جائیں گے مگر بہت طویل انتظار کے بعد ۔ جب ان کو نجات کا پروانہ ملے گا تو وہ کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں شدید رنج و غم سے نجات عطاء فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ جنت جس میں ان لوگوں کو داخل کیا جائے گا ان کا شاہانہ انداز ہوگا ریشم کا بہترین لباس ، موتیوں اور ہیرے جواہرات کے جڑے ہوئے تاج ، سر مئی آنکھیں ، بھر پور جوانی اور اس کی لذتیں اور ہم عمر خوبصورت حوریں یہ سب انعام کے طور پر ان کو ہمیشہ کے لئے دی جائیں گی اس پر وہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں گے اور کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے بغیر محنت و مشقت کے یہ تمام نعمتیں عطاء فرمائی ہیں اسی نے رنج و غم سے ہمیں نجات عطاء فرما دی ہے۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہوگا ان کو ایسی جہنم میں جھونک دیا جائے گا جہاں وہ عذب الٰہی کو دیکھ کر اس کی خواہش کریں گے اس سے تو انہیں موت ہی آجاتی لیکن ان کی حسرت کی انتہاء یہ ہوگی کہ وہ اس جہنم میں مرنا بھی چاہیں گے تو ان کی موت نہ آئے گی اور ان سے عذاب جہنم کو ہلکا بھی نہیں کیا جائے گا ۔ وہ روئیں گے چلائیں گے مگر ان ظالموں کی فریاد تک سننے والا کوئی نہ ہوگا وہ کہیں گے الٰہی ہمیں اس عذاب سے نکا لئے اب ہم دنیا میں دوبارہ جا کر وہی کچھ کریں گے جس کا ہمیں اللہ و رسول نے حکم دیا ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا جائے گا کہ اب رونے چلانے سے کیا فائدہ اور دنیا میں دوبارہ جانے کی تمنا فضول ہے کیونکہ تمہیں زندگی کا ایک طویل عرصہ دیا گیا تھا جب تم نے اس زندگی میں کفر و شرک اختیار کیا تو اب تم سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے جب کہ تمہارے پاس اللہ کے وہ رسول بھی آئے جنہوں نے تمہیں اس دن کے عذاب سے آگاہ بھی کردیا تھا مگر تم نے ان باتوں کی کبھی پروا نہیں کی لہٰذا اب اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھوآج تم ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ہے اور اس طرح ان کو جہنم کی ابدی آگ میں جھونک دیا جائے گا ۔