Explained with ayahs 4–6
مایوسی کی ممانعت۔
اے نبی ﷺ اگر آپ کے زمانے کے کفار آپ کی مخالفت کریں اور آپ کی بتائی ہوئی توحید اور خود آپ کی سچی رسالت کو جھٹلائیں۔ تو آپ شکستہ دل نہ ہوجایا کریں۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا۔ سب کاموں کا مرجمع اللہ کی طرف ہے۔ وہ سب کو ان کے تمام کاموں کے بدلا دے گا اور سزا جزا سب کچھ ہوگی، لوگو قیامت کا دن حق ہے وہ یقیناً آنے والا ہے وہ وعدہ اٹل ہے۔ وہاں کی نعمتوں کے بدلے یہاں کے فانی عیش پر الجھ نہ جاؤ۔ دنیا کی ظاہری عیش کہیں تمہیں وہاں کی حقیقی خوشی سے محروم نہ کر دے۔ اسی طرح شیطان مکار سے بھی ہوشیار رہنا۔ اس کے چلتے پھرتے جادو میں نہ پھنس جانا۔ اس کی جھوٹی اور چکنی چپڑی باتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة فَاطِر 10
وعدے سے مراد آخرت کا وعدہ ہے جس کی طرف اوپر کے اس فقرے میں اشارہ کیا گیا تھا کہ تمام معاملات آخر کار اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔
سورة فَاطِر 11
یعنی اس دھوکے میں کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیا ہے، اس کے بعد کوئی آخرت نہیں ہے جس میں اعمال کا حساب ہونے والا ہو۔ یا اس دھوکے میں کہ اگر کوئی آخرت ہے بھی تو جو اس دنیا میں مزے کر رہا ہے وہ وہاں بھی مزے کرے گا۔
سورة فَاطِر 12
" بڑے دھوکے باز " سے مراد یہاں شیطان ہے، جیسا کہ آگے کا فقرہ بتارہا ہے۔ اور " اللہ کے بارے میں " دھوکا دینے سے مراد یہ ہے کہ وہ کچھ لوگوں کو تو یہ باور کرائے کہ خدا سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اور کچھ لوگوں کو اس غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
معارف و مسائل
(آیت) لایغرنکم باللہ الغرور، غرور بفح غین مبالغہ کا صیغہ ہے، جس کے معنی ہیں بہت دھوکہ دینے والا اور مراد اس سے شیطان ہے کہ اس کا کام ہی لوگوں کو دھوکہ میں ڈال کر کفر و معصیت میں مبتلا کرنا ہے اور یغرنکم باللہ یعنی وہ تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکہ نہ دیدے، اس دھوکہ سے مطلب یہ ہے کہ شیطان برے کاموں کو اچھا ثابت کر کے تمہیں اس میں مبتلا نہ کر دے اور تمہارا حال یہ ہوجائے کہ گناہ کرتے رہو اور ساتھ ہی یہ سمجھتے رہو کہ ہم اللہ کے نزدیک مقبول ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →آیت 6
یعنی شیطان تمہارا دشمن اور کھلا ہوا دشمن ہے تو اپنے دشمن کو دشمن ہی سمجھو اور اس کی چالوں سے بچ کے رہو۔ یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ وہ تو تمہارا دشمن ہے لیکن تم نے اس کو اپنا مرشد سمجھ کر اپنی باگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے ! اگر اپنی باگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے تو اس کا انجام سن لو کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ اس کی پارٹی میں شامل ہوجائیں وہ ان سب کو جہنم کے گھاٹ پر لے جا اتارے۔
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی اس سے سخت عداوت رکھو، اس کے فریب اور ہتھکنڈوں سے بچو، جس طرح دشمن کے بچاؤ کے لئے انسان کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: پچھلے جملے کی مناسبت سے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن فرشتوں کی پروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، اضافہ کردیتا ہے، چنانچہ حضرت جبرئیل ؑ کے چھ سو پروں کی تعداد حدیث میں آئی ہے، لیکن الفاظ عام ہیں، اور ہر تخلیق کو شامل ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی تخلیق میں چاہتا ہے، کسی خاص وصف کا اضافہ فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →فاتخذوہ عدوا (35: 6) ” لہٰذا تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو “۔ اس کی طرف نہ جھکو ، اسے اپنا ناصح نہ سمجھو ۔ اس
کے نقش قدم پر نہ چلو کیونکہ دشمن ، دشمن کے قدم پر نہیں چلا کرتا۔ اگر وہ عقلمند ہے کیونکہ دشمن انسان کو کبھی بھی بھلائی کی طرف نہیں بلاتا اور نہ دشمن دشمن کی فلاح ونجات چاہتا ہے ۔
انما یدعوا جزبہ لیکوامن اصحب السعیر (35: 6) ” وہ تو اپنے پیردوں کو اپنی راہ پر اس لیے چلا رہا ہوتا ہے کہ وہ دو زخیوں میں شامل ہوجائیں “۔ کیا کوئی عاقل یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ وہ جہنمیوں میں سے ہوجائے ۔
یہ ایک وجدانی احساس ہے ۔ جب انسان اس بات کو ذہن میں رکھ لے کہ اس کے اور شیطان کے درمیان معرکہ جاری ہے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
2 یعنی قیامت آنی ہے اور یقینا سب کو اللہ تعالیٰ کی بڑی عدالت میں حاضر ہونا ہے۔ اس دنیا کی ٹیپ ٹاپ اور فانی عیش و بہار پر نہ پھولو اور اس مشہور دغا باز شیطان کے دھوکہ میں مت آؤ۔ وہ تمہارا ازلی دشمن ہے۔ کبھی اچھا مشورہ نہ دے گا۔ یہ ہی کوشش کرے گا کہ اپنے ساتھ تم کو بھی دوزخ میں پہنچا کر چھوڑے طرح طرح کی باتیں بنا کر خدا اور آخرت کی طرف سے غافل کرتا رہے گا۔ چاہیے کہ تم دشمن کو دشمن سمجھو اس کی بات نہ مانو۔ اس پر ثابت کردو کہ ہم تیری مکاری کے جال میں پھنسنے والے نہیں۔ خوب سمجھتے ہیں کہ تو دوستی کے لباس میں بھی دشمنی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 6 { اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَـکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا } ”یقینا شیطان تمہارا دشمن ہے ‘ چناچہ تم بھی اس کو دشمن ہی سمجھو !“
{ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَہٗ لِیَکُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ } ”یہ تو بلاتا ہے اپنے ہی گروہ کے لوگوں کو تاکہ وہ جہنم والوں میں سے ہوجائیں۔“
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایسا انسان جس کی نیت درست نہیں اور اس کے اندر شیطانی رجحانات بالقوہ potentially موجود ہیں وہ شیطان کا آسان شکار ہے۔ چناچہ شیطان ہر ایسے انسان کی طرف خصوصی طور پر دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑنے کے بعد اسے راستے میں نہیں چھوڑتا ‘ بلکہ اس کی منزل جہنم تک پہنچا کر دم لیتا ہے۔ دوسرے…
Read the full tafseer →10 لہذا اے لوگو ! تم شیطان کے فریب میں نہ آجانا۔ اس کی ایک بھی بات نہ ماننا۔ وہ پہلے دن سے تمہارا دشمن ہے۔ لہذا تم اسے دشمن ہی سمجھو گے تو اسی میں تمہاری عافیت ہے وہ کبھی تمہارا دوست نہیں بن سکتا۔ وہ شرکیہ عقائد و بدعات خواہ کس خوبصورت انداز میں پیش کرے اور تم اسے کار ثواب اور اس میں فلاح دارین ہی سمجھنے لگو حقیقت میں وہ تمہارے ساتھ دشمنی کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا تو اولین مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اکیلا دوزخ میں نہ جائے بلکہ جنوں اور انسانوں کی ایک کثیر تعداد کو اپنا ساتھی بناکر اپنے ہمراہ دوزخ میں لے جائے۔
Read the full tafseer →11۔ شیطان اگر کوئی واقعی ایک خارجی مخلوق اور انسان کی اتنی شدید دشمن نہیں تو آخر قرآن مجید اس کثرت اور شدومد سے اس کا اور اس کی خباثتوں کا ذکر کیوں کرتا ہے ؟ (آیت) ” فاتخذوہ عدوا “۔ اس سے برتاؤ بھی وہی رکھو جو دشمن کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ قدم قدم پر اس کی مخالفت کرو۔ اور اس کی اصلی مخالفت یہی ہے کہ توحید وطاعت کی راہ اختیار کرو۔ (آیت) ” حزبہ “۔ یعنی اپنے پیروؤں کو (آیت) ” انما ..... السعیر “۔ گویا دعوت شیطانی کا کھلا ہوا نتیجہ دوزخی ہونا ہے۔ (آیت) ” لیکونوا “۔ میں ل عاقبت کا ہے۔ اے انما یقصد ان یضلکم حتی تدخلوا معہ الی عذاب السعیر (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفوں کا سزاوار وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا کسی سابقہ نمونہ کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون سے اپنی حمد بیان فرمائی ہے، جیسا کہ سورة سبا کے شروع میں بیان کیا گیا تھا اور جو فرشتوں کو انبیاء کی جانب پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین چارچار پر ہیں اور وہ ملائکہ کی تخلیق میں جو چاہے اضافہ کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ یقیناً پر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے جو رحمت مثلاً رزق اور بارش کھول دے تو اسے بند کرنے والا نہیں اور ان میں سے جس کو بند کردے اس کے بند کرنے…
Read the full tafseer →ان الشیطن لکم عدو . بلاشبہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔ تم سے اس کی عداوت پرانی ہے اور برابر چلی آرہی ہے۔
فاتخذوہ عدوا اس لئے تم اس کو اپنا دشمن ہی یقین کرو۔ اپنے تمام احوال میں اس کے وسوسے سے بچتے رہو ‘ اس کا کہنا
نہ مانو ‘ اس کی مرضی کے خلاف محض اللہ کی اطاعت کرو۔ محبت کا تقاضا ہے کہ محبوب جس کام کو پسند کرے ‘ وہی کیا جائے تاکہ اس کی رضامندی حاصل ہو اور دشمنی کا تقاضا ہے کہ جو کام دشمن کو پسند ہو ‘ وہ نہ کیا جائے اور اس کو غصہ کی آگ میں جلایا جائے۔
انما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحب السعیر . شیطان تو بس اپنے گروہ کو (یعنی اپنی اتباع کرنے والے
آدمیوں کو گناہ ‘ اتباع خواہشات اور دنیا کی طرف میلان رکھنے…
Read the full tafseer →بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے دین الہی اور اطاعت خداوندی میں ہرگز اس کی اطاعت مت کرو وہ تو اپنے گروہ اور اپنے ماننے والوں کو اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ بھی دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں جمع ہوجائیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ : شیطان تمہارا دشمن ہے، تمہارے ساتھ اس کی عداوت قدیم اور قیامت تک کے لیے دائمی ہے، جس کی بنیاد حسد پر ہے اور حاسد کی عداوت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ سورة کہف میں اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ ۭ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا) [ الکہف : 50 ] ”اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ جنوں میں سے تھا، سو اس نے…
Read the full tafseer →آیت : ان الشیطان لکم عدو فا تخذوہ عدوا پس تم بھی اس سے دشمنی کرو اور اس کی اطاعت نہ کرو اس کا تمہارے جد اعلیٰ کو جنت سے نکالنا اس کی دشمنی پر دلالت کرتا ہے اور اس کا تمہیں گمراہ کرنے کی ضمانت اٹھانا ولا ضلنھم ولا منینھم اللہ تعالیٰ ہمیں خبر دی کہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے اللہ تعالیٰ نے شیطان کا قصہ اور اس نے ہمارے جد اعلیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ جو کچھ کیا اس کو بیان کیا۔ شیطان نے ہمارے سے پہلے اور اس کے بعد کیسے ہماری عداوت اور دھوکہ دینے کا اطلاق کیا اور ہم اس کے با وجود اس سے دوستی کرتے ہیں اور ہم اس کی ان امور میں اطاعت کرتے ہیں جس میں وہ ہماری ہلاکت کا ارادہ کرتا ہے۔ حضرت فضیل بن…
Read the full tafseer →2:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدوا “ (کہ بلاشبہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس کو دشمن بناؤ) یعنی اس سے دشمنی رکھو کیونکہ ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ اس سے دشمنی رکھے اور اس سے دشمنی یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کرکے اس سے دشمنی رکھے (آیت) ” انما یدعوا حزبہ “ (وہ بلاتا ہے اپنے گروہ کو) یعنی اپنے دشمنوں کو (آیت) ” لیکونوا من اصحب السعیر “ (تاکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوجائیں) یعنی ان کو ہانک کر جہنم کی طرف لے جائیں اور یہ اس کی دشمنی ہے (انسان کے ساتھ )
3:۔ ابن جریر وا بن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما…
Read the full tafseer →اِنَّ الشَّيْطٰنَ [بیشک شیطان ] لَكُمْ عَدُوٌّ [تمہارے لئے دشمن ہے ] فَاتَّخِذُوْهُ [پس تم لوگ بناؤ (سمجھو) اس کو ] عَدُوًّا ۭ [دشمن (ہی)] اِنَّمَا يَدْعُوْا [وہ تو بس دعوت دیتا ہے ] حِزْبَهٗ [اپنے گروہ کو ] لِيَكُوْنُوْا [تاکہ وہ سب ہوجائیں ] مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ [آگ والوں میں سے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
اس کے بعد توحید اور رسالت کے منکرین سے خطاب فرمایا کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور ایمان اور کفر کا بدلہ دیا جائے گا یہ وعدہ حق ہے اور پورا ہو کر رہے گا، تمہیں دنیا والی زندگی دھوکہ میں نہ ڈالے (جس کا ہرا بھرا ہونا تمہیں اپنی طرف کھینچتا ہے اور آخرت کے ماننے سے اور آخرت میں نفع دینے والے کاموں سے روکتا ہے) ایک طرف تو دنیا کی سرسبزی ہے دوسری طرف شیطان تمہارے پیچھے لگا ہوا ہے اس سے چوکنے اور ہوشیار رہو، وہ تمہارا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھو، وہ تمہیں دھوکہ نہ دے، اس کے دھوکہ دینے کے جتنے طریقے ہیں ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دھوکہ دیتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تحمید خداوند حمید ومجید برائے اثبات توحید وتذکیر نعم وتحذیر از نقم
قال تعالیٰ الحمد للہ فاطر السموت والارض جاعل الملئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم بما یصنعون۔
(ربط) گذشتہ سورت کے اخیر میں کفار ومشرکین کی ہلاکت کا ذکر تھا کہ ان پر اللہ کا قہر نازل ہوا۔ اور ہلاک اور برباد ہوئے اور کافروں کی ہلاکت اور بربادی اللہ کی نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے۔ کما قال تعالیٰ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔
اس لئے اس سورت کا آغاز اللہ کی حمد وثنا سے کیا گیا (روح المعانی ص 148 ج 22) اور اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا ذکر کر کے شکر پر متنبہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
9:۔ یا ایہا الناس الخ : یہ تخویف اخروی ہے۔ الغرور بفتح عین، دھوکہ دینے والا مراد شیطان ہے۔ اور بضم غین مصد رہے یعنی دھوکہ دینا۔ وعد اللہ سے قیامت اور جزاء و سزا مراد ہے۔ وعداللہ بالبعث والجزاء (مدارک ج 3 ص 255) ۔ اللہ کی توحید کو مان لو ورنہ آخرت میں دردناک سزا ملے گی۔ قیامت کا آنا اور جزاء و سزا برحق ہے اس میں تخلف نہیں ہوگا۔ دنیا کی لذات اور عیش و نشاط سے دھوکا نہ کھاؤ کہ یہ ہمیشہ رہیں گی اور نہ شیطان کے بہکانے سے فریب کھاؤ۔ ان الشیطان الخ : شیطان کی انسان دشمنی ور اس کے فریب کا بیان ہے کہ شیطان تمہارا پرانا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھنا کہیں اس کے فریب میں آ کر اس کی بات نہ مان لینا کیونکہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ربط آیات
گزشتہ درس میں حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کو تکالیف پہنچاتے ہیں تو آپ ان سے خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ پہلے لوگ بھی اسی طرح اپنے رسولوں کو جھٹلاتے رہے۔ تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں۔ وہ ان مکذبین کو ضرور سزا دے گا۔ اسکے بعد اللہ نے عام بنی نوع انسان کو خبردار کیا ہے کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس کے اغوا سے بچنے کی کوشش کرتے رہو۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے ، قیامت ضرور واقع ہوگی۔ محاسبے کا وقت آئے گا اور پھر جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسباب ضلالت میں سے دو اسباب کا ذکر…
Read the full tafseer →اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا 0 ۭ اِنَّمَا يَدْعُوْا حِزْبَہٗ لِيَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 6ۭ
شطن
الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112]
( ش ط ن ) الشیطان
اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ترکیب : غیر اللہ یقرء بالرفع و فیہ و جہان احد ھما ھو صفۃ لخالق علی الموضع و خالق مبتداء و الخبر محذوف تقدیرہ لکم او للاشیاء و الثانی ان یکون فاعل خالق ای ھل یخلق غیر اللہ شیئا ویقر ‘ بالجر علی الصفۃ لفظا یرزقکم یجوزان یکون مستانفا و یجوزان یکون صفۃ لخالق الذین کفروا یجوزان یکون مبتداء و ما بعدہ الخبروان یکون صفۃ لحزبہ او بدلا منہ وان یکون فی موضع جرصفۃ لاصحاب السعیر من التبیان۔
تفسیر : اس کے بعد خدا تعالیٰ اپنی نعماء کو یاد دلاتا ہے۔ فقال یا ایھا الناس اذکروا نعمت اللہ کہ لوگو میری نعمتوں کو یاد کرو، پھر ان نعمتوں کی تفصیل کرتا ہے۔ ھل من خالق غیر اللہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی پیدا کرنے…
Read the full tafseer →اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَـکُمْ عَدُوٌّفَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا ط اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَـہٗ لِیَکُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۔ (فاطر : 6)
(بےشک شیطان تمہارا دشمن ہے، پس تم بھی اس کو اپنا دشمن ہی سمجھو، وہ تو اپنی جماعت کو اس لیے بلاتا ہے کہ وہ اہل جہنم میں شامل ہوجائیں۔ )
شیطان کا انسان سے تعلق
گزشتہ آیت میں شیطان کے فریب سے بچنے کی ہدایت فرمائی تھی اب اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان تمہارا حقیقی دشمن ہے۔ اس نے تمہارے جدِامجد حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے جھکنے سے انکار کرکے پہلے ہی دن اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا۔ اور پھر پروردگار سے مہلت مانگتے ہوئے بھی صاف صاف کہا کہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : سب نے ” اللہ “ کی طرف لوٹ کر جانا ہے یہ ایک اعلان ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں کے ساتھ وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔
ہر کسی نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اس لیے سمجھایا گیا ہے کہ لوگو ! اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور پکا ہے کہ بالآخر تمہیں اپنے اعمال کے ساتھ میرے حضور پیش ہونا ہے۔ لہٰذا دنیا کے دھندوں اور مفادات میں پھنس کر اپنے رب کے وعدے کو بھول نہ بیٹھنا اور نہ ہی اپنے رب کے بارے میں شیطان کے فریب میں آنا۔ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھنا اور اس سے بچتے رہنا وہ اپنے پیچھے چلنے والوں کو جہنم کی طرف ہی بلاتا اور دھکیلتا ہے۔ دوسرے مقام پر شیطان کی شیطنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
شیطان سے دشمن والا معاملہ کرو نہ کہ دوست والا :
6، 7: اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمْ (شیطان بیشک تمہارا دشمن ہے) اس کی دشمنی کھلی ہوئی ہے اس نے تمہارے باپ کے ساتھ جو کچھ کیا اس کے بعد بھی تم اس سے ایسا معاملہ کر رہے ہو جیسا اس شخص سے کیا جاتا ہے جس کے حالات سے بیخبر ی ہو۔ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا (پس تم اسکو دشمن سمجھتے رہو) اپنے عقائد و افعال کے سلسلہ میں اور تمہاری طرف سے ظاہر و باطن میں اسکے ساتھ ایسا سلوک ہونا چاہیے جو اس کی دشمنی پر دلالت کرنے والا ہو۔ پھر آیت کے اگلے حصہ میں اس کے پوشیدہ معاملے کا خلاصہ بیان کردیا اور اس آدمی کی خطا کاری ذکر کردی جو اس کی پیروی کرتا ہے کیونکہ شیطان کی اصل غرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6، ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدو، وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے سے دورکرے گا۔ لہٰذا تم اس کی پیروی نہ کرو۔ ، انما ید عوان حزبہ، اس کے بڑے بڑے سردار اس کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ، لیکونوامن اصحاب السعیر، تاکہ ان کے ساتھ مل کردوزخیوں میں اضافہ ہو۔ پھر ان کے مخالفین کے احوال کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
3 تا 7۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جس طرح پیدا کرنا اور روزی کا دینا فقط اسی کا کام ہے نہ کسی اور کا ایسے ہی سوائے اس کے اور کسی کو پوجنا نہیں چاہئے مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرایا جاوئے اور جب اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو پھر تم بعد اس کے ان کھلی ہوئی باتوں سے کہاں سے الٹے جاتے ہو او بتوں کو پوجتے ہو اور اگر اے محمد ﷺ مشرک لوگ تم کو جھٹلادیں اور توحید کو نہ مانیں تو تمہیں پہلے رسولوں کی چال چلنی چاہئے کیوں کہ وہ بھی اپنی قوموں کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لائے تھے ‘ لیکن ان لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور مخالفت کی مطلب یہ کہ یہ کچھ نئی بات نہیں ہے اس لیے ان کے جھٹلانے پر اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
آیت 5
(یا یھا الناس ان وعدا للہ) ” اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ “ یعنی مرن یکے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ (حق) ” حق ہے۔ “ اس میں شک و شبہ اور کوئی تردد نہیں، سا پر تمام دلائل نقلیہ اور براہین عقلیہ دلالت کرتے ہیں۔ جب اس کا وعدہ سچا ہے تو اس کے لئے تیاری کرو اپنے اچھے اوقات میں نیک اعمال کی طرف سبقت کرو اور کوئی راہزن تمہاری راہ کھوٹی نہ کرنے پائے۔ (فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا) ” لہٰذا دنیاوی زندگی تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے “ اپنی لذات و شہوات اور اپنے نفسانی مطالبات کے ذریعے سے تمہیں ان مقاصد سے غافل نہ کر دے جن کے لئے تمہیں تخلیق کیا گیا ہے۔ (ولایغرنکم باللہ الغرور)…
Read the full tafseer →15 شیطان کو دشمن سمجھنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ شیطان تمہارا دشمن ہے "۔ پس تم اس کو اپنا دشمن ہی سمجھنا۔ پس تم لوگ اس کی ترغیبات کو چھوڑ کر اور اس کی تحریصات کو توڑ کر اور اپنے خالق ومالک کے احکام کو دل و جان سے اپنا کر اور اسی کے بندے بن کر زندگی گزارو اور ہر وقت اور ہر حال میں اسی کی رضا و خوشنودی کو حاصل کرنے کی کوشش کرو ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں یہ تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ پس تم اس کو دشمن ہی سمجھو اور اس کی چالوں سے بچ کر رہو کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا مقصد اور محور یہ ہے کہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
شیطان انسان کا دشمن ہے
تشریح : اوپر دی گئی آیات کو جب ہم غور سے پڑھ لیتے ہیں تو ہمیں اللہ کی قدرت کا پورا یقین ہوجاتا ہے پھر ہمیں اس کا پروگرام سمجھ آ نے لگتا ہے اور یوں تو کل مضبوط ہوجاتا ہے۔ پھر مضبوط ایمان و ارادہ ہمیں شیطان سے نمٹنے کی پوری طاقت دے دیتا ہے اور ہم اپنے نیکی کے فرشتوں کی مدد سے اس کو ہرا دیتے ہیں اسی کو کہتے ہیں مرد کامل یعنی کامیاب انسان۔ فرشتوں کا ذکر ہوچکا اب ذرا شیطان کا مطلب بھی سمجھ لیا جائے تو شیطان جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے برائی کرنے والا، برا راستہ دکھانے والا۔ انسان کی پیدائش پر شیطان ناراض ہوگیا تھا کیونکہ یہ بھی انسان کی طرح عمل اور ارادہ کی طاقت رکھتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 7:
اسرار و معارف :
سورۃ فاطر اسی مضمون کو لیکر آگے بڑھتی ہے کہ تمام تر کمالا صرف اللہ واحد کو سزاوار ہیں کہ وہ اکیلا خالق ہے آسمانوں اور زمینوں کا ان کی تمام تر مخلوقات اور مخلوقات کے تمام تر اوصاف کا فرشتے بھی اس کی مخلوق ہیں جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں اس کے اور اس کی دوسری مخلوق کے درمیان واسطے کا کام کرتے ہیں جیسے سب سے اعلی انبیاء (علیہم السلام) اور ان پر وحی لانے کا کام مخلوق کو روزی روزق پہنچانے یا عذاب وثواب اور صحت و بیماری یعنی وہ خود ہر آن اللہ کی اطاعت پر کمر بستہ ہیں نہ یہ کہ انہیں معبود بنا لیا جائے ان کی قوت و طاقت اللہ ک عطا کردہ ہے جیسے کسی کو دو…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی تمہاری دنیا و آخرت دونوں تباہ کرنا چاہتا ہے۔ تم اس کی چال میں نہ آئو، اس کی کوئی بات نہ مانو اور جو بات تمہارے دل میں ڈالے اسکی مخالفت کرو۔ ( ابن کثیر وغیرہ)
5 یعنی ان لوگوں کو جو اس کا کہا مانتے اور اس کے بتائے ہوئے رشتہ پر چلتے ہیں۔
Read the full tafseer →(35:6) یدعوا۔ مضارع واحد مذکر غائب (تحقیق) وہ بلاتا ہے، دعوت دیتا ہے۔ دعوۃ مصدر سے۔ باب نصر۔
حزبہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا گروہ ، اس کی جماعت، (اپنے گروہ کو) ۔ لیکونوا۔ لام تعلیل کا ہے۔ یکونوا اصل میں یکونون تھا۔ لام کے عمل سے نون اعرابی گرگیا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ تاکہ وہ ہوجائیں ۔
اصحب السعیر۔ مضاف مضاف الیہ دوزخ والے۔ جہنم والے۔ جہنمی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن ۔ (آیت نمبر 1 تا 7) فاطر (پیدا کرنے والا) جاعل ( بنانے والا) اجنحۃ ( جناح) (پر ۔ بازو) مثنی۔ (دو دو) ثلث۔ ( تین تین) ربع ( چار چار) لایفتح (وہ نہیں کھولتا ہے) ممسک ( روکنے والا) انی (کہاں) تو فکون (الٹے پھرے جا رہے ہیں) لا تغرن ( ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے) الغرور (دھوکا ، فریب) حزب ( جماعت) مغفرۃ (معافی) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 :۔ اس کائنات میں جتنی بھی قابل تعریف خوبیاں ہیں وہ اس اللہ کی ذات کے لئے مخصوص ہیں جو ارض و سماء کا مالک اور سب کا رازق ہے۔ کائنات میں ہر طرف اس کی عظمت کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں ۔ اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی کہ اللہ نے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(ف 3) ان آیتوں میں ارشاد ہے اے لوگوتم پر جو خدا کی نعمت ہے اس کو یاد کرو اور اس کا شکر ادا کروسوائے خدا کے تمہارا کوئی اور پیدا کرنے والا ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہو، جب نہیں ہے تو اسی کی تابعداری میں کوشش کرو اور سب جھگڑوں کو چھوڑ دو ، جب اسی نے پیدا کیا اور کھانے پینے کو بھی وہی دیتا ہے تو اس کے برابر تمہارے اوپر کسی کا حق ہے تمہارے رگ اور پٹھوں میں اس کے انعامات سرایت کررہے ہیں اور خود اس کے بنائے ہوئے ہو پھر اس کو چھوڑ کر کہاں جاتے ہو اور اپنے محسن کو کیوں بھولے ہوئے ہو، آگے فرمایا کہ اے محبوب تم کو یہ کافر جھوٹابتادیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول ہوچکے ہیں…
Read the full tafseer →[3] یعنی اپنے پیروؤں کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
ف 2: ان دو آیتوں میں توحید کی حقیقت بیان فرمائی ہے ۔ کہ تمام اختیارات اور قدرتیں صرف اس اللہ سے مختص ہیں ۔ کوئی شخص اس کے ارادوں میں مزاحمت نہیں کرسکتا ۔ وہ اگر کسی شخص کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو پھر کوئی خشص ان دروازوں کو مسدود نہیں کرسکتا ۔ اگر کسی شخص پر اس کے فضل وکرم کے ابواب بند ہوجائیں ۔ تو پھر کوئی بڑی سے بڑی شخصیت بھی ان کو کھول دینے پر قادر نہیں وہ تنہا اس کائنات کا حاکم ہے تم صرف اسی کے ممنون احسان بنو ۔ اور کسی ماسوا سے سے رزق کی توقع نہ رکھو ۔
حل لغات :۔ الغرور ۔ دھوکہ دینے والا شیطان الشعیر ۔ آگ ۔
Read the full tafseer →(6) یقین مانو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے پس تم بھی اس کو اپنا دشمن ہی سمجھو وہ تو اپنی جماعت اور اپنے گروہ کو صرف اس لئے بلاتا ہے کہ وہ لوگ دوزخ والوں میں شامل ہوجائیں۔ یعنی شیطان کی عداوت تو ظاہر اور کھلی ہوئی ہے تمہارے باپ کے وقت سے یہ دشمنی چلی آتی ہے۔ لہٰذا تم بھی اس کو دشمن ہی سمجھو اور اس کا کام ذہن میں رکھو وہ تو اپنے قریب کے لوگوں کو اس لئے بلاتا اور پکارتا اور دعوت دیتا رہتا ہے کہ انسانوں کو فریب دے کر جہنم والوں میں شامل کر دے اور اہل جہنم کی تعداد میں اضافہ کر دے اور اس دغاباز کا کام ہی کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 4۔ کہ اس میں منہمک ہو کر اس یوم موعود سے غافل رہو۔
Read the full tafseer →شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اس کو دشمن سمجھو ورنہ مار کھاجائو گے
6 ۔ دھوکا ، فریب اور مکاری کا ایک نام شیطان ہے یا یوں کہو کہ شیطان مجسمہ ومکر ہے اس کا کام صرف اور صرف انسان کو دھوکے میں ڈالنا ہے اس لئے وہ تمہاری خیر خواہی کی سوگند کھائے ایک نہیں سو بار کہے تو بھی وہ فریب ہی کرے گا اگر وہ تم سے دوستی کے عہد و پیمان کرتا ہے تو کوئی نیا گل کھلائے گا چونکہ وہ جھوٹا ہے اور جھوٹے کا کام ہے کہ وہ قسمیں کھاتا ہے تم بھی اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ وہ تمہارا ازلی دشمن ہے تمہاری وجہ سے جو چوٹ اس کو لگی ہے وہ اس کو کبھی نہیں بھولا اور کبھی اور کبھی نہیں بھولے گا کیونکہ اس کی تکلیف وہ اب تک محسوس کررہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
Commentary
The word: غَرُورُ (gharur) is an emphatic form of an adjective that means one who is very deceiving (hence, rendered here as 'big deceiver' ). It refers to the Shaitan (Satan) whose sole job is to deceive people and throw them into disbelief and sin. And the expression لَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ (5) means 'nor should you be deceived about Allah'. To explain this deception, it can be said that the Shaitan may not, by showing your evil deeds as good, cause you to become so involved with these that you reach the stage when you go on committing a sin and, at the same…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
10 "The promise" implies the promise of the Hereafter to which allusion was made in the preceding sentence, saying: 'All affairs shall ultimately be presented before Allah.
11 "Let not...deceive you": "Deceive you that the world is an end in itself: that there is no Hereafter when one will have to render an account of one's deeds: or that even if there is the Hereafter, the one who is enjoying life here will enjoy life there, too."
12 "Great deceiver": Satan, as is evident from the next sentence. And "deceive you concerning Allah" means: (Il That he should stake some people believe that Allah…
Read the full tafseer →