35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsبیان القرآن

Ayahs 35:40–41

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

آپ کہیے کہ تم اپنی قرارداد شریکوں کا حال تو بتاؤ جن کو تم خدا کے سوا پوجا کرتے ہو یعنی مجھ کو یہ بتلاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا جزو بنایا ہے یا ان کا آسمان (بنانے) میں کچھ ساجھا ہے (ف 4) یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کی کسی دلیل پر قائم ہوں (ف 5) بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے نرے دھوکے کی باتوں کا وعدہ کرتے آئے ہیں۔ (ف 6)

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ موجودہ حالت کو چھوڑ نہ دیں اور اگر (بالفرض) موجودہ حالت کو چھوڑ بھی دیں تو پھر خدا کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا وہ حلیم غفور ہے۔

ف 4۔ تاکہ دلیل عقلی سے ان کا استحقاق عبادت ثابت ہو۔ 5۔ اصل یہ ہے کہ نہ دلیل عقلی ہے نہ دلیل نقلی ہے۔ 6۔ ان کے بڑوں نے ان کو بےسد غلط بات بتلادی کہ ھولاء شفعائنا عنداللہ حالانکہ واقع میں وہ محض بےاختیار ہیں، پس وہ مستحق عبادت بھی نہیں، البتہ مختار مطلق حق تعالیٰ ہے، تو وہی قابل عبادت بھی ہے۔
Ayah 35:42

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ Open ayah 35:42 in the Quran reader

اور ان کفار (قریش) نے بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آوے تو وہ ہر ہر امت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والوں ہوں پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آپہنچے (ف 7) تو بس ان کی نفرت ہی کو ترقی ہوئی۔

ف 7۔ یعنی رسول اللہ ﷺ ۔
Ayah 35:43

اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا Open ayah 35:43 in the Quran reader

دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے اور ان کی بری تدبیروں کو (ف 8) اور بری تدبیروں کا وبال (حقیقی) ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے (کافر) لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے (ف 9) سو آپ خدا کے (اس) دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پاویں گے اور آپ خدا کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پاویں گے۔ (ف 10)

ف 8۔ یعنی تکبر کی وجہ سے آپ کے اتباع سے عار تو ہوئی ہی تھی مگر یہ بھی نہ کیا کہ نہ اتباع ہوتا اور نہ درپے ایذاء ہوتے، بلکہ آپ کی ایذاء رسانی کی فکر میں لگ گئے۔ چناچہ ہر وقت ان کا اسی میں لگا رہنا معلوم و مشہور ہے۔ 9۔ یعنی سزا و اہلاک۔ 01۔ مطلب یہ کہ حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ کافروں کو عذاب ہوگا خواہ دنیا میں بھی خواہ صرف آخرت میں بھی، اور حق تعالیٰ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے، پس نہ یہ احتمال ہے کہ ان کو عذاب نہ ہو، نہ یہ احتمال ہے کہ دوسروں کو ہونے لگے، مقصود اس تکریر سے تاکید ہے وقوع عذاب کی۔
Ayahs 35:44–45

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا Open ayah 35:44 in the Quran reader

اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں جس میں دیکھتے بھالتے کہ جو (منکر) لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ہیں ان کا انجام کیا ہوا حالانکہ وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے اور خدا ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز (قوت والی) اس کو ہرا دے نہ آسمان میں اور نہ زمین میں (کیونکہ) وہ بڑا علم والا (اور) بڑی قدرت والا ہے۔ (ف 1)

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ Open ayah 35:45 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ (ان) لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب (فوراً ) داروگیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک متنفس کو نہ چھوڑتا لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ایک میعاد معین (یعنی قیامت) تک مہلت دے رہا ہے سو جب ان کی میعاد آپہنچے گی (اس وقت) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا۔

ف 1۔ پس علم سے اپنے ہر ارادہ کے نافذ کرنے کا طریقہ جانتا ہے اور قدرت سے اس کو نافذ کرسکتا ہے۔