Ayahs 35:1–2ترکیب : فاطر السمٰوٰت الاضافۃ معنویۃ لانہ بمعنی الماضی فصح و قوع فاطر صفتہ للہ، وکذلک جاعل الملائکۃ قال الطیبی ان جاعل باعتبارانہ یدل علی المضی یصلح کونہ صفۃ للمعرفۃ و باعتبارانہ یدل علی الحال والا ستقبال، یصلح للعمل فرسلاً مفعول ثانٍ ۔ و اولی بدل من رسل او لغت لہ ویجوزان یکون جاعل بمعنی خالق فیکون رسلاحا لا مقدرۃ و مثنی لغت للاجنحۃ یزید فی الخلق مستانف مایفتح اللہ ماشرطیۃ موضع نصب و من رحمتہ بیان لذلک۔
تفسیر : قرطبی کہتے ہیں، سب کے نزدیک یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے اور بخاری وغیرہ نے بھی ابن عباس ؓ سے یہی روایت کی ہے اور جو سورتیں الحمد کے ساتھ شروع ہوئی ہیں، یہ ان کا خاتمہ ہے۔ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ حمد بیشتر کسی نعمت پر ہوا کرتی ہے اور نعمائِ الٰہی دو قسم پر ہیں، ایک عاجلہ دوسری آجلہ یعنی بعد میں آنے والی، پھر ہر ایک کی دو قسمیں ہیں۔ ایک پیدا کرنا، دوسرا اس کو باقی رکھنا اور وقتاً فوقتاً اس کے ضروریات کو بہم پہنچادینا۔ اس سورة میں ہر ایک قسم کی نعمت پر حمد ہے۔ فاطر السمٰوٰت والارض میں ایجاد اور بقائِ اول کی طرف اشارہ ہے، کس لیے کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا جس طرح اس کے یعنی حضرت انسان کے ایجاد کے لیے ہے۔ اگر آسمان و زمین پہلے سے نہ ہوتے تو انسان بھی موجود نہ ہوتا، اسی طرح اس کے بقاء اور عیش و آرام کا بھی یہی چیزیں باعث ہیں، اس کی زندگی کے سب سامان یہیں سے بہم پہنچتے ہیں۔ فطر کے لغت میں معنی ابتداء و اختراع کے ہیں۔ فاطر السمٰوٰت آسمانوں کا بنانے والا بغیر کسی نمونہ اور بغیر مادہ کے۔
وجاعل الملئکۃ رسلا اس سے نعمت بقاء کی طرف اشارہ ہے۔ بقائِ دنیوی و بقائِ اخروی۔ بقائِ دنیاوی اس لیے کہ ملائکہ کا رسول بنانا اور ان کے ذریعہ سے کے پاس وحی بھیجنا اور تمام قوانین انتظامی کا جاری کرنا نوع انسانی کے قیام و تحفظ کے لحاظ سے بڑی نعمت قابل حمدوشکر ہے اور پھر انہی کے ذریعہ سے دار آخرت اور سعادت اور حیات ابدی کے متعلق باتیں تلقین فرمانا بقائِ اُخروی کے اعتبار سے بڑی نعمت ہے۔ سب ملائکہ کو رسول نہیں بنایا گیا، بلکہ بعض کو، ملائکہ میں سے رسول جبرئیل و میکائیل و اسرافیل و عزرائیل ہیں۔ اولی اجنحہ جمع جناح یہ ملائکہ کی صفت ہے کہ وہ بازو رکھتے ہیں، کسی کے دو ہیں کسی کے تین، کسی کے چار اور اسی میں حصر نہیں بلکہ یزید فی الخلق ما یشاء اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ بعض کے چھ سو تک بھی ہیں، وہ جو چاہے پیدا کرسکتا ہے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ملائکہ کسی کبوتر یا اور کسی پرند کے مانند نہیں ہیں جو ان کے لیے بھی اسی طرح بازو اور پر ہیں، بلکہ جناح سے مراد جہت ہے، پھر کوئی ذوجہتیں ہے کہ ایک جہت اللہ سے نعماء حاصل کرنے کی ہے، دوسری مخلوق میں پہنچانے کی جیسا کہ خود فرماتا ہے۔ نزل بہ الروح الامین وعلمہ شدید القوٰی والمدبرات امرا اور بعض جو اور ملائکہ کے واسطے سے کار کرتے ہیں، ان کے متعدد جہات ہیں یا یہ ملائکہ کے صفات متعددہ کی طرف اشارہ ہے اور مدبرات امر کے لیے ضروری بات ہے۔ واللہ اعلم۔
ملائکہ کے رسل اور واسطہ بنانے میں وہم جاسکتا تھا کہ خدا تعالیٰ بغیر ان کے کچھ نہیں کرسکتا، اس کا دفع کرنا ہے، ان اللہ علی کل شیئٍ قدیر کہ وہ ہر بات پر قادر ہے۔ عاجز نہیں۔ ان نعمتوں کے بعد عام طور سے بتلاتا ہے کہ ہم بندوں پر نعمت کے دروازے کھولتے ہیں تو ان کو کوئی بند نہیں کرسکتا۔ منجملہ ان کے کتاب اور رسول کا بھیجنا ہے اور جو بند کرتے ہیں تو کوئی کھول نہیں سکتا، وہ زبردست حکمت والا ہے۔
Ayahs 35:3–7ترکیب : غیر اللہ یقرء بالرفع و فیہ و جہان احد ھما ھو صفۃ لخالق علی الموضع و خالق مبتداء و الخبر محذوف تقدیرہ لکم او للاشیاء و الثانی ان یکون فاعل خالق ای ھل یخلق غیر اللہ شیئا ویقر ‘ بالجر علی الصفۃ لفظا یرزقکم یجوزان یکون مستانفا و یجوزان یکون صفۃ لخالق الذین کفروا یجوزان یکون مبتداء و ما بعدہ الخبروان یکون صفۃ لحزبہ او بدلا منہ وان یکون فی موضع جرصفۃ لاصحاب السعیر من التبیان۔
تفسیر : اس کے بعد خدا تعالیٰ اپنی نعماء کو یاد دلاتا ہے۔ فقال یا ایھا الناس اذکروا نعمت اللہ کہ لوگو میری نعمتوں کو یاد کرو، پھر ان نعمتوں کی تفصیل کرتا ہے۔ ھل من خالق غیر اللہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی پیدا کرنے والا ہے ؟ اس میں نعمت ایجاد ابتدائی کے طرف اشارہ ہے۔ یرزقکم من السماء والارض کہ تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیوے ؟ آسمان سے روزی دینا مینہ برسانا زمین سے روزی دینا میوے اور غلہ پیدا کرنا، اس میں نعمت بقاء کی طرف اشارہ ہے۔ اس استفہام کے بعد آپ ہی جواب دیتا ہے۔ لا الہ الا ھو کہ اس کے سوا اور کوئی نہیں فانی تو فکون پھر کہاں بہکے چلے جاتے ہو اور اس کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے ہو۔ الافک بالفتح الصرف پھرنا بہکنا وبالکسر الکذب لانہ مصروف عن الصدق۔
اصل اول توحید کے بعد دوسری اصل رسالت کو ثابت کرتا ہے۔ فقال وان یکذبوک فقد کذبت رسل من قبلک کہ اے نبی ! اگر ان لوگوں نے آپ کو جھٹلادیا ہے تو اس سے رنج نہ کر آپ سے پہلے بھی انبیاء جھٹلائے گئے ہیں۔ رسالت اللہ کی نعمت ہے اور نعمت کی ناشکری انسان کی عادت ہے، والی اللہ ترجع الامور اور ہر بات اللہ ہی کے طرف رجوع کرتی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی اسی کے پاس ہے، پس اس نے ان منکروں کا برا انجام کیا۔ اس کے بعد تیسری اصل کو ثابت کرتا ہے۔ یا ایہا الناس ان وعد اللہ حق فلا تغرنکم الحیٰوۃ الدنیا ولا یغرنکم باللہ الغرور لوگو اللہ کا وعدہ مرنے اور مر کر دوبارہ زندہ ہونے اور جنت و دوزخ میں جانے کا برحق ہے اور دنیا کی زندگانی پر فریفتہ ہو کر حق سے غافل نہ بنو۔ انسان موت کو بالطبع مکروہ سمجھتا ہے، لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھ کر مرنا مرنا کہتا ہے، مگر دنیاوی لذات و شہوات کے نشہ میں اس کو اپنے مرنے کا خیال بھی نہیں آتا، اس لیے آخرت سے غافل ہو کر شب و روز دنیا اور اس کے لذائذ کی طلب میں رہتا ہے۔ یہ ہے دھوکا کھانا، بعض کم عقل ضعیف الذہن بدرائے ہوتے ہیں۔ ادنیٰ سی بات میں دھوکا کھاجاتے ہیں اور بعض اس سے ذرا بہتر ہوتے ہیں، وہ دوسرے کے فریب میں ڈالنے سے فریب میں آجاتے ہیں۔ اس لیے اول مرتبہ کے لحاظ سے فلا تغرنکم الحیٰوۃ الدنیا فرمایا اور دوسرے کے لحاظ سے لایغرنکم باللہ الغرور ارشاد ہوا۔ وقری بضم الغین قال ابن السکیت الغرور بالضم مایغرمن متاع الدنیا وقیل مصدر غرہ کاللزوم۔ پھر فرماتا ہے۔ ان الشیطن لکم عدو الخ کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، تم کو فریب دیا کرتا ہے۔ سو اس کو دشمن ہی جان کر اس کا کہا نہ مانو اور جو اس کا کہا مانتا ہے تو پھر جہنم کی طرف لے جاتا ہے، منکر بنا دیتا ہے، پھر منکروں کو سخت عذاب ہے اور جو اس کے فریب میں نہیں آتے، ایمان لاتے اور نیک کام کرتے ہیں ان کے لیے دار آخرت ہے۔ بخشش اور بہتر بدلہ حیات ابدی اور سرور جاودانی۔
Ayah 35:8ترکیب : افمن الخ ھذہ الجملۃ مستانقہ لتقر یرما سبق من ذکر التفاوت بین عاقب فی الفریقین، ومن فی موضع دفع بالابتداء و خبرہ محذوف، قال الزجاج تقدیرہ کمن ھذاہ و قیل کمن لم یزین لہ، فلا تذھب نفسک علیہم حسراتٍ ، تذھب بضم التاء و کسرا لہا من الاذہاب و نصب نفسک علیہم حسراتٍ مفعول لہ وعلیہم صلہ تذھب کما یقال ھلک علیہ حباً ومات علیہ حزناً ۔ ویجوزان ینتصب حسراتٍ علی الحال کماروی عن سیبویہ وقال المبروا نھا تمیز و قری تذھب بفتح التاء والہا من الذہاب و نفسک مرفوعا و معناہ فلا تھلک نفسک علیھم للحسرات علی غیّھم یرفعہ الفاعل ضمیر العمل والھاء للکلم ای العمل الصالح یرفع الکلم و مکر اولئک مبتداء والخبر یبور وھو فصل او توکید ویجوزان یکون مبتداء ویبور الخبر والجملۃ خبر مکر۔
تفسیر : یہاں سے شیطان کے فریب کا ذکر کیا جاتا ہے کہ اس کے فریب دیے ہوئے ایسے بھی ہیں کہ بری باتوں کو اچھا سمجھتے ہیں۔ بت پرستی کو نجات کا باعث جانتے ہیں۔ پیغمبر کی عداوت کو ثواب سمجھتے ہیں۔ معاذ اللہ انسان جب ایسا تیرہ باطن ہوجاتا ہے تو اس پر تاریکی و ضلالت کے بڑے گہرے پردے پڑجاتے ہیں۔ فرماتا ہے بھلا ایسا شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے کہ جس کو خدا ان اندھیریوں کی موجوں سے نکال کر روشنی میں لایا ہو، اس کو نیک و بد میں کامل تمیز ہو ؟ ہرگز دونوں برابر نہیں، پس ایسی حالت میں بجز مایوسی کے اور کچھ نہیں، اس لیے فرماتا ہے فان اللہ یضل من یشاء الخ کہ اللہ ہی اگر چاہے تو ہدایت ہوسکتی اور اگر وہ نہ چاہے تو اسی گمراہی میں پڑا رہنے دے، اس پر آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ جب ان کی یہ حالت ہے تو آپ ان پر افسوس و رنج نہ کھاویں۔
Ayahs 35:9–11واللہ الذی الخ یہاں سے پھر اصل مطلب یعنی اثبات حشر میں کلام شروع ہوتا ہے اور ہوائیں چلانا اور ان سے بادلوں کا اٹھانا پھر بادلوں کو بلد میت یعنی خشک شہر یا زمین کی طرف روانہ کرکے مینہ برسانا اور اس کو شاداب کردینا اپنے عجائبِ قدرت ذکر فرما کر اس کو قیامت برپا کرنے کا نمونہ بتلاتا ہے، چند وجوہ سے اول یہ کہ جس طرح وہ مردہ زمین نے اپنے قابل حیات قبول کرلی، اسی طرح اعضاء بھی قبول کریں گے۔ دوم یہ کہ جو قادر مطلق ہو اسے ابر کو جمع کرلیتا ہے اسی طرح اعضائِ انسانیہ کو بھی۔ سوم یہ کہ اسی طرح سے ہم روح کو جسم کی طرف رواں کریں گے۔
مشرکین اپنے بتوں کو اس لیے بھی پوجتے ہیں کہ عزت و حرمت حاصل ہو، یعنی ہر بات میں ان کی پرستش سے کامیاب رہیں، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ من کان یرید للعزۃ فللہ العزۃ الخ کہ جو عزت کا طالب ہے تو عزت بھی اللہ ہی کے ہاں ہر طرح کی موجود ہے، پھر اس عزت حاصل کرنے کی ترکیب بتلاتا ہے۔ الیہ یصعد الکلم الطیب کہ اچھی باتیں یعنی کلمہ توحید و تمجید و تہلیل امر بالمعروف و نہی عن المنکر اللہ کی طرف بلند ہو کر جاتے ہیں، یعنی مقبول ہوتے ہیں اور عزت حاصل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بندے کو بھی عزت ہوتی ہے، یعنی نیک بات سے انسان کا بول بالا ہوتا ہے۔ والعمل الصالح یرفعہ اور نیک کام بندے کو بلند مرتبہ کرتا ہے۔ یا یہ معنی کہ نیک کام سے کلمہ طیب بلند ہوتا ہے، کوئی نیک بات بغیر نیک کام کے مقبول نہیں ہوتی۔ زبانی جمع خرچ کچھ کام نہیں آتا۔ حسن، مجاہد، سعید بن جبیر، قتادہ، ابوالعالیہ ضحاک۔ والذین یمکرون السیئات الخ اور جو برے کام کرتے ہیں اور بری تدبیر کرتے ہیں، وہ سب تدبیریں رد ہوجاتی ہیں۔ ذلت دلاتی ہیں۔ واللہ خلقکم الخ یہاں سے پھر دلائلِ توحید شروع کرتا ہے۔ ولا ینقص من عمرہ کی ضمیر معمر کی طرف نہیں پھرتی، اس کے یہ معنی ہیں کہ ہر انسان کی عمر کا دراز ہونا اور کسی کی عمر کا طبعی عمر سے کم ہونا سب علم ازلی میں ہے۔
1 ؎ خشک زمین کی۔
Ayah 35:12ترکیب : سائغ علی فاعل شرابہ مرفوع لاعتمادہ علی ماقبلہ لتبتغوا اللام متعلقہ، بمواخر ویجوزان یتعلق بمادل علیہ الافعال المذکورۃ یولج جملۃ مستانفۃ ذلکم مبتداء اللہ خبرہ ربکم خبرثان لہ الملک الجملۃ خبر ثالث والذین مبتداء مایملکون خبر من قطمیر بیان لمفعول مایملکون ای لایملکون شیئا من قطمیر۔
تفسیر : مایستوی البحران یہاں سے ان دونوں شخصوں کی تمثیل بیان کرتا ہے، یعنی اس کی کہ جس کو شیطان نے اندھا کیا، بلکہ برعکس میں کردیا اور اس کی جو سیدھے رستہ پر چلا جاتا ہے کہ جس طرح شیریں اور کھاری دریا برابر نہیں گو دونوں میں سے تازہ گوشت مچھلیاں اور زیور پہننے کا موتی اور مونگا نکالتے ہیں اور ہر ایک میں کشتیاں بھی جاری ہیں کہ جن سے روزی حاصل ہوتی ہے۔ تجارت کے ذریعہ سے اور یہ شکر گزاری کا موقع بھی ہے اور نیز اس تفاوت میں قادر مختار کی قدرت کا بھی اظہار ہے، اسی طرح مومن و کافر بھی برابر نہیں، گو بہت سے اوصاف میں دونوں مشترک ہیں اور دو دریائوں کے ذکر سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسانی خیالات دریا کی طرح رواں ہیں، پر دونوں میں فرق ہے۔ مومن کا دریا جو موج زن ہے تو اس میں شیرینی ہے، کافر کے دریا میں انجام کار تلخی۔
Ayahs 35:13–14یولج الیل الخ یہاں سے اختلاف زمانہ سے اپنے قادر ہونے پر استدلال کرکے یہ فرماتا ہے۔ ذلکم اللہ ربکم یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کے قبضہ میں زمین و آسمان، رات دن ‘ چاند اور سورج ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ والذین تدعون اور جن کو کہ تم اس کے سوا پکارتے ہو، ان کا رب اور خالق ہونا تو درکنار ان کو کچھ بھی اختیار نہیں۔ اے شیطان کے فریب میں ڈالے ہوئو ! تم ان بتوں سے کیا عزت ڈھونڈتے ہو، اول تو ان کو کچھ اختیار ہی نہیں۔ دوم ان تدعوھم لایسمعوا دعاء کم اگر تم ان کو پکارو بھی تو وہ تمہارا پکارنا نہیں سنتے، کس لیے کہ جمادات بےحس و حرکت ہیں۔ سوم ولو سمعوا ما استجابوا لکم اگر فرض کیا جاوے کہ سنتے ہیں تو بھی کچھ فائدہ نہیں کس لیے کہ وہ جواب نہیں دے سکتے اور تمہارا کہا نہیں کرسکتے ویوم القیمٰۃ یکفرون بشرککم اور قیامت کے دن تمہارے شرک کرنے کا انکار کریں گے اور کہیں گے۔ ماکنتم ایاناتعبدون اور ممکن ہے کہ اس جملہ میں ملائکہ اور جن اور شیاطین اور انبیاء مراد ہوں کہ جن کو لوگ دنیا میں پوجتے اور پکارتے ہیں۔ ولاینبئک مثل خبیر پھر پیش آنے والی باتیں کہ قیامت کو وہ ان کے برخلاف ہوجاویں گے۔ غیب کی باتیں ہیں، تجھ کو اللہ خبردار نے بتلائیں اور اس خبردار کے برابر کون بتلاسکتا ہے۔
فائدہ : فرات بالضم آب خوش یقال ماء فرات و میاہ فرات، سائغ سوغ آساں بگلو فروشدنِ آب و فروبردن، ملح بالکسر نمک ما ئِ ملیح لغت منہ ولایقال مالح الا فی لغۃ رویۃ، ماء اجاج بالضم آب شور اجوج بالضم مصدر منہ، طرو، طری تازہ طراوۃ و طراۃ تازگی، قطمیر بالکسر پوستک تنک دانہ خرمایا نقطہ سپید برپشت دانہ کہ خرما ازوئے روید۔ صراح
Ayahs 35:15–17ترکیب : ان شرطیۃ یشاء شرط مفعولہ محذوف یذھبکم جواب الشرط ویات معطوف علیہ ولذاقرء مجزومین، وزر اخریٰ مفعول ولا تزر منتقلۃ قال الفراء ای نفس مثقلۃ بالذنوب قال وھذا یقع للمذکروالمؤنث الحمل بالکسر مایحمل علی الظھر و نحوہ والجمع احمال و حمول، والحمل بالفتح ماکان فی البطن وعلی راس شجرۃ، یقال امرء ۃ حامل و حاملۃ اذا کانت حبلٰی، قال الازھری، ولو وصیلتہ تتعلق بلا یحمل انما تنذر مستانفۃ، ولا الحرور فعول من الحر غلب علی السموم وقیل السموم مایہبّ نار اوالحرور مایکون بالیل خاصتہ وقیل عکسہ، ولا لتا کیدنفی الاستواء و تکریرھا لمزید التاکید۔
تفسیر : جبکہ نبی ﷺ کی طرف سے کفار کو ہدایت پر بلانے میں اصرار ہوا اور مخالفوں کی طرف سے سخت انکار ہوا تو کفار کہنے لگے۔ شاید خدا کو ہماری طاعت و عبادت کی سخت ضرورت ہے کہ جس پر مامور کرتا ہے اور ترک کرنے پر عذاب سے ڈراتا ہے، اس کے جواب میں فرماتا ہے یا ایہا الناس انتم الفقراء الخ کہ اے لوگو تمہیں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ جو ہے تو بےپروا ہے اور سب خوبیوں والا ہے۔ اس کو کسی کی عبادت وطاعت کی کچھ پروا نہیں، تمہارے ہی بھلے کو تم کو عبادت کا حکم دیا جاتا ہے، جس پر تم کو اس قدر غرور اور سرکشی ہے اور تم کیا غرور کرتے ہو۔ ان یشا یذھبکم ویات بخلق جدید اگر اللہ چاہے تو تم کو نیست و نابود کرکے اور نئی خلق پیدا کردے اور یہ بات اللہ پر کچھ بھی مشکل نہیں اور نبی ( علیہ السلام) کو بھی تم سے کوئی غرض و مطلب نہیں ہے، کس لیے کہ ولا تزر وازرۃ وزر اخریٰ الخ قیامت کو کوئی کسی کا بار گناہ نہ اٹھاوے گا، تم جو کرو گے آپ بھگتو گے اور قیامت کے دن کوئی گناہ گار اپنے بار گناہ کے اٹھانے کو کسی سے کہے گا تو کوئی نہ اٹھاوے گا، گو وہ اہل قرابت ہی کیوں نہ ہوں۔ نفسی نفسی کا بازار گرم ہوگا۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ کوئی اپنی برادری اور کسی فرضی معبود پر گھمنڈ نہ کرے، وہاں کوئی کسی کے کام نہیں آوے گا۔ عیسائیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ ہمارے گناہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اٹھالے گئے اور ہمارے عوض آپ معاذ اللہ تین روز جہنم میں رہے، اس کا بھی ابطال کردیا کہ یہ خیال غلط ہے، کسی کے جرم میں کوئی کیوں پکڑا جاوے ؟ اور یہ آیت اس آیت کے مخالف نہیں۔ ولیحملن اثقالہم واثقالامع اثقالہم کیونکہ اس میں جو اوروں کا بوجھ اٹھانا آیا ہے تو وہ بھی دراصل انہی کا بوجھ ہے کہ انہوں نے لوگوں کو گمراہ کردیا تھا۔
Ayahs 35:18–23انما تنذر الذین الخ فرماتا ہے۔ اے نبی (علیک السلام) آپ کا وعظ و پند اور ڈر سنانا انہی کو نافع اور کارآمد ہے جو غائبانہ اپنے اللہ سے ڈرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ من تزکیٰ الخ جو کوئی اصلاح پذیر ہوتا ہے اور نیک بختی اختیار کرتا ہے تو اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے۔ اللہ اور نبی کو کوئی فائدہ نہیں، والی اللہ المصیر اور اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ ہر شخص اپنے کئے کا بدلہ وہاں پاوے گا اور یہ گمراہ اپنی گمراہی پر کیا نازاں ہیں۔ کافرو مومن برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ اندھا اور آنکھوں والا اور روشنی اور اندھیرا اور سایہ اور دھوپ اور مردہ اور زندہ برابر نہیں۔ یہ کافر و مومن کی مثالیں ہیں۔
پھر فرماتا ہے ان اللہ یسمع من یشاء الخ کہ یہ ہدایت اور گمراہی اللہ کی طرف سے ہے، اللہ جس کو چاہے سنادے، یعنی ہدایت دے اور اے نبی ! تو مردوں کو نہیں سناسکتا، یعنی کفار بمنزلہ مردوں کے ہیں۔ ان میں ہدایت کا مادہ ہی نہیں مگر اتمام حجت کے لیے تیرا کام ہر ایک کو متنبہ کردیتا ہے۔ ان انت الا نذیر۔
Ayahs 35:24–26ترکیب : بالحق متعلق بارسلنا و یمکن ان یکون حالا اے متلبسا بالحق، وکذا بشیرا و نذیرا حالان ویمکن ان یکونا مفعولا لا جلہ۔ وان یکذبوک شرط و جواب محذوف اے فاصبر کما صبر الانبیاء فقد کذب الخ دلیل لہ، زبر جمع زبور بالفتح، قال فی الصراح زبر بالکسر بنشتہ زبور بضم ج و بالفتح بنشتہ وھو فعول بمعنی مفعول و کتاب دائود ( علیہ السلام) انتہٰی۔
تفسیر ہر ملک میں نبی آتے ہیں : جبکہ یہ فرمایا تھا کہ ان انت الا نذیر اس کے بعد یہ بھی فرمایا۔ انا ارسلنک بالحق بشیرا و نذیرا کہ اے نبی آپ اپنی طرف سے نذیر نہیں بن گئے ہیں بلکہ ہم نے آپ کو بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وان من امۃ الاخلا فیہانذیر ایسا کوئی گروہ اور کوئی قوم نہیں کہ جس میں نذیر یعنی نبی بناکر نہ بھیجا ہو، وہ قومیں بھی اپنے انبیاء سے اسی طرح سے پیش آئی ہیں۔ جلالین میں ہے۔ نذیر نبی ینذر ہا۔ بیضاوی فرماتے ہیں۔ من نبی او عالم ینذر عنہ والا کتفاء بذکرہ للعلم بان النذارۃ قرینہ البشارۃ اور کئی جگہ قرآن مجید میں اسی مضمون کی آیتیں آئی ہیں۔ انما انت منذر ولکل قوم ھاد ولقد بعثنا فی کل امہ رسولا وما کنا معذبین حتی نبعث فی امہا رسولا ان آیات اور باعث ارسال رسل پر نظر کرکے اہل حق قاطبۃً اس بات کے قائل ہیں کہ بنی اسرائیل اور ملک شام کی کچھ خصوصیت نہیں ہر ملک اور ہر قوم اور ہر زمانے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے داعی موجود رہا ہے یا وہ خود نبی ہو یا اس کے جانشین اور علماء اور کتاب ہو۔ عام ہے کہ وہ نبی کے پیرو اس کے مذہب کے داعی اسی خاص طریقہ پر ہوں یا زمانہ کے انقلابات سے ان میں کچھ افراط وتفریط ہوگئی ہو جس کو تحریف و تبدیل کہتے ہیں۔ ہاں جب وہ تحریف و تبدیل اس درجہ کو پہنچ گئی ہو کہ اصل منشائِ نبوت کو پورا کرنے سے قاصر ہوگئی، تب دوسرا نبی یا کوئی مجدد بھی خدا کی طرف سے مبعوث کیا گیا ہے اور ایسے ہی انتظار کے وقت کو زمانہ فترت کہتے ہیں، یعنی وحی بند ہوجانے کا زمانہ، کل امۃ وکل قوم کا لفظ یہ چاہتا ہے کہ ایک زمانہ میں ایک ملک میں ہر ہر قوم کا ایک ایک جدا نبی ہو گو ایسا بھی ہوا ہو اور اسی لیے ایک قوم میں ایک زمانہ میں کئی کئی نبی پائے گئے ہیں، مگر نذیر اور ہاد کا لفظ خاص نبی ہی کے لیے مختص نہیں، جیسا کہ بیضاوی نے تعمیم کردی ہے بلکہ اس کے پیروئوں کو بھی شامل ہے، البتہ اس بات سے یہ ماننا پڑے گا کہ گو نبی صاحب شریعت و کتاب صدہا برسوں تک اور بہت سی قوموں اور ملکوں کے لیے ایک ہی ہو، مگر ہر قوم میں اس کے پیرو داعی ضرور بھیجے گئے ہیں، ان کا ہم کو علم ہو یا نہ ہو، بس جس قدر انبیاء کا قرآن و احادیث میں ذکر آگیا ہے، ان کی تصدیق تو یقینی و تعینی طور پر واجب ہے اور باقی کو اجمالاً برحق کہنا شیوئہ اسلام ہے۔ اس میں ہند، فارس، روم، عرب کوئی ملک کیوں نہ ہو۔ اب رہے ان ملکوں کے مشاہیر اکابر ان کی نسبت ان کے طریقہ کو دیکھ کر بشرطیکہ وہ انہی کا مروج طریقہ ہو، ہم خیال ظاہر کریں گے ورنہ علم الٰہی کے سپرد کریں گے، ہاں ان کے اس طریقہ میں جو مروج ہورہا ہے اور ان کے پیرو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اگر کچھ خرابی ہے تو ضرور کہیں گے کہ یہ طریقہ منجانب اللہ نہیں خواہ محرف ہوجانے کے سبب سے یا اس سبب سے کہ دراصل ہی خود تراشیدہ ہے مگر خاتم المرسلین ﷺ کے بعد یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ صرف آپ کے مجدد ہی نذیر اور ہر قوم کے ہادی اور داعی رہیں گے۔ واللہ اعلم۔ وان یکذبوک الخ اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی اور منکروں کو تہدید ہے کہ پہلے لوگوں کے پاس بھی ان کے انبیاء معجزات اور صحیفے اور بڑی کتابیں لے کر آئے لوگوں نے جھٹلایا، اس سے ان پر عذاب آیا۔
Ayahs 35:27–32ترکیب : الوانہا مرفوع۔ بمختلف و جدد بفتح الدال جمع جدۃ وھی الطریقۃ ویقراء بضمھا و ھو جمع جدید کسر یروسرر قال الجوہری الجدۃ الخطۃ التی فی ظھر الحمار تخالف لونہ والجدۃ الطریق والجمع جدود جدائد، قال المبرد و طرائق و خطوط و غرابیب سود عطف علی بیض و علی جدد کانہ قیل ومن الجبال ذوجد و مختلفۃ اللون و منہا غرابیب متحدۃ اللون، وغرابیب جمع غربیب ھو الشدید السواد الذی یشبہ لونہ لون الغراب والغرابیب تابع و تاکید لسود و حق التاکید التاخیر فقیل فی جو ابہ ھو تاکید مضمر بفسرہ سود کما جاء فی قول النابغہ ؎
المومن العائذات الطیر مسیحھا والطیر عطف بیان للعائذات و ھو الشاہد
ومن الحبال مستانفۃ کانہ قال واخرجنا با لماء ثمرات مختلفۃ الالوان و فی الاشیاء الکائنات من الجبال جدو دالۃ علی قدرۃ ویمکن ان یکون معطوفا کذلک فی موضع نصب ای اختلافا مثل ذلک العلماء مرفوع لکونہ فاعلا لیخشی۔ یرجون خبر ان الذین لیوفیہم یتعلق بیرجون۔
تفسیر : یہ ایک اور دلیل اس کی وحدانیت پر ہے۔ فقال الم تران اللہ انزل من السماء کذلک تک اوپر سے پانی برسنا اور اس سے مختلف رنگتوں کے پھل پیدا ہونا مخاطبین کے نزدیک ایک یقینی اور ظاہر بات تھی، جس لیے الم ترا استفہام تقریری کے ساتھ کلام شروع کیا۔ ایک پانی سے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے، مختلف رنگتوں کے میوے ہونا صریح دلیل ہے کہ یہ کسی قادر مطلق کی گلکاری ہے، ورنہ طبیعت اور مادہ سب میں یکساں ہے اور علت فاعلیۃ بھی ایک ہے، پھر یہ اختلاف کیوں ہوگیا ؟ اگر کوئی یہ کہے کہ یہ اختلاف زمین کی وجہ سے ہے، دیکھو کہیں نباتات پیدا نہیں ہوتے اور کہیں بکثرت پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا جواب دیتا ہے، ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانہا و غرابیب سود کہ اچھا یہ زمین میں اختلاف کس کی وجہ سے پیدا ہوا۔ کس نے زمین کے ٹکڑوں میں مختلف تاثیریں بخشیں ؟ زمین کے ایک بڑے سخت حصہ پہاڑوں کو دیکھو جو اپنی صلابت کی وجہ سے دوسرے کے اثر کو بمشکل قبول کرتے ہیں۔
وہ کس کا یدقدرت ہے کہ جس نے رنگ برنگ کے ان بلند پہاڑوں میں دھاریاں ڈالی ہیں کہ کہیں ایک سفید دھاری چلی آتی ہے اوپر سے لے کر نیچے تک سفید پتھروں کی تہہ چنی ہوئی ہے، جہاں تک کھودتے چلے جاؤ گے، وہی سفید نکلتا چلا آوے گا اور اس کے آس پاس اور رنگ کا پہاڑ ہے، اسی طرح سے کہیں سرخ رنگ ہے اور کہیں نہایت سیاہ پھر یہ اختلاف کس نے کیا ؟ اور جمادات اور نباتات پر کیا موقوف ہے، حیوانات میں بھی یہی اختلافات ہیں۔
حیوانات میں اشرف المخلوقات انسان کو دیکھو، دو بھائی ایک ماں ایک باپ ایک ملک پھر ایک کالا ایک گورا والد واب اور زمین پر چلنے والوں کو یعنی کیڑے مکوڑے سانپ وغیرہ کو دیکھو کہ ایک ہی قسم کے جانوروں کی کیسی مختلف رنگتیں ہیں، کوئی سانپ سیاہ ہے، کوئی زرد کوئی کو ڑیالا ایک ہی میں کئی رنگتیں اور کئی دھاریاں پڑی ہوئی ہیں اور اسی طرح الانعام چارپایوں کا حال ہے، کوئی بیل سفید کوئی سرخ، کوئی سیاہ پھر ایک ہی میں کئی رنگتیں، کان سفید تو باقی تمام سیاہ کسی کی کمر سرخ باقی سیاہ علی ہذا القیاس۔ وہ کون ہے کہ جس نے ان پر مختلف رنگوں کی کوچیں پھیری ہیں، پس جو ان باتوں میں غور کرتے ہیں تو وہ خدا تعالیٰ ہی کا یدقدرت دیکھتے ہیں اور اس کی قدرت و جبروت کا خیال کرکے ڈرتے ہیں۔ انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤ کے یہ معنی ہیں جو اس کو قادر مختار جانتے ہیں، وہ اس سے ڈرتے اور اس کا احسان مانتے ہیں کہ اس نے ہم کو انسان بنایا اور ایسا بنایا چاہتا تو گدھا بنا دیتا اور انسان ہی بناتا تو لولا لنگڑا کردیتا یا ناسمجھ پیدا کردیتا اور وہ جو چاہے کردے۔ پھر جو اللہ سے ڈرتے ہیں اللہ ان پر فضل کرتا ہے، کس لیے کہ ان اللہ عزیز غفور۔
وہ کون لوگ ہیں ان الذین یتلون کتاب اللہ واقاموا الصلوٰۃ وانفقوا مما رزقنہم سراً وعلانیۃ یرجون تجارۃ لن تبور وہ ہیں جو اللہ کی کتاب قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور منجملہ اعمال کے بدنی عبادات میں سے سب کا اصل الاصول نماز ہے، اس کو دل سے ادا کرتے ہیں اور ایک مالی عبادت بھی ادا کرتے ہیں، سب مال نہیں بلکہ اس میں سے ایک حصہ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں۔ چھپا کر بھی اور ظاہر کرکے بھی۔ چھپا کردینا بہتر ہے اور اگر ریاکاری کا اندیشہ نہیں تو ظاہر کرکے دینے میں بھی کچھ مضائقہ نہیں اور ممکن ہے کہ چھپا کردینے سے اشارہ صدقہ نافلہ کی طرف ہو اور ظاہر کرکے دینے سے مراد زکوٰۃ ہو، کیونکہ یہ ظاہر کرکے دی جاتی ہے۔ (کرخی) یہ لوگ ایک ایسا سودا یا تجارت کررہے ہیں کہ جس میں کبھی نقصان نہ ہوگا کیونکہ ایسے اعمال کی جزائِ خیر کا اللہ نے قطعی وعدہ کرلیا ہے۔ کماقال تعالیٰ لیوفیہم اجورھم یہ اس لیے کہ اللہ ان کو ان کے کاموں کا پورا بدلہ دے گا، بلکہ ویزیدھم من فضلہ اپنے فضل و کرم سے اور بھی بڑھ کر دے گا۔ محنت سے زیادہ اجر دے گا کس لیے انہ غفور شکور وہ بخشنے والا ہے اور بڑا قدردان ہے، کوئی اخلاص کے ساتھ نیکی کرتا ہے، اس کا نہ صرف اس کو بلکہ اس کے متعلقین کو بھی بدلہ دیتا ہے۔ بڑی غریب پرور قدر دان سرکار ہے، جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں کوششیں کی ہیں، آج تک ان کو تو کیا ان کی ذریت کو بھی عزت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔
دونوں آیتوں میں بڑی حکمت رکھی گئی ہے۔ انما یخشی اللہ میں عمل قلب کے طرف اشارہ ہے جو جمیع حسنات کا اصل الاصول ہے اور ان الذین یتلون میں عمل زبان کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی زبان ذکر الٰہی سے تر رہتی ہے اوراقاموا الصلوٰۃ میں عبادت بدنی کے طرف اشارہ ہے جس میں تمام اعضاء اور روح بھی شریک ہے اور انفقوا میں مالی عبادت کے طرف اشارہ ہے اور تمام حسنات کے دو ہی جانب ہیں۔ ایک اللہ کی تعظیم دوسری خلق خدا پر احسان کرنا سو ان جملوں میں دونوں آگئیں۔
اس کے بعد مسئلہ رسالت کو ثابت کرتا ہے اور رسالت کی عمدہ تر چیز کتاب اللہ ہے، اس لیے فرماتا ہے۔ والذی اوحینا الیک من الکتب ھو الحق کہ وہ کتاب جو ہم نے تیرے پاس اے محمد ﷺ بھیجی ہے، یعنی قرآن مجید وہ برحق کتاب ہے پھر جو اس میں وعدے کئے گئے ہیں، وہ بھی برحق ہیں۔ اس سے اس تجارت کے نافع ہونے کا بھی وثوق دلایا گیا ہے۔ الحق کا لفظ ایک بڑی قوی دلیل کی طرف اشارہ ہے جو قرآن کے کتاب آسمانی ہونے پر قائم کی جاتی ہے کہ اس کے تمام مطالب عالیہ پر غور کرجائو، پھر اس کی خوبی آپ ظاہر ہوجاوے گی۔ ؎ آفتاب آمد و لیل آفتاب مصدقاً لما بین یدیہ بھی دوسری دلیل ہے کہ اگلی کتابوں کے کوئی بات برخلاف نہیں، پھر امی شخص جو اگلی کتابیں نہ پڑھا ہو، بغیر الہامِ الٰہی کے ان کے مطابق کلام کرسکتا ہے ؟ امام رازی (رح) ساتویں جلد کے صفحہ 45 میں فرماتے ہیں۔ و جواب عن سوال الکفار و ھو انھم کانوا یقولون بان التوراۃ درہ فیھا کذا والا نحیل ذکر فیہ کذاو کانوا یفترون من التثلیث وغیرہ وکانوا یقولون بان القرآن فیہ خلاف ذلک فقال التوراۃ والانجیل لم یبق بھما وثوق بسبب تغیر کم فہذا القرآن مادروفیہ ان کان فی التوراۃ فھو حق و باق علی مانزل وان لم یکن فیہ اویکون فیہ خلافہ فھو لیس من التوراۃ فالقرآن مصدق للتوراۃ، خلاصہ یہ کہ موجودہ انجیل و تورات قابل اعتبار نہیں، اگر قرآن کے موافق ہے تو ٹھیک ہے اور جہاں مخالف ہے وہ غلط ہے، محرف ہے اسی پر جمہور اہل اسلام کا اتفاق ہے، پس وہ جو جواب تفسیر حقانی میں ایک مخفی عیسائی یہ کہتا ہے کہ توریت و انجیل موجودہ حرفاً حرفاً برحق ہے اور اس بات کو امام رازی (رح) کی طرف منسوب کرتا ہے۔ محض غلط اور سخت 1 ؎ دھوکا ہے۔
کتاب اللہ کی خوبی بیان کرکے جو لوگ نبی کے بعد اس کتاب کے وارث ہوئے، ان کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ ثم اور ثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا فمنہم ظالم لنفسہ ومنہم مقتصد ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ کہ پھر ہم نے اپنے برگزیدہ بندوں کو قرآن کا وارث کیا، یعنی ایمانداروں کو بیشک ایمان لانے والے کافروں کے لحاظ سے برگزیدہ ہوتے ہیں، پھر ان ایمانداروں کی تین قسم ہیں : بعض گنہگار ہیں، اپنی جان پر کبائر و صغائر کرکے ظلم کررہے ہیں، یعنی اس کتاب پر ایمان تو ہے۔ عمل نہیں کرتے بعض ان میں سے درمیانی حالت میں ہیں۔ عامل تو ہیں مگر پورے عامل نہیں اور بعض کامل ہیں، ایمان بھی ہے اور عمل بھی پورا ہے۔ ہر ایک نیک کام میں پیش قدمی کرتے ہیں۔ مقاتل اور نسفی اور ابو یوسف اور جمہور کا یہی قول ہے اور ابن عباس ؓ بھی یہی فرماتے ہیں۔ احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے اس آیت کی شرح میں فرمایا کہ یہ سب جنت میں داخل ہوں گے۔ اس کے اسناد میں دو راوی مجہول ہیں اور احمد و ابن ابی حاتم و طبرانی و حاکم نے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا کہ سابق بالخیرات وہ لوگ ہیں کہ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے اور مقتصد وہ ہیں جو کسی قدر حساب دے کر جاویں گے اور ظالم لنفسہٖ وہ ہیں جو محشر میں روک دیے جاویں گے، پھر اللہ ان کو اپنی رحمت سے جنت میں لے جاوے گا اور بھی روایات ہیں اور لغوی معنی کے لحاظ سے مفسرین کے اور بھی اقوال ان تینوں کے بیان میں آئے ہیں۔
مگر بعض مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ کتاب سے مراد جنس کتاب ہے اور الذین اصطفینا سے مراد انبیاء اور فمنہم سے مراد ان کی امت دعوت ہے کہ ان میں سے ظالم یعنی کافر بھی ہوئے اور مقتصد نیک بھی اور سابق بالخیرات اعلیٰ درجہ کے لوگ بھی تھے، لیکن قوی تر اول قول ہے اور سیاق کلام اسی کو ترجیح دیتا ہے۔
فرماتا ہے۔ ذلک ھو الفضل الکبیر کہ یہ کتاب کا وارث ہونا اور نیک ہونا بڑا فضلِ الٰہی ہے۔
1 ؎ امام رازی توریت و انجیل موجودہ کو غیر معتبر کہتے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 35:33–37پھر اس فضل کبیر کا نتیجہ بیان فرماتا ہے۔ جنات عدن اے قولہ تعالیٰ لغوب کہ ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغ ہوں گے جہاں وہ آرائش اور تجمل کے ساتھ رہا کریں گے، عمدہ لباس پہنیں گے اور اللہ کی تعریف کریں گے کہ اس نے ہماری دنیاوی تکالیف کو دور کردیا، ہمارا رب معاف کرنے والا قدردان ہے۔ اس نے ہم کو ہمیشہ رہنے کی جگہ یعنی جنت میں جگہ دی کہ جہاں نہ ہم کو کوئی تکلیف ہے نہ مشقت نہ وہاں بیماری اور بڑھاپے کا ڈر نہ موت کا خطر نہ معیشت کا فکر، نہ کوئی رنج والذین کفروا الخ یہاں سے منکرین کا حال بیان فرماتا ہے کہ دوزخ کی آگ میں ڈالے جاویں گے،
جہاں نہ ان کو موت آوے گی کہ مر کر چھوٹ جاویں نہ ان کے عذاب میں کمی ہوگی، وہ وہاں روئیں گے، چلاویں گے، دانت پیسیں گے اور کہیں گے اے رب ! اب کے ہم کو یہاں سے نکال دے، دنیا میں بھیج دے کہ وہاں جاکر نیک کام کریں گے۔ اس کے جواب میں ملائکہ کہیں گے کہ کیا تم کو سمجھنے کے قابل عمر نہ دی تھی، پھر اتنی عمر تک وہاں رہ کر نہ سمجھے اور اس پر بھی بس نہ کیا بلکہ تمہارے پاس خوف دلانے والے بھی بھیجے پھر اب تم ان کا مزہ چکھو تمہارا کوئی حمایتی نہیں۔
Ayahs 35:38–39ترکیب : عالم غیب قرء الجمہور بالاضافۃ وقریٰ بالتنوین ونصب غیب خلائف جمع خلیفۃ ویقال للمستخلف خلیفۃ و خلیف و یجمع الاول علی خلائف والثانی علی خلفاء ارونی بدل اشتمال من أَرأیتم ارونی ای شی خلقوا من الارض وقیل أَرأیتم وارونی تنازعا فی الفعل وقد اعمل الثانی علی قول البصریین، ام لہم و ام اٰتیناھم الضمیر یعو والی الشرکاء وام فی الموضعین منقطقہ بمعنی بل والھمزۃ فھو اضراب عن استفہام و شروع فی استفہام آخر ان تزدلا ای عن ان تزولا ویجوزان یکون مفعولا لہ ای مخالفۃ ان تزولا۔
تفسیر : کافر جو دوزخ میں کہیں گے، ہم کو باردگر دنیا میں بھیج دے کہ اچھے کام کریں گے، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ ان اللہ اعلم غیب السمٰوٰت الخ خدا تعالیٰ آسمان و زمین کے اندر کی سب چیزیں جانتا ہے۔ دلوں کے حالات و خیالات سے بھی بخوبی واقف ہے، یعنی وہ ہر بات کو خوب جانتا ہے۔ اگر تم باردگر دنیا میں جاؤ گے تو پھر بھی وہی بد کام کرو گے، جیسا کہ ایک جگہ فرمایا ہے۔ ولورد والعاد والمانھوا عنہ اور اس میں اس شبہ یا اعتراض کا بھی جواب ہے کہ جرم کا ارتکاب تو دنیا کی عمر تک ہوا جو پچاس ساٹھ برس یا کم زیادہ کی تھی، پھر ہمیشہ جہنم میں رکھ کر سزا دینا جزاء و سیئۃ مثلہا کے برخلاف ہے۔ جواب یہ ہے کہ وہ علام الغیوب ہی جانتا ہے۔ اگر تم ہمیشہ زندہ رہتے تو ہمیشہ اسی کفر پر رہنے ھو الذی جعلکم سے خسارًا تک یہ بات بیان فرماتا ہے کہ دنیا میں کون سی بات تم کو نہیں دی گئی تھی، تم کو خلیفہ بنایا گیا۔ تمام خلق پر تم کو حکومت دی گئی تھی۔ دنیا کے کاروبار خوب سمجھتے تھے۔ صناعی و حرفت و دیگر فنون میں بڑے استاد اور عقل کل تھے، پھر خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کی رسالت اور دار آخرت کا مسئلہ سمجھ میں نہ آیا، نفس امارہ پر حکومت نہ کی گئی اس کو بدخواہشوں سے نہ روکا گیا ؟ اب تمہارے کفر کا وبال تمہی پر ہے اور تمہارے کفر نے تمہارا ہی نقصان کیا ہمارا کیا بگاڑا ؟