Explained with ayahs 9–11
موت کے بعد زندگی۔
قرآن کریم میں موت کے بعد کی زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے۔ جیسے سورة حج وغیرہ میں ہے۔ بندوں کے لئے اس میں پوری عبرت اور مردوں کے زندہ ہونے کی پوری دلیل اس میں موجود ہے کہ زمین بالکل سوکھی پڑی ہے، کوئی ترو تازگی اس میں نظر نہیں آتی لیکن بادل اٹھتے ہیں، پانی برستا ہے کہ اس کی خشکی تازگی سے اور اس کی موت زندگی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو ایک تنکا نظر نہ آتا تھا یا کوسوں تک ہریالی ہی ہریالی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح بنو آدم کے اجزاء قبروں میں بکھرے پڑے ہوں گے ایک سے ایک الگ ہوگا۔ لیکن عرش کے نیچے سے پانی برستے ہی تمام جسم قبروں میں سے اگنے لگیں گے۔ جیسے زمین سے…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 20
یہ بات ملحوظ رہے کہ قریش کے سردار نبی ﷺ کے مقابلے میں جو کچھ بھی کر رہے تھے اپنی عزت اور اپنے وقار کی خاطر کر رہے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ محمد ﷺ کی بات چل گئی تو ہماری بڑائی ختم ہوجائے گی، ہمارا اثر و رسوخ مٹ جائے گا اور ہماری جو عزت سارے عرب میں بنی ہوئی ہے وہ خاک میں مل جائے گی۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ خدا سے کفر و بغاوت کر کے جو عزت تم نے بنا رکھی ہے، یہ تو ایک جھوٹی عزت ہے جس کے لیے خاک ہی میں ملنا مقدر ہے حقیقی عزت اور پائدار عزت جو دنیا سے لے کر عقبیٰ تک کبھی ذلت آشنا نہیں ہو سکتی، صرف خدا کی بندگی میں ہی میسر آسکتی ہے۔ اس کے ہوجاؤ گے تو وہ تمہیں مل جائے گی۔ اور اس سے…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
(آیت) الیہ یصعد الکلم الطییب والعمل الصالح یرفعہ، اس سے پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جو شخص عزت و قوت کا طلب گار ہو تو اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اللہ کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔ جن چیزوں کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے یا جن سے عزت کی توقع پر دوستی کر رکھی ہے وہ کسی کو عزت نہیں دے سکتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے عزت و قوت حاصل کرنے کا طریقہ بتلایا گیا ہے جس کے دو اجزاء ہیں، ایک کلم طیب، یعنی کلمہ توحید اور اللہ کی ذات وصفات کا علم دوسرے عمل صالح یعنی دل سے ایمان لانا پھر اس کے مقضنی کے موافق تابع شریعت عمل کرنا۔ حضرت شاہ عبدالقادر نے موضع القرآن میں فرمایا کہ حصول عزت کا یہ…
Read the full tafseer →آیت 10
مطلب یہ ہے کہ قیامت تو بہرحال شدنی ہے اور ہر ایک کو اللہ کے حضور میں پیش ہونا ہے۔ رہایہ سوال کہ خدا کے ہاں کن کو عزت و سرخروئی حاصل ہوگی اور کن کو ذلت و نامرادی سے دو چار ہونا پڑے گا تو جن کو اس سوال کا صحیح جواب مطلوب ہے وہ یاد رکھیں کہ عزت تمام تر اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اس وجہ سے جس کو بھی یہ حاصل ہوگی اسی کے تعلق اور اسی کی عزت بخشی سے حاصل ہوگی۔
’ الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ ‘ یہ اس عزت کے حاصل کرنے کا طریقہ ارشاد ہوا کہ بندوں کی طرف سے اللہ کی طرف صعود کرنے والی چیز کلمہ طیب، یعنی کلمہ ایمان ہے۔ اس کے سوا دوسری کوئی چیز نہیں جو خدا سے توسل اور قربت کا ذریعہ بن سکے۔ اس…
Read the full tafseer →10۔ 1 یعنی جو چاہتا ہے کہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت ملے، تو وہ اللہ کی اطاعت کرے اس سے اسے یہ مقصود حاصل ہوجائے گا اس لیے کہ دنیا وآخرت کا مالک اللہ ہی ہے ساری عزتیں اسی کے پاس ہیں وہ جس کو عزت دے، وہی عزیز ہوگا جس کو وہ ذلیل کردے، اسے دنیا کی کوئی طاقت عزت نہیں دے سکتی۔
10۔ 2 اَ لْکَلِمُ ، کَلِمَہ، ُ ایک جمع ہے، ستھرے کلمات سے مراد اللہ کی تسبیح وتحمید، تلاوت ہے، چڑھتے ہیں کا مطلب، قبول کرنا ہے۔ یا فرشتوں کا انہیں لے کر آسمانوں پر چڑھنا تاکہ اللہ انہیں جزا دے۔
10۔ 3 خفیہ طریقے سے کسی کو نقصان پہنچانے کی تدبیر کو مکر کہتے ہیں کفر و شرک کا ارتکاب بھی مکر ہے اس طرح اللہ کے راستے کو نقصان…
Read the full tafseer →3: پاکیزہ کلمے سے مراد وہ کلمہ ہے جس کے ذریعے انسان ایمان کا اقرار کرتا ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دوسرے کلمات بھی داخل ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کے چڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہوتے ہیں۔ اور نیک عمل کے اس کلمے کو اوپر اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کلمے کی پوری مقبولیت نیک عمل کے ذریعے ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →من کان یرید العزۃ ۔۔۔۔۔ اولئک ھو یبور (10) ” “۔
شاید مردہ زمین میں اٹھنے والی نباتاتی زندگی اور کلمہ طیبہ اور عمل صالح کے درمیان ربط یہ ہے کہ دونوں میں پاکیزہ زندگی اور قدر مشرک ہے۔ نباتات کی بھی طیب زندگی ہے اور عمل صالح اور کلمہ طیبہ بھی پاک زندگی ہے۔ اور ان کے درمیان ربط اور تعلق وہی ہے جس کی طرف سورة ابراہیم کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات کے مزاج اور اسلامی زندگی کے مزاج کی یکسائی سورة ابراہیم میں فرمایا :
الم ترکیف ضرب اللہ ۔۔۔۔۔ مالھا من قرار (24 – 26) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ…
Read the full tafseer →1 کفار نے دوسرے معبود اس لیے ٹھہرائے تھے کہ اللہ کے ہاں ان کی عزت ہوگی۔ " وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا " (مریم، رکوع 5) اور بہت لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستانہ کرتے تھے کہ اس سے ان کی عزت بنی رہے گی۔ " الَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا۔ " (نسآء، رکوع 20) اس قسم کے لوگوں کو بتلایا کہ جو شخص دنیا و آخرت کی عزت چاہے، چاہیے کہ اللہ سے طلب کرے کہ عزیز مطلق تو وہ ہے، اسی کی فرمانبرداری اور یادگاری سے اصلی عزت میسر آتی ہے۔ تمام…
Read the full tafseer →آیت 10 { مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا } ”جو کوئی عزت کا طالب ہے تو وہ جان لے کہ عزت سب کی سب اللہ کے پاس ہے۔“
جو شخص اللہ کے جتنا قریب ہوگا اسی قدر وہ سزا وار عزت اور صاحب ِتوقیر ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص اللہ سے جتنا دور ہوگا اسی قدر وہ ذلیل ہوگا ‘ چاہے دنیا میں وہ بظاہر کتنا ہی با عزت اور صاحب ثروت ہو۔ سورة المنافقون میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا : { وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”اور عزت تو اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول ﷺ کے لیے اور مومنین کے لیے ‘ لیکن منافقین یہ بات نہیں جانتے۔“
{…
Read the full tafseer →14 مشرکین مکہ کی حرم کعبہ کی وجہ سے عرب بھر میں عزت کی جاتی تھی وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ اسلام لے آئے تو یہ سارا بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ انہیں یہ سمجھایا جارہا ہے کہ یہ عزت بھی تمہیں کعبہ کے متولی اور پاسبان ہونے کی وجہ سے حاصل ہے۔ اور کعبہ کو حرم بنانے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ تم اور تمہارے معبودوں میں یہ طاقت نہیں تھی کہ تم مکہ کو حرم بناسکتے۔ اب اگر تم کعبہ کے مالک ہی کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے ہو تو سوچ لو تمہاری یہ عزت کیسے برقرار رہ سکتی ہے ؟ عزت تو صرف اسے ملے گی جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو کیونکہ تمام تر عزت کا سرچشمہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تم لوگ اس کے دشمن بن کر کبھی عزت نہ…
Read the full tafseer →18۔ چناچہ جو اس سے جس درجہ کا تعلق رکھتا ہے اسی مناسبت سے خود بھی اپنے حسب ظرف عزت حاصل کرسکتا ہے۔ فھی کلھا للہ ومن یتذلل لہ فھو العزیز ومن یتعزز علیہ فھو ذلیل (کبیر) آیت طالبان عزت وجاہ منکرین حق کے رد میں ہے۔
19۔ (مخالفت دینی کی) (آیت) ” الکلم الطیب “۔ کلام طیب میں اقرار ایمان اور ساری قولی نیکیاں داخل ہیں۔ (آیت) ” العمل الصالح “۔ عمل صالح میں تصدیق قلبی اور ساری ظاہری وباطنی عملی نیکیاں شامل ہیں۔ (آیت) ” یرفعہ “۔ میں ضمیرہ (آیت) ” الکلم الطیب “ کی جانب ہے ھو الکلم الطیب اے الکلم الطیب یرفع العمل الصالح (کبیر)
20۔ یعنی ان کی ہر تدبیر الٹی پڑے گی، اور ناکام رہے گی، چناچہ یہی ہو کر رہا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
آیت نمبر 8 تا 14
ترجمہ : (آئندہ) آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیا وہ شخص کہ جس کے سامنے اس کے برے عمل کو تلبیس کے ذریعہ مزین کرکے پیش کیا گیا پھر وہ اس کو نیک عمل سمجھنے لگا (اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کو اللہ نے ہدایت دی ہو ؟ نہیں ہوسکتا) مَنْ مبتداء ہے اور اس کی خبر کَمَنْ ھدَاہُ ہے (اس حذف خبر پر) فاِنّ اللہ یُضَلُّ مَنْ یشَاءُ (الآیۃ) دال ہے، یقین مانو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو آپ ان پر یعنی ان لوگوں پر کہ جن کے (اعمال بد) ان کے لئے مزین کردیئے گئے ہیں، اتنا غم نہ کیجئے، کہ ان کی اس بات پر غم کی وجہ سے کہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان ہی…
Read the full tafseer →من کان یرید العزہ فللّٰہ العزق جمیعا . جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہے تو (دنیا اور آخرت میں) ساری
عزت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
فراء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا : جو شخص جاننا چاہتا ہے کہ عزت کس کیلئے ہے تو وہ سمجھ لے کہ تمام تر عزت اللہ کیلئے ہے۔ بظاہر آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو اپنے لئے عزت کا خواستگار ہے تو اللہ کی بارگاہ سے ہی اس کو عزت طلب کرنی چاہئے ‘ اسی کی فرمانبرداری کر کے عزت حاصل کرے کیونکہ ساری عزت کا خالق ومالک اللہ ہی ہے ‘ جس کو چاہے عطا کرے۔
کافر ‘ بتوں کی پوجا کر کے عزت کے خواستگار تھے ‘ اللہ نے کافروں کے متعلق فرمایا : وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلَھِۃً لِّیَکُوْنُوْا…
Read the full tafseer →اور جو شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ عزت قدرت و طاقت کس کے لیے ہے تو سمجھ لے کہ تمام تر عزت بالذات اور قدرت اللہ ہی کو حاصل ہے۔ اچھا کلام یعنی کلمہ طیبہ اسی تک پہنچتا ہے اور وہ اس کو قبول کرتا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کر رہے ہیں یا یہ کہ جو دار الندوہ میں بڑی بڑی تدابیر کر رہے ہیں کہ رسول اکرم کو یا تو معاذ اللہ قید کرلیں یا آپ کو اس بستی سے نکال دیں یا سب ملکر آپ کو شہید کردیں۔ ان لوگوں یعنی ابو جہل وغیرہ کو سخت ترین عذاب ہوگا اور ان کا یہ مکر و فریب تباہ و برباد ہوجائے گا اور کہا گیا کہ یہ آیت سود خوروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Read the full tafseer → مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا ۭ: عزت کا معنی غلبہ ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَعَزَّنِيْ فِي الْخِطَابِ) [ ص : 23 ] ”اور اس نے بات کرنے میں مجھ پر بہت سختی کی۔“ اس آیت کی تفسیر دو طرح سے ہوسکتی ہے، پہلی جو سب سے واضح ہے، یہ ہے کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اسے عزت و غلبہ حاصل ہو تو اسے جان لینا چاہیے کہ عزت سب کی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، جیسا کہ فرمایا : (قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) [ آل…
Read the full tafseer →آیت : من کان یرید العذۃ فللہالعذۃ جمیعا فراء کے نزدیک اس کی تقدیر کلام یہ ہے من کان یرید علم العذۃ اسی طرح دوسرے علماء نے بھی فرمایا ہے یعنی عزت کے علم کا ارادہ کرتا ہے جس کے ساتھ کوئی ذلت نہیں کیونکہ وہ عزت جو ذلت کی طرف لے جائے تو یہ ذلت کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنا ہے۔ وہ عزت جس کے ساتھ کوئی ذلت نہیں وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ جمیعا یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ زجاج نے اس کا یہ معنی مقدر کیا ہے جو آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے عزت کا خواہش مند ہے جب کہ عزت اللہ سبحانہ کے لیے ہے بیشک اللہ تعالیٰ اسے دنیا آخرت میں عزت دیتا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ بہت اچھی تاویل ہے جس طرح روایت آئے گی اس…
Read the full tafseer →1:۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) من کان یرید العزۃ “ (جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہے) یعنی بتوں کی عبادت سے (آیت) ” فللہ العزۃ جمیعا “ (تو ساری عزت اللہ کے لیے ہے) یعنی اس کو چاہیے کہ وہ اللہ کی عبادت کے ساتھ عزت حاصل کرے۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی (اور آپ نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے السماء والصفات میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ہم تم سے کوئی بات بیان کریں گے تو ہم تمہارے پاس اللہ کی کتاب میں سے اس کی تصدیق لائیں گے۔ مسلمان بندہ جب کہتا ہے ” سبحان اللہ وبحمدہ “ اور ” الحمد للہ “ اور ” لا الہ اللہ…
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ يُرِيْدُ [جو ارادہ کرتا رہتا ہے ] الْعِزَّةَ [عزت (حاصل کرنے) کا ] فَلِلّٰهِ [تو اللہ ہی کے لئے ہے ] الْعِزَّةُ جَمِيْعًا ۭ [عزت ساری کی ساری ] اِلَيْهِ يَصْعَدُ [اس کی طرف ہی چڑھتا ہے ] الْكَلِمُ الطَّيِّبُ [پاکیزہ کلام ] وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ [اور نیک عمل ] يَرْفَعُهٗ ۭ [بلند کرتا ہے اس کو ] وَالَّذِيْنَ يَمْكُرُوْنَ [اور جو لوگ خفیہ تدبیر کرتے ہیں ] السَّـيِّاٰتِ [برائیوں کی ] لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۭ [ان کے لئے ایک سخت عذاب ہے ] وَمَكْرُ اُولٰۗىِٕكَ [اور ان لوگوں کی چالبازی ] هُوَ يَبُوْرُ [وہ ہی تباہ و برباد ہوگی ] ۔
نوٹ۔ 2: جو لوگ عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ…
Read the full tafseer →ساری عزت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، کلمات طیبات اس کی طرف جاتے ہیں اسے بندوں کی عمروں میں کمی بیشی کا علم ہے
لوگ دنیا میں عزت چاہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ بڑے بن کر رہیں اور اس کے ذریعہ دنیاوی مصائب اور مشکلات سے بھی بچنا چاہتے ہیں، اس بارے میں غیر اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور مخلوق کو راضی کرنے کے لیے ایسے اعمال کرتے ہیں جن سے خالق کائنات جل شانہٗ راضی نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا ہے : (فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا) یعنی جسے عزت چاہیے تو وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے، وہ عزیز ہے اور ساری عزت اسی کے لیے ہے اپنی مخلوق میں جس کو چاہے عزت دے سکتا ہے اور جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ذکر دلائل توحید مع دیگر مضامین مناسبہء مقام
مثل ترغیب خشیت وفکر آخرت وترہیب از غفلت
قال اللہ تعالی۔ واللہ الذی ارسل الریح فتثیر سحابا۔۔۔ الی۔۔۔ ومکرا اولئک ھو یبور۔
(ربط) اوپر سے توحید کا مضمون چلا آرہا ہے اب آگے پھر اپنے عجائب صنعت اور بدائع قدرت کو ذکر کرتے ہیں تاکہ ان میں غور فکر کریں اور عبرت پکڑیں اور سعادت اور شقاوت کو سمجھیں اور آخرت کی فکر کریں جو منزل مقصود ہے اس لئے اب آئندہ آیات میں اثبات وحدانیت اور اثبات معاد اور حشر ونشر کے لئے اپنے دلائل قدرت کو ذکر کرتے ہیں جو قیامت کا نمونہ ہیں اور اللہ وہ ذات ہے کہ جو ہواؤں کو بھیجتا ہے یعنی وہ ہواؤں کو حکم دیتا ہے پس وہ فورا رواں ہوجاتی ہیں…
Read the full tafseer →ٖف 14:۔ من کان یرید الخ : یہ ایک شبہ کا جواب ہے یعنی اگر تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ ان معبودانِ باطلہ کی پرستش اور پکار سے تمہیں عزت حاصل ہوگی۔ تو یہ خیال دل سے نکال دو ، عزت اللہ کے اختیار میں ہے۔ اور اسی کی عبادت اور خدمت سے ملتی ہے۔ اس لیے تم حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے واتخذوا من دون اللہ الہۃ لیکونوا لھم عزا۔ کلا سیکفرون بعبادتہم ویکونون علیہم ضدا (مریم) ۔
15:۔ الیہ یصعد الخ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی کلمات طیبات کو قبول فرماتا ہ۔ الکلم الطیب سے کلمہ توحید اور صفات باری تعالیٰ مراد ہیں۔ التوحید والتحمید و ذکر اللہ و یہ کنایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عمل صالح کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ربط آیت
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا اور تنبیہہ فرمائی کہ تمہیں اسی دنیا میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے لہٰذا اس سے بچنے کی کوشش کرنا۔ فرمایا جو شخص شیطان کے پھندے میں پھنس گیا وہ دوزخ کا شکار ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ کفر کا پروگرام بڑا خطرناک اور شدید عذاب کا باعث ہے۔ فرمایا کامیابی سے وہی لوگ ہمکنار ہوں گے جو ایمان لانے کے بعد اعمال صالحہ انجام دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی بخشش و مغفرت انہی لوگوں کے حصے میں آئے گی۔
نیکی اور برائی کا تقابل
ایمان اور کفر یا نیکی اور برائی کے تقابل کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے افمن زین لہ سوء عملہ فراۃ حسنا ایک طرف وہ شخص ہے جس کا برا عمل…
Read the full tafseer →مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِيْعًا 0 ۭ اِلَيْہِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُہٗ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ يَمْكُرُوْنَ السَّـيِّاٰتِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ 0 ۭ وَمَكْرُ اُولٰۗىِٕكَ ہُوَيَبُوْرُ 10
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
واللہ الذی الخ یہاں سے پھر اصل مطلب یعنی اثبات حشر میں کلام شروع ہوتا ہے اور ہوائیں چلانا اور ان سے بادلوں کا اٹھانا پھر بادلوں کو بلد میت یعنی خشک شہر یا زمین کی طرف روانہ کرکے مینہ برسانا اور اس کو شاداب کردینا اپنے عجائبِ قدرت ذکر فرما کر اس کو قیامت برپا کرنے کا نمونہ بتلاتا ہے، چند وجوہ سے اول یہ کہ جس طرح وہ مردہ زمین نے اپنے قابل حیات قبول کرلی، اسی طرح اعضاء بھی قبول کریں گے۔ دوم یہ کہ جو قادر مطلق ہو اسے ابر کو جمع کرلیتا ہے اسی طرح اعضائِ انسانیہ کو بھی۔ سوم یہ کہ اسی طرح سے ہم روح کو جسم کی طرف رواں کریں گے۔
مشرکین اپنے بتوں کو اس لیے بھی پوجتے ہیں کہ عزت و حرمت حاصل ہو، یعنی ہر…
Read the full tafseer →مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا ط اِلَیْہِ یَصْعَدُالْـکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ ط وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ط وَمَکْرُ اُوْلٰٓئِکَ ھُوَ یَبُوْرُ ۔ (فاطر : 10)
(جو عزت چاہتا ہو تو یاد رکھے کہ عزت ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے، اس کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلمہ، اور عمل صالح اس کو اٹھاتا ہے اور وہ لوگ جو بری چالیں چل رہے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کی چال ہلاک ہو کر رہے گی۔ )
ایمان کے راستے کی رکاوٹ
قریش اور دیگر مشرکین کو جن اسباب نے قبولیتِ اسلام سے دور رکھا ان میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اسی طرح ہی عزت اور ذلّت کا مالک ہے۔
انسان کا وقار اوراقبال اسی میں ہے کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کا عقیدہ اپنے ذہن میں ہر دم تازہ اور قائم رکھے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ جس انسان کا آخرت کے بارے میں عقیدہ اٹھ جاتا ہے وہ بےہودہ اور برے کاموں میں عزت تلاش کرتا ہے۔ یہی سوچ اور روّیہ اہل مکہ کا تھا وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے اس نبی کی دعوت تسلیم کرلی تو لوگوں کی نظروں میں ہمارا وقار ختم ہوجائے گا۔ اسی کے پیش نظر نبی ﷺ کی مخالفت کے درپے رہتے تھے۔ انہیں اور ان کے حوالے سے دنیا بھر کے لوگوں کو یہ عقیدہ بتلایا اور…
Read the full tafseer →عزت اللہ کے پاس ہے وہ بری تدابیر سے نہیں ملتی :
10: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا (جوشخص عزت حاصل کرنا چاہے تو تمام تر عزت اللہ تعالیٰ کیلئے ہے) یعنی عزت ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ خواہ دنیا کی عزت ہو یا آخرت کی۔ کافر بتوں سے عزت حاصل کرتے تھے۔ جیسا کہ فرمایا واتخذوا من دون اللہ الھۃ لیکونوا لھم عزّا ] مریم : 81[
منافقین کفار مشرکین کے ذریعہ اپنی عزت بناتے تھے۔ جیسا کہ فرمایا الذین یتخذون الکافرین اولیاء من دون المؤمنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعًا ] النساء : 139[ پس اس سے یہ واضح ہوا کہ حقیقی عزت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →10، من کان یرید العزۃ فلللہ العزہ جمیعا، فراء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا جو شخص جاننا چاہتا ہے کہ عزت کے لیے ہے وہ وہ سمجھ لے کہ تمام ترعزت اللہ کے لیے ہے۔ بظاہر آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو اپنے لیے عزت کا خواستگار ہے تو اللہ کی بارگاہ سے ہی اس کو عزت طلب کرنی چاہیے ، اسی کی فرمانبرداری کرکے عزت حاصل کرے کیونکہ ساری عزت کا خالق ومالک اللہ ہی ہے جس کو چاہے عطار کے۔ کافر، بتوں کی پوجاکر کے عزت کے خواستگار تھے، اللہ نے کافروں کے متعلق فرمایا : ، واتخذو امن دون اللہ الھۃ لیکونوالھم عزاکلا اور منافق ، کافروں کی نظر میں معززبننا چاہتے تھے اللہ نے منافقوں کے متعلق فرمایا :، ایبتغون عند ھم العزۃ فان…
Read the full tafseer →10۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مجاہد عکرمہ اور مفسرین متقدمین نے جو اس آیت کے معنے بیان کئے ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ عمل نیک سے مراد وہ عمل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے جیسے نماز روزہ حج زکوۃ اور کلمات پاکیزہ سے مقصود نفلی ذکر الٰہی ہے جیسے تلاوت قرآن تسبیح تہلیل دعاء جو شخص فرض عبادت کے ادا کرنے کے بعد یہ نفلی ذکر الٰہی کرے گا اس کے فرض عمل اس کے نفل ذکر الٰہی کو اس رتبہ کو پہنچاویں گے کہ وہ نفلی ذکر آسمان پر چڑھ جاوے گا اور آسمان پر چڑھنے سے یہ مطلب ہے کہ وہ نفلی ذکر اللہ کی جناب میں قبول ہوجاوے گا اور و شخص بدون فرض عبادت ادا کرنے کے کوئی نفلی ذکر…
Read the full tafseer →آیت 10
یعنی اے وہ شخص جو عزت کا طلب گار ہے، عزت اس ہستی سے ماگن جس کے ہاتھ میں عزت ہے، بیشک عزت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، جو اس کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی، نیز فرمایا : (الیہ یصعد الکلم الطیب) ” اس کی طرف پاک کلمات بلند ہوتے ہیں “ مثلاً قرأت قرآن، تسبیح اور تہلیل وتحمید وغیرہ۔ ہر کلام جو اچھا اور پاک ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوتا ہے، اس کے حضور پیش کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ صاحب کلام کی ملا اعلیٰ میں مدح و ثنا کرتا ہے۔ (والعمل الصالح) ” اور نیک عمل “ یعنی اعمال قلوب اور اعمال جوارح (یرفعہ) ” اس کو بلند کرتا ہے۔ “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کلمات طیبہ کی مانند عمل صالح کو بھی…
Read the full tafseer →اگر نمازی کے آگے سے کتا، گدھا گزر جائے تو نماز قطع نہیں ہوتی
عکرمہ نے روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے سامنے ذکر ہوا کہ اگر نمازی کے آگے سے کتا یا گدھا گزر جائے تو اس کی نماز کو قطع کردیتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ سن کر آیت تلاوت کی (الیہ یصعد اکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ۔ اسی کی طرف اچھا کلام بلند ہوتا ہے اور عمل صالح اس کی بلند کرتا ہے ) اور فرمایا : ” اسے کون سی چیز قطع کرسکتی ہے۔ “ سالم نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے کہ پاکیزہ کلام کو عمل صالح بلند کرتا ہے۔
Read the full tafseer →23 عزت سے سرفرازی کے صحیح طریقے کی تعلیم و تلقین : سو عزت سے سرفرازی کے لیے صحیح طریقے کی تعلیم و تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی عزت چاہتا ہو تو وہ جان لے کہ عزت سب کی سب اللہ ہی کیلئے ہے۔ پس تم سب لوگ اسی سے عزت مانگو کہ وہ اسی کی عطا و بخشش سے مل سکے گی۔ یہاں در اصل ایک بیماری کی نشاندہی فرمائی گئی اور اس کا علاج بھی ارشاد فرما دیا گیا ہے۔ یہ بیماری جو کل بھی تھی اور آج بھی ہے اور جس نے کل بھی بہت لوگوں کو حق سے محروم رکھا اور وہ آج بھی بہتوں کو حق سے محروم کر رہی ہے۔ اور یہ طلب عزت اور ہوس جاہ کی بیماری ہے۔ مشرکین عرب نے اسی عزت کے پانے کے خیال سے وہ جھوٹے اور بےبنیاد معبود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
اللہ کی قدرتیں اور اس کا نظام
تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، طاقت اور عظمت کو دلیلوں سے ثابت کیا گیا ہے سب سے پہلے ہواؤں کا ذکر ہے۔ ہوا ہر قسم کی مخلوقات کے لیے بےحد ضروری ہے۔ کیا حیوانات، نباتات یا جمادات ہوں سب کی بقاء (زندگی) کے لیے ہوا اتنی ہی ضروری ہے جنتی کہ پانی، خوراک اور روشنی ہے۔ ہوا کے ذریعے پانی کا بندوسبت ہوتا ہے جو مردہ اور خشک زمین کو دوبارہ زندہ کردیتا ہے۔ زمین سر سبز ہوجاتی ہے اور انسان و حیوان کے لیے چارہ اور خوراک اگنے لگتا ہے۔
اب ہواؤں کے عمل کو ذرا وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔ سورج کی کرنیں ہر اس جگہ سے پانی بھاپ بنا کر اوپر اڑانے لگتی ہیں۔ یہ بھاپ اتنی بلندی پر چلی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 8 تا 14:
اسرار و معارف :
کچھ لوگ جب اللہ سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان پر اللہ کا یہ غضب ہوتا ہے کہ ان کی سوچ الٹ جاتی ہے اور انہیں برائی کے کام بھلے لگنے لگتے ہیں اور یوں وہ کرتے چلے جاتے ہیں اور جس کو اللہ چاہتا ہے یعنی جس کے دل میں اللہ سے ہدایت کی طلب پیدا ہوجائے اسے ہدایت عطا فرما دیتا ہے لہذا آپ ان کی گمراہی کے دکھ کو اس قدر شدت سے محسوس نہ کیجیے کہ یہ ان کا اپنا انتخاب کردہ راستہ ہے اور اللہ ان کے کردار اور قلبی ارادوں تک سے خوب واقف ہے۔ سبحان اللہ جس رسول رحمتکو کفار کا کفر پہ رہنا دکھی کردیتا ہے اسے مسلمانوں کا کفار کے سے اعمال کرنا کس قدر دکھ پہنچاتا ہوگا۔ اللہ ہمیں…
Read the full tafseer →ف 13 پھر تم اس سے انکار کیونکر کرتے ہو حالانکہ مردہ زمین کو زندہ ہوتے اپنی آنکھوں سے ہمیشہ دیکھتے ہو ؟ ابوزین عقیلی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا :” اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا ؟ “ فرمایا :” کیا تم نے کوئی ایسی زمین نہیں دیکھی جس سے تم پہلی دفعہ گزرے تو وہ اجاڑ پڑی تھی اور دوبارہ گزرے تو وہ سبزہ سے لہلہا رہی تھی ؟ “ میں نے عرض کیا ” جی ہاں “ فرمایا ” اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا۔ ( قرطبی) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو عرش کے نیچے سے ایک خاص قسم کی بارش ہوگی جس کا پانی پڑتے ہی مردے اس طرح جی اٹھیں گے…
Read the full tafseer →(35:10) العزۃ ۔ عزت۔ غلبہ، بزرگی۔ عز یعز ضرب کا مصدر بھی ہے اور بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے۔
یصعد۔ مضارع واحد مذکر غائب صعود باب سمع سے مصدر وہ چڑھتا ہے۔ وہ پہنچتا ہے۔ مراد یہاں قبول ہوتا ہے۔ یا یہ کہ فرشتے اسے لے اوپر عرش کی طرف چڑھتے ہیں ۔ الکلم الطیب موصوف وصفت۔ پاکیزہ کلام ۔ مراد ذکر الٰہی۔
یرفعہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع العمل الصالح ہے۔ وہ اس کو بلند کرتا ہے رفع (با فتح) مصدر۔ یرفع میں ضمیر فاعل کا مرجع کون ہے ؟ اس کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
(1) یرفع میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے مطلب یہ کہ جو عمل صالح خالصۃ اللہ کے لئے کیا جائے اللہ اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
لغات القرآن ( آیت نمبر 8 تا 10) زین (خوبصورت بنا دیا گیا) سوئ (برائی) را (اس نے دیکھا) یصنعون (وہ بناتے ہیں) تثیر (اٹھاتی ہے) سقنا ( ہم نے سیراب کردیا) بلد (شہر ، بستی ( ب ۔ ل د) النشور (قیامت میں) دوبارہ اٹھایا جانا) یصعد ( وہ چڑھتا ہے) الکلم (باتیں ، اعمال) یرفع (وہ بلند کرتا ہے) یمکرون ( وہ فریب دیتے ہیں) یبور ( برباد ہوتا ہے ، اکارت جائے گی)
تشریح : آیت نمبر 8 تا 10 :۔ اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ نے اپنے بندوں سے جو بھی وعدے کئے ہیں وہ سچے ہیں اور پورے ہو کر رہیں گے لیکن شیطان اپنے جھوٹے وعدوں میں لوگوں کو پھنسا کر اپنے ساتھ جہنم میں لے جانا چاہتا ہے ۔ اس کی تدبیریں اس قدر…
Read the full tafseer →نیک عمل کا ذکر۔
(ف 1) حضرت عبداللہ بن عباس نے جو اس آیت کے معنی بیان کیے ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ نیک سے مراد وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے جیسے نماز روزہ حج زکوۃٰ ، کلمات پاکیزہ سے مقصود نفلی ذکر الٰہی ہے جیسے تلاوت قرآن تسبیح تہلیل وظائف درود شریف دعاوغیرہ۔ جو شخص فرض عبادت کے ادا کرنے کے بعد یہ نفل ذکر الٰہی کرے گا اس کے فرض عمل اس کے نفل ذکرالٰہی کو اس رتبہ کو پہنچادیں گے کہ وہ نفلی ذکر آسمان پر چڑھ جائے گا اور آسمان پر چڑھنے سے یہ مطلب ہے کہ وہ نفلی ذکر اللہ کی جناب میں قبول ہوجائے گا اور وہ نیک عمل کرنے والے کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔
(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
[5] بہت سے مسلمان کافروں سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے کہ اس سے ان کی عزت بنی رہے گی۔ اس قسم کے لوگوں کو بتلایا کہ جو شخص دنیوی عزت چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اللہ سے طلب کرے۔ اس کی فرماں برداری سے اصلی عزت میسر آتی ہے۔ تمام عزتوں کا مالک وہی ہے جس کسی کو عزت ملی یا ملے گی اسی کے خزانے سے ملی ہے یا ملے گی۔
[6] یعنی اللہ کا ذکر، دعا، تلاوت قرآن، علم و نصیحت کی باتیں وغیرہ۔
[7] یعنی جو چیز پاکیزہ قول کو عروج کی طرف لے جاتی ہے وہ قول کے مطابق عمل ہے۔ پاکیزہ قول اس حالت میں اللہ کے ہاں مقبول ہے جب اس کی پشت پر عمل صالح بھی ہو۔
Read the full tafseer →ف 1: حشر ونشر پر استدلال ہے ۔ کہ جس طرح مردہ زمین بارش کی وجہ سے زندگی کا لباس زیب تن کرلیتی ہے ۔ اسی طرح اللہ کی نگاہ کرم سے لوگ جی اٹھیں گے ۔ اس میں کون بات عقل سے بعید ہے ۔
2: مکہ والے اپنے مال و دولت کی وجہ سے مغرور تھے ۔ اور مسلمانوں کو ان کے افلاس کی وجہ سے حقیر سمجھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ کم بختو ! ذلت وعزت کا تعلق سرمایہ اور دنیوی متاع سے نہیں
Read the full tafseer →(10) جو شخص عزت حاصل کرنا چاہے تو ہر قسم کی تمام تر عزت اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے۔ پاکیزہ کلام اللہ تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں چڑھتا ہے اور عمل صالح اور نیک کام اس پاکیزہ کلام کو اٹھاتا اور بلند کرتا ہے اور وہ لوگ جو بری تدبیریں اور برے دائوں کرتے رہتے ہیں ان کیلئے سخت سزا اور سخت عذاب ہے اور ان لوگوں کے یہ دائوں اور بری تدبیریں سب نابود و برباد ہوجائیں گی اور ان کا دائوں نقصان اور خسارہ کا ہے۔
دین حق کے منکروں کو یہ گھمنڈ تھا کہ ہمارے معبود دنیا میں اور خصوصاً آخرت میں ہمارے شفیع ہوں گے۔ اور ہماری عزت اور سربلندی کے یہی معبود ان باطلہ ضامن ہیں۔ حضرت حق جل مجدہ نے اس غلط خیال کا رد فرمایا کہ عزت…
Read the full tafseer →ف 3۔ اس لئے اس کو چاہئے کہ اللہ سے عزت حاصل کرے۔
4۔ اچھے کلام میں کلمہ توحید اور تمام اذکار الہیہ اور اچھے کام میں تصدیق قلبی اور جمیع اعمال صالحہ ظاہرہ و باطنہ داخل ہیں، اور رفع عام ہے نفس قبول و قبول تام کو۔
5۔ یہ موجب ان کی ذلت کا ہوگا، اور ان کے آلہہ مزعومہ ان کو خاک عزت نہ دے سکیں گے۔ بلکہ بالعکس خود وہ ان کے خلاف ہوجائیں گے۔
6۔ یعنی ان تدبیروں میں ان کو کامیابی نہ ہوگی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ اسلام کو مٹانا چاہتے تھے خود ہی مٹ گئے۔
Read the full tafseer →تم کو عزت کی تلاش ہے تو وہ اللہ کے پاس ہے کلمہ طیبہ اور عمل صالح اسی کی طرف بڑھتے ہیں
10 ۔ آخرت سے انکار ہے تو آخر کیوں ؟ اچھے اعمال کی طرف رغبت نہیں تو آخر کیوں ؟ اس لئے کہ جتنے و ڈیرے ہیں خواہ مذہبی پیشوا اور راہنما ہیں اور خواہ وہ دنیوی جاہ و جلال کے خمار میں مست ہیں تو اب وہ اس مستی سے نکلیں تو کیسے اس لئے کہ ایک طرف وہ اپنے اس جاہ و جلال ، اپنی پیشوائیت اور لیڈری پر نظر رکھتے ہیں تو دوسری طرف ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس نظر آتی ہے جو ایک در یتیم ہے اور اس دنیوی زندگی کے مال ومتاع میں سے کسی چیز کی بھی فراوانی اس کو حاصل نہیں ہے۔ اس عزت کی متلاشیوں کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اگر ہم…
Read the full tafseer →Commentary
In verse 10, it was said: إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (Towards Him, ascends the pure word, and the righteous deed uplifts it). Immediately earlier to this, it was declared that the person seeking honor and power should understand that these matters are not controlled by anyone other than Allah. As for those who have taken certain things as objects of worship or have taken some people as friends in the hope of being honored by them, they cannot give honor to anyone. Given in the present verse, there is a method of acquiring the gifts of…
Read the full tafseer →20 It should be noted that whatever the chiefs of the Quraish were doing against the Holy Prophet, they were doing it for the sake of their honour and dignity. They thought that if the Holy Prophet succeeded in his mission, their greatness and glory would fade away, their influence would die out and their honour among the Arabs would be ruined. At this it is being said: "The honour that you have attained for yourselves by your disbelief in and rebellion against Allah. is a false honour, which is destined to be mined. The taste and enduring honour, which can never suffer debasement, can be…
Read the full tafseer →