Faatir 35:3

Faatir · from ayah 3

35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ ؕ— هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ؕ— لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۖؗ— فَاَنّٰی تُؤْفَكُوْنَ ۟يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡؕ هَلۡ مِنۡ خَالِـقٍ غَيۡرُ اللّٰهِ يَرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۖ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ

لوگو خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو۔ کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رازق ہے) جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

O mankind, remember the favor of Allah upon you. Is there any creator other than Allah who provides for you from the heaven and earth? There is no deity except Him, so how are you deluded?

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:3

لوگو، تم پر اللہ کے جو احسانات ہیں انہیں یاد رکھو کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ کوئی معبود اُس کے سوا نہیں، آخر تم کہاں سے دھوکا کھا رہے ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لوگو خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو۔ کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رازق ہے) جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

لوگو! تم پر جو انعام اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم کہاں الٹے جاتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے لوگو ! یاد کرو ان نعمتوں کو جو اللہ نے تم پر نازل کی ہیں۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو ؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر آخر تم کہاں اوندھے چلے جارہے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو کیا اللہ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے کہ آسمان اور زمین سے تمہیں روزی دے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں اوندھے جاتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے لوگو! اپنے اوپر اﷲ کے انعام کو یاد کرو، کیا اﷲ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو ! اللہ کی نعمت یاد کرو جو تم پر ہے، کیا اللہ کے سوا کوئی پیدا کرنے والا ہے، جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو ؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں بہکائے جاتے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوگو ! اپنے آپ پر اللہ کے احسان کو یاد رکھو، کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق دے (یاد رکھو) اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، پھر تم کہاں سے دھوکہ کھا جاتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے لوگو ! تمہارے اوپر اللہ کا جو انعام ہے اس کا دھیان کرو۔ کیا للہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق بہم پہنچاتا ہو ! اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے لوگوں یاد کرو تم اللہ کے ان (طرح طرح کے) احسانات کو جو اس نے تم پر فرمائے ہیں کیا اللہ کے سوا اور کوئی خالق ہے جو تمہیں رزق سے نوازتا ہو آسمان اور زمین سے کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں سوائے اس (وحدہ لاشریک) کے پھر تم لوگ کہاں (اور کیسے) اوندھے ہوئے جا رہے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اے لوگو ! اللہ کے احسانات اپنے اوپر یاد کرو کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی بہم پہنچاتا ہے ؟ کوئی معبود نہیں اس کے سوا سو تم کہاں الٹے چلے جارہے ہو ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے لوگو ! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہوئی ہے کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہو آسمان سے اور زمین سے ؟ } نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے تو تم کہاں سے الٹے پھرائے جا رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لوگو ! اللہ کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق اور رازق ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے ؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O people, remember Allah's favour upon you. Is there any creator, apart from Allah, who provides you your sustenance out of the heavens and earth? There is no god but He. Whither are you, then, being misdirected?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O mankind, remember Allah‘s blessing upon you. Is there any creator other than Allah who gives you provision from the sky and the earth? There is no god but He. So, to where are you being turned around (by your desires)?

— Muhammad Taqi Usmani

O mankind, remember Allah‘s blessing upon you. Is there any creator other than Allah who gives you provision from the sky and the earth? There is no god but He. So, to where are you being turned around (by your desires)?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O mankind! Remember the grace of Allah upon you! Is there any creator other than Allah who provides for you from the sky (rain) and the earth La ilaha illa Huwa. How then are you turning away (from Him)

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O mankind! Remember Allah's grace toward you! Is there any creator other than Allah who provideth for you from the sky and the earth? There is no Allah save Him. Whither then are ye turned?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O mankind, remember the favor of Allah upon you. Is there any creator other than Allah who provides for you from the heaven and earth? There is no deity except Him, so how are you deluded?

— Saheeh International

People, remember the bounty of God that He has granted to you. Is their any creator besides God who could provide you with sustenance from the heavens and the earth? He is the only God. Where then can you turn away?

— Muhammad Sarwar

O men! call to mind the favor of Allah on you; is there any creator besides Allah who gives you sustenance from the heaven and the earth? There is no god but He; whence are you then turned away?

— Muhammad Habib Shakir

O mankind! remember the favour of Allah toward you. Is there any Creator other than Allah who provideth for you from the heaven and the earth? There is no god but He. Wither then are ye deviating?

— Abdul Majid Daryabadi

O men! Call to mind the grace of Allah unto you! is there a creator, other than Allah, to give you sustenance from heaven or earth? There is no god but He: how then are ye deluded away from the Truth?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اس بات کی دلیل یہاں ہو رہی ہے کہ عبادتوں کے لائق صرف اللہ ہی کی ذات ہے کیونکہ خالق و رازق صرف وہی ہے۔ پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرنا فاش غلطی ہے۔ دراصل اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں۔ پھر تم اس واضح دلیل اور ظاہر برہان کے بعد کیسے بہک رہے ہو ؟ اور دوسروں کی عبادت کی طرف جھکے جاتے ہو ؟ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة فَاطِر 6 یعنی احسان فراموش نہ بنو۔ نمک حرامی نہ اختیار کرو۔ اس حقیقت کو نہ بھول جاؤ کہ تمہیں جو کچھ بھی حاصل ہے اللہ کا دیا ہوا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ فقرہ اس بات پر متنبہ کر رہا ہے کہ جو شخص بھی اللہ کے سوا کسی کی بندگی و پرستش کرتا ہے، یا کسی نعمت کو اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کی عطا بخشش سمجھتا ہے، یا کسی نعمت کے ملنے پر اللہ کے سوا کسی اور کا شکر بجا لاتا ہے، یا کوئی نعمت مانگنے کے لیے اللہ کے سوا کسی اور سے دعا کرتا ہے، وہ بہت بڑا احسان فراموش ہے۔ سورة فَاطِر 7 پہلے فقرے اور دوسرے فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے کلام کا موقع و محل خود بھر رہا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے یہ نقشہ چشم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

(آیت) ما یفتح اللہ للناس من رحمة فلا ممسک لھا، یہاں لفظ رحمت عام ہے اس میں دینی اور اخروی نعمتیں داخل ہیں، جیسے ایمان اور علم اور عمل صالح اور نبوت و ولایت وغیرہ اور دنیوی نعمتیں بھی، جیسے رزق اور اسباب اور آرام و راحت اور صحت و تندرستی اور مال و عزت وغیرہ معنی آیت کے ظاہر ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے لئے اپنی رحمت کھولنے کا ارادہ کرے اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اسی طرح دوسرا جملہ وما یمسک عام ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ روکتا ہے اس کو کوئی کھول نہیں سکتا۔ اس میں دنیا کے مصائب و آلام بھی داخل ہیں کہ جب اللہ ان کو اپنے کسی بندے سے روکنا چاہیں تو کسی کی مجال نہیں کہ ان کو کوئی گزند و مصیبت پہنچا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 3 اوپر کی آیات میں جو مضمون اصولی طور پر بیان ہوا ہے اسی مضمون کو اتمامِ حجت کے انداز میں، لوگوں کو مخاطب کرکے، فرمایا کہ لوگو، اللہ کی جو نعمتیں تم کو حاصل ہیں ان میں سے ایک ایک کا دھیان کرو اور ان پر غور کرو۔ لفظ ’ نعمت ‘ یہاں جنس نعمت کے مفہوم میں ہے۔ غور کرنے کے لئے ان کے سامنے مسئلہ کو سوال کی صورت میں رکھا کہ یہ آسمان و زمین میں سے جو تمہیں روزی مل رہی ہے، آسمان سے پانی برستا ہے اور زمین سے تمہاری معاش و معیشت کی گوناگوں چیزیں پیدا ہوتی ہیں، کیا تم کہہ سکتے ہو کہ خدا کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں یہ چیزیں بخشتا ہے۔ ’ لا الہ الا ھوا ‘۔ ان کی طرف سے کسی جواب کا انتظار کیے بغیر خود…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 یعنی اس بیان اور وضاحت کے بعد بھی تم غیر اللہ کی عبات کرتے ہو ؟۔ مطلب ہے کہ تمہارے اندر توحید اور آخرت کا انکار کہاں سے آگیا، جب کہ تم مانتے ہو کہ تمہارا خالق اور رازق اللہ ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–7

1: پچھلے جملے کی مناسبت سے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن فرشتوں کی پروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، اضافہ کردیتا ہے، چنانچہ حضرت جبرئیل ؑ کے چھ سو پروں کی تعداد حدیث میں آئی ہے، لیکن الفاظ عام ہیں، اور ہر تخلیق کو شامل ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی تخلیق میں چاہتا ہے، کسی خاص وصف کا اضافہ فرما دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یایھا الناس ۔۔۔۔۔ فانی تؤفکون (3) اللہ کی نعمتوں کی تو یاد دہانی کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ اس لیے کہ یہ نعمتیں بہت ہی واضح اور کھلی ہیں ، جو ان کو دیکھتے ہیں ، محسوس کرتے ہیں اور چھوتے ہیں ۔ لیکن وہ بھول جاتے ہیں ۔ ان کو یہ نعمتیں یاد نہیں رہتیں ۔ ذرا اس زمین و آسمان اور انسان کو گھیرے ہوئے اس کائنات پر نگاہ دوڑاۂ ، ہر وقت اللہ کے انعامات انسان پر برسارہی ہے ۔ رزق کے دروازے ان پر کھل گئے ہیں ۔ ہر قدم پر ایک نعمت ہے ۔ ہر خظہ میں ایک نیا فیض ہے ۔ آسمانوں اور زمین سے انسان کے لیے سہولیات چلی آرہی ہیں اور یہ اللہ کی طرف سے آرہی ہیں جو وحدہ خالق و رازق ہے ۔ اللہ کا فیض عام ہے اور یہ کس کی طرف سے ہے ؟…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی مانتے ہو کہ پیدا کرنا اور روزی کے سامان بہم پہنچا کر زندہ رکھنا سب اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے۔ پھر معبودیت کا استحقاق کسی دوسرے کو کدھر سے ہوگیا جو خالق و رزاق حقیقی ہے وہ ہی معبود ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3 { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ } ”اے لوگو ! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہوئی ہے۔“ اللہ کے جو احسانات تم پر ہوئے ہیں انہیں یاد کرو اور ان کی قدر کرو ! { ہَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰہِ یَرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ } ”کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہو آسمان سے اور زمین سے ؟“ { لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَز فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ } ”نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے ‘ تو تم کہاں سے الٹے پھرائے جا رہے ہو !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 بارش سب جانداروں کے رزق کا ذریعہ ہے :۔ آسمانوں سے جو بارش نازل ہوتی ہے۔ وہ زمین میں جذب ہو کر سب جانوروں کی روزی اور ان کی زندگی کی بقا کا ذریعہ بنتی ہے۔ اب اگر اس بارش برسنے کے نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے عوامل و عناصر ہیں جنہیں اللہ نے اس خدمت پر مامور کر رکھا ہے۔ تب جاکر بارش برستی ہے اور یہ سب عناصر و عوامل خالصتاً اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ اور ان میں مشرکوں کے معبودوں کا کوئی عمل دخل نہیں۔ جس سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی ہستی عبادت کا استحقاق نہیں رکھتی۔ پھر یہ کس قدر ناقدر شناسی اور نمک حرامی کی بات ہے کہ روزی تو اللہ کی دی ہوئی کھائیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (اور دوسروں کو بھی شریک الوہیت ومعبودیت کیے لیتے ہو) (آیت) ” خالق غیر اللہ “۔ اشارہ ہے نعمت ایجاد کی طرف۔ (کبیر) (آیت) ” یرزقکم “۔ اشارہ ہے نعمت ابقاء کی طرف (کبیر) مسیحی شرک کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” یایھا الناس “۔ خطاب کی تعمیم پیام قرآنی کے عالمگیر اور ہمہ آفاقی ہونے کی ایک مزید دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–7

آیت نمبر 1 تا 7 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفوں کا سزاوار وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا کسی سابقہ نمونہ کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون سے اپنی حمد بیان فرمائی ہے، جیسا کہ سورة سبا کے شروع میں بیان کیا گیا تھا اور جو فرشتوں کو انبیاء کی جانب پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین چارچار پر ہیں اور وہ ملائکہ کی تخلیق میں جو چاہے اضافہ کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ یقیناً پر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے جو رحمت مثلاً رزق اور بارش کھول دے تو اسے بند کرنے والا نہیں اور ان میں سے جس کو بند کردے اس کے بند کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین اذکروا انعمت اللہ علیکم اے لوگو ! (یعنی اے اہل مکہ ! ) یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو جو تم پر کی ہیں۔ اللہ نے تم کو حرم کا باشندہ بنایا کہ حرم کی وجہ سے کوئی تم کو لوٹ نہیں سکتا۔ اللہ ہی نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا ‘ آسمان کی چھت بغیر ستونوں کے قائم کی ‘ تم کو عدم سے وجود میں لایا ‘ رزق کے دروازے تمہارے لئے کھول دئیے جن کو کوئی بند نہیں کرسکتا تو پھر۔ لا الہ الا ھو فانی تو فکون . اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ سو (شرک کر کے) تم کہاں الٹے جا رہے ہو۔ یعنی جب تم کو اعتراف ہے کہ ا کے سوا کوئی خالق و رزاق نہیں تو پھر کس وجہ سے توحید سے لوٹ کر شرک کی طرف جا رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

مکہ والو اللہ تعالیٰ کے احسانات یعنی بارش روزی اور امن کو یاد کرو سو کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود ہے جو آسمان سے بارش برساتا اور زمین سے سبزیاں اگاتا ہو۔ اس کے علاوہ جو تمہیں رزق دیتا ہے اور کوئی معبود نہیں پھر کیوں جھٹلا رہے ہو کہ اس کے علاوہ اور معبود تمہیں روزی دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ۭ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں فراموش نہ کرو اور نمک حرام نہ بنو، بھلا بتاؤ اللہ کے سوا تمہارا کوئی خالق ہے جو تمہیں رزق دے رہا ہو ؟ ظاہر ہے کوئی نہیں۔ استفہام انکاری ہے۔ فَاَنّٰى تُـؤْفَكُوْنَ : یعنی پھر تمہیں یہ دھوکا کہاں سے لگ گیا کہ خالق و رازق تو اللہ تعالیٰ ہو، مگر بندگی اور فرماں برداری دوسروں کی کی جائے۔ مثل مشہور ہے ”جس کا کھائیے اسی کا گائیے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یا یھا الناس اذکروا نعمت اللہ علیکم اس ذکر سے مراد شکر ہے آیت : ھل من خالق غیر اللہ غیر کے لفظ میں رفع، نصب اور جر جائز ہیں۔ رفع دو وجوہ سے ہے : ایک صورت یہ ہے کہ کلام اس معنی میں ھل من خالق اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات سوا کوئی خالق نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے۔ یہ خالق کی صفت ہو مگر اعراب میں خالق کے محل کا اعتبار ہے، کیونکہ معنی ہے ھل خالق غیر اللہ، من زائدہ ہے۔ نصب استثناء کے طریقہ پر ہے۔ جر لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے ہے۔ حمید طویل نے کہا : میں نے حضرت حسن بصری (رح) سے کہا : شر کو کس نے پیدا کیا ؟ فرمایا : سبحان اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ بھی کوئی خالق ہے، اسی نے خیر اور شر کا پیدا کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–4

8:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یرزقکم من السمآء والارض “ یعنی رزق ہے آسمان سے بارش کی صورت میں اور رزق ہے زمین میں سبزہ ( کی صورت میں )

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [اے لوگو !] اذْكُرُوْا [تم لوگ یاد کرو ] نِعْمَتَ اللّٰهِ [اللہ کی نعمت کو ] عَلَيْكُمْ ۭ [اپنے اوپر ] هَلْ مِنْ خَالِقٍ [کیا کوئی بھی ایسا خالق ہے ] غَيْرُ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] يَرْزُقُكُمْ [جو رزق دیتا ہے تم لوگوں کو ] مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمان اور زمین سے ] لَآ اِلٰهَ [کوئی بھی الٰہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ ڮ [مگر وہ ] فَاَنّٰى [تو کہاں سے ] تُـؤْفَكُوْنَ [تم لوگ پھیرے جاتے ہو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اور جو نعمتیں دی ہیں ان کو یاد کرو، نعمتوں کو یاد کرنے میں ان کا شکر ادا کرنا بھی شامل ہے، جب نعمتوں کو یاد کریں گے اور غور کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فلاں فلاں نعمتیں دی ہیں، جان بھی دی اولاد بھی عنایت فرمائی، مال بھی دیا اور حسن و جمال بھی، علمی و عملی کمال بھی، اور جاہ و اقتدار بھی، تو اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی طرف طبیعت چلے گی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف ذہن، دل اور دماغ متوجہ ہوگا۔ یہ بھی فرمایا کہ تم غور کرلو کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور پیدا کرنے والا ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہو، غور کرو گے تو سمجھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

تحمید خداوند حمید ومجید برائے اثبات توحید وتذکیر نعم وتحذیر از نقم قال تعالیٰ الحمد للہ فاطر السموت والارض جاعل الملئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم بما یصنعون۔ (ربط) گذشتہ سورت کے اخیر میں کفار ومشرکین کی ہلاکت کا ذکر تھا کہ ان پر اللہ کا قہر نازل ہوا۔ اور ہلاک اور برباد ہوئے اور کافروں کی ہلاکت اور بربادی اللہ کی نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے۔ کما قال تعالیٰ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔ اس لئے اس سورت کا آغاز اللہ کی حمد وثنا سے کیا گیا (روح المعانی ص 148 ج 22) اور اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا ذکر کر کے شکر پر متنبہ کیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ یا ایہا الناس الخ : یہ ترغیب الی التوحید ہے۔ تمام انسانوں کو اپنی نعمتیں یاد دلا کر ترغیب دی کہ اپنے خالق ومالک اور منعم حقیقی کو پہچانو، اس کی توحید پر ایمان لاؤ اسے ذات وصفات میں اور عبادت اور پکار میں وحدہٗ لاشریک مانو۔ 7:۔ ھل من خالق الخ : یہ تیسری عقلی دلیل ہے اور پہلی دونوں دلیلوں کا ثمرہ بھی ہے یہ پہلا اور مختصر ثمرہ ہے یعنی دونوں دلیلوں سے ثابت ہوگیا کہ ساری کائنات کا خالق اور رحمت کے دروازے کھولنے والا۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ اس کے سوا کوئی اور نہ خالق ہے نہ رازق۔ لہذا لا الہ الا ھو : اس کے سوا کوئی کارساز نہیں جسے حاجات میں دور و نزدیک سے پکارا جائے۔ فانی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 2–4

اس سورة مبارکہ کی ابتداء حمد باری تعالیٰ سے ہوئی۔ سب تعریفیں اور ستائشیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا ایجاد کنندہ ہے جس نے فرشتوں کو پیغام رسانی کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ فرشتوں کے متعدد پر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے تخلیق میں اضافہ کردیتا ہے۔ یہ فرشتے پیغام رسانی کے علاوہ فیضان رسانی کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی رحمت کا ذکر فرمایا ہے اور اپنی صفت خلق کو بیان کیا ہے۔ ساتھ ساتھ شرک کی تردید ہے اور آخر میں نبی (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ۝ 0 ۭ ہَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللہِ يَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝ 0 ۡۖ فَاَنّٰى تُـؤْفَكُوْنَ۝ 3 نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 3–7

ترکیب : غیر اللہ یقرء بالرفع و فیہ و جہان احد ھما ھو صفۃ لخالق علی الموضع و خالق مبتداء و الخبر محذوف تقدیرہ لکم او للاشیاء و الثانی ان یکون فاعل خالق ای ھل یخلق غیر اللہ شیئا ویقر ‘ بالجر علی الصفۃ لفظا یرزقکم یجوزان یکون مستانفا و یجوزان یکون صفۃ لخالق الذین کفروا یجوزان یکون مبتداء و ما بعدہ الخبروان یکون صفۃ لحزبہ او بدلا منہ وان یکون فی موضع جرصفۃ لاصحاب السعیر من التبیان۔ تفسیر : اس کے بعد خدا تعالیٰ اپنی نعماء کو یاد دلاتا ہے۔ فقال یا ایھا الناس اذکروا نعمت اللہ کہ لوگو میری نعمتوں کو یاد کرو، پھر ان نعمتوں کی تفصیل کرتا ہے۔ ھل من خالق غیر اللہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی پیدا کرنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ط ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُاللّٰہِ یَرْزُقُـکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ط لَآاِلٰـہَ اِلاَّھُوَ صلے ز فَاَنّٰی تُؤْفَـکُوْنَ ۔ (فاطر : 3) (اے لوگو ! تم پر جو اللہ کے احسانات ہیں ان کو یاد رکھو، کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق بہم پہنچاتا ہو، کوئی معبود نہیں اس کے سوا، تو تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو۔ ) الوہیت پر دلیل نعمت کا لفظ یہاں اسم جنس کے طور پر استعمال ہوا ہے اس لیے اس سے مراد کوئی ایک نعمت بھی لی جاسکتی ہے اور بیشمار نعمتیں بھی۔ کہنا یہ ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتیں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی نعمتوں سے سرفراز کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو رحمت اور نعمتوں سے نوازنے والا ہے اس کے سوا کوئی کسی کو ادنیٰ سے ادنیٰ چیز بھی عطا نہیں کرسکتا۔ وہی منعم حقیقی اور خالق کل ہے اس کا ارشاد ہے کہ لوگو ! میری نعمتوں کو یاد رکھا کرو۔ جب انسان کا یہ عقیدہ پختہ ہوجائے کہ مجھے صرف اللہ ہی نوازنے والا ہے، وہی میرا رازق اور خالق ہے تو پھر اس کے حاشیہ خیال سے یہ بات نکل جاتی ہے کہ مجھے کوئی اور بھی نوازسکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ لوگوں سے استفسار فرماتا ہے کہ بتاؤ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی اور بھی خالق ہے جو تمہیں زمین و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سب سے بڑی نعمت منعم کا ایک ہونا ہے : 3: یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اذْکُرُوْا ( اے لوگو ! تم یاد کرو) زبان و دل سے نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ (اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو جو اس نے تم پر کیے) وہ انعامات زمین کا بچھونے کی طرح بچھا دینا اور آسمان کا بلاستون بلند کرنا اور قرب الٰہی پانے اور اس کے راستوں کی طرف بلانے کیلئے رسولوں کو بھیج دینا اور مخلوق میں اضافہ فرما کر رزق کے دروازوں کا کھولنا ہیں۔ پھر نعمتوں کے آخر میں خبردار کیا کہ سب سے بڑی نعمت تو منعم کا ایک ہونا ہے۔ فرمایا ھَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰہِ (کیا اللہ تعالیٰ کے سواء اور کوئی خالق ہے) ۔ نحو : نمبر 1۔ غیرُ رفع کے ساتھ یہ محلاً صفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 3۔ ، یایھا الناس اذکروانعمۃ اللہ علیکم ھل من خالق غیر اللہ ، حمزہ ، کسائی نے (غیر) کی راء پر جر پڑھا ہے اور دوسرے قراء رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی اس کا یہ ہوگا کہ کیا اس کے علا وہ کوئی اور خالق ہے۔ یہ استفہام بطور تقریر کے ہے ۔ گویا کہ یوں فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں ۔ ، یرزقکم من السماء والا رض ، آسمان سے بارش برسائی اور زمین سے کس نے نباتات اگائی۔ ، لاالہ الا ھوفانی یئو فکون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–7

3 تا 7۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جس طرح پیدا کرنا اور روزی کا دینا فقط اسی کا کام ہے نہ کسی اور کا ایسے ہی سوائے اس کے اور کسی کو پوجنا نہیں چاہئے مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرایا جاوئے اور جب اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو پھر تم بعد اس کے ان کھلی ہوئی باتوں سے کہاں سے الٹے جاتے ہو او بتوں کو پوجتے ہو اور اگر اے محمد ﷺ مشرک لوگ تم کو جھٹلادیں اور توحید کو نہ مانیں تو تمہیں پہلے رسولوں کی چال چلنی چاہئے کیوں کہ وہ بھی اپنی قوموں کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لائے تھے ‘ لیکن ان لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور مخالفت کی مطلب یہ کہ یہ کچھ نئی بات نہیں ہے اس لیے ان کے جھٹلانے پر اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ خو دپاین ذات مقدس کی مدح و ثنا کرتا ہے کہ اس نے زمین و آسمان اور ان کے اندر موجود تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ یہ اس کے کمال قدرت، وسعت، اقتدار، بےپایاں رحمت، انوکھی حکمت اور احاطہ علم کی دلیل ہے۔ تخلیق کائنات کا ذکر کرنے کے بعد اس چیز کا تذکرہ کیا کہ بیشک وہی (جاعل الملئکۃ رسلا) ” فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے “ اس نے اپنے حکم قدری کی تدبیر اور اپنے حکم دینی کی تبلیغ کے لئے اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان واسطے کے لئے، فرشتوں کو پیغام رساں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیغام رساں بنانے کا ذکر فرمایا اور ان میں سے کسی کو مستثنی نہیں کیا، یہ ان کی اپنے رب کے لئے کامل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

7 اللہ تعالیٰ کے احسانات کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اے لوگو ! یاد کرو اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو جو اس نے تم پر فرمائے ہیں محض اپنی رحمت و عنایت سے۔ اور جن میں تم لوگ سر سے لے کر پاؤں تک ڈوبے ہوئے ہو۔ پس ان بیشمار احسانات کو یاد کر کے اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرو اور دل و جان سے اس کی عبادت و بندگی بجا لاؤ تاکہ اس طرح تم لوگ منعم کے حقِّ شکر کی ادائیگی کے شرف سے بھی مشرف ہوسکو گے اور خود اپنے لئے خیر اور بھلائی کا سامان بھی کرسکو گے کہ شکر منعم سے نعمتوں میں برکت بھی آتی ہے اور ان میں اضافہ بھی ہوتا ہے ۔ فللّٰہِ الحمد ربِّ العْالمین ۔ سو ذرا تم لوگ سوچو اور غور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 2–8

شیطان انسان کا دشمن ہے تشریح : اوپر دی گئی آیات کو جب ہم غور سے پڑھ لیتے ہیں تو ہمیں اللہ کی قدرت کا پورا یقین ہوجاتا ہے پھر ہمیں اس کا پروگرام سمجھ آ نے لگتا ہے اور یوں تو کل مضبوط ہوجاتا ہے۔ پھر مضبوط ایمان و ارادہ ہمیں شیطان سے نمٹنے کی پوری طاقت دے دیتا ہے اور ہم اپنے نیکی کے فرشتوں کی مدد سے اس کو ہرا دیتے ہیں اسی کو کہتے ہیں مرد کامل یعنی کامیاب انسان۔ فرشتوں کا ذکر ہوچکا اب ذرا شیطان کا مطلب بھی سمجھ لیا جائے تو شیطان جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے برائی کرنے والا، برا راستہ دکھانے والا۔ انسان کی پیدائش پر شیطان ناراض ہوگیا تھا کیونکہ یہ بھی انسان کی طرح عمل اور ارادہ کی طاقت رکھتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–7

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 7: اسرار و معارف : سورۃ فاطر اسی مضمون کو لیکر آگے بڑھتی ہے کہ تمام تر کمالا صرف اللہ واحد کو سزاوار ہیں کہ وہ اکیلا خالق ہے آسمانوں اور زمینوں کا ان کی تمام تر مخلوقات اور مخلوقات کے تمام تر اوصاف کا فرشتے بھی اس کی مخلوق ہیں جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں اس کے اور اس کی دوسری مخلوق کے درمیان واسطے کا کام کرتے ہیں جیسے سب سے اعلی انبیاء (علیہم السلام) اور ان پر وحی لانے کا کام مخلوق کو روزی روزق پہنچانے یا عذاب وثواب اور صحت و بیماری یعنی وہ خود ہر آن اللہ کی اطاعت پر کمر بستہ ہیں نہ یہ کہ انہیں معبود بنا لیا جائے ان کی قوت و طاقت اللہ ک عطا کردہ ہے جیسے کسی کو دو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی اس کے احسان فراموس اور نمک حرام نہ ہو کہ بندگی دوسروں کی بجالائو حالانکہ تمہیں جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اسی کی دی گئی ہے۔10 آسمان سے بارش برسائے اور زمین سے غلے، سبزیاں اور دوسری چیزیں اگاتے۔11 یعنی تمہیں یہ دھوکا کہاں سے لگ گیا کہ خالق، رازق تو اللہ ہو مگہ بندگی اور تابعداری دوسروں کی کی جائے ؟ مثل مشہور ہے جس کا کھایئے اسی کا گائیے۔ ( ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(35:3) ھل استفہام انکاری کے لئے ہے۔ مطلقاً نفی کے لئے بھی ہوسکتا ہے جیسے ھل جزاء الاحسان الا الاحسان (55:60) نیکی کا بدلہ بجز نیکی کے کچھ نہیں ہے۔ فانی۔ انی بمعنی کیف۔ کیسے۔ کیونکر۔ توفکون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر ۔ الافک ہر وہ چیز جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بنا پر ان ہوائوں کو جو اپنا اصلی رک چھوڑ دیں۔ مؤتفکۃ کہا جاتا ہے اور قرآن مجید میں ہے والمؤتفکۃ اھوی۔ اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے ٹپکا۔ (مؤتفکات سے وہ بستیاں مراد ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں کے الٹ دیا تھا) ۔ فانی تؤفکون۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو ؟ یعنی اعتقاد حق سے باطل کی طرف اور سچائی سے جھوٹ کی طرف…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–7

لغات القرآن ۔ (آیت نمبر 1 تا 7) فاطر (پیدا کرنے والا) جاعل ( بنانے والا) اجنحۃ ( جناح) (پر ۔ بازو) مثنی۔ (دو دو) ثلث۔ ( تین تین) ربع ( چار چار) لایفتح (وہ نہیں کھولتا ہے) ممسک ( روکنے والا) انی (کہاں) تو فکون (الٹے پھرے جا رہے ہیں) لا تغرن ( ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے) الغرور (دھوکا ، فریب) حزب ( جماعت) مغفرۃ (معافی) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 :۔ اس کائنات میں جتنی بھی قابل تعریف خوبیاں ہیں وہ اس اللہ کی ذات کے لئے مخصوص ہیں جو ارض و سماء کا مالک اور سب کا رازق ہے۔ کائنات میں ہر طرف اس کی عظمت کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں ۔ اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی کہ اللہ نے زمین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–7

(ف 3) ان آیتوں میں ارشاد ہے اے لوگوتم پر جو خدا کی نعمت ہے اس کو یاد کرو اور اس کا شکر ادا کروسوائے خدا کے تمہارا کوئی اور پیدا کرنے والا ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہو، جب نہیں ہے تو اسی کی تابعداری میں کوشش کرو اور سب جھگڑوں کو چھوڑ دو ، جب اسی نے پیدا کیا اور کھانے پینے کو بھی وہی دیتا ہے تو اس کے برابر تمہارے اوپر کسی کا حق ہے تمہارے رگ اور پٹھوں میں اس کے انعامات سرایت کررہے ہیں اور خود اس کے بنائے ہوئے ہو پھر اس کو چھوڑ کر کہاں جاتے ہو اور اپنے محسن کو کیوں بھولے ہوئے ہو، آگے فرمایا کہ اے محبوب تم کو یہ کافر جھوٹابتادیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول ہوچکے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] رسول اکرم ﷺ کو تسلی دینی مقصود ہے کہ ان لوگوں کا تم کو جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ تم سے پہلے بھی لوگوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا لیکن انہوں نے صبر کیا لہذا تم بھی صبر کرو۔ علاوہ بریں آخرکار معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ وہ جھٹلانے والوں سے سمجھ لے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–7

ف 2: ان دو آیتوں میں توحید کی حقیقت بیان فرمائی ہے ۔ کہ تمام اختیارات اور قدرتیں صرف اس اللہ سے مختص ہیں ۔ کوئی شخص اس کے ارادوں میں مزاحمت نہیں کرسکتا ۔ وہ اگر کسی شخص کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو پھر کوئی خشص ان دروازوں کو مسدود نہیں کرسکتا ۔ اگر کسی شخص پر اس کے فضل وکرم کے ابواب بند ہوجائیں ۔ تو پھر کوئی بڑی سے بڑی شخصیت بھی ان کو کھول دینے پر قادر نہیں وہ تنہا اس کائنات کا حاکم ہے تم صرف اسی کے ممنون احسان بنو ۔ اور کسی ماسوا سے سے رزق کی توقع نہ رکھو ۔ حل لغات :۔ الغرور ۔ دھوکہ دینے والا شیطان الشعیر ۔ آگ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے جو تم پر احسانات کئے ہیں ان کو یاد کرتے رہا کرو کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی خالق اور بنانے والا ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی پہنچاتا ہو اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے پھر تم کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے جو بیشمار احسانات بنی نوع انسان پر ہیں ان کو یاد کرتے رہو تاکہ شکر کا جذبہ پیدا ہو اور نافرمانی سے بچو اور یہ غور کرو کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو آسمان سے پانی برسا کر اور زمین سے نباتات اگا کر تمہارے رزق کا سامان مہیا کرے اور اس طرح آسمان و زمین سے تم کو روزی پہنچائے ۔ سوائے اس معبود حقیقی کے اور کوئی لائق عبادت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–4

ف 3۔ یعنی نہ کوئی صاحب تخلیق کہ نعمت ایجاد ہے اور نہ کوئی صاحب ترزیق کہ نعمت ابقاء ہے، پس جب وہ ہر طرح کامل ہے تو یقینا اس کے سوا کوئی لائق عبادت بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوگو ! اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے ؟ 3 ۔ انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر صحیح وسالم پیدا کرنا انعامات الٰہی میں سے بہت بڑا انعام ہے جو بہت سے انسانوں پر اس نے کیا ہے ایک انسانی جسم کے اندر ان ساری ترقیوں اور ساری حالتوں کا سامان اللہ نے رکھ دیا ہے جو اس وقت تک دنیا میں معرض وجود میں آئی ہیں اور ابھی نہ معلوم کیا کچھ ہے جو مشاہدہ میں نہیں آیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت کے ساتھ وہ بھی انسان کے اندر ودیعت کردیا ہوا ہے لیکن تعجب ہے کہ انسان اس مصنوعی ترقیوں پر مفتون ہوتا ہے اور اس قدرت الٰہی کا کبھی بھول کر بھی ذکر نہیں کرتا اور نہ ہی اس کو سمجھنے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–4

The word: رَّ‌حْمَةٍ (rahmah: mercy) appearing in verse 2: مَّا يَفْتَحِ اللَّـهُ لِلنَّاسِ مِن رَّ‌حْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا (Whatever blessing Allah opens for the people, there is none to hold it back,) is general at this place. It includes blessings of one's religion in this world along with those of the Hereafter, such as, faith, knowledge, rightly guided conduct as well as the mission of a prophet and the station of a Waliyy or man of Allah. And it also includes material blessings in the present world, such as, provisions, means, comfort, health, wealth, property, recognition and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 "Remember.... you": "Do not be ungrateful: do not forget that whatever you have has been given by Allah". In other words, this sentence is meant to warn that whoever worships another than Allah, or regards a blessing as a favour done by another than Allah, or thanks another than Allah for a favour received, or prays to another than Allah for the grant of a blessing, is ungrateful". 7 There is a subtle gap between the first and the second sentence, which is being filled by the context itself. To understand this, one may visualize the scene like this: The polytheists are being addressed. The…

Read the full tafseer →