35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsبیان القرآن

Ayahs 35:1–2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

تمام تر حمد (اسی) اللہ کو لائق ہے جو آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جو فرشتوں کو پیغام رسان بنانے والا ہے (ف 2) جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر دار بازو ہیں وہ پیدائش میں جو چاہے زیادہ کردیتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

اللہ جو رحمت (بارش وغیرہ) لوگوں کے لیے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کر دے سو اس کے (بند کرنے کے) بعد اس کا کوئی جاری کرنے والا نہیں اور وہی غالب حکمت والا ہے۔

ف 2۔ پیغام سے مراد وحی لانا انبیاء (علیہم السلام) کی طرف عام اس سے کہ شرائع ہوں یا بشارات وغیرہ ہوں۔
Ayahs 35:3–4

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

اے لوگو تم پر جو اللہ کے احسانات ہیں ان کو یاد کرو اور (شکر کرو اور غور کرو کہ) کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق پہنچاتا ہو (ف 3) اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو تم (شرک کرکے) کہاں الٹے جا رہے ہو۔

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو آپ غم نہ کریں کیونکہ آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر جھٹلائے جا چکے ہیں اور سب امور اللہ ہی کے روبرو پیش کیے جائیں گے۔

ف 3۔ یعنی نہ کوئی صاحب تخلیق کہ نعمت ایجاد ہے اور نہ کوئی صاحب ترزیق کہ نعمت ابقاء ہے، پس جب وہ ہر طرح کامل ہے تو یقینا اس کے سوا کوئی لائق عبادت بھی نہیں۔
Ayahs 35:5–7

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

اے لوگو اللہ تعالیٰ کا (یہ) وعدہ ضرور سچا ہے سو ایسا نہ ہو کہ یہ دنیوی زندگی تم کو دھوکہ میں ڈالے رکھے (ف 4) اور ایسا نہ ہو کہ تم کو دھوکہ باز شیطان اللہ سے دھوکے میں ڈال دے۔

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

یہ شطان بیشک تمہارا دشمن ہے سو تم اس کو اپنا دشمن ہی سمجھتے رہو وہ تو اپنے گروہ کو محض اس لیے (باطل کی طرف) بلاتا ہے تاکہ وہ لوگ دوزخیوں میں سے ہوجائیں۔

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

(پس) جو لوگ کافر ہوگئے ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے (معاصی کی) بخشش اور (ایمان پر) بڑا اجر ہے۔

ف 4۔ کہ اس میں منہمک ہو کر اس یوم موعود سے غافل رہو۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

تو کیا ایسا شخص جسکو اس کا عمل بد اچھا کر کے دکھایا گیا پھر اس کو اچھا سمجھنے لگا (یعنی کافر) اور ایسا شخص جو قبیح کو قبیح سمجھتا ہے (یعنی مومن) کہیں برابر ہو سکتے ہیں (ف 1) سو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے سو ان پر افسوس کر کے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے اللہ کو ان کے سب کاموں کی خبر ہے۔

ف 1۔ پہلے شخص سے مراد کافر جو اغوا شیطانی سے باطل کو حق اور رضا کو نافع سمجھتا ہے، اور دوسرے شخص سے مراد مومن جو اتباع انبیاء و مخالفت شیطان سے باطل کو باطل، حق کو حق، ضار کو ضار اور نافع کو نافع جانتا ہے، یعنی یہ دونوں برابر کہاں ہوئے ؟ بلکہ ایک جہنمی اور ایک جنتی ہے۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور اللہ ایسا قادر ہے جو (بارش سے پہلے) ہواؤں کو بھیجتا ہے پھر وہ (ہوائیں) بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم اس بادل کو خشک قطعہ زمین کی طرف لے جاتے ہیں پھر ہم اس کے (پانی کے) ذریعہ سے زمین کو زندہ کرتے ہیں اسی طرح (قیامت میں آدمیوں کا) جی اٹھنا ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ وجہ تشبیہ ظاہر ہے کہ دونوں میں ایک صفت زائلہ کا احداث ہے۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو شخص عزت حاصل کرنا چاہے تو تمام تر عزت خدا ہی کے لیے ہے (ف 3) اچھا کلام اسی تک پہنچتا ہے اور اچھا کام اس کو پہنچاتا ہے (ف 4) اور جو لوگ (اس کے خلاف) بری بری تدبیریں کر رہے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا (ف 5) اور ان لوگوں کا یہ مکر نیست ونابود ہوجائے گا۔ (ف 6)

ف 3۔ اس لئے اس کو چاہئے کہ اللہ سے عزت حاصل کرے۔ 4۔ اچھے کلام میں کلمہ توحید اور تمام اذکار الہیہ اور اچھے کام میں تصدیق قلبی اور جمیع اعمال صالحہ ظاہرہ و باطنہ داخل ہیں، اور رفع عام ہے نفس قبول و قبول تام کو۔ 5۔ یہ موجب ان کی ذلت کا ہوگا، اور ان کے آلہہ مزعومہ ان کو خاک عزت نہ دے سکیں گے۔ بلکہ بالعکس خود وہ ان کے خلاف ہوجائیں گے۔ 6۔ یعنی ان تدبیروں میں ان کو کامیابی نہ ہوگی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ اسلام کو مٹانا چاہتے تھے خود ہی مٹ گئے۔
Ayahs 35:11–12

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تم کو (ضمناً ) مٹی سے پیدا کیا ہے پھر (استقلالاً ) نطفہ سے پیدا کیا پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا (ف 7) اور کسی عورت کو نہ حمل رہتا ہے اور نہ وہ جنتی ہے مگر سب اس کی اطلاع سے ہوتا ہے (ف 8) اور (اسی طرح) نہ کسی کی عمر زیادہ (مقرر) کی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم (مقرر) کی جاتی ہے مگر یہ سب لوح محفوظ میں ہوتا ہے یہ سب اللہ کو آسان ہے۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور دونوں دریا برابر نہیں ہیں (بلکہ) ایک تو شیریں پیاس بجھانے والا ہے جس کا پینا بھی آسان اور ایک شور تلخ ہے اور تم ہر ایک (دریا) سے (مچھلیاں نکال کر ان کا) تازہ گوشت کھاتے ہو (نیز) زیور (یعنی موتی) نکالتے ہو جس کو تم پہنتے ہو اور تو کشتیوں کو اسمیں دیکھتا ہے پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم (ان کے ذریعہ سے) اسکی روزی ڈھونڈو اور تاکہ تم شکر کرو۔

ف 7۔ یعنی کچھ مذکر کچھ مونث بنائے۔ 8۔ یعنی اس کو پہلے سے سب کی خبر ہوتی ہے۔
Ayah 35:13

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے (ف 9) (اور مثلاً یہ کہ) اس نے سورج کو اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے ہر ایک وقت مقرر تک (ف 10) چلتے رہیں گے یہی اللہ (جس کی شان یہ ہے) تمہارا پروردگار ہے اس کی سلطنت ہے اور اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ تو کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔

ف 9۔ جس سے دن اور رات کے گھٹنے بڑہنے کے متعلق منافع حاصل ہوتے ہیں۔ 10۔ یعنی یوم قیامت تک۔
Ayahs 35:14–17

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو بھی تو وہ تمہاری پکار (اول تو) سنیں گے ہی نہیں اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو تمہارا کہنا نہ کریں گے اور قیامت کے روز وہ (خود) تمہارے شرک کرنے کی مخالفت کریں گے اور تجھ کو خبر رکھنے والے کی برابر کوئی نہیں بتلاوے گا۔ (ف 1)

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگو تم (بھی) خدا کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ تو بےنیاز (اور خود تمام) خوبیوں والا ہے۔

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور ایک نئی مخلوق پیدا کر دے۔

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ بات خدا کو کچھ مشکل نہیں۔

ف 1۔ اوپر توحید کا ذکر تھا چونکہ کفار اس کا انکار کرتے تھے، اور اس انکار سے رسول اللہ ﷺ کو حزن بھی ہوتا تھا، اس لئے آگے انکار سے حق تعالیٰ کا ضرر نہ ہونا بلکہ خود ان کفار ہی کا ضرر ہونا اور تسلیم سے حق تعالیٰ کا کچھ نفع نہ ہونا بلکہ خود ان کا ہی نفع ہونا اور دنیا میں اس کا ضرر کا احتمال اور آخرت میں اس کا وقوع بیان کر کے کفار کی تحذیر اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حزن پر آپ کے تسلیہ کا مضمون ہے۔
Ayahs 35:18–20

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی دوسرے کا بوجھ (گناہ کا) نہ اٹھاوے گا اور اگر کوئی بوجھ کا لدا ہوا (یعنی کوئی گناہگار) کسی کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے بلاوے گا (تب بھی اس میں سے کچھ بھی بوجھ نہ بٹایا جاوے گا اگرچہ وہ شخص قرابت دار ہی کیوں (نہ) ہو آپ تو صرف ایسے لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں (ف 2) اور جو شخص پاک ہوتا ہے وہ اپنے لیے پاک ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں۔

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ تاریکی اور نہ روشنی۔

ف 2۔ مطلب یہ کہ طالب حق کو نفع ہوا کرتا ہے، یہ لوگ طالب حق ہی نہیں، ان سے امید نہ رکھیئے۔
Ayah 35:21

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ چھاؤں اور دھوپ۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی ان لوگوں سے کیا توقع رکھی جائے کہ ان کا ادراک مثل ادراک مومنین کی طرح یہ بھی حق کو قبول کرلیں۔ اور قبول حق کے ثمرات دینی میں بھی یہ لوگ شریک ہوجاویں، کیونکہ مومنین کی مثلا ادراک حق میں بصیر کی سی ہے، اور ان کی مثال عدم ادراک حق میں اعمی کی سی ہے، اور اسی طرح مومن نے ادراک حق کے ذریعہ سے جس طریق ہدایت کو اختیار کیا ہے اس طریق حق کی مثال نور کی سی ہے اور کافر نے عدم ادراک حق سے جس طریقہ کو اختیار کیا ہے اس کی مثال ظلمت کی سی ہے، اور اسی طرح جو ثمرہ جنت وغیرہ اس طریق حق پر مرتب ہوگا، اس کی مثال ظل بارد کی سی ہے، اور جو ثمرہ جہنم وغیرہ طریق باطل پر مرتب ہوگا اس کی مثال جلتی دھوپ کی سی ہے۔ پس نہ ان کا اور مومنین کا ادراک برابر ہوا اور نہ ان کا طریقہ اور نہ اس طریقہ کا ثمرہ۔
Ayahs 35:22–27

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور زندے اور مردے برابر نہیں ہو سکتے (ف 4) اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں (مدفون) ہیں۔

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم ہی نے آپ کو (دین) حق دے کر خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی کہ جس میں کوئی ڈر سنانے والا نہ گزرا ہو۔

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا دیں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بھی جھٹلایا تھا (اور) ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر معجزے اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے۔

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے ان کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھو) میرا کیسا عذاب ہوا۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

(اے مخاطب) کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگتوں کے پھل نکالے اور (اسی طرح) پہاڑوں کے بھی مختلف حصے ہیں (بعضے) سفید اور بعضے سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور (بعضے نہ سفید نہ سرخ بلکہ) بہت گھیرے سیاہ۔

ف 4۔ جب یہ مردے ہیں، تو مردوں کو زندہ کرنا خدا کی قدرت میں ہے بندہ کی قدرت میں نہیں۔
Ayahs 35:28–31

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں (اور) خدا سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو (اس کی عظمت کا) علم رکھتے ہیں واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بخشنے والا ہے۔ (ف 1)

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی تلاوت (مع العمل) کرتے رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی۔

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ ان کو ان کی اجرتیں بھی پوری (پوری) دیں اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (بھی) دیں بیشک وہ بڑے بخشنے والے قدردان ہیں۔

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے طور پر بھیجی ہے یہ بالکل ٹھیک ہے جو کہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی (حالت کی) پوری خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا ہے۔

ف 1۔ پس خشیت مقتضائے عزت بھی اور ہے مقتضائے غفوریت بھی۔
Ayahs 35:32–36

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر یہ کتاب ہم نے ان لوگوں کے ہاتھ میں پہنچائی جن کو ہم نے اپنے (تمام دنیا کے) بندوں میں سے پسند فرمایا (ف 2) پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان میں متوسط درجے کے ہیں․ اور بعضے ان میں خدا کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کیے چلے جاتے ہیں یہ بڑا فضل ہے۔ (ف 3)

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

وہ باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے (اور) ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور پوشاک ان کی وہاں ریشم ہوگی۔

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے (رنج و) غم دور کردیا بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا قدردان ہے۔

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے مقام میں لا اتارا جہاں ہم کو نہ کوئی کلفت پہنچے گی اور نہ ہم کو کوئی خستگی پہنچے گی۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جو لوگ (بر خلاف ان کے) کافر ہیں ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے نہ تو ان کی قضا آوے گی کہ مر ہی جاویں گے اور نہ دوزخ کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جاوے گا ہم ہر کافر کو ایسی سزا دیتے ہیں۔

ف 2۔ مراد اس سے اہل اسلام ہیں جو اس حیثیت ایمان سے تمام دنیا والوں میں مقبول عنداللہ ہیں، گو ان میں کوئی دوسری وجہ مثل سوء عمل کے موجب ملامت بھی ہو مطلب یہ کہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں وہ کتاب پہنچائی۔ 3۔ کیونکہ اس پر عمل کرنے کی بدولت کیسے اجر و فضل کے مستحق ہوگئے۔
Ayahs 35:37–38

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ لوگ اس (دوزخ) میں چلّا ویں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو (یہاں سے) نکال لیجیئے (اب خوب) اچھے (اچھے) کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے ․کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا (ف 1) اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا تھا سو (اس نہ ماننے کا) مزہ چکھو کہ ایسے ظالموں کا (یہاں) کوئی مددگار نہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا بیشک وہی جاننے والا ہے دل کی باتوں کا۔

ف 1۔ مراد اس سے عمر بلوغ ہے کہ بقدر ضرورت اس سے کمال فہم حاصل ہوجاتا ہے اسی لئے اس میں مکلف ہوجاتا ہے۔
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا (ف 2) سو جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا (ف 3) اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے اور (نیز) ان کافروں کے لیے ان کا کفر خسارہ ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے۔

ف 2۔ ان دلائل و نعم کا مقتضاء یہ تھا کہ استدلالا و شکرا توحید و اطاعت وختیار کرتے، مگر بعضے اس کے خلاف کفر و خلاف پر مصر ہیں۔ 3۔ کسی دوسرے کا کیا بگڑتا ہے۔