Explained with ayahs 7–8
اوپر بیان گذرا تھا کہ شیطان کے تابعداروں کی جگہ جہنم ہے۔ اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ کفار کے لئے سخت عذاب ہے۔ اس لئے کہ یہ شیطان کے تابع اور رحمان کے نافرمان ہیں۔ مومنوں سے جو گناہ بھی ہوجائیں بہت ممکن ہے کہ اللہ انہیں معاف فرما دے اور جو نیکیاں ان کی ہیں ان پر انہیں بڑا بھاری اجر وثواب ملے گا، کافر اور بدکار لوگ اپنی بد اعمالیوں کو نیکیاں سمجھ بیٹھے ہیں تو ایسے گمراہ لوگوں پر تیرا کیا بس ہے ؟ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ ہے۔ پس تجھے ان پر غمگین نہ ہونا چاہئے۔ مقدرات اللہ جاری ہوچکے ہیں۔ مصلحت مالک الملوک کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہدایت و ضلالت میں بھی اس کی حکمت ہے کوئی کام اس سچے حکیم…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 13
یعنی خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی اس دعوت کو ماننے سے انکار کردیں گے۔
سورة فَاطِر 14
یعنی اللہ تعالیٰ ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائے گا اور جو نیک عمل انہوں نے کیے ہوں گے ان کا محض برابر سرابر ہی اجر دے کر ہی نہ رہ جائے گا بلکہ انہیں بڑا اجر عطا فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
معارف و مسائل
(آیت) لایغرنکم باللہ الغرور، غرور بفح غین مبالغہ کا صیغہ ہے، جس کے معنی ہیں بہت دھوکہ دینے والا اور مراد اس سے شیطان ہے کہ اس کا کام ہی لوگوں کو دھوکہ میں ڈال کر کفر و معصیت میں مبتلا کرنا ہے اور یغرنکم باللہ یعنی وہ تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکہ نہ دیدے، اس دھوکہ سے مطلب یہ ہے کہ شیطان برے کاموں کو اچھا ثابت کر کے تمہیں اس میں مبتلا نہ کر دے اور تمہارا حال یہ ہوجائے کہ گناہ کرتے رہو اور ساتھ ہی یہ سمجھتے رہو کہ ہم اللہ کے نزدیک مقبول ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →آیت 7
یہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ شدنی کے وضاحت ہے جس کا ذکر اوپر آیت 5 میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے باب میں کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ دنیا نیکی اور بدی، خیر اور شر میں کسی امتیاز کے بغیر یوں ہی چلتی رہے گی۔ جنہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے ان کو شیطان نے خدا کی صفات کے باب میں سخت دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ ایک ایسادن لازماً آنے والا ہے جس دن وہ لوگ عذاب شدید سے دو چار ہوں گے جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور جن لوگوں نے ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاری ہوگی وہ مغفرت اور اجرِ عظیم کے حق دار ٹھہریں گے۔
Read the full tafseer →7۔ 1 یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے دیگر مقامات کی طرح ایمان کے ساتھ، عمل صالح بیان کر کے اس کی اہمیت کو واضح کردیا ہے تاکہ اہل ایمان عمل صالح سے کسی وقت بھی غفلت نہ برتیں، کہ مغفرت اور اجر کبیر کا وعدہ اس ایمان پر ہی ہے جس کے ساتھ عمل صالح ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: پچھلے جملے کی مناسبت سے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن فرشتوں کی پروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، اضافہ کردیتا ہے، چنانچہ حضرت جبرئیل ؑ کے چھ سو پروں کی تعداد حدیث میں آئی ہے، لیکن الفاظ عام ہیں، اور ہر تخلیق کو شامل ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی تخلیق میں چاہتا ہے، کسی خاص وصف کا اضافہ فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ واجرکبیر (7) ” “۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ شیطان کس طرح انسان کو گمراہ کرتا ہے اور شیطان کا عمل اور اس کی گمراہ کن چالیں کیسی ہوتی ہیں ۔ وہ کون سا دروازہ کھول دیتا ہے جس سے ہر قسم کا شرورآتا ہے ۔ کس طرح وہ انسان کو راہ ضلالت پر دور تک لے جاتا ہے تاکہ وہاں سے کوئی واپس نہ آسکے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
3 یعنی شیطان نے جس کی نگاہ میں برے کام کو بھلا کر دکھایا۔ کیا وہ شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے جو خدا کے فضل سے بھلے برے کی تمیز رکھتا ہے۔ نیکی کو نیکی اور بدی کو بدی سمجھتا ہے۔ جب دونوں برابر نہیں ہوسکتے تو انجام دونوں کا یکساں کیونکر ہوسکتا ہے۔ اور یہ خیال نہ کرو کہ کوئی آدمی دیکھتی آنکھوں برائی کو بھلائی کیونکر سمجھ لے گا۔ اللہ جس کو سوء استعداد اور سوء اختیار کی بناء پر بھٹکانا چاہے اس کی عقل اسی طرح اوندھی ہوجاتی ہے اور جس کو حسن استعداد اور حسن اختیار کی وجہ سے ہدایت پر لانا چاہے تب کسی شیطان کی طاقت نہیں جو اسے غلط راستے پر ڈال سکے یا الٹی بات سمجھا دے۔ بہرحال جو شخص شیطانی اغواء سے برائی…
Read the full tafseer →آیت 7 { اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ} ”وہ لوگ جو کفر کی روش اختیار کریں گے ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے۔“
{ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ کَبِیْرٌ} ”اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ‘ ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔“
اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ !
Read the full tafseer →11 یعنی ایماندار نیک اعمال کرنے والوں کے گناہ تو سارے کے سارے معاف کردیئے جائیں گے۔ رہے نیک اعمال تو ان کا بدلہ بھی اعمال کے مطابق نہیں بلکہ ان سے بہت زیادہ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →12۔ (آیت) ” الذین کفروا “۔ یہ پہلا گروہ وہی ہے، جس نے دعوت شیطانی کو قبول کرلیا۔ (آیت) ’ والذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ یہ دوسرا گروہ وہی ہے، جو دعوت شیطانی سے الگ الگ رہا۔ (آیت) ” لھم مغفرۃ واجر کبیر “۔ آیت سے معلوم ہورہا ہے کہ مغفرت تو مرتب ہوگی (آیت) ” ایمان “ پر اور اجر کبیر مرتب ہوگا اعمال صالح پر (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفوں کا سزاوار وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا کسی سابقہ نمونہ کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون سے اپنی حمد بیان فرمائی ہے، جیسا کہ سورة سبا کے شروع میں بیان کیا گیا تھا اور جو فرشتوں کو انبیاء کی جانب پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین چارچار پر ہیں اور وہ ملائکہ کی تخلیق میں جو چاہے اضافہ کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ یقیناً پر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے جو رحمت مثلاً رزق اور بارش کھول دے تو اسے بند کرنے والا نہیں اور ان میں سے جس کو بند کردے اس کے بند کرنے…
Read the full tafseer →الذین کفروا لھم عذاب شدید والذین امنوا وعملوا الصلحت لھم مغفرۃ واجر کبیر
جنہوں نے (ا اللہ کا) انکار کیا (اور شیطان کی پیروی کی) ان کیلئے شدید عذاب ہے اور جنہوں نے (ا اللہ کو) مانا اور نیک کام کئے (اور شیطان کی مخالفت کی) ان کیلئے مغفرت اور بڑا ثواب ہے۔
Read the full tafseer →جو لوگ کافر ہوگئے یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو حضرات ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے جیسا کہ حضرت ابوبکر اور ان کے ساتھی ان کے لیے ان کے دنیاوی گناہوں کی بخشش اور جنت میں اجر عظیم ہے۔
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ: اس آیت میں اپنے فرماں بردار اور نافرمان بندوں کا انجام بیان فرمایا ہے۔
لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ : ”مَّغْفِرَةٌ“ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی بخشش“ کیا گیا ہے۔ ”اَجْرٌ كَبِيْرٌ“ (بہت بڑا اجر) یعنی ان کے لیے ان کے اعمال سے کہیں بڑھ کر اور ان کی سوچ اور فکر سے بھی بڑا اجر ہے۔ یہاں ”اجر کبیر“ سے مراد جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔
Read the full tafseer →آیت : الذین کفروا لھم عذاب شدید، الذین یہ اصحاب سے بدل ہے تو یہ محل جر میں ہوگا یا یہ حذبہ سے بدل ہے تو یہ محل نصب میں ہوگا یا یہ وائو سے بدل ہوگا تو یہ محل رفع میں واقع ہوگا۔ ایک چوتھا قول ہے اور وہ سب سے اچھا ہے کہ یہ مبتدا ہونے کی حیثیت سے مر فوع ہے اور اس کی خبر آیت : لھم عذاب شدید ہے گویا اللہ تعالیٰ نے اس کی موافقت کی حالت کو بیان کیا کلام میں من اصحب السعیر پر مکمل ہوجائے گی، پھر نئی کلام شروع کی فرمایا : آیت : الذین کفروا لھم عذاب شدید۔
آیت : والذین امنوا و عملوا الصلحت مبتدا ہونے کی حیثیت سے محل رفع میں ہے اس کی خبر آیت : لھم مغفرۃ و اجر کبیر ہے ان کے گناہوں کی بخشش اور جنت ہے۔
Read the full tafseer →4:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے (آیت) ” لھم مغفرۃ واجر کبیر “ (ان کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے) کے بارے میں روایت کیا قرآن مجید میں جہاں بھی (آیت) ” لھم مغفرۃ واجر کبیر “ اور رزق کریم کا ذکر ہے اس سے مراد جنت ہے۔
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا [جن لوگوں نے انکار کیا ] لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ڛ [ان کے لئے ایک سخت عذاب ہے ] وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [اور جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ [ان کے لئے مغفرت ہے ] وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ [اور بڑا اجر ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
اس کے بعد توحید اور رسالت کے منکرین سے خطاب فرمایا کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور ایمان اور کفر کا بدلہ دیا جائے گا یہ وعدہ حق ہے اور پورا ہو کر رہے گا، تمہیں دنیا والی زندگی دھوکہ میں نہ ڈالے (جس کا ہرا بھرا ہونا تمہیں اپنی طرف کھینچتا ہے اور آخرت کے ماننے سے اور آخرت میں نفع دینے والے کاموں سے روکتا ہے) ایک طرف تو دنیا کی سرسبزی ہے دوسری طرف شیطان تمہارے پیچھے لگا ہوا ہے اس سے چوکنے اور ہوشیار رہو، وہ تمہارا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھو، وہ تمہیں دھوکہ نہ دے، اس کے دھوکہ دینے کے جتنے طریقے ہیں ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دھوکہ دیتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
تحمید خداوند حمید ومجید برائے اثبات توحید وتذکیر نعم وتحذیر از نقم
قال تعالیٰ الحمد للہ فاطر السموت والارض جاعل الملئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم بما یصنعون۔
(ربط) گذشتہ سورت کے اخیر میں کفار ومشرکین کی ہلاکت کا ذکر تھا کہ ان پر اللہ کا قہر نازل ہوا۔ اور ہلاک اور برباد ہوئے اور کافروں کی ہلاکت اور بربادی اللہ کی نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے۔ کما قال تعالیٰ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔
اس لئے اس سورت کا آغاز اللہ کی حمد وثنا سے کیا گیا (روح المعانی ص 148 ج 22) اور اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا ذکر کر کے شکر پر متنبہ کیا…
Read the full tafseer →10:۔ الذین کفروا الخ : یہ کفار و مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ والذین امنوا الخ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ربط آیات
گزشتہ درس میں حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کو تکالیف پہنچاتے ہیں تو آپ ان سے خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ پہلے لوگ بھی اسی طرح اپنے رسولوں کو جھٹلاتے رہے۔ تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں۔ وہ ان مکذبین کو ضرور سزا دے گا۔ اسکے بعد اللہ نے عام بنی نوع انسان کو خبردار کیا ہے کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس کے اغوا سے بچنے کی کوشش کرتے رہو۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے ، قیامت ضرور واقع ہوگی۔ محاسبے کا وقت آئے گا اور پھر جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسباب ضلالت میں سے دو اسباب کا ذکر…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَہُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ 0ۥۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ 7ۧ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
ترکیب : غیر اللہ یقرء بالرفع و فیہ و جہان احد ھما ھو صفۃ لخالق علی الموضع و خالق مبتداء و الخبر محذوف تقدیرہ لکم او للاشیاء و الثانی ان یکون فاعل خالق ای ھل یخلق غیر اللہ شیئا ویقر ‘ بالجر علی الصفۃ لفظا یرزقکم یجوزان یکون مستانفا و یجوزان یکون صفۃ لخالق الذین کفروا یجوزان یکون مبتداء و ما بعدہ الخبروان یکون صفۃ لحزبہ او بدلا منہ وان یکون فی موضع جرصفۃ لاصحاب السعیر من التبیان۔
تفسیر : اس کے بعد خدا تعالیٰ اپنی نعماء کو یاد دلاتا ہے۔ فقال یا ایھا الناس اذکروا نعمت اللہ کہ لوگو میری نعمتوں کو یاد کرو، پھر ان نعمتوں کی تفصیل کرتا ہے۔ ھل من خالق غیر اللہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی پیدا کرنے…
Read the full tafseer →اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ 5 ط وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌکَبِیْرٌ۔ (فاطر : 7)
(جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے، اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ )
ایک غلط تصور کی تردید
گزشتہ دو آیتوں میں جو کچھ ذکر کیا گیا ہے اسے سمیٹتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ شیطان کے سارے بہکاو وں اور دھوکوں کا حاصل یہ ہے کہ کسی طرح انسان اس معاملے میں یکسو ہوجائے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کسی خاص مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اسے حواس، شعور اور عقل دے کر اپنی مرضی کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : شیطان کے پیچھے لگنے اور قیامت کے دن کو جھٹلانے کا انجام۔ شیطان سے بچنے، آخرت پر ایمان لانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کا انعام۔
قرآن مجید اپنے اسلوب کے مطابق یہاں بھی نیکی اور بدی، اچھائی اور برائی کا نتیجہ بیک مقام ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن کے قاری کوفی الفور معلوم ہو کہ برائی کا انجام کیا ہوگا اور اچھائی کا کیا صلہ ملے گا۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کفر و شرک کیا اور قیامت کی تکذیب کی انہیں جہنم میں شدید عذاب دیا جائے گا۔ جو اللہ اور اس کے رسول پر حقیقتاً ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے۔ ان کی بشری کوتاہیوں کو معاف کرتے ہوئے انہیں اجرِعظیم سے نوازاجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
شیطان سے دشمن والا معاملہ کرو نہ کہ دوست والا :
6، 7: اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمْ (شیطان بیشک تمہارا دشمن ہے) اس کی دشمنی کھلی ہوئی ہے اس نے تمہارے باپ کے ساتھ جو کچھ کیا اس کے بعد بھی تم اس سے ایسا معاملہ کر رہے ہو جیسا اس شخص سے کیا جاتا ہے جس کے حالات سے بیخبر ی ہو۔ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا (پس تم اسکو دشمن سمجھتے رہو) اپنے عقائد و افعال کے سلسلہ میں اور تمہاری طرف سے ظاہر و باطن میں اسکے ساتھ ایسا سلوک ہونا چاہیے جو اس کی دشمنی پر دلالت کرنے والا ہو۔ پھر آیت کے اگلے حصہ میں اس کے پوشیدہ معاملے کا خلاصہ بیان کردیا اور اس آدمی کی خطا کاری ذکر کردی جو اس کی پیروی کرتا ہے کیونکہ شیطان کی اصل غرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6، ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدو، وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے سے دورکرے گا۔ لہٰذا تم اس کی پیروی نہ کرو۔ ، انما ید عوان حزبہ، اس کے بڑے بڑے سردار اس کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ، لیکونوامن اصحاب السعیر، تاکہ ان کے ساتھ مل کردوزخیوں میں اضافہ ہو۔ پھر ان کے مخالفین کے احوال کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
3 تا 7۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جس طرح پیدا کرنا اور روزی کا دینا فقط اسی کا کام ہے نہ کسی اور کا ایسے ہی سوائے اس کے اور کسی کو پوجنا نہیں چاہئے مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرایا جاوئے اور جب اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو پھر تم بعد اس کے ان کھلی ہوئی باتوں سے کہاں سے الٹے جاتے ہو او بتوں کو پوجتے ہو اور اگر اے محمد ﷺ مشرک لوگ تم کو جھٹلادیں اور توحید کو نہ مانیں تو تمہیں پہلے رسولوں کی چال چلنی چاہئے کیوں کہ وہ بھی اپنی قوموں کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لائے تھے ‘ لیکن ان لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور مخالفت کی مطلب یہ کہ یہ کچھ نئی بات نہیں ہے اس لیے ان کے جھٹلانے پر اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
آیت 5
(یا یھا الناس ان وعدا للہ) ” اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ “ یعنی مرن یکے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ (حق) ” حق ہے۔ “ اس میں شک و شبہ اور کوئی تردد نہیں، سا پر تمام دلائل نقلیہ اور براہین عقلیہ دلالت کرتے ہیں۔ جب اس کا وعدہ سچا ہے تو اس کے لئے تیاری کرو اپنے اچھے اوقات میں نیک اعمال کی طرف سبقت کرو اور کوئی راہزن تمہاری راہ کھوٹی نہ کرنے پائے۔ (فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا) ” لہٰذا دنیاوی زندگی تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے “ اپنی لذات و شہوات اور اپنے نفسانی مطالبات کے ذریعے سے تمہیں ان مقاصد سے غافل نہ کر دے جن کے لئے تمہیں تخلیق کیا گیا ہے۔ (ولایغرنکم باللہ الغرور)…
Read the full tafseer →17 کفر والوں کے لیے بڑا ہی سخت عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ اڑے رہے اپنے کفر ۔ و باطل ۔ پر " یعنی { کفروا } سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے کفر و باطل پر اڑے رہے۔ انہوں نے آخر تک ایمان نہیں لایا اور انہوں نے کفر ہی کی حالت میں جان دی۔ سو اب اس ترجمہ پر ایسا کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا جو کہ " کافر ہوگئے " یا " کفر کیا " جیسے عام ترجموں پر وارد ہوتا ہے۔ کیونکہ اس طرح کی وعیدیں دراصل ایسے ہی ضدی اور ہٹ دھرم کافروں کیلئے ہیں جو کہ اپنے کفر وباطل پر اڑ جاتے ہیں۔ اور اس کے برعکس جو لوگ دعوت حق و ہدایت کو سننے اور ماننے کیلئے تیار اور مستعد ہوتے ہیں، ان کیلئے ایسی وعیدیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
شیطان انسان کا دشمن ہے
تشریح : اوپر دی گئی آیات کو جب ہم غور سے پڑھ لیتے ہیں تو ہمیں اللہ کی قدرت کا پورا یقین ہوجاتا ہے پھر ہمیں اس کا پروگرام سمجھ آ نے لگتا ہے اور یوں تو کل مضبوط ہوجاتا ہے۔ پھر مضبوط ایمان و ارادہ ہمیں شیطان سے نمٹنے کی پوری طاقت دے دیتا ہے اور ہم اپنے نیکی کے فرشتوں کی مدد سے اس کو ہرا دیتے ہیں اسی کو کہتے ہیں مرد کامل یعنی کامیاب انسان۔ فرشتوں کا ذکر ہوچکا اب ذرا شیطان کا مطلب بھی سمجھ لیا جائے تو شیطان جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے برائی کرنے والا، برا راستہ دکھانے والا۔ انسان کی پیدائش پر شیطان ناراض ہوگیا تھا کیونکہ یہ بھی انسان کی طرح عمل اور ارادہ کی طاقت رکھتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 7:
اسرار و معارف :
سورۃ فاطر اسی مضمون کو لیکر آگے بڑھتی ہے کہ تمام تر کمالا صرف اللہ واحد کو سزاوار ہیں کہ وہ اکیلا خالق ہے آسمانوں اور زمینوں کا ان کی تمام تر مخلوقات اور مخلوقات کے تمام تر اوصاف کا فرشتے بھی اس کی مخلوق ہیں جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں اس کے اور اس کی دوسری مخلوق کے درمیان واسطے کا کام کرتے ہیں جیسے سب سے اعلی انبیاء (علیہم السلام) اور ان پر وحی لانے کا کام مخلوق کو روزی روزق پہنچانے یا عذاب وثواب اور صحت و بیماری یعنی وہ خود ہر آن اللہ کی اطاعت پر کمر بستہ ہیں نہ یہ کہ انہیں معبود بنا لیا جائے ان کی قوت و طاقت اللہ ک عطا کردہ ہے جیسے کسی کو دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 7 وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے کہ اگرچہ برا کام کرتا ہے لیکن اسے برا ہی سمجھتا ہے بھلا نہیں سمجھتا ؟ ظاہر ہے کہ یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے، ایک شخص جو برا کام کرتا ہے لیکن اسے برا ہی سمجھتا ہے اس کے متعلق تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی راہ راست پر آجائے گا لیکن جو شخص برا کام کرتا ہے مگر اسے اچھا سمجھ کر کرتا ہے، اس کے راہ راست پر آنے کی کبھی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے بعض سلف (رح) کا قول ہے کہ گناہ گاہ کے توبہ کرنے کی امید تو کی جاسکتی ہے لیکن بدعتی اپنی بدعت باز نہیں آسکتا کیونکہ وہ بدعت کو نیکی سمجھ کر کرتا ہے۔ یہاں سو عمل سے شرک، بدعت اور گمراہی سبھی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ یہ آیت عاص…
Read the full tafseer →(35:7) فائدہ : آیہ ہذا میں دو گروہوں کو الگ الگ نمایاں کیا گیا ہے۔ ایک وہ گروہ جنہوں نے کفر اختیار کیا۔ ان کے لئے عذاب دائم شدید مقدر ہوگیا۔ (عذاب کو نکرہ لا کر اس کی عظمت بلحاظ مدت کو ذہن نشین کر یا گیا ہے) ۔
دوسرا گروہ جو ایمان لایا اور عمل صالح کئے مغفرۃ عظیمۃ واجر کبیر ان کی قسمت میں رقم ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
لغات القرآن ۔ (آیت نمبر 1 تا 7) فاطر (پیدا کرنے والا) جاعل ( بنانے والا) اجنحۃ ( جناح) (پر ۔ بازو) مثنی۔ (دو دو) ثلث۔ ( تین تین) ربع ( چار چار) لایفتح (وہ نہیں کھولتا ہے) ممسک ( روکنے والا) انی (کہاں) تو فکون (الٹے پھرے جا رہے ہیں) لا تغرن ( ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے) الغرور (دھوکا ، فریب) حزب ( جماعت) مغفرۃ (معافی) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 :۔ اس کائنات میں جتنی بھی قابل تعریف خوبیاں ہیں وہ اس اللہ کی ذات کے لئے مخصوص ہیں جو ارض و سماء کا مالک اور سب کا رازق ہے۔ کائنات میں ہر طرف اس کی عظمت کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں ۔ اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی کہ اللہ نے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
(ف 3) ان آیتوں میں ارشاد ہے اے لوگوتم پر جو خدا کی نعمت ہے اس کو یاد کرو اور اس کا شکر ادا کروسوائے خدا کے تمہارا کوئی اور پیدا کرنے والا ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہو، جب نہیں ہے تو اسی کی تابعداری میں کوشش کرو اور سب جھگڑوں کو چھوڑ دو ، جب اسی نے پیدا کیا اور کھانے پینے کو بھی وہی دیتا ہے تو اس کے برابر تمہارے اوپر کسی کا حق ہے تمہارے رگ اور پٹھوں میں اس کے انعامات سرایت کررہے ہیں اور خود اس کے بنائے ہوئے ہو پھر اس کو چھوڑ کر کہاں جاتے ہو اور اپنے محسن کو کیوں بھولے ہوئے ہو، آگے فرمایا کہ اے محبوب تم کو یہ کافر جھوٹابتادیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول ہوچکے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 1 صفحہ 596 اور سورة نحل حاشیہ 60 صفحہ 636۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
ف 2: ان دو آیتوں میں توحید کی حقیقت بیان فرمائی ہے ۔ کہ تمام اختیارات اور قدرتیں صرف اس اللہ سے مختص ہیں ۔ کوئی شخص اس کے ارادوں میں مزاحمت نہیں کرسکتا ۔ وہ اگر کسی شخص کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو پھر کوئی خشص ان دروازوں کو مسدود نہیں کرسکتا ۔ اگر کسی شخص پر اس کے فضل وکرم کے ابواب بند ہوجائیں ۔ تو پھر کوئی بڑی سے بڑی شخصیت بھی ان کو کھول دینے پر قادر نہیں وہ تنہا اس کائنات کا حاکم ہے تم صرف اسی کے ممنون احسان بنو ۔ اور کسی ماسوا سے سے رزق کی توقع نہ رکھو ۔
حل لغات :۔ الغرور ۔ دھوکہ دینے والا شیطان الشعیر ۔ آگ ۔
Read the full tafseer →(7) جو لوگ اس کے فریب میں آ کر دین حق سے منکر ہوگئے اور کافرانہ روش اختیار کرلی تو ان لوگوں کیلئے سخت سزا ہے اور جو لوگ شیطان کی دھوکہ دہی سے بچ کر ایمان لے آئے اور نیک اعمال کے پابند اور خوگر رہے تو ایسے لوگوں کے لئے بڑی مغفرت و بخشش اور بڑا اجروثواب ہے۔
اس آیت میں منکر اور مومن کے انجام کی خبر دی گئی ہے آگے برے اعمال کا دنیا میں جو اثر ہوتا ہے اس کا اظہار ہے اور نبی کریم ﷺ کی تسلی اور تشفی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 4۔ کہ اس میں منہمک ہو کر اس یوم موعود سے غافل رہو۔
Read the full tafseer →کافروں کے لئے عذاب اور مومنوں کے لئے بخشش واجر بےحساب ہے
7 ۔ اب دونوں گروہوں کو الگ الگ کرکے بیان کیا جارہا ہے ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے شیطان کو دوست بنالیا اور اس کے دھوکے میں آگئے اور دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اس کو دشمن سمجھا اور اس کے دائو سے بچ گئے۔ پہلے گروہ کو کافروں کا گروہ کہا گیا اور فرمایا ان کے لئے تو سخت عذاب ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے اور ان سے جو غلطیاں ہوئیں ان کی اللہ سے بخشش طلب کی تو ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ گویا شیطان کے دوستوں کے لئے جتنا بڑا عذاب ہے اس کو دشمن سمجھنے والوں کو اتنا ہی بڑا اجر بھی دیا جائے گا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
Commentary
The word: غَرُورُ (gharur) is an emphatic form of an adjective that means one who is very deceiving (hence, rendered here as 'big deceiver' ). It refers to the Shaitan (Satan) whose sole job is to deceive people and throw them into disbelief and sin. And the expression لَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ (5) means 'nor should you be deceived about Allah'. To explain this deception, it can be said that the Shaitan may not, by showing your evil deeds as good, cause you to become so involved with these that you reach the stage when you go on committing a sin and, at the same…
Read the full tafseer →13 Those who disbelieve": those who will refuse to believe in this invitation of Allah's Book and His Messenger.
14 That is, Allah will overlook their errors and will reward them for their good deeds not merely with what they will just deserve but much more richly and generously.
Read the full tafseer →