Explained with ayahs 4–6
مایوسی کی ممانعت۔
اے نبی ﷺ اگر آپ کے زمانے کے کفار آپ کی مخالفت کریں اور آپ کی بتائی ہوئی توحید اور خود آپ کی سچی رسالت کو جھٹلائیں۔ تو آپ شکستہ دل نہ ہوجایا کریں۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا۔ سب کاموں کا مرجمع اللہ کی طرف ہے۔ وہ سب کو ان کے تمام کاموں کے بدلا دے گا اور سزا جزا سب کچھ ہوگی، لوگو قیامت کا دن حق ہے وہ یقیناً آنے والا ہے وہ وعدہ اٹل ہے۔ وہاں کی نعمتوں کے بدلے یہاں کے فانی عیش پر الجھ نہ جاؤ۔ دنیا کی ظاہری عیش کہیں تمہیں وہاں کی حقیقی خوشی سے محروم نہ کر دے۔ اسی طرح شیطان مکار سے بھی ہوشیار رہنا۔ اس کے چلتے پھرتے جادو میں نہ پھنس جانا۔ اس کی جھوٹی اور چکنی چپڑی باتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة فَاطِر 10
وعدے سے مراد آخرت کا وعدہ ہے جس کی طرف اوپر کے اس فقرے میں اشارہ کیا گیا تھا کہ تمام معاملات آخر کار اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔
سورة فَاطِر 11
یعنی اس دھوکے میں کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیا ہے، اس کے بعد کوئی آخرت نہیں ہے جس میں اعمال کا حساب ہونے والا ہو۔ یا اس دھوکے میں کہ اگر کوئی آخرت ہے بھی تو جو اس دنیا میں مزے کر رہا ہے وہ وہاں بھی مزے کرے گا۔
سورة فَاطِر 12
" بڑے دھوکے باز " سے مراد یہاں شیطان ہے، جیسا کہ آگے کا فقرہ بتارہا ہے۔ اور " اللہ کے بارے میں " دھوکا دینے سے مراد یہ ہے کہ وہ کچھ لوگوں کو تو یہ باور کرائے کہ خدا سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اور کچھ لوگوں کو اس غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
معارف و مسائل
(آیت) لایغرنکم باللہ الغرور، غرور بفح غین مبالغہ کا صیغہ ہے، جس کے معنی ہیں بہت دھوکہ دینے والا اور مراد اس سے شیطان ہے کہ اس کا کام ہی لوگوں کو دھوکہ میں ڈال کر کفر و معصیت میں مبتلا کرنا ہے اور یغرنکم باللہ یعنی وہ تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکہ نہ دیدے، اس دھوکہ سے مطلب یہ ہے کہ شیطان برے کاموں کو اچھا ثابت کر کے تمہیں اس میں مبتلا نہ کر دے اور تمہارا حال یہ ہوجائے کہ گناہ کرتے رہو اور ساتھ ہی یہ سمجھتے رہو کہ ہم اللہ کے نزدیک مقبول ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →آیت 5
آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے بعد مخالفین کو دھمکی دی کہ تم کو پچھلی قوموں کے انجام سے جو ڈرایا جا رہا ہے اس کو ہوائی بات نہ سمجھو۔ اللہ کی یہ وعید شدنی ہے۔ اس وقت تمہیں دنیا کی زندگی کی جو رفاہیت حاصل ہے وہ تمہیں دھوکے میں نہ رکھے۔ تم اپنی موجودہ رفاہیت کو اپنے رویہ کی صحت کی دلیل گمان کرتے ہو اور پیغمبر ﷺ کی وعید اڑاتے ہو کہ بھلا تم پر عزاب کیوں اور کدھر سے آجائے گا لیکن جب اللہ کے وعدے کے ظہور کا وقت آئے گا تو تم دیکھ لو گے کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا تھا وہ بالکل تمہارے سامنے ہی موجود تھی۔
’ ولا یغرتکم باللہ الغرور ‘ ’ غرور ‘ کے معنی فریب کار کے ہیں اور یہاں سے مراد شیطان ہے اس لئے…
Read the full tafseer →5۔ 1 کہ قیامت برپا ہوگی اور نیک و بد کو ان کے عملوں کی جزا و سزا دی جائے گی۔
5۔ 2 یعنی آخرت کی ان نعمتوں سے غافل نہ کردے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں اور رسولوں کے پیروکاروں کے لئے تیار کر رکھی ہیں۔ پس اس دنیا کی عارضی لذتوں میں کھو کر آخرت کی دائمی راحتوں کو نظر انداز نہ کرو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: پچھلے جملے کی مناسبت سے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن فرشتوں کی پروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، اضافہ کردیتا ہے، چنانچہ حضرت جبرئیل ؑ کے چھ سو پروں کی تعداد حدیث میں آئی ہے، لیکن الفاظ عام ہیں، اور ہر تخلیق کو شامل ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی تخلیق میں چاہتا ہے، کسی خاص وصف کا اضافہ فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →یا یھا الناس ۔۔۔۔۔ مناصحٰب السعیر (5 ۔ 6) ” “۔
اللہ کا وعدہ برحق ہے اور وہ واقع ہونے والا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ جب یہ حق ہے تو حق ہوتا ہی وہ ہے جو واقع ہونے والاہو۔ حق نہ ضائع ہوتا ہے ، نہ باطل ہوتا ہے اور نہ کالعدم ہوتا ہے ، نہ اپنا دھارا اور راستہ بدلتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کو صرف یہ دنیاوی زندگی دھوکہ دیتی ہے ۔
فلا تغرنکم الحیٰوۃ الدنیا (35: 5) ” لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ نہ دے “۔ لیکن شیطان تو رات اور دن لگا ہوا ہے دھوکہ دینے میں ، اس لیے تم کو چاہئے کہ اس سے چوکنے رہو۔
ولا یغرنکم باللہ الغرور (35: 5) ” اور نہ کوئی بڑا دھوکہ بار تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
2 یعنی قیامت آنی ہے اور یقینا سب کو اللہ تعالیٰ کی بڑی عدالت میں حاضر ہونا ہے۔ اس دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور فانی عیش و بہار پر نہ پھولو اور اس مشہور دغا باز شیطان کے دھوکہ میں مت آؤ۔ وہ تمہارا ازلی دشمن ہے۔ کبھی اچھا مشورہ نہ دے گا۔ یہ ہی کوشش کرے گا کہ اپنے ساتھ تم کو بھی دوزخ میں پہنچا کر چھوڑے طرح طرح کی باتیں بنا کر خدا اور آخرت کی طرف سے غافل کرتا رہے گا۔ چاہیے کہ تم دشمن کو دشمن سمجھو اس کی بات نہ مانو۔ اس پر ثابت کردو کہ ہم تیری مکاری کے جال میں پھنسنے والے نہیں۔ خوب سمجھتے ہیں کہ تو دوستی کے لباس میں بھی دشمنی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 5 { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاوقفۃ } ”اے لوگو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ تو دیکھو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے“
{ وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ } ”اور نہ ہی تمہیں دھوکے میں ڈالے اللہ کے بارے میں وہ بڑا دھوکے باز۔“
اس سے پہلے ہم یہی الفاظ سورة لقمان کی آیت 33 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ لفظ ”غرور“ اگر ”غ“ کی پیش کے ساتھ ہو تو مصدر ہے ‘ اور اگر ”غ“ کی زبر کے ساتھ فَعول کے وزن پر ہوتویہ مبالغے کا صیغہ ہوگا۔ چناچہ ”الـغَرُور“ کے معنی ہیں بہت بڑا دھوکے باز ‘ یعنی ابلیس لعین جو اکثر لوگوں کو اللہ کے بارے میں اس طرح…
Read the full tafseer →8 یعنی دنیا کے مال و دولت، اس کے عیش و آرام، اس کی دلکشیوں اور دلفریبیوں میں محو اور مستغرق ہو کر اپنے انجام کو بھول نہ جانا۔ اللہ کے ہاں ہر نعمت سے متعلق باز پرس ہونے والی ہے کہ اس کا شکریہ ادا کیا تھا یا ناشکری کی تھی۔ نیز اس دنیا میں کوئی بھی چیز بےکار پیدا نہیں کی گئی۔ ہر عمل اپنا ایک نتیجہ رکھتا ہے۔ اور اس کے محاسبہ سے تم بچ نہیں سکتے۔ لہذا اس دھوکہ میں نہ رہنا کہ زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ تمہارے تمام تر اعمال ریکارڈ ہو رہے ہیں اور ان کے نتائج تمہیں دوسری زندگی میں بھگتنا ہوں گے۔ اللہ کا یہ وعدہ ہے اور یہی اس کا قانون مکافات ہے جس کا خلاف کبھی نہیں ہوسکتا۔
9 شیطان کا اللہ کے نام پر…
Read the full tafseer →9۔ یعنی لذات دنیوی میں منہمک ہو کر تم آخرت سے غافل ہوجاؤ اور حلال و حرام، جائز وناجائز میں امتیاز ہی نہ رکھو۔ اس فریب کا تعلق فسق کی عملی زندگی سے ہے اور یہ فریب نفس انسانی کی راہ سے آتا ہے۔ (آیت) ” یایھا الناس “۔ خطاب کی تعمیم پیام قرآنی کی عالمگیری پر ایک مزید دلیل ہے۔ (آیت) ” وعداللہ “۔ وعدہ الہی میں جزاء وسزا یقینی ہے۔
10۔ یعنی راہ حق سے منہ موڑ لو، اور سرے سے باطل پرستی کو اپنا شعار بنالو۔ اس فریب کا تعلق کفر کی اعتقادی زندگی سے ہے، اور یہ فریب براہ راست شیطان کے اثر سے آتا ہے۔ عقیدہ کی گمراہی عملی فسق سے ظاہر ہے کہ کہیں بڑھی ہوئی ہے۔ (آیت) ” الغرور “۔ بڑا فریبیا، یعنی شیطان۔ اے المبالغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفوں کا سزاوار وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا کسی سابقہ نمونہ کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون سے اپنی حمد بیان فرمائی ہے، جیسا کہ سورة سبا کے شروع میں بیان کیا گیا تھا اور جو فرشتوں کو انبیاء کی جانب پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین چارچار پر ہیں اور وہ ملائکہ کی تخلیق میں جو چاہے اضافہ کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ یقیناً پر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے جو رحمت مثلاً رزق اور بارش کھول دے تو اسے بند کرنے والا نہیں اور ان میں سے جس کو بند کردے اس کے بند کرنے…
Read the full tafseer →یایھا الناس ان وعد اللہ حق . اے لوگو ! (قیامت اور معاوضۂ اعمال کا) اللہ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ یعنی اس کے خلاف ہونے کا احتمال بھی نہیں ہے۔
فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا سو تم کو یہ دنیوی زندگی فریب خوردہ نہ بنا دے۔ یعنی آخرت کی طلب و سعی سے یہ دنیوی بیہودہ مشاغل غافل نہ بنا دیں۔
ولا یغرنکم باللہ الغرور . اور اللہ کے متعلق شیطان تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یعنی اللہ نے اپنے حلم کی وجہ سے جو تم کو ڈھیل دے رکھی ہے ‘ اس ڈھیل کے سبب شیطان تم کو عذاب آخرت فراموش نہ کر دے اور باوجود گناہوں پر جمے رہنے کے ‘ شیطانی اغواء کی وجہ سے تم کو مغفرت کا یقین نہ ہوجائے۔ اگرچہ معاصی پر اصرار کے باوجود مغفرت ممکن ہے…
Read the full tafseer →اے مکہ والو بعث بعد الموت ضرور ہوگا سو ایسا نہ ہو کہ یہ دنیوی زندگی رونق و بہار تمہیں اللہ کی پیروی سے دھوکے میں ڈالے رکھے اور ایسا نہ ہو کہ تمہیں دھوکا باز شیطان دین الہی سے دھوکا میں ڈال دیں یا کہ دنیا کی جھوٹی چیزیں۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ : وعدے سے مراد آخرت کا وعدہ ہے، جس کا پچھلی آیت کے آخری جملے میں ذکر ہے کہ تمام معاملات اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔
فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا : یعنی اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے کہ تمہیں اس کے حضور پیش ہونا ہے تو کہیں دنیا کی زندگی اپنی لذتوں اور دل فریبیوں کے ساتھ تمہیں اس دھوکے میں نہ ڈال دے کہ بس یہی زندگی ہے، کیونکہ اس دنیا نے بہت سے لوگوں کو اس دھوکے میں رکھ کر برباد کردیا۔ دیکھیے سورة انعام (29) ، مؤمنون (37) اور سورة جاثیہ (24) ”الدُّنْيَا“ ”اَلْأَدْنٰی“ کی مؤنث ہے، قریب کی زندگی جو آخرت کے مقابلے میں قریب ہے، یا کمینی…
Read the full tafseer →آیت : یا یھا الناس ان وعداللہ حق رسولوں کو جھٹلانے والوں کو وعظ کیا جا رہا ہے جب کہ پہلے قول کی صحت پر دلیل کی وضاحت کی کہ بعث، ثواب اور عقاب حق ہے۔ آیت : فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا سعید بن جبیر نے کہا : دنیاوی زندگی کے غرور سے مراد ہے کہ انسان دنیا کی نعمتوں اور اس کی لذتوں میں مشغول رہے اور آخرت کے اعمال سے اعراض بر تے یہاں تک کہ وہ کہے : آیت : یلیتنی قد مت لحیاتی (الفجر) ہائے کاش ! میں اپنی اس زندگی کے لیے کوئی چیز آگے بھیجی ہوتی۔
آیت : و لا یغرنکم با اللہ الغرور ابن سکیت اور ابو حاتم نے کہا : الغرور سے مراد شیطان ہے۔ ، غرور یہ غر کی جمع ہے غر مصدر ہے۔ ابو اسحاق کے علاوہ کے نزدیک الغرور کا…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ دنیا کی زندگی میں یہ ہے کہ وہ اس دنیا کی وجہ سے دھوکہ کھاجائے اور آخرت سے غافل ہوجائے انسان پر لازم ہے کہ اس کے لیے تیاری کرے اور اس کے لئے کام کرے جس طرح بندہ اس وقت کہتا ہے جب آخرت میں پہنچ جاتا ہے (آیت) ” یالیتنی قدمت لحیاتی “ (الفجر آیت : 24) (اے کاش میں اپنی زندگی کے لئے آگے بھیج دیتا) اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ دھوکہ یہ ہے کہ بندہ اللہ کی نافرمانی کرے اور اللہ پر مغفرت کی امید رکھے۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [اے لوگو !] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [یقینا اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ [برحق ہے ] فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ [تو ہرگز دھوکا نہ دے تم لوگوں کو ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۪ [دنیوی زندگی ] وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ [اور ہرگز دھوکہ نہ دے تم لوگوں کو ] بِاللّٰهِ [اللہ کے بارے میں ] الْغَرُوْرُ [وہ انتہائی دھوکے باز ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
اس کے بعد توحید اور رسالت کے منکرین سے خطاب فرمایا کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور ایمان اور کفر کا بدلہ دیا جائے گا یہ وعدہ حق ہے اور پورا ہو کر رہے گا، تمہیں دنیا والی زندگی دھوکہ میں نہ ڈالے (جس کا ہرا بھرا ہونا تمہیں اپنی طرف کھینچتا ہے اور آخرت کے ماننے سے اور آخرت میں نفع دینے والے کاموں سے روکتا ہے) ایک طرف تو دنیا کی سرسبزی ہے دوسری طرف شیطان تمہارے پیچھے لگا ہوا ہے اس سے چوکنے اور ہوشیار رہو، وہ تمہارا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھو، وہ تمہیں دھوکہ نہ دے، اس کے دھوکہ دینے کے جتنے طریقے ہیں ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دھوکہ دیتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تحمید خداوند حمید ومجید برائے اثبات توحید وتذکیر نعم وتحذیر از نقم
قال تعالیٰ الحمد للہ فاطر السموت والارض جاعل الملئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم بما یصنعون۔
(ربط) گذشتہ سورت کے اخیر میں کفار ومشرکین کی ہلاکت کا ذکر تھا کہ ان پر اللہ کا قہر نازل ہوا۔ اور ہلاک اور برباد ہوئے اور کافروں کی ہلاکت اور بربادی اللہ کی نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے۔ کما قال تعالیٰ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔
اس لئے اس سورت کا آغاز اللہ کی حمد وثنا سے کیا گیا (روح المعانی ص 148 ج 22) اور اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا ذکر کر کے شکر پر متنبہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
9:۔ یا ایہا الناس الخ : یہ تخویف اخروی ہے۔ الغرور بفتح عین، دھوکہ دینے والا مراد شیطان ہے۔ اور بضم غین مصد رہے یعنی دھوکہ دینا۔ وعد اللہ سے قیامت اور جزاء و سزا مراد ہے۔ وعداللہ بالبعث والجزاء (مدارک ج 3 ص 255) ۔ اللہ کی توحید کو مان لو ورنہ آخرت میں دردناک سزا ملے گی۔ قیامت کا آنا اور جزاء و سزا برحق ہے اس میں تخلف نہیں ہوگا۔ دنیا کی لذات اور عیش و نشاط سے دھوکا نہ کھاؤ کہ یہ ہمیشہ رہیں گی اور نہ شیطان کے بہکانے سے فریب کھاؤ۔ ان الشیطان الخ : شیطان کی انسان دشمنی ور اس کے فریب کا بیان ہے کہ شیطان تمہارا پرانا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھنا کہیں اس کے فریب میں آ کر اس کی بات نہ مان لینا کیونکہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ربط آیات
گزشتہ درس میں حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کو تکالیف پہنچاتے ہیں تو آپ ان سے خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ پہلے لوگ بھی اسی طرح اپنے رسولوں کو جھٹلاتے رہے۔ تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں۔ وہ ان مکذبین کو ضرور سزا دے گا۔ اسکے بعد اللہ نے عام بنی نوع انسان کو خبردار کیا ہے کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس کے اغوا سے بچنے کی کوشش کرتے رہو۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے ، قیامت ضرور واقع ہوگی۔ محاسبے کا وقت آئے گا اور پھر جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسباب ضلالت میں سے دو اسباب کا ذکر…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا 0 ۪ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللہِ الْغَرُوْرُ 5
وعد
الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ
[ القصص/ 61] ،
( وع د ) الوعد
( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ترکیب : غیر اللہ یقرء بالرفع و فیہ و جہان احد ھما ھو صفۃ لخالق علی الموضع و خالق مبتداء و الخبر محذوف تقدیرہ لکم او للاشیاء و الثانی ان یکون فاعل خالق ای ھل یخلق غیر اللہ شیئا ویقر ‘ بالجر علی الصفۃ لفظا یرزقکم یجوزان یکون مستانفا و یجوزان یکون صفۃ لخالق الذین کفروا یجوزان یکون مبتداء و ما بعدہ الخبروان یکون صفۃ لحزبہ او بدلا منہ وان یکون فی موضع جرصفۃ لاصحاب السعیر من التبیان۔
تفسیر : اس کے بعد خدا تعالیٰ اپنی نعماء کو یاد دلاتا ہے۔ فقال یا ایھا الناس اذکروا نعمت اللہ کہ لوگو میری نعمتوں کو یاد کرو، پھر ان نعمتوں کی تفصیل کرتا ہے۔ ھل من خالق غیر اللہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی پیدا کرنے…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ فَلاَ تَغُرَّنَّـکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وقفۃ وَلاَ یَغُرَّنَّـکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ ۔ (فاطر : 5)
(اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے، پس تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ اللہ کے بارے میں وہ بڑا دھوکے باز تمہیں فریب میں رکھے۔ )
ایک تنبیہ اور دھمکی
گزشتہ آیت کے آخر میں مخالفین کو جو دھمکی دی گئی تھی اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ جو دنیا کے معاملات کو ہمیشہ دنیا کے حوالے سے دیکھتے ہو اور دنیا کے فیصلوں کو حرف آخر سمجھتے ہو، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ دنیا آخرت کی تیاری کی جگہ ہے۔ ایک مہلت دی گئی ہے جس میں ہر انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : سب نے ” اللہ “ کی طرف لوٹ کر جانا ہے یہ ایک اعلان ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں کے ساتھ وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔
ہر کسی نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اس لیے سمجھایا گیا ہے کہ لوگو ! اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور پکا ہے کہ بالآخر تمہیں اپنے اعمال کے ساتھ میرے حضور پیش ہونا ہے۔ لہٰذا دنیا کے دھندوں اور مفادات میں پھنس کر اپنے رب کے وعدے کو بھول نہ بیٹھنا اور نہ ہی اپنے رب کے بارے میں شیطان کے فریب میں آنا۔ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھنا اور اس سے بچتے رہنا وہ اپنے پیچھے چلنے والوں کو جہنم کی طرف ہی بلاتا اور دھکیلتا ہے۔ دوسرے مقام پر شیطان کی شیطنت…
Read the full tafseer →قراءت : شامی، حمزہ، علی، خلف، یعقوب، سہل نے تاء کے فتحہ سے تَرْجِعُ پڑھا ہے۔
5: یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ (اے لوگو ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ) جو بعث و جزاء سے متعلق ہے۔ حَقٌّ (ضرور سچا ہے) پورا ہوکر رہے گا۔ فَلاَ تَغُرَّ نَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا (پس دنیوی زندگی تم کو دھوکا میں ڈالے نہ رکھے) پس دنیا تمہیں فریب خوردہ نہ بنا دے اور نہ دنیا سے تمتع اور اس کے منافع سے لذت اندوزی تمہیں آخرت کی طلب و سعی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو کچھ ہے اس کی طلب سے غافل کر دے۔ وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ (اور ایسا نہ ہو کہ تمہیں دھوکہ باز شیطان اللہ تعالیٰ سے دھوکہ میں ڈال…
Read the full tafseer →5، یایھا الناس ان وعد اللہ حق ، قیامت کا وعدہ حق ہے۔ ، فلا تعرنکم الحیوۃ الدنیا ولا یغر نکم باللہ الغرور، اس سے مراد شیطان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
3 تا 7۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جس طرح پیدا کرنا اور روزی کا دینا فقط اسی کا کام ہے نہ کسی اور کا ایسے ہی سوائے اس کے اور کسی کو پوجنا نہیں چاہئے مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرایا جاوئے اور جب اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو پھر تم بعد اس کے ان کھلی ہوئی باتوں سے کہاں سے الٹے جاتے ہو او بتوں کو پوجتے ہو اور اگر اے محمد ﷺ مشرک لوگ تم کو جھٹلادیں اور توحید کو نہ مانیں تو تمہیں پہلے رسولوں کی چال چلنی چاہئے کیوں کہ وہ بھی اپنی قوموں کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لائے تھے ‘ لیکن ان لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور مخالفت کی مطلب یہ کہ یہ کچھ نئی بات نہیں ہے اس لیے ان کے جھٹلانے پر اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
آیت 5
(یا یھا الناس ان وعدا للہ) ” اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ “ یعنی مرن یکے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ (حق) ” حق ہے۔ “ اس میں شک و شبہ اور کوئی تردد نہیں، سا پر تمام دلائل نقلیہ اور براہین عقلیہ دلالت کرتے ہیں۔ جب اس کا وعدہ سچا ہے تو اس کے لئے تیاری کرو اپنے اچھے اوقات میں نیک اعمال کی طرف سبقت کرو اور کوئی راہزن تمہاری راہ کھوٹی نہ کرنے پائے۔ (فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا) ” لہٰذا دنیاوی زندگی تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے “ اپنی لذات و شہوات اور اپنے نفسانی مطالبات کے ذریعے سے تمہیں ان مقاصد سے غافل نہ کر دے جن کے لئے تمہیں تخلیق کیا گیا ہے۔ (ولایغرنکم باللہ الغرور)…
Read the full tafseer →13 سب سے بڑے فتنے سے تحذیر و تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور سب لوگوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ پس تم کو دھوکے میں نہ ڈالنے پائے یہ دنیاوی زندگی "۔ کہ کہیں تم اسی دنیا کو آخری منزل اور اسی کی تکلیف و راحت کو منتہائے مقصود سمجھنے لگو اور اپنی آخرت کی حقیقی اور ابدی منزل کو بھول جاؤ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو پیغمبر کو تسلی دینے کے بعد اس ارشاد میں مخالفین و منکرین کو خطاب کرکے تنبیہہ فرمائی جارہی ہے کہ جس ہولناک انجام سے تم لوگوں کو خبردار کیا جارہا ہے اس کو یونہی خالی خولی دھمکی اور کوئی ہوائی بات نہ سمجھو۔ بلکہ یہ ایک شدنی بات اور قطعی حقیقت ہے۔ اور آج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
شیطان انسان کا دشمن ہے
تشریح : اوپر دی گئی آیات کو جب ہم غور سے پڑھ لیتے ہیں تو ہمیں اللہ کی قدرت کا پورا یقین ہوجاتا ہے پھر ہمیں اس کا پروگرام سمجھ آ نے لگتا ہے اور یوں تو کل مضبوط ہوجاتا ہے۔ پھر مضبوط ایمان و ارادہ ہمیں شیطان سے نمٹنے کی پوری طاقت دے دیتا ہے اور ہم اپنے نیکی کے فرشتوں کی مدد سے اس کو ہرا دیتے ہیں اسی کو کہتے ہیں مرد کامل یعنی کامیاب انسان۔ فرشتوں کا ذکر ہوچکا اب ذرا شیطان کا مطلب بھی سمجھ لیا جائے تو شیطان جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے برائی کرنے والا، برا راستہ دکھانے والا۔ انسان کی پیدائش پر شیطان ناراض ہوگیا تھا کیونکہ یہ بھی انسان کی طرح عمل اور ارادہ کی طاقت رکھتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 7:
اسرار و معارف :
سورۃ فاطر اسی مضمون کو لیکر آگے بڑھتی ہے کہ تمام تر کمالا صرف اللہ واحد کو سزاوار ہیں کہ وہ اکیلا خالق ہے آسمانوں اور زمینوں کا ان کی تمام تر مخلوقات اور مخلوقات کے تمام تر اوصاف کا فرشتے بھی اس کی مخلوق ہیں جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں اس کے اور اس کی دوسری مخلوق کے درمیان واسطے کا کام کرتے ہیں جیسے سب سے اعلی انبیاء (علیہم السلام) اور ان پر وحی لانے کا کام مخلوق کو روزی روزق پہنچانے یا عذاب وثواب اور صحت و بیماری یعنی وہ خود ہر آن اللہ کی اطاعت پر کمر بستہ ہیں نہ یہ کہ انہیں معبود بنا لیا جائے ان کی قوت و طاقت اللہ ک عطا کردہ ہے جیسے کسی کو دو…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی آخرت سے غافل کر دے یہاں تک کہ تم سمجھنے لگ کہ جو مزے ہیں وہ بس اسی دنیا میں ہیں۔
3 اللہ کے باب میں شیطان کا فریب کئی طرح سے ہوتا ہے۔ کسی کو وہ یہ فریب دیتا ہے کہ خدا کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ کسی کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتا ہے کہ خدا کے علاوہ دوسرے بھی معبود ہیں جن کی بندگی کی جانی چاہیے۔ سعید ؓ بن جبیر فرماتے ہیں اللہ کے باب میں دھوکہ کھانا یہ ہے کہ انسان جی بھر کر گناہ کرتا رہے اور سمجھے کہ اللہ غفور و رحیم ہے وہ سب گناہ معاف کر دے گا وغیرہ۔ ( قرطبی، فتح البیان )
Read the full tafseer →(35:5) لا تغرنکم۔ مضارع منفی تاکید بانون ثقیلہ۔ صیغہ واحد مؤنث غائب غرور (باب نصر) مصدر سے۔ بمعنی دھوکہ دینا۔ بہکانا۔ فریب دینا۔ غلط طمع دلانا۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو فریب نہ دے۔ وہ تم کو بہکانہ دے۔
یغرنکم باللہ۔ مضارع واحد مذکر غائب تاکید بانون ثقیلہ۔ وہ تم کو اللہ کے بارہ میں دھوکہ میں نہ ڈال دے۔
الغرور۔ دھوکہ ۔ بےجا غرور۔ دھوکہ کا ذریعہ۔ علامہ اصمعی کہتے ہیں : غرور اسے کہتے ہیں کہ جو تجھے دھوکہ اور فریب میں مبتلا کر دے فریبی۔ مکار۔ دھوکہ باز۔ کیونکہ سب سے بڑا دھوکہ باز شیطان ہے۔ اس لئے یہاں اس آیت میں غرور سے مراد شیطان ہے۔ ولا یغرنکم باللہ الغرور۔ اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن ۔ (آیت نمبر 1 تا 7) فاطر (پیدا کرنے والا) جاعل ( بنانے والا) اجنحۃ ( جناح) (پر ۔ بازو) مثنی۔ (دو دو) ثلث۔ ( تین تین) ربع ( چار چار) لایفتح (وہ نہیں کھولتا ہے) ممسک ( روکنے والا) انی (کہاں) تو فکون (الٹے پھرے جا رہے ہیں) لا تغرن ( ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے) الغرور (دھوکا ، فریب) حزب ( جماعت) مغفرۃ (معافی) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 :۔ اس کائنات میں جتنی بھی قابل تعریف خوبیاں ہیں وہ اس اللہ کی ذات کے لئے مخصوص ہیں جو ارض و سماء کا مالک اور سب کا رازق ہے۔ کائنات میں ہر طرف اس کی عظمت کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں ۔ اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی کہ اللہ نے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(ف 3) ان آیتوں میں ارشاد ہے اے لوگوتم پر جو خدا کی نعمت ہے اس کو یاد کرو اور اس کا شکر ادا کروسوائے خدا کے تمہارا کوئی اور پیدا کرنے والا ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہو، جب نہیں ہے تو اسی کی تابعداری میں کوشش کرو اور سب جھگڑوں کو چھوڑ دو ، جب اسی نے پیدا کیا اور کھانے پینے کو بھی وہی دیتا ہے تو اس کے برابر تمہارے اوپر کسی کا حق ہے تمہارے رگ اور پٹھوں میں اس کے انعامات سرایت کررہے ہیں اور خود اس کے بنائے ہوئے ہو پھر اس کو چھوڑ کر کہاں جاتے ہو اور اپنے محسن کو کیوں بھولے ہوئے ہو، آگے فرمایا کہ اے محبوب تم کو یہ کافر جھوٹابتادیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول ہوچکے ہیں…
Read the full tafseer →[2] دنیا کی زندگی کا دھوکے میں ڈالنا یہ ہے کہ آدمی اس کی لذتوں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھول جائے اور شیطان کا دھوکہ دینا یہ کہ آدمی کے دل میں یہ وسوسہ ڈالے کہ گناہوں سے مزہ اٹھا لو، اللہ غفورُ رَّحیم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
ف 2: ان دو آیتوں میں توحید کی حقیقت بیان فرمائی ہے ۔ کہ تمام اختیارات اور قدرتیں صرف اس اللہ سے مختص ہیں ۔ کوئی شخص اس کے ارادوں میں مزاحمت نہیں کرسکتا ۔ وہ اگر کسی شخص کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو پھر کوئی خشص ان دروازوں کو مسدود نہیں کرسکتا ۔ اگر کسی شخص پر اس کے فضل وکرم کے ابواب بند ہوجائیں ۔ تو پھر کوئی بڑی سے بڑی شخصیت بھی ان کو کھول دینے پر قادر نہیں وہ تنہا اس کائنات کا حاکم ہے تم صرف اسی کے ممنون احسان بنو ۔ اور کسی ماسوا سے سے رزق کی توقع نہ رکھو ۔
حل لغات :۔ الغرور ۔ دھوکہ دینے والا شیطان الشعیر ۔ آگ ۔
Read the full tafseer →(5) اے لوگو ! یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے سو تم کو دنیوی زندگی کہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور تم کو خدا کے بارے میں وہ دھوکے باز یعنی شیطان کسی دھوکے میں مبتلا نہ کر دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وعدے سزا اور جزا کے کئے ہیں اور بعث اور حشرونشر کے جو وعدے تم سے کئے ہیں وہ سب برحق ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کی زندگی تم کو فریب دے دے یا دغاباز شیطان تم کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی جانب سے کسی فریب میں مبتلا کر دے۔ دنیا کی زندگی کا دھوکہ یہی کہ اس زندگی میں منہمک ہو کر آخرت سے غافل ہو جائو اور شیطان کا دھوکہ یہی کہ وہ تم کو سمجھا دے کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو جانا نہیں اور وہ تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 4۔ کہ اس میں منہمک ہو کر اس یوم موعود سے غافل رہو۔
Read the full tafseer →اے لوگو ! اللہ کا وعدہ حق ہے کوئی دھوکا دینے والا تم کو دھوکے میں مبتلا نہ کردے
5 ۔ زیر نظر آیت میں وعدہ سے مراد بلا شبہ وعدہ قیامت ہی ہے جس کو انسان دنیوی زندگی میں مبتلا ہو کر اکثر بھول جاتا ہے اور دنیوی زندگی کی خواہشات اور اہوا اسکو آخرت یاد نہیں آنے دیتیں اور اس شہد کو چاٹنے میں انسان ایسا مصروف ہوتا ہے کہ آخرت کو بھول ہی جاتا ہے اور اس شہد کو چاٹتے ٹتے اس کی زندگی ہوجاتی ہے اس میں اس کو بتایا جارہا ہے کہ ہوشیار ہو کر اپنے ارد گرد کو دیکھو کہ کتنے لوگ ہیں جو یہاں سے تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے رخصت ہوگئے اور آج ان کے نام ونشان بھی باقی نہیں رہا اور آنے والے کل میں تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
Commentary
The word: غَرُورُ (gharur) is an emphatic form of an adjective that means one who is very deceiving (hence, rendered here as 'big deceiver' ). It refers to the Shaitan (Satan) whose sole job is to deceive people and throw them into disbelief and sin. And the expression لَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ (5) means 'nor should you be deceived about Allah'. To explain this deception, it can be said that the Shaitan may not, by showing your evil deeds as good, cause you to become so involved with these that you reach the stage when you go on committing a sin and, at the same…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
10 "The promise" implies the promise of the Hereafter to which allusion was made in the preceding sentence, saying: 'All affairs shall ultimately be presented before Allah.
11 "Let not...deceive you": "Deceive you that the world is an end in itself: that there is no Hereafter when one will have to render an account of one's deeds: or that even if there is the Hereafter, the one who is enjoying life here will enjoy life there, too."
12 "Great deceiver": Satan, as is evident from the next sentence. And "deceive you concerning Allah" means: (Il That he should stake some people believe that Allah…
Read the full tafseer →