Ayah 35:1آیت : الحمد للہ فاطر السموت والا رض، فاطر میں تین و جوہ ہیں : (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 461) جر یہ صفت ہونے کی بناء پر ہے (2) رفع یہ مبدا مضمر ہونے کی بناء پر ہے۔ (3) نصب مدح کی بنا پر ہے۔ سیبویہ نے یہ حکایت بیان کی ہے الحمد للہ اھل الحمد مثلہ اس طرح جاعل الملائکتہ میں تین اعراب ہو سکتے ہیں۔ فاطر سے مراد خالق ہے۔ سورة یوسف اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ فطر سے مراد کسی شئے سے کسی چیز کو پھاڑنا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : فطرتہ فانقطر میں نے اسے پھاڑا تو وہ پھٹ گیا۔ اسی سے یہ جملہ بولا جاتا ہے : فطر ناب البعیر اونٹ کی دارھ ظاہر ہوئی۔ بعیر فاطر جس اونٹ کی داڑھ ظاہر ہوچکی ہو۔ تفطر الشی شئے پھٹ گئی۔ سیف فطار ایسی تلوار جس میں دندانے پڑھ چکے ہو۔ عشرہ نے کہا :
و سیفی کا لعقیقتہ فھو کئعی سلاحی لا افل ولا فطارا
میری تلوار شعاع کی طرح ہے وہ میرا بستہ ہے میرا اسلحہ نہ کند ہوا اور نہی اس میں دندانے پڑے۔
فطر کا معنی ابتدا کرنا اور ایجاد کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : میں یہ نہیں جانتا تھا کہ آیت : فاطر السموت ولارض کا معنی کیا ہے (1) یہاں تک کہ میرے پاس دو بدو آئے جو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے ان میں سے ایک نے کہا : انا فطرتھا میں نے اسے شروع کیا تھا۔ فطر سے مراد انگشت شہادت اور انگوٹھے سے اونٹنی کو دو ہنا ہے۔ آسمانوں اور زمین کے ذکر سے مراد تمام عالم ہے۔ اس استدلال کے ساتھ اس امر پر متنبہ کیا کہ جو ابتدا پر قادر ہے وہ دو بارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔
آیت : جاعل الملئکتہ اسم فاعل میں تنوین جائز نہیں کیونکہ یہ ماضی کے معنی میں ہے۔ رسلا یہ مفعول ثانی ہے۔ یہ قول بھی کیا جاتا ہے کہ فعل مضمر کی بناء پر منصوب ہے، کیونکہ اسم فاعل کا صیغہ جب ماضی کے معنی میں ہو تو وہ کسی چیز میں عمل نہیں کرتا۔ اس کے عمل کی صورت یہ ہوگی کہ یہ مستقبل کا معنی دے اور اس سے تنوین تخفیف کے طور پر حذف ہو۔ ضحاک نے اسے آیت : الحمد اللہ فاطر السموت ولارض فعل ماضی کا صیغہ پڑھا ہے۔ آیت : جاعل الملئکتہ رسلا یہاں رسل سے مراد حضرت جبریل امین (علیہ السلام) ، حضرت میکائیل، حضرت اسرا فیل اور ملک الموت ہیں۔ حضرت حسن بصری (رح) نے جاعل الملئکتہ رفع کے ساتھ قراءت کی ہے۔ خلید بن فشیط نے جعل الملا ئکتہ قراءت کی ہے، یہ سب ظاہر ہے۔
آیت : اولی اجنحۃ یہ صفت ہے۔ یعنی پروں والے۔ آیت : مثنی ٰ و ثلث ربع یعنی دو دو، تین تین اور چار چار۔ قتادہ نے کہا : ان میں سے بعض کے دو پر ہیں، بعض کے تین پر ہیں اور بعض کے چار ہیں، ان کے ساتھ وہ آسمان سے زمین کی طرف اترتے ہیں اور زمین سے آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں ایک وقت میں اتنی مسافت ہوتی ہے۔ یعنی انہیں قاصد بنایا۔
یحیی ٰبن سلام نے کہا : انبیاء کی جانب۔ سدی نے کہا : بندوں کی جانب رحمت اور انرقام کے ساتھ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت جبریل امین کو دیکھا جب کہ آپ کے چھے سو پر تھے (1) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، معنی قو لہ تعالی، ولقد راہ آخری، جلد 1، صفحہ 98) ۔ زہری سے مروی ہے کہ جبریل امین نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : اے محمد ﷺ کاش آپ حضرت اسرافیل کو دیکھتے ان کے بارہ ہزار پر ہیں ان میں سے ایک پر مشرق میں اور ایک پر مغرب میں ہے۔ عرش ان کے کندھے پر ہے بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی عظمت کی وجہ سے اتنا کمزور ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ وصع کی طرح ہوجاتا ہے، وصع ایک چھو ٹی چڑیا ہے یہاں تک کہ تیرے رب کے عرش کو اس کی عظمت کے سوا کوئی چیز اٹھائے ہوئے نہیں ہوتی۔ اولو، زو کی اسم جمع ہے۔ جس طرح ھولاء ذا کی اسم جمع ہے۔ اسم معرب میں ان دونوں کی مثل مخاض اور خلفہ ہے۔ مثنی، ثلاث اور رباء میں گفتگو سورة النساء میں گزر چکی ہے۔ یہ غیر منصرف ہیں۔
آیت : یذید فی الخلق ما یشاء اکثر مفسرین کا قول ہے : ملائکہ کی تحقیق میں اضافہ فرماتا ہے : مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : اس سے مراد فرشتوں کے پروں میں جتنا چاہتا ہے اضافہ فرماتا ہے (2) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 331) ۔ زہری اور ابن جریج نے کہا : حسن صورت میں اضافہ فرماتا ہے۔ کتاب کے مقد مہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ہثیم فارسی نے کہا : میں نے خواب میں نبی کریم دیکھا حضور نے ارشاد فرمایا : ﷺ تو ہثیم ہے جو آواز کے ساتھ قرآن کو خوبصورت انداز میں پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر دے قتادہ نے کہا : آیت : یذید فی الخلق ما یشاء سے مراد وہ آنکھوں میں ملاحت، ناک میں حسن اور منہ میں مٹھاس کا اضافہ کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اچھا خط۔ مہاجر کلا عی نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اچھا خط کلام کی وضاحت میں اضافہ کرتا ہے (3) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 462 ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد خوبصورت چہرہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت ہے : خوبصورت چہرہ، اچھی آواز اور اچھے بال یہ قشیری نے ذکر کیا ہے۔ نقاش نے کہا : اس سے مراد گھنگھر یا لے بال ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عقل اور تمیز ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد علوم اور ضائع ہیں۔
آیت : ان اللہ علی کل شیء قدیر اللہ تعالیٰ کمی اور بیشی پر قادر ہے۔ زمحشری نے کہا : آیت مطلق ہے جو ہر زیادتی کو شامل ہے وہ قدو قامت کی طوالت، صورت میں اعتدال، اعضاء میں کمال، پکڑ میں قوت ہو، عقل میں پختگی ہو، رائے میں استحکام ہو، دل میں جرائت ہو، نفس میں سخاوت ہو، زبان میں روانی ہو، گفتگو میں مہارت ہو اور سر انجام دینے میں نرمی اور بہترین اسلوب ہو اور اس کے علاوہ صورتیں ہو سکتی ہیں وصف جن کا احاطہ نہیں کرسکتا (1) (تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 596) ۔
Ayah 35:2آیت : ما یفتح اللہ للناس من رحمتہ فلا ممسک لھا قرآن کے علاوہ نحویوں نے فلا ممسک لھا جائز قرار دیا ہے وہ ما کے لفظ کا اعتبار کرتے ہیں اور لھا میں معنی کا اعتبار کرتے ہیں۔ انہوں نے و ما یمسک فلا مرسل لھا کو بھی جائز قرار دیا ہے اور انہوں نے یہ بھی جائز قرار دیا ہے آیت : ما یفتح اللہ للناس من رحمتہ یعنی یفتح پر رفع کو جائز قرار دیا ہے۔ ما یہ الذی کے معنی میں ہے، یعنی رسولوں کو لوگوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی بھی ان کو بھیجنے پر راضی نہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ ان پر بارش یا رزق بھیجتا ہے کوئی اسے روکنے پر قادر نہیں (2) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 462 ) ۔ اور اس میں سے جسے روکے کوئی اس کو بھیجنے پر قادر نہیں۔ ایک قول کیا گیا ہے : اس سے مراد دعا ہے (3) (ایضا): یہ ضحاک کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد تو بہ ہے۔ ایک قول کیا گیا ہے : مراد تو فیق اور ہدایت ہے۔
میں کہتا ہوں : لفظ رحمت سب کو جامع ہے کیونکہ یہ اشتراک اور ابہام کا انکار کرتی ہے، یہ بدل کے طریقہ پر ہر رحمت کو شامل ہے جو کجھ ذکر کیا گیا ہے یہ ان سب کو عام ہے۔ مو طا امام مالک میں ہے انہیں یہ خبر پہنچی کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کہا کرتے تھے جب وہ صبح کرتے اور لوگوں پر بارش ہوئی ہوتی : ہم پر نوء فتح سے بارش کی گئی، پھر اس آیت کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ آیت : وھو العزیز الحکیم اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 35:3یا یھا الناس اذکروا نعمت اللہ علیکم اس ذکر سے مراد شکر ہے آیت : ھل من خالق غیر اللہ غیر کے لفظ میں رفع، نصب اور جر جائز ہیں۔ رفع دو وجوہ سے ہے : ایک صورت یہ ہے کہ کلام اس معنی میں ھل من خالق اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات سوا کوئی خالق نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے۔ یہ خالق کی صفت ہو مگر اعراب میں خالق کے محل کا اعتبار ہے، کیونکہ معنی ہے ھل خالق غیر اللہ، من زائدہ ہے۔ نصب استثناء کے طریقہ پر ہے۔ جر لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے ہے۔ حمید طویل نے کہا : میں نے حضرت حسن بصری (رح) سے کہا : شر کو کس نے پیدا کیا ؟ فرمایا : سبحان اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ بھی کوئی خالق ہے، اسی نے خیر اور شر کا پیدا کیا ہے۔ حمزہ اور کسائی نے قراءت کی ھل من خالق غیر اللہ باقی قراء نے رفع کے ساتھ قراءت کی ہے۔
آیت : یرزقکم من السماء، السماء سے مراد بارش ہے۔ ولارض سے مراد نباتات ہے (1) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 256 ) ۔
آیت : لا الہ اللا ھو فانی تو فکون یہ افک سے مشتق ہے جس میں ہمزہ مفتوح ہے، جس کا معنی پھیرنا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، ما افک عند کذا کس چیز نے تجھے اس سے پھیر دیا ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ افک سے مشتق ہے، جس کا معنی جھوٹ ہے۔ یہ بحث اسی طرف لوٹ جاتی ہے جو پہلے گزر چکی ہے، کیونکہ یہ ایک قول ہے جس کو صدق اور جواب سے پھیر دیا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید تمہارے لیے کہاں واقع ہوئی ؟ یہ آیت قدریہ پر حجت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے علاوہ کسی کے خالق ہونے کی نفی کی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ اوروں کو بھی خالق مانتے ہیں، جس طرح کئی مواقع پر یہ بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 35:4آیت : و ان یکذبوک ضمیر مرفوع سے مراد کفار قریش ہیں۔ آیت : فقد کذبت رسل من قبلک اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی رہا ہے اور صبر میں متقد میں کی اقتدا کا حکم دے رہا ہے۔ آیت : و الی اللہ تر جع ال مور۔
حضرت حسن بصری ؓ ، اعراج، یعقوب، ابن عامر، ابو حیوہ، ابن محیصن، حمید، اعمش، حمزہ، یحیی، کسائی اور خلف تاء پر فتحہ کے ساتھ قراءت کرتے ہیں کہ یہ معروف کا صیغہ ہے۔ ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : الا الی اللہ تصیر الا مور (الشوری) باقی فعل مجہول کی بناء پر ترجع قراءت کرتے ہیں۔
Ayah 35:5آیت : یا یھا الناس ان وعداللہ حق رسولوں کو جھٹلانے والوں کو وعظ کیا جا رہا ہے جب کہ پہلے قول کی صحت پر دلیل کی وضاحت کی کہ بعث، ثواب اور عقاب حق ہے۔ آیت : فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا سعید بن جبیر نے کہا : دنیاوی زندگی کے غرور سے مراد ہے کہ انسان دنیا کی نعمتوں اور اس کی لذتوں میں مشغول رہے اور آخرت کے اعمال سے اعراض بر تے یہاں تک کہ وہ کہے : آیت : یلیتنی قد مت لحیاتی (الفجر) ہائے کاش ! میں اپنی اس زندگی کے لیے کوئی چیز آگے بھیجی ہوتی۔
آیت : و لا یغرنکم با اللہ الغرور ابن سکیت اور ابو حاتم نے کہا : الغرور سے مراد شیطان ہے۔ ، غرور یہ غر کی جمع ہے غر مصدر ہے۔ ابو اسحاق کے علاوہ کے نزدیک الغرور کا مصدر ہونا بعید ہے کیونکہ غررتہ متعدی ہے۔ متعدی مصدر فعل کے وزن پر آتا ہے۔ جس طرح ضربتہ ضربا مگر چند افعال میں ایسا آتا ہے جس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا : لذمتہ لذوما، نھ کہ نھو کا جہاں تک لفظ کے معنی کا تعلق ہے تو جو حضرت سعید بن جبیر نے کہا وہ سب اچھا ہے۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھوکہ میں مبتلا ہونے کی صورت یہ ہے کہ انسان برائیوں کا عمل کرے پھر اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی آرزو کرے (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 332) ۔ عام قراءت الغرور فتحہ کے ساتھ ہے اس سے مراد شیطان ہے۔ وہ تمہیں اپنے وساوس کے ساتھ دھوکہ میں نہ ڈال دے کہ اللہ تعالیٰ پر تم پر فضل کرتے ہو تم سے در گزر فرمائے گا۔ ابو حیوہ، ابو سمال عدوی اور محمد بن سمیقع نے الغرور قراءت کی ہے جس سے مراد باطل ہی یعنی باطل تمہیں دھوکہ میں مبتلا کرتا ہے۔ زجاج نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ غرور، غار کی جمع ہے، جس طرح قاعد کی جمع قعود ہے۔ نحاس نے کہا : یہ گر کی جمع ہے یا یہ ان کے قول کے مشابہ ہے : نھ کہ المرض نھو کا۔ لذمہ لذوما۔ زمحشری نے کہا : یا یہ غرہ کا مصدر ہے جس طرح لذوم اور نھوک ہے (2) (تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 599) ۔
Ayah 35:6آیت : ان الشیطان لکم عدو فا تخذوہ عدوا پس تم بھی اس سے دشمنی کرو اور اس کی اطاعت نہ کرو اس کا تمہارے جد اعلیٰ کو جنت سے نکالنا اس کی دشمنی پر دلالت کرتا ہے اور اس کا تمہیں گمراہ کرنے کی ضمانت اٹھانا ولا ضلنھم ولا منینھم اللہ تعالیٰ ہمیں خبر دی کہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے اللہ تعالیٰ نے شیطان کا قصہ اور اس نے ہمارے جد اعلیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ جو کچھ کیا اس کو بیان کیا۔ شیطان نے ہمارے سے پہلے اور اس کے بعد کیسے ہماری عداوت اور دھوکہ دینے کا اطلاق کیا اور ہم اس کے با وجود اس سے دوستی کرتے ہیں اور ہم اس کی ان امور میں اطاعت کرتے ہیں جس میں وہ ہماری ہلاکت کا ارادہ کرتا ہے۔ حضرت فضیل بن عیاض کہا کرتے تھے : اے جھوٹے انسان ! اور اے افراء باندھنے والے ! اعلانیہ شیطان کو گالیاں نہ دے جب کہ تو خفیہ طریقہ سے اس کا دوست ہے۔ ابن سماک نے کہا : اس آدمی پر تعجب ہے جو احسان پہچاننے کے بعد محسن کی نافر مانی کرتا ہے اور لعین کی دشمنی پہچاننے کے بعد لعین کی اطاعت کرتا ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث مفصل گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : ان الشیطان لکم عدو میں یہ جائز ہے کہ وہ عدو، معاد کے معنی میں ہو تو اس صورت میں اس کا تثنیہ اور جمع اور مئو نث کا صیغہ بنایا جاتا ہے۔ یہ نسبت کے معنی میں ہوتا ہے تو یہ ہر حال میں واحد ہوگا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : فا نھم عدو لی (الشعراء : 77) مئو نث میں بھی یہ عدو ہوگا۔ نحاس نے کہا : بعض نحویوں کے قول کہ وائو خفیہ ہے وہ اسے باء کے ساتھ لاتے ہیں تو یہ غلط ہے بلکہ وائو مضبوط حرف ہے۔
آیت : انما یدعوا حذبہ، ما نے ان کو عمل سے روک دیا تو اس کے بعد فعل واقع ہوا۔ حذبہ اپنے حمایتیوں کو۔ آیت : لیکونوا من اصحب السعیر (1) تاکہ وہ جہنمی ہوجائیں یہی اس کی علامت ہے۔
Ayah 35:7آیت : الذین کفروا لھم عذاب شدید، الذین یہ اصحاب سے بدل ہے تو یہ محل جر میں ہوگا یا یہ حذبہ سے بدل ہے تو یہ محل نصب میں ہوگا یا یہ وائو سے بدل ہوگا تو یہ محل رفع میں واقع ہوگا۔ ایک چوتھا قول ہے اور وہ سب سے اچھا ہے کہ یہ مبتدا ہونے کی حیثیت سے مر فوع ہے اور اس کی خبر آیت : لھم عذاب شدید ہے گویا اللہ تعالیٰ نے اس کی موافقت کی حالت کو بیان کیا کلام میں من اصحب السعیر پر مکمل ہوجائے گی، پھر نئی کلام شروع کی فرمایا : آیت : الذین کفروا لھم عذاب شدید۔
آیت : والذین امنوا و عملوا الصلحت مبتدا ہونے کی حیثیت سے محل رفع میں ہے اس کی خبر آیت : لھم مغفرۃ و اجر کبیر ہے ان کے گناہوں کی بخشش اور جنت ہے۔
Ayah 35:8آیت : افمن زین لہ سوء عملہ، من محل رفع میں ہے اور مبتدا ہے اس کی خبر محذوف ہے۔ کسائی نے کہا : اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان : آیت : فلا تذھب نفسک علیھم حسرت دلالت کرتا ہے، معنی ہے جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کیا گیا تو اس نے اسے اچھا گمان کیا اس پر حسرت کرتے ہوئے تیرا نفس نکلا جا رہا ہے ؟ کہا : یہ عربی زبان کی بڑی عمدہ کلام ہے جسے چند افراد ہی جانتے ہیں، زمحشری نے اسے زجاج سے ذکر کیا ہے۔ نحاس نے کہا : اس آیت کی تفسیر میں جو کچھ کہا گیا ہے کسائی نے سب سے اچھی بات کہی ہے جو اس نے محذوف پر دلالت کا ذکر کیا ہے، اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کے بارے میں شدت غم کرنے اور ان کے بارے میں حزن کرنے سے منع کیا ہیجس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : فلعلک با خع نفسک (الکہف : 6) اہل تفسیر نے کہا : با خع کا معنی قاتل ہے۔ نصر بن علی کہا : میں نے اصمعی سے اہل یمن کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے بارے میں پو چھا : ھم ارق قلو با و انجع طاعتہ کہ انجع کا کیا معنی ہے ؟ جواب دیا : وہ زیادہ مخلص ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا : علماء تفسیر جیسے مجاہد اور دوسرے علماء اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : فلعلک با خع نفسک کے بارے میں کہتے ہیں : اس کا معنی ہے اپنے نفس کو قتل کرنے والے۔ فرمایا : یہ بعینہ وہ معنی ہے، گویا ان کے زیادہ مخلص ہونے کی وجہ سے اپنے نفس کو قتل کرنے والے ہیں۔ حسین بن فضل نے کہا : اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اس کا معنی ہے کیا وہ شخص جس کا برا عمل اس کے لیے مزین کیا گیا اس نے اسے اچھا خیال کیا پس تیرا نفس ان پر حسرت کرتے ہوئے ہلاک نہ ہوجائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کے حق میں چاہتا ہے اسے گمراہ کرتا ہے اور جس کے حق میں چاہتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : جواب محذوف ہے ،۔ معنی ہے کیا وہ جس کا برا عمل اس کے لیے مزین کیا گیا وہ اس طرح ہو سکتا ہے جس کو ہدایت دی گئی۔ اس محذوف پر یہ الفاظ بھی دلالت کرتے ہیں آیت : فان اللہ یضل من یشاء و یھدی من یشاء۔ یزید بن قعقاع نے پڑھا : فلا تذھب نفسک۔
آیت : افمن زین لہ سوا عملہ میں چار قول ہیں : (1) اس سے مراد یہودی، نصرانی اور مجوسی ہیں ؛ یہ ابو قلابہ کا قول ہے۔ سوء عملہ سے مراد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دشمنی ہے (2) اس سے مراد خوارج ہیں ؛ عمر بن قاسم نے اسے روایت کیا ہے سوء عملہ سے مراد تا ویل میں تحریف ہے۔ (3) اس سے مراد شیطان ہے ؛ یہ حضرت حسن بصری (رح) کا قول ہے (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 333) ۔ سوء عملہ سے مراد گمراہ کرنا ہے (4) مراد کفار قریش ہیں ؛ یہ کلبی کا قول ہے۔ سوء عملہ سے مراد شرک ہے۔ یہ آیت عاص بن وائل سہمی اور اسود بن مطلب کے بارے میں نازل ہوئی۔ دوسرے علما نے کہا : یہ آیت ابو جہل بن ہشام کے حق میں نازل ہوئی۔ آیت : فراہ حسنا حسن سے مراد صحیح ہے ؛ یہ کلبی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد خوبصورت ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ قول کہ اس سے مراد کفار قریش ہیں یہ تمام اقوال سے اظہر قول ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت : لیس علیک ھدھم (البقرہ : 272) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : و لا یحذ نک الذین یسارعون فی الکفر (آل عمران : 176) الہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : فلعلک باخع نفسک علی اثار ھم ان لم یو منوا بھذا الحدیث اسفا (6) (الکہف) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : لعلک با خع نفسک الا یکونوا مومنین (2) (الشعرائ) اس آیت میں فرمان ہے : آیت : فلا تذھب نفسک علیھم حسرت یہ ظاہر وبین ہے یعنی آپ ﷺ جو ان کے کفر پر تاسف کر رہے ہیں یہ کوئی نفع نہیں دے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں گمراہ کیا ہے۔
یہ آیت قدریہ کا قول جو گزر چکا ہے اس کا رد کرتی ہے، یعنی کیا جس کا برا عمل اس کے لیے مزین کیا گیا ہے وہ اسے اچھا گمان کرتا ہے تو اسے ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے ؟ یہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے تیرے سپرد نہیں، آپ کے ذمہ تو تبلیغ ہے۔ ابو جعفر، شیبہ اور ابن محیصن نے پڑھا فلا تذھب یعنی تاء ضمہ اور ہا پر کسرہ ہے۔ نفسک مفعول بہ ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ دونوں معنی قریب قریب ہیں۔ حسرت منصوب ہے مفعول لا جلہ ہے، یعنی حسرتوں کے لیے اپنے نفس کو نہ کھلایئے۔ علیھم یہ تذھب کا صلہ ہے، جس طرح تو کہتا ہے : ھلک علیہ حبا و مات علیہ حذنا وہ اس کی محبت کی وجہ سے ہلاک ہوگیا اور وہ اس پر غم کرتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔ جس پر حسرت کی جا رہی ہے یہ اس کا بیان ہے۔ یہ جائز نہیں کہ یہ حسرت کے متعلق ہو، کیونکہ مصدر پر اس کا صلہ مقدم نہیں ہوتا۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ حال ہو گویا یہ سب حسرت کی زیادتی کی وجہ سے اس پر حسرت ہوگئے۔ جس طرح جریر نے کہا :
مشق الھواجر لمحھن مع السری حتی ذھبن کلا کلا و صدورا (1) (تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 600)
شاعر ارادہ کرتا ہے کہ اونٹ لوٹے تو صرف کلا کل اور سینے ہی رہ گئے تھے۔ کلا کل سے مراد اونٹ کے سینے کے نیچے جو گول نشان ہوتا ہے۔ اس معنی ایک دوسرے شاعر کا قول ہے :
فعلی اثرھمتساطنفسی حسرتو ذکرھملی سقام
ان کے پیچھے حسرت کرتے ہوئے تیرا نفس گرتا ہے اور ان کا ذکر میرے لیے بیماری ہے۔
یا یہ مصدر ہے۔ آیت : ان اللہ علیم بما یصنعون وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے با خبر ہے۔
Ayah 35:9آیت ؛ واللہ الزی ارسل الریح فتثیر سحابا فسقنہ الی بلد میت، میت اور میت دونوں کا معنی ایک ہے، اسی طرح مینتتہ اور میتتہ ہے ؛ یہ نحویوں میں سے ماہر لوگوں کا قول ہے۔ محمد بن یزید نے کہا : یہ بصریوں کا قول ہے اس نے کسی کی استثناء نہ کی ؛ اس نے اس پر دلائل قطعیہ سے استدلال کیا۔ اور یہ شعر پڑھے :
لیس من مات فاستراح بمیت انما المیت میت الا حیاء
انما المیت یعیش کثیبا کا سفا بالہ قلیل الرجاء
وہ آدمی نہیں مرا جو مرنے سے راحت پا گیا۔ مردہ تو حقیقت میں زندوں سے مرنے والا ہے۔ میت تو حقیقت میں وہ ہے جو غمگین ہو کر زند گی گزارتا ہے اس کا دل بجھا ہوا اور امید کم ہوتی ہے۔
کہا : کیا تو میت اور میت میں فعق دیکھتا ہے اور یہ شعر پڑھا :
ھینون لینون ایسار بنو یسر سواسمکر متہ ابنائایسار
کہا سب نے اس پر اتفاق کیا کہ ہینون اور لینون ایک ہی چیز ہیں۔
اسی طرح میت اور میت، سید اور سید ایک ہی چیز ہیں۔ آیت : واللہ الذی ارسل الریح کے بعد فسقنہ فرمایا : التفات کے قاعدہ سے ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : اس کا طریقہ تو یہ تھا فتسو قہ ہوتا کیونکہ فرمایا : فتثیر سحابا۔ زمحشری کہا : اگر تو پوچھے کہ فتشیر مضارع کا صیغہ کیوں آیا ہے (1) (تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 601) ، اس سے ما قبل اور ما بعد مضارع کا صیغہ نہیں ؟ میں اس کا جواب دوں گا : تاکہ اس حال کی حکایت بیان کرے جس میں ہوائیں بادلوں کو اڑاتی ہیں اور اس عمدہ صورت کو حاضر کرتی ہیں جو قدرت ربانیہ پر دلالت کرتی ہیں۔ علماء ایسے فعل کے ساتھ ایسا ہی رویہ اپناتے ہیں جس میں کسی قسم کا امتیاز ہو اور ایسے حال کی خصوصیت ہو جو عجیب و غریب ہے یا مخاطب کو اہمیت دلائے یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہو، جس طرح تابط شرا نے کہا :
بانی قد لقیت الغولتھوی بسھبکا لصحیفتہصحصحان
فاضربھا بلا دمش فخرتصریعاللیدینو للجران (2) (ایضا)
تابط شرا ان اشعار میں اپنی قوم کے سامنے اس حالت کی تصویر کشی کرتا ہے جس میں بہادری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ وہ جبلاء پر وار کرتا ہے۔ گویا وہ اپنی قوم کے جبلاء دکھاتا ہے۔ مشاہدہ کے ساتھ اس کی حقیقت پر مطلع کرتا ہے تاکہ اس امر پر تعجب کا اظہار کیا جائے کہ وہ ہر ہولناک چیز پر حملہ کرنے کی جرات رکھتا ہے اور یہ مصیبت میں ثابت قدم رہتا ہے۔ اسی طرح مردہ شہر کی طرف بادلوں کو ہنکنا ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی غالب قدرت پر دلائل میں سے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فسقنا اور احیینا غیبت کے لفظ سے اس کی طرف عدول کیا گیا ہے جس کا اختصاص میں زیادہ عمل دخل ہے اور اس پر زیادہ دال ہے۔ عام قراءت الریاح ہے۔ ابن محیصن، ابن کثیر، اعمش، حمزہ اور کسائی نے الریح واحد کا صیغہ پڑھا ہے۔ اس آیت کی وضاحت اور اس کے بارے میں مفصل گفتگو گزر چکی ہے۔
آیت : کذلک النشور یعنی اس طرح تمہارے مرنے کے بعد تمہیں زندہ کیا جائے گا۔ یہ نشر الا نسان فشور اسے ما خوذ ہے۔ کاف محل رفع میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے مثل احیاء الموت، نشر الاموات۔ ابو رزین عقیلی سے مروی ہے کہا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے اور اس کی مخلوق میں اس کی نشانی کیا ہے ؟ فرمایا : کیا تو ایسی وادی میں سے نہیں گزرا جو خشک سالی کی وجہ سے ہلاک کی گئی پھر تو اس کے پاس سے گزرا تو وہ سر سبز و شاداب لہرارہی تھی (3) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 257 ) ۔ میں نے عرض کی : ہاں یا رسول اللہ ﷺ ۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا اور یہی مخلوق میں اس کی آیت ہے۔ ہم نے اس کی وضاحت سورة الاعراف وغیرہ میں کردی ہے۔
Ayah 35:10آیت : من کان یرید العذۃ فللہالعذۃ جمیعا فراء کے نزدیک اس کی تقدیر کلام یہ ہے من کان یرید علم العذۃ اسی طرح دوسرے علماء نے بھی فرمایا ہے یعنی عزت کے علم کا ارادہ کرتا ہے جس کے ساتھ کوئی ذلت نہیں کیونکہ وہ عزت جو ذلت کی طرف لے جائے تو یہ ذلت کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنا ہے۔ وہ عزت جس کے ساتھ کوئی ذلت نہیں وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ جمیعا یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ زجاج نے اس کا یہ معنی مقدر کیا ہے جو آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے عزت کا خواہش مند ہے جب کہ عزت اللہ سبحانہ کے لیے ہے بیشک اللہ تعالیٰ اسے دنیا آخرت میں عزت دیتا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ بہت اچھی تاویل ہے جس طرح روایت آئے گی اس بارے میں ایک مرفوع روایت مروی ہے۔ آیت : فللہ العذۃ جمیعا اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ سامعین کو اس کی عزت سے مایوس کیا جائے۔ اور انہیں یہ بتانا ہے کہ جو چیز اس ذات کے لیے ثابت ہے اس میں کسی غیر کے لیے کوئی محل طمع نہیں، تو لفط العذۃ پر جو الف لام ہے یہ عہد خارجی کے لیے ہوگا، ان لوگوں کے نزدیک جو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے لیے جو ثابت ہے اسے جانتے ہیں۔ سورة یونس میں جو ارشاد ہے : آیت : ولا یحذنک قولھم ان العذۃ للہ (یونس : 65) اس سے یہی سمجھا جا رہا ہے۔
یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرے کہ ہمت والوں کو آگاہ کرے کہ کہاں سے عزت بحال کی جاسکتی ہے اور کہاں سے مستحق بنا جاسکتا ہے ؟ پس الف لام استغراق کے لیے ہوگا۔ اس سورت کی آیات سے یہی مفہوم ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ سے عزت چاہی اور فقر اور خضوع کے ساتھ اس کی تصدیق کی تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کو پا لے گا۔ ان شاء اللہ۔ نہ اس سے روکا جائے گا اور نہ ہی اس سے حجاب میں رکھا جائے گا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے اللہ تعالیٰ کے حضور تواضع کی اللہ تعالیٰ اسے بلندی عطا فرماتا ہے (1) ( جامع تر مذی، کتاب البرو النصحتہ ما جاء فی التواضع، جلد 2، صفحہ 24) اور جس نے اسے غیر سے طلب کیا تو اللہ تعالیٰ اسے اسی کے سپرد کردیتا ہے جس سے اس نے طلب کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی جماعت کا ذکر کیا جنہوں نے غیر سے طلب کی فرمایا : آیت : الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العذۃ للہ جمیعا (النسائ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تجھے صراحتہ آگاہ کردیا جس میں کوئی اشکال نہیں کہ عزت اس کے لیے ہے اس کے ساتھ جسے چاہتا ہے عزت دار بنا دیتا ہے اور جس کے حق میں چاہتا ہے اسے ذلیل کردیتا ہے۔ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت : من کان یرید العذۃ فللہ العذۃ جمیعا کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : جو آدمی دونوں جہا نوں کی عزت کا طالب ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے (1) ( تاریخ بغداد خطیب، جلد 4، صفحہ 80، جلد 8، صفحہ 171) ۔ یہی زجاج کے قول کا معنی ہے۔ جس نے کہا کتنا اچھا کیا :
و اذا تذللت الر قابتواضعا منا الیکفعذھافی ذلھا
جب ہماری گردنیں تیری بارگاہ میں عاجزی سے جھکتی ہیں تو ان کی عزت ان کی عاجزی میں ہوتی ہے۔
آیت : الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یر فعہ اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ آیت : الیہ یصعد الکلم الطیب اس پر کلام مکمل ہوئی، تو پھر شروع کرے گا۔ آیت : ولعمل الصالح یر فعہ اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند فرمائے گا یا اس کے صاحب کو رفعت عطا کرے گا۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ معنی ہو عمل صالح پاکیزہ کلمات کو بلند کرے گا تو کلام متصل ہوگی جس طرح اس کی وضاحت آرہی ہے۔ صعود سے مراد بلندی کی طرف حرکت ہے اس سے مراد عروج بھی ہے۔ کلام میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ عرض ہے لیکن اس کی قبولیت کو صعود سے بیان کیا ہے کیونکہ ثواب کا محل اوپر کی جانب ہے اور عذاب کا محل نیچے کی جانب ہے۔ زجاج نے کہا : یہ جملہ کہا جاتا ہے : ارتفع الا مر الی القاضی مراد ہے معاملہ قاضی کے علم میں آگیا ہے۔ پس یہ علم کے معنی میں ہوگا۔ کلمہ طیبہ کا خصوصا ً ذکر کیا مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ ثواب اسی پر ہوتا ہے۔ الیہ سے مراد ہے الی اللہ یصعد اللہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف بلند ہوتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کے آسمان اور اس کے محل کی طرف بلند ہوتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ ذات کے سوا کسی کا حکم جاری نہیں ہوتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ کتاب جس میں بندوں کی طاعات ہوتی ہیں انہیں آسمانوں کی طرف بلند کیا جاتا ہے۔ الکلم الطیب سے مراد توحید ہے جو پا کیزہ عقیدہ سے صادر ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد تحمید اور تمجید ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر وغیرہ ہے انہوں نے یہ اشعار پر ہے :
لا ترض من رجل حلاوۃ قولہ حتییذین ما یقولفعال
فاذا و زنت فعالہبمقا لہ فتو ازنافا خاء ذاک جمال
تو کسی آدمی کی میٹھی گفتگو سے راضی نہ ہو یہاں تک کہ عمل اس کے قول کو مزین نہ کرے۔ جب تو اس کے عمل کا اس کے قول کے ساتھ موازنہ کرے اور وہ متوازن ہوں تو اس کے روپ میں جمال ہے۔
ابن مقطع نے کہا : عمل کے بغیر قول ایسا ثرید ہے جس میں گوشت کی چکنائی نہ ہو اور ایسا بادل ہے جس میں بارش نہ ہو، ایسی کمان ہے جس میں تانت نہ ہو۔ اسی کے بارے میں ایک شاعر نے کہا :
لا یکونالمقال الابفعل کل قول بلا فعالھباء
ان قولا بلا فعالجمیل ونکا خا بلا ولی سواء
قول فعل کے بغیر کچھ بھی نہیں ہر قول فعل کے بغیر ہوا میں اڑنے والے ذرات کی مانند ہے، بیشک ایسا قول جو خوبصورت عمل کے بغیر ہو اور جو نکاح ولی کے بغیر ہو برابر ہیں۔
ضحاک نے یصعد یاء کے ضمہ کے ساتھ قراءت کی جمہور لوگوں نے الکلم کلمۃ کی جمع قراءت کی۔ ابو عبد الر حمن نے الکلام کی قراءت کی۔
میں کہتا ہوں : اس تعبیر کی بناء پر کلام کا لفظ کبھی کلم کے معنی میں اور کبھی اس کے بر عکس پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ ابو القاسم کا قول بھی اس معنی میں لیا جاتا ہے : کلام کی تین قسمیں ہیں : پس کلام کو کلم کی جگہ پر رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ آیت : ولعمل الصالح یر فعہ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا : معنی ہے عمل صالح پا کیزہ کلمات کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 333) ۔ حدیث طیبہ میں ہے : اللہ تعالیٰ عمل کے ساتھ قول کو قبول کرتا ہے اور قول و عمل کو قبول نہیں کرتا مگر نیت کے ساتھ قبول کرتا ہے اور قول، عمل اور نیت کو قبول نہیں کرتا مگر سنت کو پانے کے ساتھ قبول فرماتا ہے (2) ( تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 603) ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب بندہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے، پا کیزہ کلمہ کہے اور فرائض ادا کرے تو اس کا قول، عمل کے ساتھ بلند ہوتا ہے۔ اور جب اس نے اچھا قول تو کیا اور اس نے فرائض ادا نہ کیے تو اس کا قول اس کے عمل کی طرف پھیر دیا جاتا ہے۔ یہ ایسا قول ہے اہل سنت کے معتقدات جس کا رد کرتے ہیں، یہ حضرت ابن عباس ؓ سے ثابت نہیں۔ حق یہ ہے کہ نافرمان فرائض کو ترک کرنے والا جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور پا کیزہ کلام کرتا ہے تو اس کے حق میں یہ لکھا جاتا ہے اور اس سے یہ قبول کیا جاتا ہے۔ اس کے حق میں نیکیاں ہوتی ہیں اور اس کے خلاف برائیاں ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایسے شخص سے اچھا عمل قبول کرتا ہے جو شرک سے بچتا ہے، نیز پا کیزہ کلام بھی عمل صالھ ہے۔ جو یہ کہتا ہے : عمل ہی کلام کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے اس کا قول بھی درست ہو سکتا ہے کہ اس کی یوں تاویل کی جائے کہ یہ اسے مزید بلند کرتا ہے، اور اس کا موقع محل زیادہ حسین ہوجاتا ہے جب عمل قول کے ساتھ مل جائے، جس طرح نماز، روزہ وغیرہ اعمال کرنے والے کے لیے معاملہ ہوتا ہے۔ جب اعمال کے در میان پا کیزہ کلمات آجائیں اور وہ انسان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو اعمال زیادہ شرف کا باعث ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : والعمل الصالح یرفع یہ نصیحت ہے، تذکرہ اور اعمال پر برانگیختہ کرنا ہے۔ جہاں تک اقوال کا تعلق ہے وہ اپنی ذات میں اعمال ہیں، جس طرح توحید اور تسبیح مقبول ہیں۔
ابن عربی نے کہا : انسان کا کلام جو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی صورت میں ہوا گر اس کے ساتھ عمل صالح مقترن نہ ہو تو وہ کچھ نفع نہ دے گا، کیونکہ جس کا قول اس کے فعل کے خلاف ہوا وہ اس کے لیے وبال ہے۔ اس کی تحقیق یہ ہے کہ عمل جب قول کی قبولیت میں شرط نہ ہو تو اس کا پاکیزہ کلمہ بھی اس کے حق میں لکھا جائے گا اور اس کا برا عمل بھی لکھا جائے گا، دونوں میں موازنہ ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ کامیابی، نفع اور نقصان کا فیصلہ فرمائے گا۔
میں کہتا ہوں : ابن عر بی نے جو کچھ کہا ہے اس میں تحقیق کی گئی ہے ظاہریہ ہے کہ عمل صالح پاکیزہ قول کے قبول کرنے میں شرط ہے۔ آثار میں آیا ہے کہ بندہ جب یہ کہتا ہے : آیت : لا الہ الا اللہ جب کہ اس کی نیت صادق ہوتی ہے تو فرشتے اس کے عمل کو دیکھتے ہیں۔ اگر عمل اس کے قول کے موافق ہو تو دونوں بلند ہوجاتے ہیں اگر عمل مخالف ہو تو اس کا قول رک جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے عمل سے تو بہ کرلے۔ اس تعبیر کی بنا پر عمل صالح پاکیزہ کلمہ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بلند کرتا ہے۔ یر فعہ میں ضمیر الکلم الطیب کی طرف لو ٹتی ہے ؛ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ ، شہر بن حو سب، سعید بن جبیر، مجاہد، قتادہ، ابو العالیہ اور ضحاک کا ہے۔
اور الکم الطیب سے مراد توحید ہے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 464) یہی عمل صالح کو بلند کرتا ہے۔ کیونکہ عمل صالح ایمان اور توحید کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے اور عمل صالح کو پاکیزہ کلمہ بلند کرتا ہے۔ ضمیر عمل صالح کی طرف لو ٹے گی ؛ یہ قول شہر بن حو شب سے مروی ہے، کہا : الکلم الطیب سے مراد قرآن ہے اور عمل صالح قرآن کو بلند کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لو ٹتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ عمل صالح کو پاکیزہ کلمہ پر بلند کرتا ہے، کیونکہ عمل کلمہ کو ثابت کرتا ہے اور عامل، قائل سے زیادہ مشقت برداشت کرتا ہے، یہی کلام کی حقیقت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی رفعت عطا کرنے والی ہے اور پستی دینے والی ہے۔ دوسری اور پہلی تعبیر میں مجاز کا قاعدہ ہے لیکن وہ جائز ہے۔ نحاس نے کہا : پہلا قول زیادہ منا سب اور زیادہ صحیح ہے کیونکہ جس نے کہا ہے وہ بلند مرتبہ والا ہے اور وہ عربی زبان میں بھی اولی ہے کیونکہ قراء العمل کو رفع دیتے ہیں۔ اگر معنی ہو عمل صالح کو اللہ تعالیٰ بلندی عطا فرماتا ہے یا عمل صالح الکلم الطیب کو رفعت عطا کرتا ہے تو پسندیدہ اعراب العمل پر نصب تھی۔ ہم کسی کو نہیں جانتے کہ اس نے العمل کو نصب دی ہو مگر جو حضرت عیسیٰ بن عمر سے مروی ہے انہوں نے کہا : کچھ لوگوں نے اسے العمل الصالح یرفعہ اللہ قراءت کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عمل صالح اپنے عامل کو بلندی عطا کرتا ہے۔ وہ وہی ہے جس نے عزت کا ارادہ کیا اور اس نے جانا کہ یہ اللہ تعالیٰ سے ہی طلب کی جاتی ہے (2) (ایضا) ؛ قشیری نے اس کا ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 :۔ لوگوں نے ھضرت ابن عباس ؓ کے پاس ذکر کیا کہ کتا نماز کو توڑ دیتا ہے اور اس آیت کی قراءت کی۔ آیت : الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ یہ سلف کے مذہب کے مطابق عمومی لفظ سے عموم کا استدلال ہے۔ جب کہ وہ نماز میں اس کی شرائط کے ساتھ داخل ہوا کوئی چیز اس پر نماز کو قطع نہ کرے گی مگر جو اس قطع کو ثابت کر دے جو قرآن، سنت اور اجماع سے ثابت ہو۔ جو یہ رائے رکھتا ہے اس نے حضور ﷺ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے : نماز کو عورت، گدھا اور سیاہ کتا توڑتا ہے (3) ( صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ، ما یستر المصی، جلد 1، صفحہ 197) ۔ میں نے پو چھا : سیاہ کتا کیوں، سفید کتا اور سرخ کتا کیوں نہیں ؟ فرمایا ـ: سیاہ کتا شیطان ہے۔ امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے۔
ایک ایسی روایت آئی ہے جو اس کے معارض ہے، وہ وہ روایت ہے جسے امام بخاری نے ابن شہاب کے بھتیجے سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ نماز کو کون سی چیز توڑ دیتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اسے کوئی چیز بھی نہیں توڑتی۔ عروہ بن جبیر نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے رات کو نماز پڑھتے جب کہ میں، آپ اور قبلہ کے درمیان آپ کے اہل کے بستر پر دائیں بائیں لیٹی ہوتی (4) ( صحیح بخاری، کتاب الصلوۃ، من قال لا یقطع الصلوۃ۔۔ ، جلد 1، صفحہ 74) ۔
آیت : الذین یمکرون السیات طبری نے کتاب آداب النقوش میں ذکر کیا ہے یونس بن عبد اللہ، سفیان سے وہ لیث بن ابی سلیم سے وہ حضرت شہر بن حوسب اشعری سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں روایت نقل کرتے ہیں فرمایا : اس سے مراد ریا کاری کرنے والے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دنیا میں برے اعمال کرتے ہیں۔ مقاتل نے کہا : مراد شرک ہے السیئات اس کو مفعول ہوگا۔ یہ کہا جاتا ہے باریبور جب وہ ہلاک اور باطل ہوجائے۔ بارب السوق جب کسادہ بازاری ہوجائے۔ اسی سے یہ دعا ہے : حدیث : نعوذ با اللہ من بوار الایم میں بیوگی کی ہلاکت سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : آیت : و کانو قوما بو را (الفرقان) تم ہلاک ہونے والی قوم ہو۔ مکر سے مراد وہ عمل ہے جو حیلہ اور دھوکہ کے طریقہ پر کیا جاتا ہے۔ سورة سبا میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 35:11آیت : واللہ خلکم من تراب ثم من نطفۃ سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ اس صورت میں تقدیر کلام یہ ہوگی۔ خلق اصلکم من تراب۔
آیت : ثم من نطفۃ سے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے اباء کی پشتوں سے نکالا۔ آیت : ثم جعلنکم ازواجا تم میں سے بعض کو بعض سے ملا دیا۔ مذکر مو نث کا زوج (جوڑا) ہے تاکہ دنیا میں بقا مکمل ہو یہاں تک کہ اس کی مدت مکمل ہو۔ آیت : و ما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ اللہ تعالیٰ تمہیں جو ڑا جوڑا بنایا پس مذکر، مونث سے شادی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ان سے نسل جاری ہوتی ہے کوئی حمل نہیں ٹھہر تا اور نہ ہی کوئی بچہ جنم لیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے تو کوئی شئے اس کی تد بیر سے خارج نہیں ہوتی۔
آیت : و ما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتاب، اسے معمر نام دیا جس کی طرف وہ جانے والا ہے (1) ( تفسیر الکشاف، جلد 3، صفحہ 503) ۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ قول نقل کیا ہے : کسی کو لمبی عمر نہیں دی جاتی مگر اس کی عمر لکھی لی جاتی ہے کہ وہ کتنے سال ہے، کتنے مہینے ہے، کتنے دن اور کتنی ساعتیں ہیں، پھر ایک اور کتاب میں لکھا جاتا ہے : اس کی زند گی سے ایک دن کم ہوگیا ہے ایک مہینہ کم ہوگیا ہے، ایک سال کم ہوگیا ہے، یہاں تک کہ اس کی عمر پوری ہوجاتی ہے ؛ یہ قول سعید بن جبیر کا بھی ہے۔ کہا : اس کی عمر سے جو وقت گزر جاتا ہے تو وہی نقصان ہے اور جو آئندہ ہے تو وہی اس کی عمر لمبی کی جاتی ہے۔ اس صورت میں ہا ضمیر معمر کے لیے ہوگی۔
سعید سے یہ قول بھی مروی ہے : اس کی عمر اتنے اتنے سال لکھی جاتی ہے پھر اس کے نیچے لکھا جاتا ہے : ایک دن گزر گیا، دو دن گزر گئے، یہاں تک اس کا آخری وقت آجاتا ہے۔ قتادہ سے مروی ہے : معمر اسے کہتے ہیں جس کی عمر ساٹھ سال تک ہو جس کی عمر میں کمی کی جاتی ہے وہ وہ ہے جس کو ساٹھ سال پہلے موت آجائے۔ آیت : و ما یعمر من معمر کے معنی کے بارے میں فراء کا مذہب ہے جو اس کی عمر ہوتی ہے۔ آیت : ولا ینقص من عمرہ سے مراد دوسرا معمر ہے یعنی دوسرے کی عمر میں کمی نہیں کی جاتی مگر کتاب میں۔ عمرہ کی ضمیر دوسرے کی طرف لوٹتی ہے پہلے کی طرف نہیں لو ٹتی۔ اس ہا کو ضمیر کے ساتھ کنایہ کے طور پر ذکر کیا گویا وہ پہلا ہی معمر ہے اس کی مثل تیر ایہ قول ہے : عندی درھم و نصفہ یعنی میرے پاس ایک درہم اور اس کے علاوہ ایک اور نصف ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے انسان کی عمر سو سال لکھی ہی اگر وہ اطاعت کرے اور نوے سال لکھی ہے اگر وہ نافرمانی کرے۔ وہ جس عمر تک بھی پہنچا تو وہ کتاب میں ہے۔ یہ حضور ﷺ کے اس فرمان کی طرح ہے : من احب ان یبسط لہ فی رزقہ دینسالہ فی اثرہ فلیصل رحمہ (1) ( صحیح بخاری، کتاب الادب، من بسط لہ فی الرزق بصللتہ رحم، جلد 2، صفحہ 885) جو آدمی یہ پسند کرے کہ اس کے رزق میں فراخی کی جائے اور اس کی عمر میں تا خیر کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ینی لوح محضوظ میں لکھا جاتا ہے : فلاں کی عمر اتنے سال ہے اگر اس نے صلہ رحمی کی تو اس کی عمر میں اتنے سال اضافہ کردیا جاتا ہے۔ ایک اور جگہ : من اللوح المحفوظ کی وضاحت کی وہ صلہ رحمی کرے گا۔ جو پہلے ارشاد پر مطلع ہوا دوسرے ارشاد پر مطلع نہ ہوا اس نے یہ گمان کیا کہ یہ زیادتی اور کمی ہے۔ یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے تحت بھی گزر چکا ہے آیت : یمحوا اللہ مایشاء و یثبت (الرعد :39) اس صورت میں ضمیر عمر کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے آیت : ومایعمر من معمر کا معنی ہے بوڑھا ہوجانا (2) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 465) یعنی بڑھاپے کی عمر میں کمی نہیں کی جاتی مگر کتاب میں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے فیصلہ سے ایسا ہوتا ہے : اس کا معنی ضحاک سے مروی ہے اور نحاس نے اسے پسند کیا ہے۔ کہا : یہ قرآن کے ظاہر کے مشابہ ہے اس کی مثل حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ اس تعبیر کی صورت میں ہاء کے بارے میں جائز ہے کہ یہ معمر کے لیے ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ غیر معمر کے لیے ہو۔
آیت : ان ذلک علی اللہ یسیر اعمال اور آجال کی کتابت اس پر متعذر نہیں عام قراءت ینقص یاء کے ضمہ اور قاف کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ ایک جماعت جس میں یعقوب بھی ہے اس نے ینقص قراءت کی ہے۔ باء پر فتحہ اور قاف پر ضمہ ہے یعنی اس کی عمر میں سے کچھ کی بھی کمی نہیں کی جائے گی۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے آیت : نقص الثی بنفسہ نقصہ غیرہ زاد بنفسہ زادہ غیرہ۔ یہ افعال متعدی اور لازم دونوں طرح استعمال ہوتے ہیں اعرج اور زہری نے من عمرہ کو میم کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے اسے ضمہ دیا ہے۔ یہ سحق اور سحق کی مثل دونوں لغتیں ہیں۔ یسیر یعنی طویل عمر ہو یا چھوٹی عمر ہو اس کا شمار کرنا اس پر کوئی مشکل نہیں۔ اس فعل یسہ ہے۔ اگر تو اس کے ساتھ کسی انسان کا نام رکھے تو وہ منصرف ہوگا کیونکہ یہ فعیل کا وزن ہے۔
Ayah 35:12اس کے چار مسائل ہیں :
مسلہ نمبر 1 ۔ حضرت ابن عباس نے کہا : فرات کا معنی میٹھا ہے اور اجاج کا معنی کڑوا ہے۔ طلحہ نے قراءت کی آیت : ہذاملح اجاج میم پر فتحہ اور لام کے نیچے کسرہ ہے الف نہیں ہے۔ جہاں تک ملح کا تعلق ہے وہ وہ ہوتا ہے جس میں نمک ڈالا جاتا ہے عیسٰی اور ابن ابی اسحاق نے۔ آیت : سیغ شرابہ قراءت کی ہے جس طرح سید اور میت ہے۔ آیت : ومن کل تا کلون لحما طریا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ : گوشت (مچھلی) ان دونوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اس بارے میں گفتگو سورة النحل میں گزر چکی ہے۔
مسلہ نمبر 2 ۔ آیت : وتستخر جون حلیۃ تلبسو نھا ابو اسحاق کا مذہب یہ ہے کہ زیور نمکین سمندر سے نکالا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان دونوں سے نکالا جاتا ہے کیونکہ یہ دونوں ملے ہوتے ہیں۔ ایک اور نے کہا : وہ سپیاں جن میں موتی وغیرہ ہوتے ہیں وہ ایسی جگہ سے نکالے جاتے ہیں جہاں میٹھا اور کھاری پانی اکھٹا ہوتا ہے جس طرح چشمے یہ ان دونوں سے نکالا جاتا ہے کیونکہ سمندر میں میٹھے چشمے ہوتے ہیں جب یہ ملتے ہیں تو موتی نکلتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : بارش سے محمد بن یزید نے چوتھا قول کیا ہے : موتی یہ صرف نمکین سمندر سے نکالے جاتے ہیں۔ نحاس نے کہا : یہ ان میں سے سب سے اچھا قول ہے کیونکہ وہ دونوں سمندر ملتے ہیں لیکن وہ جمع ہوئے پھر ان میں سے ایک کے بارے میں خبر دی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ آیت : ومن رحمتہ جعل لکم الیل وانھار لتسکنوافیہ ولتبتغوامن فضلہ (القصص :73) اور جس طرح تو کہتا ہے : لورایت الحسن والحجاج لرا یت خیراشرا جس طرح تو کہتا ہے : لورایت الا صمع وسیبویہ لملات یدک لغۃ ونحوا اگر تو اصمعی اور سیبو یہ کو دیکھتا تو تیرا ہاتھ لغت اور نحو سے بھر جاتا۔ اس کا معنی معروف ہے۔ یہ کلام بہت ہی فصیح ہے۔ اسی طرح ہے آیت : و من کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون وحلیۃ تلبسو نھا پہلے میں دونوں اکھٹے ہیں اور دوسرے میں نمکین سمندر منفرد ہے۔
مسلہ نمبر 3 ۔ آیت : تلبسونھا اس پر دلیل ہے کہ ہر شے کا لباس اس کے مناسب ہوتا ہے انگوٹھی انگلی میں ڈالی جاتی ہے، کنگن بازو میں ڈالا جاتا ہے، ہار گردن میں ڈالا جاتا ہے، پازیب پائوں میں ڈالا جاتا ہے۔ بخاری شریف اور مسلم شریف میں ابن سیرین سے مروی ہے کہ میں نے عبیدا سے کہا : ریشم کا بستر بنانا اس کے پہننے کی طرح ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں۔ صحاح میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے : فقہت علی حصیر لنا قد اسود من طول مالبس۔ (1) ( صحیح بخاری۔۔۔۔۔۔۔۔ جلد 1، صفحہ 55) محل استدا لال مالبس ہے میں اپنی ایسی چٹائی پر کھٹرا ہوا جو طویل وقت تک استعمال کرنے سے سیاہ ہوگئی تھی۔
مسلہ نمبر 4 ۔ آیت : وتری الفلک فیہ مواخر نحاس نے کہا : یہاں نمکین سمندر مراد ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو ارشاد ہوتا : فیھا، قد محرت انسفینۃ تمحر جب وہ پانی کو پھاڑے۔ سورة النحل میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ آیت : لتبتغو امن فضلہ مجاہد نے کہا : دور دراز ملکوں کی تجارت کشتیوں کے ذریعے تھوڑی مدت میں ہوئی، جس طرح سورة بقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے فضلہ سے مراد جو زیور نکالا جاتا ہے اور جو اس کی مچھلیاں شکار کی جاتی ہے۔ آیت : لعلکم تشکرون اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں فضل سے نوزا اس پر تم شکر بجا لائو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جا اس نے تمہیں خوف سے نجات عطا فرمائی (2) ( تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 467 ) ۔
Ayah 35:13” وہ داخل کرتا ہے (کبھی) رات (کے ایک حصہ) کو دن میں اور (کبھی) داخل کرتا ہے دن (کے ایک حصہ) کو رات میں اور اس نے پابند حکم کردیا ہے سورج اور چاند کو، ہر ایک رواں ہے مقررہ میعاد تک، یہ ہے اللہ جو تمہارا رب ہیاسی ساری بادشاہی ہے، اور وہ (بت) جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا وہ تو گٹھلی کے چھلکے کے بھی۔ تک نہیں “۔
آیت : یو لج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل سورة آل عمران اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ آیت : وسحر الشمس والقمر کل یجری لا جل مسمی سورة لقمان میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ آیت : ذلکم اللہ ربکم لنا لملک جس کی یہ کاریگری ہے وہی خالق ہے مدبر ہے، قادر ہے اور مقتدر ہے اسی کی عبادت کی جاتی ہے۔ آیت : والذین تد عون من دونہ سے مراد بت ہے۔ ما یملکون من تصمیر وہ اس پر اور اس کو پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ قصیر سے مراد وہ رقیق سا سفید پردہ ہے جو کھجور اور گٹھلی کے درمیان ہوتا ہے : یہ اکثر مفسرین کی رائے ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد گٹھلی کا شق ہے : یہ مبرد کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے اور یہ قتادہ کا قول ہے۔ قتادہ سے یہ بھی مروی ہے : قظیر سے مراد وہ ڈنڈی ہے جو گٹھلی کے سرے پر ہوتی ہے۔ جوہری نے کہا : اس سے مراد وہ سفید نقط ہے جو گٹھلی کی پشت پر ہوتا ہے اسی سے کھجور اگتی ہے۔
Ayah 35:14آیت : ان تد عو ھم لا یسمعوادعائکم اگر وہ مصائب میں ان سے مد طلب کریں تو وہ تمہاری دعا کو نہ سنیں گے کیونکہ یہ جمادات ہیں جو نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی سنتے ہیں۔ آیت : ولو سمعو اما استجابوالکم کین کہ ہر سننے والا بولنے والا نہیں ہوتا۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے اگر وہ سن بھی لیں تو تمہیں کوئی نفع نہ دیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر ہم ان کی عقلیں اور زندگی بنا دیں اور وہ تمہاری دعا کو سنیں تو وہ تمہاری بنسبت اللہ تعالیٰ کی اطاعت زیادہ کریں اور کفر پر ہوتے ہوئے تمہیں کوئی جواب نہ دیں۔
آیت : ویومالقیمۃ یکفرون بشرککم وہ انکار کردیں گے کہ تم نے ان کی عبادت کی ہے اور وہ تم سے اپنی براءت کا اظہار کریں گے ؟ پھر یہ بھی جائز ہے کہ یہ کلام ان معبودوں کی طرف لوٹے جو عقل رکھتے ہیں، جس طرح ملائکہ، جن، انبیاء اور شیاطین، یعنی وہ اس امر کا انکار کردیں گے کہ تو نے جو کچھ کیا ہے وہ حق ہے اور اس سے انکار کردیں گے کہ انہوں نے تمہیں اپنی عبادت کا حکم دیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں خبر دی، آیت : ما یکون لی ان اقول مالیس لی بحق (المائدہ :116) میرے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ میں ایسی بات کروں جس کا مجھے حق نہ ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس میں بت شامل ہوں، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں زندہ کرے گا یہاں تک کہ وہ خبر دیں گے کہ وہ عبادت کے اہل نہیں تھے۔ آیت : ولاینبئک مثل خبیر خبیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی محلوق کو جاننے والا نہیں، اس کی مثل اس کے عمل یا علم کے بارے میں تجھے کوئی اگاہ کرنے والا نہیں۔
Ayah 35:15آیت : یا یھا الناس انتم الفقراء الی اللہ تم اپنی بقا اور اپنے اصولوں میں اس کے محتاج ہو۔ زمحشری نے کہا : اگر تو کہے الفقراء کو معرف باللام کیوں لایا گیا ہے ؟ میں کہوں گا : اس سے اس امر کا قصد کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دکھائے کہ وہ اس کے شدید محتاج ہونے کی وجہ سے وہ فوراء کی جنس ہے، اگرچہ تمام محلوق انسان ہوں یا غیر سب اس کے محتاج ہیں، کیونکہ فقراء ان چیزوں میں سے ہے جو ضعف کے تابع ہوتا ہے جب بھی فقیر زیادہ کمزور ہوگا وہ زیادہ محتاج ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں انسان کے ضعف کی گواہی دی ہے : آیت : اللہ الذی خلقکم من ضعف (الروم :54) اگر فقراء نکرہ ہوتا تو معنی ہوتا تم فقراء کا بعض ہو۔ اگر تو کہے : الفقراء، الغنی کے بلمقابل رکھا گیا ہے توالحمید کا کیا معنی ہے ؟ میں جواب دوں گا : جب اللہ تعالیٰ نے ان کی اپنی بارگاہ میں احتیاج کو ثابت کردیا اور ان سے اپنی بےنیازی کو ثابت کردیا جب کہ ہر غنی اپنی غنا کے ساتھ نفع پہنچانے والا نہیں ہوتا مگر جب وہ غنی سخی اور انعام کرنے والا ہو جب وہ سخاوت کرے اور انعام کرے تو جس پر انعام کیا جا رہا ہوتا ہے تو ان پر اس کی حمد کرنا لازم ہوجاتا ہے، الحمید کا ذکر کیا تاکہ اس کے ساتھ اس امر پر دلالت کرے کہ وہ غنی ہے، اپنی غنا کے ساتھ اپنی محلوق کو نفع پہنچانے والا ہے، وہ سخی ہے اور ان پر انعام فرمانے والا ہے۔ وہ ان پر انعام کرنے کی وجہ سے اس امر کا مستحق ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں۔ خلیل کے نزدیک دوسرے ہمزہ کی تخفیف سب سے عمدہ صورت ہے، پہلے ہمزہ کی تخفیف دونوں کی تخفیف اور دونوں کی تخقیق بھی جائز ہے۔ آیت : واللہ ھوالغنی الحمید، ھو زائد ہے۔ اس کا اعراب میں کوئی محل نہیں ہوتا۔ یہ مبتدا ہو تو اس کا محل رفع ہوگا۔
Ayah 35:16آیت : ان یشایذھبکم اس میں حذف ہے معنی ہے اگر وہ تمہیں لے جانا چاہے تو تمہیں فنا کر دے۔
آیت : ویات بخلق جدید وہ نئی مخلوق لے آئے جو تمہاری بنسبت زیادہ اطاعت گزار ہو اور تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہو۔
Ayah 35:17آیت : وماذلک علی اللہ بعذیز اللہ تعالیٰ پر مشکل نہیں۔ سورة ابراہیم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔