Faatir 35:8

Faatir · from ayah 8

35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا ؕ— فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَیَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ۖؗ— فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ ۟اَفَمَنۡ زُيِّنَ لَهٗ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ ‌ۖ فَلَا تَذۡهَبۡ نَـفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ حَسَرٰتٍ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَصۡنَـعُوۡنَ

بھلا جس شخص کو اس کے اعمال بد آراستہ کرکے دکھائے جائیں اور وہ ان کو عمدہ سمجھنے لگے تو (کیا وہ نیکوکار آدمی جیسا ہوسکتا ہے)۔ بےشک خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ تو ان لوگوں پر افسوس کرکے تمہارا دم نہ نکل جائے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then is one to whom the evil of his deed has been made attractive so he considers it good [like one rightly guided]? For indeed, Allah sends astray whom He wills and guides whom He wills. So do not let yourself perish over them in regret. Indeed, Allah is Knowing of what they do.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:8

(بھلا کچھ ٹھکانا ہے اُس شخص کی گمراہی کا) جس کے لیے اُس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اُسے اچھا سمجھ رہا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے پس (اے نبیؐ) خواہ مخواہ تمہاری جان ان لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گھلے جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا جس شخص کو اس کے اعمال بد آراستہ کرکے دکھائے جائیں اور وہ ان کو عمدہ سمجھنے لگے تو (کیا وہ نیکوکار آدمی جیسا ہوسکتا ہے)۔ بےشک خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ تو ان لوگوں پر افسوس کرکے تمہارا دم نہ نکل جائے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا پس وه شخص جس کے لئے اس کے برے اعمال مزین کردیئے گئے ہیں پس وه انہیں اچھاسمجھتا ہے (کیا وه ہدایت یافتہ شخص جیسا ہے)، (یقین مانو) کہ اللہ جسے چاہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہے راه راست دکھاتا ہے۔ پس آپ کو ان پر غم کھا کھا کر اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالنی چاہیئے، یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے یقیناً اللہ تعالیٰ بخوبی واقف ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا بتاؤ کہ جس شخص کی نظروں میں اس کی بدعملی ہی خوشنما بنا کر پیش کی گئی ہو، جس کی بنا پر وہ اس بدعملی کو اچھا سمجھتا ہو (وہ نیک آدمی کے برابر کیسے ہوسکتا ہے ؟) کیونکہ اللہ جس کو چاہتا ہے راستے سے بھٹکا دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ٹھیک راستے پر پہنچا دیتا ہے۔ لہذا (اے پیغمبر) ایسا نہ ہو کہ ان (کافروں) پر افسوس کے مارے تمہاری جان ہی جاتی رہے۔ یقین رکھو کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا وہ جس کی نگاہ میں اس کا برا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے اسے بھلا سمجھا ہدایت والے کی طرح ہوجائے گا اس لیے اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور راہ دیتا ہے جسے چاہے، تو تمہاری جان ان پر حسرتوں میں نہ جائے اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا جس شخص کے لئے اس کا برا عمل آراستہ کر دیا گیا ہو اور وہ اسے (حقیقتاً) اچھا سمجھنے لگے (کیا وہ مومنِ صالح جیسا ہو سکتا ہے)، سو بیشک اﷲ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے، سو (اے جانِ جہاں!) ان پر حسرت اور فرطِ غم میں آپ کی جان نہ جاتی رہے، بیشک وہ جو کچھ سرانجام دیتے ہیں اﷲ اسے خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا تو اس نے اسے اچھا سمجھا (اس شخص کی طرح ہے جو ایسا نہیں ؟) پس بیشک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے، سو تیری جان ان پر حسرتوں کی وجہ سے نہ جاتی رہے۔ بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا جس شخص کا برا عمل خوشنما بنادیا جائے اور وہ اسے اچھا سمجھنے لگے (اس کی گمراہی کا کوئی ٹھکانہ ہے) ؟ اللہ تعالیٰ (اسی طرح) جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ لہذا آپ ان پر افسوس کے مارے اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں، جو کچھ وہ کر رہے اللہ یقینا انہیں خوب جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا وہ جس کی نگاہوں میں اس کا برا عمل کھبا دیا گیا ہے، پس وہ اس کو اچھا خیال کرنے لگا ہے (ایمان لانے والا بن سکتا ہے) پس اللہ ہی جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو ان کے غم میں تم اپنے کو ہلکان نہ کرو، اللہ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کر رہے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بھلا (اس شخص کی محرومی اور بدبختی کا کوئی ٹھکانا ہوسکتا ہے ؟) جس کیلئے خوشنما بنادیا گیا ہو اس کے برے عمل کو (اس کی اپنی بدنیتی اور سوء اختیار کی بناء پر) جس سے وہ اس کو اچھا ہی سمجھے جا رہا ہو ؟ سو اللہ گمراہی (کے گڑھے) میں ڈالتا ہے جس کو چاہتا ہے اور (نور حق و) ہدایت سے نوازتا ہے جس کو چاہتا ہے پس گھلنے نہ پائے آپ کی جان (عزیز اے پیغمبر !) ان (بدبختوں کی حرمان نصیبی) پر افسوس کرتے ہوئے بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب کاموں کو جو یہ لوگ کر رہے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا وہ جسے اس کا عمل خوش نما کر رکھا گیا اور وہ اسے اچھا سمجھنے لگا (اور جو باطل کو باطل ہی سمجھا دونوں کہیں برابر ہوسکتے ہیں)۔ سو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ دکھا دیتا ہے۔ سو ان پر افسوس کرکے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے بیشک اللہ ان کے کرتوتوں سے خوب واقف ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا وہ شخص جس کے لیے مزین ّکر دی گئی ہو اس کے عمل کی برائی اور وہ اسے اچھاسمجھ رہا ہو (ہدایت پاسکتا ہے تو اللہ گمراہ کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے تو (اے نبی ﷺ !) آپ کی جان نہ گھلے ان لوگوں پر رنج کی وجہ سے } یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ کہ یہ لوگ کر رہے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا جس کو اس کے برے اعمال اچھے کر کے دکھائے جائیں اور وہ ان کو بہترین سمجھنے لگے تو کیا وہ نیکو کار آدمی جیسا ہوسکتا ہے ؟ بیشک اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ لہذا آپ کی جان ان پر حسرتوں کی وجہ سے نہ جاتی رہے یہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے واقف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(How awful is the straying of the person) for whom his evil deed has been embellished so that it looks fair to him? The fact is that Allah causes whomsoever He will to fall into error and shows the Right Way to whomsoever He will. So, (O Prophet), let not your life go to waste sorrowing over them. Allah is well aware of all that they do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, can the one whose evil deed is so much adorned for him that he deems it really good (be equal to the one who differentiates between good and evil)? The fact, therefore, is that Allah lets go astray whomsoever He wills, and leads to the right path whomsoever He wills. So, (O Prophet,) let not your soul collapse in grief for them. Surely Allah knows well what they are doing.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, can the one whose evil deed is so much adorned for him that he deems it really good (be equal to the one who differentiates between good and evil)? The fact, therefore, is that Allah lets go astray whomsoever He wills, and leads to the right path whomsoever He wills. So, (O Prophet,) let not your soul collapse in grief for them. Surely Allah knows well what they are doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is he, then, to whom the evil of his deeds is made fairseeming, so that he considers it as good Verily, Allah sends astray whom He wills, and guides whom He wills. So destroy not yourself in sorrow for them. Truly, Allah is the All-Knower of what they do!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Is he, the evil of whose deeds is made fairseeming unto him so that he deemeth it good, (other than Satan's dupe)? Allah verily sendeth whom He will astray, and guideth whom He will; so let not thy soul expire in sighings for them. Lo! Allah is Aware of what they do!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then is one to whom the evil of his deed has been made attractive so he considers it good [like one rightly guided]? For indeed, Allah sends astray whom He wills and guides whom He wills. So do not let yourself perish over them in regret. Indeed, Allah is Knowing of what they do.

— Saheeh International

Can one whose evil deeds seem attractive and virtuous to him (be compared to a truly righteous person)? God guides or causes to go astray whomever He wants. (Muhammad), do not be grieved because of their disbelief. God knows well whatever they do.

— Muhammad Sarwar

What! is he whose evil deed is made fairseeming to him so much so that he considers it good? Now surely Allah makes err whom He pleases and guides aright whom He pleases, so let not your soul waste away in grief for them; surely Allah is Cognizant of what they do

— Muhammad Habib Shakir

Is he, then, whose evil work hath been made fair-seeming unto him, so that he deemeth it good, be as he who rightly perceiveth the truth? Verily Allah sendeth astray whomsoever He listeth, and guideth whomsoever He listeth; so let not thine soul expire after them in sighings; verily Allah is the Knower of that which they perform.

— Abdul Majid Daryabadi

Is he, then, to whom the evil of his conduct is made alluring, so that he looks upon it as good, (equal to one who is rightly guided)? For Allah leaves to stray whom He wills, and guides whom He wills. So let not thy soul go out in (vainly) sighing after them: for Allah knows well all that they do!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–8

اوپر بیان گذرا تھا کہ شیطان کے تابعداروں کی جگہ جہنم ہے۔ اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ کفار کے لئے سخت عذاب ہے۔ اس لئے کہ یہ شیطان کے تابع اور رحمان کے نافرمان ہیں۔ مومنوں سے جو گناہ بھی ہوجائیں بہت ممکن ہے کہ اللہ انہیں معاف فرما دے اور جو نیکیاں ان کی ہیں ان پر انہیں بڑا بھاری اجر وثواب ملے گا، کافر اور بدکار لوگ اپنی بد اعمالیوں کو نیکیاں سمجھ بیٹھے ہیں تو ایسے گمراہ لوگوں پر تیرا کیا بس ہے ؟ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ ہے۔ پس تجھے ان پر غمگین نہ ہونا چاہئے۔ مقدرات اللہ جاری ہوچکے ہیں۔ مصلحت مالک الملوک کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہدایت و ضلالت میں بھی اس کی حکمت ہے کوئی کام اس سچے حکیم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة فَاطِر 15 اوپر کے دو پیرا گراف عوام الناس کو خطاب کر کے ارشاد ہوئے تھے۔ اب اس پیرا گراف میں ان علمبرداران ضلالت کا ذکر ہو رہا ہے جو نبی ﷺ کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ سورة فَاطِر 16 یعنی ایک بگڑا ہوا آدمی تو وہ ہوتا ہے جو برا کام تو کرتا ہے مگر یہ جانتا اور مانتا ہے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے برا کر رہا ہے۔ ایسا شخص سمجھانے سے بھی درست ہوسکتا ہے اور کبھی خود اس کا اپنا ضمیر بھی ملامت کر کے اسے راہ راست پر لا سکتا ہے۔ کیونکہ اس کی صرف عادتیں ہی بگڑی ہیں۔ ذہن نہیں بگڑا۔ لیکن ایک دوسرا شخص ایسا ہوتا ہے جس کا ذہن بگڑ چکا ہوتا ہے، جس میں برے اور بھلے کی تمیز باقی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) فان اللہ یضل من یشاء۔ امام بغوی نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا کی تھی کہ یا اللہ اسلام کو عزت وقوت عطا کر دے، عمر بن خطاب کے ذریعہ یا ابوجہل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے عمر بن خطاب کو ہدایت دے کر اسلام کی عزت و قوت کا سبب بنادیا اور ابوجہل اپنی گمراہی میں رہا۔ (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 8 یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اسمیں تمہاری کسی تقصیر کو دخل نہیں ہے بلکہ یہ قانونِ الٰہی کی زد میں آئے ہوئے لوگ ہیں تو ان کے غم میں اپنے کو ہلکان نہ کرو۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے تو جب وہ باخبر ہے تو ان کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ ’ افمن زین لہ سوء عملہ فراہ حسنا ‘ کے بعد جواب بر بنائے قرینہ مخذوف ہے۔ اگر اس حذف کو کھول دیجئے تو پوری بات یوں ہوگی۔ کیا وہ جس کی نگاہوں میں اس کی بدعملی کھپا دی گئی ہے اور وہ اپنی بدی کو نیکی سمجھنے لگا ہے، تم اس کو ہدایت دینے والے بن سکتے ہو ؟…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 جس طرح کفار و بدکار ہیں، وہ کفر و شرک فسق اور بدکاری کرتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ اچھا کر رہے ہیں۔ پس ایسا شخص، جس کو اللہ نے گمراہ کردیا ہو، اس کے بچاؤ کے لئے آپ کے پاس کوئی حیلہ ہے ؟ یا یہ اس شخص کے برابر ہے جسے اللہ نے ہدایت سے نوازا ہے ؟ جواب نفی میں ہی ہے، نہیں یقینا نہیں۔ 8۔ 2 اللہ تعالیٰ اپنے عدل کی رو سے اپنی سنت کے مطابق اس کو گمراہ کرتا ہے جو مسلسل اپنے کرتوتوں سے اپنے کو اس کا مستحق ٹھہرا چکتا ہے اور ہدایت اپنے فضل وکرم سے اسے دیتا ہے جو اس کا طالب ہوتا ہے۔ 8۔ 3 کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام حکمت پر اور علم تام پر مبنی ہے اس لیے کسی کی گمراہی پر اتنا افسوس نہ کریں کہ اپنی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–9

2: اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، زبردستی گمراہ کردیتا ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص ہٹ دھرمی سے خود گمراہی کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو گمراہی میں ہی مبتلا رکھ کر اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ دیکھئے سورة بقرہ :7

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

افمن زین ۔۔۔۔۔ بما یصنعون (8 ( شرکا دروازہ اور اس کی کنجی یہ ہے کہ انسان کے لیے اس کے برے اعمال کو اچھا بنادیا جائے ۔ شیطان یہی کام کرتا ہے کہ انسان کے لیے اس کے برے اعمال اچھے بنادیئے جاتے ہیں اور وہ برے کاموں کو اچھے کام سمجھتا ہے ۔ وہ جس قدر برے افعال کرتا ہے ، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھا کررہا ہے اور وہ کام اسے لگتے بھی اچھے ہیں ۔ ایسا شخص کبھی اپنے اعمال کا جائزہ بھی نہیں لیتا کہ ان میں کیا کیا غلطی کے مقامات ہیں کیونکہ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ وہ غلطی نہیں کرتا۔ اسے پختہ یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ کہتا اور کرتا ہے ، وہ درست ہے ۔ وہ اپنے قول وعمل پر اتراتا ہے اور اپنے کاموں سے اسے عشق ہوجاتا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 7–8

3 یعنی شیطان نے جس کی نگاہ میں برے کام کو بھلا کر دکھایا۔ کیا وہ شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے جو خدا کے فضل سے بھلے برے کی تمیز رکھتا ہے۔ نیکی کو نیکی اور بدی کو بدی سمجھتا ہے۔ جب دونوں برابر نہیں ہوسکتے تو انجام دونوں کا یکساں کیونکر ہوسکتا ہے۔ اور یہ خیال نہ کرو کہ کوئی آدمی دیکھتی آنکھوں برائی کو بھلائی کیونکر سمجھ لے گا۔ اللہ جس کو سوء استعداد اور سوء اختیار کی بناء پر بھٹکانا چاہے اس کی عقل اسی طرح اوندھی ہوجاتی ہے اور جس کو حسن استعداد اور حسن اختیار کی وجہ سے ہدایت پر لانا چاہے تب کسی شیطان کی طاقت نہیں جو اسے غلط راستے پر ڈال سکے یا الٹی بات سمجھا دے۔ بہرحال جو شخص شیطانی اغواء سے برائی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 { اَفَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا } ”تو کیا وہ شخص جس کے لیے مزین ّکر دی گئی ہو اس کے عمل کی برائی اور وہ اسے اچھاسمجھ رہا ہو ہدایت پاسکتا ہے !“ آج من حیث القوم ہمارا بھی یہی معاملہ ہے۔ آج ہم فحاشی اور بےحیائی کو کلچر اور ثقافت کے خوبصورت ناموں کے ساتھ نہ صرف معاشرے میں ترویج دے رہے ہیں بلکہ اس ”ترقی“ پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ٹیوی ‘ کیبل اور انٹر نیٹ نے اس فحاشی کو گھر گھر میں پہنچا دیا ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ کسی کو اس ”اشاعت ِفاحشہ“ میں کوئی قباحت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ امریکہ میں تو ایسی societies nudists بھی پائی جاتی ہیں جن سے تعلق رکھنے والے لوگ نہ صرف لباس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 کافروں کے ایمان نہ لانے پر آپ کا پریشان رہنا :۔ اس آیت میں ایک جملہ مخدوف ہے جسے قاری کے فہم و بصیرت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور یہ فصاحت و بلاغت کی دلیل ہوتی ہے۔ اور قرآن میں ایسے محذوفات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہاں سوال یہ کیا گیا ہے کہ بھلا ایسا شخص جس کے ذہن میں اتنا بگاڑ پیدا ہوچکا ہو کہ اس کے نزدیک نیکی اور بدی کی تمیز ہی ختم ہوجائے اور اسے اپنی بداعمالیاں ہی اچھے اعمال نظر آنے لگیں، اس سوالیہ جملے کا اگلا حصہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ جو ایک تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی گمراہی کا کوئی ٹھکانا ہے ؟ جیسا کہ ترجمہ میں (بریکٹوں میں لکھ دیا گیا ہے) اور دوسرا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا ایسے بگڑے ہوئے ذہن والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ ترجمہ متن میں قوسین کے درمیان کا سارا فقرہ قرآن مجید میں محذوف ہے، اور ترجمہ میں اپنی طرف سے بڑھانا پڑے گا قرآن کے اسلوب بلاغت میں اس حذف وتقدیر کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔ حذف الجواب لدلالۃ (کشاف۔ بیضاوی) حذف ھذا الخبر لدلالۃ الکلام علیہ واقتضاء النظم الجلیل ایاہ (روح) عربی کے اسلوب بیان اور اردو کے انداز تحریر کے درمیان آسمان و زمین کا فرق بعض حیثیتوں سے ہے۔ اور انہیں میں سے ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عرب انشاء وخطابات میں محذوفات ومقدرات بکثرت آتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” زین لہ سوٓء عملہ “۔ یعنی وہ گمراہی میں پڑگیا۔ ومعنی تزیین العمل والاضلال واحد (کشاف) قتادہ تابعی سے روایت ہے کہ یہ آیت فرقہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–14

آیت نمبر 8 تا 14 ترجمہ : (آئندہ) آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیا وہ شخص کہ جس کے سامنے اس کے برے عمل کو تلبیس کے ذریعہ مزین کرکے پیش کیا گیا پھر وہ اس کو نیک عمل سمجھنے لگا (اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کو اللہ نے ہدایت دی ہو ؟ نہیں ہوسکتا) مَنْ مبتداء ہے اور اس کی خبر کَمَنْ ھدَاہُ ہے (اس حذف خبر پر) فاِنّ اللہ یُضَلُّ مَنْ یشَاءُ (الآیۃ) دال ہے، یقین مانو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو آپ ان پر یعنی ان لوگوں پر کہ جن کے (اعمال بد) ان کے لئے مزین کردیئے گئے ہیں، اتنا غم نہ کیجئے، کہ ان کی اس بات پر غم کی وجہ سے کہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افمن زین لہ سوء عملہ فراہ حسنا فان اللہ یضل من یشاء ویھدی من یشاء کیا ایسا شخص جس کو اس کا عمل بد اچھا کر کے دکھایا گیا ہو پھر وہ اس کو اچھا سمجھنے لگا ہو (اور ایسا شخص جو برے کو برا سمجھتا ہو ‘ یعنی کافر اور مؤمن برابر ہوسکتے ہیں ؟ ) سو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب کردیتا ہے۔ فراٰہ حسنًا ‘ زُیِّنَ کے مضمون کی تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس کو بےمدد چھوڑ دیا اور اس کا وہم ‘ فہم پر اور جذبات نفسانی ‘ عمل پر غالب آگئے ہوں ‘ فکر و رائے میں اختلال پیدا ہوگیا ہو ‘ شیطان نے اس کا ذہنی اغوا کرلیا ہو ‘ وہ اچھے کو برا اور باطل کو حق سمجھنے لگا ہو ! کیا ایسا آدمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

سو ایسا شخص جس کو اس کا عمل بد اچھا کر کے دکھلا دیا گیا پھر وہ اس کو اچھا سمجھنے لگا جیسا کہ ابو جہل تو کہیں یہ ایسے شخص کی برابری کرسکتا ہے جس کو ہم نے ایمان و اطاعت کے ساتھ سرفرازی عطا فرمائی جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ جو گمراہی کا اہل ہوتا ہے اسے اپنے دین سے گمراہ کرتے ہیں یعنی ابو جہل وغیرہ اور جو ہدایت کا مستحق ہوتا ہے اسے ہدایت کرتے ہیں جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق۔ لہٰذا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو ان کی تباہی و بربادی پر حسرت کر کے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے۔ یہ اپنی کفریہ حالت میں جو دار الندوہ میں رسول اکرم کو نقصان پہنچانے کی جو تدابیر و مشورے کر رہے ہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْۗءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَـنًا : اس کا جواب محذوف ہے : ”أَيْ کَمَنْ لَیْسَ کَذٰلِکَ“ یعنی کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا تو اس نے اسے اچھا سمجھا، وہ اس شخص کی طرح ہے جو ایسا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ ایسا شخص اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت عطا ہوئی ہو اور وہ اس پر عمل کرتا ہو۔ دوسری جگہ یہ بات واضح الفاظ میں فرمائی : (اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْۗءُ عَمَلِهٖ وَاتَّبَعُوْٓا اَهْوَاۗءَهُمْ) [ محمد : 14 ] ”تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہے، اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : افمن زین لہ سوء عملہ، من محل رفع میں ہے اور مبتدا ہے اس کی خبر محذوف ہے۔ کسائی نے کہا : اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان : آیت : فلا تذھب نفسک علیھم حسرت دلالت کرتا ہے، معنی ہے جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کیا گیا تو اس نے اسے اچھا گمان کیا اس پر حسرت کرتے ہوئے تیرا نفس نکلا جا رہا ہے ؟ کہا : یہ عربی زبان کی بڑی عمدہ کلام ہے جسے چند افراد ہی جانتے ہیں، زمحشری نے اسے زجاج سے ذکر کیا ہے۔ نحاس نے کہا : اس آیت کی تفسیر میں جو کچھ کہا گیا ہے کسائی نے سب سے اچھی بات کہی ہے جو اس نے محذوف پر دلالت کا ذکر کیا ہے، اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کے بارے میں شدت غم کرنے اور ان کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابوقلابہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا (آیت) ’ ’ افمن زین لہ سوٓء عملہ فراہ حسنا “ (کیا ایسا شخص جس کو اس کا براعمل اچھا کرکے دکھایا گیا) کیا اس سے مراد ہمارے اعمال ہیں وہ لوگ جو کرتے ہیں (برے کاموں میں سے) فرمایا یہ وہ نہیں ہیں بلاشبہ جو وہ حرام کاموں میں سے کوئی کرتا ہے تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ یہ اس پر حرام ہے اگر وہ زنا کرتا ہے تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ وہ حرام ہے اگر کسی انسان کو قتل کرتا ہے تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ یہ اس پر حرام ہے۔ یہ لوگ اہل ملا ہیں یعنی یہودی اور نصاری اور مجوسی اور میں گمان کرتا ہوں کہ خوارج بھی ان میں سے ہیں کیونکہ ایک خارجی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَمَنْ [تو کیا وہ ] زُيِّنَ لَهٗ [سجایا گیا جس کے لئے ] سُوْۗءُ عَمَلِهٖ [اس کے عمل کی برائی کو ] فَرَاٰهُ [تو اس نے دیکھا اس کو ] حَسَـنًا ۭ [اچھا (بھلا)] فَاِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ [تو بیشک اللہ گمراہ کرتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ [اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] وَيَهْدِيْ [اور وہ ہدایت دیتا ہے ] مَنْ يَّشَاۗءُ ڮ [اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] فَلَا تَذْهَبْ [پس چاہیے کہ نہ جائے ] نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ [آپ ﷺ کی جان ان پر ] حَسَرٰتٍ ۭ [حسرتیں کرتے ہوئے ] اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ [بیشک اللہ جاننے والا ہے ] بِمَا يَصْنَعُوْنَ [اس کو جو یہ لوگ کاریگری کرتے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 1: میں اَفَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْۗءُ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

برے عمل کو اچھا سمجھنے والا اچھے عمل والے کے برابر نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ سب کے اعمال کو جانتا ہے یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے، پہلی آیت میں یہ بتایا کہ بہت سے لوگ برے عمل کرتے ہیں کفر اختیار کیے ہوئے ہیں اور شیطان نے اور ان کے ماحول نے اور ان کے نفوس نے کفر ہی کو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہی کو ان کے سامنے اچھا کرکے پیش کیا ہے جس کی وجہ سے کفر کو اور برے اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں اور ایمان سے اور اعمال صالحہ سے بچتے ہیں اور ان کو قبیح جانتے ہیں، ارشاد فرمایا ایسا شخص جس کے لیے برے اعمال کو مزین بنا دیا گیا ہو اور اس نے برے اعمال ہی کو اچھا سمجھ لیا ہو کیا یہ شخص اور وہ آدمی دونوں برابر ہوسکتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

تحمید خداوند حمید ومجید برائے اثبات توحید وتذکیر نعم وتحذیر از نقم قال تعالیٰ الحمد للہ فاطر السموت والارض جاعل الملئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم بما یصنعون۔ (ربط) گذشتہ سورت کے اخیر میں کفار ومشرکین کی ہلاکت کا ذکر تھا کہ ان پر اللہ کا قہر نازل ہوا۔ اور ہلاک اور برباد ہوئے اور کافروں کی ہلاکت اور بربادی اللہ کی نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے۔ کما قال تعالیٰ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔ اس لئے اس سورت کا آغاز اللہ کی حمد وثنا سے کیا گیا (روح المعانی ص 148 ج 22) اور اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا ذکر کر کے شکر پر متنبہ کیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11:۔ افمن زین الخ : یہ زجر ہے۔ جب آدمی ضد وعناد میں آکر حق کا انکار کرتا ہے تو اس کا دل قبول حق کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے اس کی فطرت ایسی مسخ ہوجاتی ہے کہ اسے اپنی تمام بد اعمالیاں نیکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اور مشرکانہ اعمال کو برا سمجھنے کے بجائے اچھا سمجھنے لگتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی صفت قہار کا اثر ہے اور اس کو مہر جباریت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ افمن زین کی جزاء محذوف ہے ای فمن یھدیہ یعنی جس شخص کو اللہ کے قہر و غضب سے اپنی برائیں نیکیاں نظر آئیں اسے کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟ قالہ الشیخ (رح) یا مقدر ہے کمن لم یزین لہ (مدارک) یا کمن ہداہ اللہ (مدارک، خازن، معالم) ۔ فان اللہ یضل الخ : جو لوگ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–10

ربط آیت ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا اور تنبیہہ فرمائی کہ تمہیں اسی دنیا میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے لہٰذا اس سے بچنے کی کوشش کرنا۔ فرمایا جو شخص شیطان کے پھندے میں پھنس گیا وہ دوزخ کا شکار ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ کفر کا پروگرام بڑا خطرناک اور شدید عذاب کا باعث ہے۔ فرمایا کامیابی سے وہی لوگ ہمکنار ہوں گے جو ایمان لانے کے بعد اعمال صالحہ انجام دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی بخشش و مغفرت انہی لوگوں کے حصے میں آئے گی۔ نیکی اور برائی کا تقابل ایمان اور کفر یا نیکی اور برائی کے تقابل کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے افمن زین لہ سوء عملہ فراۃ حسنا ایک طرف وہ شخص ہے جس کا برا عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَمَنْ زُيِّنَ لَہٗ سُوْۗءُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَـنًا۝ 0 ۭ فَاِنَّ اللہَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ 0ۡ ۖ فَلَا تَذْہَبْ نَفْسُكَ عَلَيْہِمْ حَسَرٰتٍ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ۝ 8 زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : افمن الخ ھذہ الجملۃ مستانقہ لتقر یرما سبق من ذکر التفاوت بین عاقب فی الفریقین، ومن فی موضع دفع بالابتداء و خبرہ محذوف، قال الزجاج تقدیرہ کمن ھذاہ و قیل کمن لم یزین لہ، فلا تذھب نفسک علیہم حسراتٍ ، تذھب بضم التاء و کسرا لہا من الاذہاب و نصب نفسک علیہم حسراتٍ مفعول لہ وعلیہم صلہ تذھب کما یقال ھلک علیہ حباً ومات علیہ حزناً ۔ ویجوزان ینتصب حسراتٍ علی الحال کماروی عن سیبویہ وقال المبروا نھا تمیز و قری تذھب بفتح التاء والہا من الذہاب و نفسک مرفوعا و معناہ فلا تھلک نفسک علیھم للحسرات علی غیّھم یرفعہ الفاعل ضمیر العمل والھاء للکلم ای العمل الصالح یرفع الکلم و مکر اولئک مبتداء والخبر یبور وھو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَـہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا ط فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ صلے ز فَلاَ تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْہِمْ حَسَرٰتٍط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِمَا یَصْنَعُوْنَ ۔ (فاطر : 8) (کیا وہ شخص کہ مزین کردیا گیا ہے اس کے لیے اس کا برا عمل، پس وہ اسے اچھا سمجھنے لگا ہے (ایمان لانے والا بن سکتا ہے ؟ ) پس اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے، پس (اے پیغمبر ! ) ان پر غم و افسوس میں اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کر رہے ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت کریمہ میں مخالفین کے ایمان قبول…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کے جہنم میں جانے کی بنیادی وجہ۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ شیطان انسان کے سامنے برے اعمال کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔ جو لوگ فکری طور پر گمراہ ہوچکے ہوتے ہیں انہیں ایسے اعمال اور حرکات بہت اچھی لگتی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے دور میں بیشمار نوجوان ہیں جو عورتوں کی طرح لمبے لمبے بال رکھتے ہیں اور الٹی سلائی والے لباس پہنتے ہیں۔ دیکھنے والے کو ان کی شکل و صورت اور لباس اس قدر مکروہ نظر آتے ہیں کہ شریف آدمی دوبارہ دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ لیکن ایسے نوجوانوں کو بالکل حیا نہیں آتی بلکہ وہ اس تہذیب پر فخر کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر دور اور معاشرے میں فیشن کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شیطان کی تزیین میں آنے والے پر افسوس نہ کرو : 8: جب دونوں فریق کا تذکرہ ہوچکا تو اپنے پیغمبر ﷺ کو فرمایا : اَفَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا (کیا وہ شخص جس کو اس کا عمل بد اچھا کر کے دکھلایا گیا پھر وہ اس کو اچھا سمجھنے لگا) شیطان کی تزیین کے سبب، کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کیلئے اس نے اعمال کو مزین نہ کیا ہو۔ پس گویا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ نہیں۔ پھر فرمایا فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآ ئُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآ ئُ فَلاَ تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ (پس اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو ان پر) حَسَرٰتٍ (افسوس کر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8، افمن زین لہ سوء عملہ ، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ آیت ابو جہل اور دوسرے مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ سعید بن جبیر (رح) نے کہا کہ یہ آیت اہل بدعت اور پرستاران ہواوہوس کے حق میں نازل ہوئی۔ قتادہ کا قول ہے کہ انہی میں سے خارجیوں کا گروہ تھا جو مسلمانوں کا خون بہانا اور مال لوٹنا حلال سمجھتے تھے۔ دوسرے اہل کبائر اس میں شامل نہیں ہیں۔ ، افمن زین، جس کو اس کا عمل مزین کرکے دکھایا گیا ہو۔ ، علیہ لہ سوء عملہ، اس کا براعمل ۔ ، فراہ، حسنا، شیطان اس کے اس برے عمل کو خوبصورت کرکے پیش کرتا ہے وساوس سے ۔ اس آیت میں حذف مضاف ہے۔ کیا وہ اپنے برے عمل کو مزین کرکے پیش کرتا ہے حالانکہ وہ باطل ہے پھر بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

8۔ تفسیر ضحاک بن مزاحم میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ میں جب کہ اہل اسلام کم تھے اور مشرکوں کا زور تھا تو آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ٹانگی تھی کہ یا اللہ عمر بن خطاب یا ابوجہل بن ہشام ان دونوں میں سے کسی کے اسلام لانے سے اسلام نہ لانے سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل رفمائی اور فرمایا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا۔ اے نبی اللہ کے ایسی باتوں سے تم کو غمگین نہیں ہو چاہئے۔ تمہارا کام فقط اتنا ہے کہ تم یکساں سب کو خدا کا حکم پہنچا دو پھر ہدایت اللہ کے اختیار ہے جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 8 (افمن زین لہ) ” کیا پس جس شخص کو مزین کر کے دکھائے جائیں “ اس کے برے اعمال، شیطان نے اس کے برے عمل کو آرساتہ کر کے اس کی نگاہ میں خوبصورت بنادیا ہو (فراہ حسناً ) ” اور وہ ان کو اچھا سمجھنے لگا ہو۔ “ یعنی کیا یہ اس شخص کی مانند ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے راہ راست اور دین قویم کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ؟ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ پہلا شخص وہ ہے جو بد عمل ہے، جو حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتا ہے اور دوسرا شخص وہ ہے جو نیک کام کرتا ہے، جو حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہدایت اور گمراہی صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ (آیت) ” بلا شبہ اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

19 برائی کو اچھائی سمجھنا ہلاکتوں کی ہلاکت اور خرابی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بھلا اس شخص کی محرومی اور بدبختی کا کوئی ٹھکانا ہوسکتا ہے جس کے لیے خوشنما بنادیا گیا ہو اس کے برے عمل کو " ۔ اس کی بدنیتی اور سوئِ اختیار کی بنا پر ۔ جس سے وہ اپنے اس برے عمل کو ہی اچھا سمجھتا ہو۔ اور استفہام ظاہر ہے کہ انکاری ہے۔ یعنی ایسے شخص کی بدبختی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ایسا شخص جب اپنے برے عمل کو اچھا سمجھتا ہوگا تو پھر وہ اس کو چھوڑے گا کیوں ؟ سو برائی کا یہ درجہ بڑا ہی خطرناک ہے اور یہی وجہ ہے کہ بدعتی شخص کے لئے توبہ نہیں۔ یعنی اس کو توبہ کی توفیق نصیب نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 2–8

شیطان انسان کا دشمن ہے تشریح : اوپر دی گئی آیات کو جب ہم غور سے پڑھ لیتے ہیں تو ہمیں اللہ کی قدرت کا پورا یقین ہوجاتا ہے پھر ہمیں اس کا پروگرام سمجھ آ نے لگتا ہے اور یوں تو کل مضبوط ہوجاتا ہے۔ پھر مضبوط ایمان و ارادہ ہمیں شیطان سے نمٹنے کی پوری طاقت دے دیتا ہے اور ہم اپنے نیکی کے فرشتوں کی مدد سے اس کو ہرا دیتے ہیں اسی کو کہتے ہیں مرد کامل یعنی کامیاب انسان۔ فرشتوں کا ذکر ہوچکا اب ذرا شیطان کا مطلب بھی سمجھ لیا جائے تو شیطان جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے برائی کرنے والا، برا راستہ دکھانے والا۔ انسان کی پیدائش پر شیطان ناراض ہوگیا تھا کیونکہ یہ بھی انسان کی طرح عمل اور ارادہ کی طاقت رکھتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–14

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 8 تا 14: اسرار و معارف : کچھ لوگ جب اللہ سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان پر اللہ کا یہ غضب ہوتا ہے کہ ان کی سوچ الٹ جاتی ہے اور انہیں برائی کے کام بھلے لگنے لگتے ہیں اور یوں وہ کرتے چلے جاتے ہیں اور جس کو اللہ چاہتا ہے یعنی جس کے دل میں اللہ سے ہدایت کی طلب پیدا ہوجائے اسے ہدایت عطا فرما دیتا ہے لہذا آپ ان کی گمراہی کے دکھ کو اس قدر شدت سے محسوس نہ کیجیے کہ یہ ان کا اپنا انتخاب کردہ راستہ ہے اور اللہ ان کے کردار اور قلبی ارادوں تک سے خوب واقف ہے۔ سبحان اللہ جس رسول رحمتکو کفار کا کفر پہ رہنا دکھی کردیتا ہے اسے مسلمانوں کا کفار کے سے اعمال کرنا کس قدر دکھ پہنچاتا ہوگا۔ اللہ ہمیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

ف 7 وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے کہ اگرچہ برا کام کرتا ہے لیکن اسے برا ہی سمجھتا ہے بھلا نہیں سمجھتا ؟ ظاہر ہے کہ یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے، ایک شخص جو برا کام کرتا ہے لیکن اسے برا ہی سمجھتا ہے اس کے متعلق تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی راہ راست پر آجائے گا لیکن جو شخص برا کام کرتا ہے مگر اسے اچھا سمجھ کر کرتا ہے، اس کے راہ راست پر آنے کی کبھی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے بعض سلف (رح) کا قول ہے کہ گناہ گاہ کے توبہ کرنے کی امید تو کی جاسکتی ہے لیکن بدعتی اپنی بدعت باز نہیں آسکتا کیونکہ وہ بدعت کو نیکی سمجھ کر کرتا ہے۔ یہاں سو عمل سے شرک، بدعت اور گمراہی سبھی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ یہ آیت عاص…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(35:8) اب متذکرہ بالا (آیتہ 7) دونوں گروہوں کے مابین فرق کو مزید واضح کرنے کے لئے استفہامیہ ارشاد ہوتا ہے۔ کیا وہ شخص جس کے لئے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا ہو اور وہ اس کو خوبصورت نظر آیا اور اس نے باطل کو حق جانا اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل ہی سمجھا ؟ گویا تقدیر کلام ہے افمن زین لہ سوء عملہ فراہ حسنا ورای الباطل حقا کمن ھداہ اللہ فرای الحق حقا والباطل باطلا۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے مراد یہ کہ یہ دونوں شخص ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ فراہ حسنا کے بعد عبارت محذوف ہے (قرآن مجید میں حذف و تقدیر کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں) ۔ اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–10

لغات القرآن ( آیت نمبر 8 تا 10) زین (خوبصورت بنا دیا گیا) سوئ (برائی) را (اس نے دیکھا) یصنعون (وہ بناتے ہیں) تثیر (اٹھاتی ہے) سقنا ( ہم نے سیراب کردیا) بلد (شہر ، بستی ( ب ۔ ل د) النشور (قیامت میں) دوبارہ اٹھایا جانا) یصعد ( وہ چڑھتا ہے) الکلم (باتیں ، اعمال) یرفع (وہ بلند کرتا ہے) یمکرون ( وہ فریب دیتے ہیں) یبور ( برباد ہوتا ہے ، اکارت جائے گی) تشریح : آیت نمبر 8 تا 10 :۔ اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ نے اپنے بندوں سے جو بھی وعدے کئے ہیں وہ سچے ہیں اور پورے ہو کر رہیں گے لیکن شیطان اپنے جھوٹے وعدوں میں لوگوں کو پھنسا کر اپنے ساتھ جہنم میں لے جانا چاہتا ہے ۔ اس کی تدبیریں اس قدر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) شان نزول : ابوجہل وغیرہ مشرکین جو اپنے کفر وشرک جیسے افعال قبیح کو شیطان کے بہکانے کو بھلاسمجھنانے سے اچھا سمجھتے تھے اور برے کام اچھے معلوم ہونے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی فرمایا کہ اس شخص کے مثل کوئی ہوسکتا ہے جس کو خدا نے سیدھاراستہ دکھادیا ہے ہرگز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گمراہ کردے اور جس کو چاہے ہدایت کرے اور اے محبوب ﷺ آپ اس غم میں کہ یہ ایمان نہ لائے تو ان کی حالت کی حسرت میں اپنی جان نہ کھوئیے، بلاشبہ اللہ تمام ان کاموں کا جو وہ کررہے ہیں بخوبی جانتا ہے تو وہ ان کو ان عملوں کی سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 1 صفحہ 596 اور سورة نحل حاشیہ 60 صفحہ 636۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–9

شیطان کی حسین کمندیں 1: جس طرح دنیا کی سعادت کے لئے یہ ضروری ہے ۔ کہ دوستوں اور دشمنوں میں امتیاز کیا جائے ۔ اسی طرح فلاح اخروی کے لئے ناگزیر ہے ۔ کہ شیطان کو اپنا دشمن سمجھاجائے ۔ اور اس کے متعلق محکم یقین ہو ۔ کہ وہ دوستی اور خیر خواہی کا کبھی ارادہ نہیں کرے گا ۔ اس کی تمام چالیں محض اس لئے ہونگی ۔ کہ کسی طرح اس کا گروہ الگ پیدا ہوجائے ۔ اور ان سب کو وہ جہنم کا کندا بنا دے ۔ اور اسی رطح وہ مخلوق خدا سے انتقام لے کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کرے ۔ یہ یاد رہے کہ شیطان کبھی براہ راست حملہ نہیں کرتا ۔ کبھی جرات کے ساتھ گمراہی کی جانب دعوت نہیں دیتا ۔ اور کبھی کھلم کھلا مقابلے میں نہیں آتا ۔ بلکہ وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) بھلا کیا وہ شخص جس کا برا عمل اس کے لئے خوش نما اور آراستہ و مزین کردیا گیا ہو پھر وہ اس عمل بد کو اچھا سمجھ رہا ہو تو کیا یہ شخص اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو برے کو برا سمجھتا اور دیکھتا ہو کیونکہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےراہ اور گمراہ رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور اے پیغمبر ان منکرین دین حق پر حسرت اور افسوس کرتے کرتے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو ان کے کاموں کی جو وہ کرتے ہیں سب خبر ہے۔ یعنی دین حق کے منکروں کو ان کے برے اعمال کفروشرک وغیرہ اچھے دکھائی دیتے ہیں ان برے اعمال کو ان کی نگاہ میں شیطان آراستہ و پیراستہ کر کے اور مزین…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ پہلے شخص سے مراد کافر جو اغوا شیطانی سے باطل کو حق اور رضا کو نافع سمجھتا ہے، اور دوسرے شخص سے مراد مومن جو اتباع انبیاء و مخالفت شیطان سے باطل کو باطل، حق کو حق، ضار کو ضار اور نافع کو نافع جانتا ہے، یعنی یہ دونوں برابر کہاں ہوئے ؟ بلکہ ایک جہنمی اور ایک جنتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ ایسے لوگ بھی ہیں جن کو برے اعمال ان کی نگاہوں میں اچھے نظر آنے لگتے ہیں 8 ۔ زیر نظر آیت میں ایک بہت بڑی اصل انسان کو سمجھائی جارہی ہے بشرطیکہ انسان کو سمجھنے کی کوشش کرے ایک انسان جب کوئی گناہ کرتا ہے اور وہ گناہ اس کا ابتدائی ہوتا ہے تو اس کا اپنا دل ہی اس کو لعن طعن کرتا ہے بلکہ بعض اوقات سخت احتجاج بھی کرتا ہے لیکن جب وہ دل کی اس آواز کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اس پر کان نہیں دھرتا تو اس کا اپنا ہی نفس اس کو اطمینان دلانے لگتا ہے اور وساوس پیش کرنے لگتا ہے اور یہی قرین ہے جس کو قرآن کریم نے دوسری جگہ { بئس القرین } قراردیا ہے۔ اسی طرح کرتے کرتے وہ مرحلہ آجاتا ہے کہ انسان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

Imam al-Baghawi has reported on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas ؓ that the verse: فَإِنَّ اللَّـهَ يُضِلُّ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ (The fact, therefore, is that Allah lets go astray whomsoever He wills , and leads to the right path whomsoever He wills.- 8) was revealed at a time when the Holy Prophet ﷺ had made the prayer: '0 Allah, bless Islam with prestige and power, through ` Umar Ibn al-Khattab, or Abu Jahl.' Out of the two, Allah Ta’ ala showed the right path to Sayyidna 'Umar ؓ and made him the cause of Islam's prestige and power, while Abu Jahl remained as…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 Verses 3-7 were addressed to the common people. In this paragraph mention has been made of the standard-bearers of error and deviation, who were exerting their utmost to frustrate and defeat the mission of the Holy Prophet. 16 That is, one kind of perverted person is he who commits evil but knows and understands that he is committing evil. Such a person can be reformed by counsel and advice, and sometimes his own conscience also pricks and brings him to the right path, for his habits only are perverted, not hIS mind But there is another kind of a person whose mentality has been perverted,…

Read the full tafseer →