Ayah 35:1اللہ تعالیٰ خالق ارض و سما ہے ہر چیز پر قادر ہے، اس کے سوا کوئی پیدا کرنے والا نہیں اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں
یہاں سے سورة فاطر شروع ہو رہی ہے جس کا دوسرا نام سورة الملائکہ بھی ہے۔ سورة الفاتحہ سورة الکہف اور سورة سباء کی طرح یہ سورت بھی اللہ تعالیٰ کی تعریف سے شروع ہے، فرمایا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے، اس کی مخلوق میں فرشتے بھی ہیں ان فرشتوں کو بھی اس نے پیدا فرمایا اور کاموں پر مقرر فرمایا، ان کاموں میں سے ایک یہ کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اور اس کے نبیوں کے درمیان پیغام رسانی کا کام کرتے رہے ہیں، ان کی تخلیق بھی دوسری مخلوق سے علیحدہ ہے، ان کے جو بازو ہیں وہ دو دو بھی ہیں تین تین بھی ہیں اور چار چار بھی، فرشتے ان بازوؤں کے ساتھ جاتے اور آتے ہیں، چڑھتے اور اترتے ہیں۔ اور صرف چار بازوؤں پر ہی منحصر نہیں ہے اس سے زیادہ بازوؤں کا بھی صحیح بخاری میں ذکر ہے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دو بار اصلی صورت میں دیکھا جن کے چھ سو بازو تھے۔
(یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ ) (اللہ تعالیٰ پیدائش میں جو چاہے زیادہ فرما دیتا ہے) اور یہ زیادتی کمیت اور کیفیت دونوں میں ہوتی ہے، مخلوق میں جو کمی بیشی نظر آتی ہے اجسام میں بھی ہے اور اوصاف میں بھی، یہ سب محض اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے ہے۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
Ayah 35:2اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان رحمت کو بیان فرمایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو بھی کوئی رحمت کھول دے یعنی لوگوں پر رحم فرمائے اس رحمت کو کوئی روکنے والا نہیں جس شخص پر بھی جس طرح کی نعمت اللہ تعالیٰ بھیجنا چاہے اسے اس پر پوری پوری قدرت ہے، کسی بھی مخلوق کی مجال نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو روک دے، بعض چھوٹے درجہ کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے وہ بڑھتے اور ترقی کرتے چلے جاتے ہیں جلنے والے ان سے جلتے ہیں، حسد کرنے والے ان سے حسد کرتے ہیں لیکن کچھ کر نہیں سکتے، اللہ تعالیٰ کی رحمت برابر جاری رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو جس سے روک لے کسی میں طاقت نہیں کہ اس کو جاری کر دے، وہ غالب ہے جس کو چاہے دے جس سے جو چاہے چھین لے، وہ غالب بھی ہے اور حکیم بھی ہے جس کو جو کچھ وہ دیتا ہے اور جس سے واپس لیتا ہے یہ سب کچھ حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔
Ayah 35:3پھر فرمایا کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اور جو نعمتیں دی ہیں ان کو یاد کرو، نعمتوں کو یاد کرنے میں ان کا شکر ادا کرنا بھی شامل ہے، جب نعمتوں کو یاد کریں گے اور غور کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فلاں فلاں نعمتیں دی ہیں، جان بھی دی اولاد بھی عنایت فرمائی، مال بھی دیا اور حسن و جمال بھی، علمی و عملی کمال بھی، اور جاہ و اقتدار بھی، تو اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی طرف طبیعت چلے گی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف ذہن، دل اور دماغ متوجہ ہوگا۔
یہ بھی فرمایا کہ تم غور کرلو کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور پیدا کرنے والا ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہو، غور کرو گے تو سمجھ میں آجائے گا اور یقینی طور پر یہ بات دل میں بیٹھ جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی پیدا کرنے والا نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو، اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے بارش برساتا ہے۔ اور زمین میں اس نے غلے میوے اور کھانے پینے کی بہت سی چیزیں پیدا فرمائی ہیں، یہ سب چیزیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جب اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو کہ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنا رکھا ہے۔
اثبات توحید کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی کہ آپ کے مخالفین آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ رنجیدہ نہ ہوں، آپ نے اپنا کام پورا کرلیا حجت تمام کردی، آپ سے پہلے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا گیا انہوں نے صبر کیا آپ بھی صبر کیجیے سب امور اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہوں گے اور کافرین و منکرین کو عذاب دے گا۔
Ayahs 35:4–7اس کے بعد توحید اور رسالت کے منکرین سے خطاب فرمایا کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور ایمان اور کفر کا بدلہ دیا جائے گا یہ وعدہ حق ہے اور پورا ہو کر رہے گا، تمہیں دنیا والی زندگی دھوکہ میں نہ ڈالے (جس کا ہرا بھرا ہونا تمہیں اپنی طرف کھینچتا ہے اور آخرت کے ماننے سے اور آخرت میں نفع دینے والے کاموں سے روکتا ہے) ایک طرف تو دنیا کی سرسبزی ہے دوسری طرف شیطان تمہارے پیچھے لگا ہوا ہے اس سے چوکنے اور ہوشیار رہو، وہ تمہارا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھو، وہ تمہیں دھوکہ نہ دے، اس کے دھوکہ دینے کے جتنے طریقے ہیں ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دھوکہ دیتا ہے اور یہ سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے، ابھی تو بہت بڑی زندگی پڑی ہے رنگ رلیوں میں رہو اور بدمستیاں کرو، آخر میں توبہ کرلینا، حالانکہ بندہ کو یہ معلوم نہیں کہ کتنی زندگی باقی ہے، موت اچانک آجاتی ہے اور بغیر ایمان کے اور بغیر توبہ کے مرجاتے ہیں، شیطان دشمن ہے اگر ہم نے اس کی بات مانی تو وہ پٹک دے گا، دشمن کو دشمن ہی سمجھتے رہیں، وہ ہر وقت دشمنی میں لگا ہوا ہے، اپنی جماعت کو دوزخ ہی کی طرف بلاتا ہے اور اپنا بناتا ہے لہٰذا انسانوں کو بہت ہی بیدار مغزی کے ساتھ زندگی گزارنا لازم ہے۔
اس کے بعد اہل کفر کا عذاب اور اہل ایمان کا ثواب بیان فرمایا، ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ میں مشغول ہوئے ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے۔
Ayah 35:8برے عمل کو اچھا سمجھنے والا اچھے عمل والے کے برابر نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ سب کے اعمال کو جانتا ہے
یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے، پہلی آیت میں یہ بتایا کہ بہت سے لوگ برے عمل کرتے ہیں کفر اختیار کیے ہوئے ہیں اور شیطان نے اور ان کے ماحول نے اور ان کے نفوس نے کفر ہی کو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہی کو ان کے سامنے اچھا کرکے پیش کیا ہے جس کی وجہ سے کفر کو اور برے اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں اور ایمان سے اور اعمال صالحہ سے بچتے ہیں اور ان کو قبیح جانتے ہیں، ارشاد فرمایا ایسا شخص جس کے لیے برے اعمال کو مزین بنا دیا گیا ہو اور اس نے برے اعمال ہی کو اچھا سمجھ لیا ہو کیا یہ شخص اور وہ آدمی دونوں برابر ہوسکتے ہیں جو برے اعمال کو برا جانتا ہو اور اچھے اعمال کو اچھا سمجھ کر اپنی زندگی میں اختیار کیے ہوئے ہو۔ یہ استفہام انکاری ہے، مطلب یہ ہے کہ جس کے لیے برے اعمال کو اچھا بنا کر پیش کردیا گیا اور اس نے برے عمل کو اچھا سمجھ لیا یہ شخص اور اس کا مقابل وہ شخص جو برے اعمال کو برا اور اچھے اعمال کو اچھا سمجھتا ہو دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ (فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ) (پس اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ )
(فَلَا تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ حَسَرٰتٍ ) (سو ان پر حسرتیں کرنے کی وجہ سے آپ کی جان نہ جاتی رہے) رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی بڑی حرص تھی کہ ساری امت دعوت مسلمان ہوجائے لیکن مخاطبین کی طرف سے تکذیب تھی اور عناد تھا اور اس سے آپ کو رنج ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں پر افسوس کرکے آپ کی جان نہ جاتی رہے، جیسا کہ سورة الشعراء میں فرمایا : (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ) (کیا ایسا ہونے کو ہے کہ آپ اپنی جان کو اس وجہ سے ہلاک کردیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ )
پھر فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ کو ان کے کاموں کا خوب علم ہے) وہ اپنے علم و حکمت کے مطابق بدلہ دے گا۔
Ayah 35:9دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی شان رزاقیت بیان فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے یہ ہوائیں بادلوں کو ان کی جگہوں سے ہٹاتی ہیں، پھر ان بادلوں کو اللہ تعالیٰ مردہ یعنی خشک زمین کی طرف بھیج دیتا ہے وہ وہاں جاکر پانی برساتے ہیں جس سے خشک زمین زندہ ہوجاتی ہے، گھاس پھونس پیدا ہوتا ہے جو مویشیوں کے کام آتا ہے، انسان اپنی ضرورت کی پیداوار کے لیے زمین میں بیج ڈالے ہوئے ہوتے ہیں بارش ہونے سے کھیتیاں نکلتی ہیں اور بقدر ضرورت بلند ہوتی ہیں، چھوٹی بڑی بالیاں نکلتی ہیں جن میں دانے ہوتے ہیں، یہ دانے پکتے ہیں پھر کھیتی کاٹی جاتی ہے، بھوسہ اور دانہ الگ الگ کیا جاتا ہے، پھر دانوں کو پیس کر پکاتے ہیں اور کھاتے ہیں۔ آیت کے ختم پر جو (کَذٰلِکَ النُّشُوْرُ ) ہے اس میں ایک مزید فائدہ کی طرف اشارہ فرما دیا اور وہ یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو زندہ فرماتا ہے اسی طرح تم لوگ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں میں سے نکلو گے۔
Ayah 35:10ساری عزت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، کلمات طیبات اس کی طرف جاتے ہیں اسے بندوں کی عمروں میں کمی بیشی کا علم ہے
لوگ دنیا میں عزت چاہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ بڑے بن کر رہیں اور اس کے ذریعہ دنیاوی مصائب اور مشکلات سے بھی بچنا چاہتے ہیں، اس بارے میں غیر اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور مخلوق کو راضی کرنے کے لیے ایسے اعمال کرتے ہیں جن سے خالق کائنات جل شانہٗ راضی نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا ہے : (فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا) یعنی جسے عزت چاہیے تو وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے، وہ عزیز ہے اور ساری عزت اسی کے لیے ہے اپنی مخلوق میں جس کو چاہے عزت دے سکتا ہے اور جس کی عزت چاہے کم کرسکتا ہے اور ختم کرسکتا ہے، لہٰذا اللہ ہی کی فرمانبرداری کرے اور اسی سے سب کچھ مانگے۔
بعض حضرات نے لفظ (الْعِزَّۃَ ) کا ترجمہ (غَلَبَۃٌ) سے کیا ہے، یہ بھی درست ہے اور حقیقت میں اللہ ہی سب پر غالب ہے اور جسے چاہے غلبہ دے سکتا ہے۔ ایک مرتبہ منافقین رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں چلے گئے وہاں آپس میں کہنے لگے (لِءَنْ رَّجَعْنَآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّمِنْھَا الْاَذَلَّ ) (اگر ہم مدینہ واپس ہوگئے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال دے گا) مطلب یہ تھا کہ ہم پردیسی مہاجرین کو مدینہ سے نکال دیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلِلَّہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) (اور اللہ ہی کے لیے عزت ہے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنین کے لیے، اور لیکن منافقین نہیں جانتے) سورة النساء میں فرمایا ہے (بَشِّرِ الْمُتٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمَانِ الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اَیَیْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا) (منافقین کو خوشخبری سنا دیجیے اس امر کی کہ ان کے واسطے بڑی درد ناک سزا ہے جن کی حالت یہ ہے کہ کافروں کو دوست بناتے ہیں مسلمانوں کو چھوڑ کر، کیا ان کے پاس معزز رہنا چاہتے ہیں سو اعزاز تو سارا اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔ )
ان آیات میں ان سب لوگوں کو تنبیہ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو راضی کرنے کے لیے حکومت اور سیاست اور معیشت، خوراک، پوشاک، وضع قطع اور شکل و صورت میں کافروں کی مشابہت اور ان کے طور طریق اختیار کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے ہم باعزت سمجھے جائیں گے، حالانکہ عزت ایمان اور اعمال صالحہ میں ہے اور ساری عزت اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ جسے چاہے گا عزت دے گا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں کوئی عزت نہیں ہے، دنیا میں اگر کسی کافر، فاسق کو کوئی عزت حاصل ہے تو بےحقیقت ہے، اور ذرا سی ہے، اور ذرا سی دیر کے لیے ہے۔
پھر فرمایا : (اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ ) (اور اچھے کلمات اس کی طرف پہنچتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ ان کو قبول فرماتا ہے، اچھے کلمات کلمہ توحید اور تمام اذکار الٰہیہ کو شامل ہیں۔ (وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ ) (اور نیک عمل انہیں بلند کردیتا ہے) نیک عمل سے اعمال صالحہ ظاہرہ باطنہ مراد ہیں، تصدیق قلبی یعنی ایمان تو ہر عمل کے مقبول ہونے کی شرط ہی ہے دوسرے اعمال صالحہ کو بھی کلمات طیبات کی مقبولیت میں دخل ہے، اور جن لوگوں کے اعمال و اذکار عند اللہ مقبول ہوتے ہیں حقیقی عزت انہیں کو ملتی ہے۔
(وَ الَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ) (اور جو لوگ بری تدبیریں کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے) اس میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے تھے اور آپ کی دعوت کو روکنے کے لیے مشورے کرتے تھے، ایک مرتبہ وہ لوگ جمع ہو کر یہ مشورہ کرنے لگے کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ آپ کو قید کردیا جائے یا قتل کردیا جائے یا مکہ معظمہ سے نکال دیا جائے جسے سورة انفال کی آیت کریمہ (وَ اِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ ) میں بیان فرمایا ہے۔
(وَمَکْرُ اُولٰٓءِکَ ھُوَ یَبُوْرُ ) (اور ان لوگوں کی تدبیریں برباد ہوں گی) چناچہ ایسا ہی ہوا، آپ کے خلاف تدبیریں کرنے والے غزوۂ بدر میں مقتول ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مستقل یہ تکوینی قانون بنا دیا (وَلاَ یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّءُ الاَّ بِاَھْلِہٖ ) (اور بری تدبیروں کا وبال انہیں لوگوں پر پڑتا ہے جو ایسی تدبیریں کرتے ہیں) ہر صاحب عقل و فہم کو یہ نکتہ سمجھ لینا چاہیے۔
Ayah 35:11اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت بیان فرمائی (وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ) (اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا) یعنی ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا پھر اس میں روح پھونکی، ان کی تخلیق میں ان کی ساری اولاد کی تخلیق مضمر تھی اس لیے ان کی ساری اولاد کے بارے میں فرمایا کہ مٹی سے تمہاری پیدائش فرمائی، پھر چونکہ سلسلہ توالد و تناسل نطفہ کے ذریعہ ہوتا رہا اور ہوتا ہے، اس لیے (ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ) بھی فرمایا یعنی مٹی سے تمہاری تخلیق فرمائی اس کے بعد تمہاری پیدائش کا سلسلہ اس طرح جاری فرمایا کہ مرد کا نطفہ عورت کے رحم میں جاتا ہے پھر اس سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ (ثُمَّ جَعَلَکُمْ اَزْوَاجًا) (پھر تمہیں جوڑے بنا دیا) یعنی مرد بھی پیدا فرمائے اور عورتیں بھی، جو ایک دوسرے کی زوجیت میں آتے ہیں اور ان سے اولاد پیدا ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی صفت علم بیان فرمائی کہ (وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ ) جس کی عورت کو حمل قرار پا جاتا ہے اور جو بھی کوئی عورت بچہ جنتی ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِہٖٓ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ ) (اور جس کسی عمر والے کی عمر زیادہ کی جاتی ہے اور جس کی عمر کم کردی جاتی ہے وہ سب کتاب میں ہے) یعنی جس کسی کی عمر زیادہ مقرر کی گئی اور جس کی عمر دوسروں کے مقابلہ میں کم کی گئی، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ (اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ) (بلاشبہ یہ اللہ پر آسان ہے) یعنی لوح محفوظ میں انسانوں کی تخلیق سے پہلے ہی ان کی عمروں کی کمی بیشی لکھ دینا یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے کیونکہ اسے ازل سے ابد تک ہر چیز کا علم ہے۔
Ayah 35:12سمندر کے سفر کے فوائد اور چاند سورج کی تسخیر کا بیان، مشرکین کو تنبیہ کہ تمہارے معبود گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں
سمندر بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے بعض سمندر میٹھے پانی کے ہیں ان کا پانی پیؤ تو خوب میٹھا اور شیریں ہوتا ہے جو پیاس کو بجھاتا ہے اور اس کا پانی بھی آسانی کے ساتھ گلے میں اتر جاتا ہے اور بعض سمندر ایسے ہیں کہ ان کا پانی بہت زیادہ نمکین اور شور ہے وہ پیا ہی نہیں جاسکتا نہ گلے سے اترتا ہے نہ اس سے پیاس بجھتی ہے۔ بعض دریاؤں میں شیرینی اور مٹھاس اور بعض میں یہ نمکینی اور کڑوا پن سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے ہے، دونوں سمندر برابر نہیں اور میٹھے سمندر کا میٹھا پن اور کڑوے سمندر کا کڑوا پن محض اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے ہے، ان سمندروں سے انسانوں کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ان سے تازہ تازہ گوشت کھاتے ہیں یعنی مچھلیوں کا شکار کرتے ہیں پھر انہیں پکا کر اور تل کر کھاتے ہیں۔ بعض حضرات نے مچھلی کے ساتھ پرندوں کا بھی ذکر فرمایا ہے۔
دریاؤں کا ایک نفع یہ بتایا کہ تم ان میں سے زیور نکالتے ہو اور ان کو پہنتے ہو، اس سے موتی اور سیپی وغیرہ مراد ہے، ان کے پہننے اور استعمال کے طریقے مختلف علاقوں میں مختلف پائے جاتے ہیں۔
اس کے بعد کشتیوں کا تذکرہ فرمایا کہ اے مخاطب تو دیکھتا ہے سمندر میں کشتیاں چلتی ہیں جو پانی کو پھاڑتی ہوئی جاتی ہیں، ان کشتیوں کا چلنا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور بہت بڑی نعمت ہے، ان کے ذریعہ دور دراز ملکوں کے سفر ہوتے ہیں، ایک بر اعظم سے دوسرے براعظم تک مال پہنچایا جاتا ہے اور طرح طرح کے منافع حاصل ہوتے ہیں، جو اموال اور اثقال باہر سے کشتیوں سے لائے جاتے ہیں اس میں بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو کھانے پینے اور دیگر ضروریات میں استعمال ہوتی ہیں، اسی کو فرمایا کہ (لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ ) تاکہ تم اللہ کے فضل کو تلاش کرو۔ اور جب اس کی نعمتیں استعمال کرو تو اس کا شکر بھی ادا کرو آخر میں اسی کی یاد دہانی فرمائی (وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ )
Ayah 35:13پھر فرمایا اللہ دن میں رات کو اور رات میں دن کو داخل فرماتا ہے، کبھی یہ کم ہو کر وہ بڑھ جاتا ہے اور کبھی وہ کم ہوتا ہے تو یہ بڑھ جاتا ہے، اور چاند اور سورج کو بھی اس نے مسخر فرمایا ہے یعنی ہر ایک کو اس سے متعلقہ کام میں لگا دیا ہے، ان کی روزانہ کی جو حرکات مقرر فرمائی ہیں اور ان کے لیے جو مدار معین فرمایا ہے وہ اس کے خلاف نہیں چل سکتے۔
ان کی یہ رفتار (اَجَلٍ مُّسَمًّی) یعنی مقررہ مدت تک اسی طرح جاری رہے گی جس طرح اللہ نے مقرر فرما دی اور مقررہ مدت سے یوم قیامت مراد ہے۔
(ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ ) یہ ذات پاک جس کی مخلوقات اور مصنوعات کا اوپر تذکرہ ہوا یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، وہ تمہارا رب ہے اسی کے لیے ملک ہے۔ (وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ ) اور جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے
Ayah 35:14(اِنْ تَدْعُوْھُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَ کُمْ ) (جن لوگوں کی اللہ تعالیٰ کے علاوہ تم عبادت کرتے ہو ان کی بےبسی اور عاجزی کا یہ حال ہے کہ اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار سن بھی نہ سکیں گے) (وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ ) (اور اگر بالفرض تمہاری بات سن بھی لیں تو تمہاری بات نہ مانیں) یعنی تمہاری پکار تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی، نہ جواب میں ہاں کہیں نہ اسی وقت کوئی مدد کرسکیں نہ بعد میں (یہ تو رہی دنیا کی حالت اور) رہا آخرت کا معاملہ سو سمجھ لو کہ تم نے جو ان کی مدد کا خیال جما رکھا ہے یہ خیال غلط ہے، وہ تو وہاں تم سے بیزار ہوجائیں گے اور تم جو انہیں اللہ کا شریک بناتے ہو اس کے وہ منکر ہوجائیں گے۔ اسی کو یہاں فرمایا (وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ ) (اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک سے منکر ہوجائیں گے۔ ) سورة النحل میں فرمایا ہے (وَاِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا شُرَکَآءَ ھُمْ قَالُوْا رَبَّنَا ھآؤُلَآءِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیْنَ کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ فَاَلْقَوْا اِلَیْھِمُ الْقَوْلَ اِنَّکُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) (اور جب مشرک لوگ اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! یہ ہمارے شریک ہیں، آپ کو چھوڑ کر ہم ان کی پوجا کرتے ہیں سو وہ ان کی طرف کلام کو متوجہ کریں گے کہ تم جھوٹے ہو۔ )
(وَلَا یُنَبِّءُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ ) (اور اے مخاطب تجھے خبر رکھنے والے کے برابر کوئی نہیں بتائے گا) علیم وخبیر جل مجدہٗ نے تجھے بتایا ہے جسے سب کچھ علم ہے اس نے جو کچھ بتایا ہے اس کو مان لے اسی میں تیرا بھلا ہے۔
Ayahs 35:15–26سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے
یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔
اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے متصف ہے۔
ثانیاً یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو پورا پورا اختیار ہے کہ وہ تمہیں باقی رکھے زندہ رہنے دے، اور اگر چاہے تو تمہیں بالکل نیست و نابود کردے، تمہیں پیدا فرمانے کے بعد اس کی قدرت اور صفت خالقیت اسی طرح باقی ہے جیسے پہلے تھی وہ تمہیں ختم فرما کر دوسری مخلوق پیدا فرمانے پر اور اس دنیا میں بسانے پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے، تمہیں ختم کرنا اور دوسری مخلوق پیدا کرنا اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں۔
ثالثاً یہ فرمایا کہ ہر ایک کو اپنا اپنا بوجھ اٹھانا ہے، قیامت کے دن کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی، وہاں بڑے بڑے بوجھل انسان حاضر ہوں گے، گناہوں سے لدے ہوئے ہوں گے، اگر کوئی شخص کسی سے یوں کہے کہ آ میرا کچھ بوجھ اٹھا لے تو اس کا ذرا سا بوجھ بھی کوئی نہ اٹھائے گا، اگر کوئی شخص اپنے کسی قریبی رشتہ دار سے کہے گا کہ تم میرے بوجھ میں شریک ہوجاؤ تو وہ بھی صاف انکار کردے گا۔ سورة عبس میں فرمایا (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہِ وَاَبِیہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ یَوْمَءِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ) (جس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے، ان میں سے ہر شخص کا حال جدا ہوگا جو دوسرے سے بےنیاز کردے گا۔ )
رابعاً یہ فرمایا کہ آپ انہی لوگوں کو ڈراتے رہیں جو اپنے رب سے ڈراتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، یعنی جو اہل ایمان ہیں اور ایمان کی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں وہی آپ کے ڈرانے سے منتفع ہوتے ہیں، ڈراتے تو آپ سب ہی کو ہیں لیکن ڈرانے کا فائدہ انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر ہے اور جو نماز میں لگے رہتے ہیں، ساری ہی عبادت اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے ادا کی جاتی ہے لیکن چونکہ نماز میں بہت سی خصوصیات ہیں جو صرف خوف و خشیت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اس لیے نماز کا خصوصی تذکرہ فرمایا۔
خامساً یہ فرمایا کہ پاکیزہ ہونا، گناہوں سے بچ کر رہنا، ظاہری باطنی عیوب سے محفوظ رہنا، اس میں کوئی شخص کسی پر احسان نہ دھرے، جو شخص پاکیزہ ہوگا وہ اپنی ہی جان کے لیے پاکیزگی اختیار کرے گا یعنی اس کا صلہ پائے گا، اور سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنا ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملنا ہے۔
سادساً یہ فرمایا کہ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں۔ (یہاں اندھے سے مراد کافر اور دیکھنے والے سے مومن مراد ہے) اور اندھیریاں اور روشنی برابر نہیں یعنی حق اور باطل برابر نہیں ہوسکتے اور سایہ اور گرمی برابر نہیں یعنی ثواب و عقاب برابر نہیں ہوسکتے۔ (اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے جنت اور دوزخ مراد ہیں) نیز یہ بھی فرمایا کہ زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوسکتے (زندوں سے اہل ایمان اور مردوں سے کافر مراد ہیں) اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر دوزخ میں ہوں گے۔
اس کے بعد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ جس کو چاہے سنا دے، یعنی ہدایت کی بات سنا کر سننے والے کے لیے سبب ہدایت بنا دیتا ہے۔
پھر فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں ہیں آپ انہیں نہیں سنا سکتے یعنی جنہیں کفر پر اصرار ہے انہوں نے اپنا حال ایسا بنالیا ہے جیسے قبروں میں ہیں، قبروں میں جو لوگ چلے گئے آپ انہیں نہیں سنا سکتے اور یہ لوگ بھی آپ کی باتیں سن کر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
سماع موتی کے بارے میں ضروری تحقیق سورة نمل (رکوع نمبر : 6) میں گزر چکی ہے، حقیقی سنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، وہ جب چاہے جس کو چاہے سنائے اس میں کوئی اشکال ہی نہیں۔
سابعاً یہ فرمایا کہ ہم نے آپ کو حق دے کر بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، اور یہ بھی فرمایا کہ جتنی بھی امتیں گزری ہیں ان میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور گزرا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون رہا ہے کہ بستیوں میں پیغامبر بھیجے جو حق پہنچانے والے ہوتے تھے۔ وہ خوب اچھی طرح واضح طور پر حق اور ناحق بتا دیتے تھے، توحید کی دعوت دیتے تھے اور شرک سے روکتے تھے، جب لوگ سرکشی پر اتر آتے تو انہیں عذاب میں مبتلا کردیا جاتا تھا۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا) (اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں) اور سورة القصص میں فرمایا ہے، (وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَاوَمَا کُنَّا مُھْلِکِی الْقُرآی اِلَّا وَ اَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَ ) (اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک کہ ان کے صدر مقام میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج دے، اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں۔ )
لہٰذا جتنی بھی امتیں گزری ہیں ان سب میں ڈرانے والا ضرور پہنچا اس نے تبلیغ کی اور حق کی دعوت دی، ضروری نہیں ہے کہ جو مبلغ اور داعی پہنچا ہو وہ نبی ہی ہو، حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے جو اپنے نمائندے اور قاصد بھیجے آیت کا مفہوم ان کو بھی شامل ہے، یہاں اتنی بات سمجھ لینا چاہیے کہ اس قت دنیا میں جو قومیں مذہبی کہلاتی ہیں وہ کسی ایک شخص کی طرف اپنی نسبت کرتی ہیں ان میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت و رسالت تو قرآن مجید سے ثابت ہے، ان کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا فرض ہے البتہ ان حضرات کی شریعت منسوخ ہے، اور ہر فرد و بشر پر فرض ہے کہ حضور خاتم النبیین ﷺ پر ایمان لائے، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے علاوہ جو دوسری مذہبی قومیں اپنے جن اکابر کی طرف منسوب ہیں ان کے بارے میں یہ یقین کرلینا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اور اس بارے میں الفاظ (وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ) سے استدلال کرنا صحیح نہیں کیونکہ قرآن کریم میں ان کا نام نہیں لیا گیا اور کسی سند کے ساتھ ان لوگوں کا نبی و رسول ہونا ثابت نہیں ہے، کسی کو متعین کرکے نبی و رسول ماننے کے لیے دلیل شرعی کی ضرورت ہے جو یہاں مفقود ہے، ان لوگوں کی صحیح تاریخ بھی معلوم نہیں ہے اور ان کے جو قصے مشہور ہیں ان کے پیش نظر یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ نبی نہیں ہوسکتے، بلکہ ان میں سے بعض کی تصویریں اور مورتیاں جو ان کے ماننے والوں میں رواج پائے ہوئے ہیں وہ تو ننگی تصویریں ہیں، اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی ننگا نہیں ہوسکتا، خوب سمجھ لیا جائے۔
ثامناً یہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں تو یہ کوئی تعجب کرنے اور رنجیدہ ہونے کی بات نہیں ہے کیونکہ آپ سے پہلے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) آچکے ہیں ان کی امتوں نے انہیں جھٹلایا حالانکہ وہ حضرات ان کے پاس کھلی کھلی دلیلیں لے کر پہنچے، صحیفے لے کر آئے، بڑی کتابیں بھی لائے جیسے تورات، انجیل وغیرہ، لیکن جنہیں ماننا نہ تھا انہوں نے نہ مانا، اگر یہ لوگ آپ پر ایمان نہیں لاتے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
تاسعًا یہ فرمایا کہ میں نے کافروں کو پکڑ لیا یعنی ان کو عذاب دے دیا۔ اور مزید فرمایا (فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ ) کہ غور کرلو میرا عذاب کیسا تھا۔ اس میں مخاطبین کو تنبیہ ہے کہ پہلی امتوں پر تکذیب کی وجہ سے عذاب آتا رہا ہے، یہ عذاب عبرتناک تھا، اس کے بارے میں ان مخاطبیین کو کچھ نہ کچھ علم بھی ہے لہٰذا عبرت حاصل کریں اور غور کریں کہ ان کا کیا انجام ہوا اور یہ کہ یہی انجام ہمارا بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 35:27بارش کے منافع، نیک بندوں کی صفات اور ان کا اجر و ثواب
یہ متعدد آیات ہیں، پہلی دو آیتوں میں بعض علوی اور بعض سفلی انعامات کا تذکرہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ شانہٗ کی قدرت قاہرہ پر دلالت کرتے ہیں۔
اول تو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا، اس پانی کے جہاں بہت سے فائدے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے درخت نکال دئیے، پھر ان درختوں پر پھل لگا دئیے، ان پھلوں کے اقسام بھی بہت ہیں اور الوان یعنی رنگ بھی، مزے بھی مختلف ہیں اور ہر قسم میں مختلف قسمیں ہیں۔
اور دوسری بات یہ بتائی کہ پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں، ان کے رنگ بھی مختلف ہیں بعض سفید ہیں اور بعض بالکل سیاہ ہیں پہاڑوں سے بنی آدم کو مختلف قسم کے منافع حاصل ہوتے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے (جُدَدٌ) کی تفسیر معلوم کی گئی تو فرمایا کہ اس سے پہاڑوں کے راستے مراد ہیں، بنی آدم پہاڑوں پر چڑھتے ہیں، ان کے راستوں میں سفر کرتے ہیں، منافع حاصل کرتے ہیں۔ غرابیب جمع ہے غربیب کی، جو بہت زیادہ سیاہ ہو عربی میں اسے (غِرْبِیْب) کہا جاتا ہے، اور (سُوْدٌ) (اَسْوَدُ ) کی جمع ہے جو سیاہ کے معنی میں آتا ہے، دونوں لفظوں کو ملا کر مبالغہ کا معنی پیدا ہوجاتا ہے، اسی لیے اوپر گہرے سیاہ رنگ والے کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ (قال صاحب الرُّوح وکثر فی کلامھم اتباع للاسود علی انہ صفۃ لہ اوتاکید لفظی فقالا اسود غربیب کما قالوا بیض یفق واصفر فاقع واحمرقانٍ ) (تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں عرب کے کلام میں الاسود کے ساتھ غربیب کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے اس طرح کہ غربیب اسود کی صفت بنتا ہے یا تاکید لفظی چناچہ کہتے ہیں اسود غربیب جیسا کہ کہا جاتا ہے ” بیض یفق “ بہت ہی سفید اور ” اصفر فاقع “ زرد خالص اور ” احمرقان “ بہت ہی سرخ۔ )
بارش اور پھلوں اور پہاڑوں کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ انسانوں میں اور چوپایوں میں اور جانوروں میں بھی مختلف اقسام کی چیزیں ہیں، ان کی اقسام بھی مختلف ہیں اور انواع بھی اور رنگتیں بھی، اس سب میں اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کا مظاہرہ بھی ہے اور انسانوں پر انعامات بھی ہیں، انسان جانوروں سے اور جانور انسانوں سے مستفید اور متمتع ہوتے ہیں۔
Ayah 35:28(اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمآؤُا) (اللہ سے علم والے ہی ڈرتے ہیں) جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہے خواہ علم الآفاق ہو خواہ علم الانفس، خواہ علم المصنوعات ہو خواہ علم الکتاب، یہی لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں کیونکہ علم ذریعہ معرفت ہے، جسے جتنی معرفت حاصل ہوگی اسی قدر اپنے خالق ومالک سے ڈرے گا اور معاصی سے باز رہے گا ہاں اگر کوئی شخص علم ہوتے ہوئے بھی اپنے نفس کا اتباع کرے تو وہ گمراہ ہی رہے گا، کما قال اللہ تعالیٰ (اَفَرَءَ یْتَ مِنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوٰہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ )
رسول اللہ ﷺ سب سے بڑے عالم بھی تھے اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بھی تھے، آپ نے فرمایا (اما واللّٰہ انی لأخشاکم للّٰہ واتقاکم لہ) (رواہ البخاری ج 2: ص 707 و مسلم ج 1: ص 449) (خبردار ! اللہ کی قسم میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔ )
آیت کے آخر میں فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ) (بلاشبہ اللہ عزت والا ہے خوب بخشنے والا ہے۔ )
Ayahs 35:29–30اس کے بعد نیک بندوں کی تعریف فرمائی اور ان کے اجر وثواب کا تذکرہ فرمایا کہ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور پوشیدہ اور ظاہری طور پر ہمارے دئیے ہوئے مال سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی بھی ہلاک نہ ہوگی، ان کی عبادتوں کے اجور اللہ تعالیٰ انہیں پورے پورے عطا فرمائے گا، (جانی عبادتیں ہوں یا مالی) اور انہیں اپنے فضل سے مزید عطا فرمائے گا، وہ بہت بخشنے والا بھی ہے، کمی کوتاہی کو معاف فرما دے گا اور وہ بڑا قدردان بھی ہے ہر نیکی کا اجر کم از کم دس گنا کرکے عطا فرمائے گا، اسی تجارت میں لگنے میں نفع عظیم ہے جس کے تباہ ہونے کا خطرہ نہیں اور نقصان کا اندیشہ نہیں۔
Ayah 35:31اس کے بعد قرآن مجید کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے جو کچھ آپ کو وحی بھیجی ہے وہ حق ہے، ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئی تھیں، بلاشبہ اللہ اپنے بندوں کی پوری طرح خبر رکھنے والا ہے پوری طرح دیکھنے والا ہے۔
Ayahs 35:32–33اس کے بعد ان بندوں کا تذکرہ فرمایا جنہیں اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی، ان کے بارے میں لفظ (اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا) فرمایا جس میں یہ بتادیا کہ جسے اللہ تعالیٰ کی کتاب مل گئی وہ اللہ کا برگزیدہ بندہ ہے، (خواہ عمل کے اعتبار سے اس نے اپنی حیثیت گرا رکھی ہو)
حدیث شریف میں ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حفظ قرآن کی نعمت عطا فرما دی پھر اس نے کسی شخص کے بارے میں یہ خیال کیا کہ اسے مجھ سے افضل چیز عطا کی گئی ہے تو اس نے سب سے بڑی نعمت کو حقیر جانا۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ج 6: ص 75)
پھر ان کی تین قسمیں بتائیں کہ ان میں بعض وہ ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں یعنی گناہوں میں مشغول رہتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو متوسط درجہ کے لوگ ہیں، اور بعض وہ ہیں جو باذن اللہ نیکیوں میں آگے بڑھے ہوئے ہیں، یہ وہ حضرات ہیں جو گناہوں سے بھی بچتے ہیں اور فرائض وواجبات کے علاوہ دوسرے نیک کاموں کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔
(ذٰلِکَ ھُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیْرُ ) (یہ اللہ کا بڑا فضل ہے) معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عطا فرمائی ہے ان میں جو لوگ گنہگار ہیں ان کا بھی اکرام کرنا چاہیے، ان کے گناہوں پر نظر نہ کریں بلکہ اللہ کے فضل کو دیکھیں اس نے انہیں اپنی کتاب دے کر فضل کبیر سے نوازا ہے۔
سنن ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تینوں قسم کے لوگ ایک ہی مرتبہ میں ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے نوازے ہوئے ہیں اور یہ سب جنت میں ہوں گے۔ (راجع تفسیر سورة فاطر من سنن الترمذی)
حضرت عمر ؓ نے آیت بالا منبر پر پڑھی اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا (سابقنا سابق مقتصدنا ناج وظالمنا مغفور لہ) یعنی ہم میں جو آگے بڑھنے والے ہیں وہ (اجر وثواب اور رفع درجات میں) آگے بڑھنے والے ہیں اور جو متوسط طبقہ کے ہیں وہ نجات پانے والے ہیں اور جو ظالم ہیں ان کی مغفرت ہوجائے گی۔
اور حضرت ابو الدرداء ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور یوں فرمایا کہ جو سابق بالخیرات ہوگا وہ بلا حساب جنت میں داخل ہوگا اور جو متوسط درجہ کے ہوں گے، ان سے ہلکا حساب لیا جائے گا، اور جو اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہوں گے انہیں حساب کے مقام پر روک لیا جائے گا یہاں تک کہ انہیں رنج لاحق ہوجائے گا پھر جنت میں داخل کردئیے جائیں گے، اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی (وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ) (راجع للحدیثین معالم التنزیل ج 3: ص 571)
ظالم اور مقتصد اور سابق بالخیرات کی تعیین اور تشریح میں متعدد اقوال ہیں جو روح المعانی و معالم التنزیل میں مذکور ہیں۔
اس کے بعد جنتیوں کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا کہ یہ لوگ ہمیشہ رہنے کے باغیچوں میں ہوں گے جن میں انہیں سونے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا لباس ریشم کا ہوگا۔ یہ مضمون سورة الحج (رکوع نمبر 3) میں بھی گزر چکا ہے، یہاں یہ اشکال نہ کیا جائے کہ زیور تو عورتوں پر اچھا لگتا ہے مردوں کو کیا زیب دے گا ؟ بات یہ ہے کہ ہر جگہ کا ایک مزاج اور رواج ہوتا ہے، اہل جنت کا یہ مزاج ہوگا کہ مرد بھی رغبت سے زیور پہنیں گے جیسا کہ دنیا میں بھی راجہ اور بادشاہ پہنتے رہے ہیں، شریعت اسلامیہ میں مردوں کو زیور پہننا منع ہے لیکن وہاں ان کے لیے حلال بھی ہوگا اور ان کو مرغوب بھی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کا انعام ہوگا، اسی طرح ریشم کو سمجھ لیا جائے کہ مردوں کے لیے اس کا لباس پہننا اس دنیا میں جائز نہیں ہے لیکن جنتی مردوں کو وہاں ریشم کا لباس عطا کیا جائے گا۔
متعدد صحابہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دنیا میں ریشم کا لباس پہنے گا آخرت میں ریشم کا لباس نہیں پہنے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 373 از بخاری و مسلم)
Ayah 35:34اس کے بعد اہل جنت کے شکر گزاری کے کلمات نقل فرمائے (وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ) (اور وہ لوگ کہیں گے کہ اللہ کے لیے سب تعریف ہے جس نے ہم سے غم کو دور فرما دیا) (اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ) (بلاشبہ ہمارا رب بہت بخشنے والا ہے) اس نے ہمارے گناہوں کو اور لغزشوں کو بخش دیا۔ (شَکُوْرٌ) (بڑا قدر دان ہے) ہماری نیکیوں کی قدر دانی فرمائی اور وہ وہ نعمتیں عطا فرمائیں جن کے ہم بالکل مستحق نہ تھے۔
Ayah 35:35(الَّذِیْٓ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ مِنْ فَضْلِہٖ ) (جس نے ہمیں اپنے فضل سے رہنے کی جگہ میں اتار دیا) اس میں یہ بتایا کہ جنت رہنے کی جگہ ہے جس کے بارے میں فرمایا ہے (لاَ یَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلاً ) کہ جنتی وہاں سے کہیں اور منتقل ہونا نہ چاہیں گے۔ اور تعریضاً یہ بھی بتادیا کہ دنیا رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ جو جنت میں پہنچا اس نے صحیح ٹھکانہ پکڑا جہاں سے کہیں اور جانا ہی نہیں اور نہ اس سے کوئی اچھی جگہ ہے جہاں جانے کا خیال آئے۔
(لَایَمَسُّنَا فِیْھَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْھَا لُغُوْبٌ) (ہمیں یہاں کوئی دکھن نہیں پہنچے گی اور نہ ہمیں یہاں کوئی تھکن محسوس ہوگی) وہاں آرام ہی آرام ہے، کسی طرح کی کمائی کی کوئی حاجت نہیں اس لیے نہ محنت ہوگی نہ مشقت، نہ دکھن ہوگی نہ تھکن سے واسطہ پڑے گا۔ سورة الحجر میں فرمایا (لَایَمَسُّھُمْ فِیْھَا نَصَبٌ وَّمَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ ) (نہ انہیں وہاں تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔
Ayahs 35:36–38دوزخیوں کو نہ موت آئے گی نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا نہ اس میں سے کبھی نکلیں گے
اہل ایمان کا انعام و اکرام بیان فرمانے کے بعد اہل کفر کی سزا بیان فرمائی اور ان کے لیے دوزخ کی آگ میں داخل ہونے اور اس میں ہمیشہ رہنے کا تذکرہ فرمایا، نہ تو ان کے بارے میں یہ فیصلہ ہوگا کہ مرجائیں اور نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔ (کَذٰلِکَ نَجْزِیْ کُلَّ کَفُوْرٍ ) اسی طرح ہم ہر کافر کو جزا دیتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ جب اہل کفر دوزخ میں مبتلائے عذاب ہوں گے تو وہاں چیخیں اور چلائیں گے اور بارگاہ خدا وندی میں درخواست پیش کریں گے کہ ہمیں اس سے نکال دیجیے ہم پہلے جو عمل کیا کرتے تھے اب ان کے علاوہ عمل کریں گے یعنی آپ کے حکم کے مطابق چلیں گے، اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرلیتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تھا، نہ تو تم نے اپنی عمر کو نیکیوں میں لگایا اور نہ ہماری طرف سے بھیجے ہوئے رسول اور نبی کی بات مانی جس نے تمہیں سمجھایا اور اس مصیبت سے ڈرایا جس میں تم آج مبتلا ہو۔ لہٰذا اب عذاب چکھو اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رکھا جس کی عمر میں اتنی ڈھیل دے دی کہ ساٹھ سال تک پہنچا دیا۔ (رواہ البخاری کما فی مشکوٰۃ المصابیح ص 450)
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ایک پکارنے والا یوں پکارے گا کہ ساٹھ سال کی عمر والے کہاں ہیں ؟ (پھر فرمایا) یہی وہ عمر ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَ جَآءَ کُمُ النَّذِیْرُ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 451)
Ayah 35:39کفر کا وبال اہل کفر ہی پر پڑے گا، کافر آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں، آسمانوں اور زمین کو اللہ تعالیٰ ہی روکے ہوئے ہے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم وقدرت کو بیان فرمایا ہے اور مشرکوں اور کافروں کی گمراہی اور بدحالی بیان فرمائی ہے۔
اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو آسمانوں کی اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم ہے یعنی جو چیزیں مخلوق کے علم سے غائب ہیں وہ ان سب کو پوری طرح جانتا ہے۔
دوم یہ فرمایا کہ وہ دلوں کی باتوں کو جانتا ہے۔
سوم یہ فرمایا کہ تم لوگوں کو اس نے زمین میں خلیفہ بنایا ہے یعنی تم سے پہلے جو لوگ زمین میں رہتے اور بستے تھے ان کے بعد تمہیں بسا دیا، سارے انسانوں پر لازم ہے کہ اس کا شکر ادا کریں، اس کی ذات وصفات پر، اس کے نبیوں اور کتابوں پر ایمان لائیں لیکن لوگ اکثر کفر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ (فَمَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ ) (سو جو شخص کفر اختیار کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے) (وَلَا یَزِیْدُ الْکٰفِرِیْنَ کُفْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ اِلَّا مَقْتًا) اور کافروں کا کفر انہی کے حق میں مضر ہے جس کا سب سے بڑا ضرر یہ ہے کہ ان کا رب ان سے ناراض ہے اور جیسے جیسے یہ لوگ کفر میں آگے بڑھتے ہیں برابر پروردگار عالم جل مجدہٗ کی ناراضگی بڑھتی چلی جاتی ہے، کافر خواہ یہ سمجھتے ہوں کہ ہم بڑے نفع میں ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا کفر ان کے لیے خسارہ میں اضافہ کا باعث بنتا چلا جا رہا ہے۔
Ayah 35:40پھر فرمایا کہ یہ جو لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا رکھے ہیں جن کی پوجا کرتے ہیں اور جن کو پکارتے ہیں ان کے بارے میں ان سے دریافت کیجیے کہ ان کا کیا حال ہے، انہیں جو تم نے معبود بنایا ہے ان میں کون سی صفت دیکھ رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ مستحق عبادت سمجھے گئے ؟ انہوں نے زمین کا کوئی سا حصہ پیدا کیا ہے ؟ کیا آسمانوں میں ان کا کچھ ساجھا ہے ؟ اس میں سے کوئی بات نہیں ہے ! زمین اللہ کی ہے جس پر رہتے سہتے ہو، آسمان اللہ کے ہیں جن کے نیچے زندگی گزارتے ہو، یہ سب کچھ جانتے ہوئے غیروں کی عبادت کرنا کون سی سمجھداری ہے۔
(اَمْ اٰتَیْنٰھُمْ کِتٰبًا فَھُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ ) (کیا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے جس کی دلیل پر یہ لوگ قائم ہیں) یہ استفہام انکاری ہے، مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جس کی رو سے شرک اختیار کرنے کو درست سمجھتے ہیں۔ (بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا) شرک کے درست ہونے کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ ظالم لوگ آپس میں ایک دوسرے سے دھوکہ کی باتوں کا وعدہ کرتے ہیں یعنی ایک دوسرے کو شرک پر جماتے ہیں اور توحید پر نہیں آنے دیتے اور شرک میں فائدہ بتا بتا کر ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ یہ باطل معبود ہماری سفارش کریں گے۔