Ayah 35:1( 35:1) فاطر السموت والارض۔ فاطر ۔ اسم فاعل واحد مذکر فطر مصدر (باب نصر، ضرب) مضاف السموت والارض۔ مضاف الیہ۔ الفطر کے اصل معنی کسی چیز کو (پہلی دفعہ) طول میں پھاڑنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی کائنات کو عدم کا پردہ پھاڑ کر وجود میں لایا ہے اس لئے فاطر ہے۔ اہل تفسیر نے اس کے معنی مبدع لئے ہیں یعنی بغیر نظیر و مثال کے عدم محض سے عالم وجود میں لانے والا۔
راغب فرماتے ہیں کہ :۔
ھو ایجادہ تعالیٰ الشیء وابداعہ علی ھیئۃ مترشحۃ بفعل من الافعال۔ اللہ تعالیٰ کا کسی شے کو پہلی مرتبہ اس طرح تخلیق کرنا کہ اس میں کچھ کرنے کی استعداد موجود ہے۔
آیۃ کریمہ فاقم وجھک للذین حنیفا ۔ فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ (30:30) تو تم یک سو ہو کر دین (حق) کی طرف اپنا رخ رکھو اللہ کی اس فطرت کا اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں۔ میں اس معرفت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو تخلیقی طور پر انسان کے اندر ودیعت کی گئی ہے لہٰذا فطرۃ اللہ سے مراد معرفت الٰہی کی استعداد مراد ہے جو انسان کی جبلت میں پائی جاتی ہے ۔
صاحب تفسیر ماجدی (رح) اس آیۃ کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :۔
فطرت کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص میں اللہ تعالیٰ نے خلقۃ یہ استعداد رکھی ہے کہ اگر حق سنے اور سمجھنا چاہے تو وہ سمجھ میں آجاتا ہے اور اس کے اتباع کا مطلب یہ ہے کہ اس استعداد اور قابلیت سے کام لے اور اس کے مقتضاپر کہ ادراک حق ہے عمل کرے۔
یہ پھاڑنا کبھی کبھی کسی چیز کو بگاڑنے کے لئے بھی آتا ہے مثلاً السماء منقطر بہ (73:18) (اور) جس سے آسمان پھٹ جاوے گا۔ یعنی یوم قیامت کی سختی سے۔
جاعل۔ بنانے والا۔ کرنے والا۔ جعل سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ جاعل الملئکۃ۔ مضاف مضاف الیہ فرشتوں (پیام رساں) بنانے والا۔ فاطر اور جاعل ہر دو اللہ کی صفت ہیں اور اس کی متابعت میں مجرور ہیں۔
رسلا۔ رسل رسول کی جمع ہے جو فعول کے وزن پر (اسم مفعول بروزن مفعل) کا مبالغہ ہے (فعول کا استعمال اس طرح نادر ہے) ۔ رسل اسم مفعول جمع مذکر رسلا بحالت نصب بوجہ مفعول۔ پیغمبر، پیام رساں ۔ بھیجے گئے۔
رسول۔ ملائکہ اور انسان دونوں میں سے ہوسکتے ہیں۔ جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس۔ (22:75) اللہ تعالیٰ انتخاب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے پیام پہنچانے والے اور آدمیوں میں سے بھی۔ اصطلاح میں نبی یا رسول بنی نوع انسان میں سے وہ ہیں جو اللہ کا پیغام نوع انسانی کو پہنچاتے ہیں۔ فرشتوں کی رسالت کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں !
(1) یہ فرشتے اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیا (علیہم السلام) کے درمیان پیغام رسانی کی خدمات انجام دیتے ہیں (وحی کی صورت میں) ۔
(2) تمام کائنات میں اللہ تعالیٰ کے احکام لے جاتے ہیں اور ان کو نافذ کرتے ہیں۔
اولی اجنحۃ۔ اولوا (بحالت رفع) اولی (بحالت نصب وجر) جمع ہے بمعنی والے۔ صاحب، مالک، بعض ذو کو اس کا واحد بتاتے ہیں۔ اجنحۃ جناح کی جمع۔ پر ۔ بازو۔ اولی اجنحۃ بازوں والے۔ پروں والے۔ رسلا کی نعت ہے یا اس کا بدل۔
مثنی وثلاث وربع۔ یہ اثنان اثنان وثلثۃ ثلثۃ اور اربعۃ اربعۃ سے معدول ہے (نحویوں کی اصطلاح میں ایک اسم کا اپنے اصلی صیغہ سے نکل کر دوسرے صیغہ میں چلے جانے کو عدل کہتے ہیں۔ جیسے ثلثۃ ثلثۃ سے ثلث کہ اصل کے مطابق ثلث کے معنی تین تین ہوں گے۔ مثنی وثلث وربع ۔ اجنحۃ کی صفت ہیں۔ لہٰذا بوجہ صفت وعدل (دو اسباب منجملہ نو اسباب منع صرف) غیر منصرف ہیں۔
یزید فی الخلق ما یشائ۔ وہ مخلوق کی ساخت میں جیسا چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے یعنی فرشتوں کے پروں کی تعداد ۔ دو ۔ دو ۔ تین تین۔ چار چار تک ہی محدود نہیں وہ جسے چاہے جتنے چاہے بازو عطا کر دے۔ یا کسی ایک مخلوق کو دوسری مخلوق پر کسی قسم کی بزرگی و برتری عطا کر دے وہ ہر شے پر قادر ہے۔ ھو علی کل شیء قدیر۔
Ayah 35:2(35:2) ما یفتح اللہ۔ ما شرطیہ ہے۔ یفتح مضارع مجزوم (بوجہ عمل ما شرطیہ ) واحد مذکر غائب۔
من رحمۃ میں من تبعیضیہ ہے۔ ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ۔ اللہ تعالیٰ (اپنی) رحمت میں سے لوگوں کو جو عطا فرمائے (یا لوگوں کے لئے جو رحمت کھول دے) ۔
فلا ممسک لھا۔ میں لا نفی جنس کا ہے۔ ممسک اسم فاعل واحد مذکر منصوب بوجہ عمل لا نفی جنس۔ امساک (باب افعال) بمعنی روکنے والا۔ بند کرنے والا۔ فلا ممسک لھا۔ کوئی اس (رحمت ) کو روکنے والا نہیں۔ بند کرنے والا نہیں۔
وما یمسک۔ ما شرطیہ۔ یمسک (مضارع مجزوم بوجہ عمل ما شرطیہ) واحد مذکر غائب۔ اور جو وہ روک دے، بند کر دے۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔
فلا مرسل لہ۔ لا نفی جنس کا۔ مرسل اسم فاعل واحد مذکر ۔ ارسال۔ (افعال) سے مصدر۔ اس کا مادہ رسل ہے الرسل کے اصل معنی ہیں آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنا۔ ناقۃ رسلۃ ، نرم رفتار اونٹنی کو کہتے ہیں۔ کبھی اس سے صرف روانہ ہونے کا مطلب بھی لے لیتے ہیں۔ چناچہ اسی اعتبار سے اس سے رسول مشتق ہے۔ بمعنی مرسل بھیجا گیا۔ روانہ کیا گیا۔
جب رسل سے باب افعال بنایا جائے تو ارسال کا معنی ہوگا۔ آزاد کرنا۔ چھڑا دینا۔ رہا کرنا۔ اور مرسک کا معنی ہوگا۔ چھڑا دینے والا۔ بندش کو دور کردینے والا۔ گویا مرسل ممسک کی ضد ہوگیا۔ اور کلمہ نفی کے بعد ترجمہ ہوگا۔ کوئی چھڑانے والا کوئی بندش کو دور کرنے والا نہیں ہے۔ لہ میں ضمیر واحد مذکر غائب۔ ما یمسک (جس کو اس نے بند کردیا ہو یا روک دیا ہو) کی طرف راجع ہے۔
من بعدہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ تعالیٰ بھی ہوسکتا ہے اور بعدہ بمعنی غیرہ ہوگا۔ اور امساک بھی ہوسکتا ہے یعنی اس امساک (روک دینے یا بند کرنے ) کے بعد ۔
Ayah 35:3(35:3) ھل استفہام انکاری کے لئے ہے۔ مطلقاً نفی کے لئے بھی ہوسکتا ہے جیسے ھل جزاء الاحسان الا الاحسان (55:60) نیکی کا بدلہ بجز نیکی کے کچھ نہیں ہے۔ فانی۔ انی بمعنی کیف۔ کیسے۔ کیونکر۔
توفکون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر ۔ الافک ہر وہ چیز جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بنا پر ان ہوائوں کو جو اپنا اصلی رک چھوڑ دیں۔ مؤتفکۃ کہا جاتا ہے اور قرآن مجید میں ہے والمؤتفکۃ اھوی۔ اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے ٹپکا۔ (مؤتفکات سے وہ بستیاں مراد ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں کے الٹ دیا تھا) ۔
فانی تؤفکون۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو ؟ یعنی اعتقاد حق سے باطل کی طرف اور سچائی سے جھوٹ کی طرف اور اچھے کاموں سے برے افعال کی طرف پھر رہے ہو۔
Ayah 35:4(35:4) ترجع۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب، وہ پھیری جاتی ہے وہ لوٹائی جاتی ہے رجع (باب ضرب) سے مصدر۔ فعل متعدی۔ فعل لازم کا مصدر رجوع ہے۔ الی اللہ ترجع الامور۔ آخر کار تمام امور کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
Ayah 35:5(35:5) لا تغرنکم۔ مضارع منفی تاکید بانون ثقیلہ۔ صیغہ واحد مؤنث غائب غرور (باب نصر) مصدر سے۔ بمعنی دھوکہ دینا۔ بہکانا۔ فریب دینا۔ غلط طمع دلانا۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو فریب نہ دے۔ وہ تم کو بہکانہ دے۔
یغرنکم باللہ۔ مضارع واحد مذکر غائب تاکید بانون ثقیلہ۔ وہ تم کو اللہ کے بارہ میں دھوکہ میں نہ ڈال دے۔
الغرور۔ دھوکہ ۔ بےجا غرور۔ دھوکہ کا ذریعہ۔ علامہ اصمعی کہتے ہیں : غرور اسے کہتے ہیں کہ جو تجھے دھوکہ اور فریب میں مبتلا کر دے فریبی۔ مکار۔ دھوکہ باز۔ کیونکہ سب سے بڑا دھوکہ باز شیطان ہے۔ اس لئے یہاں اس آیت میں غرور سے مراد شیطان ہے۔ ولا یغرنکم باللہ الغرور۔ اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ بڑا فریبی ( شیطان) تمہیں مبتلا نہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے فریب میں مبتلا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان دھڑا دھڑ گناہ کرتا رہے اور تمنا یہ کرے کہ اللہ تعالیٰ بخش دے گا۔
Ayah 35:6(35:6) یدعوا۔ مضارع واحد مذکر غائب (تحقیق) وہ بلاتا ہے، دعوت دیتا ہے۔ دعوۃ مصدر سے۔ باب نصر۔
حزبہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا گروہ ، اس کی جماعت، (اپنے گروہ کو) ۔ لیکونوا۔ لام تعلیل کا ہے۔ یکونوا اصل میں یکونون تھا۔ لام کے عمل سے نون اعرابی گرگیا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ تاکہ وہ ہوجائیں ۔
اصحب السعیر۔ مضاف مضاف الیہ دوزخ والے۔ جہنم والے۔ جہنمی۔
Ayah 35:7(35:7) فائدہ : آیہ ہذا میں دو گروہوں کو الگ الگ نمایاں کیا گیا ہے۔ ایک وہ گروہ جنہوں نے کفر اختیار کیا۔ ان کے لئے عذاب دائم شدید مقدر ہوگیا۔ (عذاب کو نکرہ لا کر اس کی عظمت بلحاظ مدت کو ذہن نشین کر یا گیا ہے) ۔
دوسرا گروہ جو ایمان لایا اور عمل صالح کئے مغفرۃ عظیمۃ واجر کبیر ان کی قسمت میں رقم ہوا۔
Ayah 35:8(35:8) اب متذکرہ بالا (آیتہ 7) دونوں گروہوں کے مابین فرق کو مزید واضح کرنے کے لئے استفہامیہ ارشاد ہوتا ہے۔
کیا وہ شخص جس کے لئے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا ہو اور وہ اس کو خوبصورت نظر آیا اور اس نے باطل کو حق جانا اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل ہی سمجھا ؟
گویا تقدیر کلام ہے افمن زین لہ سوء عملہ فراہ حسنا ورای الباطل حقا کمن ھداہ اللہ فرای الحق حقا والباطل باطلا۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے مراد یہ کہ یہ دونوں شخص ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ فراہ حسنا کے بعد عبارت محذوف ہے (قرآن مجید میں حذف و تقدیر کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں) ۔
اس کے جواب میں گویا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” لا “ (نہیں) تو خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ فان اللہ یضل من یشاء ویھدی من یشاء فلا تذھب نفسک علیہم حسرات۔ بیشک اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے پس نہ گھلے آپ کی جان ان کے لئے فرط غم میں۔
ایسے ہی دو گروہوں کے متعلق اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔
افمن کان علی بینۃ من ربہ کمن زین لہ سوء عملہ (47:14) تو کیا وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے کھلے راستے پر چل رہا ہو وہ اس کی مانند ہوسکتا ہے جس کے اعمال بد اسے اچھے کر کے دکھائے جائیں۔
زین ماضی مجہول۔ واحد مذکر غائب۔ تزیین (تفعیل) مصدر۔ سنوارا گیا۔ مزین کیا گیا۔ اچھا کر کے دکھایا گیا۔ فراہ میں ضمیر واحد مذکر غائب سو عمل کی طرف راجع ہے !
حسنا۔ حسن سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اچھا۔ عمدہ۔ خوب۔ فراہ حسنا۔ زین کے مضمون کی تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس کو بےمدد چھوڑ دیا ہو اور اس کا وہم فہم پر اور جذبات نفسانی عقل پر غالب آگئے ہوں اچھے کو برا اور باطل کو حق سمجھنے لگا ہو وہ اس شخص کی طرح کیسے ہوسکتا ہے جس کو اللہ نے ہدایت یاب کردیا ہو اور حق کو باطل سے تمیز کرنے کی صلا حیت رکھتا ہو۔
فان اللہ۔ میںعطف کے لئے ہے اور اس کا عطف کلام محذوف پر ہے۔ لا تذھب۔ فعل نہی واحد مؤنث غائب (ضمیر کا مرجع نفسک ہے۔ علیہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب۔ کفار۔ گمراہان کی طرف راجع ہے۔ جو من زین لہ سوء عملہ کے زمرہ میں آتے ہیں۔ لا تذھب نفسک۔ ذھاب نفس۔ موت سے کنایہ ہے جیسے کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے ان یشا یذھبکم ویات بخلق جدید (14:19) اگر وہ چاہے تو تمہیں ختم کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے۔
حسرات۔ مفعول لہ ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے۔ یہ حسرۃ کی جمع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ افسوس کرنے کی وجہ سے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے۔ جمع کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ گمراہ کافروں کے احوال پر رسول اللہ ﷺ کو بکثرت افسوس ہوتا تھا۔ یا یہ وجہ کہ ان کفار کی بد اعمالیاں بہت کثرت سے تھیں جو افسوس کی (الگ الگ) متقاضی ہوتی تھیں۔
یصنعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ صنع مصدر (باب) فتح جو وہ کرتے ہیں ۔
Ayah 35:9(35:9) فتثیر۔تعقیب کا ہے۔ تثیر مضارع واحد مؤنث غائب، حکایت حال ماضی کے لئے استعمال ہوا ہے (حکایۃ الحال الماضیۃ کسی گذشتہ فعل کو واضح طور پر بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کی بجائے فعل مضارع استعمال کرنا) ۔ یہ مادہ ثور سے مشتق ہے۔
اثارۃ مصدر جس کے معنی ابھارنے ۔ برانگیختہ کرنے کے ہیں۔ چونکہ زمین کو جوتنے اور ہوائوں کے بادلوں کے اوپر اٹھانے میں اور لانے اور لے جانے میں یہ معنی موجود ہیں اس لئے تثیر کے معنی وہ بادلوں کو اوپر اٹھاتی ہے (یہاں الریاح کے لئے یہ صیغہ واحد مؤنث غائب استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ ہوائیں بادلوں کو اوپر اٹھاتی ہیں) ۔
زمین کے جوتنے کے معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے انھا بقرۃ لا ذلول تثیر الارض ولا تسقی الحرث (2:71) وہ گائے جو محنت کرنے والی نہ ہو جو نہ زمین کو جوتتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو۔
بادلوں کو اوپر اٹھانے کے ہم معنی غبار کو اوپر اٹھانے کے لئے اس کا استعمال قرآن مجید میں ہے فالمغیرات سبحا فاثرن بہ نقعا (100:4) پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں پھر اس میں غبار اڑاتے ہیں۔
علامہ ثنا اللہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں۔ فتثیر سحابا۔ یہ گذشتہ حال کی حکایت ہے تاکہ وہ ندرت آگئیں صورت جو اللہ تعالیٰ کی حکمت پر دلالت کرتی ہے دماغوں میں مستحضر وجائے۔
سحابا۔ اسم جنس ہے اس کا واحد سحابۃ آیا ہے ویسے سحاب جمع مذکر وجمع مؤنث اور واحد سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
فسقنہ میںتعقیب کے لئے ہے سقنا ماضی جمع متکلم سوق مصدر (باب نصر ) ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع سحاب ہے۔ ہم اس کو ہانک لے گئے۔ پھر ہم ان بادلوں کو ہانک لے گئے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے ونسوق المجرمین الی جہنم وردا (19:86) اور مجرموں کو پیاسا ہم دوزخ کی طرف ہانکیں گے۔
بلد میت۔ موصوف وصفت۔ بلد بمعنی شہر۔ یہاں کوئی بھی قطعہ زمین مراد ہے میت مردہ ، مراد بغیر کسی نباتات، بےآب وگیاہ
احیینا بہ الارض۔ احیینا ماضی جمع متکلم احیاء (افعال) مصدر۔ ہم نے زندہ کیا۔ بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع سحاب ہے ہم اس سے زمین کو زندہ کردیتے ہیں۔ یعنی بادلوں میں سے جو بارش کی صورت میں پانی زمین پر آتا ہے اس کے ذریعہ خشک و بےآب وگیاہ زمین کو دوبارہ سرسبز کردیتے ہیں۔
النشور۔ مصدر مرفوع ۔ معرفہ۔ باب نصر۔ جی اٹھنا۔ یعنی جزاوسزا کے لئے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہونا۔ مراد یہاں قبروں سے قیامت کے روز اٹھایا جاتا ہے۔
Ayah 35:10(35:10) العزۃ ۔ عزت۔ غلبہ، بزرگی۔ عز یعز ضرب کا مصدر بھی ہے اور بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے۔
یصعد۔ مضارع واحد مذکر غائب صعود باب سمع سے مصدر وہ چڑھتا ہے۔ وہ پہنچتا ہے۔ مراد یہاں قبول ہوتا ہے۔ یا یہ کہ فرشتے اسے لے اوپر عرش کی طرف چڑھتے ہیں ۔ الکلم الطیب موصوف وصفت۔ پاکیزہ کلام ۔ مراد ذکر الٰہی۔
یرفعہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع العمل الصالح ہے۔ وہ اس کو بلند کرتا ہے رفع (با فتح) مصدر۔ یرفع میں ضمیر فاعل کا مرجع کون ہے ؟ اس کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
(1) یرفع میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے مطلب یہ کہ جو عمل صالح خالصۃ اللہ کے لئے کیا جائے اللہ اس کو اوپر اٹھا لیتا ہے یعنی قبول فرما لینا ہے۔
(2) ضمیر فاعل عمل صالح کی طرف راجع ہے اس صورت میں ہ کا مرجع الکلم الطیب (پاکیزہ کلام ) ہوگا (الکلم کا لفظ مفرد ہے جمع نہیں۔ جنس مراد ہے) اور مطلب یہ ہوگا کہ پاکیزہ کلام عمل صالح کو اوپر پہنچاتا ہے یعنی مقبول بنا دیتا ہے۔
یمکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب مکر (باب نصر) مصدر۔ وہ چالیں چلتے ہیں۔ السیئات۔ ای المکرات السیئات۔ بری چالیں۔ مکر بری تدبیر۔ پوشیدہ فریب۔ جب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اللہ تعالیٰ کا دھوکہ فریب۔ یا مکر کی سزا دینا مراد ہے۔
اولئک کا اشارہ الذین یمکرون السیئات کی طرف ہے۔
یبور واحد مذکر غائب فعل مضارع۔ بور۔ بوار مصدر (باب نصر) وہ ہلاک ہوجائے گا یا تباہ ہوجائے گا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وکانوا قوما بورا (25:18) اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ لوگ تھے۔
Ayah 35:11(35:11) من تراب۔ مٹی سے۔ اصل بعید کی طرف اشارہ ہے یعنی اولیں حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا۔ اور من نطفۃ اصل قریب کی طرف اشارہ ہے (یعنی حضرت آدم کے بعد نسل انسانی کو) ۔ ازواجا۔ جوڑے۔
ما تحمل مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ حمل (باب ضرب) سے مصدر وہ نہیں اٹھاتی ہے وہ حمل سے نہیں ہوتی۔ وہ حمل نہیں اٹھاتی۔ وہ حاملہ نہیں ہوتی۔
ولا تضع اور نہ جنتی ہے ۔ وائو عاطفہ تضع مضارع منفی واحد مؤنث غائب اور نہ بچہ جنتی ہے وضع باب فتح سے مصدر جس کے معنی ہیں رکھنے اور ڈالدینے یا عورت کے بچہ جننے کے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے کہ : قالت رب انی وضعتہا انثی (3:36) اس نے (حضرت مریم نے ) کہا اے میرے پروردگار میں نے تو ایک بچی کو جنم دیا ہے۔
من انثی۔ کوئی عورت ، اس صورت میں من تبعیضیہ ہے۔ من زائدہ بھی ہوسکتا ہے۔
ما یعمر۔ مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب تعمیر (تفعیل) مصدر جس کے معنی عمر بڑھانا یا زبان سے عمرک اللہ (خدا تیری عمر دراز کرے) کہنا ہے العمارۃ۔ خراب کی ضد ہے ۔ آباد کرنا۔ آبادی۔ عمر ارضہ اس نے اپنی زمین آباد کی۔ معمور۔ آباد کی ہوئی جگہ۔ عمر آدمی کی مدت زندگی۔ کیونکہ مدت زندگی میں انسان کی عمارت بدن قائم رہتی ہے۔ بدنی مکان تعلق روح کی وجہ سے آباد رہتا ہے۔ عمر اور عمر کا اگرچہ ایک ہی معنی ہے لیکن قسم کے موقع پر عمر بولا جاتا ہے ۔ مایعمر اس کی عمر نہیں بڑھائی جاتی ہے ۔
معمر۔ اسم مفعول واحد مذکر تعمیر مصدر سے۔ جس کی عمر بڑھائی گئی ہو۔ بڑی عمر والا۔ عمر رسیدہ ۔ طویل العمر۔ یا محض وہ شخص جس کو زندگی دی گئی ہو۔ لا ینقص۔ مضارع نفی مجہول واحد مذکر غائب نقص (باب نصر) مصدر نہیں کم کی جاتی ہے۔
عمرہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی عمر۔ ما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتب۔ کسی عمر والے کی عمر زیادہ نہیں کی جاتی اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا ) ہے۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) معمر سے مراد شخص محض ہے اور عمرہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع معمر اخر ہے۔ جیسے عربی میں عندی درہم ونصفہ میں نصفہ سے نصف درہم آخر مراد لیا جاتا ہے ۔ ترجمہ ہوگا :۔ کسی شخص کی عمر بڑھائی نہیں جاتی ہے اور نہ کسی دوسرے شخص کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (یہ سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا ) ہے۔
(2) معمر۔ بمعنی شخص محض ہے اور ہ ضمیر کا مرجع وہی معمر ہے جو پہلے مذکور ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔
کسی شخص کی عمر بڑھائی نہیں جاتی ہے اور نہ ہی اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (یہ سب کچھ ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے۔
(3) معمر سے مراد طویل العمر شخص ہے اور ہ ضمیر دوسرے ناقص العمر شخص کی طرف راجع ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔
کسی طویل العمر کی عمر نہیں بڑھائی جاتی ہے اور نہ کسی ناقص العمر کی عمر میں کمی کی جاتی ہے۔ مگر (یہ سب کچھ ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے۔ بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ :۔
طویل العمر شخص کی عمر میں بیشی اور ناقص العمر کی عمر میں کمی اس طرح نہیں کی جاتی کہ ناقص العمر کی عمر کا کوئی حصہ اس کی عمر سے گھٹا کر طویل العمر کی عمر میں بڑھا دیا جائے اور اس طرح ایک طویل العمر ہوجائے اور دوسرا ناقص العمر۔
فی کتب۔ میں کتب سے مراد لوحد محفوظ ہے۔ ذلک۔ جو واللہ خلقکم سے لے کر فی کتب تک مذکور ہے۔ یسیر۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے یسر مادہ۔ آسان ۔ سہل۔
Ayah 35:12(35:12) یستوی۔ مضارع واحد مذکر غائب استواء مصدر (افتعال) سے ما یستوی وہ برابر نہیں ہے۔
البحران۔ البحرین (دو بحر) البحر۔ الماء الکثیر ملحا کان او عذبا یعنی پانی کی کثیر مقدار اور وسیع ذخیرہ ۔ خواہ وہ نمکین ہو یا شیریں۔ بحر کو بحر کہنے کی وجہ انہوں نے یہ لکھی ہے کہ اس میں وسعت اور انبساط کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسے کوئی شخص بہت سخی ہو تو اسے کہتے انہ لبحر۔ کہ وہ تو بحر ہے۔ یہ درست ہے کہ عام طور پر بحر کا اطلاق سمندر پر ہوتا ہے لیکن میٹھے پانی کے ذخیرہ کو بھی اہل عرب بحر کہتے۔ ھذا۔ یہ ایک پانی۔ ان دونوں میں سے یہ ایک !
عذب۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بہت شیریں۔ بہت میٹھا ۔ عذوبۃ سے جس کے معنی پانی کے میٹھا اور خوشگوار ہونے کے ہیں۔ عذاب اور عذوب اس کی جمع ہے۔
فرات۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے فروتۃ مصدر (باب کرم) سے بہت شریں پانی بہت میٹھا پانی۔ باب نصر سے بمعنی زنا کار اور باب سمع سے بمعنی بیوقوف آیا ہے لیکن قرآن مجید میں ان معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ فرات اذا کان شدید العذوبۃ۔ پانی کا بہت شیریں ہونا۔ قیل ما ھو یکسر العطش جو پیاس کو بجھا دے۔
سائغ۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر سوغ مصدر (باب نصر) سے حلق سے آسانی کے ساتھ اثر جانے والا (پانی یا خوراک) ۔
وھذا۔ اور یہ ایک (یعنی دوسرا پانی) ھذا وھذا یہ ایک اور یہ ایک (پانی) ۔ ملح۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے نہایت نمکین اور کھاری (پانی) ۔ مالح بھی نمکین اور کھاری پانی کے لئے آتا ہے لیکن الجوہری نے اسے متروک لغت میں سے کہا ہے اور جو اس کے جواز کے قائل ہیں وہ اس شعر کی دلیل دیتے ہیں !
ولو تفلت فی البحر والبحر مالح ۔ لا صبح ماء البحر من ریقھا عذبا
اور اگر وہ سمندر میں ڈبکی لگائے اور سمندر کا پانی نہایت کھاری ہوتا ہے۔ تو اس کے دہن کے لعاب سے سمندر کا پانی میٹھا اور شیریں ہوجائے۔ اجاج صفت مشبہ کا صیغہ ہے نہایت کڑوا اور کھاری پانی۔
من کل۔ ای من کل واحد منھما ان دونوں میں سے ہر ایک سے۔
لحما طریا۔ طراوۃ سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بمعنی تروتازہ۔ لحما گوشت۔ لحما طریا۔ موصوف وصفت۔ منصوب بوجہ مفعول تاکلون۔
تستخرجون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ استخراج (استفعال) مصدر۔ تم نکالتے ہو۔ حلیۃ۔ زیور۔ سامان زیب و زینت (سمندر سے سامان زینت از قسم موتی۔ مرجان، جواہرات۔ نکالے جاتے ہیں) ۔
فیہ ای فی کل واحد منھما دونوں میں سے ہر ایک میں۔ مواخر۔ ماخر کی جمع۔ صیغہ صفت ہے۔ چیرنے والی۔ مخر ومخور (باب فتح) کشتی کا یا جہاز کا یا تیراک کا پانی چیرنا۔ مواخر۔ پانی کو چیرنے والی کشتیاں۔
Ayah 35:13(35:13) یولج۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ایلاج مصدر (افعال) سے وہ داخل کرتا ہے۔ یجری۔ مضارع واحد مذکر غائب جری وجریان مصدر (باب ضرب) وہ چلتا ہے وہ جاری رہتا ہے۔
اجل مسمی۔ اجل مدت مقررہ۔ موصوف ۔ مسمی اسم مفعول واحد مذکر ۔ تسمیۃ مصدر باب تفعیل۔ مقرر کردہ شدہ۔ صفت۔ اجل مسمی مدت مقررہ۔
ذلکم یہ ۔ یہی۔ اس میں کم ضمیر جمع خطاب کے لئے ہے۔ جو اتنی قدرتوں کا مالک ہے۔ جو اتنی حکمتوں والا ہے، جو اتنا عظیم احسان کرنے والا ہے ۔ اللہ ۔ وہ ہے اللہ۔ ربکم جو تمہارا پروردگار ہے۔ یعنی تمہارا پروردگار اللہ ان مذکوروہ بالا خوبیوں کا مالک ہے۔
تدعون۔ مضارع۔ جمع مذکر (جنہیں) تم پکارتے ہو۔ یعنی جن کی تم پوجا کرتے ہو۔ قطمیر۔ وہ باریک چھلکا جو گٹھلی پر لپٹا ہوتا ہے یا وہ باریک ڈورا جو گٹھلی کے شگاف میں ہوتا ہے۔ مراد حقیر یا بےمقدار چیز۔
Ayah 35:14(35:14) ما استجابوا لکم۔ ما نفی کے لئے ہے۔ استجابوا ماضی جمع مذکر غائب۔ استجابۃ مصدر باب استفعال سے بمعنی ماننا۔ قبول کرنا۔ یعنی وہ تمہارا کہنا قبول نہ کر پائیں گے ۔ تمہاری التجا قبول نہ کرسکیں گے۔
یکفرون بشرککم۔ وہ (خود) تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔ یعنی تم جو ان کو اللہ کی عبادت میں شریک کرتے ہو وہ قیامت کے دن اس کے منکر ہوجائیں گے اور کہیں گے ما کنتم ایانا تعبدون۔ (10:38) تم ہماری پوجا نہیں کرتے تھے (بلکہ اپنی ہوا وہوس اور باطل خیالات کی پوجا کرتے تھے) ۔
لا ینبئک۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ تنبئۃ مصدر باب تفعیل بمعنی خبر دینا۔ بتادینا۔ آگاہ کرنا۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تمہیں (کوئی ) نہیں بتائے گا۔
مثل خبیر۔ مثل اسم مفرد۔ طرح۔ مضاف، خبیر مضاف الیہ۔ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ خبردار ۔ خبر رکھنے والا۔ دانا۔ خبر رکھنے والے کی طرح۔ خبر رکھنے والے کے برابر۔ خبیر اللہ تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے ہے۔ اور قرآن مجید میں خبیر ذات باری تعالیٰ کے لئے ہی استعمال ہوا ہے۔
Ayahs 35:15–16(35:15) الغنی۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ال۔ تعریف کا ہے اور عہد کا بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بےنیازی اور موجودات پر عمومی انعام معلوم و معروف ہے۔ الغنی بےنیاز۔ غیر محتاج۔ یہ بھی ذات باری تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے ہے !
الحمید۔ جو اپنی ذات میں مخلوق کی حمد کا مستحق ہو۔ حمد سے بروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی مفعول۔ یعنی محمود ہے ستودہ۔ تعریف کیا ہوا۔ یہ بھی ذات باری تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔
Ayah 35:17(35:17) وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ عز یعز عزۃ۔ عز وعزازۃ ۔۔ علی۔ شاق وگراں گذرنا۔ جیسے عزیر علیہ ما عنتم۔ (9:128) جو چیز تمہیں مضرت پہنچاتی ہے اسے بہت گراں گذرتی ہے۔ عزیز۔ عزۃ سے بمعنی دشوار، مشکل۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ اور یہ بات اللہ کو کچھ مشکل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ عزیز ہے کیونکہ وہ اتنا شدید القوت ہے اور زبردست ہے جس پر کوئی شی غالب نہیں آسکتی۔
Ayah 35:18(35:18) لا تزر۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ وزر مصدر (باب ضرب) وہ بوجھ نہیں اٹھاتی ہے۔ وہ بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ وازرۃ اسم فاعل واحد مؤنث (بوجھ اٹھانے والا نفس) وزر۔ بوجھ۔ اوزار جمع۔ ہتھیار۔ وزیر مشیر سلطنت۔ بادشاہ کا مدد گار ۔ بادشاہ کے ساتھ حکومت کا بوجھ اٹھانے والا۔ وزر اخری۔ مضاف، مضاف الیہ۔ کسی دوسرے کا بوجھ۔
ان تدع۔ ان شرطیہ۔ تدع مضارع واحد مؤنث غائب۔ اصل میں تدعو تھا ان شرطیہ کے سبب سے آخر سے وائو حذف ہوگیا۔ دعاء مصدر (باب نصر) اگر وہ مثقلہ پکارے۔ (اگر بوجھ سے لدی ہوئی جان کسی کو پکارے) ۔
مثقلۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ وہ نفس جس پر (گناہوں کا) بوجھ لدا ہوگا۔ عربی میں نفس مؤنث ہے۔ اس لئے مؤنث کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ ثقل بوجھ اثقال (افعال) بوجھ لادنا۔
الی حملھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مثقلۃ کی طرف راجع ہے۔ اپنے بوجھ کی طرف۔ یعنی اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے۔
لا یحمل منہ شیء میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع حمل ہے اور شیئ۔ یحمل کا مفعول مالم بسم فالہ ہے۔ اس بوجھ سے کوئی حصہ بھی ۔ نہیں اٹھایا جائے گا۔ مطلب یہ کہ گنہگار کے بار گناہ کا کوئی حصہ بھی کوئی دوسرا آدمی اپنے اوپر نہیں اٹھائے گا۔
یخشون ربہم بالغیب کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ۔
(1) وہ اپنے رب سے بغیر اس کو دیکھے ڈرتے ہیں۔
(2) وہ اپنے رب (کے عذاب) سے ڈرتے ہیں ۔ ایسی حالت میں کہ عذاب ان کے سامنے نہیں ہے۔
(3) وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جب سب لوگوں سے غائب ہوتے ہیں۔
مراد یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے خوف سے تمام گناہوں سے بچتے ہیں اور فرائض کو ادا کرتے ہیں۔ صرف انہیں کو آپ کے خوف دلانے کا فائدہ ہوتا ہے۔ المصیر۔ اسم ظرف مکانی ومصدر۔ صیر مادہ۔ لوٹنے کی جگہ ۔ ٹھکانہ ۔ قرار گاہ۔
Ayah 35:19(35:19) الاعمی۔ عمی سے صفت مشبہ کا صیغہ۔ اندھا۔ نابینا۔ مراد راہ راست سے نابینا۔ یعنی کافر۔ جاہل۔
البصیر۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل۔ اسم فاعل واحد مذکر ۔ بینا۔ یعنی مؤمن۔ یا جاننے والا۔
Ayah 35:20(35:20) الظلمت۔ ظلمۃ کی جمع۔ تاریکیاں ۔ اندھیرے ۔ روشنی کے نہ ہونے کو ظلمت کہتے ہیں۔ کبھی جہالت ، فسق اور شرک کو ظلمت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ان کے اضداد، علم۔ ایمان اور عمل صالح کو نور سے تعبیر کرتے ہیں۔
مثلاً اور جگہ قرآن مجید میں ہے ان اخرج قومک من الظلمت الی النور۔ (14:5) کہ تو اپنی قوم کو (کفر کے اندھیروں سے نکال کر ایمان کے) اجالے میں لائے۔ آیت ہذا میں بھی الظلمت سے مراد کفر ہے۔ النور۔ روشنی ۔ یعنی ایمان۔
Ayah 35:21(35:21) الظل۔ سایہ، چھائوں، دھوپ کی ضد ہے مراد جنت و ثواب۔
الحرور۔ دھوپ کی تپش۔ لو۔ گرم ہوا۔ مراد یہاں دوزخ اور عذاب ہے۔ الحرور۔ اسم ہے اور مصدر بھی۔ حرارۃ بھی مصدر ہے۔ حر مادہ ۔
Ayah 35:22(35:22) الاحیائ۔ الحی کی جمع ہے۔ زندہ لوگ۔ مراد اہل علم۔
Ayahs 35:23–24(35:23) الاموات۔ المیت کی جمع ہے مردے۔ مراد جاہل لوگ۔
یسمع۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اسماع مصدر۔ (باب افعال) وہ سناتا ہے۔ وہ سنا کر دل میں بٹھا دیتا ہے۔ مسمع۔ اسم فاعل بحالت جر۔ واحد مذکر ۔ سنانے والا۔
من فی القبور۔ وہ جو قبروں کے اندر ہیں۔ کفر پر جمے رہنے والوں کو مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور مردے بھی وہ جو قبروں کے اندر ہوں۔
Ayahs 35:25–27(35:25) ان یکذبوک۔ میں ان شرطیہ ہے۔ یکذبوا۔ اصل میں یکذبون تھا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب بوجہ عمل ان نون اعرابی گرگیا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ یہاں خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے۔ اور ضمیر فاعل کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ اگر یہ لوگ (کفار مکہ) آپ کو جھٹلاتے ہیں۔
اس کے بعد جواب شرط محذوف ہے۔ ای فاصبر کما صبرا الانبیاء من قبلک۔ آپ صبر کریں جس طرح آپ سے پہلے انبیا (علیہم السلام ) نے صبر کیا۔
فقد کذب الذین من قبلہم۔ میں الذین من قبلہم فاعل ہے کذب کا۔ اور قبلہم (مضاف مضاف الیہ) میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی جو لوگ ان (کفار مکہ سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں (اپنے وقت کے پیغمبروں کی) ۔ یہ جملہ صبر کرنے پر دلیل کے طور پر لایا گیا ہے !
جاء تہم رسلہم بالبینت و بالزبر والکتب المنیر۔ یہ جملہ سابقہ کا حال ہے۔ حالانکہ ان کے پاس رسول روشن دلیلیں، آسمانی صحیفے اور نورانی کتاب لے کر آئے تھے۔ البینت۔ کھلی کھلی اور روشن دلیلیں ۔ بینۃ کی جمع۔ الزبر۔ زبور کی جمع کتابیں۔ اور اق۔ آسمانی صحیفے ۔ الکتاب المنیر۔ روشن کتاب۔ جیسے توریت ، انجیل زبور۔ یعنی ہر پیغمبر الگ الگ معجزہ اور کتاب کے ساتھ آیا۔
نکیر۔ اصل میں نکیری تھا۔ (پس کیسا ہوا) میرا عذاب۔ الم تر۔ میں ہمزہ استفہام کا ہے لم تر۔ مضارع نفی حجد بلم صیغہ واحد مذکر حاضر تر۔ اصل میں تری تھا۔ لم کے آنے سے آخر میں حرف علت ساقط ہوگیا۔ رؤیۃ مصدر (باب فتح) دیکھنا۔ الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ کیا تمہیں نہیں معلوم۔ یہاں خطاب عام ہے۔ یعنی ہر فرد بشر سے ہے۔
فاخرجنا بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ماء کی طرف راجع ہے۔ اخرجنا۔ ہم نے نکالا۔ ہم نے پیدا کیا۔ یہاں التفات ضمائر ہے۔ صیغہ غائب سے صیغہ متکلم کی طرف التفات۔ کسی کام کو بکمال قدرت و حکمت کرنے کے اظہار کے لئے ہے۔ پھر ہم نے اس پانی کے ذریعے سے پیدا کئے۔۔
ثمرات مختلفا الوانھا۔ ثمرات مفعول ہے اخرجنا کا۔ مختلفا اسم فاعل۔ واحد مذکر حاضر۔ بحالت نصب۔ مختلف ۔ جدا جدا ۔ طرح طرح گوناگوں۔ بو قلموں ۔ اختلاف مصدر (باب افتعال) الوانھا۔ الوان۔ لون کی جمع ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (جس کا مرجع ثمرات ہے) مضاف الیہ۔ مختلفا الوانھا دونوں مل کر ثمرات کی صفت ہیں۔
ثمرات مختلفا الوانھا۔ پھل جو اپنی اجناس میں مختلف ہیں۔ مثلاً انار، سیب انگور زیتون وغیرہ یا پھل جو اپنی رنگت میں مختلف ہیں۔ مثلاً زرد، سبز، سرخ وغیرہ۔ اور یہ چند روچند تنوع خالق حقیقی کی کمال صناعی و حکمت کا مظہر ہے۔
ومن الجبال۔ ای ومن الجبال مکتلف الوانھا۔ اور (اسی طرح) پہاڑوں کے بھی مختلف رنگ ہیں۔
جدد۔ اس کے مختلف معانی آئے ہیں !
(1) یہ جدۃ کی جمع ہے جس کے معنی کھلے راستے کے ہیں۔ لہٰذا جدد بمعنی راستے گھاٹیاں۔ جادۃ (جواد جمع) بڑا رستہ ، شارع عام
(2) ذات خطوط مختلفۃ الالوان۔ مختلف رنگوں کی دھاریوں والے۔
(3) جدد بمعنی قطع (ٹکڑے) قطعے، حصے، جددتہ میں نے اس کے ٹکڑے کر دئیے۔ ومن الجبال جدد۔ اور پہاڑوں کی (مختلف الالوان) گھاٹیاں۔ یا راستے۔ یا پہاڑوں کے مختلف قطعے یا حصے جو بیض (ابیض بیضاء سے صفت مشبہ کا صیغہ جمع مذکرومؤنث ہے) سفید ہیں اور حمر (احمر حمراء کی جمع ہے ) سرخ ہیں۔ اور غرابیب سود نہایت سیاہ رنگوں کے ہیں۔
غرابیب سود۔ غریب کی جمع ہے اور سود اسود (مذکر) سوداء (مؤنث) بمعنی سیاہ رنگ والا۔ یا سیاہ رنگ والی۔ کی جمع ہے بروزن افعل فعلا فعلن۔ موجودہ حالت میں (یعنی ترکیب غرابیب سود ) غرابیب سود کی صفت نہیں ہے۔ عربی میں کسی رنگ کی تاکیدی صفت کو موصوف سے پہلے ذکر نہیں کیا جاتا۔ لہٰذا اس کی مختلف توضیحات کی گئی ہیں۔
(1) اصل میں یہ سود غرابیب تھا۔ سود موصوف غرابیب صفت۔ استعمال میں الٹ کر غرابیب سود کردیا گیا۔ اصغر فاقع (خالص زرد) کی طرح اسود غربیب کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر اسود کی تاکیدی صفت ذکر کرنی ہوتی ہے تو غربیب کو اسود کے بعد لاتے ہیں۔
(2) اصل میں سود غرابیب سود تھا۔ صفت سے قبل موکد کو مضمر (محذوف) رکھا گیا۔ صفت کے بعد سود موکد مضمر کی تفسیر ہے اور یہ زیادتی تاکید کے لئے کیا گیا ہے۔ اور مولانا ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں !
جلال الدین محلی نے کہا۔ اسود غربیب کثیر الاستعمال ہے۔ اور غربیب اسود کا استعمال کم ہے، میں کہتا ہوں۔ یہ قلیل الاستعمال اس وقت جب سیاہی کی مزید تاکید مقصود ہو۔
(3) موصوف مؤکد کو محذوف کرنے کی کوئی بات نہیں۔ ( جیسا کہ اوپر نمبر 2 میں مذکور ہوا) بلکہ یہ نوع کلام عربی میں التقدیم والتاخیر کہلاتی ہے لہٰذا غرابیب سود بمعنی سود غرابیب ہے نہایت سیاہ۔
Ayah 35:28(35:28) ومن الناس۔۔ کذلک ای وکذلک من الناس اور اسی طرح انسانوں چارپائوں اور جانوروں کے رنگ جدا جدا ہیں اس جملہ کا عطف سابقہ جملہ پر ہے۔
العلمؤ۔ علمائ۔ عالم لوگ۔ اس رسم الخط میں یہ لفظ شعرا اور سورة فاطر میں آیا ہے یعنی میم کے بعد وائو اور اس پر ہمزہ اور وائو کے بعد الف بھی لکھا جاتا ہے اور پڑھا نہیں جاتا : علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔
شیخ اجل شہاب الدین سہروردی (رح) لکھتے ہیں کہ اس آیۃ میں درپردہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس کے دل میں خشیت نہیں وہ عالم نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت اور صفات کمالیہ کو جاننا مستلزم خشیت ہے خشیت علم کے لئے لازم ہے اور لازم کی نفی ملزوم کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔
العلمؤا یخشی کا فاعل ہے۔ اللہ کو مقدم اور علماء کو مؤخر لانے سے علماء کی تخصیص ہوگئی یعنی اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء ہی ہیں (جو پوری طرح ) اس سے ڈرتے ہیں ای ان الذین یخشون اللہ من عبادہ العلمؤا دون غیرہم۔
ان اللہ عزیز غفور (بےشک اللہ تعالیٰ سب پر غالب، بہت بخشنے والا ہے) یہ خدا سے ڈرنے کے وجوب کی علت ہے۔
Ayah 35:29(35:29) ان حرف مشبہ بالفعل الذین اسم ان۔ یتلون کتب اللہ واقاموا الصلوۃ وانفقوا مما رزقنہم سرا وعلانیۃ۔ اسم کی تعریف ہیں۔ یرجون تجارۃ لن تبور۔ ان کی خبر ہے۔
یتلون مضارع جمع مذکر غائب تلاوۃ (باب نصر) مصدر وہ پڑھتے ہیں (اور اس پر عمل کرتے ہیں) ۔ کتب اللہ۔ مضاف مضاف الیہ، اللہ کی کتاب۔ مراد قرآن مجید ہے۔ یا تمام کتب الٰہیہ (اس صورت میں تکذیب کرنے والوں کی حالت کے بیان کے بعد اس آیت میں گذشتہ اور موجودہ امتوں میں سے تصدیق کرنے والے مومنوں اور قاریوں اور عالموں کی مدح ہوجائے گی۔
سرا۔ درپردہ۔ چھپے ہوئے (یعنی عام نفلی صورت میں مثلاً خیرات وغیرہ) علانیۃ کھلم کھلا۔ ظاہر ۔ علانیہ۔ (مفروضہ زکوٰۃ و صدقات وغیرہ) ہر دو منصوب بوجہ حال ہونے کے ہیں۔
یرجون مضارع جمع مذکر غائب۔ رجاء (باب نصر) مصدر۔ وہ امید رکھتے ہیں ۔ تجارۃ مفعول ۔ ایسی تجارت۔
لن تبور۔ مضارع نفی بہ لن صیغہ واحد مؤنث غائب ضمیر فاعل کا مرجع تجارۃ ہے بوار مصدر (باب نصر) سے (جو) نہ بگڑے یعنی جس میں خسارہ نہ ہو۔ جو نہ بگڑے۔ جو بربادنہ ہو۔ جو کبھی ماند نہ ہو۔
یعنی وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی گھاٹے میں نہیں جائے گی نہ برباد ہوگی۔ بوار۔ بار الشیء یبور بورا وبوارا۔ کے معنی کسی چیز کے بہت زیادہ مندا پڑنے کے ہیں۔ چونکہ کسی چیز کی کساد بازاری اس کے فساد کا باعث ہوتی ہے جیسے کہا جاتا ہے۔ کسد حتی فسد اس لئے بوار۔ بمعنی ہلاکت بھی ہونے لگا۔ قرآن مجید میں ہے احلوا قومہم دار البوار (14:28) انہوں نے اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا۔
Ayah 35:30(35:30) لیوفیہم۔ یوفی مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل لام تولیۃ تفعیل مصدر۔ پورا پورا دینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ان کو پورا پورا دے گا۔ ان کو پورا پورا دے۔ لام کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) یہ لام تعلیل کا ہے اور اس کا تعلق فعل محذوف سے ہے یعنی فعلوا ما فعلوا لیوفیہم یعنی وہ ایسا اس واسطے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا پورا پورا ثواب ان کو دے۔
(2) یہ لام عاقبت کا ہے اور اس کا تعلق یرجون سے ہے (یعنی اس امید تجارت کا نتیجہ یہ ہوگا) کہ اللہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیگا۔
ویزیدہم من فضلہ۔ اور اپنے فضل سے ان کے اجر میں مزید اضافہ کرے گا۔ انہ غفور شکور بیشک وہ بڑی مغفرت کرنے والا (لغزشوں کو معاف کرنے والا) بڑا قدردان (طاعتوں کی قدر افزائی کرنے والا ہے) یہ بندوں کے اعمال صالحہ کا پورا پورا بدلہ دینے اور اس پر مزید اپنے فضل و کرم سے عطا کرنے کی علت ہے۔
Ayah 35:31(35:31) الکتب۔ ای القران۔
Ayah 35:32(35: 32) ثم اور ثنا۔ ماضی جمع متکلم ایراث (افعال) مصدر۔ ہم نے وارث بنایا ثم حرف عطف ہے اور ثنا کا عطف الذی اوحینا پر ہے۔ ثم اور ثنا الکتب پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنایا۔
اصطفینا۔ ماضی جمع متکلم اصطفاء (افتعال) مصدر۔ ہم نے منتخب کرلیا۔ ہم نے چن لیا۔
مقتصد۔ اسم فاعل واحد مذکر اقتصاد (افتعال) مصدر۔ قصد مادہ سیدھے راستہ پر قائم ۔ متوسط ۔ میانہ رو۔ القصد (باب ضرب ) راستہ کا سیدھا ہونا اسی سے اقتصاد ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔
(1) محمود علی الاطلاق۔ جو افراط و تفریط کے درمیان ہو جیسے سخاوت جو اسراف وبخل کے مابین کو کہتے ہیں۔ اور شجاعت جو لاپرواہی اور بزدلی کے درمیان درجہ کا نام ہے چناچہ اسی معنی کے لحاظ سے قرآن میں ہے واقصد فی مشیک (31:19) اور اپنی چال میں اعتدال کئے رکھو۔
(2) قصد کا لفظ کنایہ کے طور پر ہر اس چیز پر بولاجاتا ہے جس کے محمود اور مذموم ہونے میں شبہ ہو ! یعنی جو نہ بالکل محمود ہو اور نہ بالکل مذموم بلکہ اس کے درمیان۔ چناچہ اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا گیا۔ فمنہم ظالم لنفسہ ومنہم مقتصد۔ (آیت ہذا) تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں۔ اور کچھ میانہ رو ہیں۔
سابق۔ السبق کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے، واستبقا الباب (12:25) وہ دونوں آگے پیچھے دوڑ لگا کر دروازہ کی طرف بھاگے۔ پھر مجازا ہر شے میں بڑھ جانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ مثلاً وقال الذین کفروا للذین امنوا لو کان خیرا ما سبقونا الیہ (46:11) اور یہ کافر ایمان والوں کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ (یہ قرآن) اگر کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ کر جاتے پھر استعارہ کے طور پر احراز (حفظ) فضیلت کے معنی میں استعمال ہونے لگا مثلاً السابقون السابقون (56:10) اور آگے نکل جانے والے ہی اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں۔
سابق سے یہاں مراد وہ شخص ہے جو اعمال صالحہ کے ذریعہ ثواب الٰہی اور جنت کی طرف پیش پیش جانے والا ہو۔ سابق بالخیرات (وہ شخص یا اشخاص) جو نیکیوں میں بڑھے چلے جاتے ہیں۔
جملہ ہر سہ اقسام ظالم لنفسہ، مقتصد، سابق بالخیرات، الذین اصطفینا من عبادنا میں سے ہیں جیسا کہ لفظ منہم جو ان تینوں کے ساتھ آیا ہے ظاہر کرتا ہے۔ ذلک۔ یعنی اپنے برگزیدہ بندوں کو قرآن مجید کا وارث بنادینا۔
Ayah 35:33(35:33) جنت عدن مضاف مضاف الیہ۔ رہنے بسنے کے باغات یعنی وہ جنتیں جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔ عدن بالمکان اس نے اس جگہ مقام کیا اور عدن سے مراد قامۃ علی وجہ الخلود ہے۔ یعنی دائمی طور پر رہنا بسنا۔ اور بعض عدن کو علم قرار دیتے ہیں اور اسے جنت میں ایک خاص مقام کا نام دیتے ہیں۔
جنت عدن۔ مبتدا ہے اور یدخلونھا اس کی خبر اس میں ضمیر جمع مذکر غائب الذین اصطفینا کی طرف راجع ہے یا ثلثۃ اقسام (ظالم لنفسہ، متقصد سابق بالخیرات) کی طرف راجع ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنت کی طرف راجع ہے۔
یحلون فیھا یہ جنت کی خبر ثانی ہے۔ یحلون مضارع مجہول جمع مذکر غائب (ضمیر جمع بمطابق یدخلون) تحیلۃ (تفعیل) مصدر، وہ زیور پہنائے جائیں گے۔ حلیۃ زیور۔
اساور۔ سوار کی جمع۔ کنگن، پہنچیاں ۔ یہ دستوار فارسی سے معرب ہے ۔ اساور۔ بوجہ جمع وعجمہ غیر منصرف ہے۔ من تبعیضیہ ہے۔ اور من بیانیہ بھی ہوسکتا ہے۔
لؤ لؤا۔ اس کی جمع لالی ہے موتی۔ اس کا عطف من اساور پر ہے۔ ای ویحلون فیھا لؤلؤا۔ اور ان کو وہاں موتی پہنائے جائیں گے۔ حریر۔ اسم ہے۔ ریشمی کپڑا۔ ہر ایک باریک کپڑے کو حریر کہا جاتا ہے۔
Ayah 35:34(35:34) اذھب عنا۔ ماضی واحد مذکر غائب اذھاب (افعال) مصدر اذھب عن ہٹانا۔ دور کرنا۔ اس نے ہم سے غم و اندوہ کو دور کردیا۔ الحزن۔ خوف الذنوب والسیئات وخوف رد الطاعات۔ گناہوں اور خطائوں کا ڈر۔ عبادتوں کے مسترد ہونے کا اندیشہ۔
Ayah 35:35(35:35) احلنا۔ ماضی واحد مذکر غائب احلال (افعال) مصدر بمعنی اتارنا فروکش کرنا۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ اس نے ہمیں لا اتارا۔ اس نے ہمیں بسایا اس نے ہمیں فروکش کیا۔
دار المقامۃ۔ مضاف مضاف الیہ ای دار الاقامۃ۔ ٹھہرنے کی جگہ قیام کرنے کی جگہ۔ مقامۃ مصدر میمی سے۔
لا یمسنا۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب نا ضمیر مفعول جمع متکلم ہمیں نہیں چھوئے گی۔ نصب۔ اسم۔ تھکان۔ مشقت، کوفت، تھکاوٹ۔ لغوب۔ مصدر واسم مصدر تھکان، تھکاوٹ سے بدن میں جو اضمحلال اور ذہن میں جو پژمردگی پائی جاتی ہے وہ لغوب ہے مثل ہے اتانا ساغیا لاغبا وہ ہمارے پاس بھوکا اور ماندہ (تھکا ہارا) آیا۔
Ayah 35:36(35:36) لا یقضی علیہم مضارع نفی مجہول واحد مذکر غائب قضاء سے۔ یقضی علی (اس کا کام تمام کیا جائے گا) وہ مرجائے گا۔ لا یقضی علیہم۔ ان کا کام تمام نہ کیا جائے گا۔ ان کی قضا نہیں آئے گی۔ ان کو موت نہ آئے گی۔ وہ نہ مریں گے۔ قضی علیہ مرجانا۔ جیسے قضی اجلہ وہ مرگیا۔ لا یقضی علیہم۔ ان کی قضا نہیں آئے گی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ (28:15) حضرت موسیٰ نے اس کو مکا مارا اور اس کا کام تمام کردیا۔
فیموتوا۔ میں فاء ناصبہ ہے جو کہ مضارع پر بہ تقدیر ان داخل ہوا کرتی ہے۔ یموتوا مضارع منصوب جمع مذکر غائب موت مصدر (باب نصر) کہ وہ مرجائیں ۔
کل کفور۔ کل لفظا واحد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے اس لئے اس کا استعمال دونوں طرح آتا ہے، مذکر اور مؤنث میں بھی برابر استعمال ہوتا ہے۔ کل ہمیشہ مضاف مستعمل ہے اگر مضاف الیہ مذکور نہ ہو تو محذوف مانا جائے گا۔ کفور صفت مشبہ کا صیغہ مجرور مضاف الیہ۔ کل کفور ہر ایک ناشکر گزار۔ ہر کافر شخص۔
Ayahs 35:37–39(35:37) یصطرخون۔ مضارع جمع مذکر غائب اصطراخ (افتعال) مصدر افتعال کی تا کو طا سے بدلا گیا ہے وہ چیخیں گے ۔ وہ چلائیں گے ۔ وہ فریاد کریں گے۔ اور جگہ قرآن مجید ہے فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ (28:18) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی پھر ان کو پکار رہا ہے۔ اور وان نشا نغرقہم فلا صریخ لہم (36:43) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پس ان کا کوئی فریادرس نہ ہو۔
نعمل مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) جمع متکلم۔ ہم نیک کام کریں گے۔ غیر الذی کنا نعمل برخلاف ان کاموں کے جو ہم کیا کرتے تھے۔
اولم نعمرکم۔۔ جواب من جھتہ تعالیٰ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملے گا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے وائو عاطفہ ہے جس کو ہمزہ استفہام کے بعد لایا گیا ہے ۔ لم نعمر مضارع نفی حجد بلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کیا ہم نے تم کو اتنی لمبی عمر نہ دی تھی۔
ما یتذکر فیہ۔۔ میں ما موصوفہ ہے ای اولم نعمرکم عمرا یتذکر فیہ یا ما موصولہ ہے ای اولم نعمرکم الذی یتذکر فیہ۔
یتذکر مضارع واحد مذکر غائب تذکر (تفعل) مصدر۔ وہ نصیحت پکڑ تا ہے وہ نصیحت حاصل کرتا ہے (یعنی وہ اس لمبی عمر میں نصیحت حاصل کرلیتا) ۔ اس میں ضمیر فاعل کا مرجع من (اسم موصول) ہے جو آگے آرہا ہے فیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب عمر کی طرف راجع ہے۔ تذکر ماضی واحد مذکر غائب اس نے نصیحت پکڑی۔
وجاء کم النذیر۔ النذیر سے مراد رسول کریم ﷺ ہیں۔ ابو حبان کے نزدیک النذیر سے مراد جنس النذیر ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) کیونکہ ہر نبی اپنی امت کے لئے نذیر ہے۔ اور تمہارے پاس ڈرانے والے بھی آگئے تھے۔
اس جملہ کا عطف اولم نعمرکم پر ہے۔ اور جواب کا دوسرا جزو ہے ۔ یعنی تمہیں لمبی عمر عطا کی اور پھر تمہیں سمجھانے کے لئے ڈرانے والے بھی بھیجے۔
فذوقوا میں فا ترتیب کا ہے۔ ذوقوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ذوق مصدر (باب نصر) تم چکھو۔ فما۔ میں فاء تعلیل کا ہے اور ما نافیہ ہے۔ الظالمین سے مراد کفار ہیں ۔ منکرین توحید و رسالت رسل۔
Ayah 35:40(35:40) قل ای قل یا محمد ﷺ ۔
ارایتم۔ میں ہمزہ استفہام کا ہے رایتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے کیا تم نے دیکھا ؟ کیا تم دیکھتے ہو۔ الاتقان میں ہے جب ہمزہ استفہام ” رایت “ پر داخل ہوتا ہے تو اس حالت میں رؤیت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہوتا ہے اور اس کے معنی اخبرونی (مجھ کو خبر دو ) کے ہوتے ہیں۔ لیکن اردو محاورہ میں لفظی معنی تقریبا وہی رکھتے ہیں جو اخبرونی کے ہیں۔
شرکائکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے شریک۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے (یعنی ذرا اپنے ان شریکوں کے متعلق تو بتائو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو) شرکاء سے مراد بت ہیں۔
ارونی۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم اراء ۃ (افعال) مصدر تم مجھے دکھائو۔ تم مجھے بتائو۔
ام لہم شرک۔ ام بمعنی یا۔ ای ام لہم شرکۃ مع اللہ عزوجل فی خلق السموت (پہلے آیا تھا : مجھے بتائو تو سہی۔ انہوں نے زمین میں سے کوئی ٹکڑا تخلیق کیا ہے ؟ ) یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کوئی ساجھا ہے۔
ام اتیناہم کتبا فہم علی بینۃ منہ۔ یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے کہ اس کی کسی روشن دلیل پر یہ قائم ہیں۔ بینۃ۔ کھلی دلیل۔ واضح دلیل۔ منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع کتبا ہے۔
بیضاوی میں ہے یجوز ان یکون ہم للمشرکین کقولہ ام انزلنا علیہم سلطنا (30:35) کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے یعنی ہم ضمیر کا مرجع مشرکین بھی ہوسکتے ہیں۔
بل ان یعد الظلمون بعضہم بعضا الا غرورا۔ بل حرف اضراب ہے ۔ حرف اضراب لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے قبل کا ابطال منظور ہے اور اس کے مابعد کی تصحیح مقصود ہے۔ یعنی
(1) نہ تو انہوں نے (جنہوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک گردان کر پوجا گیا) زمین کا کوئی حصہ تخلیق کیا ہے۔
(2) نہ آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کوئی ساجھا ہے اور
(3) نہ کوئی ایسی کتاب دی گئی ہے جس میں ان کی (یعنی معبودان باطل کی ) شرکت کی کوئی سند مل سکے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ (یعنی مشرکین) ایک دوسرے سے نرے دھوکہ کی باتوں کا وعدہ کرتے آئے ہیں۔ یعنی ان کے اسلاف اپنے اخلاف کو یا ان کے رئو سا اپنے پیروکاروں کو بےبنیاد دھوکہ دیتے چلے آئے ہیں کہ یہ بت اللہ کے ہاں ان کی شفاعت یا سفارش کریں گے۔
ان یعد میں ان نافیہ ہے یعد مضارع واحد مذکر غائب وعد مصدر (باب ضرب) ضمیر فاعل الظلمون (جمع مذکر غائب) کی طرف راجع ہے بعضہم بعضا بعض بعض سے یعنی ایک دوسرے سے۔ غرورا مصدر منصوب دھوکہ دینا۔ باطل کی طرف رغبت دلانا۔