Ayah 35:1(1) ابوعبید نے اپنے فضائل میں عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ (آیت) ” فاطر السموت والارض “ سے کیا مراد ہے یہاں تک کہ میرے پاس دو دیہاتی آئے اور وہ ایک کنویں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے ان میں سے ایک نے کہا ” انا فطرتھا “ یعنی میں نے اس کنویں کو شروع کیا تھا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاطر السموت والارض “ سے مراد ہے (آیت) ” بدیع السموت والارض “ یعنی نمونہ کے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں بھی (آیت) ” فاطر السموت والارض “ ہے اس کا معنی ہے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” جاعل الملائکۃ رسلا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بندوں کی طرف پیغام دینے والا بنایا۔
5:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاطر السموت والارض “ سے مراد ہے کہ وہ پیدا کرنے والا ہے آسمان اور زمین کے (آیت) ” جاعل الملائکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع “ (جو فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین اور چارچار پر دار بازو ہیں) بعض نے کہا کہ دو پر، بعض نے کہا تین پر، اور بعض نے کہا فرشتہ کے چار پر ہوتے ہیں۔
فرشتوں کے پروں کا ذکر :
6: ابن المنذر نے قتادہ سے روایت کیا کہ ابن جریج سے (آیت) ” اولی اجنحۃ مثنی “ کے بارے میں روایت کیا کہ فرشتوں کے دو تین سے لے کر بارہ تک پر ہوتے ہیں اور اس میں طاق (عدد) بھی ہیں تین اور پانچ اور جو فرشتے ترازو پر مقرر ہیں۔ دو قسم کے ہیں، اور ترازو والے فرشتے کے دس دس پر ہوتے ہیں اور فرشتوں کے پر دو تین ہوتے ہیں اور جبرائیل (علیہ السلام) کے چھ پر ہیں ایک پر مشرق ہیں اور ایک مغرب میں ہے اور دو پر ان کی آنکھوں ہیں اور دو پر اور ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے ساتھ شلوار بنا لیتے ہیں۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا کہ (آیت) ” یزید فی الخلق ما یشآء “ (اور جو کچھ چاہتا ہے پیدائش میں زیادہ کردیتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ ان کے پیروں میں اور ان کی پید ائش میں جو چاہتے ہیں اضافہ فرما دیتے ہیں۔
8:۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یزید فی الخلق ما یشآء “ سے مراد ہے اور خوبصورت آواز۔
9:۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں زہری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یزید فی الخلق ما یشآء “ سے مراد ہے آواز کی خوبصورتی۔
11:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ابوالتیاح سے سنا کہ وہ آذان دے دیتے ہیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے حق میں یہ چاہتے ہیں کہ اس کا رزق اس کی آواز میں رکھ دیں تو وہ ایسا کردیتے ہیں۔
بیہقی نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یزید فی الخلق ما یشآء “ سے مراد ہے آنکھوں میں حسن رکھ دیتے ہیں
Ayah 35:21:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یفتح اللہ للناس “ یعنی لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ تو بہ کا دروازہ نہیں کھولتے (آیت) ” فلا مرسل لہ من بعدہ “ (تو اس کے بعد اس کے کوئی کھولنے والا نہیں) یعنی وہ توبہ نہیں کریں گے۔
2:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا وما یمسک، فلا مرسل لہ من بعدہ “ (اللہ تعالیٰ جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کردے سو اس کی بندش کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں) پھر فرماتے ہیں (آیت) ” لیس لک من الامر شیء “ (آل عمران آیت (135) یعنی آپ کے اختیار میں کوئی چیز نہیں )
3:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ “ یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے خیر میں سے کھول دیں (آیت) ” فلا ممسک لہ “ تو کسی کی طاقت نہیں کہ اس کو بند کردے۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا “ میں سے مراد ہے بارش۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن وھب (رح) سے روایت کیا کہ میں مالک (رح) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ابو کہ ابوہریرہ ؓ جب رات کی صبح کرتے تھے جس رات میں بارش ہوتی تھی اور اپنے ساتھیوں سے باتیں کرتے ہوئے فرماتے ہم پر تو فتح کی بارش ہوئی پھر یہ (آیت) تلاوت فرماتے (آیت) ” ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا “ یعنی جو اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے رحمت میں سے کھولتے ہیں تو اس کو کوئی بند کرنے والا نہیں۔
اللہ تعالیٰ پر مکمل اعتماد :
6:۔ ابن المنذر نے عامر بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ چار آیات ہیں اللہ کی کتاب میں سے۔ جب میں ان کو پڑھتا ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں کیسے صبح کرتا ہوں اور کیسے شام کرتا ہوں (1) (آیت) ” ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا، وما یمسک فلا مرسل لہ من بعدہ ، (جو اللہ تعالیٰ کھول دیتے ہیں لوگوں کے لئے رحمت میں سے تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں اور جو بند کردیں تو اس کو کوئی کھولنے والا نہیں اس کے بعد) (2) (آیت) ” وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ لاھو، ان یردک بخیر فلا رآد لفضلہ “ (الانعام آیت : 17) (یعنی اگر اللہ تعالیٰ کسی کو تکلیف دینا چاہیں تو اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر کسی سے خیر کو دور کردیں تو کوئی لوٹانے والا نہیں اس کے فضل کو) (3) ” سیجعل اللہ بعد عسر یسرا “ (الطلاق آیت : 7) (یعنی عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے بعد آسانی کو پیدا فرما دیں گے) (4) (آیت) ” وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا “ (ھود آیت : 6) (یعنی کوئی جانور ایسا نہیں زمین میں مگر اس کا رزق اللہ پر ہے )
7:۔ ابن المنذر نے محمد بن جعفر بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ عروہ محمد کی سواری کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم ! یہ رحمت ہے جو لوگوں کے لئے کھول دی گئی پھر فرماتے تھے (آیت) ” ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا “
Ayahs 35:3–48:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یرزقکم من السمآء والارض “ یعنی رزق ہے آسمان سے بارش کی صورت میں اور رزق ہے زمین میں سبزہ ( کی صورت میں )
Ayah 35:51:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ دنیا کی زندگی میں یہ ہے کہ وہ اس دنیا کی وجہ سے دھوکہ کھاجائے اور آخرت سے غافل ہوجائے انسان پر لازم ہے کہ اس کے لیے تیاری کرے اور اس کے لئے کام کرے جس طرح بندہ اس وقت کہتا ہے جب آخرت میں پہنچ جاتا ہے (آیت) ” یالیتنی قدمت لحیاتی “ (الفجر آیت : 24) (اے کاش میں اپنی زندگی کے لئے آگے بھیج دیتا) اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ دھوکہ یہ ہے کہ بندہ اللہ کی نافرمانی کرے اور اللہ پر مغفرت کی امید رکھے۔
Ayah 35:62:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدوا “ (کہ بلاشبہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس کو دشمن بناؤ) یعنی اس سے دشمنی رکھو کیونکہ ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ اس سے دشمنی رکھے اور اس سے دشمنی یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کرکے اس سے دشمنی رکھے (آیت) ” انما یدعوا حزبہ “ (وہ بلاتا ہے اپنے گروہ کو) یعنی اپنے دشمنوں کو (آیت) ” لیکونوا من اصحب السعیر “ (تاکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوجائیں) یعنی ان کو ہانک کر جہنم کی طرف لے جائیں اور یہ اس کی دشمنی ہے (انسان کے ساتھ )
3:۔ ابن جریر وا بن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما یدعوا حزبہ “ الآیہ (کہ وہ بلاتا ہے اپنے گروہ کو) یعنی وہ اپنے گروہ کو اللہ کی نافرمانی کی طرف بلاتا اور اللہ کی نافرمانی والے لوگ دوزخ والا ہیں اور یہ لوگ اس کا گروہ ہیں انسانوں میں کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” اولئک حزب الشیطن “ (المجادۃ آیت 19) کہ وہ شیطان کا گروہ ہیں حزب سے مراد ان لوگوں سے دوستی ہے جن سے شیطان دوستی لگاتا ہے اور وہ لوگ اس سے دوستی لگاتے ہیں۔
Ayah 35:74:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے (آیت) ” لھم مغفرۃ واجر کبیر “ (ان کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے) کے بارے میں روایت کیا قرآن مجید میں جہاں بھی (آیت) ” لھم مغفرۃ واجر کبیر “ اور رزق کریم کا ذکر ہے اس سے مراد جنت ہے۔
Ayah 35:81:۔ ابن ابی حاتم نے ابوقلابہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا (آیت) ’ ’ افمن زین لہ سوٓء عملہ فراہ حسنا “ (کیا ایسا شخص جس کو اس کا براعمل اچھا کرکے دکھایا گیا) کیا اس سے مراد ہمارے اعمال ہیں وہ لوگ جو کرتے ہیں (برے کاموں میں سے) فرمایا یہ وہ نہیں ہیں بلاشبہ جو وہ حرام کاموں میں سے کوئی کرتا ہے تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ یہ اس پر حرام ہے اگر وہ زنا کرتا ہے تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ وہ حرام ہے اگر کسی انسان کو قتل کرتا ہے تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ یہ اس پر حرام ہے۔ یہ لوگ اہل ملا ہیں یعنی یہودی اور نصاری اور مجوسی اور میں گمان کرتا ہوں کہ خوارج بھی ان میں سے ہیں کیونکہ ایک خارجی اکیلا تلوار لے کر سارے اہل بصرہ پر چڑھائی کرتا ہے جبکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگا۔ اور عنقریب وہ لوگ اس کو قتل کردیں گے اگر وہ ان کے دین میں سے نہ ہوتا تو وہ ایسا نہ کرتا۔
شیطان برے اعمال اچھے کرکے دکھاتا ہے :
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ افمن زین لہ سوٓء عملہ فراہ حسنا “ (کیا ایسا شخص جس کو اس کا براعمل اچھا کرکے دکھایا گیا) اللہ کی قسم ! شیطان نے ان کو گمراہیوں کو ان کے لئے اچھا بنادیا (آیت) ” فلا تذھب نفسک علیہم حسرت “ (سو ان پر افسوس کرکے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے) یعنی آپ ان پر افسوس نہ کیجئے۔
3:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ افمن زین لہ سوٓء عملہ فراہ حسنا “ یعنی یہ مشرک کے بارے میں ہے (کہ اس کے لئے اس کا برا عمل اچھا بنادیا گیا) (آیت) ” فلا تذھب نفسک علیہم حسرت “ (آپ کی جان نہ جاتی رہے اس پر افسوس کرتے ہوئے) جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” فلعلک باخع نفسک “ (الکہف آیت 6) (شاید کہ تو اپنی جان ہلاک کردے گا)
4:۔ ابن جریر نے جو بیر کے طریق سے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ’ ’ افمن زین لہ سوٓء عملہ فراہ حسنا “ اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ نے یہ دعا فرمائی ” اللہم اعزدینک بعمر بن خطاب ویابی جھل بن ہشام “ تو اللہ تعالیٰ نے عمر ؓ کو ہدایت دی اور ابوجہل کو گمراہ کردیا ان دنوں کے بارے میں (یہ آیت) اتاری گئی۔
Ayah 35:91:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاحیینا بہ الارض بعد موتھا، کذلک النشور “ (پھر ہم اس پانی کے ذریعہ کو زندہ کردیتے ہیں اسے خشک ہوجانے کے بعد اسی طرح ہوگا مردوں کا قبروں سے اٹھنا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس مردہ زمین کو اس اس پانی سے زندہ کردیا اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن زندہ کرے گا۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ پھونکنے والا فرشتہ زمین و آسمان کے درمیان صور لے کر کھڑا ہوگا اور اس میں پھونکے گا تو آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی کوئی مخلوق باقی نہیں رہے گی (مگر جیسے اللہ چاہے گا) پھر اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے انسانوں کی مٹی جیسی مٹی بھیجے گا۔ تو ان کے جسم اور ان کے گوشت اس پانی سے اگ آئیں گے جیسے زمین کی گیلی مٹی سے سبزہ اگ آتا ہے۔ پھر عبداللہ نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” واللہ الذی ارسل الریح فتثیر سحابا فسقنہ الی بلد میت فاحیینا بہ الارض بعد موتھا کذلک النشور ، (اور اللہ وہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے پھر ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم بادل کو مردہ یعنی خشک زمین کی طرف چلاتے ہیں پھر اس پانی سے ہم زمین کو زندہ کردیتے ہیں اس کے خشک ہوجانے کے بعد اسی طرح مردوں کو قبروں سے اٹھنا ہوگا) اور دونوں صور پھونکنے کے درمیان وہ کچھ ہوگا جو اللہ چاہے گا۔ پھر فرشتہ اٹھے گا اور اس میں صور پھونکے گا تو ہر روح اپنے جسم کی طرف چلی جائے گی۔
3:۔ الطیالسی واحمد وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو زرین عقیلی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کس طرح مردوں کو زندہ فرمائیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تو بنجر زمین کے پاس سے نہیں گزرا، پھر تو اس کے پاس سے نہیں گزرا جب وہ سرسبز و شاداب تھی اور جھوم رہی تھی ؟ عرض کیا ! کیوں نہیں فرمایا ! اسی طرح اللہ تعالیٰ مردہ کو زندہ کردیں گے اور اسی طرح قبروں سے اٹھنا ہوگا۔
Ayah 35:101:۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) من کان یرید العزۃ “ (جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہے) یعنی بتوں کی عبادت سے (آیت) ” فللہ العزۃ جمیعا “ (تو ساری عزت اللہ کے لیے ہے) یعنی اس کو چاہیے کہ وہ اللہ کی عبادت کے ساتھ عزت حاصل کرے۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی (اور آپ نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے السماء والصفات میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ہم تم سے کوئی بات بیان کریں گے تو ہم تمہارے پاس اللہ کی کتاب میں سے اس کی تصدیق لائیں گے۔ مسلمان بندہ جب کہتا ہے ” سبحان اللہ وبحمدہ “ اور ” الحمد للہ “ اور ” لا الہ اللہ اللہ “ اور ” اللہ اکبر تبارک اللہ “ تو (ان کلمات) کو ایک فرشتہ لے کر اپنے پروں کے نیچے رکھ لیتا ہے پھر ان کو لے کر آسمان کی طرف چڑھ جاتا ہے (یہ فرشتہ) ان کلمات کو لے کر فرشتوں کی جس جماعت سے گزرتا ہے تو (وہ فرشتے) ان کلمات کے کہنے والے کے لئے استغفار کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ ان کلمات کو لے کر رحمن کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ “ (اللہ ہی کی طرف چڑھتے ہیں پاک کلمات اور اچھا کام اس (اچھے کلام) کو پہنچا دیتا ہے۔
فرائض اور ذکر اللہ :
3:۔ ابن مردویہ والدیلمی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الیہ یصعد الکلم الطیب “ سے مراد ہے اللہ کا ذکر ” والعمل الصالح یرفعہ “ (اس میں نیک عمل ہے) مراد فرائض کو ادا کرنا جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اپنے فرائض کی ادائیگی میں تو اس کا یہ عمل اللہ کے ذکر کو اٹھا لیتا ہے اور اس کو لے کر اللہ کی طرف چڑھ جاتا ہے اور جس شخص نے اللہ کا ذکر کیا اور اپنے فرائض کو ادا نہ کیا تو اس کا کلام اس کے عمل پر ہوگا۔ اور اس کا عمل اس کا زیادہ مستحق تھا۔
4:۔ آدم بن ابی ایاس والبغوی والفریابی وعبد بن حمید وابن جریر والبیہقی نے الاسماء والاصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا (آیت) ” الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں پاکیزہ کلمہ میں اٹھایا جاتا ہے۔
5:۔ الفریابی نے سعید بن جبیر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے شھربن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الیہ یصعد الکلم الطیب “ سے مراد ہے قرآن مجید ہے۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الیہ یصعد الکلم الطیب “ سے مراد ہے دعا۔
8:۔ ابن المبارک وعبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ “ سے مراد ہے کہ نیک عمل ہے پاکیزہ کلمات کو اللہ کی طرف اٹھاتا ہے اور قول عمل کے سامنے آتا ہے اگر قول عمل کے موافق ہو تو اسے بلند کیا جاتا ہے ورنہ اس کو رد کردیا جاتا ہے۔
9:۔ ابن المبارک و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ “ سے مراد ہے کہ نیک عمل پاک کلمات کو بلند کرتا ہے۔
10:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن ابی حاتم و بیہقی نے شعب میں شھربن حوشب (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ نیک عمل پاکیزہ کلمات کو اوپر اٹھاتا ہے۔
11:۔ ابن المنذر نے مالک بن (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی اللہ کے فرائض میں سے ایک فریضہ پر عمل کرتا ہے جبکہ اس کے باقی ماندہ کو ضائع کردیا۔ شیطان برابر اس کو (جھوٹی) امیدیں دلاتا ہے۔ اور اس کے لیے (اس کے برے اعمال کو) مزین کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ جنت کے علاوہ کسی چیز کو نہیں دیکھتا اپنے اعمال کرنے سے پہلے اعمال کرنے سے کو پہلے یہ دیکھو کہ ان (اعمال) سے تم کیا ارادہ رکھتے ہو اور وہ خالص اللہ کے لئے ہے تو اس کو جاری رکھو اور اگر غیر اللہ کے لئے ہے تو اپنی جانوں پر مشقت نہ کرو تمہارے لئے کوئی چیز بھی نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی عمل کو قبول نہیں فرماتے مگر جو خالص اس کے لئے ہو کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ “ (یہ اللہ کی طرف چڑھتے ہیں پاک کلمات اور اچھاعمل ان کو پہنچا دیتا ہے)
12:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والعمل الصالح یرفعہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی قول قبول نہیں فرماتے مگر عمل کے ساتھ حسن (رح) سے روایت کیا کہ عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں۔
13:۔ ابن المبارک نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والعمل الصالح یرفعہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک عمل کو بلند فرماتے ہیں اس کے کرنے والے کے لئے۔
سنت کے مطابق عمل ایمان کی علامت ہے :
14:۔ عبد بن حمید و بیہقی نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آرزوئیں کرنے اور خلوت اختیار کرنے کا نام ایمان نہیں ہے۔ جبکہ اس کا نام ہے جو دلوں میں ثبت ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں جو شخص اچھی بات کہے اور نیک عمل نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی بات کو رد فرما دیتے ہیں اور جو شخص اچھی بات کہے اور نیک عمل بھی کرے تو یہ عمل اس بات کو بلند کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ “
15:۔ عبد الرزاق وابن ابی شیبہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ عورت کتا اور گدھا نماز کو توڑ دیتے ہیں تو انہوں نے فرمایا (آیت) ” الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ “ یہ (نماز کو) نہیں کاٹتے ہیں لیکن (ان کو گزرنا) مکروہ ہے۔
16:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر و بیہقی شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین یمکرون السیات “ (اور وہ لوگ جو بری تدبیریں کرتے ہیں) اس سے ریا کرنے والے لوگ مراد ہیں اور فرمایا (آیت) ” ومکر اولئک ھو یبور “ (اور ان لوگوں کا مکر نیست ونابود ہوجائے گا) یعنی ان کا ریا کاری والا عمل نیست ونابود ہوجائے گا۔
17:۔ سعدبن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں شھر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین یمکرون السیات “ سے مراد ہے یہ لوگ ریا کاری کرتے ہیں (آیت) ” ومکر اولئک ھو یبور “ یعنی دکھاوا کرنے والے لوگوں کے اعمال اوپر نہیں چڑھتے ہیں۔
18:۔ ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین یمکرون السیات “ سے مشرکین مراد ہیں (آیت) ” مکر اولئک ھویبور “ سے مراد ہے کہ ان کے عمل نیست ونابود ہوگئے اور ان کا مکر ان کو نفع نہیں دے گا اور نہ وہ اس سے کوئی فائدہ اٹھائیں گے بلکہ یہ ان کو نقصان دے گا۔
19:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین یمکرون السیات “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ برے عمل کرتے ہیں۔ (آیت) ” مکر اولئک ھویبور “ اور ان کا یہ عمل فاسد ہوجائے گا۔
20:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مکر اولئک ھویبور “ اور ان کا یہ مکر ہلاک ہوجائے گا اور آخرت میں ان کے لئے کوئی ثواب نہیں ہوگا۔
Ayah 35:111:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ خلقکم من تراب “ اور اللہ تعالیٰ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا یعنی آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا (آیت) ” ثم من نطفۃ “ (پھر نطفہ سے) یعنی ان کی اولاد کو (نطفہ سے پیدا کیا) (آیت) ” ثم ذکرانا واناثا “ (الشوری آیت 5) پھر مذکر اور مؤنث یعنی مرد اور عورتیں بنا دیں)
2:۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یعمر من معمر “ الآیہ (اور نہ کسی کی عمر زیادہ کی جاتی ہے) یعنی کوئی ایسا نہیں ہے کہ اس کے لئے لمبی عمر اور زندگی کا فیصلہ کیا گیا ہو تو وہ اپنی مقدر کی ہوئی عمر تک نہ پہنچا ہو۔ وہ اس عمر تک ضرور پہنچتا ہے جو اس کے حق مقدر کی گئی ہو بیشک وہ اس لکھی ہوئی اجل تک پہنچتا ہے، جو اس کے حق میں مقدر کی گئی ہوئی ہے اس پر اضافہ نہیں کیا جاتا اور کوئی ایسا آدمی نہیں جس کے حق میں چھوٹی عمر کا فیصلہ کیا گیا ہو اور وہ اپنی عمر تک نہ پہنچنے والا ہو وہ ضرور اس لکھی ہوئی اجل کو پہنچے گا اس کو فرمایا (آیت) ” ولا ینقص من عمرۃ الا فی کتاب “ (اور نہیں کم ہوتا اس کے عمر میں سے مگر جو لکھا ہوا ہے یعنی یہ سب کچھ ان کے پاس لکھا ہوا ہے۔
3:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یعمر من معمرولا ینقص من عمرہ “ (اور نہ کسی کی عمر زیادہ مقرر کی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم مقرر کی جاتی ہے) سب لوگوں کو ایک عمر پر پیدا نہیں کیا گیا اس کی ایک عمر ہے اور اس کی ایک عمر ہے یہ عمر اس کی عمر سے کم ہے یہ اس کے بارے میں لکھا ہوا ہے اور آدمی اپنی لکھی ہوئی عمر تک پہنچنے والا ہے۔
4:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یعمر من معمرولا ینقص من عمرہ “ یعنی ہر دن جو دنیا میں سے انسان گزارتا ہے تو وہ دن اس کی زندگی میں سے کم ہوجاتا ہے۔
5:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے (آیت) ” وما یعمر من معمرولا ینقص من عمرہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی دن ایسا نہیں جو اس کی عمر میں سے چھین لیا جائے (یعنی کم کردیا جاتا ہے) مگر وہ کتاب میں لکھا ہوا ہے اور ہر دن نقصان میں ہے۔
6:۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے العظمہ میں سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یعمر من معمرولا ینقص من عمرہ “ (اور نہ کسی کی عمر زیادہ مقرر کی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کی جاتی ہے) مگر وہ کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہے پھر فرمایا صحیفہ کے آغاز میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ اس کی یہ عمر ہے۔ پھر اس کے نیچے لکھا جاتا ہے کہ ایک دن چلا گیا دو دن چلے گئے یہاں تک کہ اس کی عمر کے آخر تک پہنچ جاتا ہے (اور اس کی عمر ختم ہوجاتی ہے )
7:۔ ابن ابی حاتم نے حسان بن عطیہ (رح) سے (آیت) ” ولا ینقص من عمرہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر دن اور رات میں سے جو گزر جاتا ہے تو وہ اس کی عمر میں سے نقصان (کا باعث) ہے۔
عمر میں کمی و زیادتی :
8:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” وما یعمر من معمر “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ اس کی زندگی کی مدت اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیتے ہیں (آیت) ” ولا ینقص من عمرہ “ یعنی جس دن اس کی ماں اس کو جنتی ہے اس وقت سے وہ مقرر عمر کو پہنچنے والا ہے پھر فرماتے ہیں اس نے سارے لوگوں کو ایک عمر پر پیدا نہیں کیا گیا اس کیلئے ایک عمر ہے اور دوسرے کے لئے دوسری عمر ہے جو پہلے کی عمر سے کم ہے ہر ایک کی عمر لکھی ہوتی ہے وہ اپنی عمر تک پہنچنے والا ہے۔
9:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا تو نے نہیں دیکھا لوگوں کو کہ ایک انسان سو سال تک زندہ رہتا ہے اور دوسرا پیدا ہونے کے وقت ہی مرجاتا ہے اس آیت کا یہی مقصد ہے۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ مخلوق میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی ساری عمر لکھ دی ہے جو دن یا رات گزار دی ہے تو وہ بھی لکھی جاتی ہے کہ فلاں کی عمر میں سے اتنے اتنے دن کم ہوگئے یہاں تک کہ وہ اس کلمے کے ساتھ اس مقدار کو پورا کرلیتا ہے جو اس کے حق میں لکھی جاتی ہے۔ اس کی ساری عمر میں لکھی ہوتی ہے اور جو اس میں سے کمی ہورہی ہے وہ بھی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔
11:۔ ابن ابی حاتم نے عطاء بن ابی مسلم خراسانی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ انسان کی عمر میں ایک دن ایک ماہ اور ایک گھڑی نہیں گزرتی مگر وہ لکھی ہوئی ہے جو محفوظ اور معلوم ہوتی ہے۔
12:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ عمر وہ ہے جو ساٹھ سال کو پہنچ جائے اور اس کی عمر کم ہوتی ہے جو ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی مرجاتا ہے۔
13:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یعمر من معمر “ سے مراد ہے اس کی ماں کے پیٹ میں اس کی عمر لکھ دی جاتی ہے۔
14:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ینقص من عمرہ “ سے مراد ہے کہ جن بچوں کو رحم نامکمل باہر پھینک دیتی ہیں 15:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے حذیفہ بن اسید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتہ نطفہ پر داخل ہوتا جب نطفہ رحم میں ٹھہر جاتا ہے چالیس یا پینتالیس دنوں کی بعد تو فرشتہ پوچھتا : ہے اے میرے رب ! یہ بد بخت ہے یا نیک بخت ہے ؟ یہ مذکر ہے یا مونث ہے ؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں تو دونوں چیزیں لکھ دی جاتی ہیں پھر اس کے عمل کو اس کے رزق کو اس کی زندگی کی مدت کو اس کے لئے اثر کو اور اس کی مصیبت کو لکھ دیا جاتا ہے پھر صحیفہ لپیٹ دیا جاتا ہے نہ اس میں زیادہ کہا جاتا ہے اور نہ اس میں سے کم کیا جاتا ہے۔
زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں :
16:۔ ابن ابی شیبہ ومسلم و نسائی وابو الشیخ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ام حبیبہ ؓ نے یوں فرمایا (یعنی یوں دعا کی) اے اللہ ! مجھے میرے شوہر نبی کریم ﷺ ، میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی معاویہ ؓ کی زندگیوں سے لطف اندوز کردیجئے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تو نے اللہ پاک سے بیان کی ہوئی عمروں اور گنے ہوئے دنوں اور تقسیم کئے ہوئے ارزاق کا سوال کیا ہے اور اللہ تعالیٰ وقت آنے سے پہلے کسی چیز کو جلدی نہیں لائے گا اور وقت آنے کے بعد کسی چیز کو مؤخر نہیں کرے گا اگر اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتی دوزخ یا قبر کے عذاب سے تو وہ بہتر اور افضل ہوتا۔
17:۔ الخطیب وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں دو شہروں میں بادشاہ تھے، ان میں سے ایک اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھاسلوک کرنے والا تھا اور اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کرنے والا تھا اور دوسرا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ زیادتی کرتا اور اپنی رعایا پر ظلم کرنے والا تھا۔ اور ان کے زمانہ میں ایک نبی تھے اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی طرف وحی بھیجی کہ اس اچھا سلوک کرنے والے کی عمر میں سے تین سال باقی ہیں اور اس نافرمان کی عمر میں سے تیس سال باقی ہیں تو اس نبی نے اس بادشاہ کی رعیت اور دوسرے بادشاہ کی رعیت کو بتادیا تو اس عادل کی رعیت اس خبر سے غمگین ہوگئی اور اس ظالم کی رعیت خوش ہوگئی تو ان لوگوں نے ماؤں اور بچوں کو الگ کردیا اور کھانا پینا چھوڑ دیا اور جنگل کی طرف نکل گئے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے تھے کہ ان کو عادل بادشاہ سے نفع اٹھانے دے اور ان سے ظالم بادشاہ کو دور کردے۔ وہ تین دن تک اسی طرح رہے تو اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو بتادو کہ واقعی میں نے ان پر رحم کیا ہے اور ان کی دعا کو قبول کرلیا ہے۔ اس نیک کی عمر اس ظالم کو دے دی اور اس ظالم کی عمر میں جو باقی تھا وہ اس نیک بادشاہ کو دے دی وہ اپنے گھروں کو لوٹ آئے اور وہ ظالم بادشاہ تین سال کے پورے ہونے کے بعد مرگیا اور عادل بادشاہ تیس سال زندہ رہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” وما یعمر من معمرولا ینقص من عمرہ الا فی کتب، ان ذلک علی اللہ یسیر “ (اور نہ کسی کی عمر زیادہ مقرر کی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم مقرر کی جاتی ہے مگر یہ سب کچھ لوح محفوظ میں ہوتا ہے اور یہ بات اللہ پر آسان ہے )
Ayah 35:121:۔ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب پانی پیتے تو (یہ دعا) پڑھتے تھے۔
الحمد اللہ الذی جعلہ عذبا فراتا برحمتہ ولم یجلعہ ملحا اجاجا بذنوبنا :
ترجمہ : سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے جس نے اس کو میٹھا اور پیاس بجھانے والا بنایا اپنی رحمت کے ساتھ اور ہمارے گناہوں کی وجہ سے اس کو نمکین اور کھاری نہیں بنایا۔
میٹھے اور کھارا پانی کا سمندر ساتھ ساتھ :
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یستوی البحرن، ھذا عذب فرات سآ ئغ وھذا ملح اجاج “ (اور دو دریا برابر نہیں ہیں یہ میٹھا ہے پیاس بجھانے والا اور یہ کھاری اور کڑوا ہے) اس میں اجاج سے مراد ہے کڑوا (آیت ” ومن کل تاکلون لحما طریا “ (اور تم پر ایک سمندر سے تازہ گوشت کھاتے ہو) یعنی ان دونوں سمندروں سے (آیت) ” وتستخرجون حلیۃ تلبسونھا “ اور تم زیور یعنی موتی اور مونگے نکالتے ہو جس کو پہنتے ہو یعنی یہ موتی ہیں (آیت) ” وتری الفلک فیہ “ (اور تم دیکھتے ہو کشتیوں کو پانی چیرتی ہوئی) یعنی کشتیوں کو آتے جاتے دیکھتے ہو جو ایک ہی ہوا کے ساتھ چلتی ہیں (آیت) ” یولج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل “ (وہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے یعنی رات کا کم ہونا دن کے زیادہ ہونے میں ہے اور دن کا کم ہونا رات کے زیادہ ہونے میں (آیت) ” وسخرالشمس والقمر، کل یجری لاجل مسمی “ (اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا) یعنی ایک معلوم وقت تک چلتا ہے اور اس کی ایک حد ہے اس میں وہ تجاوز نہیں کرسکتے اور اس سے کم بھی نہیں ہوتی (آیت) ” ذلکم اللہ ربکم لہ الملک “ (یہی اللہ ہے جو تمہارا رب ہے) یعنی اسی رب نے اسے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن ابی حاتم نے سنان بن مسلم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا دونوں سمندروں میں سے جس سے تو چاہے تو وضو کرلے تجھے کوئی نقصان نہیں دے گا (یعنی دونوں سے وضو جائز ہے) سمندر کا پانی اور فرات کا پانی۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن کل تاکلون لحما طریا “ (اور ہر نیک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو) یعنی مچھلی (آیت) ” وتستخرجون حلیۃ تلبسونھا “ (اور تم زیور نکالتے ہو جس کو تم پہنتے ہو) یعنی موتی کڑوے سمندر سے (نکالتے ہو )
Ayah 35:135:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مایملکون من قطمیر “ (جن کو تم اللہ کو چھو کر پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں) قطمیر سے مراد ہے چھلکا اور دوسرے لفظ میں وہ جلد مراد ہے جو گٹھلی کی پیٹھ پر ہوتی ہے۔
6:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” من قطمیر “ کے بارے میں بتائیے کہ اس سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے سفید جھلی جو گٹھلی پر ہوتی ہے پھر پوچھا کی عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے امیہ بن ابی صلت کو نہیں سنا وہ کہتا ہے۔
لم انل منہم بسطا ولا زیدا ولا فوفۃ ولا قط میرا :
ترجمہ : میں نے اسے بستر داد دہش چھان اور کھجور کی گٹھلی کی سفید جھلی بھی نہیں پائی۔
7:۔ عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ قطمیر وہ سفید چھلکا ہے جو گٹھلی اور کھجور کے درمیان ہوتا ہے۔
8:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من قطمیر “ سے مراد ہے گٹھلی کا لفافہ جیسے پیاز کا چھلکا۔
9:۔ ابن جریر وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من قطمیر “ سے مراد ہے کھجور کا سرا یعنی قمع (ڈنڈی) ہے۔
Ayahs 35:14–171:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان تدعوھم لا یسمعوا دعآء کم ولو سمعوا ما استجابوا لکم “ (اگر تم ان کو پکاروہ گے تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنیں گے اور اگر سن لیں گے تو تمہارا کہنا قبول نہ کریں گے) یعنی تم سے اس پکارنے کو قبول نہیں کریں گے (آیت) ” ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم “ (اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کو انکار کردیں گے) یعنی وہ راضی ہوں گے اور نہ اس کا اقرار کریں گے (آیت) ” ولا ینبئک مثل خبیر “ (اور تم کو خبر رکھنے والے کے برابر کوئی نہیں بتائے گا) یعنی اللہ تعالیٰ وہی خبیر ہیں عنقریب یہ ان کے حکم میں سے ہوگا قیامت کے دن۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان تدعوھم لا یسمعوا دعآء کم “ (اگر تم ان کو پکاروہ گے تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنیں گے) سے مراد وہ معبود ہیں جو دعا کرنے والے کی دعا نہیں سنتے اور ان کی عبادت (نہیں جانتے) جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں (آیت) ” ولو سمعوا ما استجابوا لکم “ (اگر وہ سن بھی لیں تو تم کو جواب نہیں دیں گے) یعنی اگر یہ چھوٹے معبود تمہاری پکار کو سن بھی لیں تو تم کو بھلائی کے ساتھ جواب نہیں دیتے (آیت) ” ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم “ (اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے) یعنی تمہاری عبادت کا انکار کردیں گے۔
Ayah 35:181:۔ احمد اور ترمذی (اور ترمذی (رح) نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) و نسائی وابن ماجہ نے عمر بن احوص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا خبردار ! کہ جنایت کرنے والے کا وبال اس کی ذات پر ہوگا، باپ کی جنایت کا مؤاخذہ بیٹے سے اور بیٹے کا مؤاخذہ باپ سے نہ ہوگا۔
2:۔ سعید بن منصور، ابو داؤد والترمذی والنسائی وابن مردویہ نے ابو رمثہ ؓ سے روایت کیا کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے والد سے فرمایا یہ تیرا بیٹا ہے ؟ عرض کیا کعبہ کے رب کی قسم ہاں (یہ میرا بیٹا ہے) آپ نے فرمایا تیرے بیٹے کی جنایت کا تجھ سے تیرے جنایت کا تیرے بیٹے سے مواخذہ نہ ہوگا رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولا تزر وازرۃ وزر اخری “ (اور کوئی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا )
3:۔ ابن ابی حاتم نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان تدع مثقلۃ الی حملھا “ (اور اگر بوجھ سے لدا ہوا شخص (یعنی گناہگار) کسی کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے گا یعنی اگر کوئی گنہگار اپنے قریبی فرد یا غیر قریبی کو بلائے گا (آیت) ” لا یحمل “ تو وہ اس کے گناہوں میں سے ذرا بھی بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان تدع مثقلۃ الی حملھالا یحمل منہ شیء “ یعنی اس پر جو گناہ ہوں گے کسی کو نہیں پائے گا کہ وہ اس کے گناہوں میں سے ذرا بھی اٹھائے۔
5:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان تدع مثقلۃ الی حملھالا یحمل منہ شیء “ (کوئی اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا) اس (آیت) ” ولا تزر وازرۃ وزر اخری “ (اور کوئی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا) کی طرح ہے۔
بروز قیامت کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا :
6:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ پڑوسی قیامت کے دن اپنے پڑوسی سے چمٹے گا اور کہے گا اے میرے رب اس سے پوچھئے اس نے مجھ اپنا دروازہ کیوں بند کرلیا تھا اور کافر بھی قیامت کے دن اپنے پڑوسی سے چمٹے گا اور کہے گا اے میرے رب اس سے پوچھئے اس نے مجھ سے اپنا دروازہ کیوں بند کرلیا تھا اور کافر بھی قیامت کے دن مؤمن سے چمٹے گا اور اس سے کہے گا اے مؤمن میرا تجھ پر ایک احسان ہے تو پہچانتا ہے کہ میں کس طرح دنیا میں تھا اور آج مجھے تیری ضرورت ہے۔ (یہ کہ تو میری سفارش کر) مؤمن اس کے لئے اپنے رب سے برابر سفارش کرتا رہے گا یہاں تک کہ کافر کو جہنم کے ایک درجہ کو کم کردیا جائے گا۔ اور وہ آگ میں ہی رہے گا اور والد قیامت کے دن اپنے بیٹے سے چمٹے گا اور کہے گا اے میرے بیٹے میں تیرا کیسا والد تھا اور اس کی خیر کے ساتھ تعریف کروں گا اور کہے گا اے میرے بیٹے ! میں نے تیری طرف تیری نیکیوں میں سے ذرہ کے برابر نیکیوں کی ضرورت ہے (یعنی ذرہ کے برابر ایک نیکی مجھے دیدے) تاکہ میں اس کے ذریعہ نجات پالوں اس عذاب سے جو تو دیکھ رہا ہے۔ تو وہ بیٹا اپنے والد سے کہے گا اے میرے باپ ! تو نے کتنی تھوڑی چیز کا مطالبہ کیا، لیکن میں طاقت نہیں رکھتا کہ میں آپ کو کوئی چیز دوں، میں بھی اسی طرح ڈرتا ہوں جس طرح آپ ڈر رہے ہیں۔ سو میں کوئی چیز دینے کی طاقت نہیں رکھتا پھر وہ اپنی بیوی کو چمٹے گا اور کہے گا اے فلانہ میں تیرا خاوند تھا وہ عورت اس کی تعریف کرے گی وہ خاوند اپنی بیوی سے کہے گا میں تجھ سے ایک نیکی طلب کرتا ہوں تو اس کو میرے لئے ہبہ کردے (یعنی مجھے دیدے) شاید کے میں نجات پاجاؤں اس عذاب سے جو تو دیکھ رہی ہے بیوی کہے گی تو نے کتنی تھوڑی چیز مانگی ہے لیکن میں طاقت نہیں رکھتی کہ میں تجھ کو وہ چیز دوں میں بھی اسی طرح ڈرتی ہوں جس طرح تو ڈر رہا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” وان تدع مثقلۃ الی حملھا “ (کہ گناہوں کے بوجھ والا آدمی اپنے بوجھ کی طرف بلائے گا تو کوئی اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا) اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت) ” یوم لا یجزی والدین ولدہ “ (جس دن نہ باپ اپنے بیٹے کے کام آئے گا) اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” یوم یفرالمرء من اخیہ (34) وامہ وابیہ (35) (جس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے)
7:۔ عبد بن حمید وابن جریر (آیت) ” وان تدع مثقلۃ الی حملھا “ یعنی اپنی گناہوں کی طرف (بلائے گا) (آیت) ” لا یحمل منہ شیء ولو کان ذا قربی “ (اس میں سے کسی چیز کو نہیں اٹھائے گا اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہوگا) یعنی قریبی رشتہ داری ہوگی۔ پھر بھی اس کے گناہوں میں سے ذرا بھی نہیں اٹھائے گا، بلکہ اس پر اپنے گناہ لادنے کی کوشش کرے (آیت) ” انما تنذر الذین یخشوں ربھم بالغیب “ (بلاشبہ آپ ڈراتے ہیں ان لوگوں کو جو اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں) یعنی وہ ڈرتے ہیں آگے سے اور حساب سے (آیت) ” ومن تزکی فانما یتزکی لنفسہ “ (اور جو شخص پاک ہوتا ہے وہ اپنے لیے پاک ہوتا ہے) یعنی جو شخص نیک عمل کرتا ہے) وہ اپنی ذات کے لئے نیک عمل کرتا ہے (آیت) ” وما یستوی الاعمی والبصیر (19) ولا الظلمت ولا النور (20) ولا الظل ولا الحرور (21) وما یستوی الاحیآء ولا الاموات “ (اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں اور نہ تاریکیاں اور روشنی اور نہ چھاؤں اور دھوپ اور زندے اور مردے برابر نہیں ہوسکتے) یعنی اللہ تعالیٰ نے بھی مخلوق کو بعض پر فضلیت دی لیکن مؤمن کہ وہ ایسا بندہ ہے جو اثر کے لحاظ سے زندہ ہے، دیکھنے کے لحاظ سے زندہ ہے، نیت کے لحاظ سے زندہ ہے، اور عمل کے لحاظ سے زندہ ہے، اور کافر ایسا بندہ ہے جو اثر کے لحاظ سے مردہ ہے، دیکھنے کے لحاظ مردہ ہے، دل کے لحاظ سے مردہ ہے اور عمل کے لحاظ سے مردہ ہے۔
Ayah 35:198:۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وما یستوی الاعمی والبصیر کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کافر اور مؤمن کے لئے بیان فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس طرح اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے اس طرح کافر اور مؤمن بھی برابر نہیں ہوسکتے۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یستوی الاعمی والبصیر سے مراد ہے کافر اور مؤمن ”
Ayahs 35:20–21ولا الظلمت “ سے مراد ہے کفر ” ولا النور “ سے مراد ہے ایمان اور ” ولا الظل “ سے مراد ہے جنت ” ولا الحرور “ سے مراد ہے دوزخ۔
Ayahs 35:22–26(آیت) ” وما یستوی الاحیآء ولا الا موات “ سے مراد ہے مؤمن اور کافر، ان اللہ یسمع من یشآء “ (اللہ تعالیٰ سنتا ہے جس کو چاہتا ہے) یعنی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔
سماع موتی کا مسئلہ :
10:۔ ابوسہل السری بن سہل الجندب بوری الخامس نے اپنی حدیث میں عبدالقدوس کے طریق سے احمد ابوصالح سے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” انک لا تسمع الموتی “ (الروم آیت 52) (یہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے) اور (آیت) ” وما انت بمسمع من فی القبور “ (اور آپ ان لوگوں کو سنانے والے نہیں ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں) کہ بارے میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ بدر کے دن مقتولین پر کھڑے ہوئے اور فرمایا (آیت) ” ھل وجدتم ماوعدربکم حقا “ یا فلاں بن فلاں (اے فلاں بن فلاں کیا تم نے اس وعدے کو سچا پالیا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا) کیا تو نے اپنے رب کا انکار نہیں کیا تھا کیا تو نے اپنے نبی کو نہیں جھٹلایا تھا ؟ کیا تو نے قطع رحمی نہیں کی تھی ؟ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا ہم جو کہتے ہیں یہ انہیں سنتے ہیں ؟ فرمایا تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” فانک لا تسمع الموتی “ (اور) (آیت) ” وما انت بمسمع من فی القبور “ یہ مثال اللہ تعالیٰ نے کفار کے لئے بیان فرمائی کہ وہ آپ کی بات کو نہیں سنتے تھے۔
11:۔ عبد بن حمید وابن ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وما انت بمسمع من فی القبور “ کے بارے میں روایت کیا کہ اسی طرح کافر نہ سنتا ہے اور نہ اس چیز سے نفع اٹھاتا ہے جس کو سنا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” وان من امۃ الا خلافیھا نذیر “ (اور کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو) فرماتے ہیں کہ ہر امت کو اس کے لئے ایک رسول ہوتا تھا جو ان کے پاس اللہ کی طرف سے آتا تھا اور اللہ تعالیٰ کا قول (آیت) ” وان یکذبوک فقد کذب الذین من قبلہم “ (اور اگر یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو واقعی یہ بات ہے کہ ان سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے اس میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو (اس آیت میں) تسلی دے رہے ہیں کہ (آیت) ” جآء تھم رسلھم بالبینت وبالزبر وبالکتب المنیر (25) ثم اخذت الذین کفروا فیکف کان نکیر “ (جب ان کو پیغمبر کھلے کھلے معجزات اور صحیفے اور روشن کتاب کے ساتھ ان کے پاس آتے تھے پھر میں نے ان کافروں کو پکڑ لیا سو دیکھ لو میرا کیسا عذاب ہوا) فرمایا کہ ان کے عذاب شدید تھا اور اللہ تعالیٰ ان کیلئے دنیا کا عذاب جلدی لے آیا پھر ان کی آگ کی طرف لے جائے گا۔
Ayah 35:271:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم تران اللہ انزل من السمآء مآء فاخرجنا بہ ثمرت مختلفا الوانھا “ (کیا آپ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ مختلف رنگ کے پھلوں کو نکالا) یعنی سرخ اور زرد (آیت) ” ومن الجبال جدد بیض وحمر مختلف الوانھا “ (اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید سرخ کہ ان کے مختلف رنگ) یعنی سرخ پہاڑ (آیت) ” وغرابیب سود “ (اور بہت گہرے سیاہ) یعنی اس کا رنگ اس طرح مختلف سیاہ جیسے ان پہاڑوں کے مختلف رنگ ہیں اور اسی طرح لوگوں کے جانوروں کے چوپائیوں کے رنگ مختلف ہیں پھر فرمایا (آیت) ” انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا “ یہ بات کہی جاتی تھی کہ ڈرنے کے لئے علم کافی ہوتا ہے۔
2:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثمرات مختلف الوانھا “ (یعنی پھلوں کے مختلف رنگ ہیں) سفید سرخ اور کالے رنگ میں فرمایا (آیت) ” ومن الجبال جدد بیض “ (اور پہاڑوں کے بھی مختلف حصے ہیں) سے مراد اپنے سفید نشانات یعنی رنگ۔
3:۔ البزار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا مراد ہے رنگ کرتا ہے فرمایا ہاں ایسا رنگ جو کم نہیں ہوتا سرخ، زرد زسفید۔
4:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے پوچھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” جدد “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا اس سے مراد ہیں نشانات، سفید نشان اور سبزنشان، پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں، کیا تو شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
قدغا درالسبع فی صفحا تھا جددا کانھا طرق لاحت علی رکم :
ترجمہ : دھوکہ دیا ہے درندوں نے اپنے چہروں میں کئی نشانوں کا گویا وہ ایسے راستے ہیں جو ٹیلوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔
5:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن الجبال جدد بیض “ یعنی سفید نشانات (آیت) ” وغرابیب سود “ یعنی کالے پہاڑ۔
6:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وغرابیب سود “ سے مراد ہے سخت سیاہ۔
7:۔ ابن المنذر ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مختلفا الوانھا “ سے مراد ہے کہ ان میں سے سرخ، سفید، سبز اور سیاہ ہیں اور اسی طرح لوگوں کے رنگ مختلف ہیں، سرخ سیاہ اور سفید، اور اسی طرح جانوروں اور چوپائیوں کے رنگ ہیں۔
8:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن الجبال جدد بیض “ سے مراد ہے پہاڑوں میں سفید اور سرخ نشانات ہیں۔ اور وہ جدد ہے (آیت) ” وغرابیب سود “ یعنی کالے پہاڑ