35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

سب خوبی اللہ کو ہے جس نے بنا نکالے آسمان اور زمین3 جس نے ٹھہرایا فرشتوں کو پیغام لانے والے4 جن کے پر ہیں دو دو اور تین تین اور چار چار5 بڑھا دیتا ہے پیدائش میں جو چاہے بیشک اللہ ہر چیز کرسکتا ہے6

3 یعنی آسمان و زمین کو ابتداء عدم سے نکال کر وجود میں لایا، پہلے سے کوئی نمونہ اور تخلیق کا قانون موجود نہ تھا۔ 4 یعنی بعض فرشتے انبیاء کے پاس اللہ کا پیغام لاتے ہیں اور بعض دوسرے جسمانی و روحانی نظام کی تدبیر و تشکیل پر مامور ہیں۔ فالمدبرات امرا۔ 5 یعنی بعض فرشتوں کے دو بازو (یا دو پر) بعض کے تین بعض کے چار ہیں۔ ان بازوؤں اور پروں کی کیفیت کو اللہ ہی جانتا ہے یا جس نے دیکھے ہوں وہ کچھ بتلا سکیں۔ 6 یعنی اللہ تعالیٰ جس مخلوق میں جو عضو اور جو صفت چاہے اپنی حکمت کے موافق بڑھا دے۔ فرشتوں کے دو ، تین، چار بازو (یا پر) اسی نے بنائے چاہے تو بعض فرشتوں کے چار سے زیادہ بنا دے۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ حضرت جبرائیل کے چھ سو بازو (یا پر) ہیں۔ اور جاعل الملائکۃ رسلا سے یہ مت سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کچھ ان وسائط کا محتاج ہے۔ ہرگز نہیں۔ وہ بذات خود ہر چیز پر قادر ہے۔ محض حکمت کی بناء پر یہ اسباب و وسائط کا سلسلہ قائم کیا ہے۔
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

جو کچھ کہ کھول دے اللہ لوگوں پر رحمت میں سے تو کوئی نہیں اس کو روکنے والاف 8 اور جو کچھ روک رکھے تو کوئی نہیں اس کو بھیجنے والا اس کے سوا اور وہی ہے زبردست حکمتوں والاف 9

8 رحمت جسمانی ہو مثلا بارش، روزی وغیرہ یا روحانی جیسے انزال کتب و ارسال رسل۔ غرض اللہ جب لوگوں پر اپنی رحمت کا دروازہ کھولے، کون ہے جو بند کرسکے۔ 9 یعنی اپنی حکمت بالغہ کے موافق جو کچھ کرنا چاہے فورا کر گزرے ایسا زبردست ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔
Ayah 35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

اے لوگوں یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر کیا کوئی ہے بنانے والا اللہ کے سوا روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے کوئی حاکم نہیں مگر وہ پھر کہاں الٹے جاتے ہو9

9 یعنی مانتے ہو کہ پیدا کرنا اور روزی کے سامان بہم پہنچا کر زندہ رکھنا سب اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے۔ پھر معبودیت کا استحقاق کسی دوسرے کو کدھر سے ہوگیا جو خالق و رزاق حقیقی ہے وہ ہی معبود ہونا چاہیے۔
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور اگر تجھ کو جھٹلائیں تو جھٹلائے گئے رسول تجھ سے پہلے اور اللہ تک پہنچتے ہیں سب کام1

1 یعنی اس قدر سمجھانے اور حجت تمام کرنے کے بعد یہ لوگ آپ ﷺ کو جھٹلائیں تو غم نہ کیجئے۔ انبیاء سابقین کے ساتھ بھی یہ ہی برتاؤ ہوا ہے۔ کوئی انوکھی بات نہیں۔ متعصب اور ضدی لوگ کبھی اپنی ہٹ سے باز نہیں آئے۔ ایسوں کا معاملہ خدا کے حوالہ کیجئے۔ وہیں پہنچ کر سب باتوں کا فیصلہ ہوجائے گا۔
Ayahs 35:5–6

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

اے لوگوں بیشک اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے سو نہ بہکائے تم کو دنیا کی زندگانی اور نہ دغا دے تم کو اللہ کے نام سے وہ دغا باز

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

تحقیق شیطان تمہارا دشمن ہے سو تم بھی سمجھ رکھو اس کو دشمن وہ تو بلاتا ہے اپنے گروہ کو اسی واسطے کہ ہوں دوزخ والوں میں2

2 یعنی قیامت آنی ہے اور یقینا سب کو اللہ تعالیٰ کی بڑی عدالت میں حاضر ہونا ہے۔ اس دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور فانی عیش و بہار پر نہ پھولو اور اس مشہور دغا باز شیطان کے دھوکہ میں مت آؤ۔ وہ تمہارا ازلی دشمن ہے۔ کبھی اچھا مشورہ نہ دے گا۔ یہ ہی کوشش کرے گا کہ اپنے ساتھ تم کو بھی دوزخ میں پہنچا کر چھوڑے طرح طرح کی باتیں بنا کر خدا اور آخرت کی طرف سے غافل کرتا رہے گا۔ چاہیے کہ تم دشمن کو دشمن سمجھو اس کی بات نہ مانو۔ اس پر ثابت کردو کہ ہم تیری مکاری کے جال میں پھنسنے والے نہیں۔ خوب سمجھتے ہیں کہ تو دوستی کے لباس میں بھی دشمنی کرتا ہے۔
Ayahs 35:7–8

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جو منکر ہوئے ان کو سخت عذاب ہے اور جو یقین لائے اور کئے بھلے کام ان کے لیے ہے معافی اور بڑا ثواب

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

بھلا ایک شخص کہ بھلی سجھائی گئی اس کو اس کے کام کی برائی پھر دیکھا اس نے اس کو بھلا کیونکہ اللہ بھٹکاتا ہے جس کو چاہے اور سجھاتا ہے جس کو چاہے سو تیرا جی نہ جاتا رہے ان پر پچتا پچتا کر اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کرتے ہیں3

3 یعنی شیطان نے جس کی نگاہ میں برے کام کو بھلا کر دکھایا۔ کیا وہ شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے جو خدا کے فضل سے بھلے برے کی تمیز رکھتا ہے۔ نیکی کو نیکی اور بدی کو بدی سمجھتا ہے۔ جب دونوں برابر نہیں ہوسکتے تو انجام دونوں کا یکساں کیونکر ہوسکتا ہے۔ اور یہ خیال نہ کرو کہ کوئی آدمی دیکھتی آنکھوں برائی کو بھلائی کیونکر سمجھ لے گا۔ اللہ جس کو سوء استعداد اور سوء اختیار کی بناء پر بھٹکانا چاہے اس کی عقل اسی طرح اوندھی ہوجاتی ہے اور جس کو حسن استعداد اور حسن اختیار کی وجہ سے ہدایت پر لانا چاہے تب کسی شیطان کی طاقت نہیں جو اسے غلط راستے پر ڈال سکے یا الٹی بات سمجھا دے۔ بہرحال جو شخص شیطانی اغواء سے برائی کو بھلائی، بدی کو نیکی اور زہر کو تریاق سمجھ لے کیا اس کے سیدھے راستہ پر آنے کی کچھ توقع ہوسکتی ہے ؟ جب نہیں ہوسکتی اور سلسلہ ہدایت و ضلالت کا سبب اللہ کی مشیت و حکمت کا تابع ہے۔ تو آپ ان معاندین کے غم میں اپنے کو کیوں گھلاتے ہیں، اس حسرت میں کہ یہ بدبخت اپنے فائدہ کی بات کو کیوں قبول نہیں کرتے۔ کیا آپ اپنی جان دے بیٹھیں گے۔ آپ ان کا قصہ ایک طرف کیجئے۔ اللہ ان کی سب کرتوت جانتا ہے۔ وہ خود ان کا بھگتان کر دے گا۔ آپ دلگیر و غمگین نہ ہوں۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور اللہ ہے جس نے چلائی ہیں ہوائیں پھر وہ اٹھاتی ہیں بادل کو پھر ہانک لے گئے ہم اس کو مردہ دیس کی طرف پھر زندہ کردیا ہم نے اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد اسی طرح ہوگا جی اٹھنا4

4 اللہ کے حکم سے ہوائیں بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں اور جس ملک کا رقبہ مردہ پڑا تھا۔ یعنی کھیتی و سبزہ کچھ نہ تھا، چاروں طرف خاک اڑ رہی تھی، بارش کے پانی سے اس میں جان پڑجاتی ہے۔ اسی طرح سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تم کو بھی مرے پیچھے جلا کر کھڑا کر دے گا۔ روایات میں ہے کہ جب اللہ مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا۔ عرش کے نیچے سے ایک (خاص قسم کی) بارش ہوگی جس کا پانی پڑتے ہی مردے اس طرح جی اٹھیں گے جیسے ظاہری بارش ہونے پر دانہ زمین سے اگ آتا ہے۔ مزید تفصیل روایات میں دیکھنی چاہیے۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جس کو چاہے عزت تو اللہ کے لیے ہے ساری عزت1 اس کی طرف چڑھتا ہے کلام ستھرا2 اور کام نیک اس کو اٹھا لیتا ہے3 اور جو لوگ داؤ میں ہیں برائیوں کے ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا داؤ ہے ٹوٹے کا4

1 کفار نے دوسرے معبود اس لیے ٹھہرائے تھے کہ اللہ کے ہاں ان کی عزت ہوگی۔ " وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا " (مریم، رکوع 5) اور بہت لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستانہ کرتے تھے کہ اس سے ان کی عزت بنی رہے گی۔ " الَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا۔ " (نسآء، رکوع 20) اس قسم کے لوگوں کو بتلایا کہ جو شخص دنیا و آخرت کی عزت چاہے، چاہیے کہ اللہ سے طلب کرے کہ عزیز مطلق تو وہ ہے، اسی کی فرمانبرداری اور یادگاری سے اصلی عزت میسر آتی ہے۔ تمام عزتوں کا مالک وہی اکیلا ہے جس کسی کو عزت ملی یا ملے گی اسی کے خزانہ سے ملی ہے یا ملے گی۔ 2 ستھرا کلام ہے ذکر اللہ، دعاء تلاوت القرآن، علم و نصیحت کی باتیں، یہ سب چیزیں بارگاہ رب العزت کی طرف چڑھتی ہیں اور قبول و اعتناء کی عزت حاصل کرتی ہیں۔ 3 ستھرے کلام (ذکر اللہ وغیرہ) کا ذاتی اقتضاء ہے اوپر چڑھنا۔ اس کے ساتھ دوسرے اعمال صالحہ ہوں تو وہ اس کو سہارا دے کر اور زیادہ ابھارتے اور بلند کرتے رہتے ہیں۔ اچھے کلام کو بدون اچھے کاموں کے پوری رفعت شان حاصل نہیں ہوتی۔ بعض مفسرین نے " وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهٗ " کی ضمیروں کا مرجع بدل کر یہ معنی لیے ہیں کہ ستھرا کلام اچھے کام کو اونچا اور بلند کرتا ہے۔ یہ بھی درست ہے اور بعض نے رفع کی ضمیر اللہ کی طرف لوٹائی ہے یعنی اللہ عمل صالح کو بلند کرتا اور معراج قبول پر پہنچاتا ہے۔ بہرحال غرض یہ ہے کہ بھلے کلام اور اچھلے کلام دونوں علو و رفعت کو چاہتے ہیں۔ لہذا جو شخص اللہ تعالیٰ سے عزت کا طالب ہو وہ ان چیزوں کے ذریعہ سے حاصل کرے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ تمہارے ذکر اور بھلے کام چڑھتے جاتے ہیں۔ جب اپنی حد کو پہنچیں گے تب بدی پر (پورا) غلبہ (حاصل) کریں گے۔ کفر دفع ہوگا، اسلام کو عزت ہوگی۔ " مکاروں کے سبب داؤ گھات باطل اور بیکار ہو کر رہ جائیں گے۔4 یعنی جو لوگ بری تدبیریں سوچتے اور حق کے خلاف داؤ گھات میں رہتے ہیں آخر ناکام ہو کر خسارہ اٹھائیں گے۔ دیکھو قریش نے " دارالندوہ " میں بیٹھ کر حضور ﷺ کو قید کرنے یا وطن سے نکالنے کے مشورے کیے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ " جنگ بدر " کے مواقع پر وہ ہی لوگ وطن سے نکلے، مسلمانوں کے ہاتھوں سے قتل ہوئے اور قلیب بدر میں ہمیشہ کے لیے قید کردیے گئے۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو بنایا مٹی سے پھر بوند پانی سے پھر بنایا تم کو جوڑے جوڑے اور نہ پیٹ رہتا ہے کسی مادہ کو اور نہ وہ جنتی ہے بن خبر اس کے5 اور نہ عمر پاتا ہے کوئی بڑی عمر والا اور نہ گھٹتی ہے کسی عمر مگر لکھا ہے کتاب میں بیشک یہ اللہ پر آسان ہے6

5 یعنی آدم کو مٹی سے پھر اس کی اولاد کو پانی کی بوند سے پیدا کیا۔ پھر مرد عورت کے جوڑے بنا دیے جس سے نسل پھیلی۔ اس درمیان میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک جو ادوار واطوار گزرے سب کی خبر خدا ہی کو ہے۔ ماں باپ بھی نہیں جانتے کہ اندر کیا صورتیں پیش آئیں۔ 6 یعنی جس کی جتنی عمر ہے لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے اور جو اسباب عمر کے گھٹنے بڑھنے کے ہیں یا یہ کہ کون عمر طبعی کو پہنچے گا کون نہیں، سب اللہ کے علم میں ہے اور اللہ کو ان جزئیات پر احاطہ رکھنا بندوں کی طرح کچھ مشکل نہیں۔ اس کو تو تمام مالکان ومایکون، جزئی، کلی، اور غیب و شہادت کا علم ازل سے حاصل ہے۔ اس کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ہر کام سہج سہج ہوتا ہے جیسے آدمی کا بننا " اور اپنی عمر مقدر کو پہنچنا۔ اس طرح سمجھ لو اسلام بتدریج بڑھے گا اور آخرکار کفر کو مغلوب و مقہور کر کے چھوڑے گا۔
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور برابر نہیں دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھاتا ہے خوشگوار اور یہ کھارا کڑوا اور دونوں میں سے کھاتے ہو گوشت تازہ اور نکالتے ہو گہنا جس کو پہنتے ہو7 اور تو دیکھے جہازوں کو اس میں کہ چلتے ہیں پانی کو پھاڑتے تاکہ تلاش کرو اس کے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو8

7 اوپر سے دلائل توحید اور شواہد قدرت بیان ہوتے آرہے ہیں۔ اسی کے ضمن میں لطیف اشارے اسلام کے غلبہ کی طرف بھی ہوتے جاتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی کفر اور اسلام برابر نہیں۔ خدا کفر کو مغلوب ہی کرے گا اگرچہ تم کو دونوں سے فائدہ ملے گا۔ مسلمانوں سے قوت دین اور کافروں سے جزیہ خراج اور گوشت میٹھے کھاری دونوں دریاؤں سے نکلتا ہے یعنی مچھلی۔ اور گہنا (زیور) یعنی موتی، مونگا اور جواہر اکثر کھاری سے نکلتے ہیں۔ " 8 اکثر بڑی بڑی تجارتیں جہازوں کے ذریعے ہوتی ہیں۔ ان سے جو منافع حاصل ہو یہ ہی اللہ کا فضل ہے۔ ان تمام انعامات پر انسان کو چاہیے مالک کا شکر ادا کرے۔
Ayah 35:13

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

رات گھساتا ہے دن میں اور دن گھساتا ہے رات میں اور کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو ہر ایک چلتا ہے ایک مقرر وعدہ تک9 یہ اللہ ہے تمہارا رب اسی کے لیے بادشاہی ہے اور جن کو تم پکارتے ہو اس کے سوا وہ مالک نہیں کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے1

9 یہ مضمون پہلے کئی جگہ گزر چکا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی رات دن کی طرح کبھی کفر غالب ہے کبھی اسلام۔ اور سورج چاند کی طرح ہر چیز کی مدت بندھی ہے۔ دیر سویر نہیں ہوتی۔ " حق کا نمایاں غلبہ اپنے وقت پر ہوگا۔ 1 یعنی جس کی صفات و شؤن اوپر بیان ہوئی حقیقت میں یہ ہے تمہارا سچا پروردگار اور کل زمین و آسمان کا بادشاہ۔ باقی جنہیں تم خدا قرار دے کر پکارتے ہو۔ وہ مسکین بادشاہ تو کیا ہوتے کھجور کی گٹھلی پر جو باریک جھلی سی ہوتی ہے اس کے بھی مالک نہیں۔
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو سنیں نہیں تمہاری پکار اور اگر سنیں پہنچیں نہیں تمہارے کام کو اور قیامت کے دن منکر ہوں گے تمہارے شریک ٹھہرانے سے2 اور کوئی نہ بتلائے گا تجھ کو جیسا بتلائے خبر رکھنے والاف 3

2 یعنی جن معبودوں کا سہارا ڈھونڈتے ہو وہ تمہاری پکار نہیں سنتے اور توجہ کرتے بھی تو کچھ کام نہ آسکتے۔ بلکہ قیامت کے دن تمہاری مشرکانہ حرکات سے اعلانیہ بیزاری کا اظہار کریں گے اور بجائے مددگار بننے کے دشمن ثابت ہوں گے۔ 3 یعنی اللہ سے زیادہ احوال کو نجانے وہ ہی فرماتا ہے کہ یہ شریک غلط ہیں جو کچھ کام نہیں آسکتے ایسے ٹھیک اور پکی باتیں اور کون بتلائے گا۔
Ayah 35:15

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگوں تم ہو محتاج اللہ کی طرف اور اللہ وہی ہے بےپروا سب تعریفوں والاف 4

4 یعنی سب لوگ اسی اللہ کے محتاج ہیں جسے کسی کی احتیاج نہیں کیونکہ تمام خوبیاں اور کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں۔ پس وہ ہی مستحق عبادات و استعانت کا ہوا۔
Ayahs 35:16–17

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر چاہے تم کو لے جائے اور لے آئے ایک نئی خلقت

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ بات اللہ پر مشکل نہیں5

5 یعنی تم نہ مانو تو وہ قادر ہے کہ تم کو ہٹا کر دوسری خلقت باد کر دے جو بہمہ وجوہ اس کی فرمانبرداری اور اطاعت گزار ہو، جیسے آسمانوں پر فرشتے اور ایسا کرنا اللہ کو کچھ مشکل نہیں، اور آخر میں ہر ایک اپنے نیک و بعد عمل کا بدلہ پائے تاکہ اس طرح اس کی تمامی صفات کا ظہور ہو۔
Ayah 35:18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور نہ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا اور اگر پکارے کوئی بوجھل اپنا بوجھ بٹانے کو کوئی نہ اٹھائے اس میں سے ذرا بھی اگرچہ ہو قرابتی6 تو تو ڈر سنا دیتا ہے ان کو جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور قائم رکھتے ہیں نماز7 اور جو کوئی سنورے گا تو یہی ہے کہ سنورے گا اپنے فائدہ کو اور اللہ کی طرف سب کو پھرجانا8

6 یعنی نہ کوئی از خود دوسرے کا بوجھ اپنے سر رکھے گا کہ اس کے گناہ اپنے اوپر لے لے اور نہ دوسرے کے پکارنے پر اس کا کچھ ہاتھ بٹا سکے گا خواہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ سب کو نفسی نفسی پڑی ہوگی۔ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت ہی سے بیڑا پار ہوگا۔7 یعنی آپ کے ڈرانے سے وہ ہی اپنا رویہ درست کر کے نفع اٹھائے گا جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے اور ڈر کر اس کی بندگی میں لگا رہتا ہے جس کے دل میں خدا کا خوف ہی نہ ہو وہ ان دھمکیوں سے کیا متاثر ہوگا۔ 8 یعنی آپ کی نصیحت سن کر جو شخص مان لے اور اپنا حال درست کرلے تو کچھ آپ پر یا خدا پر احسان نہیں بلکہ اسی کا فائدہ ہے اور یہ فائدہ پوری طرح اس وقت ظاہر ہوگا جب سب اللہ کے ہاں لوٹ کر جائیں گے۔
Ayahs 35:19–22

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور برابر نہیں اندھا اور دیکھتا

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ اندھیرا اور نہ اجالا

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ اور نہ لو

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور برابر نہیں جیتے اور نہ مردے9 اللہ سناتا ہے جس کو چاہے اور تو نہیں سنانے والا قبر میں پڑے ہوؤں کو

9 یعنی مومن جس کو اللہ نے دل کی آنکھیں دی ہیں، حق کے اجالے اور وحی الٰہی کی روشنی میں بےکھٹکے راستہ قطع کرتا ہوا جنت کے باغوں اور رحمت الٰہی کے سایہ میں جا پہنچا ہے۔ کیا اس کی برابری وہ کافر کرسکے گا جو دل کا اندھا اوہام و ہواء کی اندھیریوں میں بھٹکتا ہوا جہنم کی آگ اور اس کی جھلس دینے والی لوؤں کی طرف بےتحاشا چلا جا رہا ہے۔ ہرگز نہیں۔ ایسا ہو تو یوں سمجھو کہ مردہ اور زندہ برابر ہوگیا۔ فی الحقیقت مومن و کافر میں اس سے بھی زیادہ تفاوت ہے جو ایک زندہ تندرست آدمی اور مردہ لاش میں ہوتا ہے، اصل اور دائمی زندگی صرف روح ایمان سے ملتی ہے۔ بدون اس کے انسان کو ہزار مردوں سے بدتر مردہ سمجھنا چاہیے۔
Ayah 35:23

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تو تو بس ڈر کی خبر پہنچانے والا ہے1

1 یعنی اللہ چاہے تو مردوں کو بھی سنا دے یہ قدرت اوروں کو نہیں۔ اسی طرح سمجھ لو کہ پیغمبر کا کام خبر پہنچانا اور بھلے برے سے آگاہ کردینا ہے۔ کوئی مردہ دل کافر ان کی بات نہ سنے تو یہ ان کے بس کی بات نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی سب خلق برابر نہیں جنہیں ایمان دینا ہے ان ہی کو ملے گا۔ تو بہتیری آرزو کرے تو کیا ہوتا ہے۔ اور یہ جو فرمایا۔ " نہ اندھیرا نہ اجالا " یعنی نہ اندھیرا برابر اجالے کے اور نہ اجالا برابر اندھیرے کے (یہ " لا " کی تکریر کا فائدہ بتلا دیا) اور فرمایا " تو نہیں سنانے والا قبر میں پڑے ہوؤں کو۔ " حدیث میں آیا کہ مردوں سے سلام علیکم کرو۔ اور بہت جگہ مردوں کو خطاب کیا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ مردے کی روح سنتی ہے اور قبر میں پڑا ہے دھڑ، وہ نہیں سنتا۔ " یہ بحث پہلے سورة "' نمل " کے آخر میں گزر چکی وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 35:24

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے بھیجا ہے تجھ کو سچا دین دے کر خوشی اور ڈر سنانے والا کوئی فرقہ نہیں جس میں نہیں ہوچکا کوئی ڈر سنانے والاف 2

2 ڈر سنانے والا خواہ نبی ہو یا نبی کا قائم مقام جو اس کی راہ کی طرف بلائے۔ اس کے متعلق سورة " نمل " کے چوتھے رکوع میں کچھ لکھا جا چکا ہے۔
Ayah 35:25

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر وہ تجھ کو جھٹلائیں تو آگے جھٹلا چکے ہیں جو لوگ کہ ان سے پہلے تھے پہنچے ان کے پاس رسول ان کے لے کر کھلی باتیں اور صحیفے اور روشن کتاب3

3 یعنی روشن تعلیمات یا کھلے کھلے معجزات لے کر آئے۔ نیز ان میں سے بعض کو مختصر چھوٹے صحیفے دیے گئے بعض کو بڑی مفصل کتابیں۔
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر پکڑا میں نے منکروں کو سو کیسا ہوا انکار میرا4

4 یعنی جب تکذیب سے باز نہ آئے تو دیکھ لو انجام کیا ہوا وہ ہی تمہارا بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح کے ان کے رنگ5 اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح کے ان کے رنگ اور بھجنگے کالے6

5 یعنی قسم قسم کے میوے۔ پھر ایک قسم میں رنگ برنگ کے پھل پیدا کیے۔ ایک زمین، ایک پانی اور ایک ہوا سے اتنی مختلف چیزیں پیدا کرنا عجیب و غریب قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔ 6 یعنی سفید بھی کئی درجے (کوئی بہت زیادہ سفید کوئی کم کوئی اس سے کم) اور سرخ بھی کئی درجے اور کالے بھجنگے یعنی بہت گہرے سیاہ کوے کے پر کی طرح۔
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور آدمیوں میں اور کیڑوں میں اور چوپاؤں میں کتنے رنگ ہیں اسی طرح7 اللہ سے ڈرتے وہی ہیں اس کے بندوں میں جن کو سمجھ ہے، تحقیق اللہ زبردست ہے بخشنے والاف 8

7 یہ سب بیان ہے قدرت کی نیرنگیوں کا۔ پس جس طرح نباتات، جمادات، اور حیوانات میں رنگ برنگ کی مخلوق ہے، انسانوں میں بھی ہر ایک کی طرح جدا ہے۔ مومن اور کافر ایک دوسرا سا ہوجائے اور سب انسان ایک ہی رنگ اختیار کرلیں یہ کب ہوسکتا ہے۔ اس میں حضرت ﷺ کو تسلی دے دی کہ لوگوں کے اختلاف سے غمگین نہ ہوں۔ 8 یعنی بندوں میں نڈر بھی ہیں اور اللہ سے ڈرنے والے بھی مگر ڈرتے وہ ہی ہیں جو اللہ کی عظمت و جلال، آخرت کے بقاء و دوام، اور دنیا کی بےثباتی کو سمجھتے ہیں اور اپنے پروردگار کے احکام و ہدایات کا علم حاصل کر کے مستقبل کی فکر رکھتے ہیں۔ جس میں یہ سمجھ اور علم جس درجہ کا ہوگا اسی درجہ میں وہ خدا سے ڈرے گا۔ جس میں خوف خدا نہیں وہ فی الحقیقت عالم کہلانے کا مستحق نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی سب آدمی ڈرانے والے نہیں۔ اللہ سے ڈرنا سمجھ والوں کی صفت ہے اور اللہ کا معاملہ بھی دو طرح ہے وہ زبردست بھی ہے کہ ہر خطا پر پکڑے، اور غفور بھی کہ گنہگار کو بخشے۔ " پس دونوں حیثیت سے بندے کو ڈرنا چاہیے۔ کیونکہ نفع و ضرر دونوں اسی کے قبضہ میں ہوئے تو جب چاہے نفع کو روک لے اور ضرر لاحق کر دے۔
Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ پڑھتے ہیں کتاب اللہ اور سیدھی کرتے ہیں نماز اور خرچ کرتے ہیں کچھ ہمارا دیا ہوا چھپے اور کھلے امیدوار ہیں ایک بیوپار کے جس میں ٹوٹا نہ ہو9

9 یعنی جو اللہ سے ڈر کر اس کی باتوں کو مانتے اور اس کی کتاب کو عقیدت کے ساتھ پڑھتے ہیں نیز بدنی و مالی عبادات میں کوتاہی نہیں کرتے وہ حقیقت میں ایسے زبردست بیوپار کے امیدوار ہیں جس میں خسارے اور ٹوٹے کا کوئی احتمال نہیں۔ بلاشہ جب خدا خود ان کے اعمال کا خریدار ہو تو اس امید میں یقینا حق بجانب ہیں۔ نقصان کا اندیشہ کسی طرف سے نہیں ہوسکتا۔ از سرتاپا نفع ہی نفع ہے۔
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ پورا دے ان کو ثواب ان کا اور زیادہ دے اپنے فضل سے تحقیق وہ ہے بخشنے والا قدر دان1

1 یعنی بہت سے گناہ معاف فرماتا ہے اور تھوڑی سی طاعت کی قدر کرتا ہے اور ضابطہ سے جو ثواب ملنا چاہیے۔ بطور بخشش اس سے زیادہ دیتا ہے۔
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور جو ہم نے تجھ پر اتاری کتاب وہی ٹھیک ہے تصدیق کرنے والی اپنے سے اگلی کتابوں کی بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار ہے دیکھنے والاف 2

2 یعنی بندوں کے احوال کو خوب جانتا ہے۔ ٹھیک موقع پر یہ کتاب اتاری۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے وارث کیے کتاب کے وہ لوگ جن کو چن لیا ہم نے اپنے بندوں سے، پھر کوئی ان میں برا کرتا ہے اپنی جان کا اور کوئی ان میں ہے بیچ کی چال پر اور کوئی ان میں آگے بڑھ گیا ہے لیکر خوبیاں اللہ کے حکم سے یہی ہے بڑی بزرگی3

3 یعنی پیغمبر کے بعد اس کتاب کا وارث اس امت کو بنایا جو بہمیت مجموعی تمام امتوں سے بہتر و برتر ہے۔ ہاں امت کے سب افراد یکساں نہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو باوجود ایمان صحیح کے گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں (یہ " ظالم لنفسہ " ہوئے) اور وہ بھی ہیں جو میانہ روی سے رہتے ہیں۔ نہ گناہوں میں منہمک، نہ بڑے بزرگ اور ولی۔ (انکو " مقتصدا " فرمایا) اور ایک وہ کامل بندے جو اللہ کے فضل و توفیق سے آگے بڑھ بڑھ کر نیکیاں سمیٹتے اور تحصیل کمال میں مقتصدین سے آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ مستحب چیزوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اور گناہ کے خوف سے مکروہ تنزیہی بلکہ بعض مباحات تک سے پرہیز کرتے ہیں۔ اعلیٰ درجہ کی بزرگی اور فضیلت تو ان کو ہے۔ ویسے چنے ہوئے بندوں میں ایک حیثیت سے سب کو شمار کیا۔ کیونکہ درجہ بدرجہ بہشتی سب ہیں۔ گنہگار بھی اگر مومن ہے تو بہرحال کسی نہ کسی وقت ضرور جنت میں جائے گا۔ حدیث میں فرمایا کہ ہمارا گنہگار معاف ہے یعنی آخرکار معافی ملے گی۔ اور میانہ سلامت ہے اور آگے بڑھے۔ سو سب سے آگے بڑھے اللہ کریم ہے اس کے یہاں بخل نہیں۔
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

باغ ہیں بسنے کے جن میں وہ جائیں گے وہاں ان کو گہنا پہنایا جائے گا کنگن سونے کے اور موتی کے اور ان کی پوشاک وہاں ریشمی ہے4

4 سونا اور ریشم مسلمان مردوں کے لیے وہاں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا جو کوئی (مرد) ریشمی (کپڑا) پہنے دنیا میں، نہ پہنے آخرت میں۔
Ayah 35:34

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور کہیں گے شکر اللہ کا جس نے دور کیا ہم سے غم بیشک ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے5

5 یعنی دنیا کا اور محشر کا غم دور کیا۔ گناہ بخشے اور ازراہ قدر دانی طاقت قبول فرمائی۔
Ayah 35:35

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے اتارا ہم کو آباد رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے نہ پہنچے ہم کو اس میں مشقت اور نہ پہنچے ہم کو اس میں تھکنا6

6 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " رہنے کا گھر اس سے پہلے کوئی نہ تھا ہر جگہ چل چلاؤ اور روزی کا غم، دشمنوں کا ڈر، اور رنج و مشقت، وہاں پہنچ کر سب کافور ہوگئے۔ "
Ayah 35:36

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہیں ان کے لیے ہے آگ دوزخ کی نہ ان پر حکم پہنچے کہ مرجائیں اور نہ ان پر ہلکی ہو وہاں کی کچھ کلفت یہ سزا دیتے ہیں ہم ہر ناشکر کو7

7 نہ کفار کو جہنم میں موت آئے گی کہ اسی سے تکالیف کا خاتمہ ہوجائے اور نہ عذاب کی تکلیف کسی وقت ہلکی ہوگی۔ ایسے ناشکروں کی ہمارے یہاں یہ ہی سزا ہے۔
Ayah 35:37

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ چلائیں اس میں اے رب ہم کو نکال کہ ہم کچھ بھلا کام کرلیں وہ نہیں جو کرتے رہے1 کیا ہم نے عمر نہ دی تھی تم کو اتنی کہ جس میں سوچ لے جس کو سوچنا ہو اور پہنچا تمہارے پاس ڈرانے والا اب چکھو کہ کوئی نہیں گناہ گاروں کا مددگار2

1 یعنی اس وقت تو اسی کو بھلا سمجھتے تھے پر اب وہ کام نہ کریں گے۔ ذرا دوزخ سے نکال دیجئے تو ہم خوب نیکیاں سمیٹ کر لائیں اور فرمانبردار بن کر حاضر ہوں۔ 2 یہ جواب دوزخیوں کو دیا جائے گا۔ یعنی ہم نے تم کو عقل دی تھی۔ جس سے سمجھتے اور کافی عمر دی جس میں سوچنا چاہتے تو سب نیک و بد سوچ کر سیدھا راستہ اختیار کرسکتے تھے۔ حتیٰ کہ تم میں بہت سے تو ساٹھ ستر برس دنیا میں زندہ رہ کر مرے۔ پھر اوپر سے ایسے اشخاص اور حالات بھیجے جو برے انجام سے ڈراتے اور خواب غفلت سے بیدار کرتے رہے۔ کیا اس کے بعد بھی کوئی عذر باقی رہا۔ اب بڑے عذاب کا مزہ چکھتے رہو اور کسی طرف سے مدد کی توقع نہ رکھو۔
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

اللہ بھید جاننے والا ہے آسمانوں کا اور زمین کا اس کو خوب معلوم ہے جو بات ہے دلوں میں3

3 یعنی اسے بندوں کے سب کھلے چھپے احوال و افعال اور دلوں کے بھید معلوم ہیں۔ کسی کی نیت اور استعداد اس سے پوشیدہ نہیں اسی کے موافق معاملہ کرتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جو لوگ اب چلا رہے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دو ، پھر ایسی خطا نہ کریں گے، وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔ اگر ستر دفعہ لوٹائے جائیں تب بھی شرارت سے باز نہیں آسکتے۔ ان کے مزاجوں کی افتاد ہی ایسی ہے (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :28)
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی ہے جس نے کیا تم کو قائم مقام زمین میں4 پھر جو کوئی ناشکری کرے تو اس پر پڑے اس کی ناشکری اور منکروں کو نہ بڑھے گی ان کے انکار سے ان کے رب کے سامنے مگر بیزاری اور منکروں کو نہ بڑھے گا ان کے انکار سے مگر نقصان5

4 یعنی اگلی امتوں کی جگہ تم کو زمین پر آباد کیا اور ان کے بعد ریاست دی۔ چاہیے اب اس کا حق ادا کرو۔ 5 یعنی کفر و ناشکری اور اللہ کی آیات کے انکار سے اس کا کچھ نقصان نہیں۔ وہ ہماری حمد و شکر سے مستغنی ہے۔ البتہ ناشکری کرنے والے پر اس کے فعل کا وبال پڑتا ہے۔ کفر کا انجام بجز اس کے کچھ نہیں کہ اللہ کی طرف سے برابر ناراضی اور بیزاری بڑھتی جائے اور کافر کے نقصان و خسران میں روز بروز اضافہ ہوتا رہے۔
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اپنے شریکوں کو جن کو پکارتے ہو اللہ کے سوا دکھلاؤ تو مجھ کو کیا بنایا انہوں نے زمین میں یا کچھ ان کا ساجھا ہے آسمانوں میں6 یا ہم نے دی ہے ان کو کوئی کتاب سو وہ سند رکھتے ہیں اس کی7 کوئی نہیں پر جو وعدہ بتلاتے ہیں گناہ گار ایک دوسرے کو سب فریب ہے8

6 یعنی اپنے معبودوں کے احوال میں غور کر کے مجھے بتلاؤ کہ زمین کا کون سا حصہ انہوں نے بنایا، یا آسمانوں کے بنانے اور تھامنے میں ان کی کس قدر شرکت ہے۔ اگر کچھ نہیں تو آخر خدا کس طرح بن بیٹھے۔ کچھ تو عقل سے کام لو۔ 7 یعنی عقل نہیں تو کوئی معتبر نقلی دلیل پیش کرو۔ جس کی سند پر یہ مشرکانہ دعویٰ کرتے ہو۔ 8 یعنی عقلی یا نفلی دلیل کوئی نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ان میں سے بڑے چھوٹوں کو اور اگلے پچھلوں کو شیطان کے اغوا سے یہ وعدہ بتلاتے چلے آئے کہ ہولاء شفعآؤنا عند اللہ (یہ بت وغیرہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع بنیں گے) اور اس کا قرب عطا کرینگے۔ حالانکہ یہ خالص دھوکہ اور فریب ہے یہ تو کیا شفیع بنتے، بڑے سے بڑا مقرب بھی وہاں کفار کی سفارش میں زبان نہیں ہلا سکتا۔