35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 35:1–3

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار ہے) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں وہ (اپنی) مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

خدا جو اپنی رحمت (کا دروازہ) کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں اور جو بند کر دے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

لوگو ! خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رزاق) ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو ؟

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ خو دپاین ذات مقدس کی مدح و ثنا کرتا ہے کہ اس نے زمین و آسمان اور ان کے اندر موجود تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ یہ اس کے کمال قدرت، وسعت، اقتدار، بےپایاں رحمت، انوکھی حکمت اور احاطہ علم کی دلیل ہے۔ تخلیق کائنات کا ذکر کرنے کے بعد اس چیز کا تذکرہ کیا کہ بیشک وہی (جاعل الملئکۃ رسلا) ” فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے “ اس نے اپنے حکم قدری کی تدبیر اور اپنے حکم دینی کی تبلیغ کے لئے اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان واسطے کے لئے، فرشتوں کو پیغام رساں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیغام رساں بنانے کا ذکر فرمایا اور ان میں سے کسی کو مستثنی نہیں کیا، یہ ان کی اپنے رب کے لئے کامل اطاعت اور اس کے حکم کے سامنے ان کے سرتسلیم خم کرنے کی دلیل ہے جیسا کہ فرمایا : (لایعصون اللہ مآ امرھم ویفعلون مایومرون) (التحریم :6/66) ” وہ اللہ کی حکم عدولی نہیں کرتے اور روہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ “ چونکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے، کائنات کی تدبیر کرتے ہیں اور تدبیر کائنات کا معاملہ اللہ نے ان کے سپرد کر رکھا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی قوت اور ان کی سرعت رفتار کا ذکر کیا، نیز آگاہ فرمایا کہ اس نے ان فرشتوں کو صاولی اجنحۃ) ” پروں والے “ بنایا ہے، جن کے ذریعے سے یہ فرشتے پرواز کرتے ہیں تاکہ نہایت سرعت سے اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرسکیں۔ (مثنی وثلث وبع) اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ان فرشتوں کے دو دو، تین تین اور چار چار پر ہیں (یزید فی الخق ما یشآء) ” وہ مخلوق میں جو چاہے اضافہ کرتا ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تخلیق کی بعض صفات مثلاً قوت میں، حسن میں، اعضا میں، حسن آواز اور لذت ترنم میں ایک دوسرے پر فضیلت اور اضافہ بخشا ہے۔ (ان اللہ علی کل شی قدیر) ” بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے “ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنی قدرت کو نافذ کرتا ہے، اس کی قدرت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ مخلوقات میں ایک دوسرے پر تخلیق میں اضافہ بھی اس کی قدرت کے تحت ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے تدبیر کائنات، عطا کرنے اور محروم کرنے میں وہی اکیلا اختیار کا مالک ہے، چناچہ فرمایا : (مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا وما یمسک) ” اللہ تعالیٰ اپنی رحمت لوگوں کے لئے کھول دے تو کوئی اسے بند کرنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے۔ “ یعنی اگر وہ ان کو اپنی رحمت سے محروم کر دے (فلا مرسل لہ من بعدہ) ” تو اس کے بعد کوئی اسے کھولنے والا نہیں “ اس لئے یہ چیز اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور ہر لحاظ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنے کی موجب ہے، نیز یہ اس چیز کی بھی موجب ہے کہ صرف اسی کو پکارا جائے، صرف اسی سے ڈرا جائے اور صرف اسی سے امید رکھی جائے۔ (وھو العزیز) اور وہ تمام چیزوں پر غالب ہے (الحکمی) ” حکمت والا ہے۔ “ یعنی وہ ہر چیز کو اس کے مناسب حال منزل و مقام پر نازل کرتا ہے۔
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ اگر یہ لوگ تم کو جھٹلائیں تو تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے گئے ہیں اور (سب) کام خدا ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے

آیت 4 اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی نعمت کو یاد کریں جس سے ان کو نوازا گیا ہے۔ یہ یاد کرنا دل میں اللہ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو یاد رکھنے، زبان سے اس کی حمد و ثنا کرنے اور جوارح سے اس کی اطاعت کرنے کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرنا، اس کے شکر کی دعوت دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی نعمتوں کی طرف اشارہ فرمایا اوہ وہ پیدا کرنا اور رزق عطا کرنا ہیں۔ فرمایا : (ھل من خلاق غیر اللہ یرزقکم من السمآء والارض) ” کیا اللہ کے سوا کوئی اور خلاق ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق دے ؟ “ چونکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پیدا کرتا ہے نہ رزق عطا کرتا ہے اس لئے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ چیز اس کی الوہیت اور عبودیت پر دلیل ہے، بنا بریں فرمایا : (لا الہ الا ھو فانی توفکون) ” اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔ “ یعنی خالق و رازق کی عبادت کو چھوڑ کر، مخلوق کی عبادت کرتے ہو، جو خود رزق کی محتاج ہے۔ (وان یکذبوک) ”(اے رسول ! ) اور گار یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں “ تو آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء ومرسلین میں آپ کے لئے نمونہ ہے (فقد کذبت رسل من قبلک) ” یقیناً آپ سے پہلے بہت سے رسول جھٹلائے گئے۔ “ تو جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیرو کاروں کو بچا لیا۔ (والی اللہ ترجع الامور) ” تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ “
Ayahs 35:5–7

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

لوگو ! خدا کا وعدہ سچا ہے تو تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ (شیطان) فریب دینے والا تمہیں فریب دے

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو وہ اپنے (پیروؤں کے) گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوں

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے

آیت 5 (یا یھا الناس ان وعدا للہ) ” اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ “ یعنی مرن یکے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ (حق) ” حق ہے۔ “ اس میں شک و شبہ اور کوئی تردد نہیں، سا پر تمام دلائل نقلیہ اور براہین عقلیہ دلالت کرتے ہیں۔ جب اس کا وعدہ سچا ہے تو اس کے لئے تیاری کرو اپنے اچھے اوقات میں نیک اعمال کی طرف سبقت کرو اور کوئی راہزن تمہاری راہ کھوٹی نہ کرنے پائے۔ (فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا) ” لہٰذا دنیاوی زندگی تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے “ اپنی لذات و شہوات اور اپنے نفسانی مطالبات کے ذریعے سے تمہیں ان مقاصد سے غافل نہ کر دے جن کے لئے تمہیں تخلیق کیا گیا ہے۔ (ولایغرنکم باللہ الغرور) ” اور نہ فریب دینے والا تمہیں فریب دے۔ “ جو کہ (لشیطن) ” شیطان ہے “ وہ حقیقت میں تمہارا دشمن ہے (فاتخذوہ عدواً ) ” لہٰذا تم بھی اسے دشمن جانو ‘ یعنی تمہاری طرف سے اس کے لئے دشمنی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ جنگ میں کسی بھی وقت ڈھیلے نہ پڑو۔ وہ تمہیں دیکھتا ہے، تم اسے نہیں دیکھ سکتے، وہ ہمیشہ تمہاری گھات میں رہتا ہے۔ (انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحب السعیر) ” بلا شبہ وہ اپنے گموہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں ہوں۔ “ یہی اسکی غرض وغایت اور مطلوب و مقصود ہے کہ اس کی اتباع کرنے والوں کی سخت عذبا کے ذریعے سے رسوائی ہو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ لوگ شیطان کی اطاعت اور عدم اطاعت سے دو گروہوں میں منقسم ہیں، پھر ہر گروہ کی سزا و جزا کا تذکرہ کیا، فرمایا : (الذین کفروا) یعنی وہ لوگ جنہوں نے رسولوں کی دعوت اور ان چیزوں کا انکار کیا جن پر کتبہ الہیہ دلالت کرتی تھیں (لھم عذاب شدید) ان کے لئے جہنم کی آگ میں سخت عذاب ہے۔ یہ عذاب اپنی ذات وصفات کے اعتبار سے نہایت سخت عذاب ہوگا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ (والذین امنوا) اور جو اپنے دل سے ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کی اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے۔ (وعملوا) پھر انہوں نے اس ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کئے (الصلحت لھم مغفرۃ) ” نیک تو ان کے لئے (ان کے گناہوں کی) مغفرت ہے۔ “ اس مغفرت کی بنا پر ان سے ہر قسم کا شر اور برائی دور ہوجائے گی۔ (واجر کبیر) ” اور بڑا اجر ہے “ جس کے ذریعے سے انہیں اپنا مطلوب و مقصو حاصل ہوگا۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

بھلا جس شخص کو اس کے اعمال بد آراستہ کر کے دکھائے جائیں اور وہ ان کو عمدہ سمجھنے لگے تو (کیا وہ نیکو کار آدمی جیسا ہوسکتا ہے ؟ ) بیشک خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو ان لوگوں پر افسوس کر کے تمہارا دم نہ نکل جائے یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے واقف ہے

آیت 8 (افمن زین لہ) ” کیا پس جس شخص کو مزین کر کے دکھائے جائیں “ اس کے برے اعمال، شیطان نے اس کے برے عمل کو آرساتہ کر کے اس کی نگاہ میں خوبصورت بنادیا ہو (فراہ حسناً ) ” اور وہ ان کو اچھا سمجھنے لگا ہو۔ “ یعنی کیا یہ اس شخص کی مانند ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے راہ راست اور دین قویم کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ؟ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ پہلا شخص وہ ہے جو بد عمل ہے، جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہے اور دوسرا شخص وہ ہے جو نیک کام کرتا ہے، جو حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہدایت اور گمراہی صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ (آیت) ” بلا شبہ اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے، لہٰذا آپ اپنے آپ کو ان کے بارے میں ہلکان نہ کریں “ یعنی ان گمراہ لوگوں کے بارے میں جن کے برے اعمال ان کے لئے آرساتہ ہوگئے اور شیطان نے ان کو حق سے روک دیا۔ (حسرت) یعنی گمراہ لوگوں پر حسرت و غم سے آپ اپنے آپ کو ہلاک نہ کریں۔ ان کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے آپ کا فرض تو صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ (ان اللہ علیم بما یصنعون) ” یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں بیشک اللہ اس سے واقف ہے۔ ‘
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور خدا ہی تو ہے جو ہوائیں چلاتا ہے اور وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر ہم انکو ایک بےجان شہر کی طرف چلاتے ہیں پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیتے ہیں اسی طرح مردوں کو جی اٹھنا ہوگا

آیت 9 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال اقتدار اور وسعت سخاوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے (ارسل الریح فتثیر سحاباً فسقنہ الی بدلمیت) ” جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادل اٹھاتی ہیں پھر ہم اسے مردہ زمین کی طرف لے چلتے ہیں۔ “ پس اللہ تعالیٰ اس مردہ زمین پر بارش برساتا ہے (فاحیینا بہ الارض بعد موتھا) ” پھر ہم اس زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اسے زندہ کردیتے ہیں۔ “ تو مردہ زمین اور بندے زندگی حاصل کرتے ہیں، حیوانات کو رزق ملتا ہے، اس سرسبز زمین پر وہ چرتے پھرتے ہیں۔ (کذلک) ” اسی طرح “ جس نے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اسے زندگی بخشی وہ مردوں کے بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد انہیں ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر ان پر اپنی رحمت کے بادل بھیجے گا، جیسے وہ مردہ زمین پر اپنی رحمت کی بارش برساتا ہے۔ پس وہ بارش ان کے بوسیدہ اجسام پر بر سے گی، تمام اجسام اور ارواح اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے اور وہ عدل پر مبنی فیصلہ کرے گا۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو شخص عزت کا طلبگار ہے تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتے ہیں اور جو لوگ برے برے مکر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر نابود ہوجائے گا

آیت 10 یعنی اے وہ شخص جو عزت کا طلب گار ہے، عزت اس ہستی سے ماگن جس کے ہاتھ میں عزت ہے، بیشک عزت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، جو اس کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی، نیز فرمایا : (الیہ یصعد الکلم الطیب) ” اس کی طرف پاک کلمات بلند ہوتے ہیں “ مثلاً قرأت قرآن، تسبیح اور تہلیل وتحمید وغیرہ۔ ہر کلام جو اچھا اور پاک ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوتا ہے، اس کے حضور پیش کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ صاحب کلام کی ملا اعلیٰ میں مدح و ثنا کرتا ہے۔ (والعمل الصالح) ” اور نیک عمل “ یعنی اعمال قلوب اور اعمال جوارح (یرفعہ) ” اس کو بلند کرتا ہے۔ “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کلمات طیبہ کی مانند عمل صالح کو بھی اپنی طرف بلند کرتا ہے۔ بعض اہل علم کہت یہیں کہ اس سے مراد ہے ” کلمات طیبہ کو عمل صالح بلند کرتا ہے “ تب پاک کلمات، بندے کے نیک اعمال کے مطابق بلند ہوتے ہیں، نیک اعمال ہی بندے کے پاک کلمات کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلند کرتے ہیں۔ اگر بندے کے پاس کوئی عمل صالح نہ ہو تو اس کی کوئی بات اللہ تعالیٰ کی طرف بلند نہیں ہوتی۔ یہ بندے کے اعمال ہی میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ صاحب اعمال کو بلند درجات اور عزت عطا کرتا ہے۔ باقی رہی برئایاں، تو اس کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ برے اعمال کا ارتکاب کرنے والا اپنے اعمال کے ذریعے سے بلند ہونا چاہتا ہے، وہ سازشیں کرتا اور چالیں چلتا ہے، مگر اس کے تمام مکر و فریب اسی پر الٹ جاتے ہیں اسے رسوائی اور پستی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بنا بریں فرمایا : (والعمل الصالح یرفعہ، والذین یمکرون السیات لھم عذاب شدید) ” اور نیک عمل اسے بلند کرتے ہیں اور جو لوگ بری بری تدبیریں کرتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے “ اور اس عذاب میں اسے بےانتہا رسوا کیا جائے گا۔ (ومکر اولئک ھو یبور) یعنی ان کی فریب کاریوں کا تار و پود بوسیدہ ہو کر بکھر جائے گا اور ان کی فریب کاریاں اور سازشیں انہیں کوئی فائدہ نہ دیں گی کیونکہ یہ باطل کے لئے باطل پر مبنی چالیں ہیں۔
Ayahs 35:11–13

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تم کو جوڑا جوڑا بنادیا اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اسکے علم سے اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک یہ خدا کو آسان ہے

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور دونوں دریا مل کر یکساں نہیں ہوجاتے یہ تو میٹھا ہے پیاس بجھانے والا جس کا پانی خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے کڑوا اور سب سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے پہنتے ہو اور تم دریا میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ (پانی کو) پھاڑتی چلی آتی ہے تاکہ تم اسکے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے اور جن لوگوں کو تم اسکے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی تو (کسی چیز) کے مالک نہیں

آیت 11 اللہ تبارک و تعالیٰ آدمی کی تخلیق یعنی مٹی سے لے کر نطفے اور بعد کے مراحل میں اس کے منتقل ہونے کا تذکرہ فرماتا ہے۔ (ثم جعلکم ازواجاً ) ” پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنادیا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتا رہا حتی کہ تم مرد اور عورت نکاح کے مرحلے میں داخل ہوگئے۔ یہاں نکاح اور ازدواج سے مراد اولاد اور ذریت ہے۔ نکاح اگرچہ حصول اولاد کا سبب ہے، تاہم یہ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر اور اس کے علم سے مقرون ہے۔ (وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ) ” اور جو بھی مادہ حاملہ ہوتی ہے یا بچہ جنتی ہے تو اللہ کو اس کا علم ہوتا ہے۔ “ اسی طرح آدمی کی تخلیق کے مختلف ادوار اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کے قضا وق در سے مقرون ہیں۔ (ومما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ) ” اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے نہ کسی کی عمر کم کی جاتی ہے۔ “ یعنی جس شخص کو طویل عمر عطا کی گئی ہو تو اس کی عمر میں کمی نہیں کی جاتی (الا) ” مگر “ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے یا کسی ایسے انسان کی عمر میں جو کمی کی گئی ہو جو اس کی طوالت کے در پے رہتا اگر وہ کوتاہ عمری کے اسباب کو اختیار نہ کرتا، مثلاً زنا، والدین کی نافرمانی اور قطع رحمی وغیرہ، جن کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ عمر کے کم ہونے کے اسباب ہیں اور معنی یہ ہے کہ عمر کا طویل یا کم ہونا، کسی سبب کی بنا پر ہو یا کسی سبب کے بغیر سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے (فی کتب) ” ایک کتاب میں “ درج کر رکھا ہے۔ بندے کے تمام ایام حیات اور اس کے تمام اوقات میں اس کے ساتھ جو کچھ گزرتا ہے، سب اس کتاب میں درج ہے۔ (ان ذلک علی اللہ یسیر) ” بلا شبہ یہ اللہ کے لئے نہایت آسان ہے۔ “ یعنی ان بیشمار معلومات اور اس بارے میں کتاب کا احاطہ بہت آسان ہے۔ یہ تین دلائل جو موت کے بعد والی زندگی پر دلالت کرتے ہیں، سب عقلی دلائل ہیں، جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اشارہ کیا ہے۔ (1) زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کو زندہ کرنا۔ (2) وہ ہستی جس نے زمین کو حیات نو بخشی، وہ مردوں کو بھی زندہ کرے گی۔ (3) انسان کا ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہونا۔ وہ اللہ جو اسے وجود میں لایا، جس نے ایک مرحلے سے دو سے مرحلے میں اور ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل کیا یہاں تک کہ اس مقام پر پہنچ گیا جو اس کے لئے مقدر تھا، اس اللہ کے لئے اس کی زندگی کا اعادہ کرنا اور دوسری تخلیق عطا کرنا آسان تر ہے۔ اس کے علم نے تمام عالم علوی اور عالم سفلی کا، ہر چھوٹی یا بڑی چیز کا جو دلوں میں چھپی ہوئی ہے، ان بچوں کا جو ماؤں کے پیٹ میں ہیں اور عمروں کے زیادہ ہونے یا کم ہونے کا احاطہ کر کھا ہے اور یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ پس وہ اللہ جس کے لئے یہ سب کچھ اتنا آسان ہے اس کے لئے مردوں کو دوبارہ زندگی بخشا آسان سے آسان تر ہے۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کی بھلائیاں ان گنت ہیں۔ اس نے اپنے بندوں کے لئے ان تمام امور کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں ان کی معاش و معاد کی بھلائی ہے۔
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کردیں گے اور (خدائے باخبر) کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا

آیت 14 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بےپایاں رحمت کا بیان ہے کہ اس نے عالم ارضی کے لئے پانی کے مختلف ذخیرے تخلیقف فرمائے اور ان کو ایک سا نہیں بنایا کیونکہ مصلحت تقاضا کرتی ہے کہ دریاؤں کا پانی میٹھا، پیاس بجھانے والا اور پینے میں خوشگوار ہو، تاکہ اسے پینے والے، باغوں اور کھیتوں کو سیراب کرنے والے اپنے کام میں لائیں اور سمندروں کا پانی نمکین اور سخت کھاری ہو، تاکہ ان سمندروں کے اندر مرنے والے حیوانات کی بدبو سے ہوا خراب نہ ہو کیونکہ سمندر کا پانی چلتا نہیں بلکہ ساکن ہوتا ہے تاکہ اس کا کھاری پن اسے تغیر سے بچائے رکھے اور اس کے حیوانات خوبصورت اور زیادہ لذیذ ہوں، بنا بریں فرمایا : (ومن کل) یعنی کھاری پانی اور میٹھے پانی کے ذخیرے میں سے (تاکلون لحما طریاً ) ” تم تازہ گوشت کھاتے ہو۔ “ اس سے مراد مچھلی ہے، جس کا شکار سمندر میں بہت آسان ہے۔ (وتسخرجون حلیۃ تلبسونھا) ” اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو۔ “ یعنی موتی اور مونگے وغیرہ، جو سمندر میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بندوں کے لئے عظیم مصالح ہیں۔ سمندر کے فوائد اور مصالح میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کشتیوں کے لئے مسخر کیا۔ تم انہیں دیکھتے ہو کہ وہ سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے ایک ملک سے دوسرے ملک تک اور ایک جگہ سے دوسری جگہ تک چلتی ہیں، مسافر ان کشتیوں اور جہازوں پر بھاری بوجھ اور اپنا سامان تجارت لادتے ہیں۔ تو اس طرح انہیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، اس لئے فرمایا : (لتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون) ” اور تاکہ تم اس کا فضل (معاش) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔ “ ان جملہ نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے جب ان میں سے کوئی ایک آتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے کبھی ایک میں کمی واقع ہوجاتی ہے تو دوسرے میں اضافہ اور کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں۔ اس سے بندوں کے اجسام، ان کے حیوانات، ان کے باغات اور ان کی کھیتیوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں۔ اسی طرح سورج اور چاند کی تسخیر میں رشونی اور نور، حرکت اور سکون کے مصالح حاصل ہوتے ہیں، سورج کی روشنی میں بندے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے کے لئے پھیل جاتے ہیں۔ سورج کی روشنی میں پھل پکتے ہیں اور دیگر ضروری فوائد حاصل ہوتے ہیں جن کے فقدان سے لوگوں کو ضرر پہنچتا ہے۔ (کل یجری لاجل مستی) ” اور ہر ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے۔ “ یعنی چاند اور سورج دونوں اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں اور اس وقت تک چلتے رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی۔ جب وقت مقررہ آجائے گا اور دنیا کی مدت پوری ہونے کا وقت قریب آپہنچے گا تو ان کی طاقت سلب کرلی جائے گی، چاند بےنور ہوجائے گا، سورج کو روشنی سے محروم کردیا جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ان عظیم مخلوقات میں جو عبرتیں اللہ تعالیٰ کے کمال اور احسان پر دلالت کرتی ہیں، ان کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : (ذلکم اللہ ربکم لہ الملک) ” یہ ہے اللہ، تمہارا رب، اسی کے لئے بادشاہی ہے۔ “ یعنی وہ ہستی جو ان بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق اور تسخیر میں متفرد ہے وہی رب، الہ اور مستحق عبادت ہے، جو تمام اقدار کا مالک ہے۔ (والذین تدعون من دونہ) ” اور اس کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو۔ “ یعنی تم جن بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو پوجتے ہو (مایملکون من قطمیر) وہ قلیل یا کثیر کسی چیز کے مالک نہیں حتی کہ وہ اس معمولی چھلکے کے بھی مالک نہیں جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے جو حیر ترین چیز ہے۔ یہ ان کی (الوہیت کی) نفی اور اس کے عموم کی تصریح ہے۔ ان خود ساختہ معبودوں کو کیسے پکارا جاسکتا ہے حالانکہ وہ زمین و آسمان کی بادشاہی میں کسی چیز کے بھی مالک نہیں ؟ اس کے ساتھ ساتھ (ان تدعوھم ) ” اگر تم ان کو پکارو “ تو وہ تمہاری پکار نہیں سنتے کیونکہ وہ پتھر ہیں یا مرے ہوئے انسان یا فرشتے جو ہر وقت اپنے رب کی اطاعت میں مشغول رہتے ہیں۔ (ولو سمعوا) بفرض محال اگر وہ سن بھی لیں۔ (ما استجابوا لکم) ” تو تمہاری بات قبول نہیں کریں گے۔ “ کیونکہ وہ کسی چیز کا اختیار رکھتے ہیں نہ ان میں سے اکثر ان لوگوں کی عبادت پر راضی ہی ہیں جو ان کی عبادت کرتے ہیں بنا بریں فرمایا : (ویوم القیمۃ یکفرون بشرلکم) ” اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کریں گے “ یعنی ان کے خود ساختہ معبود ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے : (قالوا سبحنک انت ولینا من دونھم) (سبا :31/33) ” تو پاک ہے، تو ہی ہمارا دوست ہے نہ کہ یہ۔ “ (ولا ینبئک مثل خبیر) یعنی آپ کو آگاہ کرنے والی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو اللہ، علیم وخبیر سے زیاہ سچی ہو۔ پس آپ کو قطعی طور پر یقین ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے ایک عینی مشاہدہ ہے، اس لئے آپ کو اس بارے میں قطعی کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ آیات کریمہ روشن اور واضح دلائل پر مشتمل ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی ہستی ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں۔ اس کے سواہر ہستی کی عبادت باطل اور باطل سے متعلق ہے اور وہ اپنی عبادت کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
Ayahs 35:15–23

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

لوگو تم (سب) خدا کے محتاج ہو اور خدا بےپروا سزاوار (حمد و ثنا) ہے

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر چاہے تو تم کو نابود کر دے اور نئی مخلوقات لا آباد کرے

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ خدا کو کچھ مشکل نہیں

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا اپنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو کوئی اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قرابت دار ہی ہو (اے پیغمبر ﷺ تم انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہو جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے اور نماز بالالتزام پڑھتے ہیں اور جو شخص پاک ہوتا ہے اپنے ہی لئے پاک ہوتا ہے اور (سب کو) خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ اندھیرا اور روشنی

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ اور دھوپ

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں خدا جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو

آیت 15 اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انہیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں : (1) وہ وجود میں آنے کے لئے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو جود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آسکتے۔ (2) وہ اپنے مختلف قویٰ اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قوی عطا نہ کرے تو کسی کام کے لئے ان میں کوئی استعداد نہیں۔ (3) وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری و باطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں۔ اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کرسکتے۔ (4) وہ اپنے مصائب و تکالیف، کرب و غم اور شدائد کو دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی مصیبتوں اور کرب و غم کو دور اور انکی عسرت کا ازالہ نہ کرے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ مصائب و شدائد میں گھرے رہیں۔ (5) وہ اپنی مختلف انواع کی تربیت و تدبیر میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ (6) وہ اسے الہ بنانے، اس سے محبت کرنے، اس کو معبود بنانے اور خلاص اسی کی عبادت کرنے میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو ان امور کی توفیق عطا نہ کرے تو یہ ہلاک ہوجائیں، ان کی ارواح، قلوب اور احوال فاسد ہوجائیں۔ (7) وہ ان چیزوں کے علم کے حصول میں جنہیں وہ نہیں جانتے اور ان کی اصلاح کرنے والے عمل کے حصول میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو علم عطا نہ کرے تو وہ کبھی بھی علم سے بہرہ ور نہ ہوسکیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو عمل کی توفیق سے نہ نوازے تو وہ کبھی نیکی نہ کرسکیں۔۔۔ وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے بالذات اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں خواہ انہیں اپنی کسی حاجت کا شعور ہو یا نہ ہو۔ مگر لوگوں میں سے توفیق سے بہرہ ور وہی ہے جو دینی اور دنیاوی امور سے متعلق اپنے تمام احوال میں (اللہ تعالیٰ کے سامنے) اپنے فقر و احتیاج کا مشاہدہ کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور فروتنی کا اظہار کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہے کہ وہ اسے ایک لمحہ کے لئے بھی اس کے نفس کے حوالے نہ کرے، اس کے تمام امور میں اس کی مدد فرمائے اور وہ اس آیت کے معنی کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھتا ہے۔ ایسا شخص اپنے اس رب اور معبود کی کامل اعانت کا مستحق ہے جو ماں کے اپنے بچوں پر مہربانی ہونے سے کہیں بڑھ کر اس پر مہربان اور رحیم ہے۔ (واللہ ھو الغنی الحمید) یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل کی مالک ہے۔ وہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کی محتاج نہیں جن کی مخلوق محتاج اور ضرورت مند ہوتی ہے کیونکہ اس کی صفات تمام تر صفات کمال اور جلال ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غنائے تام ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو دنیا و آخرت میں غنا سے نوازا ہے۔ (الحمید) وہ اپنی ذات اور اپنے ناموں میں قابل حمد و ستائش ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے، اس کے تمام اوصاف عالی شان اور اس کے تمام افعال سراسر فضل و احسان، عدل و حکمت اور رحمت پر مبنی ہیں۔ وہ اپنے اوامرونواہی میں قابل تعریف ہے کیونکہ وہ اپنی صفات، فضل و اکرام اور جزا و سزا میں عدل و انصاف کی وجہ سے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے غنا میں قابل تعریف ہے اور وہ اپنی حمد و ثنا سے مستغنی اور بےنیاز ہے۔ (ان یشایذھبکم ویات بخلق جدید) اس سے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ اے لوگو ! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہاری جگہ دوسری لوگوں کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ یہ ان کے لئے ہلاکت کی وعید اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں۔ اس میں موت کے بعد زندگی کے اثبات کا احتمال بھی ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہر چیز پر نافذ ہے۔ اس کی مشیت اس چیز پر بھی قادر ہے کہ تمہارے مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ نئے سرے سے زندہ کے، مگر اس زندگی کے لئے ایک وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، اس وقت مقرر سے تقدیم ہوگی نہ تاخیر۔ (وما ذلک علی اللہ بعزیز) ” اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں۔ “ یعنی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں اور کوئی ہستی اسے عاجز نہیں کرسکتی۔ اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ آخری معنی پر دلالت کرتی ہے، یعنی (ولا تزر و ازرۃ وزراخری) قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (وان تدع مثقلہ) اگر کوئی نفس جس نے اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہوگا اور وہ کسی سے بوجھ اٹھانے کے لئے التماس کرے گا (لایحمل منہ شیء ولو کان ذا قربی) ” تو کوئی شخص بھی خواہ اس کا رشتہ وار ہی کیوں نہ ہو اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ کیونکہ آخرت کے احوال دنیا کے احوال کی مانند نہیں ہیں جہاں دوست، دوست کی مدد کرتا ہے، بلکہ قیامت کے روز تو بندہ تمنا کرے گا کہ اس کا کسی کے ذمے حق ہو، خواہ اس کے والدین اور اقارب کے ذمے ہی کیوں نہ ہو۔ (انما تنذر الذین یخشون ربھم بالغیب واقاموا الصلوۃ) ” آپ تو صرف انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہیں جو بن دیکھتے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں۔ “ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو انذار کو قبول کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو کھلے چھپے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں و نماز کو اس کی تمام حدودود شر ائط، ارکان و واجبات اور پورے خشوع کے ساتھ قائم کرتے ہیں کیونکہ خشیت الٰہی بندے سے اس عمل کا تقاضا کرتی ہے جس کے ضیاع پر سزا کا خوف ہو اور ایسے عمل سے دور رہنے کا تقاضا کرتی ہے جس کے ارتکاب پر عذاب کا خوف ہو۔ نماز بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور فواحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ (ومن تزلی فانما یتزلی لنفسہ) یعنی جس کسی نے اپنے نفس کو عیوب مثلاً ریا، تکبر، جھوٹ، دھوکہ، مکر و فریب، نفاق اور دیگر اخلقا رذیلہ سے پاک کیا اور اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ کیا مثلاً صدق، اخلاص، تواضح و انکسا، بندوں کی خیر خواہی اور دل کو بغض حسد، کینے اور دیگر اخلاق رذیلہ سے پاک رکھا، تو اس کے تزکیہ نفس کا فائدہ اسی کو حاصل ہوگا۔ اس کے عمل میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوگی۔ (والی اللہ المصیر) ” اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ “ پس وہ تمام خلائق کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور ان کے اعمال کا حساب لے گا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل شمار کئے بغیر نہیں چھوڑے گا۔
Ayahs 35:24–25

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کریں تو جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں ان کے پاس ان کے پیغمبر کی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے لے کر آتے رہے

آیت 24 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ حکمت الٰہی اور اس نے اپنے بندوں کو فطرت عطا کی ہے، ان کے لحاظ سے اضداد برابر نہیں ہوتیں، فرمایا : (وما یستوی الاعمی) ” اور نہیں ہے برابر اندھا “ جس کی بینائی نہیں۔ (آیت) ” اور دیکھنے والا، نہ انندھیرے اور روشنی، نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہیں) اور نہ زندے اور مردے یکساں ہوتے ہیں۔ “ جیسا کہ تمہارے نزدیک بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت اور کسی شک و شب ہے سے پاک ہے کہ مذکورہ بالا تمام چیزیں برابر نہیں ہیں، تب تمہیں یہ حقیقت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ معنوی طور پر متضاد اشیا میں عدم مساوات زیادہ اولیٰ ہے۔ پس مومن اور کافر برابر نہیں ہیں، نہ ہدایت یافتہ اور گمراہ برابر ہیں، نہ عالم اور جاہل برابر ہیں، نہ اہل جنت اور اہل جہنم برابر ہیں، نہ زندہ دل اور مردہ دل برابر ہیں۔ ان مذکورہ اشیا کے درمیان اتنا فرق اور اس قدر تفاوت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب تمام اشیا کے مراتب معلوم ہوگئے اور ان کے درمیان امتیاز واقع ہوگیا اور وہ اشیا اپنی اضداد میں سے واضح ہوگئیں جن کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہیے ، تو ایک دور اندیش اور عقل مند شخص کو اپنے لئے وہی چیز منتخب کرنی چاہیے جو بہتر اور ترجیح دیئے جانے کی مستحق ہے۔ (ان اللہ یسمع من یشآء) ” بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے۔ “ یعنی جسے چاہتا ہے فہم و قبول کی سماعت عطا کرتا ہے کیونکہ وہی راہ دکھانے والا اور توفیق عطا کرنے والا ہے۔ (وما انت بمسع من فی القبور) ” اور آپ ان کو جو قبروں میں پڑے ہیں نہیں سنا سکتے۔ “ یعنی جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں آپ ان کو نہیں سنا سکتے، جس طرح آپ کا قبر کے مردوں کو بلانا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، اسی طرح اعراض کرنے والے معاند کو بھی آپ کو بلانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ آپ کا کام صرف ڈرانا اور ان تک اس حکم کو پہنچا دینا ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے، خواہ وہ اس کو قبول کریں یا نہ کریں (ان انت الا نذیر انا ارسلنک بالحق) ” آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں، بیشک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ “ یعنی ہم نے آپ کو مجرد حق کے ساتھ بھیجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی بعثت منقطع تھی، راہ حق کے نشان گم ہوچکے تھے، علم مٹ چکا تھا اور خلائق آپ کی بعثت کی سخت ضرورت مند تھی۔ تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور یوں آپ کو دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ دین قیم اور صراط مستقیم کے ساتھ مبعوث فرمایا جو باطل نہیں، سراسر حق ہے، اسی طرح ہم نے آپ کو یہ قرآن عظیم دے کر بھیجا جو دانائی سے لبریز، یاد دہانی پر مشتمل، سراسر حق اور صداقت ہے۔ (بشیرا) آپ کو ان لوگوں کے لئے دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوش خبری سنانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی اطاعت کریں۔ (ونذیراً ) اور ان لوگوں کے لئے دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جو آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کوئی نئے رسول تو نہیں ہیں۔ نہیں ہے (من امۃ) ” کوئی بھی امت “ سابقہ امتوں اور گزشتہ ادوار میں سے (الا خلا فیھا نذیر) ” مگر اس میں ڈرانے والا آیا ہے “ تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو۔ (لیھلک من ھلک عن بینۃ ویحیی من حی عن بینۃ) (لانفال :32/8) ” تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے۔ “
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا ہوا ؟

آیت 26 اے رسول ! اگر یہ مشرکین آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو (فقد کذب الذین من قبلھم جآء تھم رسلھم بالبینت) ’ دپس جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے۔ “ ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ آئے ج وحق اور ان رسولوں کی خبر کی صداقت پر دلالت کرتے تھے (وبالزبر) یعنی لکھی ہوئی کتابوں کے ساتھ آئے جن میں بہت سے احکام جمع تھے (وبالکتب المنیر) ” اور روشن کتاب “ یعنی جو اپنی سچی خبروں اور عدل پر مبنی نہ تھا بلکہ اس کا سبب محض ان کا ظلم اور عناد تھا۔ (ثم اخذت الذین کفروا) ” پھر میں نے (مختلف انواع کے عذاب کے ذریعے) سے) ان کو پکڑا جنہوں نے کفر کیا تھا۔ “ (فکیف کان نکیر) ” پس میرا عذاب کیسا سخت تھا “ ان پر ؟ ان کے لئے نہایت سخت سزا تھی۔ اس لئے تم رسول کریم ﷺ کی تکذیب سے بچو ورنہ تم پر بھی وہی درد ناک اور رسوا کن عذاب نازل ہوجائے گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
Ayahs 35:27–29

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا ؟ تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے پیدا کئے اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور (بعض) کالے سیاہ ہیں

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

انسانوں اور جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں بیشک خدا غالب (اور) بخشنے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیداوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی

آیت 27 اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے کائنات میں متضاد اشیاء کو تخلیق کیا جن کی اصل اور مادہ ایک ہے، مگر اس کے باوجود ان میں فرق اور تفاوت ہے جو معروف اور سب پر عیاں ہے تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ پر استدلال کریں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے مختلف اقسام کے پھل پیدا کئے اور مختلف انواع کی نباتات اگائیں، دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کرتے ہیں حالانکہ ان کو سیراب کرنے والا پانی ایک اور ان کو اگانے والی زمین ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے لئے میخیں بنایا، آپ دیکھیں کہ پہاڑ گویا ایک دوسرے سے ملے ہوئے بلکہ وہ ایک ہی پہاڑ نظر آئیں گے، ان پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں، ان کے اندر سفید، زرد، سرخ اور گہرے سیاہ رنگ کی دھاریاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں، چوپایوں اور مویشیوں کو پیدا کیا ان کو مختلف رنگ، اوصاف، آوازیں او مختلف صورتیں عطا کیں جو آنکھوں کے سامنے عیاں ہیں اور دیکھنے والے انکا مشاہدہ کرسکتے ہیں ان تمام چیزوں کی اصل اور ان کا مادہ ایک ہے۔ ان کے درمیان تفاوت اللہ کی مشیت پر عقلی دلیل ہے، جس نے ہر ایک کو مخصوص رنگ اور وصف سے مختص کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلیل ہے کہ اس نے ان کو وجود بخشا، یہ اس کی حکمت اور رحمت ہے کہ ان کو اس اختلاف اور تفاوت سے نوازا۔ اس تفاوت میں بیشمار فوائد اور منافع پنہاں ہیں جو معلوم ہیں۔ اس تفاوت کے سبب سے راستوں کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے وسعت علم کی دلیل ہے، نیز اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا، مگر غافل شخص ان تمام اشیاء کو غفلت کی نظر سے دیکھتا ہے ان چیزوں کو دیکھ کر اسے نصیحت حاصل نہیں ہوتی ان چیزوں سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اپنے فکر راست کی بنا پر ان میں پنہاں اللہ تعالیٰ کی حکمت کو جانتے ہیں، بنا بریں فرمایا : (انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے تو اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ “ جو شخص سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ خشیت الٰہی اسے گناہوں سے باز رہنے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری کرنے کی موجب بنتی ہے۔ یہ آیت کریمہ علم کی فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ علم انسان کو خشیت الٰہی کی طرف دعوت دیتا ہے۔ خشیت الٰہی کے حامل لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے اہل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ ذلک لمن خشی ربہ) (البینۃ :8/98) ” اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے یہ اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈر گیا۔ “ (ان اللہ عزیز) ” بیشک اللہ تعالیٰ (کامل) غلبے کا مالک ہے “ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے متضاد انواع و اقسام کی مخلوقات کو پیدا کیا۔ (غفور) ” بخشنے والا ہے “ توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو۔
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

کیونکہ خدا ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی دے گا وہ تو بخشنے والا (اور) قدردان ہے

آیت 30 (ان الذین یتلون کتب اللہ) ” بیشک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں۔ “ یعنی اس کے اوامر میں اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے نواحی کو ترک کرتے ہیں، اس کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کر کے انہیں اپنا عقیدہ بناتے ہیں اور ان اقوال کو پسند نہیں کرتے جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کے معانی میں غو رو خوض اور ان کے فہم کے حصول کی خاطر اس کے الفاظ کی تلاوت کرتے ہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب الہ کی تلاوت کے عموم کو بیان کرنے کے بعد نماز کو مخصوص فرمایا، جو دین کا ستون، مسلمانوں کے لئے روشنی، ایمان کی میزان اور دعویٰ اسلام کی صداقت کی علامت ہے نیز اقارب، مساکین اور یتیموں پر زکوۃ، کفارات، نذر اور صدقات کے مال کو خرچ کرنے کو مخصوص فرما۔ (سرا و علانیۃ) ” کھلے چھپے “ تمام اوقات میں۔ (یرجون) اس کے ذریعے سے وہ امید کرتے ہیں (تجارۃ لن تبور) ایسی تجارت کی، جو کبھی کساد کا شکار ہوگی نہ فساد کا، بلکہ وہ سب سے بڑی، عالی شان اور افضل ترین تجارت ہے۔ آگاہ رہو کہ وہ تجارت ان کے رب کی رضا، اس کے بےپایاں ثواب کا حصول، اس کی ناراضی اور عذاب سے نجات ہے۔ اس آیت کریمہ میں ان اہل ایمان کے اعمال میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے نیز اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان اعمال میں ان کے مقاصد برے اور نیت فاسد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جس چیز کی امید کرتے تھے وہ ان کو حاصل ہوگئی۔ (لیوفیھم اجورھم) ” تاہ وہ دے ان کو ان کا پورا پورا اجر “ یعنی ان کے اعمال کی قلت و کثرت ان کے حسن و قبح کے اعتبار سے ان کا اجر (ویزیدھم من فضلہ) یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اجر سے بڑھ کر نوازے گا۔ (انہ غفور شکور) ” بیشک وہ بخشنے والا قدر دان ہے۔ “ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخش دے گا اور ان کی تھوڑی سی نیکی کو بھی قبولیت کا شرف بخشے گا۔
Ayahs 35:31–35

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں بیشک خدا اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے۔

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں یہی بڑا فضل ہے

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

(ان لوگوں کے لئے) بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کی پوشاک ریشمی ہوگی

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا بیشک ہمارا پروردگار بخشنے والا (اور) قدردان ہے

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ کے رہنے کے گھر اتارا یہاں نہ تو ہم کو رنج پہنچے گا اور نہ ہمیں تکان ہی ہوگی

آیت 31 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کتاب جو اسنے اپنے رسول ﷺ کی طرف وحی کی (ھو الحق) ” وہ حق ہے “ کیونکہ وہ جن امور پر مشتمل ہے وہ حق ہیں اور اس نے حق کے تمام اصولوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ گویا تمام حق صرف اسی کتاب کے اندر ہے، اس لئے تمہارے دلوں میں حق کے بارے میں کوئی تنگی نہ آئے اور تم حق سے تنگ آؤ نہ اسے ہیچ سمجھو۔ جب یہ کتاب حق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ تمام مسئال الہیہ اور امور غیبیہ جن پر یہ کتاب دلالت کرتی ہے واقع کے مطابق ہوں، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ اس سے کوئی ایسی مراد لی جائے جو اس کے ظاہر اور اس چیز کے خلاف ہو جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے۔ (مصدقا لما بین یدیہ) یعنی گزشتہ کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ ان کتابوں اور رسولوں نے اس کتاب کے بارے میں پیش گوئی کی تھی اس لئے جب یہ کتاب آگئی تو اس سے ان کی صداقت ظاہر ہوگئی اور چونکہ گزشتہ کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں پیشین گوئی کرتے ہوئے خوش خبری دی اور یہ اس پیشین گوئی کی تصدیق کرتی ہے، اس لئے کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ کتب سابقہ پر ایمان لائے اور قرآن کا انکار کرے کیونکہ اس کا قرآن کو نہ ماننا، ان کتابوں پر اس کے ایمان کی نفی کرتا ہے کیونکہ ان کی جمل خبروں میں سے ایک خبر قرآن کے بارے میں بھی ہے، نیز ان کی خبریں قرآن کی دی ہوئی خبروں کے مطابق ہیں۔ (ان اللہ بعبادہ لخبیر بصیر) ” بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبر دار اور دیکھنے والا ہے۔ “ اس لئے وہ ہر قوم اور ہر فرد کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کے احوال کے لائق ہے۔ سابقہ شریعتیں اپنے اپنے وقت اور اپنے اپنے زمانے کے لائق تھیں، اس لئے اللہ تعالیٰ رسول کے بعد رسول بھیجتا رہا یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر سلسلہ رسالتک و ختم کردیا۔ پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یہ شریعت لے کر تشریف لائے جو قیامت تک کے لئے مخلوق کے تمام مصالح کے مطابق ہے اور ہر وقت ہر بھلائی کی ضامن ہے۔ چونکہ یہ امت کامل ترین عقل، بہترین افکار، نرم ترین قلوب اور پاک ترین نفوس کی حامل ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے دین اسلام اور دین اسلام کو اس کے لئے چن لیا، اس لئے فرمایا : (ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا) ” پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے چن لیا۔ “ اور ان لوگوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ (فمنھم ظالم لنفسہ) ” پس کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں “ ایسے گناہوں کے ارتکاب سے جو کفر سے کم تر ہیں (ومنھم مقتصد) ” اور کچھ میانہ رو ہیں۔ “ یعنی وہ لوگ جو محرمات کو ترک کرتے ہوئے صرف واجبات پر اکتفا کرتے ہیں۔ (ومنھم سابق بالخیرت) کچھ نیکیوں میں سبقت اور جدوجہد کرنے والے ہیں اور یہ لوگ ہیں جو فرائض ادا کرتے ہیں، نہایت کثرت سے نوافل کا اہتمام کرتے ہیں اور محرمات و مکروہات کو ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کی وراثت کے لئے ان تمام لوگوں کو چن لیا ہے، اگرچہ ان کے مراتب میں تفاوت اور ان کے احوال میں فرق ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لئے اس وراثت میں حصہ ہے حتیٰ کہ اس کے لئے بھی اس وراثت میں حصہ ہے جس نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا کیونکہ اس کے پاس اصل ایمان، علوم ایمان اور اعمال میں سے جو کچھ ہے وہ کتاب کی وراثت ہے۔ کتاب کی وراثت سے مراد، اس کا علم، اس پر عمل، اس کے الفاظ کا پڑھنا اور اس کے معانی کا استنباط ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (باذن اللہ) نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے کی طرف راجع ہے تاکہ وہ اپنے عمل کے بارے میں کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہوجائے کیونکہ اس نے نیکیوں کی طرف سبقت صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد سے کی ہے، لہٰذا اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جس نعمت سے نوازا ہے وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ (ذلک ھو الفضل الکبیر) یعنی ان لوگوں کے لئے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے، اس جلیل القدر کتاب کی وراثت بہت بڑا فضل ہے جس کے سامنے تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔ مطلق طور پر سب سے زیادہ جلیل القدر نعمت اور سب سے بڑا افضل اس عظیم کتاب کی وراثت ہے۔ پھر اللہ تبارک تعالیٰ نے ان لوگوں کے اجر کا ذکر فرمایا جن کو اس نے وراثت عطا کی ہے چناچہ فرمایا : (جنت عدن یدخلونھا) ” وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔ “ یعنی وہ ایسے باغات ہوں گے جو درختوں، گہرے سایوں، خوبصورت پھلواریوں، اچھلتی ہوئی ندیوں، عالی شان محلات اور آراستہ کئے ہوئے گھروں پر مشتمل ہوں گے، جو ہمیشہ رہیں گے اور کبھی زائل نہیں ہوں گے۔ وہاں ایک ایسی خوبصورت زندگی ہوگی جو کبھی ختم نہ ہوگی (عدن) سے مراد ” اقامت “ (قیام کرنا) ہے تو جنات عدن) کا معنی باغات اقامت ہے۔ باغات کی اقامت کی طرف اضافت کی وجہ یہ ہے کہ دائمی اقامت اور ہمیشگی ان باغات اور ان کے رہنے والوں کا وصف ہے۔ (یحلون فیھا من اساور من ذھب) ” وہاں انہیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ “ یہ وہ زیور ہے جو ہاتھوں میں پہنا جاتا ہے۔ وہ جس طرح چاہیں گے انہیں پہنیں گے اور یہ زیور انہیں دیگر تمام زیوروں سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے گا۔ جنت میں زیور پہننے میں مرد اور عورتیں برابر ہوں گے۔ (و) ” اور “ وہ جنت میں پہنائے جائیں گے (لولوا) ” موتی “ جو ان کے لباس اور جسم پر آراستہ ہوں گے۔ (ولباسھم فیھا حریر) ” اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا “ یعنی بایرک اور موٹا سبز ریشم (و) ” اور “ جب ان پر نعمتوں کا اتمام اور لذتوں کی تکمیل ہوجائے گی تو (قالوالحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن) ” وہ کہیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہم سے غم دور کردیا۔ “ یہ ہر قسم کے حزن و غم کو شامل ہے، لہٰذا انہیں حسن و جمال اور جسم میں کسی نقص کی بنا پر کوئی حزن و غم پیش آئے گا نہ ماکولات و مشروبات اور لذات میں کمی کی وجہ سے اور نہ جنت میں عدم دوام ہی کی وجہ سے کوئی غم لاحق ہوگا۔ اہل جنت ایسی نعمتوں میں رہیں گے جن سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہ ہوگی اور بادالآباد تک ان نعمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ (ان ربنا لغفور) ” بیشک ہمارا رب بخشنے والا ہے۔ “ کیونکہ اس نے ہماری تمام لغزشوں کو بخش دیا ہے (شکور) ” قدر دان ہے “ کیونکہ اس نے ہماری نیکیوں کو قوبل فرما کر ہماری نیکیوں کی قدر کی، ان نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کیا اور ہمیں اپنے فضل سے ہمارے اعمال اور ہماری امیدوں سے بڑھ کر بہرہ ور کیا۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے ذریعے سے ہر مکروہ امر سے نجات پائی۔ اس کے فضل و کرم اور اس کی قدر دانی کی بنا پر جنت میں ہر مرغوب و محبوب چیز حاصل کی۔ (الذی احلنا) ” جس نے ہمیں اتارا “ یعنی اس نے ہمیں جنت میں عبوری اور عارضی طور پر نازل نہیں فرمایا بلکہ مستقل طور پر نازل فرمایا (دار المقامۃ) ” ہمیشگی کے گھر میں “ جاں دائمی قیام ہے، جہاں بیشمار بھلائیوں، کبھی نہ ختم ہونے والی مسرتوں اور کسی قسم کے تکدر کے عدم وجود کی وجہ سے قیام کی خواہش کی جاتی ہے اور اس کا ہمیں جنتوں میں نازل کرنا (من فضلہ) ہمارے اعمال کے سبب سے نہیں بلکہ اس کے فضل و کرم سے ہمیں جنت عطا ہوئی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ہم کبھی اس مقام پر نہ پہنچ سکتے۔ (لایمسنا فیھا نصب ولا یمسنا فیھا لغوب) ” یہاں ہم کوئی رنج پہنچے گا نہ تھکان “ یعنی بدن، قلب اور دیگر قوی میں کثرت تمتع کی وجہ سے کوئی تھکاوٹ نہ ہوگی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں اہل جنت کے بدن کو کامل زندگی عطا کرے گا اور انہیں دامئی طور پر راحت کے اسباب مہیا کرے گا۔ ان کے یہ اوصاف ہوں گے کہ ان کو کوئی کمزوری لاحق ہوگی نہ تھکن اور نہ کسی قسم کا حزن و غم۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں نیند نہیں آئے گی کیونکہ نیند تو صرف تھکن دور کرنے اور راحت حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے۔۔۔ اور اہل جنت کو تو تھکن لاحق نہیں ہوگی۔۔۔ اور نیند گویا ایک چھوٹی موت ہے اور اہل جنت کو کبھی موت نہیں آئے گی۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اہل جنت میں شامل کرے (آمین)
Ayahs 35:36–37

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے نہ انہیں موت آئے گی کہ مرجائیں اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا ہم ہر ایک ناشکرے کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

وہ اس میں چلائیں گے کہ اے پروردگار ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کریں گے نہ وہ جو (پہلے) کرتے تھے کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تو اب مزے چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

آیت 36 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل جنت اور ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کا حال بیان کرنے کے بعد اہل جہنم اور ان کو دیئے جانے والے عذاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (والذین کفروا) جنہوں نے آیات الٰہی کا جو رسول لے کر آئے تھے اور اپنے رب سے ملاقات کا انکار کیا۔ (لھم نار جھنم) ” ان کے لئے جہنم کی آگ ہے “ جہاں انہیں نہایت سخت عاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ (لایقضی علیھم) ” نہ تو ان کا قصہ پاک کیا جائے گا “ موت کے ساتھ (فیموتوا) ” کہ وہ مرجائیں “ اور آرام پالیں (ولا یخفف عنھم من عذابھا) ” اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے کم کیا جائے گا۔ “ پس ہر وقت اور ہر آن ان کے عذاب میں دائمی شدت رہے گی۔ (کذلک نجزی کل کفور، وھم یصطرخن فیھا) ” ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دییت ہیں اور وہ لوگ اس میں چلائیں گے “ یعنی وہ جہنم میں چیخ و پکار کریں گے مدد کو پکاریں گے اور کہیں گے : (ربنا اخرجنا نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل) ” ہمارے رب ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کیا کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو ہم کیا کرتے تھے۔ “ پس وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں انصاف کیا ہے۔ وہ واپس لوٹنے کی خواہش کریں گے مگر اب وقت گزر گیا۔ ان سے کہا جائے گا : (اولم نعمرکم ما) یعنی کیا ہم نے تمہیں ایک طویل عمر عطا نہیں کی تھی ؟ (یتذکر فیہ من تذکر) جو کوئی اس طویل عرصہ میں نصیحت پکڑنا چاہتا وہ نصیحت پکڑ سکتا تھا۔ ہم نے تمہیں دنیا میں اسباب دنیا سے بہرہ ور کیا، تمہیں رزق عطا کیا، تمہارے لئے اسباب راحت مہیا کئے، تمہیں لمبی عمر عطا کی، تمہارے سامنے پے در پے اپنی نشانیاں ظاہر کیں اور تمہارے پاس ڈرانے والے بھیجے اور تمہیں سختی اور نرمی کے ذریعے سے آزمایا گیا تاکہ تم ہماری طرف رجوع کرو اور ہماری طرف لوٹو۔ مگر تمہیں کسی نصیحت اور اندار نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ ہم نے تم سے عذاب کو مؤخر کردیا حتی کہ تمہیں دی گئی مہلت پوری ہوگئی تمہاری عمریں اپنے اتمام کو پہنچیں، تم بدترین احوال کے ساتھ، دارالعمل سے نکل کر دارلجزا میں منتقل ہوچکے ہو۔ اب تم دنیا میں واپس لوٹنے کی درخواست کر رہے ہو۔ یہ بہت بعید ہے۔ اب عمل کا وقت گزر چکا، اب تو رحیم و رحمان کی نارضای کا سامنا کرنا ہوگا، تم پر جہنم کی آگ بھڑکے گی اور اہل جنت نے تمہیں بھلا دیا۔ اب ہمیشہ کے لئے تم جہنم میں رہو اور ذلت اور رسوائی کے ساتھ عذاب بھگتو، اس لئے فرمایا : (فذو قوا فما للظلمین من نصیر) ” پس اب چکھو، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ “ جو ان کی مدد کرسکے اور ان کو اس عذاب سے نکال سکے یا اس عذاب میں تخفیف کرسکے۔
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک خدا ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے وہ تو دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے

آیت 38 اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم کی جزا اور سزا اور ان کے اعمال کا ذکر کرنے کے بعد اپنی وسعت علم سے آگاہ فرمایا، نیز وہ آسمانوں اور زمین کے غیب سے مطلع ہے۔ ان امور غیبیہ کا علم رکھتا ہے جو مخلوق کے علم اور اس کی نظروں سے اوجھل ہیں وہ تمام بھیدوں کو جانتا ہے۔ سینوں میں جو اچھی یا بری باتیں چھپی ہوئی ہیں سب اس کے علم میں ہیں۔ وہ ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا اور ہر ایک کے ساتھ اس کی قدر و منزلت کے مطابق سلوک کرے گا۔
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں (پہلوں کا) جانشین بنایا تو جس نے کفر کیا اسکے کفر کا ضرر اسی کو ہے اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی بڑھتی ہے اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی زیادہ کرتا ہے

آیت 39 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمتکاملہ اور بندوں پر اپنی رحمت سے آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی قضا وق در سے ان کو زمین کے اندر ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور ہر قوم میں ڈرانے والے مبعوث کئے تاکہ وہ دیکھے کہ ان کے اعمال کیسے ہیں۔ جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی دعوت کا انکار کیا تو اس کے کفر اور گناہ کی سزا اسی کو ملے گی کوئی دوسرا اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ کافر اپنے کفر سے اپنے رب کی ناراضی اور غضب میں اضافہ کرتا ہے۔ رب کریم کی ناراضی سے بڑھ کر اور کون سی سزا ہوسکتی ہے ؟ (ولا یزید الکفرین کفرھم الاخسارا) ” اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی میں زیادہ کرتا ہے۔ “ یعنی وہ اپنی ذات، اپنے گھر والوں، اپنے اعمال اور جنت میں اپنی منازل کے بارے میں گھاٹے میں رہیں گے۔ کفار ہمیشہ بدترین بدبختی، گھاٹے، اللہ تعالیٰ کے ہاں رسوائی اور اس کی مخلوق کے ہاں محرومیوں میں مبتلا رہیں گے۔