35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

ساری تعریف اللہ ہی کیلئے ہے جو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا،1۔ (اور) فرشتوں کو پیام رساں بنانے والا،2۔ جو دو دو اور تین تین اور چار چار پر دار بازو رکھتے ہیں وہ پیدائش میں جو چاہے زیادہ کردیتا ہے،3۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے،4۔

1۔ آیت میں بتایا ہے کہ یہ آکاش دیوتا یہ دھرتی مائی قادر اور متصرف تو کیا ہوتے غیر مخلوق یا خود آفریدہ بھی نہیں جیسا کہ بہت سی مشرک قوموں نے سمجھ رکھا ہے، بلکہ تمامتر مخلوق ہیں۔ اور اللہ ہی ساری مخلوقات کی طرح ان کا بھی خالق وفاطر ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ انگریزی۔ (آیت) ” فاطر “۔ وہ ہے جو عدم سے وجود میں، نیستی سے ہستی میں لائے، نہ وہ کہ جو صرف ترتیب وتنظیم از سر نو کر دے۔ فطر اللہ الخلق وھو ایجاد الشیء وابداعہ (راغب) اے خالقھا ومبتدعھا علی غیر مثال سبق (معالم) الفطر الابتداع والاختراع (قرطبی) 2۔ فرشتے نہ دیوی دیوتا ہیں نہ متصرف فی الامور، وہ اللہ کے صرف کارندے ہیں، جس خدمت پر بھی لگادیئے جائیں اور ان کی ایک خاص خدمت ہے انبیاء کے پاس پیام رسانی، خواہ یہ پیامات احکام شریعت سے متعلق ہوں یا بشارتیں وغیرہ ہوں۔ 3۔ (چنانچہ پروں اور بازوؤں کا بھی حصر اس تعداد پر نہیں) عالم غیب کی کسی بھی کیفیت کا پورا صحیح علم انسان کو اپنے ان قوی کے ساتھ ممکن نہیں۔ جتنی بھی صفات و کیفیات اس عالم سے متعلق یہاں بیان کی جاتی ہیں، وہ سب بطور مثال تقریب فہم کے لیے ہوتی ہیں۔ اسی عام قاعدہ کے ماتحت فرشتوں کے بازوؤں کو بھی سمجھنا چاہیے۔ انہیں تمامتر دنیا کے پرندوں کے پروں کا عکس سمجھ لینا صحیح نہیں۔ چناچہ خود ثلث (تین تین بازوؤں) کا نقشہ تو دنیوی مشاہدہ کے خلاف ہی ہے۔ 4۔ جس مخلوق کی جو خلقت چاہے رکھے۔ اور جو کام اس سے چاہے لے۔ تو کوئی فرشتوں کی تخلیق وغایت تخلیق پر حیرت ہی کیوں کرے۔
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

اللہ جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے کوئی اس کا بند کرنے والا نہیں اور جو وہ بندے کردے اس کے بعد کوئی اس کا جاری کرنے والا نہیں، اور وہی غلبہ والا ہے حکمت والا ہے،5۔

5۔ وہی نعمتوں کے بند کرنے پر بھی قادر، وہی کھولنے پر بھی قادر، اور ہر پہلو مصلحت و حکمت ہی کی بنا پر اختیار کرنے والا۔ (آیت) ” بعدہ “۔ یعنی اس کے امساک کے بعد۔ اے بعد امسا کہ (بیضاوی۔ روح) بعض نے ضمیر اللہ کیجانب مانی ہے۔ اس صورت میں بعد مرادف ہوگا غیر کے۔ اے فلا یقدر علی ارسالھم غیر اللہ (قرطبی)
Ayah 35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

اے لوگو ! اللہ کے احسانات اپنے اوپر یاد کرو کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی بہم پہنچاتا ہے ؟ کوئی معبود نہیں اس کے سوا، سو تم کہاں الٹے چلے جارہے ہو ؟ ،6۔

6۔ (اور دوسروں کو بھی شریک الوہیت ومعبودیت کیے لیتے ہو) (آیت) ” خالق غیر اللہ “۔ اشارہ ہے نعمت ایجاد کی طرف۔ (کبیر) (آیت) ” یرزقکم “۔ اشارہ ہے نعمت ابقاء کی طرف (کبیر) مسیحی شرک کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” یایھا الناس “۔ خطاب کی تعمیم پیام قرآنی کے عالمگیر اور ہمہ آفاقی ہونے کی ایک مزید دلیل ہے۔
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو آپ سے قبل بھی پیغمبر جھٹلائے جا چکے ہیں،7۔ اور اللہ ہی کی طرف (سب امور واپس ہوں گے،8۔

7۔ (تو آپ اسی سے تسلی حاصل کیجئے اور زیادہ غم میں نہ پڑئیے) 8۔ (وہ خود ہی سب سے نپٹ لینے کا کافی ہے، آپ کیوں زیادہ فکر وغم میں پڑیں)
Ayah 35:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

اے لوگو ! اللہ کا وعدہ ضرور سچا ہے سو یہ نہ ہو کہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں ڈال دے،9۔ اور یہ نہ ہو کہ تم کو وہ بڑا فریبیا اللہ کی طرف سے دھوکے میں ڈال دے،10۔

9۔ یعنی لذات دنیوی میں منہمک ہو کر تم آخرت سے غافل ہوجاؤ اور حلال و حرام، جائز وناجائز میں امتیاز ہی نہ رکھو۔ اس فریب کا تعلق فسق کی عملی زندگی سے ہے اور یہ فریب نفس انسانی کی راہ سے آتا ہے۔ (آیت) ” یایھا الناس “۔ خطاب کی تعمیم پیام قرآنی کی عالمگیری پر ایک مزید دلیل ہے۔ (آیت) ” وعداللہ “۔ وعدہ الہی میں جزاء وسزا یقینی ہے۔ 10۔ یعنی راہ حق سے منہ موڑ لو، اور سرے سے باطل پرستی کو اپنا شعار بنالو۔ اس فریب کا تعلق کفر کی اعتقادی زندگی سے ہے، اور یہ فریب براہ راست شیطان کے اثر سے آتا ہے۔ عقیدہ کی گمراہی عملی فسق سے ظاہر ہے کہ کہیں بڑھی ہوئی ہے۔ (آیت) ” الغرور “۔ بڑا فریبیا، یعنی شیطان۔ اے المبالغ فی الغرور وھو علی ماروی عن ابن عباس والحسن و مجاھد ” الشیطان “ (روح)
Ayah 35:6

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

بیشک (یہ) شیطان تمہارا دشمن ہے، سو تم اسے دشمن (ہی) سمجھتے رہو، وہ تو اپنے گروہ کو محض اس لئے بلاتا ہے کہ وہ لوگ دوزخیوں میں سے ہوجائیں،11۔

11۔ شیطان اگر کوئی واقعی ایک خارجی مخلوق اور انسان کی اتنی شدید دشمن نہیں تو آخر قرآن مجید اس کثرت اور شدومد سے اس کا اور اس کی خباثتوں کا ذکر کیوں کرتا ہے ؟ (آیت) ” فاتخذوہ عدوا “۔ اس سے برتاؤ بھی وہی رکھو جو دشمن کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ قدم قدم پر اس کی مخالفت کرو۔ اور اس کی اصلی مخالفت یہی ہے کہ توحید وطاعت کی راہ اختیار کرو۔ (آیت) ” حزبہ “۔ یعنی اپنے پیروؤں کو (آیت) ” انما ..... السعیر “۔ گویا دعوت شیطانی کا کھلا ہوا نتیجہ دوزخی ہونا ہے۔ (آیت) ” لیکونوا “۔ میں ل عاقبت کا ہے۔ اے انما یقصد ان یضلکم حتی تدخلوا معہ الی عذاب السعیر (ابن کثیر)
Ayah 35:7

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوگئے ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے،12۔

12۔ (آیت) ” الذین کفروا “۔ یہ پہلا گروہ وہی ہے، جس نے دعوت شیطانی کو قبول کرلیا۔ (آیت) ’ والذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ یہ دوسرا گروہ وہی ہے، جو دعوت شیطانی سے الگ الگ رہا۔ (آیت) ” لھم مغفرۃ واجر کبیر “۔ آیت سے معلوم ہورہا ہے کہ مغفرت تو مرتب ہوگی (آیت) ” ایمان “ پر اور اجر کبیر مرتب ہوگا اعمال صالح پر (کبیر)
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

تو کیا وہ جسے اس کا عمل خوش نما کر رکھا گیا اور وہ اسے اچھا سمجھنے لگا (اور جو باطل کو باطل ہی سمجھا دونوں کہیں برابر ہوسکتے ہیں) ،13۔ سو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ دکھا دیتا ہے،14۔ سو ان پر افسوس کرکے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے، بیشک اللہ ان کے کرتوتوں سے خوب واقف ہے،15۔

13۔ ترجمہ متن میں قوسین کے درمیان کا سارا فقرہ قرآن مجید میں محذوف ہے، اور ترجمہ میں اپنی طرف سے بڑھانا پڑے گا قرآن کے اسلوب بلاغت میں اس حذف وتقدیر کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔ حذف الجواب لدلالۃ (کشاف۔ بیضاوی) حذف ھذا الخبر لدلالۃ الکلام علیہ واقتضاء النظم الجلیل ایاہ (روح) عربی کے اسلوب بیان اور اردو کے انداز تحریر کے درمیان آسمان و زمین کا فرق بعض حیثیتوں سے ہے۔ اور انہیں میں سے ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عرب انشاء وخطابات میں محذوفات ومقدرات بکثرت آتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” زین لہ سوٓء عملہ “۔ یعنی وہ گمراہی میں پڑگیا۔ ومعنی تزیین العمل والاضلال واحد (کشاف) قتادہ تابعی سے روایت ہے کہ یہ آیت فرقہ خوارج کے حق میں ہے کہ وہی لوگ مسلمانوں کا خون بہانا جائز سمجھتے ہیں۔ دوسرے اہل کبائر، کبائر کو بہرحال جائز تو نہیں سمجھتے۔ قال قتادۃ منھم الخوارج الذین یستحلون دمآء المسلمین واموالھم فاما اھل الکبائر فلیسوا منھم لانھم لایستحلون الکبائر (معالم) 14۔ (حسب تقاضائے حکمت ومصالح تکوینی) ضلال وہدایت دونوں کا ترشح اس کی طرف سے بتقاضائے حکمت ہی ہوتا رہتا ہے۔ ایک کی آنکھوں پر گویا پٹی بندھ جاتی ہے اور اس کی عقل وفہم اندھی ہوجاتی ہے۔ اور دوسرے کی آنکھوں کھلی اور روشن رہتی ہیں اور اس کی عقل وفہم درست وقائم رہتی ہے۔ 15۔ (اور وہی ان سے نپٹ لینے کے لیے بالکل کافی ہے) (آیت) ” فلا ...... حسرت “۔ اس سے اس پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک میں کس درجہ درد تھا اور آپ ﷺ کس کس طرح منکروں کی ہدایت کے لیے بےقرار رہا کرتے تھے۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور اللہ وہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے پھر وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں، پھر ہم اسے ہانک لے جاتے ہیں خشک خطہ زمین کی طرف پھر ہم اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی خشکی کے بعد سرسبز کردیتے ہیں،16۔ اسی طرح جی اٹھنا ہوگا،17۔

16۔ یعنی زمین مردہ میں اسی کے متناسب جان ڈال دیتے ہیں۔ (آیت) ” الریح۔ سحابا۔ فسقنہ “۔ بارش اور برساتی ہواؤں پر حاشیہ سورة الروم (پ 21) میں گزر چکا۔ (آیت) ” فسقنہ الی بلد میت “۔ اور وہاں اس خشک علاوہ میں بارش ہوجاتی ہے۔ ایک بارش کے سلسلہ میں قدرت کی کارفرمائیوں کے جو انتظامات ہوتے رہتے ہیں۔ ایک خاص وقت پر زمین سے بخارات کا اٹھنا۔ ایک خاص بلندی پر جاکر ان کا جم جانا، اس کثیف وباردار ہوا کا ایک خاص رفتار سے کسی خاص سمت کی طرف چلنا، کسی متعین علاقہ پر جاکر فضا میں اتنی گرمی پیدا ہونا کہ ایک متعین مقدار میں بارش کے قطرے زمین پر آئیں۔ وغیرہ وغیرہ موسمیات (میٹر یولوجی) کی ساری باریکیاں انسان کو خدائے حکیم وقدیر پر ایمان لے آنے کے لیے بالکل کافی ہیں۔ 17۔ (قیامت کے دن) واقعات تکوینی کی مثالوں کے پیش کرنے سے قرآن مجید کا مقصود ہمیشہ کسی اہم دینی ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو شخص عزت حاصل کرنا چاہے تو تمام ترعزت اللہ ہی کے لئے ہے،18۔ اسی تک اچھا کلام بلند ہوتا ہے اور عمل صالح اس کو بلند کرتا ہے اور جو لوگ بڑی بڑی تدبیریں کرتے ہیں،19۔ انہیں سخت عذاب ہوگا اور ان کا مکر (سب) نیست ونابود ہو کر رہے گا،20۔

18۔ چناچہ جو اس سے جس درجہ کا تعلق رکھتا ہے اسی مناسبت سے خود بھی اپنے حسب ظرف عزت حاصل کرسکتا ہے۔ فھی کلھا للہ ومن یتذلل لہ فھو العزیز ومن یتعزز علیہ فھو ذلیل (کبیر) آیت طالبان عزت وجاہ منکرین حق کے رد میں ہے۔ 19۔ (مخالفت دینی کی) (آیت) ” الکلم الطیب “۔ کلام طیب میں اقرار ایمان اور ساری قولی نیکیاں داخل ہیں۔ (آیت) ” العمل الصالح “۔ عمل صالح میں تصدیق قلبی اور ساری ظاہری وباطنی عملی نیکیاں شامل ہیں۔ (آیت) ” یرفعہ “۔ میں ضمیرہ (آیت) ” الکلم الطیب “ کی جانب ہے ھو الکلم الطیب اے الکلم الطیب یرفع العمل الصالح (کبیر) 20۔ یعنی ان کی ہر تدبیر الٹی پڑے گی، اور ناکام رہے گی، چناچہ یہی ہو کر رہا، مخالفین ومعاندین نے منصوبے باندھے تو تھے اسلام و پیغمبر اسلام کے مٹادینے کے، لیکن خود ہی مٹ کررہے۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے (پیدا کیا) پھر اسی نے تمہیں جوڑے جوڑے بنایا اور عورت کو جو کچھ حمل رہتا ہے یا جو وہ جنتی ہے سب اسی کے علم سے ہوتا ہے، اور نہ کسی کی عمر زیادہ کی جاتی ہے اور نہ کم کی جاتی ہے مگر یہ (سب) لوح محفوظ میں ہے،21۔ یہ سب اللہ کو آسان ہے،22۔

21۔ (لکھا ہوا اس کے علم ذاتی وقدیم کے موافق) آیت رد شرک میں ہے جاہلی مشرک قومیں اپنے دیوی دیوتاؤں کو صاحب علم تو مانتی تھیں لیکن ایسا علم جو ناقص و محدود تھا۔ یہاں یہ اس کی تردید میں ارشاد ہورہا ہے کہ اللہ کا علم کامل ہے، اور ہر ہر جزئیہ پر محیط۔ بلکہ اس نے اپنے علم کے ماتحت مستقبل کے سارے واقعات لوح محفوظ میں درج بھی رکھے ہیں۔ (آیت) ” خلقکم من تراب “۔ اس خلق کا تعلق نوع انسانی سے ہے۔ (آیت) ” ثم من نطفۃ “۔ اس خلق کا تعلق ہر ہر فرد سے ہے۔ (آیت) ” وما تحمل من اثنی ولا تضع “۔ یعنی نر یا مادہ جیسا بھی حمل اور بچہ ہو۔ 22۔ اللہ کا علم ذاتی جس کے آگے مستقبل وماضی سب یکساں، اس کے لیے یہ چیزیں دشواری ہی کیا رکھتی ہیں۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی ان چیزوں کا احاطہ کرنا، یا ان میں کمی یا زیادتی۔ اے احصاء ہ او زیادۃ العمر اونقصانہ (مدارک)
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور دونوں دریا برابر نہیں ہیں ایک شیریں پیاس بجھانے والا ہے اس کا پینا بھی آسان اور ایک شور تلخ ہے اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو،23۔ اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو،24۔ اور تو کشتیوں کو اس میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتے دیکھتا ہے، تاکہ اس کی (دی ہوئی) روزی تلاش کرو اور تاکہ تم شکرگذار ہو،25۔

23۔ (مچھلیوں کا) (آیت) ” ومن کل “۔ کھانے والی مچھلیاں، نمکین وتلخ سمندر، اور شیریں وخوش ذائقہ دریاؤں سب میں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ (آیت) ” البحرن “۔ دونوں قسم کے پانیوں پر حاشیے پہلے گزر چکے۔ 24۔ (آیت) ” حلیۃ “۔ یا زیور سے اس سیاق میں مراد موتی اور مونگا وغیرہ ہیں۔ جو انسانی لباس، زیور آرائش وغیرہ کے کام میں آتے ہیں۔ اے اللؤلؤ والمرجان (روح) والمراد اللالی والیواقیت (بیضاوی) 25۔ آیت میں ایک طرف تو دنیا کے نظام الہی کی وحدت، تنظیم ومنافع بخشی سے صانع کی توحید اور کمال قدرت اور کمال صنعت اور صفت نعمت بخشی پر استدلال ہے، اور دوسری طرف صاف ترغیب مل رہی ہے بحری تجارت کی۔ وہ تجارت جو آج بیسویں صدی عیسوی میں بھی شاید سب سے بڑا ذریعہ شخصی دولت اور قومی ثروت دونوں کا ہے اور جسے مسلمان گویا صدیوں سے بالکل بھول ہی چکے ہیں۔ ملاحظہ ہوں سورة لقمان (پ 21) کے حاشیے (آیت) ” لتبتغوا من فضلہ “۔ یعنی ان کشتیوں کے ذریعہ سے سفر وتجارت کرکے نفع حاصل کرو، بحری تجارت کی اہمیت ومنفعت عظیم کے قائل ہمارے مفسرین قدیم بلکہ تابعین بھی رہ چکے ہیں۔ اے باسفارکم بالتجارۃ من قطر الی قطر واقلیم الی اقلیم (ابن کثیر) قال مجاھد التجارۃ فی الفلک الی البلدان البعیدۃ فی مدۃ قریبۃ (قرطبی) (آیت) ” لعلکم تشکرون “۔ یعنی ان کامیاب بحری تجارتوں کے بعدبہک نہ جاؤ۔ عیش و عشرت اور غفلت میں نہ پڑجاؤ۔ دین واخلاق کی راہ پر قائم رہو۔
Ayah 35:13

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے ہر ایک وقت معین تک چلتا رہے گا یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کی حکومت ہے، اور جنہیں تم اس کے علاوہ پکارتے ہو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے،26۔

26۔ (پھرکیس حماقت ہے کہ توحید کے ساتھ شرک کو کسی درجہ میں بھی شریک و شامل کرلیاجائے) (آیت) ” من قطمیر “۔ محاورۂ عرب میں اس کے وہی معنی ہیں۔ جو ہماری زبان میں ” ذرہ بھر “ ” رتی برابر “۔ کے ہوتے ہیں۔ (آیت) ” یولج ..... القمر “۔ یہ روز روشن اور یہ شب تار، یہ گرم آفتاب اور یہ خنک ماہتاب قدرت کے اتنے بڑے بڑے عظیم الشان مظاہر، ان میں سے کون اپنی جگہ پر آزاد وخود مختار ہے ؟ سب کے سب اللہ ہی کی مشیت تکوینی کی زنجیروں میں جکرے ہوئے ہیں۔ مشرک جاہلی قوموں نے سورج اور چاند اور رات اور دن، سب کو معبود سمجھا ہے۔ ابتدائی پاروں میں اس پر بار بار حاشیے گزر چکے۔ قرآن مجید اس مصلحت و ضرورت سے بار بار ان چیزوں کے نام لے لے کر انہیں قدرت الہی کا مطیع ومسخر بتانا ہے۔ (آیت) ” کل ..... مسمی “۔ ان میں سے کوئی بھی اس کے مقرر کیے ہوئے قاصدوں کی گرفت سے آزاد نہیں۔ آیت میں نظام شمسی کے حسن تنظیم سے استدلال ہے صانع کی توحید و حکمت پر۔ (آیت) ” ذلکم ..... لہ الملک “۔ حکومت وقدرت تو اسی ایک کی ہے۔ جس کے یہ شواہد اور نمونے تم ہر وقت دیکھتے رہتے ہو۔ (آیت) ” والذین ...... قطمیر “۔ پھر کیسی حماقت ہے کہ ایسوں کو پکارتے ہوج نہیں قدرت ایک شمہ بھر بھی حاصل نہیں۔ آیت میں دیوی دیوتاؤں کی بےبسی اور بےاختیاری دکھائی ہے۔ (آیت) ” یوم ...... بشرککم “۔ مشرکوں سے خطاب ہے کہ اس کشف حقائق کے دن یہ تمہارے معبود خود ہی تمہاری ” عبادت “ سے تبری و انکار کرنے لگیں گے۔ یہ مضمون اور بھی متعدد آیتوں میں آیا ہے۔ مثلا (آیت) ’ ’ کلا، سیکفرون بعبادتھم ویکونون علیھم ضدا یا وکانوا بعبادتھم کفرین۔ یا ماکنتم ایانا تعبدون “۔
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری سنیں گے بھی نہیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہارا کہا نہ کرسکیں اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کرنے ہی سے منکر ہوں گے، اور تجھ کو (خدائے) خبیر کا سا کوئی نہ بتائے گا،27۔

27۔ یعنی خدائے علیم وخبیر سے بڑھ کر کس کی بات پکی ہوگی، اور وہی تمہیں ان حقائق سے آگاہ کر رہا ہے۔
Ayah 35:15

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگو تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تمام تر بےنیاز ہے (تمام) خوبیوں والا ہے،28۔

28۔ اس کی ذات میں کسی چیز کی کیا کمی اور کیا کسر ہے۔ وہ خود ہی سارے کمالات کا جامع ہے اور اس نے ایمان، اور احکام شریعت کی جو تلقین کی ہے، یہ تمہارے ہی نفع کے لیے۔ (آیت) ” انتم الفقرآء “۔ انسان اپنے وجود میں، بقاء میں، فنا میں ، جملہ حاجات میں محتاج اسی ذات واجب الوجود کا ہے۔ وجود، بقاء وفناء وغیرہ میں تو یہ محتاجی ظاہرہی ہے۔ جی چیزوں میں بظاہر اختیار معلوم ہوتا ہے۔ مثلا بولنے چلنے، دیکھنے سننے، چلنے پھرنے، ان میں بھی ایک ایک حرکت مشیت الہی، اذن خداوندی ہی کی محتاج ہے۔ (آیت) ” ھوالغنی “۔ یعنی اسے مخلوق کی امداد واعانت کی حاجت تو کجا، وہ تو اس کی مملوکیت وعبدیت کے تعلق سے بھی بےپروا ہے۔ لیکن اس کا غناء محض غناء ہی نہیں، وہ ہمارے فقرودرماندگی کا چارہ ساز بھی ہے۔ (آیت) ” الحمید “۔ یعنی وہ ہر حال میں تمامتر محمود ہی ہے دنیا کی ہر مدح اسی کی حمد ہے، ان تمام صفات کے اثبات میں مشرکوں ہی کی پراگندہ خیالیوں کی تردید ہے۔
Ayah 35:16

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

وہ اگر چاہے تم کو فنا کردے اور ایک نئی مخلوق موجود کردے،29۔

29۔ (جو کفر وسرکشی نہ کرے) (آیت) ” یذھبکم “۔ یعنی تمہارے کفر وسرکشی کی پاداش میں تمہاری نوع ہی کو سرے سے معدوم کردے۔ (آیت) ” خلق جدید “۔ اس خلق جدید میں جدت کی کیا کیا صورتیں ہوں۔ اس کا احاطہ ہمارا علم تو کیا ہمارا وہم و گمان بھی نہیں کرسکتا۔
Ayah 35:17

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ اللہ کو کچھ بھی مشکل نہیں،30۔

30۔ (لیکن وہ اپنی حکمتوں اور مصلحتوں سے فوری سزا کو ملتوی کیے ہوئے ہے) ” ذلک “۔ یعنی یہ تمہارا مٹانا اور دوسروں کا بنا دینا۔ اے ما ذکر من اذھابھم والاتیان بخلق جدید (روح) اے الانشاء والافناء (مدارک)
Ayah 35:18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اگر کوئی بوجھ لدا ہوا کسی کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گا جب بھی اس میں سے کچھ بھی بوجھ نہ اٹھایا جائے گا، اگرچہ وہ شخص قرابت دار ہی ہو،31۔ آپ تو بس انہیں کو ڈراسکتے ہیں جو بےدیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں،32۔ اور جو پاک ہوتا ہے وہ اپنی ہی جان کے لئے پاک ہوتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،33۔

31۔ (پس اس بھروسہ پر رہنا کہ ہمارے آباء و اجداد مقبولین میں ہوئے ہیں، کیسی شدید حماقت ہے) (آیت) ” ولاتزر ...... اخری “۔ یہ سب کشف حقائق و ظہور نتائج کے دن، یعنی قیامت میں ہوگا۔ (آیت) ” وزر سے مراد کفر ومعصیت کا بوجھ ہے۔ اور اس کا تعلق ذاتی عمل سے ہے۔ ورنہ اعانت جرم، یعنی اغواء واضلال تو خودایک مستقل جرم ہے۔ آیت میں خاص طور پر رد ان مذہبوں کا ہے، جن کا دارومدار ہی کفارہ وشفاعت کے عقائد پر ہے۔ 32۔ (اور وہ مومنین ہیں) مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ کی تعلیم وتبلیغ سے نفع تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو طالب حق ہوتے ہیں۔ 33۔ (اور وہی سب کے فیصلہ کے لیے کافی ہے) (آیت) ’ من ..... لنفسہ “۔ اس لیے اگر کوئی آپ ﷺ کی پکار پر دھیان نہیں رکھتا، اور بدستور کفر کی آلودگی اور گندگی میں پڑا رہتا ہے تو اس میں آپ ﷺ کا کیا نقصان ہے ؟
Ayahs 35:19–22

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور نہ اندھا اور دیکھنے والا کہیں برابر ہیں

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ تاریکیاں اور روشنی ہی

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ (ٹھنڈا) سایہ اور (جلتی ہوئی

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

دھوپ ہی اور نہ زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں،34۔ بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں

34۔ (اسی طرح کافر اور مومن بھی یکساں نہیں ہوسکتے) (آیت) ” البصیر۔ النور۔ الظل۔ الاحیآء “۔ ادراک حق ہونے کے لحاظ سے مومن کی مثال آنکھوں والے اور نور اور سایہ اور زندہ کی ہے۔ (آیت) ” الاعمی۔ الظلمت۔ الحرور۔ الاموات “۔ ادراک حق نہ کرنے کے لحاظ سے کافر کی مثال نابینا اور تاریکی اور چلچلاتی دھوپ اور مردہ کی ہے۔ لا۔ لا۔ لا۔ تاکید نفی کیلیے ہے، اور اس کی تکرار تاکید مزید کے لیے ہے۔ لا لتاکید نفی الاستوآء وتکریر ھا علی الشقین لمزید التاکید (بیضاوی) وزیادۃ ” لا “ لتاکید معنی النفی (مدارک)
Ayah 35:23

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں،35۔

35۔ (کسی کے دل میں ہدایت اتار دینا، کسی پر ہدایت ٹھونس دینا آپ ﷺ کے بس میں نہیں) (آیت) ” ان ..... القبور “۔ یعنی اللہ ہی ان کی ہدایت دے دے تو اور بات ہے، ورنہ بندوں کے بس میں تو یہ ہے نہیں۔
Ayah 35:24

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم ہی نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے کی حیثیت سے، اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی ہے جس میں ڈرانے والا نہ گذرا ہو،36۔

36۔ (خواہ بحثییت پیغمبر خواہ بطور نائب پیغمبر کے) یعنی ہر قوم کے اوپر تبلیغ حق کسی نہ کسی طریقہ پر ہو ضرور چکی ہے۔
Ayahs 35:25–26

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو ان کے قبل والوں نے بھی تو جھٹلایا تھا ان کے پاس بھی انکے پیغمبر کھلے ہوئے نشان اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

تو میں نے (ان) کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھو) میرا کیسا عذاب ہوا،37۔

37۔ (اسی طرح ان کافروں پر بھی ان کے وقت پر عذاب آئے گا) اس قسم کی آیتوں سے (جو قرآن مجید میں بکثرت ہیں) ایک مقصود تو رسول اللہ ﷺ کو تسکین دینا تھا۔ اور دوسرا معاصر کافروں کو یہ بتانا کہ مہلت مل جانے سے بےفکر نہ ہوجائیں۔ اپنے وقت معین پر عذاب کا آنا قطعی ہے۔
Ayahs 35:27–28

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تو نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگوں کے پھل نکالے اور پہاڑوں میں بھی گھاٹیاں ہیں کوئی سفید اور کوئی سرخ انکے رنگ مختلف ہیں اور کوئی بہت گہرے سیاہ

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی ایسے ہیں کہ ان کے رنگ مختلف ہیں،38۔ اللہ سے ڈرتے تو بس وہی بندے ہیں جو علم والے ہیں،39۔ بیشک اللہ زبردست ہے بڑا مغفرت والا ہے،40۔

38۔ توجہ ان تکوینی اختلافات پر دلائی گئی ہے کہ انہیں خیال میں رکھو، تو کافر و مومن کے فرق پر بہت زیادہ حیرت نہ ہو۔ (آیت) ” انزل ..... الوانھا “۔ یعنی بارش کا پانی ایک ہی ہے، جو سب پھلوں کو پیدا کررہا ہے، اس پر بھی ان کی شکلیں، مزے، تاثیریں سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ (آیت) ” جدد “۔ جدۃ کی جمع ہے جس کے معنی راستہ کے بھی اور خط یا دھاری کے ہیں۔ 39۔ (جو اللہ کی عظمت کا علم رکھتے ہیں۔ اور اسی لیے دلائل قدرت میں غور کرتے رہتے ہیں) مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ عظمت کا علم اگر اعتقادی ہوتا ہے تو خشیت بھی اعتقادی ہوتی ہے، اور اگر عظمت کا علم حالی ہوتا ہے تو خشیت بھی حالی ہوتی ہے۔ (آیت) ” العلموا “۔ علماء سے اصطلاحی علماء مراد نہیں، جو فلاں فلاں کتابیں پڑھ چکے ہیں۔ یا فلاں امتحان کی سند رکھتے ہیں، بلکہ وہ اشخاص مراد ہیں۔ جو اللہ اور ان کے احکام کی معرفت رکھتے ہیں۔ اور ان کا عمل بھی ان کے مرتبہ علم ومعرفت کے متناسب رہتا ہے۔ العلمآء ھم الذین علموہ بصفاتہ وتوحیدہ وما یجوز علیہ وما یجب لہ وما یستحیل تعظموہ وقدروہ حق قدرہ (بحر) المراد العالمون باللہ عزوجل وبما یلیق بہ من صفاتہ الجلیلۃ وافعالہ الحمیدۃ وسائر شؤنہ الجمیلۃ لاالعالمون بالنحو والصرف (روح) علم اور خشیت کے درمیان تعلق قدیم صحیفوں میں بھی مذکور ہے۔ مثلا ” اس نے انسان کو کہا کہ دیکھو خدا کا خوف خرد ہے، اور بدی سے دور رہنا ہی فہمیدہ “ (ایوب۔ 28: 28) فقہاء مفسرین نے کہا ہے کہ آیت دلیل سے فضیلت علم پر، اور اس پر کہ اللہ سے خشیت وتقوی اسی راہ سے حاصل ہوتا ہے۔ فیہ الابانۃ عن فضیلۃ العلم وان بہ یتوصل الی خشیۃ اللہ وتقوہ (جصاص) 40۔ وہ سب کچھ کر ڈالنے پر قادر ہے اور پھر بھی مجرموں کے حق میں بڑا مہربان بھی ہے۔ گویا ہر عزت و خشیت کا مستحق اپنے ان دونوں صفات کے لحاظ سے بھی ہے۔ (آیت) ” غفور “۔ صفت غفور اس موقع پر لانے سے عارفین نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ اسی میں علماء خائفین کو تسکین بھی ہے کہ خطائے اجتہادی معاف کردی جائے گی۔
Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے پوشیدہ وعلانیہ خرچ کرتے رہتے ہیں وہ ایسی تجارت کی آس لگائے ہوئے ہیں جو کبھی ماند نہ پڑے گی،41۔

41۔ کبھی نہ ماند پڑنے والی تجارت سے مراد ظاہر ہے کہ جنت کی ابدی اور غیر منقطع نعمتیں ہیں۔ (آیت) ” الذین ..... علانیۃ “۔ یہ سب صفات انہیں خشیت رکھنے والے اہل علم کے بیان ہورہے ہیں۔ (آیت) ” سراوعلانیۃ “۔ کہیں مصلحت دینی علانیہ ہی صرف کرنے کی ہوتی ہے، اور کہیں اس کے برعکس کی۔ یہ لوگ اس موقع ومحل کو لحاظ میں رکھتے ہی۔ (آیت) ” تجارۃ لن تبور “۔ قرآن مجید میں کثرت کے ساتھ تجارتی اور کاروباری اصطلاحات کے آنے سے ایک طرف تو اس پر روشنی پڑتی ہے کہ اس وقت کے عربوں کے قومی مزاج پر تجارتی مذاق اچھا خاصہ غالب تھا، اور دوسری طرف اس پر کہ قرآن کو اسی مذاق کا امت اسلامی میں پھیلا رہنا مقصود بھی تھا۔
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ ان کو ان کے (اعمال کے) صلے (اللہ) پورے دے اور اپنے فضل سے ان میں (کچھ) بڑھا بھی دے، بیشک وہ بڑا مغفرت والا ہے، بڑا قدرت والا ہے،42۔

42۔” غفور “۔ بخشنے والا ایسا کہ اعمال کی کو تاہیوں، فرگذاشتوں، لغزشوں کو بخش دے۔” شکور “۔ قدردان ایسا کہ اعمال صالح کی قدر ان کے استحقاق سے بڑھ کر کرے۔
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور جو کتاب ہم نے آپ کے پاس بطور وحی بھیجی ہے وہ بالکل ٹھیک ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کردیتی ہے بیشک اللہ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا خوب دیکھنے والا ہے،43۔

43۔ خبیر : ان کے ہر حال کی خبر رکھنے والا،” بصیر “۔ ان کی ہر مصلحت پر نظر رکھنے والا۔ (آیت) ” من الکتب “۔ من بیانیہ “۔ من للتبیین (مدارک)
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے یہ کتاب ان لوگوں کے ہاتھ میں بھی پہنچائی جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا،44۔ پھر ان میں سے بعض تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان میں سے متوسط ہیں اور بعض ان میں سے اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا فضل ہے،45۔

44۔ (اور انہیں کا مجموعی نام ملت اسلامی یا امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رسول اللہ ﷺ کے توسط یہ کتاب الہی کی امانت اب امت محمدی ﷺ کے ہاتھ میں پہنچی ہے، اور وہی دنیا کی ساری ملتوں میں سے حق تعالیٰ کی پسند کی ہوئی جماعت ہے۔ (آیت) ” الذین اصطفینا من عبادنا “۔ سب کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد امت مومنین ہے۔ وھم اھل الایمان وعلیہ الجمھور (مدارک) وھم کما قال ابن عباس ؓ وغیرہ امۃ محمد ﷺ (روح) وھم ھذہ الامۃ (ابن کثیر) امام ابو یوسف (رح) سے دریافت کیا گیا کہ آیت میں جن طبقات کا ذکر ہے، یہ کون لوگ ہیں۔ آپ نے فرمایا سب مسلمان ہیں۔ سئل ابویوسف (رح) عن ھذہ الایۃ فقال کلھم مومنون (مدارک ( 45۔ مسلمانوں کی یہاں تین قسمیں ہوئی ہیں۔ پہلی قسم۔ (آیت) ” ظالم النفسہ “۔ یعنی ہیں تو مسلمان، لیکن گناہ کرکے اپنی جانوں پر ظلم کررہے ہیں۔ امام رازی (رح) نے چند اور صفات بھی بیان کیے ہیں۔ مثلا ظالم وہ ہے جس کے سئیات زائد ہوں، یا جس کا ظاہر باطن سے بہتر ہو، یا جو صاحب کبیرہ ہو، یا جو بعد حساب قابل نار ہو۔ (آیت) ” مقتصد “۔ یہ دوسری قسم ہے یعنی نہ تو گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اور نہ طاعت ہی میں کچھ ترقی کرتے ہیں۔ بس بقدر ضرورت پر اکتفاء کیے ہوئے ہیں امام رازی (رح) نے کچھ اور بھی خصوصیات ذکر کیے ہیں۔ مثلا مقتصد وہ ہے جس کے خیر وشر مساوی ہوں یا جس کا ظاہر و باطن یکساں ہو، یا جو صاحب صغیرہ ہو۔ یا جو بعد حساب نجات پائے۔ (آیت) ” سابق بالخیرت “۔ یہ تیسری قسم ہوئی کہ گناہوں سے بچتے بھی ہیں اور طاعات میں فرائض کے علاوہ بھی بہت ہمت کیے رہتے ہیں۔ امام رازی (رح) کے الفاظ میں (آیت) ” سابق بالخیرت “۔ وہ ہے جس کے حسنات زائد ہوں یا جس کا باطن ظاہر سے بہتر ہو، یا جو گناہوں سے محفوظ ہو، یا جو بےحساب و کتاب جنت میں جائے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی ایسی کامل کتاب کا مسلمانوں کو حامل بنادینا۔ اے ایراث الکتاب (مدارک) (آیت) ” فمنھم ظالم لنفسہ “۔ آیت کا یہ جز اس باب میں نص صریح ہے کہ مومن باوجود سخت گناہگار ہونیکے بہرحال مغفور ہی ہوتا ہے۔ اور یہ تصریح مسلک خارجیت کی جڑ کاٹ دینے کے لیے کافی ہے۔ قال ابن عطاء وانما قدم الظالم لئلا ییأس من فضلہ وقیل انما قدمہ لیعرفہ ان ذنبہ لایبعدہ من ربہ (مدارک) بعض تفسیری اقوال میں یہاں تک آگیا ہے کہ (آیت) ” ظالم لنفسہ “۔ وہ ہے جو بلاتوبہ کیے گناہ کبیرہ پر فوت ہوجائے۔ قال معاذ الظالم لنفسہ الذی مات علی کبیرۃ لم یتب منھا (روح) اوراقوال رجال سے قطع نظر خود لفظ قرآنی بھی اس طبقہ کی گنہگاری واضح کرنے کو کیا کم ہے۔ اس پر بھی ان سب کے مغفور ہونے پر نہ صرف جمہور اہلسنت کا اتفاق ہے۔ بلکہ احادیث نبوی میں متعدد طریقوں سے اس کی صراحت موجود ہے۔ ذیل کی حدیثیں بعض قرطبی میں بعض ابن کثیر میں اور بعض روح المعانی میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت اسامہ بن زید ؓ ، حضرت ابوسعید خدری ؓ ، حضرت ابوالدرداء ؓ ، صحابیوں کی روایت اور محدثین ابن مردیہ (رح) ، ابن النجار (رح) ، حکیم ترمذی (رح) بہیقی (رح) ، طیالسی (رح) ، احمد بن حنبل (رح) ، عقیلی (رح) ، عبد بن حمید (رح) ، حاکم (رح) ، طبرانی (رح) ، ابن جریر (رح) ، ابن منذر (رح) وغیرھم کے حوالے سے درج ہوئی ہیں : ھؤلاء کلھم بمنزلۃ واحدۃ وکلھم فی الجنۃ کلھم من ھذہ الامۃ وکلھم فی الجنۃ سابقنا سابقا ومقتصدنا ناج وظالمنا مغفورلہ۔ یہ سب طبقات ایک ہی حکم میں ہیں۔ اور یہ سب اہل جنت ہیں یہ سب اسی امت میں ہیں۔ اور سب اہل جنت ہیں ہمارے سابق (وہاں بھی) سابق ہوں گے، اور ہمارے مقتصد نجات یاب اور ہمارے ظالم مغفور ہوں گے۔ صاحب روح المعانی کہتے ہیں :۔” والذی یعصدہ معظم الروایات والاثار ان الاصناف الثلثۃ من اھل الجنۃ فلا ینبغی ان یلتفت الی تفسیر الظالم بالکافر۔” روایات اہم اور آثار سے تقویت اسی کی ہوتی ہے کہ تینوں طبقات اہل جنت ہی کے ہیں اس لیے (آیت) ” ظالم “۔ کی تفسیر کافر سے کرنا قابل التفات بھی نہیں “۔ اور پھر محدث بیہقی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ :۔ قال البیھقی اذا کثرت الروایات فی حدیث ظھر ان للحدیث اصلا والاخبار فی ھذا الباب کثیرۃ وفی ما ذکر کفایۃ ” جب کوئی حدیث کثیر طریقوں سے روایت کی گئی ہو تو اس حدیث کی اصلیت تو ضرور ہوتی ہے اور اس باب میں روایات کثرت سے آئی ہیں جتنی نقل کردی گئی ہیں وہ کافی ہیں “۔ اور ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے :۔ والصحیح ان الظالم لنفسہ من ھذہ الامۃ وھذا اخیتار ابن جریر کماھو ظاھر الایۃ وکما جآئت بہ الاحادیث عن رسول اللہ ﷺ من طرق یشد بعضھا بعضا۔” صحیح یہی ہے کہ (آیت) ” ظالم لنفسہ “۔ اسی امت کے لوگ ہیں اور یہی ابن جریر (رح) نے بھی کہا ہے جیسا کہ خود آیت قرآنی کا ظاہر ہے اور جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں میں ہے جو ایک دوسرے کو تقویت پہنچانے والے طریقوں سے وارد ہوئی ہیں “۔ اور امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ کافر تو ظالم علی الاطلاق ہوتے ہیں، لیکن (آیت) ” ظالم لنفسہ “۔ کا مصداق مومن ہوتا ہے کہ وہی معصیت کے وقت اپنے نفس کو اس کے موضع صحیح سے ہٹا کر رکھتا ہے اور خود حضرت آدم (علیہ السلام) کی دعاء میں ان کے مقبول اور صاحب اصطفاء ہونے کے باوجود (آیت) ’ ’ ظلمنا انفسنا “۔ کی صراحت موجود ہے (کبیر) اور ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ سے اس باب میں جو اثر محدث طیالسی نے نقل کیا ہے، وہ بدرجہ غایت بلیغ ہے۔ ایک سائل کے جواب میں آپ فرماتی ہیں :۔ یابنی ھؤلآء فی الجنۃ اما السابق بالخیرات فمن مضی علی عہد رسول اللہ ﷺ واما المقتصد فمن اتبع اثرہ من اصحابہ حتی لحق بہ واما الظالم لنفسہ فمثلی ومثلکم۔” اے بیٹا ! اہل جنت تو یہ سب طبقہ ہیں۔ ان میں (آیت) ” سابق بالخیرت “۔ وہ ہیں۔ جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں گزر گئے۔ (آیت) ” اور مقتصد “۔ وہ اصحاب رسول ہیں جو آپ ﷺ کے بعد بھی آپ ﷺ کی پیروی اپنے آخر دم تک کرتے رہے، اور (آیت) ” ظالم لنفسہ “۔ کا مصداق میں اور تم جیسے لوگ ہیں۔
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

وہ باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے ان میں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کی پوشاک ریشم کی ہوگی،46۔

46۔ آیت سے معلوم ہوا کہ سونے کے زیور اور موتی اور ریشمی لباس اپنی اصل کے لحاظ سے گندے نہیں، ورنہ اہل جنت کے لیے موقع مدح پر ان کا ذکر کیوں آتا۔ البتہ دنیا میں یہاں کی مصلحتوں اور حکمتوں کی بنا پر مردوں کے لیے حرام ہیں۔
Ayahs 35:34–35

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا بیشک ہمارا پروردگار بڑا مغفرت والا ہے، بڑا قدر دان ہے

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے مقام میں لا اتارا ہے جہاں ہمیں نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہمیں تھکن ہی محسوس ہوگی،47۔

47۔ اکتاہٹ کی تھکن تو طبیعت پر اس وقت غالب ہونے لگتی ہے جب ایک ہی شے سے مسلسل سابقہ پڑتا ہے۔ لیکن جنت کی نعمتیں تو ہر دم ” تازہ بہ تازہ نوبہ نو “ ملتی رہیں گی۔ اس لیے وہاں تھکن اور اکتاہٹ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ ضمنا یہاں یہ حقیقت بھی آگئی، کہ بخلاف دنیا کی عیش و عشرت کے جس کی کثرت لازمی طور پر تھکا دینے والی ہوتی ہے۔ جنت کی لذتیں برابر راحت و سرور ہی بڑھانے والی ہوں گی۔ آج ذرا دیرتک مسلسل قہقہہ لگا کر دیکھئے یا مسلسل کئی کئی گھنٹہ تھیڑ، سینما، ناچ دیکھنے کا ذرا تجربہ کرلیجئے۔ طبیعت میں لازمی طور پر افسردگی اور تھکاوٹ طاری ہوجائے گی، مسلسل وغیرمنقطع تازگی، شگفتگی قائم رکھنا جنت ہی کی نعمتوں کا خاصہ ہوگا۔ (آیت) ” لایمسنا فیھا نصب “۔ جنت میں ظاہر ہے کسی قسم کی تکلیف کا کہاں گزر۔ (آیت) ” الحزن “ حزن سے مراد دنیوی رنج والم بھی ہوسکتا ہے اور حساب و کتاب کا غم واندیشہ بھی۔ (آیت) ” دار المقامۃ “۔ لفظی معنی ترجمہ میں آگئے۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ (آیت) ” دارالمقامۃ “۔ جنت کی دوسری منزل کا نام ہے۔
Ayahs 35:36–37

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے نہ تو ان کی قضا آئے گی کہ مرہی جائیں اور نہ ان سے دوزخ کا عذاب ہی ہلکا کیا جاے گا ایسی ہی سزا ہم ہر کافر کو دیتے ہیں

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ اس کے اندر چلائیں گے کہ اے ہمارے پرورداگار ہم کو نکال (اب) ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے کہ جو کیا کرتے تھے کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس میں جس کو سمجھنا ہوتا سمجھ لیتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا تھا،48۔ سو مزہ چکھو کہ ظالموں کا (یہاں) کوئی مددگار نہیں،49۔

48۔ یہ سب اہل دوزخ سے ان کی جواب میں کہا جائے گا۔ (آیت) ” اولم ...... تذکر “۔ آخرت میں اہل جہنم پر جو حجت قائم ہوگی، اس کا پہلا جزو یہی ہے۔ یعنی کیا تمہیں اتنی مہلت نہیں ملی تھی کہ تم آیات حق پر غور کرسکتے اور اپنا نفع ونقصان سوچ لیتے ؟ (آیت) ” وجآء کم النذیر “۔ یہ جواب کا دوسرا جزوہوا۔ یعنی کیا تمہیں انبیاء اور ان کے سب نائبین کے لئے۔ 49۔ (جو ان کی فریاد رسی کرسکے) حق تعالیٰ خود تو مددگار وفریاد رس اس لیے نہ ہوگا کہ وہ ناراض ہی ہوگا، اور کوئی دوسرا اس لیے نہیں کہ اسے اس کی قدرت ہی نہ ہوگی۔
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک اللہ جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا بیشک وہی جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کا،50۔

50۔ یہ بیان ہوا حق تعالیٰ کے کمال علمی کا، صفت قدرت کے بعد صفت علم بھی تمام صفات باری تعالیٰ میں سے ایسی صفت ہے، جس کے باب میں مشرک، جاہلی قوموں کو سب سے زیادہ ٹھوکریں لگی ہیں۔ قرآن مجید کو اسی لیے ضرورت پیش آئی کہ اللہ تعالیٰ کے علم کی کاملیت کو اور اسرار وخفاء یا جزئیات ودقائق پر اس کے محیط ہونے کو بار بار بیان کیا جائے۔
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی ایسا ہے جس نے تمہیں زمین میں آباد کیا سو جو کوئی کفر کرے گا اس کا کفر اسی پر پڑے گا اور کافروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں ناراضی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے اور کافروں کے لئے ان کا کفر خسارہ ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے،51۔

51۔ یہاں کفر اور اہل کفر سے متعلق تین حقیقتیں بیان ہوئی ہیں۔ (آیت) ” فمن ..... کفرہ “۔ کفر کا وبال اسی کافر ہی پر پڑتا ہے، نہ کہ کسی دوسرے پر۔ پہلی حقیقت یہ ہوئی۔ اے وبال کفرہ لایتعدی الی غیرہ (ابوسعود) (آیت) ” ولا ....... مقتا “۔ اہل کفر ڈھیل پاکر اپنے کفر پر نازاں نہ ہوں۔ حق تعالیٰ کے ہاں ان کے ہر کفر سے انکی مغضوبیت اور معتوبی اور بڑھتی جاتی ہے۔ اور اس کا تحقق اسی دنیا میں ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” ولا ....... خسارا “۔ کفر سے اہل کفر کا خسارہ آخرت میں بڑھتا ہی جاتا ہے۔ اور وہ خسارہ کیا ہے ؟ جنت سے محرومی، اور دوزخ میں دخول۔
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے تم نے اپنے خدائی شریکوں کے حال پر بھی نظر کی ہے، جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟ ذرا مجھے بھی تو بتاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا جزو بنایا ہے یا ان کا آسمان میں کچھ ساجھا ہے ؟ یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اسی دلیل پر قائم ہیں ؟ اصل یہ ہے کہ یہ ظلم ایک دوسرے سے نرے دھوکہ (کی باتوں) کا وعدہ کرتے آئے ہیں،52۔

52۔ (جو کبھی بھی پورے ہونے کے نہیں) آیت میں اثبات توحید وابطال شرک پر پوری حجت قائم کی گئی ہے۔ (آیت) ” ارء یتم “۔ اراء ۃ کے معنی یہاں دکھانے کے نہیں۔ بتانے یا خبر دینے کے ہیں۔ معنی ارء یتم اخبرونی (کشاف) المراد منہ اخبرونی (کبیر) (آیت) ” ارونی ...... السموت “۔ یعنی شرک پر کوئی بھی دلیل، عقلی وتجربی قسم کی قائم ہے ؟ (آیت) ” شرک فی السموت “۔ سے مراد خلقت آسمان میں شرکت ہے اے شرکۃ مع اللہ فی خلق السموت (ابوسعود) (آیت) ” ام ...... منہ “۔ یعنی شرک پر کوئی بھی دلیل، نقلی وکتب آسمانی سے ماخوذ قائم ہے ؟