35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار ہے) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں۔ وہ (اپنی) مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

الحمد اللہ فاطر السموت والارض . تمام حمد (ستائش) اسی اللہ کو زیبا ہے جو آسمانوں کو ‘ زمین کو عدم کا پردہ پھاڑ کر وجود میں لانے والا ہے۔ یعنی سب کا خالق ہے ‘ بغیرسابق مثال کے ایجاد کرنے والا ہے۔ فاطر ‘ فطرۃ سے مشتق ہے (فطرۃ کا معنی ہے پھاڑنا) مراد ہے نیستی کو پھاڑ کر ہستی میں لانا۔ اس جگہ فاطر بمعنی ماضی ہے یعنی اللہ نے سارے جہان کو پیدا کیا ہے۔ اس صورت میں فاطر اللہ کی صفت ہوگا۔ جاعل الملئکۃ رسلاً اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع جو فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے دو دو ‘ تین تین اور چار چار پر دار بازو ہیں۔ رُسُلاً (پیام رساں) یعنی اللہ اور انبیاء اور نیک بندوں کے درمیان وحی یا الہام یا سچے خوابوں کے پہنچانے کے وسائط اور ذرائع ہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان ملائکہ وسائط ہیں جو آثار صفت الٰہیہ کو مخلوق تک پہنچاتے ہیں۔ جاعل (اسم فاعل) بمعنی حال یا بمعنی استقبال ہے اور اضافت محض لفظی ہے ‘ اس صورت میں یہ لفظ اللہ کی صفت نہیں ہوگی بلکہ اللہ کے لفظ سے بدل ہوگی۔ مثنٰی وثلٰث ورباع ‘ اجنحۃ کی صفت ہے۔ قتادہ اور مقاتل نے کہا : بعض ملائکہ کے دو بازو ‘ بعض کے تین اور بعض کے چار اللہ نے بنائے ہیں ‘ لیکن تعداد محدود نہیں ہے۔ حد بندی کے خیال کو دور کرنے کیلئے آگے فرمایا۔ یرید فی الخلق ما یشآء ان اللہ علی کل شیء قدیر . وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدائش میں زیادہ کردیتا ہے ‘ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے (اپنے اندازے کے مطابق کرسکتا ہے ‘ مترجم) ۔ مسلم نے صحیح میں آیت لَقَدْ رَأٰی مِنْ اٰیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی کی تشریح کے ذیل میں حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل کو ان کی (اصلی) صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو تھے۔ ابن حبان کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے : (حضور ﷺ نے فرمایا :) میں نے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جبرئیل کو ان کی (اصلی) صورت میں دیکھا ‘ جن کے سات سو بازو تھے اور ان کے پروں سے موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔ الخلق کا لفظ ملائکہ اور غیر ملائکہ سب کو شامل ہے۔ یزید فی الخلق جملۂ مستانفہ ہے جو بتارہا ہے کہ تفاوت تخلیقی اللہ کی مشیت و حکمت کے زیر اثر ہے ‘ ملائکہ کا ذاتی تقاضا نہیں ہے۔ لفظ یزید ہر قسم کی زیادتی کو شامل ہے۔ صوری زیادتی ہو یا معنوی ‘ چہرہ کی ملاحت ‘ آواز کا حسن ‘ بلندی اخلاق ‘ عقل و فہم کی نورانیت سب ہی کو یہ لفظ شامل ہے۔ زہری کے نزدیک حسن صورت اور قتادہ کے نزدیک آنکھوں کی ملاحت مراد ہے۔ بعض کے نزدیک عقل و امتیاز کی زیادتی مراد ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ تعیین نہیں ہے ‘ بلکہ ان علماء نے زیادتی کی ایک ایک شاخ بطور مثال بیان کر د
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

خدا جو اپنی رحمت (کا دروازہ) کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں۔ اور جو بند کردے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے

ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا وما یمسک فلا مرسل لہ من بعد وھو العزیز الحکیم اللہ جو رحمت (بارش وغیرہ) لوگوں کیلئے کھول دے ‘ سو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کر دے ‘ سو اس کی بندش کے بعد کوئی اس کو جاری کرنے والا نہیں اور وہی غالب ‘ حکمت والا ہے۔ یفتح فتح کا معنی ہے کھولنا ‘ مجازاً مراد ہے عطا کرنا۔ سبب کا اطلاق مسبب پر کیا گیا ہے یعنی جو رحمت اللہ تعالیٰ عطا فرمائے۔ رحمت دنیوی ہو جیسے بارش ‘ رزق ‘ امن ‘ صحت ‘ عزت ‘ حکومت ‘ مال ‘ اولاد وغیرہ یا دینی ہو جیسے ایمان ‘ علم دین ‘ نبوت ‘ نیکیوں کی توفیق وغیرہ۔ من رحمۃٍ میں لفظ رحمت ہر قسم کی رحمت کو شامل ہے۔ فَلاَ مُمْسِکَ لَھَا کوئی اس کو روک دینے والا نہیں۔ بند کرنے سے مراد ہے روک دینا۔ وَمَا یُمْسِکَ اور جس کو بند کر دے۔ فَلاَ مُرْسِلَ لَہٗ تو اس کو کوئی جاری کرنے والا یعنی بندش کرنے والا نہیں۔ لَھَا کی ضمیر رحمت کی طرف راجع ہے اور لَہٗ کی ضمیر مایُمْسِکَ میں لفظ مَا مطلق ہے ‘ رحمت کو بھی شامل ہے اور غضب کو بھی۔ اس ترتیب میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ العزیز یعنی اللہ جو کچھ چاہے اس پر قادر ہے ‘ کوئی اس کی قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ الحکیم حکمت والا ہے یعنی ہر کام علم و مصلحت کے ساتھ کرتا ہے۔ شیخین نے صحیحین میں بیان کیا ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے : لَآ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ لاَ مَانِعَ لمآا اَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلا یَنْفَعُ ذَاالْجَّدِ مِنْکَ الْجَدُّ ۔ آیات مذکورہ میں جب اللہ نے بیان فرما دیا کہ وہی تمام چیزوں کا خالق ہے اور جیسا چاہتا ہے کرتا ہے تو آئندہ آیت میں اپنی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا :
Ayah 35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

لوگو خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو۔ کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رازق ہے) جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟

یایھا الذین اذکروا انعمت اللہ علیکم اے لوگو ! (یعنی اے اہل مکہ ! ) یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو جو تم پر کی ہیں۔ اللہ نے تم کو حرم کا باشندہ بنایا کہ حرم کی وجہ سے کوئی تم کو لوٹ نہیں سکتا۔ اللہ ہی نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا ‘ آسمان کی چھت بغیر ستونوں کے قائم کی ‘ تم کو عدم سے وجود میں لایا ‘ رزق کے دروازے تمہارے لئے کھول دئیے جن کو کوئی بند نہیں کرسکتا تو پھر۔ لا الہ الا ھو فانی تو فکون . اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ سو (شرک کر کے) تم کہاں الٹے جا رہے ہو۔ یعنی جب تم کو اعتراف ہے کہ ا کے سوا کوئی خالق و رزاق نہیں تو پھر کس وجہ سے توحید سے لوٹ کر شرک کی طرف جا رہے ہو۔
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) اگر یہ لوگ تم کو جھٹلائیں تو تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے گئے ہیں۔ اور (سب) کام خدا ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے

وان یکذبوک فقد کذبت رسل من قبلک . اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کر رہے ہیں تو (آپ صبر کریں کیونکہ) آپ سے پہلے بھی پیغمبروں کی تکذیب (ان کی کافر امتوں کی طرف سے) کی جا چکی ہے۔ یعنی اگر توحید ‘ قیامت اور عذاب کے مسائل میں یہ لوگ آپ کو جھوٹا قرار دیتے ہیں تو آپ دوسرے پیغمبروں پر اپنے آپ کو قیاس کرلیں اور صبر کریں ‘ غمگین نہ ہوں ‘ ان کو بھی ان کی امتوں نے جھوٹا قرار دیا تھا۔ رُسُلٌ کی تنوین عظمت و کثرت کو ظاہر کر رہی ہے یعنی بڑی عظمت والے ‘ طویل عمریں رکھنے والے ‘ اولوالعزم کثیر پیغمبروں کا بھی یہی حال تھا۔ ان کو بھی کفار کی تکذیب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ والی اللہ ترجع الامور . اور اللہ کی طرف تمام امور لوٹائے جائیں گے۔ وہی آپ کے صبر کا بدلہ بصورت نصرت وثواب عطا فرمائے گا اور وہی ان کافروں کی تکذیب کی سزا دونوں جہا میں بصورت عذاب دے گا۔
Ayah 35:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

لوگو خدا کا وعدہ سچا ہے۔ تو تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ (شیطان) فریب دینے والا تمہیں فریب دے

یایھا الناس ان وعد اللہ حق . اے لوگو ! (قیامت اور معاوضۂ اعمال کا) اللہ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ یعنی اس کے خلاف ہونے کا احتمال بھی نہیں ہے۔ فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا سو تم کو یہ دنیوی زندگی فریب خوردہ نہ بنا دے۔ یعنی آخرت کی طلب و سعی سے یہ دنیوی بیہودہ مشاغل غافل نہ بنا دیں۔ ولا یغرنکم باللہ الغرور . اور اللہ کے متعلق شیطان تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یعنی اللہ نے اپنے حلم کی وجہ سے جو تم کو ڈھیل دے رکھی ہے ‘ اس ڈھیل کے سبب شیطان تم کو عذاب آخرت فراموش نہ کر دے اور باوجود گناہوں پر جمے رہنے کے ‘ شیطانی اغواء کی وجہ سے تم کو مغفرت کا یقین نہ ہوجائے۔ اگرچہ معاصی پر اصرار کے باوجود مغفرت ممکن ہے (لیکن یقینی نہیں ہے) یہ تو ایسا ہی ہے جیسے زہر کھانا اور تریاق (کی تاثیر) کی امید رکھنا۔
Ayah 35:6

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ اپنے (پیروؤں کے) گروہ کو بلاتا ہے تاکہ دوزخ والوں میں ہوں

ان الشیطن لکم عدو . بلاشبہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔ تم سے اس کی عداوت پرانی ہے اور برابر چلی آرہی ہے۔ فاتخذوہ عدوا اس لئے تم اس کو اپنا دشمن ہی یقین کرو۔ اپنے تمام احوال میں اس کے وسوسے سے بچتے رہو ‘ اس کا کہنا نہ مانو ‘ اس کی مرضی کے خلاف محض اللہ کی اطاعت کرو۔ محبت کا تقاضا ہے کہ محبوب جس کام کو پسند کرے ‘ وہی کیا جائے تاکہ اس کی رضامندی حاصل ہو اور دشمنی کا تقاضا ہے کہ جو کام دشمن کو پسند ہو ‘ وہ نہ کیا جائے اور اس کو غصہ کی آگ میں جلایا جائے۔ انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحب السعیر . شیطان تو بس اپنے گروہ کو (یعنی اپنی اتباع کرنے والے آدمیوں کو گناہ ‘ اتباع خواہشات اور دنیا کی طرف میلان رکھنے کی) دعوت دیتا ہے تاکہ وہ دوامی جہنمی ہوجائیں۔ یعنی اس کی عداوت کا ثبوت یہ ہے کہ انسان کو جہنمی بنا دینا اس کا مقصود ہے۔
Ayah 35:7

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جہنوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے

الذین کفروا لھم عذاب شدید والذین امنوا وعملوا الصلحت لھم مغفرۃ واجر کبیر جنہوں نے (ا اللہ کا) انکار کیا (اور شیطان کی پیروی کی) ان کیلئے شدید عذاب ہے اور جنہوں نے (ا اللہ کو) مانا اور نیک کام کئے (اور شیطان کی مخالفت کی) ان کیلئے مغفرت اور بڑا ثواب ہے۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

بھلا جس شخص کو اس کے اعمال بد آراستہ کرکے دکھائے جائیں اور وہ ان کو عمدہ سمجھنے لگے تو (کیا وہ نیکوکار آدمی جیسا ہوسکتا ہے) ۔ بےشک خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ تو ان لوگوں پر افسوس کرکے تمہارا دم نہ نکل جائے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے واقف ہے

افمن زین لہ سوء عملہ فراہ حسنا فان اللہ یضل من یشاء ویھدی من یشاء کیا ایسا شخص جس کو اس کا عمل بد اچھا کر کے دکھایا گیا ہو پھر وہ اس کو اچھا سمجھنے لگا ہو (اور ایسا شخص جو برے کو برا سمجھتا ہو ‘ یعنی کافر اور مؤمن برابر ہوسکتے ہیں ؟ ) سو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب کردیتا ہے۔ فراٰہ حسنًا ‘ زُیِّنَ کے مضمون کی تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس کو بےمدد چھوڑ دیا اور اس کا وہم ‘ فہم پر اور جذبات نفسانی ‘ عمل پر غالب آگئے ہوں ‘ فکر و رائے میں اختلال پیدا ہوگیا ہو ‘ شیطان نے اس کا ذہنی اغوا کرلیا ہو ‘ وہ اچھے کو برا اور باطل کو حق سمجھنے لگا ہو ! کیا ایسا آدمی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کو شیطان فریب نہ دے سکا ہو ‘ شیطان کو اس کے پاس آنے کا راستہ ہی نہ ملا ہو ‘ اللہ نے اس کو ہدایت یاب کردیا ہو ‘ وہ حق کو باطل سے الگ کرنے کی سوجھ بوجھ رکھتا ہو ‘ اچھے اعمال کو اچھا اور برے اعمال کو برا جانتا ہو۔ فَاِنَّ اللّٰہَ میںعطف کیلئے ہے اور کچھ کلام محذوف ہے جس پر اس کا عطف ہے۔ محذوف کلام اس طرح تھا : آپ یہ خیال نہ رکھیں کہ ہر شخص کو آپ ہدایت کرسکیں گے اور جس کی مدد اللہ کی طرف سے نہ کی گئی ہو اور جس کو اللہ نے ہدایت کردی ہو ‘ دونوں برابر ہوجائیں گے۔ ایسا ہرگز نہ ہوگا کیونکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب کرتا ہے (آپ کے قبضہ میں گمراہ کو ہدایت یافتہ بنانا نہیں ہے ‘ مترجم) ۔ فلا تذھب نفسک علیھم حسرات . سو ان پر افسوس کر کے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے۔ حسراتٍ مفعول لہٗ ہے یعنی افسوس کرنے کی وجہ سے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے۔ حسرات ‘ حسرت کی جمع ہے ‘ جمع کا صیغہ یا اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ گمراہ کافروں کے احوال پر رسول اللہ ﷺ کو بکثرت افسوس ہوتا تھا ‘ یا یہ وجہ ہے کہ ان کی بداعمالیاں بہت کثرت سے تھیں جو افسوس کی (الگ الگ) متقاضی تھیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ آیت ابوجہل اور دوسرے مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ جویبر نے بوساطت ضحاک ‘ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے دعا کی تھی : اے اللہ اپنے دین کو عمر بن خطاب یا ابوجہل بن ہشام (کے ایمان) سے غلبہ عطا فرما۔ چناچہ اللہ نے حضرت عمر کو ایمان کی توفیق عنایت کردی اور ابوجہل کو چھوڑ دیا۔ ان ہی دونوں کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ سعید بن جبیر نے کہا : یہ آیت اہل بدعت اور پرستاران ہوا و ہوس کے حق میں نازل ہوئی۔ قتادہ نے کہا : انہی میں سے خارجیوں کا گروہ تھا جو مسلمانوں کا خون بہانا اور مال لوٹنا حلال سمجھتے تھے۔ دوسرے اہل کبائر ان میں شامل نہیں ہیں کیونکہ وہ کبیرہ گناہوں کو حلال نہیں سمجھتے بلکہ ان کو کبیرہ گناہ ہی جانتے ہیں اگرچہ عملاً کبائر کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ان اللہ علیم بما یصنعون اللہ کو ان کے سب کاموں کی بلاشک و شبہ خبر ہے۔ یعنی ان کے اعمال کی ضرور سزا دے گا۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور خدا ہی تو ہے جو ہوائیں چلاتا ہے اور وہ بادل کو اُبھارتی ہیں پھر ہم ان کو ایک بےجان شہر کی طرف چلاتے ہیں۔ پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیتے ہیں۔ اسی طرح مردوں کو جی اُٹھنا ہوگا

واللہ الذی ارسل الریح فتثیر سحابا فسقنہ الی بلد میت فاحیینا بہ الارض بعد موتھا کذلک النشور . اور اللہ وہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے ‘ پھر ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں ‘ پھر ہم بادلوں کو مردہ (یعنی خشک) قطعۂ زمین کی طرف چلاتے ہیں ‘ پھر اس (کے پانی) سے مردہ زمین کو مرے پیچھے (یعنی خشک ہوجانے کے بعد) زندہ کردیتے ہیں (یعنی سرسبز کردیتے ہیں) اسی طرح ہوگا مردوں کا قبروں سے اٹھنا۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہواؤں کے ذریعہ سے بادلوں کو اٹھا کر اور پھر پانی برسا کر اللہ مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے ‘ اسی طرح قیامت کے دن تم کو زندہ کر کے اٹھائے گا۔ فَتُثِیْرُ سَحَابًا یہ گذشتہ حال کی حکایت ہے تاکہ وہ ندرت آگیں صورت جو اللہ کی حکمت پر دلالت کرتی ہے ‘ دماغوں میں مستحضر ہوجائے۔ فَاَحْیَیْنَا بِہٖ پھر بارش سے ہم نے زندہ کردیا۔ بہٖ کی ضمیر پانی کی طرف راجع ہے کیونکہ سحاب سے بارش کا مفہوم سمجھ لیا جاتا ہے یا لفظ سحاب کی طرف ضمیر راجع ہے کیونکہ زمین کی زندگی کا سبب پانی ہے اور پانی کا سبب بادل ہے۔ زمین کو زندہ کرنے سے مراد ہے سرسبز کردینا اور زمین کی موت سے مراد ہے زمین پر خاک اڑانا اور ہریالی کا سوکھ جانا۔ کذٰلک یعنی جس طرح سبزی کے سوکھ جانے کے بعد اللہ اس کو زندہ کردیتا ہے ‘ اسی طرح تمہاری دوبارہ زندگی ہوگی اور قبروں سے زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے کیونکہ دائرۂ قدرت سے دونوں میں سے کوئی بھی خارج نہیں۔ سبز کی روئیدگی کا مادہ ضرور مختلف ہے لیکن مادہ کے اختلاف کو زندگی میں کوئی دخل نہیں ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ اس آیت میں عطاء زندگی کی کیفیت کی تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت سے مسلم نے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں بعث کی کیفیت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہے : پھر اللہ ایک بارش شبنم کی طرح بھیجے گا جس کی وجہ سے اجسام اگیں گے۔ الحدیث ابو الشیخ نے العظمت میں وہب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ بحر مسجور (آتشیں سمندر) کی ابتداء اللہ کے علم میں ہوگی اور اس کا آخر (کنارہ) اللہ کے ارادہ میں ہوگا۔ اس کے اندر مادۂ منویہ کی طرح گاڑھا پانی ہوگا جس کو راجفہ اور رادفہ (زمین کے دو زلزلوں) کے درمیان اللہ برسائے گا جس سے لوگ اس طرح اگیں گے جس طرہ سیلابی مٹی میں سبزہ اگتا ہے۔ پھر اللہ مؤمنوں کی روحوں کو جنت سے لا کر اور کافروں کی روحوں کو دوزخ سے (لا کر) یکجا کرے گا تاکہ ان کی صورتیں عطا فرمائے۔ اسرافیل بحکم خدا (صور) پھونکیں گے جس سے ہر روح اپنے بدن میں داخل ہوجائے گی۔ الحدیث شیخین نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دونوں بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس (کا فاصلہ) ہوگا۔ حاضرین نے حضرت ابوہریرہ سے دریافت کیا : کیا چالیس دن کا فاصلہ ہوگا ؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا : مجھے اس سے انکار ہے۔ لوگوں نے کہا : تو کیا چالیس سال مراد ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا : میں یہ بھی نہیں مانتا (یعنی رسول اللہ ﷺ نے چالیس کا لفظ فرمایا تھا ‘ تعیین نہیں کی ‘ اس لئے میں بھی کوئی تعیین نہیں کرسکتا) ۔ پھر اللہ آسمان سے پانی برسائے گا جس سے لوگ اس طرح اگیں گے جیسے سبزی اگتی ہے۔ سوائے ایک ہڈی کے ‘ انسان کے جسم کا ہر حصہ گل جاتا ہے ‘ وہ ہڈی دم گزے کی ہے (یہ نہیں گلتی) اسی سے قیامت کے دن سارا جسم جوڑا جائے گا۔ ابن مبارک نے سلیمان کی روایت سے بیان کیا کہ قبروں سے اٹھائے جانے سے پہلے چالیس روز گاڑھے پانی کی بارش ہوگی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ دونوں صوروں کے درمیان عرش کی جڑ سے پانی کی ایک داری جاری ہوجائے گی ‘ دونوں صوروں کے درمیان چالیس سال کا فصل ہوگا۔ اس پانی سے انسانوں اور پرندوں اور چوپایوں کا گلا ہوا جسم اگ آئے گا۔ دنیا میں اگر کوئی ان کو پہچانتا ہوگا اور اس وقت وہ ان کی طرف سے گذرے گا تو فوراً شناخت کرلے گا ‘ پھر روحوں کو چھوڑا جائے گا اور وہ آکر اپنے اپنے جسموں سے جڑ جائیں گی۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو شخص عزت کا طلب گار ہے تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے۔ اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتے ہیں۔ اور جو لوگ برے برے مکر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور ان کا مکر نابود ہوجائے گا

من کان یرید العزہ فللّٰہ العزق جمیعا . جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہے تو (دنیا اور آخرت میں) ساری عزت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ فراء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا : جو شخص جاننا چاہتا ہے کہ عزت کس کیلئے ہے تو وہ سمجھ لے کہ تمام تر عزت اللہ کیلئے ہے۔ بظاہر آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو اپنے لئے عزت کا خواستگار ہے تو اللہ کی بارگاہ سے ہی اس کو عزت طلب کرنی چاہئے ‘ اسی کی فرمانبرداری کر کے عزت حاصل کرے کیونکہ ساری عزت کا خالق ومالک اللہ ہی ہے ‘ جس کو چاہے عطا کرے۔ کافر ‘ بتوں کی پوجا کر کے عزت کے خواستگار تھے ‘ اللہ نے کافروں کے متعلق فرمایا : وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلَھِۃً لِّیَکُوْنُوْا لَھُمْ عِزّآا کلاَّ ط اور منافق ‘ کافروں کی نظر میں معزز بننا چاہتے تھے ‘ اللہ نے منافقوں کے متعلق فرمایا ہے : اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَ ھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا۔ آیت مذکورہ میں دونوں کے خیال کی تردید کردی گئی۔ آگے فرمایا کہ عزت کے حصول کا ذریعہ صرف توحید اور نیک عمل ہے۔ الیہ یصعد الکلم الطیب . اللہ ہی کی طرف چڑھتے ہیں پاک کلمات۔ پاک کلمات سے مراد ہیں : سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَتَبَارَکَ اللّٰہُ وغیرہ۔ چڑھنے سے مجازاً مراد ہے قبول ہونا۔ قتادہ کا یہی قول روایت میں آیا ہے ‘ یا کلمات کے چڑھنے سے مراد ہے ان فرشتوں کا عرش کی طرف چڑھنا جو ان پاک کلمات کو لکھ کرلے جاتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جو شخص پانچ کلمات سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَتَبَارَکَ اللّٰہُ کہتا ہے تو کوئی ایک فرشتہ ان کو فوراً لے کر اپنے پروں کے نیچے چھپا کر اوپر چڑھ جاتا ہے اور ملائکہ کی جس جماعت کی طرف سے گذرتا ہے ‘ وہ ملائکہ ان کلمات کے قائل کیلئے دعاء مغفرت کرتے ہیں۔ آخر رب العالمین کی بارگاہ میں ان کلمات کو وہ فرشتہ پیش کردیتا ہے۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب (کی اس آیت) سے ہوتی ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے : اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ ۔ رواہ البغوی و الحاکم وغیرہ ‘ ثعلبی اور ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس حدیث کو مرفوعاً بیان کیا ہے۔ والعمل الصالح یرفعہ . اور اچھا کام اس (اچھے کلام) کو پہنچا دیتا ہے۔ کلبی اور مقاتل کے نزدیک یرفع کی ضمیر فاعل الکلم کی طرف راجع ہے اور یَرْفَعُہٗ میں ہٗ ضمیر مفعول العمل کی طرف لوٹ رہی ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ (کلمات توحید و تنزیہ عمل صالح کو مقبول بنا دیتے ہیں یعنی) جب تک عمل صالح کی بناء توحید پر نہ ہو ‘ قابل قبول نہیں ہوتا۔ سفیان بن عیینہ کے نزدیک یرفع کی ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ عمل صالح یعنی اس عمل کو جو خالص اللہ کیلئے کیا جائے جس کے اندر کسی شہرت طلبی اور دکھاوٹ کی آمیزش نہ ہو ‘ اللہ اوپر اٹھاتا یعنی قبول فرماتا ہے۔ خلوص نیت ‘ اقوال و اعمال کے مقبول ہونے کا ذریعہ ہے۔ (عام اہل تفسیر کے نزدیک) یرفع کی ضمیر عمل صالح کی طرف راجع ہے اور ہٗ ضمیر منصوب مفعول ہے اور الکلم کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی اعمال صالحہ ‘ کلمات طیبہ کو مقبول بنا دیتے ہیں۔ الکلم (کا لفظ) مفرد ہے ‘ جمع نہیں ہے۔ جنس مراد ہے ‘ اسی وجہ سے الطیِّبتہ کی جگہ الطیب فرمایا ‘ یا یوں کہا جائے کہ الکلم الطیب بعض کلمات طیبہ یعنی صرف وہ کلمات جن کی بناء خلوص نیت پر ہو۔ حضرت ابن عباس ‘ سعید بن جبیر ‘ حسن ‘ عکرمہ اور اکثر اہل تفسیر کا یہی قول ہے۔ مطلب وہی ہے جو عام اہل تفسیر نے بیان کیا ہے۔ حسن نے کہا : الکلم الطیب اللہ کا ذکر اور عمل صالح اداء فریضہ ہے۔ جو اللہ کا ذکر تو کرے اور فرض ادا نہ کرے ‘ اس کا ذکر رد کردیا جاتا ہے۔ ایمان آرزو کرنے سے نہیں ملتا ‘ نہ (دل پر) جلوہ پاشی کا نام ایمان ہے بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جما ہوا ہو اور اعمال صالحہ اس کی تصدیق کر رہے ہوں۔ جس کا قول تو اچھا ہے اور عمل صالح نہ ہو ‘ اللہ اس کا قول اس کے منہ پر مار دیتا ہے اور جس کا قول بھی اچھا ہو اور عمل بھی صالح ہو ‘ اللہ اس کو قبول فرما لیتا ہے۔ اس کا قول ‘ عمل کو مقبول بنا دیتا ہے۔ یہی مطلب ہے آیت اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ ط کا۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ بغیر عمل کے اللہ قول کو قبول نہیں فرماتا اور (قول و عمل کے ساتھ خلوص نیت بھی ضروری ہے) صرف قول و عمل بھی بغیر نیت کے مقبول نہیں۔ میں کہتا ہوں : آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر عمل کے ایمان ناقابل اعتبار اور بیکار ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جس نے اس بات کی شہادت دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ وہ تنہا معبود ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول اور اللہ کی بندی کے بیٹے اور کلمۃ اللہ تھے جو اللہ نے مریم کی طرف القاء کیا تھا اور اللہ کی طرف سے روح تھے اور اس بات کی بھی شہادت دی کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو اللہ اس کو جنت میں داخل فرما دے گا ‘ اس کے عمل کچھ بھی ہوں۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین عن عبادہ بن الصامت۔ بلکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ کلمات طیبہ اللہ کی طرف چڑھتے ہیں (بارگاہ الٰہی میں قبول کئے جاتے ہیں) اب اگر ان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی ہوں تو کلمات کی شان اور اونچی ہوجاتی ہے اور ثواب بڑھ جاتا ہے۔ رہی وہ حدیث جس میں فرمایا ہے کہ بغیر عمل کے قول مقبول نہیں ہوتا ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ منافق کا زبانی قول جو عمل قلبی کے ساتھ نہ ہو اور اعمال اعضاء بھی قول کے خلاف ہوں ‘ وہ ناقابل اعتبار اور بےکار ہے۔ اسی طرح جو عمل بغیر خلوص نیت کے کیا جائے ‘ نہ قلبی عقیدہ عمل کے مطابق ہو ‘ نہ اخلاص قلبی اس عمل کے ساتھ ہو ‘ وہ بھی قابل قبول نہیں ہوتا۔ بعض اہل علم نے آیت کے آخری فقرہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ عمل صالح پاک کلام کے قائل (یعنی اس کے درجہ) کو اونچا کردیتا ہے۔ والذین یمکرون السیئات لھم عذاب شدید ومکر اولئک ھو یبور . اور جو لوگ بری بری تدبیریں کرتے ہیں ‘ ان کو سخت عذاب ہوگا اور ان لوگوں کا یہ مکر نیست و نابود ہوجائے گا۔ ابو العالیہ نے کہا : بری تدبیروں سے مراد ہیں قریش کی وہ خفیہ تدبیریں جو دار الندوہ میں بیٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے متعلق انہوں نے کی تھیں ‘ انہی تدبیروں کے متعلق سورة انفال میں آیا ہے : وَاِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ ۔ کلبی نے یَمْکُرُوْنَ السَّیِّئاٰتِ کا ترجمہ کیا ہے : برائیاں کرتے ہیں۔ مجاہد اور شہر بن حوشب کے نزدیک ریاکار لوگ مراد ہیں۔ ھُوَ یَبُوْرُ وہ یعنی اللہ ان کو نابود کر دے گا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَیَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللّٰہَ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ ریاکاروں کے اعمال کو نابود کر دے گا۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تم کو جوڑا جوڑا بنا دیا۔ اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے۔ بےشک یہ خدا کو آسان ہے

وا اللہ خلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم جعلکم ازواجا اور اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے ‘ پھر (نسلاً ) نطفہ سے پیدا کیا ‘ پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا۔ اس آیت میں بھی حشر جسمانی پر اللہ کے قادر ہونے کو ثابت کیا ہے ‘ کیونکہ ابتدائی تخلیق دوبارہ پیدا کرنے سے آسان نہیں ہے (جب ابتداء میں اللہ نے پیدا کردیا تو دوبارہ پیدا کرنا اس کیلئے کچھ دشوار نہیں) ۔ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَۃٍ یعنی اصل بعید (ابتدائی بنیاد) تو تمہاری مٹی سے ہے۔ حضرت آدم کو مٹی سے بنایا تھا اور اصل قریب نطفہ ہے۔ اَزْوَاجًا یعنی صنف ‘ صف نر اور مادہ۔ وما تحمل من انثی ولا تصنع الا بعلمہ اور کسی عورت کو نہ حمل رہتا ہے اور نہ وہ اس کو جنتی ہے ‘ مگر (ہربات) ا اللہ کے علم میں ہوتی ہے۔ یعنی اللہ کو معلوم ہوتی ہے۔ وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتب . اور نہ کسی کی عمر زیادہ مقرر کی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم مقرر کی جاتی ہے ‘ مگر (یہ سب) لوح محفوظ میں ہوتا ہے۔ لاَ یُنْقَضض مِنْ عُمُرِہٖ یعنی کسی کی عمر کا کوئی حصہ نہیں گذرتا (اور اس طرح اس کی عمر میں کمی نہیں ہوتی) ۔ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍط مگر اس کا اندراج (پہلے سے) لوح محفوظ میں ہوتا ہے ‘ یا کراماً کاتبین کے اعمال ناموں میں اس کا اندراج ہوجاتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : ام الکتب (یعنی لوح محفوظ) میں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں شخص کی عمر اتنے سال ہوگی ‘ پھر اس کے نیچے لکھا ہوتا ہے : ایک دن گذر گیا ‘ دو دن گذر گئے ‘ تین دن گذر گئے۔ اسی طرح پوری عمر کے دن لکھے ہوئے ہوتے ہیں اور اس طرح عمر ختم ہوجاتی ہے۔ بعض علماء کے نزدیک آیت کا یہ مطلب ہے کہ کسی کی عمر میں بیشی کا کمی نہیں کی جاتی ‘ مگر اس کا اندراج (پہلے سے) لوح محفوظ میں ہوتا ہے۔ مثلاً لوح محفوظ میں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں شخص کی عمر اتنے سال کی ہوگی ‘ پھر بعض نیکیوں کی وجہ سے اس کی عمر بڑھا دی جائے گی ‘ یا بعض گناہوں کی وجہ سے اس کی عمر کم کردی جائے گی ‘ یہ سب کچھ لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہوتا ہے۔ اس مطلب کی تائید رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے ہوتی ہے کہ دعا کے سوا قضا کو کوئی چیز پلٹ نہیں سکتی اور سوائے حسن سلوک کے عمر میں اور کوئی چیز زیادتی نہیں کرسکتی ‘ رواہ الترمذی عن سلمان فارسی۔ ان ذلک علی اللہ یسیر . بلاشبہ یہ (عمر اور اعمال کی کتابت) اللہ کیلئے آسان ہے۔
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور دونوں دریا (مل کر) یکساں نہیں ہوجاتے۔ یہ تو میٹھا ہے پیاس بجھانے والا۔ جس کا پانی خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے کڑوا۔ اور سب سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے پہنتے ہو۔ اور تم دریا میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ (پانی کو) پھاڑتی چلی آتی ہیں تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

وما یستوی البحرٰن ھذا عذب فرات سائغ شرابہ وھذا ملح اجاج اور دونوں سمندر برابر نہیں ہیں (بلکہ) ایک تو شیریں ہے پیاس بجھانے والا ‘ جس کا پینا خوشگوار ہے اور دوسرا شور و تلخ ہے۔ فُرَاتٌ بہت شیریں۔ بعض نے ترجمہ کیا : پیاس بجھانے والا۔ سَاءِغٌ آسانی سے حلق میں اتر جانے والا۔ اُجَاجٌ سخت نمکین۔ بعض نے اس کا ترجمہ کیا : اتنا نمکین کی حلق کو جلا دے۔ یہ مؤمن و کافر کی مثال ہے۔ اس آیت میں اللہ کی قدرت کاملہ کا بیان کیا گیا ہے کہ ایک ہی جنس سے اللہ نے مختلف الخواص دو چیزیں پیدا کی ہیں۔ ومن کل تاکلون لحما طریا . اور تم ہر ایک سمندر سے (نکال کر) تازہ گوشت (یعنی مچھلیاں) کھاتے ہو۔ یہ جملہ یا تو دونوں سمندروں کی صفت ہے جس کو ذیلی طور پر بیان کیا گیا ہے ‘ یا ذیلی صفت نہیں ہے بلکہ تشبیہ کی تکمیل ہے۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ جس طرح دونوں سمندر بعض فوائد میں مشترک ہونے کے باوجود ایک جیسے نہیں ہیں۔ پانی کا جو اصل مقصد ہے ‘ اس کے لحاظ سے دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اسی طرح مؤمن و کافر بعض خواص انسانی میں مشترک ہونے کے باوجود تخلیق انسانی کے اصل مقصد یعنی معرفت رب اور عبادت الٰہیہ میں برابر نہیں ہیں۔ اللہ نے تخلیق کے اصل مقصد کو بیان کرنے کیلئے فرمایا ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ الاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ۔ یا کافر پر تلخ نمکین پانی کو فضیلت دینے کیلئے مِنْ کُلٍّ تَاْکُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا فرمایا ہے کہ تلخ پانی ‘ شیریں پانی کے ساتھ بعض منافع میں شریک ہے لیکن کافر ایسا بھی نہیں ہے۔ وتستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور (نیز) زیور (یعنی موتی ‘ مونگے) تم نکالتے ہو جس کو پہنتے ہو۔ یعنی نمکین سمندر سے نکالتے ہو (شریک سمندر سے موتی ‘ مونگے نہیں نکلتے) بعض اہل علم نے کہا : شیریں سمندر سے بھی موتی نکلتے ہیں اور اس طرح نکلتے ہیں کہ شور سمندر میں شیریں پانی کے کچھ چشمے ہوتے ہیں ‘ ان چشموں کا پانی سمندر میں آمیختہ ہوجاتا ہے۔ وتری الفلک فیہ مواخر لتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون اور دریا میں (آتی جاتی) پانی چیرتی کشتیاں تم کو نظر آتی ہیں تاکہ (ان کے ذریعہ سے) تم خداداد روزی ڈھونڈو اور (ا اللہ کا) شکر کرو۔ فِیْہِ یعنی ہر سمندر میں شیریں میں بھی اور شور میں بھی۔ مَوَاخِرَ ‘ یہ ماخِرَۃٌ کی جمع ہے۔ اس کا مادہ مَخْرٌ ہے ‘ مخر کا معنی ہے پھاڑنا۔ مراد ہے پانی کو پھاڑنا ‘ یعنی آتے جاتے پانی کو پھاڑتی ہیں۔ مِنْ فَضْلِہٖ یعنی تجارت کے ذریعہ سے تم اللہ کی دی ہوئی روزی بحری سفر کر کے تلاش کرو۔ وَلَعَلَّکُمْ ۔ لَعَلَّامید کیلئے آتا ہے (اور اللہ کسی کے شکر کی امید نہیں رکھتا ‘ نہ اس کے کسی فعل کی غرض ذاتی منفعت ہوتی ہے اس لئے) مراد یہ ہے کہ ظاہر حال کا تقاضا ہے کہ تم سے شکر کی امید کی جائے ‘ یا لَعَلَّ مجازاً لام کے معنی میں ہے ‘ لام کا معنی ہے تاکہ
Ayah 35:13

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے۔ ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے۔ اور جن لوگوں کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی تو (کسی چیز کے) مالک نہیں

یولج الیل فی النھار ویولج النہار فی الیل . وہ (موسم گرما میں) رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور (موسم سرما میں) دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ یعنی دن کو بڑھاتا اور رات کو گھٹاتا ہے اور رات کو بڑھاتا ‘ دن کو گھٹاتا ہے۔ وسخر الشمس والقمر کل یجر لاجل مسمی . اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے ‘ ہر ایک مقررہ مدت تک چلتا رہے گا۔ یعنی آسمان میں چلتا رہے گا۔ لِاَجَلٍ مُسَمًّی اس سے مراد یا دورے کی مدت ہے یا دورے کی انتہا یا قیامت کا دن۔ قیامت ہونے پر ان کی رفتار ختم ہوجائے گی۔ ذلکم اللہ برکم لہ الملک . یہی (جس نے یہ تمام اشیاء بنائی ہیں) اللہ ہے جو تمہارا رب ہے ‘ اسی کا ملک ہے۔ یعنی اللہ ہی یہ تمام کام کر رہا ہے اس لئے وہی معبود ہے ‘ وہی رب ہے ‘ اسی کی حکومت ہے۔ والذین تدعون من دونہ ما یملکون من قطمیر . اور اللہ کے سوا جن (بتوں وغیرہ) کو تم پکارتے ہو (یعنی جن کی عبادت کرتے ہو) وہ ادنیٰ اختیار بھی نہیں رکھتے۔ قِطْمِیْرٍ کھجور کی گٹھلی کا چھلکا جو گٹھلی پر لپٹا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کے سوا کسی کو ادنیٰ اختیار بھی نہیں تو استحقاق معبودیت کیسے ہوسکتا ہے۔
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے۔ اور (خدائے) باخبر کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا

ان تدعوھم لا یسمعوا دعآئکم ولو سمعوا ما استجابوا لکم ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم اور اگر تم ان کو (مراد پوری کرنے کیلئے) پکارو گے تو وہ تمہاری پکار (دعاء) سنیں گے نہیں اور اگر سن لیں گے تو تمہارا کہنا قبول نہ کر پائیں گے اور قیامت کے دن وہ (خود) تمہارے شرک کرنے کی مخالفت کریں گے۔ یعنی اول تو بےجان ہونے کی وجہ سے وہ تمہاری پکار کو سن نہ سکیں گے اور اگر ان میں سے کچھ باشعور ہوئے ‘ جیسے ابلیس وغیرہ تو تمہاری دعاء کو قبول نہ کرسکیں گے کیونکہ اول تو ان کو نفع رسانی کی قدرت ہی نہیں ‘ دوسرے یہ کہ وہ تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں ‘ جیسے عیسیٰ اور عزیر اور ملائکہ۔ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ یعنی تم جو ان کو اللہ کی عبادت میں شریک کرتے ہو ‘ وہ قیامت کے دن اس کے منکر ہوجائیں گے اور کہیں گے : مَا کُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ تم ہماری پوجا نہیں کرتے تھے (بلکہ اپنے ہوا و ہوس اور باطل خیالات کی پوجا کرتے تھے) ۔ ولا ینبئک مثل خبیر . اور تم کو خبر رکھنے والے کے برابر کوئی نہیں بتائے گا۔ خَبِیْر (باخبر) عالم ‘ مراد اللہ۔ اللہ ہی کو ہر چیز کا صحیح ‘ پورا علم ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اے وہ شخص جو اسباب قریب پر فریفتہ ہے ! تجھے کوئی ایسی اطلاع نہیں دے گا جیسے اللہ دے رہا ہے جو حقائق اشیاء سے پورا باخبر ہے۔
Ayah 35:15

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

لوگو تم (سب) خدا کے محتاج ہو اور خدا بےپروا سزاوار (حمد وثنا) ہے

یایھا الناس انتم الفقرآء الی اللہ وا اللہ ھو الغنی الحمید . اے لوگو ! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ بےنیاز اور خوبیوں والا ہے۔ یعنی وجود ‘ توابع وجود ‘ بقاء وجود۔ دوزخ سے نجات اور جنت کے ثواب میں تم ہمیشہ اللہ کے محتاج ہو۔ یوں تو ساری خلائق اللہ کی محتاج ہے لیکن انسان نے باوجود کمزور اور ظالم و جاہل ہونے کے بار امانت اپنے کندھوں پر اٹھایا اس لئے دوسری مخلوق کے مقابلہ میں یہ زیادہ محتاج ہے ‘ اس کی احتیاج کی بہ نسبت باقی مخلوق کی احتیاج درخور اعتناء نہیں ہے۔ اَلْغَنِیُّ میں الف لام عہدی ہے ‘ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جس کی بےنیازی اور موجودات پر عمومی انعام معروف ہے۔ اَلْحَمیْدُ فی نفسہٖ وہ مخلوق کی حمد کا مستحق ہے۔
Ayah 35:16

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر چاہے تو تم کو نابود کردے اور نئی مخلوقات لا آباد کرے

ان یشا یذھبکم ویات بخلق جدید۔ اگر وہ چاہے تو (سب) کو فنا کردے اور ایک نئی مخلوق پیدا کر دے
Ayah 35:17

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ خدا کو کچھ مشکل نہیں

وما ذلک علی اللہ بعزیز . اور یہ بات اللہ کیلئے کچھ مشکل نہیں ہے۔ بِخَلْقٍ جَدِیْد یعنی ایک اور مخلوق جو تمہاری جگہ آباد ہو اور تم سے زیادہ اطاعت گذار ہو ‘ ایک نیا عالم جس سے تم ناواقف ہو۔
Ayah 35:18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو کوئی اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قرابت دار ہی ہو۔ (اے پیغمبر) تم انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہو جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے اور نماز بالالتزام پڑھتے ہیں۔ اور جو شخص پاک ہوتا ہے اپنے ہی لئے پاک ہوتا ہے۔ اور (سب کو) خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

ولا تزروازرۃ وزراخری . اور کوئی دوسرے کا (گناہ کا) بوجھ (اپنے اوپر) نہیں اٹھائے گا۔ یعنی کوئی گناہ گار آدمی دوسرے شخص کے گناہ کا بوجھ برداشت نہیں کرے گا۔ ایک شبہ : ایک آیت ہے : وَلَیَحْمَلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالاً مَّعَ اَثْقَالِھِمْ اور وہ اپنے بار گناہ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ اس سے ثابت ہوا کہ لوگ اپنا بار گناہ اٹھائیں گے اور دوسروں کے گناہ بھی ان پر لادے جائیں گے۔ ازالۂ شبہ : یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو خود بھی گناہ گار ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے بھی ہیں۔ ان لوگوں پر اپنے گمراہ ہونے کا بار بھی پڑے گا اور دوسروں کے گمراہ کرنے کا بھی ‘ گمراہ کرنے کا بار گناہ بھی انہی کو ہوگا۔ (یہ مطلب نہیں کہ گمراہ کرنے والے ان لوگوں کا بار گناہ اپنے اوپر اٹھا لیں گے جو ان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوئے اور ان کو گناہ کے بوجھ سے آزاد کردیں گے) ۔ مسلم نے حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن کچھ مسلمان پہاڑوں کے برابر گناہ لے کر آئیں گے ‘ اللہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا اور ان کے گناہ یہود و نصاریٰ پر ڈال دے گا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ ہر مسلمان کے سامنے ایک یہودی یا عیسائی کو لائے گا اور فرمائے گا : یہ دوزخ کیلئے تیرا بدلہ ہے (یعنی تیری جگہ دوزخ میں اس کو بھیجا جا رہا ہے) ۔ طبرانی اور حاکم نے اول الذکر حدیث بیان کی ہے اور ابن ماجہ و طبرانی نے مؤخر الذکر حدیث نقل کی ہے۔ ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قیامت کا دن ہوگا تو ہر مسلم کے سامنے ایک مشرک کو لایاجائے گا اور اس سے کہا جائے گا : یہ دوزخ سے (بچاؤ کیلئے) تیرا معاوضہ ہے۔ میرے نزدیک ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدی کے کافروں نے بعض گناہوں کی بنیاد ڈالی ‘ خود بھی ان گناہوں کا ارتکاب کیا اور گناہ کرنے کا ایک طریقہ بھی ایجاد کردیا۔ آئندہ اقوام و افراد نے ان کی پیروی کی اور ان کے نقش قدم پر چل نکلے۔ مسلمان بھی ان میں سے بعض گناہوں میں آلودہ ہوگئے ‘ لیکن اللہ ان کی مغفرت فرما دے گا۔ مسلمانوں پر یہ اللہ کی مہربانی ہوگی ‘ لیکن گناہ کی بنیاد ڈالنے اور طریقہ ایجاد کرنے والوں کو دوہرا عذاب ہوگا ‘ خود گناہ کرنے کا اور گناہ کا طریقہ ایجاد کرنے کا۔ وان تدع مثقلۃ الی حملھا لایحمل منہ شیء ولو کان ذا قربی اور اگر کوئی بوجھ سے لدا ہوا شخص (یعنی گناہ گار) کسی کو اپنا بوجھ اٹھا لینے کیلئے بلائے گا تو (اس کا) کچھ بھی بوجھ نہیں اٹھایا جائے گا ‘ خواہ وہ قرابتدار ہی ہو۔ مُثْقَلَۃٌ یعنی اس شخص پر گناہوں کا بوجھ لادھ دیا گیا ہو ‘ مراد یہ ہے کہ اگر کوئی گناہ گار کسی کو اپنا بار گناہ اٹھا لینے کیلئے بلائے گا۔ لاَ یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْءٌ یعنی گناہ گار کے بار گناہ کا کوئی حصہ بھی کوئی دوسرا آدمی اپنے اوپر نہیں اٹھائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ نہ کسی دوسرے کا بوجھ اس پر ڈالا جائے گا ‘ نہ اس کا بوجھ۔ وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی خواہ جس کو بوجھ اٹھانے کیلئے بلایا گیا ہو ‘ وہ بلانے والے کا قرابتدار ہی ہو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ماں باپ بیٹے کو پکاریں گے اور کہیں گے : بیٹے ! ہمارا کچھ بار تو اٹھا لے۔ بیٹا جواب دے گا : مجھ میں برداشت کی طاقت نہیں ‘ میرے عمل کا (بار) ہی کافی ہے۔ انما تنذر الذین یخشون ربھم بالغیب . آپ تو صرف ایسے لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ اخفش نے کہا : مطلب یہ ہے کہ آپ ڈرانے سے انہی لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں (مراد یہ ہے کہ تخویف اگرچہ عام ہے ‘ ہر شخص کو آپ عذاب سے ڈراتے ہیں ‘ لیکن اس تخویف کا فائدہ صرف اہل خشیت کو پہنچتا ہے اس لئے حقیقت میں آپ رب سے خشیت رکھنے والوں کو ہی ڈراتے ہیں) ۔ بالغیب یعنی رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں ایسی حالت میں کہ عذاب ان کے سامنے نہیں ہے ‘ یا تنہائی کی حالت میں ڈرتے ہیں جب سب لوگوں سے وہ غائب ہوتے ہیں۔ واقامو الصلوۃ . اور نماز کی پابندی کرتے ہیں۔ یعنی جو لوگ اللہ کے خوف سے تمام گناہوں سے پرہیز رکھتے اور فرائض کو ادا کرتے ہیں ‘ انہی کو آپ کے خوف دلانے کا فائدہ پہنچے گا۔ ومن تزکی فانما یتزکی لنفسہ والی اللہ المصیر . اور جو شخص پاک ہوتا ہے ‘ وہ اپنے لئے پاک ہوتا ہے اور اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ پاک ہونے سے مراد ہے گناہوں سے پاک ہونا۔
Ayah 35:19

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں

وما یستوی الاعمی والبصیر۔ اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں
Ayah 35:20

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ اندھیرا اور روشنی

ولا الظمت ولا النور۔ اور نہ تاریکیاں اور روشنی
Ayah 35:21

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ اور دھوپ

ولا الظل ولا الحرور۔ اور نہ چھاؤں اور دھوپ ‘
Ayah 35:22

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں۔ خدا جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے۔ اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے

ومایستوی الاحیاء ولا الاموات . اور زندہ اور مردے برابر نہیں ہوسکتے۔ اَ لْاَعْمٰی راہ راست سے نابینا ‘ یعنی کافر یا جاہل۔ اَلْبَصِیْرُ دیکھنے والا ‘ یعنی مؤمن یا جاننے والا۔ الظُّلُمٰتُ تاریکیاں ‘ یعنی کفر۔ النُّوْرُ روشنی ‘ یعنی ایمان۔ الظِلُّ چھاؤں ‘ یعنی جنت اور ثواب۔ اَلْحَرُوْرُ یعنی دوزخ اور عذاب۔ وَمَا یَسْتَوِی الْاَحْیَاءُ وَلاَ الْاَمْوَاتُ یہ اہل ایمان و کفر کی دوسری تشبیہ ہے جو اول تشبیہ سے زیادہ بلیغ ہے اس لئے فعل کو مکرر ذکر کیا۔ بعض کے نزدیک یہ اہل علم و جہل کی تمثیل ہے (اور اول الذکر تشبیہ اہل ایمان و کفر کی ہے) ۔ ان اللہ لسیمع من یشاء . اللہ بلاشبہ جس کو (راہ راست پر چلانا) چاہتا ہے ‘ اس کو سناتا ہے۔ یعنی آیات کو سمجھنے اور نصیحت اندوز ہونے کی توفیق دیتا ہے۔ وما انت بمسمع من فی القبور۔ ان انت الا نذیر . اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنانے والے (ہیں) جو قبروں میں مدفون ہیں ‘ آپ تو محض ڈرانے والے ہیں۔ کفر پر جمے رہنے والوں کو مردوں سے تشبیہ دی اور مردے بھی وہ جو قبروں کے اندر ہوں۔ اس ترشیح تمثیل سے کافروں کے ایمان لانے کی امید کو پرزور طور پر منقطع کردیا۔
Ayah 35:23

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تم تو صرف ڈرانے والے ہو

اِنْ اَنْتَ الاَّ نَذِیْرٌ کا یہ مطلب ہے کہ آپ کا کام صرف دوزخ کا خوف دلانا ہے ‘ ہدایت یاب کرنے پر آپ کو قدرت نہیں ہے۔
Ayah 35:24

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بھیجا ہے۔ اور کوئی اُمت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے

انا ارسلنک بالحق بشیرًا ونذیرًا وان من امۃ الا خلافیھا نذیر . ہم نے ہی آپ کو (دین) حق دے کر خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں گذری کہ اس میں کوئی ڈر سنانے والا نہ گذرا ہو۔ بَشِیْرًا مؤمنوں کو سچے وعدہ کے ساتھ خوشخبری دینے والا۔ نَذِیْرًا کافروں کو سچی وعید کے ساتھ ڈرانے والا۔ مِّنْ اُمَّۃٍ گذشتہ امتوں میں سے کوئی امت ایسی نہیں ہوئی۔ اِلاَّ خَلاَفَیْھَا نَذِیْرٌ نذیر سے مراد ہے نبی یا نبی کے قائم مقام کوئی عالم ‘ چونکہ پہلے جملہ میں نذیر کے ساتھ بشیر کا ذکر آچکا تھا ‘ اسلئے اس جگہ مکرر بشیر کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ صرف نذیر کا ذکر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تاثیر کے اعتبار سے تخویف کا درجہ بشارت دینے سے زائد ہے۔ نفع کا لالچ ‘ دفع ضرر سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔
Ayah 35:25

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے لے کر آتے رہے

وان یکذبوک . اور (اے محمد ﷺ آپ کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں (تو آپ اس کا رنج نہ کریں اور ان کی طرف سے اذیت پر صبر کریں جس طرح آپ سے پہلے انبیاء نے صبر کیا) ۔ فقد کذب الذین من قبلھم جاء تھم رسلھم بالبینٰت وبالزبر وبالکتب المنیر . کیونکہ ان سے پہلے لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی جب ان کے پیغمبر کھلے کھلے معجزات اور صحیفے اور روشن کتاب کے ساتھ ان کے پاس پہنچے تھے۔ البینات کھلے کھلے معجزات اور صحیفے اور روشن کتاب کے ساتھ۔ الکتاب المنیر روشن کتاب جیسے توریت اور انجیل ‘ یعنی ہر پیغمبر الگ الگ معجزہ اور کتاب کے ساتھ آیا۔
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا ہوا

ثم اخذت الذین کفروا فکیف کان نکیر پھر میں نے ان کافروں کو پکڑ دھرا ‘ سو (دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا۔
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا۔ تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے پیدا کئے۔ اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور (بعض) کالے سیاہ ہیں

الم تر ان اللہ انزل من السماء ما فاخرجنا بہ ثمرات مختلفًا الوانھا ومن الجبال جدد بیض وحمر مختلف الوانھا وغرابیب سود . کیا (اے مخاطب ! ) تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے اوپر سے پانی اتارا ‘ پھر اس کے ذریعہ سے ہم نے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کئے اور (اسی طرح) پہاڑوں کے بھی مختلف حصے ہیں (بعض) سفید اور (بعض) سرخ کہ ان کے رنگ بھی مختلف ہیں اور (بعض) بہت گہرے سیاہ ہیں۔ مُخْتَلِفًا اَلْوَانْھَا یعنی پھلوں کی جنسیں مختلف ہیں ‘ یا ان کی اصناف مختلف ہیں ‘ یا ان کی رنگتیں مختلف ہیں زرد ‘ سبز ‘ سرخ۔ جُدَدٌ یعنی دھاری دار۔ بِیْضٌ وَحُمُرٌ یعنی سفید ہیں ‘ سرخ ہیں (اور زرد ہیں) ۔ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانْھَا یعنی گہرے اور ہلکے ہونے کے لحاظ سے ان کی رنگتوں میں اختلاف ہے۔ وَغَرَابِیْبُ سُوْدٌ‘ غرابیب سے پہلے سودٌ موصوف محذوف ہے اور سودٌ مذکور اس کی تاکید ہے۔ غرابیب چونکہ تابع (صفت) ہے اور تابع بتسوع (موصوف) کے بعد آنا چاہئے اس لئے سُوْدٌ مذکور کی صفت غرابیب نہیں ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : یہ طرز ادا مزید تاکید کیلئے مفید ہے۔ جلال الدین محلی نے کہا : اسود غربیبٌ کثیر الاستعمال ہے اور غربیبٌ اسودٌ کا استعمال کم ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ قلیل استعمال اس وقت ہوتا ہے جب سیاہی کی مزید تاکید مقصود ہو۔
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

انسانوں اور جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں۔ خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔ بےشک خدا غالب (اور) بخشنے والا ہے

ومن الناس والدوآب والانعام مختلف الوانہ کذلک انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض کے رنگ مختلف ہیں اور اللہ سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو (ا اللہ کی عظمت کا) علم رکھتے ہیں۔ ا اللہ نے پہلے آسمان سے بارش ہونے کا ذکر فرمایا ‘ پھر اس سے مختلف اجناس و اصناف اور کثیر انواع و الوان کی مخلوق کی نشو و نما پانے کا اظہار کیا۔ یہ تمام اجناس و انواع خلق صانع کی ہستی ‘ قدرت ‘ معبودیت اور دوسری صفات پر دلالت کر رہی ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ کا خوف وہی علماء کرتے ہیں جو خلق اللہ کی حالت کا مطالعہ غور و فکر سے کرتے ہیں اور مصنوع سے صانع کی ذات ‘ صفات ‘ افعال اور انعامات پر استدلال کرتے ہیں۔ ان کے خلاف وہ جاہل (کفار مکہ وغیرہ) اور وہ جاہل بننے والے ہیں جن کو یا تو علم نہیں یا علوم کی ان کے دلوں تک خلوص کے ساتھ رسائی نہیں جیسے علماء یہود و نصاریٰ ۔ شیخ اجل شہاب الدین سہروردی نے لکھا ہے : اس آیت میں درپردہ بیان کیا گیا ہے کہ جس کے دل میں خشیت نہیں وہ عالم نہیں۔ میں کہتا ہوں : اللہ کی عظمت و جلالت اور صفات کمالیہ کو جاننا مستلزم خشیت ہے۔ خشیت ‘ علم کیلئے لازم ہے اور لازم کی نفی ملزوم کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مراد یہ ہے کہ مجھ سے وہی ڈرتا ہے جس کو میرے قہر ‘ غلبہ اور سطوت کا علم ہو۔ جو شخص جتنا زیادہ اللہ اور اس کی صفات کو جانتا ہے ‘ وہ اتنا ہی اللہ سے ڈرتا ہے۔ شیخین نے حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض کام کئے اور لوگوں کو اس کی اجازت دے دی ‘ لیکن بعض لوگوں نے ان کاموں سے پاک رہنا چاہا (یعنی جائز یا مناسب نہ سمجھا) حضور ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو ایک خطبہ دیا جس میں اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ اس کام سے پرہیز رکھتے ہیں جو میں کرتا ہوں ؟ اللہ کی قسم ! میں ان سے زیادہ اللہ کو جانتا ہوں اور ان سے بڑھھ کر اللہ سے ڈرتا ہوں۔ دارمی نے بروایت مکحول مرسل حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ آدمی پر۔ پھر حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہُ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلآٰؤُا۔ بخاری نے صحیح میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو روتے بہت ‘ ہنستے کم۔ اس بیان سے ثابت ہوا کہ کامل خشیت انبیاء کی ہوتی ہے ‘ اس کے بعد اولیاء کا درجہ ہے۔ حقیقت شناس یہی ہوتے ہیں ‘ اس کے بعد درجہ بدرجہ علماء کا نمبر ہے۔ مسروق کا قول ہے : خشیت اللہ ہونا ہی بڑا علم ہے اور فریب خوردہ ہونا بڑی جہالت۔ شعبی کا قول ہے : عالم وہی ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ ان اللہ عزیز غفور . بیشک اللہ بڑے غلبہ والا (اور) مغفرت والا ہے۔ یہ خشیت اللہ کے واجب ہونے کی علت ہے ‘ یعنی اللہ اپنی حکومت میں غالب ہے ‘ سرکشی پر جمے رہنے والوں کو سزا دینے والا ہے اور گناہ سے توبہ کرنے والے کو معاف کرنے والا ہے۔
Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی

ان الذین یتلون کتب اللہ واقامو الصلوۃ وانفقوا مما رزقنھم سرا وعلانیۃ یرجعون تجارۃ لن تبور۔ جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت (مع عمل کے) کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے ‘ اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں ‘ وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

کیونکہ خدا ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی دے گا۔ وہ تو بخشنے والا (اور) قدردان ہے

لیوفیھم اجورھم ویزیدھم من فضلہ تاکہ اللہ ان کی اجرتیں پوری پوری دے اور اپنی مہربانی سے زیادہ بھی دے۔ یَتْلُوْنَ کِتٰبِ اللّہِ یعنی کتاب اللہ کی تلاوت ہمیشہ کرتے رہتے ہیں اور اس کے مضمون پر عمل بھی کرتے ہیں۔ کتاب اللہ سے مراد صرف قرآن مجید ہے یا تمام کتب الٰہیہ۔ اس صورت میں تکذیب کرنے والوں کی حالت کے بیان کے بعد اس آیت میں تمام گذشتہ اور موجودہ امتوں میں سے تصدیق کرنے والے مؤمنوں اور قاریوں اور عالموں کی مدح ہوجائے گی۔ اَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ یعنی پوری رعایت حقوق کے ساتھ نماز کی پابندی رکھتے ہیں۔ سِرًّا وَّعَلاَنِیَۃً یعنی جس طرح موقع ملے پوشیدہ یا علانیہ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ بعض نے کہا : پوشیدہ خرچ کرنا عام خیرات میں اور علانیہ خرچ کرنا مفروضہ زکوٰۃ و صدقات میں (مراد) ہے۔ یَرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَبُوْرَ یعنی اطاعت کر کے حصول ثواب کے امیدوار ہوتے ہیں اور تجارت بھی ایسی جس میں کبھی خسارہ نہ ہو ‘ نہ تباہی آئے۔ لِیُوَفِّھُمْ یعنی مذکورہ افعال وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ ان کے اعمال کا پورا پورا ثواب ان کو عطا فرمائے گا اور اپنی مہربانی سے ثواب اعمال میں اضافہ (چند گنا) بھی کر دے گا۔ اس مطلب پر لیوفیھم کا تعلق محذوف فعل سے ہوگا یعنی فَعَلُوْا مَا فَعَلُوْا لِیُوَفِّیَھُمْ الخ یا لیوفیھم میں لام عاقبت کا ہے اور اس کا تعلق یرجون سے ہے (یعنی اس امید تجارت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا اور اپنی مہربانی سے ان کے ثواب میں اضافہ بھی کر دے گا) ۔ ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یوفیھم اجورھم (یعنی) ان کو جنت میں داخل فرما دے اور یَزِیْدُھُمْ من فضلہٖ (یعنی) جن کیلئے دوزخ واجب ہوگئی ہے ‘ ان کیلئے شفاعت (کا اختیار) عطا فرما دے۔ انہ غفور شکور بلاشبہ وہ بڑی مغفرت کرنے والا (اور) بڑا قدردان ہے۔ یعنی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور طاعتوں کی قدرافزائی کرنے والا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ بڑے گناہوں کو بخش دے گا اور تھورے عمل کی قدر دانی فرمائے گا۔ یعنی (بڑا) ثواب عنایت کر دے گا۔ عبدالغنی نے تخریج کی ہے کہ اس آیت کا نزول حصین بن حارث بن عبدالمطلب بن عبد عبدمناف کے متعلق ہوا تھا۔
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے۔ اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں۔ بےشک خدا اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے

والذی اوحینا الیک من الکتب ھو الحق مصدقا لما بین یدیہ . اور جو کتاب (یعنی قرآن) ہم نے وحی کے ذریعہ سے آپ کے پاس بھیجی ہے ‘ وہی حق ہے اور اپنے سے پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ یعنی عقائد ‘ اصول احکام اور اخبار میں ان کے موافق ہے۔ ان اللہ بعبادہ لخبیر بصیر . حقیقت یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے پورا باخبر (اور) دیکھنے والا ہے۔ یعنی اشیاء کی ظاہری حالت سے بھی واقف ہے اور اندرونی حقیقت سے بھی۔ اسی کو حق ہے کہ یہ کتاب آپ کے پاس بذریعۂ وحی بھیجے اور اس کو معجزہ بنا دے۔