Ayah 35:11 سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں جو فاطر ہے آسمانوں اور زمین کا "۔ یعنی انکو بغیر کسی نمونے اور مثال کے پیدا کرنے والا ہے ۔ " اَیْ مُبْدِع " ۔ (جامع البیان، المراغی، الصفوۃ، المعالم وغیرہ) ۔ حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ کہتے ہیں کہ مجھے " اِبْداَع " کے معنیٰ پوری طرح اس وقت سمجھ آئے جب کہ میں نے دو اعرابی بدؤوں کو آپس میں ایک کنوئیں کے بارے میں لڑتے دیکھا جن میں سے ایک کہہ رہا تھا " اَنَا اَبْدَعْتُہُ " یعنی یہ کنواں میرا ہے کہ اس کو سب سے پہلے میں نے بنایا تھا (ابن کثیر، مدارک، وغیرہ) ۔ سو جب اللہ پاک کے اس فعل خلق و ابداع میں کوئی اس کا شریک نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ نیز آسمانوں اور زمین کی یہ عظیم الشان اور حکمتوں بھری کائنات اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کی بےمثال عظمت شان کا پتہ دے رہی ہے اور تقاضا کر رہی ہے کہ ہر قسم کی حمد و ثنا اور ہر طرح کے شکر کا مستحق و سزاوار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سو دین حنیف کی اساس و بنیاد توحید خداوندی ہے اور توحید کی حقیقت شکر خداوندی۔ پس دل و جان سے بھی اور زبان وبیان سے بھی اسی وحدہ لاشریک کا شکر بجا لایا جائے اور عمل و ارکان سے بھی اور ہر قسم کی عبادت و بندگی کا حقدار بھی اسی وحدہ لاشریک کو مانا جائے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
2 فرشتوں کا کام پیغام رسانی اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا " جو فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا ہے " جو اللہ پاک کے پیغامات اس کے رسولوں تک پہنچاتے ہیں۔ اور اللہ پاک کی طرف سے دئیے گئے احکام و فرامین کو بجا لاتے ہیں۔ اور وہ اپنے خالق ومالک کے ہر حکم و ارشاد کے ایسے پابند ہیں کہ کبھی اور کسی طرح کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ سو بڑے ہی بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو ان نوری فرشتوں کو دیویاں اور دیوتا قرار دے کر ان کو پوجتے پکارتے اور شرک کے سنگین جرم میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مشرکین نے مختلف صورتوں میں ایسا کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو فرشتے خداوند قدوس کی خدائی میں کسی بھی طرح شریک نہیں بلکہ اس کی مخلوق اور اس کے حکم کے پابند ہیں۔ ان کا کام اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری اور اس کی تسبیح و تقدیس ہے اور ان میں سے ہر ایک کی ایک حد ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے ۔ { وَمَا مِنَّا الاَّ لَہُ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ } ۔ (الصافات : 124) ۔ سو فرشتوں کا کام صرف پیغام رسانی ہے۔
3 فرشتوں کی قوتیں اور صلاحیتیں مختلف : سو ارشاد فرمایا گیا " جو دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے ہیں "۔ فرشتوں کے پروں کا یہ معاملہ ان متشابہات میں سے ہے جن کا اصل اور حقیقی علم اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو نہیں ہوسکتا۔ یہاں پر ان کے ان پروں کے ذکر سے دراصل اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ وہ سب ایک ہی درجے کے نہیں بلکہ قدرت نے ان کو مختلف درجوں پر اور مختلف قوتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ سو ان کی قوتیں مختلف ہیں۔ کسی کی دو پروں کے برابر، کسی کی تین اور کسی کی چار اور کسی کی اس سے بھی زیادہ۔ ان کی اپنی اپنی ذمہ داریوں اور فرائضِ منصبی کے اعتبار سے جس کو جو قوت درکار تھی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اس کو اسی قوت سے نوازا۔ سو جس طرح اس عالم مادی میں پر کسی پرندے کی پرواز کے معاون اور اس کے لئے ضروری ہوتے ہیں، اسی طرح اس عالم غیب میں فرشتوں کو ایسے پروں اور ایسی عظیم الشان قوتوں سے نوازا گیا ہے جو ان کے لئے وہاں ضروری ہیں۔ اور ان کی ان قوتوں کی تعبیر و اداء کے لئے اس عالم مشاہدہ میں سب سے زیادہ قریب تر اور مناسب چیز پر ہی ہوسکتے ہیں جو کہ اڑان اور سرعت سیر کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ اس لئے اس کی تعبیر کے لئے " اَجْنِحَۃٍ " کا لفظ ہی زیادہ مناسب اور موزوں تھا۔ اس لیے اسی کو اختیار فرمایا گیا ہے ورنہ ان کو پوری طرح دنیاوی پرندوں کے پروں پر منطبق کرنا درست نہ ہوگا۔ اور خود دو دو اور تین تین اور چار چار کا ارشاد اس سے اباء کرتا ہے کہ دنیا میں ایسے پرندے عام طور پر پائے ہی کہاں جاتے ہیں جن کے پر صرف دو دو، تین تین اور چار چار ہوں۔ اور ایسے غیبی حقائق کے سلسلہ میں جیسا کہ ہم نے ابھی اوپر بھی ذکر کیا ہے اور جیسا کہ حضرات اسلاف کرام کا طریقہ ہے سلامتی کی راہ یہی ہے کہ جو کچھ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے فرمایا اور بتایا ہے اس کو ویسے ہی مانا اور تسلیم کیا جائے اور بس۔ غیبی حقائق کی اصل شکل کیا ہے اس کے جاننے کے نہ تو ہم مکلف و ذمہ دار ہیں اور نہ ہی یہ ہمارے بس اور اختیار میں ہے۔ (ابن کثیر، مراغی، و جیز اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف فرشتوں کو قدرت نے مختلف قوتوں اور صلاحیتوں والا بنایا ہے۔
4 سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ صفات اور صلاحیتوں کی کمی بیشی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اپنی مخلوق میں جو اضافہ چاہتا ہے فرماتا ہے "۔ پس وہ طرح طرح کی اور بیشمار ایسی مخلوق پیدا فرماتا رہتا ہے جو ہمارے حیطہ علم و ادراک سے بھی باہر ہے۔ نیز وہ اپنی مخلوق کی خلق و ساخت میں بھی جو چاہے اضافہ فرماتا رہتا ہے۔ اس لئے فرشتوں کے پر کوئی دو دو، تین تین اور چار چار ہی میں منحصر نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ اور واقعتہً ہیں۔ چناچہ صحیح احادیث میں مروی ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے جب حضرت جبریل امین کو ان کی اصل شکل میں دیکھا تو ان کے چھ سو پر تھے۔ (بخاری، کتاب بدء الخلق، عن ابن مسعود ؓ ، و صحیح مسلم وغیرہ) ۔ سو یہاں پر فرشتوں کے پروں کے بارے میں چار چار تک کا جو ذکر فرمایا گیا تو اس سے مقصود انکے پروں کی تحدید نہیں بلکہ اس سے مقصود انکے مراتب و منازل کے تفاوت و اختلاف کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جن نادانوں نے فرشتوں کو الوہیت کے زمرے میں داخل کیا ہے انکو خداوند قدوس کی عظمت شان کا احساس اور اس کا اندازہ نہیں۔ فرشتوں کا خدا کی خدائی میں شریک ہونا تو درکنار، انکے قاصد اور سفیر ہونے میں بھی ان کا درجہ و مرتبہ یکساں نہیں۔ بلکہ ان میں سے کسی کی رسائی کسی منزل تک ہے اور کسی کی کسی تک۔ جیسا کہ اوپر گزرا۔
5 اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے " وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ اس کی قدرت لا محدود ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس کبھی یہ خیال نہ کرنا کہ وہ اپنا کام چلانے کے لئے کہیں ان فرشتوں کا محتاج ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ تو اس کی دوسری بیشمار حکمتوں پر مبنی ہے جن کو وہی جان سکتا ہے بلکہ وہ قادر مطلق جو چاہے اور جب چاہے اور جیسا چاہے کرتا ہے اور کرسکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس نے اگر فرشتوں کو اپنی پیغامبری کیلئے پیدا فرمایا ہے تو یہ بھی اس کی قدرت و حکمت ہی کا تقاضا ہے۔ اور ان کے درجات و مراتب میں فرق و تفاوت رکھا ہے تو یہ بھی اسی وحدہ لاشریک کی قدرت و حکمت کا ایک مظہر ہے۔ اور وہ اگر اپنی مخلوق میں اور اس کی صلاحیتوں میں کوئی اضافہ کرنا چاہے تو وہ اس پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرسکتا ہے کہ اس کی شان ہے ۔ " علی کل شئی قدیر " اور اس کی قدرت لا محدود ہے۔ اس کے لیے نہ کچھ مشکل ہے اور نہ ہی کوئی چیز اس کے حیطہ قدرت واختیار سے باہر ہوسکتی ہے ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 35:26 رحمت خداوندی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی ہر رحمت و عنایت اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ اپنے بندوں کیلئے جو بھی کوئی رحمت کھول دے کوئی اس کو روکنے والا نہیں "۔ " رحمۃٍ " یہاں پر نکرہ ہے۔ اور اس پر " من " استغراقیہ داخل ہے۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ کوئی بھی نعمت و رحمت خواہ وہ چھوٹی سے چھوٹی ہو یا بڑی سے بڑی، دینی ہو یا دنیاوی، روحانی ہو یا جسمانی، ظاہری ہو یا باطنی، حسی ہو یا معنوی وغیرہ وغیرہ وہ سب اسی کی طرف سے ہے اور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہ دینے پہ آئے تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور وہ روکنا چاہے تو کوئی دے اور دلوا نہیں سکتا۔ تو پھر تم لوگوں نے، اے مشرکو ! دوسروں کو اور اس کی بےاختیار مخلوق کو حاجت روا و مشکل کشا اور داتا و غریب نواز وغیرہ وغیرہ کس طرح سمجھ رکھا ہے ۔ { تَعَالٰی اللّٰہ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا } ۔ پس نہ تو کوئی اس کے کسی ارادئہ و عمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی عمل حکمت و مصلحت سے خالی ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کا جو بھی حکم ہوگا اس میں تمہارا ہی بھلا ہوگا۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سو بندوں کا کام یہ ہے کہ وہ بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھیں اور ہر حال میں رجوع اسی کی طرف کریں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 35:37 اللہ تعالیٰ کے احسانات کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اے لوگو ! یاد کرو اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو جو اس نے تم پر فرمائے ہیں محض اپنی رحمت و عنایت سے۔ اور جن میں تم لوگ سر سے لے کر پاؤں تک ڈوبے ہوئے ہو۔ پس ان بیشمار احسانات کو یاد کر کے اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرو اور دل و جان سے اس کی عبادت و بندگی بجا لاؤ تاکہ اس طرح تم لوگ منعم کے حقِّ شکر کی ادائیگی کے شرف سے بھی مشرف ہوسکو گے اور خود اپنے لئے خیر اور بھلائی کا سامان بھی کرسکو گے کہ شکر منعم سے نعمتوں میں برکت بھی آتی ہے اور ان میں اضافہ بھی ہوتا ہے ۔ فللّٰہِ الحمد ربِّ العْالمین ۔ سو ذرا تم لوگ سوچو اور غور کرو کہ زمین کے اندر سے جو طرح طرح کی خیرات و برکات تم لوگوں کو مل رہی ہیں اور لگاتار و مسلسل مل رہی ہیں اور یہ آسمان سے جو قسما قسم کی نعمتیں تم پر اترتی اور برستی ہیں اور تم ان سے طرح طرح سے اور مسلسل و لگاتار مستفید و فیضیاب ہوتے ہو، آخر یہ کس کی قدرت و عنایت کے کرشمے ہیں ؟ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کا اس میں کوئی عمل دخل کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم خود سوچو کہ اس واہب مطلق کے حقِّ شکر سے غفلت برتنا اور منہ موڑنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اوپر کی آیات کریمات میں جو مضمون اصولی طور پر بیان فرمایا گیا اسی کو اب اتمام حجت کے اسلوب و انداز میں لوگوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ " نعمت " کا لفظ یہاں پر جنس کے مفہوم میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کی جو گوناگوں اور قسماقسم کی نعمتیں تم لوگوں کو حاصل ہوئی ہیں ان میں سے ایک ایک پر غور کر کے تم لوگ اپنے خالق ومالک کے آگے دل و جان سے جھک جھک جاؤ ۔ وباللہ التوفیق -
8 اللہ کے سوا خالق کوئی نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے ؟ "۔ جب نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر معبود و مسجود اور حاجت روا اور مشکل کشا اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کون ہوسکتا ہے اور کیونکر ؟۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب تم لوگ اس حقیقت کو خود مانتے اور اسکا اقرار و اعتراف کرتے ہو کہ خالق ومالک سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر تمہاری مت کہاں ماری جاتی ہے ؟ اور تمہاری عقلیں کہاں اور کیسی اندھی اور اوندھی ہوجاتی ہیں کہ تم اس کے باوجود دوسروں کو معبود اور اسکا شریک قرار دیتے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو منکروں اور مشرکوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کے لیے مسئلہ کو ان کے سامنے ایک چبھتے ہوئے اور دلوں کو چھوتے ہوئے سوال کی صورت میں رکھ دیا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان اور مجموعی و مشترکہ عملداری سے جو تم کو روزی ملتی ہے آخر یہ کس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ ہے ؟۔ آسمان سے پانی برستا ہے اور اس کے نتیجے میں زمین سے تمہاری معاش و معیشت کی گوناگوں چیزیں پیدا ہوتی ہیں تو کیا تم لوگ کہہ سکتے ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں ان گوناگوں نعمتوں سے اتنی کثرت وبہتات اور اس قدر پر حکمت طریقے سے نوازتا ہے ؟۔
9 معبود برحق اللہ کے سوا کوئی نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر اور نفی و اثبات کے ساتھ اسلوب حصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کوئی بھی عبادت و بندگی کے لائق نہیں سوائے اس ۔ وحدہ لاشریک۔ کے "۔ یعنی جب اللہ ۔ جل جلالہ ۔ کے سوا نہ کوئی خالق ہے نہ رازق تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس کے سوا معبود بھی کوئی نہیں۔ پس عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا حق ہے اور وہ اسی کے لئے مختص ہے۔ قیام و رکوع اسی کے لئے، سجدہ و طواف بھی اسی کے لئے اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے پکارنا بھی اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب اصل حقیقت یہ ہے اور یہ ایسی صاف، کھلی اور واضح حقیقت ہے کہ خود تم کو بھی اس کا انکار نہیں ہوسکتا تو پھر تمہاری عقل آخر کہاں اور کیسے الٹ گئی کہ تم لوگ دوسری بےحقیقت چیزوں کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو اور شرک کے ہولناک اور رسوا کن جرم کا ارتکاب کرتے ہو۔ آخر تمہاری مت کہاں اور کیسے ماری جاتی ہے ؟ ۔ { فَاَنّٰی تُؤفَکُوْنَ } ۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے مشرک کی نحوست کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
10 مشرکوں کی مت ماری پر اظہار تعجب و افسوس : سو مشرکوں کو خطاب کر کے اور ان کے ضمیروں کو جھنجوڑنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا " پھر تم لوگ کہاں ۔ اور کیسے ۔ اوندھے ہوئے جارہے ہو ؟ " کہ اس سب کے باوجود تم اس وحدہ لاشریک کے سوا اوروں کی بندگی و پوجا کرتے ہو۔ ان کے آگے جھکتے اور سجدے کرتے، ان کے نام کی نذریں مانتے، نیازیں دیتے، چڑھاوے چڑھاتے، طواف کرتے، پھیرے مانتے، ان کے نام جپتے، ان کی قبروں کے لئے ڈالیاں لے جاتے، میلے ٹھیلے لگاتے، محفلیں جماتے اور ان کو حاجت روا و مشکل کشا جان کر پکارتے اور ان کی حاجت روائیوں کے لئے جھوٹے قصے بناتے، بیان کرتے اور افسانے گھڑتے اور ان کو پھیلاتے ہو۔ آخر تمہاری مت کہاں اور کیوں مار دی گئی ؟ تمہارے دماغ الٹے اور سینے ٹیڑھے کیوں ہوگئے ؟ تمہیں دیتا کون ہے اور تم جھکتے کس کے آگے ہو اور عبادت و بندگی کس کے لئے بجا لاتے ہو ؟ واقعی یہ انسان بڑا ہی ظالم اور ناشکرا ہے ۔ { اِنَّ الاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارُ } ۔ اور دقت تعبیر ملاحظہ ہو کہ { تُؤْفَکُوْنَ } مجہول کا صیغہ اختیار فرمایا گیا ہے۔ یعنی " تم کہاں پھیرے جاتے ہو " جس سے ظاہر ہوا کہ تمہیں پھیرنے اور بہکانے بھٹکانے والے کوئی اور گرو ہیں جو طرح طرح کے من گھڑت قصے بنا بنا کر پیش کرتے، طرح طرح کے گمراہانہ فلسفے گھڑتے، ٹوٹکے سناتے، واہی تباہی روایتیں پیش کرتے، حتی کہ صریح نصوص کی من مانی تاویلیں تک کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح وہ دوسروں کو گمراہی کے گڑھے میں ڈالتے اور خود اپنی اور ان کی عاقبت کی تباہی کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو شرک عقل و نقل کیخلاف اور انسان کیلئے دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ایسے اوندھے پن سے سب کو ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ راہ حق و صواب پر قائم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 35:411 پیغمبر کے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں کہ بلاشبہ آپ سے پہلے بھی ۔ اے پیغمبر !۔ بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا ہے "۔ پس نہ تو آپ ﷺ کو تعجب و افسوس کرنے کی ضرورت ہے اور نہ افسردہ و دل برداشتہ ہونے کی۔ اور پیغمبر۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ کی اس فہمائش میں پوری امت کے حق پرستوں اور حق کے علم برداروں کے لئے بھی یہ درس ہے کہ پیغام حق پہنچانے کی راہ میں تمہیں جس تکذیب و مخالفت سے سابقہ پڑرہا ہے اس پر تعجب کرنے اور دل گیر ہونے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ تم اپنے رب پر بھروسہ کر کے اخلاص و استقامت کے ساتھ پیغام حق دئیے چلے جاؤ کہ تکذیب و نافرمانی کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ہوتا آیا ہے۔ اور کتنے ہی انبیائے کرام کو جھٹلایا گیا ہے ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَ سَلامُہ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں پیغمبر کیلئے اور آپ ﷺ کے توسط سے ہر داعی حق کیلئے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پہلے سے ایسے ہی ہوتا آیا ہے۔ لہذا آپ ﷺ بھی اسی پر اسی طرح صبر و برداشت سے کام لیں جس طرح کہ آپ ﷺ سے پہلے کے انبیائے کرام نے لیا ۔ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلاَ تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ } ۔ (الاحقاف : 35) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صبر واستقامت کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
12 سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف جار کی تقدیم کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا جو کہ حصر اور تاکید کا اسلوب ہے کہ " اللہ ہی کی طرف ۔ لوٹائے جاتے ہیں اور۔ لوٹائے جائیں گے سب کام "۔ پس ہوگا وہی جو اس کو منظور ہوگا۔ نیز کل قیامت میں ہر ایک کو اپنے کئے کا بدلہ پانا ہوگا۔ لہذا ہر شخص اپنے معاملے پر خود ہی غور کرلے کہ وہ کل کے لئے کیا کمائی کر کے لے جا رہا ہے ۔ { وَلْتَنْظُرُ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ } ۔ فَوَفِّقْنَا اللّٰہُمَّ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنْ الْقَوْلٍ وَالْعَمَل بَکُلِّ حَالٍ مِنَ الاَحْوَالِ وَ فِیْ کُلِّ مَوْطِنٍ مِّنَ الْمَوَاطِنِ فی الحیاۃ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر معاملے کا آخری فیصلہ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ لہذا آپ ﷺ اسی کے بھروسے پر کام کیے جائیں۔ سو اللہ تعالیٰ اپنی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا کر کے کہیں اس سے الگ اور کنارہ کش ہو کر نہیں بیٹھ گیا بلکہ اس کی تخلیق فرمودہ اس کائنات پر حکم وارشاد بھی اسی وحدہ لا شریک کا چلتا ہے۔ سو انسان اپنے بس کی حد تک کوشش اور محنت تو ضرور کرے لیکن اصل بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اسی وحدہ لا شریک پر رکھے کہ ہوگا وہی جو اس کو منظور ہوگا۔ سو جن لوگوں نے اپنا مولیٰ و مرجع اوروں کو بنا رکھا ہے وہ بڑے خسارے میں ہیں اور اپنی اس خام خیالی کا انجام وہ خود دیکھ لیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء وانحراف۔
Ayah 35:513 سب سے بڑے فتنے سے تحذیر و تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور سب لوگوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ پس تم کو دھوکے میں نہ ڈالنے پائے یہ دنیاوی زندگی "۔ کہ کہیں تم اسی دنیا کو آخری منزل اور اسی کی تکلیف و راحت کو منتہائے مقصود سمجھنے لگو اور اپنی آخرت کی حقیقی اور ابدی منزل کو بھول جاؤ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو پیغمبر کو تسلی دینے کے بعد اس ارشاد میں مخالفین و منکرین کو خطاب کرکے تنبیہہ فرمائی جارہی ہے کہ جس ہولناک انجام سے تم لوگوں کو خبردار کیا جارہا ہے اس کو یونہی خالی خولی دھمکی اور کوئی ہوائی بات نہ سمجھو۔ بلکہ یہ ایک شدنی بات اور قطعی حقیقت ہے۔ اور آج دنیا میں جو تمہیں رفاہیت اور عیش و عشرت کا سامان حاصل ہے اس کو اپنے رویے کی صحت کی دلیل نہ سمجھو۔ یہ سب کچھ بہرحال عارضی، فانی اور مٹ کر رہنے والا ہے۔ سو اس خطاب و ارشاد سے سب سے بڑے فتنے اور خطرے سے خبردار فرمایا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لوگ دنیا کی چمک دمک میں کھو کر اسی کے ہو کر رہ جاؤ اور آخرت کی اپنی اصل اور حقیقی و ابدی زندگی کو بھول جاؤ اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر تم لوگ ہمیشہ کے ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاؤ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
14 سب سے بڑے دھوکے باز سے تحذیر و تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تم کو دھوکے میں نہ ڈالنے پائے وہ بڑا دھوکے باز "۔ یعنی ابلیس لعین جو کہ طرح طرح سے دھوکہ دیتا ہے۔ کبھی اس طرح کہ وہ لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق و مدبر ہے ہی نہیں بلکہ یہ یونہی بن گئی اور یونہی الل ٹپ چل رہی ہے۔ جیسا کہ دھریہ کہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور کبھی یوں کہ اللہ پاک نے اس اتھاہ کائنات کو پیدا کرنے کے بعد اسے اندھی بہری فطرت -Nature ۔ کے حوالے کردیا ہے اور اب وہی اندھی بہری نیچر۔ طبیعت ۔ اس کو چلا رہی ہے۔ جیسا کہ نیچری کہتے ہیں۔ اور کبھی وہ یوں کہتا ہے کہ حضرت خالق نے اس کائنات کو پیدا فرمانے کے بعد اسے فلاں فلاں ہستیوں کے سپرد کردیا ہے۔ اب وہی ہستیاں سب کچھ کرتی ہیں۔ جیسا کہ مشرک لوگوں کا کہنا ماننا ہے۔ اور کبھی یوں کہ قیامت اگر ہوئی بھی تو ہمیں فلاں فلاں ہستیاں چھڑا اور بچا لیں گی۔ پس ہمیں انہی کا دامن گرفتہ ہوجانا اور انہی کا لڑ پکڑ لینا کافی ہے۔ آخر جہاں سے اونٹ گزرتا ہے وہاں سے اس کی دم بھی گزر جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ اہل بدعت وغیرہ کہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ قسما قسم اور طرح طرح کے دھوکے ہیں جو وہ عَدُوِّ مُبِیْن انسان کو دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لئے اللہ پاک اپنے کلام حکیم میں تنبیہ فرماتا ہے کہ اس بڑے دھوکہ باز سے بچنا اور اس کے دھوکوں سے ہوشیار رہنا اور اس ملعون کے ایسے کسی دھوکے میں نہ آجانا کہ اس طرح کے کسی مفروضے پر اگر سرمایہ حیات کو ضائع کردیا تو یہ ایسا ہولناک خسارہ ہوگا کہ پھر اس کی تلافی ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق اور حقیقت یہ ہے کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و مدبر اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے اور انسان کو اس دنیا میں ابتلاء و آزمائش کیلئے فرصت حیات کی مہلت دی گئی ہے۔ اور اس نے بہرحال اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ اور اس پر انسان کی ابدی زندگی کا مدارو انحصار ہوگا ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 35:615 شیطان کو دشمن سمجھنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ شیطان تمہارا دشمن ہے "۔ پس تم اس کو اپنا دشمن ہی سمجھنا۔ پس تم لوگ اس کی ترغیبات کو چھوڑ کر اور اس کی تحریصات کو توڑ کر اور اپنے خالق ومالک کے احکام کو دل و جان سے اپنا کر اور اسی کے بندے بن کر زندگی گزارو اور ہر وقت اور ہر حال میں اسی کی رضا و خوشنودی کو حاصل کرنے کی کوشش کرو ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں یہ تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ پس تم اس کو دشمن ہی سمجھو اور اس کی چالوں سے بچ کر رہو کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا مقصد اور محور یہ ہے کہ جو لوگ اس کی پارٹی میں شامل ہوجائیں وہ ان سب کو لے جاکر جہنم کے گھاٹ پر اتار دے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جو تمہارا دشمن اور کھلا دشمن ہو اس نے اپنی دشمنی کا علی الاعلان اور برملا اظہار بھی کردیا ہو، اپنی باگ اس کے ہاتھ میں دے دینا اور اس کے کہنے پر چلنا اور اس کے طور طریقوں کو اپنانا اور اختیار کرنا آخر کہاں کی دانشمندی ہے ؟ سو ہدایت فرمائی گئی کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس لیے تم لوگ اس کو دشمن ہی سمجھو اور اس کی چالوں سے بچ کر رہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
16 ابلیس کا اصل کام برائی کی دعوت دینا ہے اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اپنی پارٹی اور اپنے یاروں کو بلاتا اور دعوت دیتا ہے تاکہ وہ دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کے یاروں میں سے ہوجائیں۔ پس اس دعوت و پکار کے سوا اس کا اور کوئی زور نہیں۔ لہذا تم اس کی دعوت کو ٹھکرا کر اپنے رب کی عبادت و بندگی ہی کو اپنی زندگی کا مقصد اور نصب العین بنانا کہ یہی کامیابی کی راہ ہے۔ سو شیطان لوگوں کو گمراہی اور اتباع ھویٰ کی طرف بلا کر انکو دوزخ کی راہ پر ڈالنا چاہتا ہے تاکہ اس طرح وہ اپنے پیروکاروں کو دوزخ کے ہولناک گڑھے میں ڈال سکے۔ لیکن اسکا کام اور زور صرف بلانے اور دعوت دینے کی حد تک ہے۔ اس سے آگے اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔ اس لیے اسکا زور انہی لوگوں پر چل سکتا ہے جو ایک ساتھ دوستی رکھتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّہُ لَیْسَ لَہُ سُلْطَانٌ عَلَی الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ اِنَّمَا سُلْطَانُہُ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہُ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِہ مُشْرِکُوْنَ } ۔ (النحل :99-100) ۔ اسی لیے وہ دوزخ میں اپنے پیروکاروں سے کہے گا کہ تم لوگوں نے میری پیروی کیوں کی تھی۔ میرا تو تم لوگوں پر کوئی زور نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے لوگوں کو بلایا پکارا اور باطل کی دعوت دی اور بس۔ اور تم نے اللہ کے وعدے کے برخلاف میری پیروی کی تو تم نے میری پیروی کیوں کی تھی۔ سو قصور خود تم لوگوں کا اپنا ہے۔ پس تم مجھے برا مت کہو بلکہ خود اپنے آپ کو برا کہو جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح موجود ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 35:717 کفر والوں کے لیے بڑا ہی سخت عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ اڑے رہے اپنے کفر ۔ و باطل ۔ پر " یعنی { کفروا } سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے کفر و باطل پر اڑے رہے۔ انہوں نے آخر تک ایمان نہیں لایا اور انہوں نے کفر ہی کی حالت میں جان دی۔ سو اب اس ترجمہ پر ایسا کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا جو کہ " کافر ہوگئے " یا " کفر کیا " جیسے عام ترجموں پر وارد ہوتا ہے۔ کیونکہ اس طرح کی وعیدیں دراصل ایسے ہی ضدی اور ہٹ دھرم کافروں کیلئے ہیں جو کہ اپنے کفر وباطل پر اڑ جاتے ہیں۔ اور اس کے برعکس جو لوگ دعوت حق و ہدایت کو سننے اور ماننے کیلئے تیار اور مستعد ہوتے ہیں، ان کیلئے ایسی وعیدیں نہیں ہوتیں کہ وہ اسلام کے حظیرئہ قدس میں کبھی بھی داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کی عنایات کے مورد و مستحق بن سکتے ہیں ۔ والحمد للہ ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جن لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یہ دنیا نیکی اور بدی اور خیر و شر کے درمیان فرق وتمیز کے بغیر یونہی چلتی رہے گی، انہوں نے بہت غلط سمجھ رکھا ہے اور شیطان نے انکو سخت دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ سو ایسا نہیں بلکہ ایک دن ایسا آنے والا ہے، جس میں حق و باطل اور خیر و شر کے درمیان آخری اور قطعی فیصلہ ہو کر رہے گا۔ جس میں کفر و انکار والے عذاب شدید سے دوچار ہوں گے اور ایمان اور عمل صالح والے مغفرت اور اجر عظیم سے سرفراز ہوں گے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سو ایمان سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
18 ایمان والوں کے لیے عظیم الشان بخشش اور اجر کبیر کی بشارت : سو دوزخیوں کے مقابلے میں اہل جنت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے تو ان کیلئے عظیم الشان بخشش بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی جو ان کو جنت اور اس کی ان عظیم الشان اور بےمثل نعمتوں کی شکل میں ملے گا جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی بشر کے دل پر ان کا گزر ہی ہوا۔ کیونکہ یہ صلہ و بدلہ اس ارحم الراحمین اور اکرم الاکرمین کی طرف سے ملے گا جو کہ خود بےمثل اور بےمثال ہے۔ اس لئے اس کی طرف سے ملنے والا یہ اجر وثواب بھی بےمثل اور بےمثال ہوگا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو دنیا کے اس دارالامتحان میں مومن و کافر، نیکوکار اور بدکار اور موحد و مشرک کو ایک ہی برابر چلتا پھرتا اور رہتا بستا دیکھ کر کسی کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ یہ دنیا تو بہرحال ایک " دار الامتحان " ہے جس کا تقاضا یہی ہے کہ اس میں سب اسی طرح ملے جلے رہیں۔ جبکہ " دارالجزاء " اور فیصلے کا دن اس کے بعد آئے گا جس میں دونوں فریقوں کے درمیان آخری اور عملی فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا پھل بہرحال پاکر رہے گا۔ سو اس روز حق اور باطل کے درمیان فرق پوری طرح اور عملی طور پر نکھر کر سب کے سامنے آجائے گا۔ اور اس وقت کفر و باطل والوں کو خود معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس قدر ہولناک خسارے میں مبتلا تھے۔ تب ان کی حیرت وحسرت کی کوئی حد نہیں رہیگی مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 35:819 برائی کو اچھائی سمجھنا ہلاکتوں کی ہلاکت اور خرابی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بھلا اس شخص کی محرومی اور بدبختی کا کوئی ٹھکانا ہوسکتا ہے جس کے لیے خوشنما بنادیا گیا ہو اس کے برے عمل کو " ۔ اس کی بدنیتی اور سوئِ اختیار کی بنا پر ۔ جس سے وہ اپنے اس برے عمل کو ہی اچھا سمجھتا ہو۔ اور استفہام ظاہر ہے کہ انکاری ہے۔ یعنی ایسے شخص کی بدبختی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ایسا شخص جب اپنے برے عمل کو اچھا سمجھتا ہوگا تو پھر وہ اس کو چھوڑے گا کیوں ؟ سو برائی کا یہ درجہ بڑا ہی خطرناک ہے اور یہی وجہ ہے کہ بدعتی شخص کے لئے توبہ نہیں۔ یعنی اس کو توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ وہ اپنی بدعت کو نیکی اور ثواب سمجھتا ہے۔ تو پھر توبہ کس طرح اور کیونکر ہو ؟ اسی لئے علماء کہتے ہیں کہ بدعت ہر کبیرہ سے بڑھ کر کبیرہ گناہ ہے۔ کیونکہ اس سے ایک طرف تو دین کا حلیہ بگاڑنے کی راہ کھلتی ہے جو کہ آگے کئی گناہوں اور خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے اور دوسرے اس لئے کہ بدعتی شخص چونکہ اس کو نیکی سمجھتے ہوئے کرتا ہے اس لئے وہ اس سے کبھی توبہ نہیں کرتا بخلاف مرتکب کبیرہ کے کہ وہ بہرحال اس کو گناہ اور جرم سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ کبھی نہ کبھی اس سے توبہ کرلے گا۔ اور بدعت کی اس خطورت و شناعت کے بارے میں راقم آثم نے اپنی کتاب " تحفہ علم و حکمت " میں حدیث ۔ " مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ہٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ " ۔ کے ذیل میں کافی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اور جو کم و بیش کوئی پچیس سال قبل چھپ بھی گئی تھی اور اب تک کئی ہزار تک چھپ کر تقسیم بھی ہوچکی ہے ۔ والحمد للہ ۔ اللہ پاک قبول فرمائے ۔ آمین۔ اور راقم کا اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھنے کا بھی ارادہ ہے ۔ وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ وَالْمُعِیْنُ وَعَلَیْہِ نَتَوَکَّلُ وَ بِہٖ نَسْتَعِیْنُ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح ہوجاتا ہے کہ برائی کو اچھائی سمجھنا ہلاکتوں کی ہلاکت اور تمام تر خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے کہ ایسے لوگ پھر برائی کے چنگل سے کبھی نکل نہیں سکتے۔ یہاں تک کہ وہ ہلاکت و تباہی کے دائمی گڑھے اور ہولناک ہاویے میں جاگرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہی وجہ ہے کہ کافر اپنے کفر کو، مشرک اپنے شرک کو، ملحد اپنے الحاد کو، بت پرست اپنی بت پرستی کو، تعزیہ پرست اپنی تعزیہ پرستی کو اور قبر پرست اپنی قبر پرستی کو صحیح سمجھتا ہے اور اس کیلئے وہ اپنے طور پر طرح طرح کے من گھڑت دلائل پیش کرتا اور فلسفے بھگارتا ہے۔ اور بدعتی شخص طرح طرح کی بدعات میں مبتلا و ملوث ہونے کے باوجود اپنے آپ کو سنّی کہتا اور اپنی بدعت پرستی کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو پھر ایسوں کو نور حق و ہدایت ملے تو کیسے اور کیونکر ؟ سو ایسا شخص حق و ہدایت کے نور سے محروم ہی ہوتا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
20 ہدایت و ضلالت کے بارے میں سنت الہی کی طرف اشارہ : سو ہدایت و ضلالت کے بارے میں سنت الہی اور دستور خداوندی کی طرف اشارہ ہے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ گمراہی میں ڈالتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت سے نوازتا ہے جس کو چاہتا ہے "۔ کیونکہ اس کے یہاں سے ہدایت کی یہ دولت اسی کو ملتی ہے جو اس کے لئے طلب صادق رکھتا ہو۔ اور یہ جستجو اس قسم کے برخود غلط اور بدعتی لوگوں میں ہوتی نہیں۔ تو پھر ان کو ہدایت ملے تو کیونکر ؟ اور وہ وحدہ لاشریک دلوں کی دنیا کو پوری طرح جانتا ہے۔ اور وہی جانتا ہے کہ کس کے دل کی کیفیت کیا ہے۔ اسی کے مطابق وہ ہر ایک سے معاملہ فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ہدایت اور ضلالت کے بارے میں اس سنت الہی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس باب میں مقرر فرما رکھی ہے جس کا ذکر کتاب حکیم میں مختلف مقامات پر فرمایا گیا ہے جس کی وضاحت ہم بھی کئی جگہ کرچکے ہیں اور اسی سورة کریمہ میں اس کی مزید وضاحت آگے بھی آرہی ہے۔
21 معاندین کا معاملہ اللہ کے حوالے کرنے کی ہدایت : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کو ایسے لوگوں کے غم میں ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کردیں۔ بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان تمام کاموں کو جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ پس وہ ان کی خبر خود ہی لے لے گا۔ اور یہ لوگ اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہیں گے۔ آپ ﷺ کا کام تو صرف پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ اور وہ آپ ﷺ نے پورا کردیا۔ اس میں آپ ﷺ نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اب آپ کا ذمہ فارغ ہے۔ اب اللہ ان سے خود نپٹ لے گا۔ لہذا آپ ﷺ انکے بارے میں کوئی افسوس نہ کریں کہ یہ بدبخت اپنی ہلاکت اور تباہی کے ذمہ دار خود ہیں۔ انہوں نے خود عقلی اور روحانی خود کشی کو اختیار کر کے اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی کے اس ہولناک گھاٹ پر اتارا ہے۔ سو یہ اگر ایمان نہیں لا رہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ کی دعوت میں کوئی کسر ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر مہر لگ چکی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 35:922 کائنات کی عظیم الشان درسگاہ میں غور و فکر کی دعوت : سو یہ کائنات ایک عظیم الشان درسگاہ ہے جس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو جس طرح ویران پڑی ہوئی وہ زمین جس میں خاک اڑ رہی ہوتی ہے اور اس میں کسی چارے سبزے کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہوتا، باران رحمت کے چھینٹے پڑتے ہی وہ لہلہا اٹھتی ہے۔ ہر طرف ہریالی اور سرسبزی ہی کا دور دورہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح مر مٹنے کے بعد یہ سب مخلوق ربِّ قدیر کے حکم و ارشاد سے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑی ہوگی۔ یہاں مر کر جی اٹھنے کو انگوری اور پیداوار کے اگنے پر قیاس فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے قیاس شرعی کی حجیت ثابت ہوتی ہے۔ سو آسمان و زمین کی یہ عظیم الشان کائنات ایک ایسی عظیم الشان درسگاہ ہے جس میں اللہ پاک کی قدرت اور اس کی حکمت و عنایت کے دلائل وبراہین ہر طرف پھیلے بکھرے ہوئے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف باران رحمت سے زمین کے دوبارہ زندہ ہوجانے اور از سرِ نو لہلہا اٹھنے کے ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا گیا ۔ { کَذٰلِکَ النّشُوْر } ۔ یعنی " اسی طرح قیامت کے دن لوگوں کا از سرِ نو جی اٹھنا ہوگا "۔ سو اللہ پاک تو تم لوگوں کو مرنے اور مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا مشاہدہ اپنی اس دنیا میں بھی کرا رہا ہے اور برابر کرا رہا ہے تو پھر تم لوگ قیامت کو آخر ناممکن کیوں سمجھتے ہو ؟ سو اللہ پاک کی تخلیق فرمودہ یہ کائنات ان تمام حقائق کی تعلیم کے لیے ایک بہترین اور بےمثال درسگاہ ہے جنکی تعلیم قرآن حکیم دے رہا ہے۔ اگر انسان صحیح طور سے غور و فکر سے کام لے تو اس کو قرآن کے ہر دعوے کی دلیل اپنے دائیں بائیں ہر طرف ملے گی۔ مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ انسان غور و فکر سے کام لیتا ہی نہیں ۔ الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 35:1023 عزت سے سرفرازی کے صحیح طریقے کی تعلیم و تلقین : سو عزت سے سرفرازی کے لیے صحیح طریقے کی تعلیم و تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی عزت چاہتا ہو تو وہ جان لے کہ عزت سب کی سب اللہ ہی کیلئے ہے۔ پس تم سب لوگ اسی سے عزت مانگو کہ وہ اسی کی عطا و بخشش سے مل سکے گی۔ یہاں در اصل ایک بیماری کی نشاندہی فرمائی گئی اور اس کا علاج بھی ارشاد فرما دیا گیا ہے۔ یہ بیماری جو کل بھی تھی اور آج بھی ہے اور جس نے کل بھی بہت لوگوں کو حق سے محروم رکھا اور وہ آج بھی بہتوں کو حق سے محروم کر رہی ہے۔ اور یہ طلب عزت اور ہوس جاہ کی بیماری ہے۔ مشرکین عرب نے اسی عزت کے پانے کے خیال سے وہ جھوٹے اور بےبنیاد معبود گھڑ رکھے تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ قرآن کہتا ہے ۔ { وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لِّیَکُوُنُوْا لَہُمْ عِزًّا } ۔ ( مریم : 81) " انہوں نے اللہ کے سوا طرح طرح کے معبود گھڑ لئے تاکہ وہ ان کے لئے عزت کا باعث بنیں " اور اسی بنا پر مشرکین عرب دین حق کے خلاف صف آرا ہوگئے تھے اور آج کل کے قبر پرست کلمہ گوؤوں نے جو طرح طرح کے ناموں سے شرک و بدعت کے اڈے جابجا قائم کر رکھے ہیں اس کا ایک بڑا سبب اور اہم داعیہ بھی یہی چیز ہے۔ حالانکہ حق اور حقیقت یہ ہے کہ یہ چیزیں عزت کا سامان نہیں، دھوکے کے اسباب ہیں۔ ان سے عزت نہیں ملتی ذلت و ادبارہی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ قرآن کہتا ہے " ہرگز نہیں، یہ لوگ جن کی پوجا کر رہے ہیں وہ کل قیامت کے روز ان کی عبادت کا انکار کردیں گے اور ان کے دشمن ہوجائیں گے " ۔ { کَلا سَیْکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِمْ ضِدًّا } ۔ (سورئہ مریم : آیت نمبر 82) ۔ سو قرآن حکیم نے طلب عز و جاہ کے اس مہلک مرض کی تشخیص اور نشاندہی بھی فرما دی۔ اور اس کے علاج کیلئے نسخہ کیمیا بھی بتادیا کہ عزت سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ پس تم لوگ صحیح معنیٰ میں اللہ والے بن جاؤ۔ سچی اور حقیقی عزت سے سرشار ہوجاؤ گے اور اس کے ساتھ ہی اس کا طریقہ بھی ارشاد فرما دیا گیا جسکی تفصیل اگلے حاشیے میں آرہی ہے ۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
24 حقیقی عزت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ایمان اور عمل صالح : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ عزت اور ۔ حقیقی عزت ۔ سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ایمان صادق اور عمل صالح ہے۔ سو یہ ہے وہ طریقہ جس کے ذریعے اللہ پاک کے یہاں سے عزت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس میں دو چیزیں ارشاد فرمائی گئی ہیں اور دو ہی چیزیں دراصل ضرورت ہوتی ہیں۔ مثلاً اگر آپ رائفل سے فائر کر کے گولی ایک خاص نشانے تک پہنچانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو دو چیزوں کی ضرورت ہوگی۔ ایک یہ کہ اس کارتوس اور گولی میں مواد صحیح ہو جو آپ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ اس کو رائفل میں خاص طریقے سے ڈال کر چلائیں تب تو اس سے شیر بھی ہلاک ہوجائے گا ورنہ اس سے ایک بلی بھی نہیں مرسکتی۔ پس اللہ پاک کے یہاں جو چیز پہنچنے کے قابل ہے وہ ہے " الکَلِمُ الطَّیّب " ۔ " پاکیزہ کلمات " جس کا سب سے اہم فرد کلمہ توحید ہے۔ اور ابن عباس ؓ نے " الکَلِمُ الطَّیّب " سے کلمہ ایمان ہی مراد لیا ہے۔ اور اس کے ساتھ قرآن و سنت کے وہ تمام کلمات طیبات بھی جو اللہ اور اس کے رسول کے ارشادہ فرمودہ ہیں۔ اور یہی کلمہ طیب اساس و بنیاد ہے نور ایمان و یقین کی۔ اور اس پاکیزہ کلام " الکَلِمُ الطَّیّب " کو اوپر اٹھانے والی اور اللہ پاک کے حضور پہنچانے والی چیز نیک عمل ہے جس میں سب سے پہلے ایمان و یقین ہے۔ اور اس کے بعد تمام اعمال و عبادات۔ پس پاکیزہ کلام اور عمل صالح یعنی ایمان و یقین اور عمل و کردار میں جو کوئی جتنا بھی بڑھتا جائے گا اتنا ہی اللہ پاک کے یہاں اجر وثواب اور عزت و مقام حاصل کرتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک کی وہ تمام محبوب و مقدس ہستیاں جنہوں نے اس نسخے کو اپنایا وہ ایسی انمٹ عزت و عظمت سے مشرف و سرفراز ہوئیں کہ سینکڑوں ہزاروں برس گزر جانے پر بھی آج تک ان کا نام عزت و عظمت اور عقیدت و محبت سے لیا جاتا ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اس مقام سے متعلق مزید تفصیل انشاء اللہ اپنی مکمل اور مفصل تفسیر میں عرض کریں گے اگر اللہ پاک کی طرف سے توفیق و عنایت شامل حال رہی ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَہُوَ الْمُیَسِّرُلِکُلِّ عَسِیْر والْمُوَفِّقُ لِکُلِّ رُشْْدٍ وَصَوَابٍ ۔ بہرکیف سچی اور حقیقی عزت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ایمان اور عمل صالح ہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
25 حق کے مقابلے میں بری چالیں چلنے والوں کیلئے بڑا برا انجام : کہ ایک طرف تو ایسے لوگوں کیلئے بڑا سخت عذاب ہوگا اور دوسری طرف ان کی ان چالوں سے کچھ بگڑے گا نہیں بلکہ حق باقی و غالب رہے گا اور باطل ہر طرح سے سر ٹکرانے کے باوجود خائب و خاسر ہوگا۔ چناچہ تاریخ اور واقعات نے اس کی عملی تصدیق کردی۔ نور توحید پھیلا۔ حق کا جھنڈا لہرایا اور باطل سرنگوں ہوا ۔ والحمد للہ رب العلمین ۔ سو اس طرح کی چالیں چلنے والے اصل میں اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے برے انجام اور عذاب شدید کا سامان کرتے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ حق ایک ایسی متاع مشترک ہے جو سب کی صلاح و فلاح کا ذریعہ و وسیلہ اور ان کی بقا کا کفیل وضامن ہے۔ پس اگر کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے تو وہ خود اپنی ہی آنکھیں پھوڑتا اور خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑا مارتا ہے۔ سو حق کے خلاف بری چالیں چلنے والوں کا انجام بڑا برا ہے کہ ان کے لیے بڑا سخت عذاب بھی ہے۔ اور ان کی چالیں بھی نابود ہونگی کہ آسمان پر تھوکا خود انسان کے اپنے ہی منہ پر آلگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کے مقابلے میں چالیں چلنے والوں کا انجام بہت برا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 35:1126 خود اپنی جانوں میں دعوت غور و فکر : سو اس سے کفر و شرک کی تردید کے خود اپنی جانوں میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ سو کفر و شرک اور دوسرے توہمات کی تردید کے خود اپنی جانوں میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ ہی نے پیدا فرمایا تم سب کو ۔ اے لوگو !۔ مٹی سے کہ ایک تو تمہارے جدِّ امجد حضرت آدم کو مٹی سے پیدا فرمایا گیا اور دوسرے جس خوراک سے تمہارا مادئہ تولید بنتا ہے وہ بھی اسی مٹی سے حاصل ہوتی ہے۔ تو اس طرح بھی بالواسطہ تمہاری تخلیق و پیدائش اسی مٹی سے ہوتی ہے۔ اب دیکھو کہاں یہ بےحس اور بےجان مٹی اور کہاں اس سے وجود پذیر ہونے والا اور بننے والا یہ انسان، جس کو اشرف الخلائق کے شرف و اعزاز سے نوازا گیا ؟ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ سو جب تمہاری اس تخلیق اور وجود پذیری میں کوئی اسکا شریک وسہیم نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اسکا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس جب خالق ومالک وہ وحدہ لاشریک ہے تو ہر قسم کی عبادت و بندگی بھی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کفر و باطل اور مختلف قسم کی شرکیات میں مبتلا لوگ اگر خود اپنے وجود اور اپنی جانوں میں غور و فکر سے کام لیں تو ان کو کفر و شرک کے ان تمام اندھیروں سے نجات نصیب ہوسکتی ہے۔ سو انسان سوچے اور غور کرے کہ اس کو وجود کس نے بخشا ؟ نیست سے ہست کس نے کیا ؟ اس کو اس کی بقاء کے لیے درکار اس کے جسم کے اندر اور اس سے باہر کی ان عظیم الشان اور گوناگوں نعمتوں سے سرفراز و مالامال کس نے فرمایا ؟ تو اس سے اس کو ایمان و یقین کی روشنی نصیب ہوسکتی ہے اور اس کے کفر و شرک کے تمام اندھیرے یکسر چھٹ سکتے ہیں اور وہ دل و جان سے اپنے خالق ومالک حقیقی کے حضور جھک سکتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
27 پھر اسی نے بنایا تم سب کو جوڑے جوڑے : اور اس قدر پر حکمت طریقے سے کہ ہر جوڑے کے ایک فرد کی طبعی، نفسی اور فطری ضرورتوں کی تکمیل کے سامان کو بتمام و کمال دوسرے میں ودیعت فرما دیا گیا اور اس پر حکمت طریقے سے کہ ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر ناقص و ناتمام ہے۔ اور ہر ایک کا سکون و اطمینان دوسرے کے بغیر مفقود و عنقا ہے اور پھر معاشرے کو اس سے ملنے والے بیشمار فوائد الگ ہیں۔ سو تم لوگ سوچو اور غور کرو اور خود اپنے جسم و جان کے اندر پائے جانے والے اس کے ان دلائل وبراہین کے بارے میں سوچو اور غور کرو۔ اور اگر تم لوگ اپنی جان اور اپنے جسم وجان کے اس عظیم الشان مدرسہ ہی میں غور کرو تو تمہیں اس کی قدرت و حکمت اور حمت و عنایت کے ایسے عظیم الشان دلائل اور براہین نظر آئیں گے کہ تم دل و جان سے اس کی عظمتوں کے آگے جھک جھک جاؤ۔ مگر مشکل یہی ہے کہ تم لوگ اس بارے صحیح طور پر سوچتے ہی نہیں ہو۔ ورنہ اپنے جسم و جان کے اس عظیم الشان اور حکمتوں بھرے مدر سے ہی سے تمہیں سب کچھ مل جائے۔ تمہارے دل و دماغ روشن ہوجائیں اور راہ حق و حقیقت تمہارے سامنے پوری طرح روشن ہوجائے ۔ { وَفِی الاَرْضِ آیَاتٌ لِلْمُوْقِنِیْنَ وَفیِ اَنْفُسِکُمْ اَفَلا تُبْصِرُوْنَ } ۔ (الذاریات : 20-21) یعنی زمین میں پوری نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے اور خود تمہاری جانوں میں بھی۔ تو کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو ؟ یعنی تم لوگوں کو دیکھنا اور سوچنا چاہیے اور تم کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
28 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اس کے علم میں ہے "۔ پس ایسی عالم مطلق ذات اقدس و اعلیٰ کو دنیاوی بادشاہوں سے تشبیہ دینا اور ان پر قیاس کرکے اس کے لئے طرح طرح کے وسیلے گھڑنا اور واسطے فرض کرنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟ جس طرح کہ آج کل کے اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے ؟ اور اس طرح یہ لوگ اللہ پاک کے لئے طرح طرح کے من گھڑت واسطے اور وسیلے گھڑتے اور ثابت کرتے ہیں ۔ { فتَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلَوًّا کَبِیْرًا } ۔ اسی لئے قرآن حکیم نے اس طرح کی مثالیں گھڑنے سے صاف اور صریح طور پر منع فرمایا۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { فَلاَ تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ ط اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعَلَمُوْنَ } ۔ (النحل : 74) ۔ سو اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے کمال علم کے کچھ مظاہر کو پیش فرمایا گیا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے جو پوری طرح جانتا ہے کہ کونسی مادہ کب حاملہ ہوتی ہے اور یہ کہ اس کے پیٹ میں کیا ہے۔ بچہ ہے یا بچی۔ اور یہ کہ وہ اس کو کب اور کس شکل میں جنے گی۔ سو کوئی چھوٹا سے چھوٹا واقعہ بھی ایسا نہیں جو اس کے علم سے باہر ہو۔ تو پھر ایسی ذات اقدس و اعلیٰ کا کوئی شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟۔ اور اس کو کسی کو شریک بنانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ سو ۔ { الا بعلمہ } ۔ کے ارشاد سے مشرکین کے ایسے تمام توہمات کی جڑ نکال دی گئی ۔ فالحمد للہ رب العالمین المنزہ عن کل شائبہ من شوائب الکفر والشرک ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
29 سب کچھ ایک کتاب میں مندرج ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ صرف یہی نہیں کہ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے بلکہ یہ سب کچھ ثبت و مندرج ہے ایک عظیم الشان کتاب میں۔ یعنی لوح محفوظ میں۔ (جامع البیان، فتح القدیر، صفوۃ التفاسیر اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ جو ہر طرح سے محفوظ ہے اور جس کی حقیقت اللہ پاک ہی کو معلوم ہے۔ پس اہل بدعت کے بعض بڑوں کا یہ کہنا کہ اللہ والے لوح محفوظ کو اور اس میں جو کچھ ہے اسے بھی جانتے ہیں دعویٰ بلا دلیل اور قول مردود ہے۔ اور یہ خود لفظِ " محفوظ " کے مقتضیٰ کیخلاف ہے۔ کیونکہ " محفوظ " کے معنیٰ ہی یہ ہیں کہ جو ہر طرح سے محفوظ ہو۔ بہرکیف اس سے اوپر والے مضمون کی مزید تاکید و توثیق فرما دی گئی کہ اس کے احاطہ علم سے کوئی بھی چیز باہر نہیں۔ وہ صرف کلیات ہی کا عالم نہیں بلکہ جزئیات کو بھی جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
30 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور اس کے ایک تقاضے کا ذکر وبیان : سو اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اور اس کے ایک تقاضے کی طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ سب کچھ اللہ کیلئے بہت آسان ہے۔ یعنی تم لوگوں کو اپنے محدود علم وقدرت کے اعتبار سے خواہ یہ کتنا ہی بعید کیوں نہ لگے مگر اللہ پاک کے لئے یہ اس کے لامحدود و بےمثال علم وقدرت کے اعتبار سے بہت ہی آسان ہے ۔ جل جلالہ و عزسلطانہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ انسان چونکہ اپنے محدود علم و ادراک کے اعتبار سے ہی سوچتا ہے اور سوچ سکتا ہے اس لیے وہ محض اپنی عقل و فکر کے زور پر اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا پوری طرح احاطہ و ادراک کرنے سے عاجز اور قاصر ہے۔ اس لیے وہ اس وحدہ لاشریک کیلئے طرح طرح کے شریک تلاش کرتا ہے جس سے وہ راہ حق و ہدایت سے اور بھی دور ہوتا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کیلئے ان تمام حالات کو جاننا اور تن تنہا اس پوری کائنات کو چلانا اور اس پر کنٹرول کرنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ اسکا علم اور اس کی قدرت لامحدود ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس جن لوگوں نے اس وحدہ لا شریک کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کر کے اس کے لیے طرح طرح کے خود ساختہ اور من گھڑت وسیلے اور واسطے گھڑے اور وہ طرح طرح کی شرکیات میں مبتلاء و ملوث ہوئے وہ سراسر گمراہی اور اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -