اللہ تعالیٰ کا چاہا ہوا سب کچھ ہو کر رہتا ہے بغیر اس کی چاہت کے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جو وہ دے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اور جسے وہ روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ نماز فرض کے سلام کے بعد اللہ کے رسول ﷺ ہمیشہ یہ کلمات پڑھتے۔ اور حضور ﷺ فضول گوئی اور کثرت سوال اور مال کی بربادی سے منع فرماتے تھے اور آپ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے اور ماؤں کی نافرنیاں کرنے اور خود لینے اور دوسروں کو نہ دینے سے بھی روکتے تھے (بخاری۔ مسلم وغیرہ) صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے اسی آیت جیسی آیت (وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا هُوَ ۭ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ بِخَيْرٍ…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 4
اس کا مقصود بھی مشرکین کی اس غلط فہمی کو رفع کرنا ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے کوئی انہیں روزگار دلانے والا اور کوئی ان کو اولاد عطا فرمانے والا اور کوئی ان کے بیماروں کو تندرستی بخشنے والا ہے۔ شرک کے یہ تمام تصورات بالکل بےبنیاد ہیں اور خالص حقیقت صرف یہ ہے کہ جس قسم کی رحمت بھی بندوں کو پہنچتی ہے محض اللہ عز وجل کے فضل سے پہنچتی ہے۔ کوئی دوسرا نہ اس کے عطا کرنے پر قادر ہے اور نہ روک دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید اور احادیث میں بکثرت مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان در در کی بھیک مانگنے اور ہر آستانے پر ہاتھ پھیلانے سے بچے اور اس بات کو اچھی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(آیت) ما یفتح اللہ للناس من رحمة فلا ممسک لھا، یہاں لفظ رحمت عام ہے اس میں دینی اور اخروی نعمتیں داخل ہیں، جیسے ایمان اور علم اور عمل صالح اور نبوت و ولایت وغیرہ اور دنیوی نعمتیں بھی، جیسے رزق اور اسباب اور آرام و راحت اور صحت و تندرستی اور مال و عزت وغیرہ معنی آیت کے ظاہر ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے لئے اپنی رحمت کھولنے کا ارادہ کرے اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔
اسی طرح دوسرا جملہ وما یمسک عام ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ روکتا ہے اس کو کوئی کھول نہیں سکتا۔ اس میں دنیا کے مصائب و آلام بھی داخل ہیں کہ جب اللہ ان کو اپنے کسی بندے سے روکنا چاہیں تو کسی کی مجال نہیں کہ ان کو کوئی گزند و مصیبت پہنچا…
Read the full tafseer →آیت 2
یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں خدا ہی شکر کا سزاوار ہے۔ فرمایا کہ اللہ تمہارے لئے جس فضل و رحمت کا بھی دروازہ کھولنا چاہیے وہ اس کو کھول سکتا ہے، کوئی اس کے فضل و رحمت کو روک نہیں سکتا۔ اسی طرح اگر وہ کسی رحمت سے محروم کرنا چاہیے تو کسی کی طاقت نہیں کہ وہ تمہیں اس سے بہرہ مند کرسکے۔ یہی مضمون سورة زمر میں یوں بیان ہوا ہے۔
قل افراء یتم ما تدعون من دون اللہ انی ارادنی اللہ بضر ھل من لشفت ضرہ اواردنی برحمتہ ھل عن ممسکت رحمتہ (الزمر : 38)
اللہ کے سوا جن معبودوں کو تم پکارتے ہو کبھی تم نے ان پر غور کیا ہے۔ اگر اللہ مجھے کوئی ضرور پہنچانا چاہے تو کیا وہ اس کے دفع کرنے والے بن سکتے ہیں…
Read the full tafseer →2۔ 1 ان ہی نعمتوں میں سے ارسال رسل اور انزال کتب بھی ہے۔ یعنی ہر چیز کا دینے والا بھی ہے، اور واپس لینے والا یا روک لینے والا بھی وہی ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معطی ہے اور نہ مانع و قابض۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: پچھلے جملے کی مناسبت سے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن فرشتوں کی پروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، اضافہ کردیتا ہے، چنانچہ حضرت جبرئیل ؑ کے چھ سو پروں کی تعداد حدیث میں آئی ہے، لیکن الفاظ عام ہیں، اور ہر تخلیق کو شامل ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی تخلیق میں چاہتا ہے، کسی خاص وصف کا اضافہ فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →ما یفتح اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (2) ” “۔
اس سورة کی اس دوسری آیت میں اللہ کی قدرتوں کا ایک رنگ دکھایا گیا ہے جبکہ پہلی آیت میں اللہ کی قدرت کا ذکر تھا۔ جب یہ رنگ کسی انسان کے تصور اور عمل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے تصورات ، اس کا شعور ، اس کا رخ ، اس کے حسن و قبح کے پیمانے بھی اس رنگ میں رنگے جاتے ہیں اور اسکی پوری زندگی اس رنگ میں رنگی جاتی ہے۔
یوں کہ یہ رنگ انسان کو اس کائنات کی پوری قوتوں سے کاٹ کر اللہ کی قوت سے جوڑ دیتا ہے۔ اسے زمین و آسمان کی تمام مشکوک رحمتوں سے مایوس کردیتا ہے۔ صرف اللہ کی رحمت سے جو ڑتا ہے اور اس کے امیدوار بنا دیتا ہے۔ زمین و آسمان کے تمام دروازے بند کرکے صرف…
Read the full tafseer →8 رحمت جسمانی ہو مثلا بارش، روزی وغیرہ یا روحانی جیسے انزال کتب و ارسال رسل۔ غرض اللہ جب لوگوں پر اپنی رحمت کا دروازہ کھولے، کون ہے جو بند کرسکے۔
9 یعنی اپنی حکمت بالغہ کے موافق جو کچھ کرنا چاہے فورا کر گزرے ایسا زبردست ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔
Read the full tafseer →آیت 2 { مَا یَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِکَ لَہَا } ”جو رحمت کا دروازہ بھی اللہ لوگوں کے لیے کھول دے تو اسے بند کرنے والا کوئی نہیں۔“
یہاں ”رحمت“ سے مراد نبوت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے وحی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ اللہ کی رحمت کا بہت بڑا مظہر ہے۔ اسی لیے سورة الانبیاء میں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں فرمایا گیا : { وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ ”اور اے نبی ﷺ ! ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر“۔ بنی نوع انسان کو چونکہ ایک بہت بڑے امتحان سے سابقہ ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی آسانی کے لیے نبوت کا…
Read the full tafseer →5 رحمت کی مادی شکل بارش اور روحانی شکل وحی الٰہی ہے۔ باقی ہر طرح کی رحمتیں ان کے بعد ہیں۔ اور یہ دونوں باتیں خالصتاً اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ جن میں مشرکوں کے معبودوں کا ذرہ بھر بھی دخل نہیں۔ وہ چاہیں بھی کہ وحی الٰہی کو روک دیں تو کبھی نہیں کرسکتے۔ اور نہ ہی وہ یہ کرسکتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ قریش پر قحط مسلط کر دے تو وہ بارش برسا کر اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو رفع کردیں اور جو کچھ خود چاہتا ہے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق کرتا ہے اور جو کچھ کرنا چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ سب پر غالب ہے۔
Read the full tafseer →5۔ وہی نعمتوں کے بند کرنے پر بھی قادر، وہی کھولنے پر بھی قادر، اور ہر پہلو مصلحت و حکمت ہی کی بنا پر اختیار کرنے والا۔ (آیت) ” بعدہ “۔ یعنی اس کے امساک کے بعد۔ اے بعد امسا کہ (بیضاوی۔ روح) بعض نے ضمیر اللہ کیجانب مانی ہے۔ اس صورت میں بعد مرادف ہوگا غیر کے۔ اے فلا یقدر علی ارسالھم غیر اللہ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفوں کا سزاوار وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا کسی سابقہ نمونہ کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون سے اپنی حمد بیان فرمائی ہے، جیسا کہ سورة سبا کے شروع میں بیان کیا گیا تھا اور جو فرشتوں کو انبیاء کی جانب پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین چارچار پر ہیں اور وہ ملائکہ کی تخلیق میں جو چاہے اضافہ کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ یقیناً پر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے جو رحمت مثلاً رزق اور بارش کھول دے تو اسے بند کرنے والا نہیں اور ان میں سے جس کو بند کردے اس کے بند کرنے…
Read the full tafseer →ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا وما یمسک فلا مرسل لہ من بعد وھو
العزیز الحکیم اللہ جو رحمت (بارش وغیرہ) لوگوں کیلئے کھول دے ‘ سو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کر دے ‘ سو اس کی بندش کے بعد کوئی اس کو جاری کرنے والا نہیں اور وہی غالب ‘ حکمت والا ہے۔
یفتح فتح کا معنی ہے کھولنا ‘ مجازاً مراد ہے عطا کرنا۔ سبب کا اطلاق مسبب پر کیا گیا ہے یعنی جو رحمت اللہ تعالیٰ عطا فرمائے۔
رحمت دنیوی ہو جیسے بارش ‘ رزق ‘ امن ‘ صحت ‘ عزت ‘ حکومت ‘ مال ‘ اولاد وغیرہ یا دینی ہو جیسے ایمان ‘ علم دین ‘ نبوت ‘ نیکیوں کی توفیق وغیرہ۔ من رحمۃٍ میں لفظ رحمت ہر قسم کی رحمت کو شامل ہے۔
فَلاَ مُمْسِکَ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ جو رحمت یعنی بارش رزق اور سلامتی بندوں کے لیے بھیجے تو اس کی رحمت کا کوئی روکنے والا نہیں اور جس رحمت کو وہ بند کردے سو اس کے بند کرنے کے بعد کوئی اس رحمت کا جاری کرنے والا نہیں۔
اور وہ بند کرنے پر غالب اور جو چھوڑی ہے اس میں حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ۔۔ : اس آیت سے مقصود بھی مشرکین کی اس غلط فہمی کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کوئی انھیں اولاد، روزی یا کوئی نعمت دے سکتا ہے یا روک سکتا ہے۔ رحمت سے مراد وہ نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے، چاہے وہ مادی ہو جیسے بارش، روزی، اولاد اور صحت وغیرہ، یا معنوی اور روحانی ہو، جیسے علم و حکمت، ایمان و اسلام، بعثت انبیاء، دعا کی قبولیت اور توبہ کی توفیق وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ وہ اپنی نعمت کسی کو دینا چاہے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں اور روکنا چاہے تو کوئی اسے دینے والا نہیں۔…
Read the full tafseer →آیت : ما یفتح اللہ للناس من رحمتہ فلا ممسک لھا قرآن کے علاوہ نحویوں نے فلا ممسک لھا جائز قرار دیا ہے وہ ما کے لفظ کا اعتبار کرتے ہیں اور لھا میں معنی کا اعتبار کرتے ہیں۔ انہوں نے و ما یمسک فلا مرسل لھا کو بھی جائز قرار دیا ہے اور انہوں نے یہ بھی جائز قرار دیا ہے آیت : ما یفتح اللہ للناس من رحمتہ یعنی یفتح پر رفع کو جائز قرار دیا ہے۔ ما یہ الذی کے معنی میں ہے، یعنی رسولوں کو لوگوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی بھی ان کو بھیجنے پر راضی نہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ ان پر بارش یا رزق بھیجتا ہے کوئی اسے روکنے پر قادر نہیں (2) (تفسیر الماوردی، جلد…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یفتح اللہ للناس “ یعنی لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ تو بہ کا دروازہ نہیں کھولتے (آیت) ” فلا مرسل لہ من بعدہ “ (تو اس کے بعد اس کے کوئی کھولنے والا نہیں) یعنی وہ توبہ نہیں کریں گے۔
2:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا وما یمسک، فلا مرسل لہ من بعدہ “ (اللہ تعالیٰ جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کردے سو اس کی بندش کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں) پھر فرماتے ہیں (آیت) ” لیس لک من الامر شیء “ (آل عمران آیت (135) یعنی…
Read the full tafseer →مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ [جو کھول دے اللہ ] لِلنَّاسِ [لوگوں کے لئے ] مِنْ رَّحْمَةٍ [کسی رحمت میں سے ] فَلَا مُمْسِكَ [تو کوئی بھی روکنے والا نہیں ہے ] لَهَا ۚ [اس کو ] وَمَا يُمْسِكْ ۙ [اور جو وہ روک لے ] فَلَا مُرْسِلَ [تو کوئی بھی بھیجنے والا نہیں ہے ] لَهٗ [اس کو ] مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ [اس (روک) کے بعد ] وَهُوَ الْعَزِيْزُ [اور وہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [حکمت والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان رحمت کو بیان فرمایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو بھی کوئی رحمت کھول دے یعنی لوگوں پر رحم فرمائے اس رحمت کو کوئی روکنے والا نہیں جس شخص پر بھی جس طرح کی نعمت اللہ تعالیٰ بھیجنا چاہے اسے اس پر پوری پوری قدرت ہے، کسی بھی مخلوق کی مجال نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو روک دے، بعض چھوٹے درجہ کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے وہ بڑھتے اور ترقی کرتے چلے جاتے ہیں جلنے والے ان سے جلتے ہیں، حسد کرنے والے ان سے حسد کرتے ہیں لیکن کچھ کر نہیں سکتے، اللہ تعالیٰ کی رحمت برابر جاری رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو جس سے روک لے کسی میں طاقت نہیں کہ اس کو جاری کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تحمید خداوند حمید ومجید برائے اثبات توحید وتذکیر نعم وتحذیر از نقم
قال تعالیٰ الحمد للہ فاطر السموت والارض جاعل الملئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم بما یصنعون۔
(ربط) گذشتہ سورت کے اخیر میں کفار ومشرکین کی ہلاکت کا ذکر تھا کہ ان پر اللہ کا قہر نازل ہوا۔ اور ہلاک اور برباد ہوئے اور کافروں کی ہلاکت اور بربادی اللہ کی نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے۔ کما قال تعالیٰ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔
اس لئے اس سورت کا آغاز اللہ کی حمد وثنا سے کیا گیا (روح المعانی ص 148 ج 22) اور اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا ذکر کر کے شکر پر متنبہ کیا…
Read the full tafseer →5:۔ ما یفتح اللہ الخ : یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ رحمت و برکت اللہ کے قبضے میں ہے جس پر چاہے رحمت کے دروازے کھول دے اور جس پر چاہے بند کردے۔ وہ جس پر رحمت کے دروازے کھول دے انہیں کوئی بند نہیں کرسکتا اور جس پر بند کردے انہیں کوئی کھول نہیں سکتا۔ وہ سب پر غالب ہے کوئی اس کے ارادے پر غالب نہیں آسکتا۔ وہ سب پر غالب ہے کوئی اس کے ارادے پر غالب نہیں آسکتا۔ اور اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں جب رحمت و برکت کے دروازے کھولنا اور بند کرنا اسی کے اختیار میں ہے تو کارساز بھی وہی ہے لہذا ما فوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اس سورة مبارکہ کی ابتداء حمد باری تعالیٰ سے ہوئی۔ سب تعریفیں اور ستائشیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا ایجاد کنندہ ہے جس نے فرشتوں کو پیغام رسانی کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ فرشتوں کے متعدد پر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے تخلیق میں اضافہ کردیتا ہے۔ یہ فرشتے پیغام رسانی کے علاوہ فیضان رسانی کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی رحمت کا ذکر فرمایا ہے اور اپنی صفت خلق کو بیان کیا ہے۔ ساتھ ساتھ شرک کی تردید ہے اور آخر میں نبی (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ہے۔
ارشاد ہوتا ہے ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت…
Read the full tafseer →مَا يَفْتَحِ اللہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِكَ لَہَا 0 ۚ وَمَا يُمْسِكْ 0 ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَہٗ مِنْۢ بَعْدِہٖ 0 ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 2
فتح
الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، وذلک ضربان :
أحدهما : يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] ، وَلَوْ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ باباً مِنَ السَّماءِ [ الحجر/ 14] .
والثاني : يدرک بالبصیرة کفتح الهمّ ، وهو إزالة الغمّ ، وذلک ضروب : أحدها : في الأمور الدّنيويّة كغمّ يفرج، وفقر يزال بإعطاء المال ونحوه، نحو : فَلَمَّا نَسُوا ما ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترکیب : فاطر السمٰوٰت الاضافۃ معنویۃ لانہ بمعنی الماضی فصح و قوع فاطر صفتہ للہ، وکذلک جاعل الملائکۃ قال الطیبی ان جاعل باعتبارانہ یدل علی المضی یصلح کونہ صفۃ للمعرفۃ و باعتبارانہ یدل علی الحال والا ستقبال، یصلح للعمل فرسلاً مفعول ثانٍ ۔ و اولی بدل من رسل او لغت لہ ویجوزان یکون جاعل بمعنی خالق فیکون رسلاحا لا مقدرۃ و مثنی لغت للاجنحۃ یزید فی الخلق مستانف مایفتح اللہ ماشرطیۃ موضع نصب و من رحمتہ بیان لذلک۔
تفسیر : قرطبی کہتے ہیں، سب کے نزدیک یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے اور بخاری وغیرہ نے بھی ابن عباس ؓ سے یہی روایت کی ہے اور جو سورتیں الحمد کے ساتھ شروع ہوئی ہیں، یہ ان کا خاتمہ ہے۔ ہم پہلے بھی…
Read the full tafseer →مَایَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلاَ مُمْسِکَ لَھَا ج وَمَا یُمْسِکَ لا فَلاَ مُرْسِلَ لَـہٗ مِنْ م بَعْدِہٖ ط وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (فاطر : 2)
(اللہ جس رحمت کا دروازہ لوگوں کے لیے کھول دے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں اور جسے وہ روک دے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ )
توحید پر ایک اور دلیل
مشرکین جس طرح فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی قدرت میں دخیل سمجھتے تھے، اسی طرح جنات اور بعض دوسری قوتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے شریک کے طور پر پکارتے اور ان کی بندگی بجالاتے تھے۔ اور انھیں گمان یہ تھا کہ ان قوتوں کے خوش رہنے سے انھیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قادر قدیر کے اختیار ات کی ایک اور جھلک پر غور کریں۔
مشرکین میں سے ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں یہاں اس عقیدہ کی کھلے الفاظ میں نفی کرتے ہوئے سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کسی ذات کو رائی کے دانے کے برابر بھی اپنی خدائی میں اختیارات نہیں دیئے۔ وہ کسی کو اپنی رحمت سے سرفراز کرنا چاہے تو اسکی رحمت کو کوئی روکنے والا نہیں اگر وہ اپنی رحمت کو روک لے تو اسے کوئی نازل کرنے والا نہیں ہے۔ وہ اپنے حکم اور فیصلے نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پوری طرح غلبہ حاصل ہونے کے باوجود اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر…
Read the full tafseer →2: مَا یَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ (اللہ تعالیٰ جو رحمت لوگوں کیلئے کھول دے) رحمۃؔ کے لفظ کو نکرہ لاکر اشاعت و ابہام یعنی ہر قسم رحمت کو شامل کیا گویا اس طرح فرمایا جونسی رحمت ہو خواہ رزق، بارش یا صحت یا اور کچھ فَلاَ مُمْسِکَ لَھَا (اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں) کسی کو اس کے روکنے اور بند کرنے کی طاقت نہیں۔ یفتح کا لفظ اطلاق و ارسال کے معنی کیلئے بطور مجاز استعمال فرمایا۔ مراد عطاء کرنا ہے اس کے بالمقابل ما یمسک کا لفظ جو روکنے اور بند کرنے کے معنی میں۔ استعمال کیا گیا۔ وَمَا یُمْسِکْ (اور جو وہ بند کردے) ۔ فَلاَ مُرْسِلَ لَہٗ (اس کو کوئی جاری کرنے والا نہیں) یعنی بندش و روک…
Read the full tafseer →2، مایفتح اللہ للناس من رحمۃ، رحمت سے مراد بارش اور رزق ہے۔ ، فلا ممسک لھا، ان میں سے کسی ایک کی کوئی طاقت نہیں کہ وہ اس کو رو کے رکھے ۔ ، وما یمسک فلا مرسل لہ من بعد ہ وھوالعزیز، اور وہ جس چیزکو روک لے ۔ ، الحکیم ، جو بارش اور رزق میں سے وہ روک لے۔
حضرت مغٖیرہ بن شعبہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے، لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد،
Read the full tafseer →2۔ صحیح سند سے مسند امام احمد اور ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے 2 ؎ (2 ؎ مشکوۃ باب التوکل وابصر فصل دوسری ‘) جس میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کو طرح طرح کی نصیحت فرمائی ہے اس حدیث کا ٹکڑا گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے فرمایا کہ اگر تمام روئے زمین کی مخلوقات جمع ہور تم کو کچھ فائدہ پہنچانا چاہے تو بدوں حکم خدا کے کوئی قفائدہ کسی طرح کا ہرگز تم کو نہ پہنچاسکیں گے۔ اسی طرح تمام دنیا کے لوگ ضرر پہنچانے پر آمادہ ہوجاویں تو بدوں حکم خدا کے کبھی کوئی شخص کچھ ضرر ہرگز تم کو نہ پہنچا سکے گا اس واسطے پنجگانہ نماز کے بعد آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ خو دپاین ذات مقدس کی مدح و ثنا کرتا ہے کہ اس نے زمین و آسمان اور ان کے اندر موجود تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ یہ اس کے کمال قدرت، وسعت، اقتدار، بےپایاں رحمت، انوکھی حکمت اور احاطہ علم کی دلیل ہے۔ تخلیق کائنات کا ذکر کرنے کے بعد اس چیز کا تذکرہ کیا کہ بیشک وہی (جاعل الملئکۃ رسلا) ” فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے “ اس نے اپنے حکم قدری کی تدبیر اور اپنے حکم دینی کی تبلیغ کے لئے اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان واسطے کے لئے، فرشتوں کو پیغام رساں بنایا۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیغام رساں بنانے کا ذکر فرمایا اور ان میں سے کسی کو مستثنی نہیں کیا، یہ ان کی اپنے رب کے لئے کامل…
Read the full tafseer →6 رحمت خداوندی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی ہر رحمت و عنایت اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ اپنے بندوں کیلئے جو بھی کوئی رحمت کھول دے کوئی اس کو روکنے والا نہیں "۔ " رحمۃٍ " یہاں پر نکرہ ہے۔ اور اس پر " من " استغراقیہ داخل ہے۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ کوئی بھی نعمت و رحمت خواہ وہ چھوٹی سے چھوٹی ہو یا بڑی سے بڑی، دینی ہو یا دنیاوی، روحانی ہو یا جسمانی، ظاہری ہو یا باطنی، حسی ہو یا معنوی وغیرہ وغیرہ وہ سب اسی کی طرف سے ہے اور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہ دینے پہ آئے تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
شیطان انسان کا دشمن ہے
تشریح : اوپر دی گئی آیات کو جب ہم غور سے پڑھ لیتے ہیں تو ہمیں اللہ کی قدرت کا پورا یقین ہوجاتا ہے پھر ہمیں اس کا پروگرام سمجھ آ نے لگتا ہے اور یوں تو کل مضبوط ہوجاتا ہے۔ پھر مضبوط ایمان و ارادہ ہمیں شیطان سے نمٹنے کی پوری طاقت دے دیتا ہے اور ہم اپنے نیکی کے فرشتوں کی مدد سے اس کو ہرا دیتے ہیں اسی کو کہتے ہیں مرد کامل یعنی کامیاب انسان۔ فرشتوں کا ذکر ہوچکا اب ذرا شیطان کا مطلب بھی سمجھ لیا جائے تو شیطان جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے برائی کرنے والا، برا راستہ دکھانے والا۔ انسان کی پیدائش پر شیطان ناراض ہوگیا تھا کیونکہ یہ بھی انسان کی طرح عمل اور ارادہ کی طاقت رکھتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 7:
اسرار و معارف :
سورۃ فاطر اسی مضمون کو لیکر آگے بڑھتی ہے کہ تمام تر کمالا صرف اللہ واحد کو سزاوار ہیں کہ وہ اکیلا خالق ہے آسمانوں اور زمینوں کا ان کی تمام تر مخلوقات اور مخلوقات کے تمام تر اوصاف کا فرشتے بھی اس کی مخلوق ہیں جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں اس کے اور اس کی دوسری مخلوق کے درمیان واسطے کا کام کرتے ہیں جیسے سب سے اعلی انبیاء (علیہم السلام) اور ان پر وحی لانے کا کام مخلوق کو روزی روزق پہنچانے یا عذاب وثواب اور صحت و بیماری یعنی وہ خود ہر آن اللہ کی اطاعت پر کمر بستہ ہیں نہ یہ کہ انہیں معبود بنا لیا جائے ان کی قوت و طاقت اللہ ک عطا کردہ ہے جیسے کسی کو دو…
Read the full tafseer →ف 8 رحمت سے مراد ہر وہ نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرمائے چاہے وہ مادی ہو جیسے بارش اور روزی وغیرہ۔ یا روحانی جیسے بعث انبیاء، دعا کی قبولیت، توبہ ہدایت وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرح سے ہے۔ وہ اپنی نعمت کسی کو دنیا چاہے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں اور روکنا چاہے تو کوئی اسے دینے والا نہیں۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ ( اللھم لا مانج لما ما اعطیت ولا معطی لما صنعت ولا ینفع ذا الجدمشک الجد) اے اللہ ! جسے تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس سے تو روکے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ تیرے مقابلہ میں کسی بڑائی…
Read the full tafseer →(35:2) ما یفتح اللہ۔ ما شرطیہ ہے۔ یفتح مضارع مجزوم (بوجہ عمل ما شرطیہ ) واحد مذکر غائب۔
من رحمۃ میں من تبعیضیہ ہے۔ ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ۔ اللہ تعالیٰ (اپنی) رحمت میں سے لوگوں کو جو عطا فرمائے (یا لوگوں کے لئے جو رحمت کھول دے) ۔
فلا ممسک لھا۔ میں لا نفی جنس کا ہے۔ ممسک اسم فاعل واحد مذکر منصوب بوجہ عمل لا نفی جنس۔ امساک (باب افعال) بمعنی روکنے والا۔ بند کرنے والا۔ فلا ممسک لھا۔ کوئی اس (رحمت ) کو روکنے والا نہیں۔ بند کرنے والا نہیں۔
وما یمسک۔ ما شرطیہ۔ یمسک (مضارع مجزوم بوجہ عمل ما شرطیہ) واحد مذکر غائب۔ اور جو وہ روک دے، بند کر دے۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔
فلا مرسل لہ۔ لا نفی جنس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن ۔ (آیت نمبر 1 تا 7) فاطر (پیدا کرنے والا) جاعل ( بنانے والا) اجنحۃ ( جناح) (پر ۔ بازو) مثنی۔ (دو دو) ثلث۔ ( تین تین) ربع ( چار چار) لایفتح (وہ نہیں کھولتا ہے) ممسک ( روکنے والا) انی (کہاں) تو فکون (الٹے پھرے جا رہے ہیں) لا تغرن ( ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے) الغرور (دھوکا ، فریب) حزب ( جماعت) مغفرۃ (معافی) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 :۔ اس کائنات میں جتنی بھی قابل تعریف خوبیاں ہیں وہ اس اللہ کی ذات کے لئے مخصوص ہیں جو ارض و سماء کا مالک اور سب کا رازق ہے۔ کائنات میں ہر طرف اس کی عظمت کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں ۔ اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی کہ اللہ نے زمین…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں۔
(ف 2) اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ آدمیوں کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دے تو کوئی اس رحمت کاروکنے والا نہیں اور جو بند کردے اور روک دے تو کوئی پھر اس کو کھولنے والا نہیں، غرض سب کچھ اسی کے قبضہ میں ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے۔ اس کے سامنے کسی کی مجال نہیں جو اس کے انتطام میں دخل دے سکے اور جو کام وہ کرتا ہے حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] رسول اکرم ﷺ کو تسلی دینی مقصود ہے کہ ان لوگوں کا تم کو جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ تم سے پہلے بھی لوگوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا لیکن انہوں نے صبر کیا لہذا تم بھی صبر کرو۔ علاوہ بریں آخرکار معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ وہ جھٹلانے والوں سے سمجھ لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
ف 2: ان دو آیتوں میں توحید کی حقیقت بیان فرمائی ہے ۔ کہ تمام اختیارات اور قدرتیں صرف اس اللہ سے مختص ہیں ۔ کوئی شخص اس کے ارادوں میں مزاحمت نہیں کرسکتا ۔ وہ اگر کسی شخص کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو پھر کوئی خشص ان دروازوں کو مسدود نہیں کرسکتا ۔ اگر کسی شخص پر اس کے فضل وکرم کے ابواب بند ہوجائیں ۔ تو پھر کوئی بڑی سے بڑی شخصیت بھی ان کو کھول دینے پر قادر نہیں وہ تنہا اس کائنات کا حاکم ہے تم صرف اسی کے ممنون احسان بنو ۔ اور کسی ماسوا سے سے رزق کی توقع نہ رکھو ۔
حل لغات :۔ الغرور ۔ دھوکہ دینے والا شیطان الشعیر ۔ آگ ۔
Read the full tafseer →(2) جو کچھ کھول دے اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے رحمت اور مہر سے تو اس کا کوئی روکنے اور بند کرنے والا نہیں اور وہ جو کچھ روک لے اور بند کرلے تو اس کے بند کئے پیچھے کوئی بھیجنے والا اور جاری کرنے والا نہیں اور وہی ہے کمال قوت کمال علم کا مالک۔ یعنی اس کی قدرت کاملہ کا یہ عالم ہے کہ وہ مہربانی سے اپنے بندوں کو نوازنا چاہے تو اس کی مہربانی کو کوئی روکنے والا نہیں اور اگر وہ خود اپنی کسی مصلحت سے کوئی چیز روک لے تو اس کے روکنے کے بعد کوئی جاری کرنے والا نہیں۔
مثلاً اگر وہ بارش اور نباتات کی روئیدگی اور ارزانی کا دروازہ کھول دے تو کوئی ان نعمتوں کو روک نہیں سکتا اور اگر کبھی حضرت حق تعالیٰ ہی اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2۔ پیغام سے مراد وحی لانا انبیاء (علیہم السلام) کی طرف عام اس سے کہ شرائع ہوں یا بشارات وغیرہ ہوں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کسی کے لئے رحمت کا درازہ کھول دے تو کوئی نہیں جو اس کو بند کرسکے
2 ۔ زیر نظر آیت کو گزشتہ آیت کے ساتھ ملا کر اگر اس کا مفہوم بیان کیا جائے تو ہمارے بیان کردہ نظریہ کی تصدیق ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے اپنی رحمت کا دروازہ کھولتا ہے تو اس کے لئے وہ اسباب پیدا کردیتا ہے اور بلا شبہ فرشتوں کی مدد خواہ وہ دعاواستغفار کے طور پر ہو اور خواہ کسی دوسرے طریقہ پر انسان کو میسر آتی ہے اور آدمی دنیا اور آخرت میں کامیابیاں حاصل کرتا ہے اور یہ بھی کہ اگر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے کسی کے لئے رحمت کا دروازہ کھل جائے تو کوئی اس کو نہ تو بند کرسکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے سے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
The word: رَّحْمَةٍ (rahmah: mercy) appearing in verse 2: مَّا يَفْتَحِ اللَّـهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا (Whatever blessing Allah opens for the people, there is none to hold it back,) is general at this place. It includes blessings of one's religion in this world along with those of the Hereafter, such as, faith, knowledge, rightly guided conduct as well as the mission of a prophet and the station of a Waliyy or man of Allah. And it also includes material blessings in the present world, such as, provisions, means, comfort, health, wealth, property, recognition and…
Read the full tafseer →4 This also is meant to remove the misunderstanding of the polytheists, who believed that from among the servants of Allah some one gave them the jobs, some one the children and some one health to their patients. All these superstitions of shirk are baseless, and the pure truth is just that whatever of mercy reaches the people, reaches them only through Allah Almighty's bounty and grace. No one else has the power either to bestow it or to withhold it. This theme has been expressed at many places in the Qur'an and the Ahadith in different ways so that man may avoid the humiliation of begging…
Read the full tafseer →