Explained with ayahs 4–6
مایوسی کی ممانعت۔
اے نبی ﷺ اگر آپ کے زمانے کے کفار آپ کی مخالفت کریں اور آپ کی بتائی ہوئی توحید اور خود آپ کی سچی رسالت کو جھٹلائیں۔ تو آپ شکستہ دل نہ ہوجایا کریں۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا۔ سب کاموں کا مرجمع اللہ کی طرف ہے۔ وہ سب کو ان کے تمام کاموں کے بدلا دے گا اور سزا جزا سب کچھ ہوگی، لوگو قیامت کا دن حق ہے وہ یقیناً آنے والا ہے وہ وعدہ اٹل ہے۔ وہاں کی نعمتوں کے بدلے یہاں کے فانی عیش پر الجھ نہ جاؤ۔ دنیا کی ظاہری عیش کہیں تمہیں وہاں کی حقیقی خوشی سے محروم نہ کر دے۔ اسی طرح شیطان مکار سے بھی ہوشیار رہنا۔ اس کے چلتے پھرتے جادو میں نہ پھنس جانا۔ اس کی جھوٹی اور چکنی چپڑی باتوں میں…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 8
یعنی تمہاری اس بات کو نہیں مانتے کہ اللہ کے سوا عبادت کا مستحق کوئی نہیں ہے، اور تم پر یہ الزام رکھتے ہیں کہ تم نبوت کا ایک جھوٹا دعویٰ لے کر کھڑے ہوگئے ہو۔
سورة فَاطِر 9
یعنی فیصلہ لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ جسے وہ جھوٹا کہہ دیں وہ حقیقت میں جھوٹا ہوجائے فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ آخر کار بتادے گا کہ جھوٹا کون تھا اور جو حقیقت میں جھوٹے ہیں انہیں ان کا انجام بھی دکھا دے گا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اے پیغمبر ﷺ اگر یہ لوگ (دوبارہ توحید و رسالت وغیرہ) آپ کو جھٹلائیں تو (آپ غم نہ کریں کیونکہ آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر جھٹلائے جا چکے ہیں (ایک تو اس سے تسلی حاصل کیجئے) اور (دوسری بات یہ کہ) سب امور اللہ ہی کے روبرو پیش کئے جاویں گے (وہ خود سب سے سمجھ لے گا آپ کیوں فکر میں پڑے۔ آگے عام لوگوں کو خطاب ہے کہ) اے لوگو (الی اللہ ترجع الامور) جس میں قیامت کی خبر ہے اس کو سن کر تعجب واستبعاد مت کرنا) اللہ تعالیٰ کا (یہ) وعدہ ضرور سچا ہے، سو ایسا نہ ہو کہ یہ (دنیوی زندگی تم کو دھوکہ میں ڈالے رکھے (کہ اس میں منہمک ہو کر اس یوم موعود سے غافل (ہو) اور ایسا نہ ہو کہ تم کو دھوکہ باز…
Read the full tafseer →آیت 4
یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر ایسے سر پھرے لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی تعجب یا غم کی بات نہیں ہے، تم سے پہلے جو رسول آئے اس طرح کے لوگوں نے ان کی بھی تکذیب کی۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں تمہاری تقصیر کو دخل نہیں ہے بلکہ تمام تر دخل اس میں ان کی مکذبیں کی مخصوص ذہنیت کو ہے۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اپنی پیش رو قوموں کی روش پر چل رہے ہیں تو اس روش کا جو انجام ان کے سامنے آیا وہی ان کے سامنے بھی آئے گا۔
’ والی اللہ ترجع الامور ‘۔ سارے امور خدا کی طرف لوٹے ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے۔ یعنی خدا اس معاملہ میں غیر جانبدار یا غیر متعلق نہیں ہے بلکہ ہر چیز اس کے سامنے آرہی ہے اور…
Read the full tafseer →4۔ 1 اس میں نبی ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ ﷺ کو جھٹلا کر کہاں جائیں گے ؟ بالآخر تمام معاملات کا فیصلہ تو ہمیں نے کرنا ہے، اس لئے اگر یہ باز نہ آئے، تو ان کو بھی ہلاک کرنا ہمارے لئے مشکل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: پچھلے جملے کی مناسبت سے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن فرشتوں کی پروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، اضافہ کردیتا ہے، چنانچہ حضرت جبرئیل ؑ کے چھ سو پروں کی تعداد حدیث میں آئی ہے، لیکن الفاظ عام ہیں، اور ہر تخلیق کو شامل ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی تخلیق میں چاہتا ہے، کسی خاص وصف کا اضافہ فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 200 ایک نظر میں
پہلا سبق کائنات کے نہایت ہی بنیادی تین حقائق پر تھا ۔ یعنی یہ کہ اس کائنات کا خالق اور موجد اللہ وحدہ ہے ۔ رحمت کا حزانہ اسی کے پاس ہے اور رازق بھی وہی وحدہ ہے ۔ اس دوسرے سبق میں نبی ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ان لوگوں کی تکذیب اور انکار سے پر یشان نہ ہوں ۔ ان کا اور ان کے ردعمل کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں اور لوگوں سے زوردار اور بلند آواز کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ اللہ کا وعدۂ قیامت بر حق ہے اور شیطان سے خبردار رہیں کیو ن کہ اس کا مشن ہی یہ ہے کہ تمہیں ان عظیم حقائق سے بدراہ کرے۔ تمام لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ جو ایمان لائیں گے ان کا صلہ کیا ہوگا اور جو شیطان کے دھوکے…
Read the full tafseer →1 یعنی اس قدر سمجھانے اور حجت تمام کرنے کے بعد یہ لوگ آپ ﷺ کو جھٹلائیں تو غم نہ کیجئے۔ انبیاء سابقین کے ساتھ بھی یہ ہی برتاؤ ہوا ہے۔ کوئی انوکھی بات نہیں۔ متعصب اور ضدی لوگ کبھی اپنی ہٹ سے باز نہیں آئے۔ ایسوں کا معاملہ خدا کے حوالہ کیجئے۔ وہیں پہنچ کر سب باتوں کا فیصلہ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 4 { وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ } ”اور اے نبی ﷺ ! اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں علیہ السلام کو جھٹلایا گیا ہے۔“
{ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ } ”اور بالآخر تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔“
Read the full tafseer →7 یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اکثر مکی سورتوں میں آیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ تیرا سالہ مکی دور میں کفار مکہ ڈٹ کر آپ کی مخالفت کرتے رہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے اوچھے سے اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال کئے۔ ایذائیں بھی پہنچائیں، تکذیب بھی کرتے رہے۔ تمسخر بھی اڑاتے رہے۔ جبکہ مسلمانوں کو صرف یہ حکم تھا کہ یہ سب باتیں صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کرتے جائیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار پیغمبراسلام اور مسلمانوں کی تسلی اور حوصلہ افزائی کے لئے ایسے جملے نازل کرتا رہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ حق و باطل کی کشمکش میں پہلے بھی رسولوں سے ایسا ہی سلوک ہوتا رہا ہے اور کسی…
Read the full tafseer →7۔ (تو آپ اسی سے تسلی حاصل کیجئے اور زیادہ غم میں نہ پڑئیے)
8۔ (وہ خود ہی سب سے نپٹ لینے کا کافی ہے، آپ کیوں زیادہ فکر وغم میں پڑیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفوں کا سزاوار وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا کسی سابقہ نمونہ کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون سے اپنی حمد بیان فرمائی ہے، جیسا کہ سورة سبا کے شروع میں بیان کیا گیا تھا اور جو فرشتوں کو انبیاء کی جانب پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین چارچار پر ہیں اور وہ ملائکہ کی تخلیق میں جو چاہے اضافہ کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ یقیناً پر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے جو رحمت مثلاً رزق اور بارش کھول دے تو اسے بند کرنے والا نہیں اور ان میں سے جس کو بند کردے اس کے بند کرنے…
Read the full tafseer →وان یکذبوک فقد کذبت رسل من قبلک . اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کر رہے ہیں تو (آپ صبر
کریں کیونکہ) آپ سے پہلے بھی پیغمبروں کی تکذیب (ان کی کافر امتوں کی طرف سے) کی جا چکی ہے۔ یعنی اگر توحید ‘ قیامت اور عذاب کے مسائل میں یہ لوگ آپ کو جھوٹا قرار دیتے ہیں تو آپ دوسرے پیغمبروں پر اپنے آپ کو قیاس کرلیں اور صبر کریں ‘ غمگین نہ ہوں ‘ ان کو بھی ان کی امتوں نے جھوٹا قرار دیا تھا۔
رُسُلٌ کی تنوین عظمت و کثرت کو ظاہر کر رہی ہے یعنی بڑی عظمت والے ‘ طویل عمریں رکھنے والے ‘ اولوالعزم کثیر پیغمبروں کا بھی یہی حال تھا۔ ان کو بھی کفار کی تکذیب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
والی اللہ ترجع الامور . اور اللہ کی طرف تمام…
Read the full tafseer →اور اگر قریش آپ کو جھٹلائیں تو آپ کی قوم سے پہلے بھی دوسری قوموں نے جھٹلایا تھا اور بالآخر تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ ۭ : توحید کے بعد رسالت کا ذکر ہے۔ ”وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ“ میں واؤ عطف دلیل ہے کہ اس سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے، جس کا مفہوم یہ ہے : ”فَإِنْ یُصَدِّقُوْکَ فَقَدْ فَازُوْا لِأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا“ یعنی اگر یہ آپ کی تصدیق کریں تو یہ کامیاب ہیں، کیونکہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ ‘ : شرط ہے، اس کی جزا محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آرہی ہے : ”وَإِنْ یُکَذِّبُوْکَ فَتَأَسَّ بالرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِکَ“ یعنی اگر یہ آپ کو جھٹلا دیں تو آپ اپنے سے پہلے رسولوں کے حالات سے تسلی حاصل…
Read the full tafseer →آیت : و ان یکذبوک ضمیر مرفوع سے مراد کفار قریش ہیں۔ آیت : فقد کذبت رسل من قبلک اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی رہا ہے اور صبر میں متقد میں کی اقتدا کا حکم دے رہا ہے۔ آیت : و الی اللہ تر جع ال مور۔
حضرت حسن بصری ؓ ، اعراج، یعقوب، ابن عامر، ابو حیوہ، ابن محیصن، حمید، اعمش، حمزہ، یحیی، کسائی اور خلف تاء پر فتحہ کے ساتھ قراءت کرتے ہیں کہ یہ معروف کا صیغہ ہے۔ ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : الا الی اللہ تصیر الا مور (الشوری) باقی فعل مجہول کی بناء پر ترجع قراءت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
8:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یرزقکم من السمآء والارض “ یعنی رزق ہے آسمان سے بارش کی صورت میں اور رزق ہے زمین میں سبزہ ( کی صورت میں )
Read the full tafseer →وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ [اور اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں آپ ﷺ کو ] فَقَدْ كُذِّبَتْ [تو جھٹلائے جا چکے ہیں ] رُسُلٌ [رسول لوگ ] مِّنْ قَبْلِكَ ۭ [آپ ﷺ سے پہلے ] وَ اِلَى اللّٰهِ [اور اللہ ہی کی طرف ] تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ [لوٹائے جائیں گے تمام معاملات ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
اس کے بعد توحید اور رسالت کے منکرین سے خطاب فرمایا کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور ایمان اور کفر کا بدلہ دیا جائے گا یہ وعدہ حق ہے اور پورا ہو کر رہے گا، تمہیں دنیا والی زندگی دھوکہ میں نہ ڈالے (جس کا ہرا بھرا ہونا تمہیں اپنی طرف کھینچتا ہے اور آخرت کے ماننے سے اور آخرت میں نفع دینے والے کاموں سے روکتا ہے) ایک طرف تو دنیا کی سرسبزی ہے دوسری طرف شیطان تمہارے پیچھے لگا ہوا ہے اس سے چوکنے اور ہوشیار رہو، وہ تمہارا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھو، وہ تمہیں دھوکہ نہ دے، اس کے دھوکہ دینے کے جتنے طریقے ہیں ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دھوکہ دیتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تحمید خداوند حمید ومجید برائے اثبات توحید وتذکیر نعم وتحذیر از نقم
قال تعالیٰ الحمد للہ فاطر السموت والارض جاعل الملئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم بما یصنعون۔
(ربط) گذشتہ سورت کے اخیر میں کفار ومشرکین کی ہلاکت کا ذکر تھا کہ ان پر اللہ کا قہر نازل ہوا۔ اور ہلاک اور برباد ہوئے اور کافروں کی ہلاکت اور بربادی اللہ کی نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے۔ کما قال تعالیٰ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔
اس لئے اس سورت کا آغاز اللہ کی حمد وثنا سے کیا گیا (روح المعانی ص 148 ج 22) اور اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا ذکر کر کے شکر پر متنبہ کیا…
Read the full tafseer →8:۔ ان یکذبوک الخ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ اگر یہ مشرکین آپ کو جھٹلاتے ہیں اور ضد وعناد میں آکر نہیں مانتے تو آپ اس سے دل گیر نہ ہوں۔ اس سے آپ کی سچائی میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ اس دور کے مشرکین نے بھی یہی سلوک کیا تھا۔ اس لیے آپ ان کی تکذیب کی پرواہ نہ کریں اور اپنا فریضہ تبلیغ ادا کیے جائیں۔ اور ہر کام کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اس سورة مبارکہ کی ابتداء حمد باری تعالیٰ سے ہوئی۔ سب تعریفیں اور ستائشیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا ایجاد کنندہ ہے جس نے فرشتوں کو پیغام رسانی کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ فرشتوں کے متعدد پر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے تخلیق میں اضافہ کردیتا ہے۔ یہ فرشتے پیغام رسانی کے علاوہ فیضان رسانی کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی رحمت کا ذکر فرمایا ہے اور اپنی صفت خلق کو بیان کیا ہے۔ ساتھ ساتھ شرک کی تردید ہے اور آخر میں نبی (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ہے۔
ارشاد ہوتا ہے ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت…
Read the full tafseer →وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ 0ۭ وَاِلَى اللہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ 4
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ترکیب : غیر اللہ یقرء بالرفع و فیہ و جہان احد ھما ھو صفۃ لخالق علی الموضع و خالق مبتداء و الخبر محذوف تقدیرہ لکم او للاشیاء و الثانی ان یکون فاعل خالق ای ھل یخلق غیر اللہ شیئا ویقر ‘ بالجر علی الصفۃ لفظا یرزقکم یجوزان یکون مستانفا و یجوزان یکون صفۃ لخالق الذین کفروا یجوزان یکون مبتداء و ما بعدہ الخبروان یکون صفۃ لحزبہ او بدلا منہ وان یکون فی موضع جرصفۃ لاصحاب السعیر من التبیان۔
تفسیر : اس کے بعد خدا تعالیٰ اپنی نعماء کو یاد دلاتا ہے۔ فقال یا ایھا الناس اذکروا نعمت اللہ کہ لوگو میری نعمتوں کو یاد کرو، پھر ان نعمتوں کی تفصیل کرتا ہے۔ ھل من خالق غیر اللہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی پیدا کرنے…
Read the full tafseer →وَاِنْ یُّـکَذِّبُوْکَ فَقَدْکُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ (فاطر : 4)
(اے پیغمبر ! اور اگر یہ تمہیں جھٹلاتے ہیں (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے گئے ہیں اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملے لوٹائے جاتے ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر قریش اور دوسرے لوگ آپ کی تکذیب کررہے ہیں اور آپ کی نبوت کو ماننے سے انکاری ہیں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ نہ آپ پہلے رسول ہیں، نہ آپ کی مخالفت پہلا تجربہ ہے۔ اس سے پہلے بہت سے رسول آچکے اور بہت سے رسولوں کی امتوں نے ان کی تکذیب کی۔ ان کے حُسنِ سیرت کے اعتراف کے باوجود…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید کی وجہ سے ہی لوگوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور توحید کی وجہ سے ہی مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو جھوٹا ہونے کا الزام دیا۔
اعلان توحید سے پہلے اہل مکہ رسول کریم ﷺ کو ” الصّادق “ اور ” الامین “ القاب کے ساتھ مخاطب کیا کرتے تھے۔ لیکن جونہی آپ ﷺ نے توحید کی دعوت کا آغاز فرمایا تو وہ لوگ نہ صرف آپ کے مخالف ہوئے بلکہ انہوں نے آپ کو جھوٹا قرار دیا۔ جس پر آپ کا رنجیدہ ہونا فطری بات تھی۔ حقیقت بتلانے اور آپ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ کو جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے انبیاء کو بھی جھٹلایا گیا لہٰذا گھبرانے اور افسردہ خاطرہونے کی…
Read the full tafseer →تسلیٔ رسول ﷺ :
4: وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ (اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر جھٹلائے جاچکے ہیں) اس سے اطلاع دی گئی کہ قریش مکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو بدترین انداز سے مسترد کررہے اور ان کا انکار کر رہے ہیں۔ اور اپنے رسول ﷺ کو تسلی دی کہ آپ کیلئے پہلے انبیاء (علیہم السلام) میں نمونہ موجود ہے اسی لیے رسلٌ کا لفظ نکرہ لایا گیا۔ یعنی کثیر تعداد رسول اور بہت سی آیات اور نذر والے اور طویل عمروں والے اور صبرو عزم بالجزم کے مالک۔ کیونکہ اس سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے۔
تقدیر کلام اس طرح ہے وان یکذبوک فتأس بتکذیب الرسل من قبلک ( اگر…
Read the full tafseer →4، وان یکذبوک فقد کذبت رسل من قبلک ، آپ کی طرح یہ ماقبل انبیاء کو بھی اسی طرح جھٹلا چکے ہیں۔ ، والی اللہ ترجع الا مور،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
3 تا 7۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جس طرح پیدا کرنا اور روزی کا دینا فقط اسی کا کام ہے نہ کسی اور کا ایسے ہی سوائے اس کے اور کسی کو پوجنا نہیں چاہئے مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرایا جاوئے اور جب اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو پھر تم بعد اس کے ان کھلی ہوئی باتوں سے کہاں سے الٹے جاتے ہو او بتوں کو پوجتے ہو اور اگر اے محمد ﷺ مشرک لوگ تم کو جھٹلادیں اور توحید کو نہ مانیں تو تمہیں پہلے رسولوں کی چال چلنی چاہئے کیوں کہ وہ بھی اپنی قوموں کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لائے تھے ‘ لیکن ان لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور مخالفت کی مطلب یہ کہ یہ کچھ نئی بات نہیں ہے اس لیے ان کے جھٹلانے پر اے…
Read the full tafseer →آیت 4
اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی نعمت کو یاد کریں جس سے ان کو نوازا گیا ہے۔ یہ یاد کرنا دل میں اللہ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو یاد رکھنے، زبان سے اس کی حمد و ثنا کرنے اور جوارح سے اس کی اطاعت کرنے کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرنا، اس کے شکر کی دعوت دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی نعمتوں کی طرف اشارہ فرمایا اوہ وہ پیدا کرنا اور رزق عطا کرنا ہیں۔ فرمایا : (ھل من خلاق غیر اللہ یرزقکم من السمآء والارض) ” کیا اللہ کے سوا کوئی اور خلاق ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق دے ؟ “ چونکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پیدا کرتا ہے نہ رزق…
Read the full tafseer →11 پیغمبر کے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں کہ بلاشبہ آپ سے پہلے بھی ۔ اے پیغمبر !۔ بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا ہے "۔ پس نہ تو آپ ﷺ کو تعجب و افسوس کرنے کی ضرورت ہے اور نہ افسردہ و دل برداشتہ ہونے کی۔ اور پیغمبر۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ کی اس فہمائش میں پوری امت کے حق پرستوں اور حق کے علم برداروں کے لئے بھی یہ درس ہے کہ پیغام حق پہنچانے کی راہ میں تمہیں جس تکذیب و مخالفت سے سابقہ پڑرہا ہے اس پر تعجب کرنے اور دل گیر ہونے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ تم اپنے رب پر بھروسہ کر کے اخلاص و استقامت کے ساتھ پیغام حق دئیے چلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
شیطان انسان کا دشمن ہے
تشریح : اوپر دی گئی آیات کو جب ہم غور سے پڑھ لیتے ہیں تو ہمیں اللہ کی قدرت کا پورا یقین ہوجاتا ہے پھر ہمیں اس کا پروگرام سمجھ آ نے لگتا ہے اور یوں تو کل مضبوط ہوجاتا ہے۔ پھر مضبوط ایمان و ارادہ ہمیں شیطان سے نمٹنے کی پوری طاقت دے دیتا ہے اور ہم اپنے نیکی کے فرشتوں کی مدد سے اس کو ہرا دیتے ہیں اسی کو کہتے ہیں مرد کامل یعنی کامیاب انسان۔ فرشتوں کا ذکر ہوچکا اب ذرا شیطان کا مطلب بھی سمجھ لیا جائے تو شیطان جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے برائی کرنے والا، برا راستہ دکھانے والا۔ انسان کی پیدائش پر شیطان ناراض ہوگیا تھا کیونکہ یہ بھی انسان کی طرح عمل اور ارادہ کی طاقت رکھتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 7:
اسرار و معارف :
سورۃ فاطر اسی مضمون کو لیکر آگے بڑھتی ہے کہ تمام تر کمالا صرف اللہ واحد کو سزاوار ہیں کہ وہ اکیلا خالق ہے آسمانوں اور زمینوں کا ان کی تمام تر مخلوقات اور مخلوقات کے تمام تر اوصاف کا فرشتے بھی اس کی مخلوق ہیں جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں اس کے اور اس کی دوسری مخلوق کے درمیان واسطے کا کام کرتے ہیں جیسے سب سے اعلی انبیاء (علیہم السلام) اور ان پر وحی لانے کا کام مخلوق کو روزی روزق پہنچانے یا عذاب وثواب اور صحت و بیماری یعنی وہ خود ہر آن اللہ کی اطاعت پر کمر بستہ ہیں نہ یہ کہ انہیں معبود بنا لیا جائے ان کی قوت و طاقت اللہ ک عطا کردہ ہے جیسے کسی کو دو…
Read the full tafseer →ف 1 یہ اس لئے فرمایا کہ نبی ﷺ پہلے انبیا ( علیہ السلام) کو اسوہ بنائیں اور اپنے زمانہ کے کافروں کی تکذیب سے کبیدہ خاطر نہ ہوں۔
Read the full tafseer →(35:4) ترجع۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب، وہ پھیری جاتی ہے وہ لوٹائی جاتی ہے رجع (باب ضرب) سے مصدر۔ فعل متعدی۔ فعل لازم کا مصدر رجوع ہے۔ الی اللہ ترجع الامور۔ آخر کار تمام امور کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن ۔ (آیت نمبر 1 تا 7) فاطر (پیدا کرنے والا) جاعل ( بنانے والا) اجنحۃ ( جناح) (پر ۔ بازو) مثنی۔ (دو دو) ثلث۔ ( تین تین) ربع ( چار چار) لایفتح (وہ نہیں کھولتا ہے) ممسک ( روکنے والا) انی (کہاں) تو فکون (الٹے پھرے جا رہے ہیں) لا تغرن ( ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے) الغرور (دھوکا ، فریب) حزب ( جماعت) مغفرۃ (معافی) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 :۔ اس کائنات میں جتنی بھی قابل تعریف خوبیاں ہیں وہ اس اللہ کی ذات کے لئے مخصوص ہیں جو ارض و سماء کا مالک اور سب کا رازق ہے۔ کائنات میں ہر طرف اس کی عظمت کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں ۔ اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی کہ اللہ نے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(ف 3) ان آیتوں میں ارشاد ہے اے لوگوتم پر جو خدا کی نعمت ہے اس کو یاد کرو اور اس کا شکر ادا کروسوائے خدا کے تمہارا کوئی اور پیدا کرنے والا ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہو، جب نہیں ہے تو اسی کی تابعداری میں کوشش کرو اور سب جھگڑوں کو چھوڑ دو ، جب اسی نے پیدا کیا اور کھانے پینے کو بھی وہی دیتا ہے تو اس کے برابر تمہارے اوپر کسی کا حق ہے تمہارے رگ اور پٹھوں میں اس کے انعامات سرایت کررہے ہیں اور خود اس کے بنائے ہوئے ہو پھر اس کو چھوڑ کر کہاں جاتے ہو اور اپنے محسن کو کیوں بھولے ہوئے ہو، آگے فرمایا کہ اے محبوب تم کو یہ کافر جھوٹابتادیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول ہوچکے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] رسول اکرم ﷺ کو تسلی دینی مقصود ہے کہ ان لوگوں کا تم کو جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ تم سے پہلے بھی لوگوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا لیکن انہوں نے صبر کیا لہذا تم بھی صبر کرو۔ علاوہ بریں آخرکار معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ وہ جھٹلانے والوں سے سمجھ لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
ف 2: ان دو آیتوں میں توحید کی حقیقت بیان فرمائی ہے ۔ کہ تمام اختیارات اور قدرتیں صرف اس اللہ سے مختص ہیں ۔ کوئی شخص اس کے ارادوں میں مزاحمت نہیں کرسکتا ۔ وہ اگر کسی شخص کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو پھر کوئی خشص ان دروازوں کو مسدود نہیں کرسکتا ۔ اگر کسی شخص پر اس کے فضل وکرم کے ابواب بند ہوجائیں ۔ تو پھر کوئی بڑی سے بڑی شخصیت بھی ان کو کھول دینے پر قادر نہیں وہ تنہا اس کائنات کا حاکم ہے تم صرف اسی کے ممنون احسان بنو ۔ اور کسی ماسوا سے سے رزق کی توقع نہ رکھو ۔
حل لغات :۔ الغرور ۔ دھوکہ دینے والا شیطان الشعیر ۔ آگ ۔
Read the full tafseer →(4) اور یہ دین حق کے منکر آپ کی تکذیب کریں اور آپ کی طرف جھوٹ کی نسبت کریں تو آپ سے پہلے بھی رسولوں کی تکذیب کی جا چکی ہے اور آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں اور سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پھیرے جائیں گے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے ساتھ منکروں کا ہمیشہ سے یہی شیوہ چلا آتا ہے جو آپ کے ساتھ ہو رہا ہے وہ بھی اپنے اپنے رسولوں کو جھوٹا بتاتے تھے اسی طرح یہ کفار قریش آپ کی تکذیب کر رہے ہیں اس سے آپ کو گھبرانا نہیں چاہیئے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف کاموں کی بازگشت ہے۔ جہاں رسولوں کو ان کی مظلومیت کا صلہ ملے گا اور ظالموں کو تکذیب کی جزا دی جائے گی۔ آیت کا آخری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 3۔ یعنی نہ کوئی صاحب تخلیق کہ نعمت ایجاد ہے اور نہ کوئی صاحب ترزیق کہ نعمت ابقاء ہے، پس جب وہ ہر طرح کامل ہے تو یقینا اس کے سوا کوئی لائق عبادت بھی نہیں۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! اگر انہوں نے آپ کو جھٹلایا ہے تو آپ ﷺ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے ہیں
4 ۔ پیغمبر اسلام ! نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ اگر ان قریش مکہ نے آپ ﷺ کو جھٹلایا ہے اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ ﷺ سے پہلے بہت سے نبی اور رسول بھیجے گئے اور ان کو ان کی قوموں نے خوف جھٹلایا اور ان کی ایک نہ مانی۔ ہمارے حکم کے مطابق انہوں نے سلسلہ تبلیغ جاری رکھا اور وہ ان کو جھٹلانے سے تبلیغ کو کبھی نہ چھوڑ بیٹھے وہ برابر اپنا فرض انجام دیتے رہے یہاں تک کہ ایک وقت آگیا جب انہوں نے رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے اپنے درد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
The word: رَّحْمَةٍ (rahmah: mercy) appearing in verse 2: مَّا يَفْتَحِ اللَّـهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا (Whatever blessing Allah opens for the people, there is none to hold it back,) is general at this place. It includes blessings of one's religion in this world along with those of the Hereafter, such as, faith, knowledge, rightly guided conduct as well as the mission of a prophet and the station of a Waliyy or man of Allah. And it also includes material blessings in the present world, such as, provisions, means, comfort, health, wealth, property, recognition and…
Read the full tafseer →8 "If they ...liar": `If they do not believe that there is no one worthy of worship but Allah, and accuse you of having made a false claim to Prophethood."
9 That is, "It is not for the people to give the verdict that whomsoever they call a liar should in actual fact become a liar. The judgement rests with Allah. He shall in the end decide who was the liar, and shall bring the real liars to their evil end."
Read the full tafseer →