Explained with ayahs 9–11
موت کے بعد زندگی۔
قرآن کریم میں موت کے بعد کی زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے۔ جیسے سورة حج وغیرہ میں ہے۔ بندوں کے لئے اس میں پوری عبرت اور مردوں کے زندہ ہونے کی پوری دلیل اس میں موجود ہے کہ زمین بالکل سوکھی پڑی ہے، کوئی ترو تازگی اس میں نظر نہیں آتی لیکن بادل اٹھتے ہیں، پانی برستا ہے کہ اس کی خشکی تازگی سے اور اس کی موت زندگی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو ایک تنکا نظر نہ آتا تھا یا کوسوں تک ہریالی ہی ہریالی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح بنو آدم کے اجزاء قبروں میں بکھرے پڑے ہوں گے ایک سے ایک الگ ہوگا۔ لیکن عرش کے نیچے سے پانی برستے ہی تمام جسم قبروں میں سے اگنے لگیں گے۔ جیسے زمین سے…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 19
یعنی یہ نادان لوگ آخرت کو بعید از امکان سمجھتے ہیں اور اسی لیے اپنی جگہ اس خیال میں مگن ہیں کہ دنیا میں یہ خواہ کچھ کرتے رہیں بہرحال وہ وقت کبھی آنا نہیں ہے جب انہیں جواب دہی کے لیے خدا کے حضور حاضر ہونا پڑے گا۔ لیکن یہ محض ایک خیال خام ہے جس میں یہ مبتلا ہیں۔ قیامت کے روز تمام اگلے پچھلے مرے ہوئے انسان اللہ تعالیٰ کے ایک اشارے پر بالکل اسی طرح یکایک جی اٹھیں گے جس طرح ایک بارش ہوتے ہی سونی پڑی ہوئی زمین یکایک لہلہا اٹھتی ہے اور مدتوں کی مری ہوئی جڑیں سرسبز و شاداب ہو کر زمین کی تہوں میں سے سر نکالنا شروع کردیتی ہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اللہ ایسا (قادر) ہے جو (بارش سے پہلے) ہواؤں کو بھیجتا ہے پھر وہ (ہوائیں) بادلوں کو اٹھاتی ہیں (جس کی کیفیت سورة روم کے رکوع پنجم آیت (آیت) اللہ الذی یرسل الریاح کی تفسیر میں گذری ہے) پھر ہم اس بادل کو خشک قطعہ زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں (جن سے وہاں بارش ہوتی ہے) پھر ہم اس کے ذریعہ سے (یعنی اس بادل کے پانی کے ذریعہ سے) زمین کو (نباتات سے) زندہ کرتے ہیں اس کے خشک ہونے کے بعد (اور جس طرح زمین کے مناسب اس کو حیات عطا فرمائی) اسی طرح (قیامت میں آدمیوں کا) جی اٹھنا ہے (کہ ان کے مناسب حیات ان کو عطا ہوگی وجہ تشبیہ ظاہر ہے کہ دونوں میں ایک زائل شدہ صفت کا احداث و اعادہ ہے۔ گو زمین…
Read the full tafseer →2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 9۔ 18
آگے اس وعدہ شدنی کی، جس کا ذکراوپر آیت 5 میں ہوا ہے، بطور تمہید پہلے دلیل بیان فرمائی ہے، پھر بتایا ہے کہ جس کو خدا کا تقرب اور اس کی بارگاہ میں سرخ روئی مطلوب ہو وہ جھوٹے معبودوں کو تقریب کا ذریعہ بنانے کے بجائے اس کا صحیح طریقہ اختیار کرے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی ایمان اور عمل صالح کی راہ پر چلے۔ ایمان خدا کی طرف صعود کرنے والی چیز ہے اور عمل ِ صالح اس کو سہارا دیتا ہے اور رفعت بخشتا ہے۔ اس کے سوا خدا کے تقریب کی کوئی اور راہ نہیں ہے۔ جن لوگوں نے یہ راہ چھوڑ کر دوسری راہیں نکالی ہی اور اصل راہ سے لوگوں کو ہٹانے کے لئے رات دن طرح طرح کی سازشوں میں سرگرم ہیں ان کی…
Read the full tafseer →9۔ 1 یعنی جس طرح بادلوں سے بارش برسا کر خشک زمین کو ہم شاداب کردیتے ہیں اسی طریقے سے قیامت والے دن تمام مردہ انسانوں کو بھی ہم زندہ کردیں گے، حدیث میں آتا ہے کہ انسان کا سارا جسم بوسیدہ ہوجاتا ہے صرف ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا حصہ محفوظ رہتا ہے اسی سے اس کی دوبارہ تخلیق و ترکیب ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
2: اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، زبردستی گمراہ کردیتا ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص ہٹ دھرمی سے خود گمراہی کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو گمراہی میں ہی مبتلا رکھ کر اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ دیکھئے سورة بقرہ :7
Read the full tafseer →درس نمبر 201 ایک نظر میں
یہ تیسرا سبق دراصل پے در پے اسفار پر مشتمل ہے۔ یہ سفر انسانی خیال کو ، اس کائنات وسعتوں میں کرائے گئے ہیں اور قرآن نے ان اسفار میں انسان کو دلائل ایمان سے آگاہ کیا ہے۔ ان اسفار کے درمیان انسان کو جو مظاہر دکھائے گئے ہیں ، ان سے قرآن دعوت اسلامی پر دلائل وبراہین فراہم کرتا ہے۔
یہ اسفار اس مضمون کے بعد آئے ہیں کہ ہدایت و ضلالت کا اختیار صرف اللہ کو ہے اور جس میں رسول اللہ ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ آپ منہ موڑنے والوں کے رویہ کی کوئی پرواہ نہ کریں اور ان کا معاملہ اس اللہ کے سپرد کردیں جو ان کی تمام کارستانیوں سے باخبر ہے۔ اس سبق کا مضمون یہ ہے کہ اگر کوئی ایمان لانا…
Read the full tafseer →4 اللہ کے حکم سے ہوائیں بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں اور جس ملک کا رقبہ مردہ پڑا تھا۔ یعنی کھیتی و سبزہ کچھ نہ تھا، چاروں طرف خاک اڑ رہی تھی، بارش کے پانی سے اس میں جان پڑجاتی ہے۔ اسی طرح سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تم کو بھی مرے پیچھے جلا کر کھڑا کر دے گا۔ روایات میں ہے کہ جب اللہ مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا۔ عرش کے نیچے سے ایک (خاص قسم کی) بارش ہوگی جس کا پانی پڑتے ہی مردے اس طرح جی اٹھیں گے جیسے ظاہری بارش ہونے پر دانہ زمین سے اگ آتا ہے۔ مزید تفصیل روایات میں دیکھنی چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت 9 { وَاللّٰہُ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ } ”اور اللہ ہی ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے“
{ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰہُ اِلٰی بَلَدٍ مَّیِّتٍ } ”پھر وہ اٹھا لیتی ہیں بادلوں کو ‘ پھر ہم ہانک دیتے ہیں اس بادل کو ایک ُ مردہ زمین کی طرف“
{ فَاَحْیَیْنَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا } ”پھر ہم اس سے اس زمین کو زندہ کردیتے ہیں اس کے مردہ ہوجانے کے بعد۔“
{ کَذٰلِکَ النُّشُوْرُ } ”اسی طرح سے ہوگا تمہارا اٹھایا جانا بھی !“
جس طرح بےآب وگیاہ بنجر زمین پر بارش کے برستے ہی زندگی کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے طرح طرح کا سبزہ اس میں سے نمودار ہونے لگتا ہے ‘ اسی طرح وقت آنے پر تم بھی…
Read the full tafseer →13 نباتات کی پیدائش سے معاد پر دلیل :۔ یہ ایک عام انسانی مشاہدہ سے معاد پر دلیل ہے۔ انسانی مشاہدہ یہ ہے کہ بارش ہوتی ہے تو خشک، بنجر اور مردہ زمین یک دم زندہ ہو کر نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے پھر اس سے صرف نباتات ہی پیدا نہیں ہوتی ہزاروں جانور، مینڈک، حشرات الارض اور جھینگر وغیرہ بھی پیدا ہو کر اپنی اپنی بولیاں بولنے لگتے ہیں۔ یہ آخر کہاں سے پیدا ہوگئے ؟ بالکل یہی کیفیت انسانوں کے زمین سے جی اٹھنے کی بھی ہوگی۔ اور روایات میں آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا کہ تمام انسان زندہ ہو کر اپنی اپنی قبروں سے اگ آئیں یا اٹھ کھڑے ہوں تو عرش کے نیچے سے ایک خاص قسم کی بارش ہوگی جس سے سب انسان زندہ ہو…
Read the full tafseer →16۔ یعنی زمین مردہ میں اسی کے متناسب جان ڈال دیتے ہیں۔ (آیت) ” الریح۔ سحابا۔ فسقنہ “۔ بارش اور برساتی ہواؤں پر حاشیہ سورة الروم (پ 21) میں گزر چکا۔ (آیت) ” فسقنہ الی بلد میت “۔ اور وہاں اس خشک علاوہ میں بارش ہوجاتی ہے۔ ایک بارش کے سلسلہ میں قدرت کی کارفرمائیوں کے جو انتظامات ہوتے رہتے ہیں۔ ایک خاص وقت پر زمین سے بخارات کا اٹھنا۔ ایک خاص بلندی پر جاکر ان کا جم جانا، اس کثیف وباردار ہوا کا ایک خاص رفتار سے کسی خاص سمت کی طرف چلنا، کسی متعین علاقہ پر جاکر فضا میں اتنی گرمی پیدا ہونا کہ ایک متعین مقدار میں بارش کے قطرے زمین پر آئیں۔ وغیرہ وغیرہ موسمیات (میٹر یولوجی) کی ساری باریکیاں انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
آیت نمبر 8 تا 14
ترجمہ : (آئندہ) آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیا وہ شخص کہ جس کے سامنے اس کے برے عمل کو تلبیس کے ذریعہ مزین کرکے پیش کیا گیا پھر وہ اس کو نیک عمل سمجھنے لگا (اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کو اللہ نے ہدایت دی ہو ؟ نہیں ہوسکتا) مَنْ مبتداء ہے اور اس کی خبر کَمَنْ ھدَاہُ ہے (اس حذف خبر پر) فاِنّ اللہ یُضَلُّ مَنْ یشَاءُ (الآیۃ) دال ہے، یقین مانو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو آپ ان پر یعنی ان لوگوں پر کہ جن کے (اعمال بد) ان کے لئے مزین کردیئے گئے ہیں، اتنا غم نہ کیجئے، کہ ان کی اس بات پر غم کی وجہ سے کہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان ہی…
Read the full tafseer →واللہ الذی ارسل الریح فتثیر سحابا فسقنہ الی بلد میت فاحیینا بہ الارض بعد موتھا
کذلک النشور . اور اللہ وہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے ‘ پھر ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں ‘ پھر ہم بادلوں کو مردہ (یعنی خشک) قطعۂ زمین کی طرف چلاتے ہیں ‘ پھر اس (کے پانی) سے مردہ زمین کو مرے پیچھے (یعنی خشک ہوجانے کے بعد) زندہ کردیتے ہیں (یعنی سرسبز کردیتے ہیں) اسی طرح ہوگا مردوں کا قبروں سے اٹھنا۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہواؤں کے ذریعہ سے بادلوں کو اٹھا کر اور پھر پانی برسا کر اللہ مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے ‘ اسی طرح قیامت کے دن تم کو زندہ کر کے اٹھائے گا۔
فَتُثِیْرُ سَحَابًا یہ گذشتہ حال کی حکایت ہے تاکہ وہ ندرت…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ایسا قادر ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے پھر وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم بارش سے زمین کو سیراب کرتے ہیں پھر ہم اس کے ذریعے سے بنجر زمین کو آباد کرتے ہیں اسی طرح تم زندہ کیے جاؤ گے اور قبروں سے نکالے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ فَتُـثِيْرُ سَحَابًا۔ : قرآن کریم میں موت کے بعد زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے، جیسا کہ سورة حج میں فرمایا : (ۭ وَتَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَاَنَّهٗ يُـحْيِ الْمَوْتٰى وَاَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ) [ الحج : 5 تا 7 ] ”اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی…
Read the full tafseer →آیت ؛ واللہ الزی ارسل الریح فتثیر سحابا فسقنہ الی بلد میت، میت اور میت دونوں کا معنی ایک ہے، اسی طرح مینتتہ اور میتتہ ہے ؛ یہ نحویوں میں سے ماہر لوگوں کا قول ہے۔ محمد بن یزید نے کہا : یہ بصریوں کا قول ہے اس نے کسی کی استثناء نہ کی ؛ اس نے اس پر دلائل قطعیہ سے استدلال کیا۔ اور یہ شعر پڑھے :
لیس من مات فاستراح بمیت انما المیت میت الا حیاء
انما المیت یعیش کثیبا کا سفا بالہ قلیل الرجاء
وہ آدمی نہیں مرا جو مرنے سے راحت پا گیا۔ مردہ تو حقیقت میں زندوں سے مرنے والا ہے۔ میت تو حقیقت میں وہ ہے جو غمگین ہو کر زند گی گزارتا ہے اس کا دل بجھا ہوا اور امید کم ہوتی ہے۔
کہا : کیا تو میت اور میت میں فعق…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاحیینا بہ الارض بعد موتھا، کذلک النشور “ (پھر ہم اس پانی کے ذریعہ کو زندہ کردیتے ہیں اسے خشک ہوجانے کے بعد اسی طرح ہوگا مردوں کا قبروں سے اٹھنا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس مردہ زمین کو اس اس پانی سے زندہ کردیا اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن زندہ کرے گا۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ پھونکنے والا فرشتہ زمین و آسمان کے درمیان صور لے کر کھڑا ہوگا اور اس میں پھونکے گا تو آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی کوئی مخلوق باقی نہیں رہے گی (مگر جیسے اللہ چاہے گا) پھر اللہ…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ الَّذِيْٓ [اور اللہ وہ ہے جو ] اَرْسَلَ الرِّيٰحَ [بھیجتا ہے ہواؤں کو ] فَتُـثِيْرُ سَحَابًا [تو وہ اٹھاتی ہیں بادل کو ] فَسُقْنٰهُ [پھر ہم ہانک دیتے ہیں اس کو ] اِلٰى بَلَدٍ مَّيِّتٍ [کسی مردہ شہر کی طرف ] فَاَحْيَيْنَا بِهِ [پھر ہم زندہ کرتے ہیں اس سے ] الْاَرْضَ [زمین کو ] بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ [اس کے مردہ ہوجانے کے بعد ] كَذٰلِكَ [اس طرح ] النُّشُوْرُ [دوبارہ زندہ ہونا ہے ] ۔
نوٹ۔ 1: آیت 9 میں آفاقی صداقت کا بیان سے اس لئے اس میں افعال ماضی کا ترجمہ حال میں کیا گیا ہے۔ (دیکھیں آیات 2:49، نوٹ 2) ۔ آیت 10 میں مَنْ شرطیہ ہے اس لئے کان یرید (ماضی اسمراری) کا ترجمہ بھی حال میں ہوا ہے۔
Read the full tafseer →دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی شان رزاقیت بیان فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے یہ ہوائیں بادلوں کو ان کی جگہوں سے ہٹاتی ہیں، پھر ان بادلوں کو اللہ تعالیٰ مردہ یعنی خشک زمین کی طرف بھیج دیتا ہے وہ وہاں جاکر پانی برساتے ہیں جس سے خشک زمین زندہ ہوجاتی ہے، گھاس پھونس پیدا ہوتا ہے جو مویشیوں کے کام آتا ہے، انسان اپنی ضرورت کی پیداوار کے لیے زمین میں بیج ڈالے ہوئے ہوتے ہیں بارش ہونے سے کھیتیاں نکلتی ہیں اور بقدر ضرورت بلند ہوتی ہیں، چھوٹی بڑی بالیاں نکلتی ہیں جن میں دانے ہوتے ہیں، یہ دانے پکتے ہیں پھر کھیتی کاٹی جاتی ہے، بھوسہ اور دانہ الگ الگ کیا جاتا ہے، پھر دانوں کو پیس کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ذکر دلائل توحید مع دیگر مضامین مناسبہء مقام
مثل ترغیب خشیت وفکر آخرت وترہیب از غفلت
قال اللہ تعالی۔ واللہ الذی ارسل الریح فتثیر سحابا۔۔۔ الی۔۔۔ ومکرا اولئک ھو یبور۔
(ربط) اوپر سے توحید کا مضمون چلا آرہا ہے اب آگے پھر اپنے عجائب صنعت اور بدائع قدرت کو ذکر کرتے ہیں تاکہ ان میں غور فکر کریں اور عبرت پکڑیں اور سعادت اور شقاوت کو سمجھیں اور آخرت کی فکر کریں جو منزل مقصود ہے اس لئے اب آئندہ آیات میں اثبات وحدانیت اور اثبات معاد اور حشر ونشر کے لئے اپنے دلائل قدرت کو ذکر کرتے ہیں جو قیامت کا نمونہ ہیں اور اللہ وہ ذات ہے کہ جو ہواؤں کو بھیجتا ہے یعنی وہ ہواؤں کو حکم دیتا ہے پس وہ فورا رواں ہوجاتی ہیں…
Read the full tafseer →13:۔ واللہ الذی الخ : یہ چوتھی عقلی دلیل ہے ہواؤں کے دوش پر بادلوں کو اڑا کر ادہر سے ادہر لے جانا اور پھر ان سے مینہ برسا کر خشک اور ناکارہ زمین کو زرخیز بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اس لیے کارساز بھی وہی ہے۔ کذلک النشور : یہ جملہ معترضہ ہے برائے اثبات حشر و نشر۔ اللہ تعالیٰ جس طرح مردہ زمین کو باران رحمت سے زندہ کرلیتا ہے۔ اسی طرح وہ قیامت کے دن مردہ انسانوں کو بھی دوبارہ زندہ کرلے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ربط آیت
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا اور تنبیہہ فرمائی کہ تمہیں اسی دنیا میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے لہٰذا اس سے بچنے کی کوشش کرنا۔ فرمایا جو شخص شیطان کے پھندے میں پھنس گیا وہ دوزخ کا شکار ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ کفر کا پروگرام بڑا خطرناک اور شدید عذاب کا باعث ہے۔ فرمایا کامیابی سے وہی لوگ ہمکنار ہوں گے جو ایمان لانے کے بعد اعمال صالحہ انجام دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی بخشش و مغفرت انہی لوگوں کے حصے میں آئے گی۔
نیکی اور برائی کا تقابل
ایمان اور کفر یا نیکی اور برائی کے تقابل کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے افمن زین لہ سوء عملہ فراۃ حسنا ایک طرف وہ شخص ہے جس کا برا عمل…
Read the full tafseer →وَاللہُ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ فَتُـثِيْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰہُ اِلٰى بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَحْيَيْنَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا 0 ۭ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ 9
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا .
وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ.
فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
واللہ الذی الخ یہاں سے پھر اصل مطلب یعنی اثبات حشر میں کلام شروع ہوتا ہے اور ہوائیں چلانا اور ان سے بادلوں کا اٹھانا پھر بادلوں کو بلد میت یعنی خشک شہر یا زمین کی طرف روانہ کرکے مینہ برسانا اور اس کو شاداب کردینا اپنے عجائبِ قدرت ذکر فرما کر اس کو قیامت برپا کرنے کا نمونہ بتلاتا ہے، چند وجوہ سے اول یہ کہ جس طرح وہ مردہ زمین نے اپنے قابل حیات قبول کرلی، اسی طرح اعضاء بھی قبول کریں گے۔ دوم یہ کہ جو قادر مطلق ہو اسے ابر کو جمع کرلیتا ہے اسی طرح اعضائِ انسانیہ کو بھی۔ سوم یہ کہ اسی طرح سے ہم روح کو جسم کی طرف رواں کریں گے۔
مشرکین اپنے بتوں کو اس لیے بھی پوجتے ہیں کہ عزت و حرمت حاصل ہو، یعنی ہر…
Read the full tafseer →وَاللّٰہُ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَـتُـثِـیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰـہُ اِلٰی بَلَدٍمَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط کَذٰلِکَ النُّشُوْرُ ۔ (فاطر : 9)
(اور اللہ ہی ہے جو ہَوائوں کو بھیجتا ہے، پس وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں، پھر ہم ان کو ہانکتے ہیں کسی مردہ زمین کی طرف، پس ہم اس سے اس زمین کو زندگی بخشتے ہیں اس کے مردہ ہوجانے کے بعد، مرے ہوئے انسانوں کا جی اٹھنا بھی اسی طرح ہوگا۔ )
قیامت کے وقوع پر ایک واقعاتی دلیل
گزشتہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ جو کچھ کررہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔ اپنے اسی علم و خبر کے مطابق مختلف شہادات کے ساتھ قیامت کے دن ان سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : برے اعمال پر خوش ہونے والے لوگ در حقیقت آخرت کو بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا ثبوت بارش کے حوالے سے دیا اور سمجھایا گیا ہے۔
دنیا میں بیشمار ایسے لوگ ہیں جو اعتقاداً یا عملاً آخرت کے منکر ہوتے ہیں۔ اعتقادی طور پر آخرت کا انکار کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کو سمجھایا جارہا ہے کہ سوچو اور دیکھو ! کہ جب بارش کا نام و نشان نہیں ہوتا اور لوگ بارش کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہوتے ہیں فصلیں ویران اور جڑی بوٹیاں گل سڑ جاتی ہیں۔ جس سے نہ صرف صحراء اور بیاباں بھیانک منظر پیش…
Read the full tafseer →دلائلِ قدرت :
9: وَاللّٰہُ الَّذِیْْ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ (اور اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے)
قراءت : مکی اور حمزہ، علی نے الرِّیْح پڑھا ہے۔
فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰہُ اِلٰی بَلَدٍ مَّیِّتٍ (پھر وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم ان بادلوں کو ایک خشک قطعہ زمین کی طرف ہانک کرلے جاتے ہیں۔ )
قراءت : مدنی، حمزہ، علی، حفص نے میتٍ کو تشدید سے پڑھا۔ دیگر قراء نے تخفیف کے ساتھ ادا کیا۔
فَاَحْیَیْنَا بِہٖ (پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے زمین کو زندہ کردیا) بارش کے ذریعہ کیونکہ ضمناً اس کا ذکر پہلے ہوچکا۔ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا (اس کے مرجانے کے بعد) یعنی اس کے سبب سے۔ یہاں تثیر لا یا گیا تاکہ…
Read the full tafseer →تفسیر 9۔ ، واللہ الذی ارسل الریاح فتثیر سحابافسقنا ہ الی بلد میت فاحیینا بہ الارض بعد موتھا کذلک النشور ، جب ان کو قبروں سے اٹھا یا جائے گا۔
Read the full tafseer →9۔ مشرکین مکہ کو حشر کا انکار تھا جس کے سبب سے عقبیٰ کی بہبودی کی باتیں ان لوگوں کے دل میں نہیں جمتی تھیں اور اسی سے اللہ کے رسول ﷺ کو رنج ہوتا تھا اس لیے اکثر جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے کھیتی کی مثال دے کر حشرکا حال ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ جس طرح زمین مردہ پڑی ہوتی ہے اس میں گھانس تک نہیں ہوتی پھر جس وقت اللہ تعالیٰ نے مینہ کی ہوا چلائی اور پانی کے بھرے ہوئے بادے بھیجے اور مینہ برسایا تو اس وقت زمین حرکت کر کے ابھرتی ہے اور اس میں ہر طرح کی چیز پیدا ہوجاتی ہے یہ ہی حال جسموں کا ہے جب اللہ ان کو دوبارہ اٹھانا چاہے گا تو عرش کے نیچے سے ایک ایسی بارش بھیجے گا کہ وہ تمام زمین کو پہنچے گی…
Read the full tafseer →آیت 9
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال اقتدار اور وسعت سخاوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے (ارسل الریح فتثیر سحاباً فسقنہ الی بدلمیت) ” جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادل اٹھاتی ہیں پھر ہم اسے مردہ زمین کی طرف لے چلتے ہیں۔ “ پس اللہ تعالیٰ اس مردہ زمین پر بارش برساتا ہے (فاحیینا بہ الارض بعد موتھا) ” پھر ہم اس زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اسے زندہ کردیتے ہیں۔ “ تو مردہ زمین اور بندے زندگی حاصل کرتے ہیں، حیوانات کو رزق ملتا ہے، اس سرسبز زمین پر وہ چرتے پھرتے ہیں۔
(کذلک) ” اسی طرح “ جس نے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اسے زندگی بخشی وہ مردوں کے بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد…
Read the full tafseer →22 کائنات کی عظیم الشان درسگاہ میں غور و فکر کی دعوت : سو یہ کائنات ایک عظیم الشان درسگاہ ہے جس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو جس طرح ویران پڑی ہوئی وہ زمین جس میں خاک اڑ رہی ہوتی ہے اور اس میں کسی چارے سبزے کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہوتا، باران رحمت کے چھینٹے پڑتے ہی وہ لہلہا اٹھتی ہے۔ ہر طرف ہریالی اور سرسبزی ہی کا دور دورہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح مر مٹنے کے بعد یہ سب مخلوق ربِّ قدیر کے حکم و ارشاد سے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑی ہوگی۔ یہاں مر کر جی اٹھنے کو انگوری اور پیداوار کے اگنے پر قیاس فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے قیاس شرعی کی حجیت ثابت ہوتی ہے۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
اللہ کی قدرتیں اور اس کا نظام
تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، طاقت اور عظمت کو دلیلوں سے ثابت کیا گیا ہے سب سے پہلے ہواؤں کا ذکر ہے۔ ہوا ہر قسم کی مخلوقات کے لیے بےحد ضروری ہے۔ کیا حیوانات، نباتات یا جمادات ہوں سب کی بقاء (زندگی) کے لیے ہوا اتنی ہی ضروری ہے جنتی کہ پانی، خوراک اور روشنی ہے۔ ہوا کے ذریعے پانی کا بندوسبت ہوتا ہے جو مردہ اور خشک زمین کو دوبارہ زندہ کردیتا ہے۔ زمین سر سبز ہوجاتی ہے اور انسان و حیوان کے لیے چارہ اور خوراک اگنے لگتا ہے۔
اب ہواؤں کے عمل کو ذرا وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔ سورج کی کرنیں ہر اس جگہ سے پانی بھاپ بنا کر اوپر اڑانے لگتی ہیں۔ یہ بھاپ اتنی بلندی پر چلی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 8 تا 14:
اسرار و معارف :
کچھ لوگ جب اللہ سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان پر اللہ کا یہ غضب ہوتا ہے کہ ان کی سوچ الٹ جاتی ہے اور انہیں برائی کے کام بھلے لگنے لگتے ہیں اور یوں وہ کرتے چلے جاتے ہیں اور جس کو اللہ چاہتا ہے یعنی جس کے دل میں اللہ سے ہدایت کی طلب پیدا ہوجائے اسے ہدایت عطا فرما دیتا ہے لہذا آپ ان کی گمراہی کے دکھ کو اس قدر شدت سے محسوس نہ کیجیے کہ یہ ان کا اپنا انتخاب کردہ راستہ ہے اور اللہ ان کے کردار اور قلبی ارادوں تک سے خوب واقف ہے۔ سبحان اللہ جس رسول رحمتکو کفار کا کفر پہ رہنا دکھی کردیتا ہے اسے مسلمانوں کا کفار کے سے اعمال کرنا کس قدر دکھ پہنچاتا ہوگا۔ اللہ ہمیں…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی ایسے شہر کی طرف جس کی زمین مردہ پڑی ہے اور وہاں کوئی سزہ اور پیداوار نہیں ہوتی۔12 اس میں طرح طرح کی سبزیاں، غلے اور پھل پیدا ہوتے ہیں گویا اس میں جان پڑجاتی ہے۔
Read the full tafseer →(35:9) فتثیر۔تعقیب کا ہے۔ تثیر مضارع واحد مؤنث غائب، حکایت حال ماضی کے لئے استعمال ہوا ہے (حکایۃ الحال الماضیۃ کسی گذشتہ فعل کو واضح طور پر بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کی بجائے فعل مضارع استعمال کرنا) ۔ یہ مادہ ثور سے مشتق ہے۔
اثارۃ مصدر جس کے معنی ابھارنے ۔ برانگیختہ کرنے کے ہیں۔ چونکہ زمین کو جوتنے اور ہوائوں کے بادلوں کے اوپر اٹھانے میں اور لانے اور لے جانے میں یہ معنی موجود ہیں اس لئے تثیر کے معنی وہ بادلوں کو اوپر اٹھاتی ہے (یہاں الریاح کے لئے یہ صیغہ واحد مؤنث غائب استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ ہوائیں بادلوں کو اوپر اٹھاتی ہیں) ۔
زمین کے جوتنے کے معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے انھا بقرۃ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
لغات القرآن ( آیت نمبر 8 تا 10) زین (خوبصورت بنا دیا گیا) سوئ (برائی) را (اس نے دیکھا) یصنعون (وہ بناتے ہیں) تثیر (اٹھاتی ہے) سقنا ( ہم نے سیراب کردیا) بلد (شہر ، بستی ( ب ۔ ل د) النشور (قیامت میں) دوبارہ اٹھایا جانا) یصعد ( وہ چڑھتا ہے) الکلم (باتیں ، اعمال) یرفع (وہ بلند کرتا ہے) یمکرون ( وہ فریب دیتے ہیں) یبور ( برباد ہوتا ہے ، اکارت جائے گی)
تشریح : آیت نمبر 8 تا 10 :۔ اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ نے اپنے بندوں سے جو بھی وعدے کئے ہیں وہ سچے ہیں اور پورے ہو کر رہیں گے لیکن شیطان اپنے جھوٹے وعدوں میں لوگوں کو پھنسا کر اپنے ساتھ جہنم میں لے جانا چاہتا ہے ۔ اس کی تدبیریں اس قدر…
Read the full tafseer →(ف 2) مشرکین کو حشر کا انکار تھا جس کے سبب سے عقبی کی بہبودی کی باتیں ان لوگوں کے دل میں نہیں جمتی تھی اور اسی سے اللہ تعالیٰ کے رسول کو رنج ہوتا تھا اس لیے اکثر جگہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کھیتی کی مثال دے کر حشر کا حال ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ جس طرح زمین مردہ پڑی ہوتی ہے اس میں گھاس تک نہی ہوتی، پھر جس ووقت اللہ تعالیٰ نے مینہ کی ہواچلائی اور پانی کے بھرے ہوئے بادل بھیجے اور مینہ برسایا تو اس وقت زمین حرکت کرکے ابھرتی ہے اور اس میں ہر طرح کی چیز پیدا ہوجاتی ہے یہی حال جسموں کا ہے جب اللہ ان کو دوبارہ اٹھانا چاہے گا توعرش کے نیچے سے ایک ایسی بارش بھیجے گا کہ وہ تمام زمین کو پہنچے گی پھر ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
[5] بہت سے مسلمان کافروں سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے کہ اس سے ان کی عزت بنی رہے گی۔ اس قسم کے لوگوں کو بتلایا کہ جو شخص دنیوی عزت چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اللہ سے طلب کرے۔ اس کی فرماں برداری سے اصلی عزت میسر آتی ہے۔ تمام عزتوں کا مالک وہی ہے جس کسی کو عزت ملی یا ملے گی اسی کے خزانے سے ملی ہے یا ملے گی۔
[6] یعنی اللہ کا ذکر، دعا، تلاوت قرآن، علم و نصیحت کی باتیں وغیرہ۔
[7] یعنی جو چیز پاکیزہ قول کو عروج کی طرف لے جاتی ہے وہ قول کے مطابق عمل ہے۔ پاکیزہ قول اس حالت میں اللہ کے ہاں مقبول ہے جب اس کی پشت پر عمل صالح بھی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
شیطان کی حسین کمندیں
1: جس طرح دنیا کی سعادت کے لئے یہ ضروری ہے ۔ کہ دوستوں اور دشمنوں میں امتیاز کیا جائے ۔ اسی طرح فلاح اخروی کے لئے ناگزیر ہے ۔ کہ شیطان کو اپنا دشمن سمجھاجائے ۔ اور اس کے متعلق محکم یقین ہو ۔ کہ وہ دوستی اور خیر خواہی کا کبھی ارادہ نہیں کرے گا ۔ اس کی تمام چالیں محض اس لئے ہونگی ۔ کہ کسی طرح اس کا گروہ الگ پیدا ہوجائے ۔ اور ان سب کو وہ جہنم کا کندا بنا دے ۔ اور اسی رطح وہ مخلوق خدا سے انتقام لے کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کرے ۔ یہ یاد رہے کہ شیطان کبھی براہ راست حملہ نہیں کرتا ۔ کبھی جرات کے ساتھ گمراہی کی جانب دعوت نہیں دیتا ۔ اور کبھی کھلم کھلا مقابلے میں نہیں آتا ۔ بلکہ وہ…
Read the full tafseer →(9) اور اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے پھر وہ ہوائیں بادل کو اٹھاتی اور ابھارتی ہیں پھر ہم اس بادل کو کسی خشک اور مرے ہوئے قطعہ زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں پھر ہم اس بادل یعنی اس کے پانی سے زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کرتے ہیں۔ یعنی نباتات اگاتے ہیں اسی طرح لوگوں کا قیامت میں جی اٹھنا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مثل زندہ کرنے زمین خشک کے اٹھنا اموات کا ہوگا۔ قبروں سے کہا گیا ہے کہ زندہ کرے گا اللہ خلق کو ساتھ ایک پانی کے کہ بھیجے گا اس کو عرش کے نیچے سے کہ اس میں تاثیر منی کی ہوگی اگا دیگا اس سے اجساد خلق کے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ وجہ تشبیہ ظاہر ہے کہ دونوں میں ایک صفت زائلہ کا احداث ہے۔
Read the full tafseer →نشانات آفاق سے دوبارہ وہ اٹھائے جانے پر استدلال قائم کیا جارہا ہے
9 ۔ ہوا اور بادل کا تعلق نشانات آفاق سے ہے فرمایا اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے ہوائوں کو بھیجا اور وہ بڑے بڑے بھاری بادلوں کو اپنے کندھوں پر لادے دوڑتی چلی آرہی ہیں اور وہ ان کو اس طرح ہانکتی ہوئی چلی آرہی ہے کہ گویا بختی اونٹوں کا ایک جھنڈ ہے جو گردنیں لمبی کیے ہوئے دوڑتا آرہا ہے یہ ہوائیں ان کو کہاں لے جارہی ہیں جہاں کا ان کو حکم ملا ہے فرمایا ان کو حکم ہے کہ ان کو جلدی اس شہر پر لے چلو جس کی زمین مکمل طور پر مرچکی ہے اور جس کے جسم میں زندگی کا نشان بھی موجود نہیں ہے اور پھر کیا ہوتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس مروہ شہر پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
Imam al-Baghawi has reported on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas ؓ that the verse: فَإِنَّ اللَّـهَ يُضِلُّ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ (The fact, therefore, is that Allah lets go astray whomsoever He wills , and leads to the right path whomsoever He wills.- 8) was revealed at a time when the Holy Prophet ﷺ had made the prayer: '0 Allah, bless Islam with prestige and power, through ` Umar Ibn al-Khattab, or Abu Jahl.' Out of the two, Allah Ta’ ala showed the right path to Sayyidna 'Umar ؓ and made him the cause of Islam's prestige and power, while Abu Jahl remained as…
Read the full tafseer →19 That is, "These ignorant people think that the Hereafter is impossible. That is why they are living under the delusion that they may do whatever they like in the world, the time will never come when they will have to. appear before their God and render an account of their deeds. But this is no more than a delusion. On the Day of Resurrection, the dead men of All ages will suddenly rise back to life at one call of Allah just as the dead earth comes back to life at one shower of the rain and the roots, lying dead for ages, become green and start sprouting up from the layers of the earth."
Read the full tafseer →