Explained with ayahs 9–11
موت کے بعد زندگی۔
قرآن کریم میں موت کے بعد کی زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے۔ جیسے سورة حج وغیرہ میں ہے۔ بندوں کے لئے اس میں پوری عبرت اور مردوں کے زندہ ہونے کی پوری دلیل اس میں موجود ہے کہ زمین بالکل سوکھی پڑی ہے، کوئی ترو تازگی اس میں نظر نہیں آتی لیکن بادل اٹھتے ہیں، پانی برستا ہے کہ اس کی خشکی تازگی سے اور اس کی موت زندگی سے بدل جاتی ہے۔ یا تو ایک تنکا نظر نہ آتا تھا یا کوسوں تک ہریالی ہی ہریالی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح بنو آدم کے اجزاء قبروں میں بکھرے پڑے ہوں گے ایک سے ایک الگ ہوگا۔ لیکن عرش کے نیچے سے پانی برستے ہی تمام جسم قبروں میں سے اگنے لگیں گے۔ جیسے زمین سے…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 23
یہاں سے پھر روئے سخن عوام الناس کی طرف پھرتا ہے۔
سورة فَاطِر 24
یعنی انسان کی آفرینش پہلے براہ راست مٹی سے کی گئی، پھر اس کی نسل نطفے سے چلائی گئی۔
سورة فَاطِر 25
یعنی جو شخص بھی دنیا میں پیدا ہوتا ہے اس کے متعلق پہلے ہی یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ اسے دنیا میں کتنی عمر پانی ہے۔ کسی کی عمر دراز ہوتی ہے تو اللہ کے حکم سے ہوتی ہے، اور چھوٹی ہوتی ہے تو وہ بھی اللہ ہی کے فیصلے کی بنا پر ہوتی ہے۔ بعض نادان لوگ اس کے جواب میں یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ پہلے نو زائیدہ بچوں کی موتیں بکثرت واقع ہوتی تھیں اور اب علم طب کی ترقی نے ان اموات کو روک دیا ہے۔ اور پہلے لوگ کم عمر پاتے تھے، اب وسائل…
Read the full tafseer →(آیت) وما یعمرمن معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتاب، اس آیت کا مفہوم جمہور مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو عمر طویل عطا فرماتے ہیں وہ پہلے ہی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اسی طرح جس کی عمر کم رکھی جاتی ہے وہ بھی سب لوح محفوظ میں پہلے ہی درج ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ یہاں عمر کا طول اور نقص فرد واحد کے متعلق مراد نہیں، بلکہ کلام نوع انسانی کے متعلق ہے کہ اس کے کسی فرد کو عمر طویل دی جاتی ہے کسی کو اس سے کم یہ تفسیر حضرت عباس سے ابن کثیر نے نقل کی ہے۔ حصاص نے حسن بصری اور ضحاک کا یہی قول نقل کیا ہے، اسی لئے ابن جریر، ابن کثیر، روح المعانی وغیرہ عام تفاسیر میں اسی کو جمہور کی تفسیر…
Read the full tafseer →آیت 11
یعنی اولاد اور عمر میں جو کمی بیشی بھی ہوتی ہے وہ اللہ کے علم اور اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ ان چیزوں میں بھی تمہارے ان دیویوں دیوتائوں کو کوئی دخل نہیں ہے۔ اس وجہ سے ان کے لئے بھی تمہیں خدا ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اس کے سوا کسی دوسرے کا سہارا نہیں ڈھونڈنا چاہیے۔ یہ امریہاں ملحوظ رہے کہ مال و اولاد اور صحت و زندگی اور اس قبیل کی دوسری مطلوبات ہمیشہ شرک کے عوامل میں سے رہی ہیں۔ جن کے ہاں اولاد نہیں ہوتی، یا ہوتی ہے لیکن زندہ نہیں رہتی، یا صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں، اولاد نرینہ ہیں پیدا ہوتی، اس طرح کے لوگ اگر وہمی ہوتے ہیں تو شیطان بڑی آسانی سے ان کا رخ تھانوں، استھانوں، قبروں…
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم کو مٹی سے اور پھر اس کے بعد تمہاری نسل کو قائم رکھنے کے لیے انسان کی تخلیق کو نطفے سے وابستہ کردیا جو مرد کی پشت سے نکل کر عورت کے رحم میں جاتا ہے۔
11۔ 2 یعنی اس سے کوئی چیز مخفی نہیں، حتی کہ زمین پر گرنے والے پتے کو اور زمین کی تاریکیوں میں نشوونما پانے والے بیج کو بھی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →4: اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →واللہ خلقکم من تراب ۔۔۔۔۔۔ علی اللہ یسیر (11) ”
انسان کی پہلی تخلیق کی طرف قرآن کریم میں بار بار اشارہ کیا گیا ہے کہ اسے مٹی سے پیدا کیا گیا ۔ اسی طرح قرآن میں حمل کے ابتدائی مراحل کی طرف بھی مفصل اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی نطفے کی طرف۔ تراب وہ عنصر ہے جس میں زندگی نہیں ہوتی اور نطفہ وہ عنصر ہے جس میں زندگی ہوتی ہے۔ اس کائنات کے عظیم معجزات میں سے ایک یہ ہے کہ اس بےجان عنصر میں کس طرح جان ڈال دی گئی اور حیات کس طرح پہلے عنصر کے ساتھ گھل مل گئی۔ آج تک یہ راز معمہ ہے اور انسان ابھی تک اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکا۔ یہ ایک قائم اور دیکھی جانے والی حقیقت ہے۔ اس کے اعتراف کے سوا چارہ کار بھی نہیں ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →5 یعنی آدم کو مٹی سے پھر اس کی اولاد کو پانی کی بوند سے پیدا کیا۔ پھر مرد عورت کے جوڑے بنا دیے جس سے نسل پھیلی۔ اس درمیان میں استقرار حمل سے لے کر بچہ کی پیدائش تک جو ادوار واطوار گزرے سب کی خبر خدا ہی کو ہے۔ ماں باپ بھی نہیں جانتے کہ اندر کیا صورتیں پیش آئیں۔
6 یعنی جس کی جتنی عمر ہے لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے اور جو اسباب عمر کے گھٹنے بڑھنے کے ہیں یا یہ کہ کون عمر طبعی کو پہنچے گا کون نہیں، سب اللہ کے علم میں ہے اور اللہ کو ان جزئیات پر احاطہ رکھنا بندوں کی طرح کچھ مشکل نہیں۔ اس کو تو تمام مالکان ومایکون، جزئی، کلی، اور غیب و شہادت کا علم ازل سے حاصل ہے۔ اس کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو۔ حضرت…
Read the full tafseer →آیت 11 { وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمْ اَزْوَاجًا } ”اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ‘ پھر نطفے سے ‘ پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنا دیا۔“
{ وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ } ”اور نہ ہی کسی مادہ کو کوئی حمل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ جنتی ہے مگر یہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔“
انسان ہو یا حیوان ‘ اس حوالے سے کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں۔
{ وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّلَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِہٖٓ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ } ”اور کسی عمر والے کو عمر نہیں دی جاتی اور نہ ہی کسی کی عمر میں کمی کی جاتی ہے مگر یہ سب ایک کتاب میں…
Read the full tafseer →17 جنین پر وارد ہونے والے تغیرات اور اللہ تعالیٰ کی انفرادی توجہ :۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مٹی کے چند اجزاء سے آدم کا پتلا بنایا۔ پھر اس میں اپنے ہاں سے روح پھونکی، تو یہی مٹی کے اجزا، گوشت پوست، ہڈیوں اور عضلات میں تبدیل ہوگئے پھر صرف اتنا ہی نہیں ہوا بلکہ اس میں اللہ کی اپنی کئی صفات بھی منعکس ہوگئیں وہ بولنے لگا۔ دیکھنے اور سننے لگا، سمجھنے لگا اس میں عقل پیدا ہوگئی۔ فہم و تدبر پیدا ہوگیا اور استنباط کا ملکہ پیدا ہوگیا۔ پھر آگے جو اس کی نسل چلی تو اس کے نطفہ سے چلی۔ یہ نطفہ کیا تھا، مٹی کے بےجان عناصر سے ہی حاصل شدہ چیز تھی۔ اور اس حقیر سے قطرہ میں اس انسان کے کثیر خواص منتقل ہوگئے جس کا یہ…
Read the full tafseer →21۔ (لکھا ہوا اس کے علم ذاتی وقدیم کے موافق) آیت رد شرک میں ہے جاہلی مشرک قومیں اپنے دیوی دیوتاؤں کو صاحب علم تو مانتی تھیں لیکن ایسا علم جو ناقص و محدود تھا۔ یہاں یہ اس کی تردید میں ارشاد ہورہا ہے کہ اللہ کا علم کامل ہے، اور ہر ہر جزئیہ پر محیط۔ بلکہ اس نے اپنے علم کے ماتحت مستقبل کے سارے واقعات لوح محفوظ میں درج بھی رکھے ہیں۔ (آیت) ” خلقکم من تراب “۔ اس خلق کا تعلق نوع انسانی سے ہے۔ (آیت) ” ثم من نطفۃ “۔ اس خلق کا تعلق ہر ہر فرد سے ہے۔ (آیت) ” وما تحمل من اثنی ولا تضع “۔ یعنی نر یا مادہ جیسا بھی حمل اور بچہ ہو۔
22۔ اللہ کا علم ذاتی جس کے آگے مستقبل وماضی سب یکساں، اس کے لیے یہ چیزیں دشواری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
آیت نمبر 8 تا 14
ترجمہ : (آئندہ) آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیا وہ شخص کہ جس کے سامنے اس کے برے عمل کو تلبیس کے ذریعہ مزین کرکے پیش کیا گیا پھر وہ اس کو نیک عمل سمجھنے لگا (اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کو اللہ نے ہدایت دی ہو ؟ نہیں ہوسکتا) مَنْ مبتداء ہے اور اس کی خبر کَمَنْ ھدَاہُ ہے (اس حذف خبر پر) فاِنّ اللہ یُضَلُّ مَنْ یشَاءُ (الآیۃ) دال ہے، یقین مانو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو آپ ان پر یعنی ان لوگوں پر کہ جن کے (اعمال بد) ان کے لئے مزین کردیئے گئے ہیں، اتنا غم نہ کیجئے، کہ ان کی اس بات پر غم کی وجہ سے کہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان ہی…
Read the full tafseer →وا اللہ خلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم جعلکم ازواجا اور اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے ‘ پھر (نسلاً )
نطفہ سے پیدا کیا ‘ پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا۔
اس آیت میں بھی حشر جسمانی پر اللہ کے قادر ہونے کو ثابت کیا ہے ‘ کیونکہ ابتدائی تخلیق دوبارہ پیدا کرنے سے آسان نہیں ہے (جب ابتداء میں اللہ نے پیدا کردیا تو دوبارہ پیدا کرنا اس کیلئے کچھ دشوار نہیں) ۔
مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَۃٍ یعنی اصل بعید (ابتدائی بنیاد) تو تمہاری مٹی سے ہے۔ حضرت آدم کو مٹی سے بنایا تھا اور اصل قریب نطفہ ہے۔
اَزْوَاجًا یعنی صنف ‘ صف نر اور مادہ۔
وما تحمل من انثی ولا تصنع الا بعلمہ اور کسی عورت کو نہ حمل رہتا ہے اور نہ وہ اس…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے تمہیں بذریعہ آدم مٹی سے پیدا کیا ہے پھر تمہیں تمہارے آباء کے نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنایا اور کسی عورت کو نہ حمل رہتا ہے اور نہ وہ پورا یا ادھورا جنتی ہے مگر سب کچھ اس کی اطلاع اور اجازت سے ہوتا ہے اور نہ کسی عمر والے کو عمر دی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر بڑھائی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم کی جاتی ہے، مگر یہ سب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہوتا ہے بغیر کتابت کے بھی ان تمام امور کا محفوظ رکھنا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ۔۔ : اس سے پہلے بارش سے زمین کے زندہ ہونے کو موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا، اب اس آیت میں موت کے بعد زندگی کی تین دلیلیں پیش فرمائیں جو تینوں عقلی ہیں، پہلی انسان کا مٹی سے پیدا ہو کر مختلف مراحل سے گزر کر موت کی آغوش میں جا بسنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ ۭ وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ…
Read the full tafseer →آیت : واللہ خلکم من تراب ثم من نطفۃ سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ اس صورت میں تقدیر کلام یہ ہوگی۔ خلق اصلکم من تراب۔
آیت : ثم من نطفۃ سے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے اباء کی پشتوں سے نکالا۔ آیت : ثم جعلنکم ازواجا تم میں سے بعض کو بعض سے ملا دیا۔ مذکر مو نث کا زوج (جوڑا) ہے تاکہ دنیا میں بقا مکمل ہو یہاں تک کہ اس کی مدت مکمل ہو۔ آیت : و ما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ اللہ تعالیٰ تمہیں جو ڑا جوڑا بنایا پس مذکر، مونث سے شادی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ان سے نسل جاری ہوتی ہے کوئی حمل نہیں ٹھہر تا اور نہ ہی کوئی بچہ جنم لیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واللہ خلقکم من تراب “ اور اللہ تعالیٰ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا یعنی آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا (آیت) ” ثم من نطفۃ “ (پھر نطفہ سے) یعنی ان کی اولاد کو (نطفہ سے پیدا کیا) (آیت) ” ثم ذکرانا واناثا “ (الشوری آیت 5) پھر مذکر اور مؤنث یعنی مرد اور عورتیں بنا دیں)
2:۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یعمر من معمر “ الآیہ (اور نہ کسی کی عمر زیادہ کی جاتی ہے) یعنی کوئی ایسا نہیں ہے کہ اس کے لئے لمبی عمر اور زندگی کا فیصلہ کیا گیا ہو تو وہ اپنی مقدر کی ہوئی عمر تک نہ پہنچا…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ [اور اللہ نے پیدا کیا تم کو ] مِّنْ تُرَابٍ [ایک مٹی سے ] ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ [پھر ایک نطفہ سے ] ثُمَّ جَعَلَكُمْ [پھر اس نے بنایا تم کو ] اَزْوَاجًا ۭ [جوڑے جوڑے ] وَمَا تَحْمِلُ [اور نہیں اٹھاتی (حمل)] مِنْ اُنْـثٰى [کوئی بھی مؤنث ] وَلَا تَضَعُ [اور نہ وہ جنتی ہے ] [اِلَّا بِعِلْمِهٖ ۭ : مگر اس کے علم سے ] وَمَا يُعَمَّرُ [اور عمر نہیں دی جاتی ] مِنْ مُّعَمَّرٍ [کسی بھی عمر دئیے ہوئے کو ] وَّلَا يُنْقَصُ [اور نہ کمی کی جاتی ہے ] مِنْ عُمُرِهٖٓ [اس کی عمر میں سے ] اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ ۭ [سوائے اس کے کہ ایک کتاب میں (وہ لکھا) ہے ] اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ [بیشک یہ اللہ…
Read the full tafseer →اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت بیان فرمائی (وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ) (اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا) یعنی ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا پھر اس میں روح پھونکی، ان کی تخلیق میں ان کی ساری اولاد کی تخلیق مضمر تھی اس لیے ان کی ساری اولاد کے بارے میں فرمایا کہ مٹی سے تمہاری پیدائش فرمائی، پھر چونکہ سلسلہ توالد و تناسل نطفہ کے ذریعہ ہوتا رہا اور ہوتا ہے، اس لیے (ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ) بھی فرمایا یعنی مٹی سے تمہاری تخلیق فرمائی اس کے بعد تمہاری پیدائش کا سلسلہ اس طرح جاری فرمایا کہ مرد کا نطفہ عورت کے رحم میں جاتا ہے پھر اس سے انسان پیدا ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ذکر دلیل آخر برتوحید وامکان حشر ونشر و اثبات قضاء قدر
قال اللہ تعالی۔ واللہ خلقکم من تراب۔۔۔ الی۔۔۔ ولا ینبئک مثل خبیر۔
اب آئندہ آیات میں امکان حشر ونشر پر ایک اور دلیل ذکر کرتے ہیں جو توحید کی بھی دلیل ہے۔ اوپر کی آیتوں میں دلائل آفاق کا ذکر تھا اب ان آیات میں دلائل انفس کا ذکر کرتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ص 33 ج 7) اور اللہ ہی نے پہلے تم کو یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر تم کو نطفہ سے پیدا کیا پھر تم کو جوڑا جوڑا بنایا یعنی مردو عورت بنایا جس سے باہم جفت ہوتے ہو اور کسی کو مرد بنانا اور کسی کو عورت بنانا حالانکہ مادہ دونوں کا ایک ہے یہ بھی اس کی قدرت کی دلیل ہے اور نہیں…
Read the full tafseer →17:۔ واللہ خلقکم الخ : یہ پانچویں عقلی دلیل ہے اللہ تعالیٰ نے کمال قدرت سے تمہارے جد اعلی آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر قطرہ آب سے سلسلہ نسل جاری کیا اور تم میں نر و مادہ کو پیدا فرمایا۔ یہ اس کی قدرت کمال ہے اور اس کے علم کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر مادہ کے پیٹ میں استقرار حمل سے لے کر وضع حمل تک جنین کے تمام احوال و کوائف کو بخوبی جانتا ہے اور پھر ہر جاندار کی عمر کی مقدار بھی اسے معلوم ہے غرضیکہ سب کچھ علم الٰہی میں موجود ہے۔ یہ سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا کارساز اور حاجت روا بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔ اس لیے مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔ عمر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
گزشتہ آیات میں نیک و بدانسانوں کا ذکر ہوا ہے۔ پھر اللہ کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلائل بیان ہوئے۔ اللہ نے مشرکوں کے متعلق فرمایا کہ وہ غیر اللہ سے عزت کے طلب گار ہیں حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس کے بعد اللہ نے پاکیزہ کلمات کا ذکر کیا کہ وہ بارگاہ رب العزت میں پیش ہوتے ہیں اور اگ ان کو نیک اعمال کی تائید بھی حاصل ہو تو وہ مزید تقویت کا باعث باتی ہے۔ نیک عمل کو پاکیزہ کلمہ اوپر اٹھاتا ہے اور اس کی مقبولیت اس وقت ہوتی ہے جب اس کی تہہ میں ایمان اور توحید ہو۔ اللہ نے کافروں کے متعلق فرمایا کہ ان کے لیے شدید عذاب ہے اور ان کی ہر تدبیر ناکام ہوگی۔
تخلیق انسانی کے مراحل
اب…
Read the full tafseer →وَاللہُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا 0 ۭ وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْـثٰى وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ 0 ۭ وَمَا يُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّلَا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِہٖٓ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ 0 ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرٌ 11
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
واللہ الذی الخ یہاں سے پھر اصل مطلب یعنی اثبات حشر میں کلام شروع ہوتا ہے اور ہوائیں چلانا اور ان سے بادلوں کا اٹھانا پھر بادلوں کو بلد میت یعنی خشک شہر یا زمین کی طرف روانہ کرکے مینہ برسانا اور اس کو شاداب کردینا اپنے عجائبِ قدرت ذکر فرما کر اس کو قیامت برپا کرنے کا نمونہ بتلاتا ہے، چند وجوہ سے اول یہ کہ جس طرح وہ مردہ زمین نے اپنے قابل حیات قبول کرلی، اسی طرح اعضاء بھی قبول کریں گے۔ دوم یہ کہ جو قادر مطلق ہو اسے ابر کو جمع کرلیتا ہے اسی طرح اعضائِ انسانیہ کو بھی۔ سوم یہ کہ اسی طرح سے ہم روح کو جسم کی طرف رواں کریں گے۔
مشرکین اپنے بتوں کو اس لیے بھی پوجتے ہیں کہ عزت و حرمت حاصل ہو، یعنی ہر…
Read the full tafseer →وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمْ اَزْوَاجًا ط وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلاَ تَضَعُ اِلاَّ بِعِلْمِہٖ ط وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍوَّلاَ یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِہٖٓ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ (فاطر : 11)
(اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے بنا دیے اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے، مگر اس کے علم سے، کسی عمر والے کی عمر نہ زیادہ کی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے، یہ سب اللہ کے لیے آسان ہے۔ )
شرک کے ایک اور عامل کی تردید
مشرکینِ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مرنے کے بعد قیامت کے دن جی اٹھنے کی دوسری دلیل۔
اس آیت سے دو آیات پہلے ” بعث بعد الموت “ کو بارش اور مردہ زمین سے تشبیہ دی گئی ہے یہاں انسان کی مرحلہ وارتخلیق کے حوالہ سے انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ مرنے کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرنے والو ! ذرا اپنی تخلیق پر غور کرو کہ جس ” اللہ “ نے تمہیں پیدا کیا ہے وہی تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھائے گا اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا ہے پھر نطفے کو تمہاری تخلیق کا ذریعہ بنایا، پھر تمہارے درمیان میاں بیوی کا ناطہ جوڑا۔ کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ خالق ہے اور عمرکا کم زیادہ ہونا اسی کے اختیار میں ہے :
1 1: وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ (اور اللہ تعالیٰ نے ہی تمہیں پیدا کیا) یعنی تمہارے باپ کو مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ (مٹی سے پھر) تمہیں پیدا کیا مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمْ اَزْوَاجًا (نطفہ سے پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنایا) ازواجًا کا معنی اصناف ہے یا مذکر ومؤنث وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلَاتَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ (اور کسی عورت کو حمل نہیں رہتا اور نہ وہ جنتی ہے مگر سب اس کی اطلاع سے) بعلمہؔ یہ موضع حال میں ہے ای الا معلومۃ لہ مگر کہ اس کو معلوم ہے۔ وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ (اور نہ کسی کی عمر زیادہ کی جاتی ہے) ۔ یعنی وما یعمر…
Read the full tafseer →11، واللہ خلقکم من تراب، آدم علیہ السلام، ثم من نطفۃ، اس کی نسل ، ثم جعلکم ازواجا، مذکرہوں یا مؤت ۔ ، وماتحمل من انثی ولا تضع الا بعلملہ وبعملہ وما یعمرمن معمر، اور نہ ہی ان کی عمر طویل تھی۔ ، ولا ینقص من عمرہ، نہ ہی ان کی عمر سے کم کیا جائے گا۔ ، الا فی کتاب، مگر اس کا اندراج (پہلے سے) لوح محفوظ میں ہوتا ہے یا کراما کاتبین کے اعمال ناموں میں اس کا اندراج ہوتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا ام الکتب (یعنی لوح محفوظ) میں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں شخص کی عمر اتنے سال ہوگی ، پھر اس کے نیچے لکھا ہوتا ہے ایک دن گزر گیا ، دودن گزرگئے ، تین دن گزرگئے۔ اسی طرح پوری عمر کے دن لکھے ہوئے ہوتے ہیں اور اس طرح عمر…
Read the full tafseer →11۔ اس آیت میں آدم اور اولاد آدم کی پیدائش کا ذکر فرما کر منکرین حشر کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ جو صاحب قدرت پانی جیسی پتلی چیز سے اولاد آدم کا پتلا بنادینے پر قادر ہے جس قدرت کو رات دن یہ لوگ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں تو پھر حشر کے دن آدم کے پتلے کی طرح مٹی سے تمام اولاد آدم کے پتلے بنا دینا اور ان میں پیٹ کے بچوں کی طرح روحول کا پھونک دینا اس کی قدرت سے کیوں کر باہر ہوسکتا ہے الابوداؤد ترمذی صحیح ابن حبان کے حوالہ 2 ؎ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے (2 ؎ مشکوۃ باب الایمان بالقدر فصل دوسری مع تنیقح الرواۃ) کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لیے تمام زمین کی مٹی لی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ آدمی کی تخلیق یعنی مٹی سے لے کر نطفے اور بعد کے مراحل میں اس کے منتقل ہونے کا تذکرہ فرماتا ہے۔ (ثم جعلکم ازواجاً ) ” پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنادیا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتا رہا حتی کہ تم مرد اور عورت نکاح کے مرحلے میں داخل ہوگئے۔ یہاں نکاح اور ازدواج سے مراد اولاد اور ذریت ہے۔ نکاح اگرچہ حصول اولاد کا سبب ہے، تاہم یہ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر اور اس کے علم سے مقرون ہے۔ (وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ) ” اور جو بھی مادہ حاملہ ہوتی ہے یا بچہ جنتی ہے تو اللہ کو اس کا علم ہوتا ہے۔ “ اسی طرح آدمی کی تخلیق کے مختلف ادوار اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →ہر ایک کی زندگی کا وقت اللہ نے مقرر کر رکھا ہے
قول باری ہے (وما یعمر من معمرو لا ینقص من عمرہ الا فی کتاب۔ اور نہ کسی کی عمر زیادہ کی جاتی ہے اور نہ کم کی جاتی ہے مگر یہ سب لوح محفوظ میں ہے) حسن اور ضحاک سے مروی ہے کہ کسی کی عمر نہ کم کی جاتی ہے اور نہ کسی اور شخص کی عمر میں اضافہ کیا جاتا ہے مگر یہ سب لوح محفوظ میں ہے۔
شعبی کا قول ہے کہ (لا ینقص من عمرہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ” ایک شخص کی عمر میں ہر وقت ہر گھڑی جو کمی آتی جاتی ہے اس کا علم اللہ کو ہوتا ہے۔ “ عمر اس مدت کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنی ہر مخلوق کے لئے لکھ دیتا ہے اس لئے اوقات اور زمانے کے گزرنے کے ساتھ عمروں میں جو کمی آتی ہے اس…
Read the full tafseer →26 خود اپنی جانوں میں دعوت غور و فکر : سو اس سے کفر و شرک کی تردید کے خود اپنی جانوں میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ سو کفر و شرک اور دوسرے توہمات کی تردید کے خود اپنی جانوں میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ ہی نے پیدا فرمایا تم سب کو ۔ اے لوگو !۔ مٹی سے کہ ایک تو تمہارے جدِّ امجد حضرت آدم کو مٹی سے پیدا فرمایا گیا اور دوسرے جس خوراک سے تمہارا مادئہ تولید بنتا ہے وہ بھی اسی مٹی سے حاصل ہوتی ہے۔ تو اس طرح بھی بالواسطہ تمہاری تخلیق و پیدائش اسی مٹی سے ہوتی ہے۔ اب دیکھو کہاں یہ بےحس اور بےجان مٹی اور کہاں اس سے وجود پذیر ہونے والا اور بننے والا یہ انسان، جس کو اشرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
اللہ کی قدرتیں اور اس کا نظام
تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، طاقت اور عظمت کو دلیلوں سے ثابت کیا گیا ہے سب سے پہلے ہواؤں کا ذکر ہے۔ ہوا ہر قسم کی مخلوقات کے لیے بےحد ضروری ہے۔ کیا حیوانات، نباتات یا جمادات ہوں سب کی بقاء (زندگی) کے لیے ہوا اتنی ہی ضروری ہے جنتی کہ پانی، خوراک اور روشنی ہے۔ ہوا کے ذریعے پانی کا بندوسبت ہوتا ہے جو مردہ اور خشک زمین کو دوبارہ زندہ کردیتا ہے۔ زمین سر سبز ہوجاتی ہے اور انسان و حیوان کے لیے چارہ اور خوراک اگنے لگتا ہے۔
اب ہواؤں کے عمل کو ذرا وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔ سورج کی کرنیں ہر اس جگہ سے پانی بھاپ بنا کر اوپر اڑانے لگتی ہیں۔ یہ بھاپ اتنی بلندی پر چلی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 8 تا 14:
اسرار و معارف :
کچھ لوگ جب اللہ سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان پر اللہ کا یہ غضب ہوتا ہے کہ ان کی سوچ الٹ جاتی ہے اور انہیں برائی کے کام بھلے لگنے لگتے ہیں اور یوں وہ کرتے چلے جاتے ہیں اور جس کو اللہ چاہتا ہے یعنی جس کے دل میں اللہ سے ہدایت کی طلب پیدا ہوجائے اسے ہدایت عطا فرما دیتا ہے لہذا آپ ان کی گمراہی کے دکھ کو اس قدر شدت سے محسوس نہ کیجیے کہ یہ ان کا اپنا انتخاب کردہ راستہ ہے اور اللہ ان کے کردار اور قلبی ارادوں تک سے خوب واقف ہے۔ سبحان اللہ جس رسول رحمتکو کفار کا کفر پہ رہنا دکھی کردیتا ہے اسے مسلمانوں کا کفار کے سے اعمال کرنا کس قدر دکھ پہنچاتا ہوگا۔ اللہ ہمیں…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی ہر شخص کی عمر میں جو کمی یا زیادتی وہ اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے فیصلہ کے مطابق ہوتی ہے۔ احادیث میں ہے کہ دعا صدقہ اور صلہ رحمی سے رزق اور عمر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ پس ان روایات سے دوسری احادیث کی عموم میں تخصیص کی جائے گی جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رزق و عمر اور سعادت و شقاوت ماں کے رحم میں لکھے جاتے ہیں اور پھر ان میں کمی بیشی اور تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ ( قرطبی، شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(35:11) من تراب۔ مٹی سے۔ اصل بعید کی طرف اشارہ ہے یعنی اولیں حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا۔ اور من نطفۃ اصل قریب کی طرف اشارہ ہے (یعنی حضرت آدم کے بعد نسل انسانی کو) ۔ ازواجا۔ جوڑے۔
ما تحمل مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ حمل (باب ضرب) سے مصدر وہ نہیں اٹھاتی ہے وہ حمل سے نہیں ہوتی۔ وہ حمل نہیں اٹھاتی۔ وہ حاملہ نہیں ہوتی۔
ولا تضع اور نہ جنتی ہے ۔ وائو عاطفہ تضع مضارع منفی واحد مؤنث غائب اور نہ بچہ جنتی ہے وضع باب فتح سے مصدر جس کے معنی ہیں رکھنے اور ڈالدینے یا عورت کے بچہ جننے کے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے کہ : قالت رب انی وضعتہا انثی (3:36) اس نے (حضرت مریم نے ) کہا اے میرے پروردگار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 14۔ ۔ نطفۃ ( نطفہ ، پانی کی حقیر بوند) انثی (عورت) لا تصنع (پیدا نہیں کرتی ، جنم نہیں دیتی) یعمر ( وہ عمر کو بڑھاتا ہے) لا ینقص ( وہ کمی نہیں کرتا) یسیر ( آسان کرتا ہے) لا یستوی (برابر نہیں ہے) عذب فرات (میٹھا پانی ، پیاس بجھانے والا) سائغ (خوش گوار) شراب ( پینے کی چیز) ملح ( کھارا ، نمکین) اجاج ( کڑوا) طری ( تازہ) حلیۃ ( زیور) تلبسون ( تم پہنتے ہو) مواخر ( پانی پھاڑنے والا) یولج ( داخل کرتا ہے) مسمی (مقرر مدت ، متعین) قطمیر (چھلکا ، کھجور کی گٹھلی پر لگی جھلی) یا ینبی (وہ جبر نہیں دیتا) خبیر ( بہت خبر رکھنے والا ، نگہبان)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 14 :۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →صفات باری تعالی۔
(ف 1) اس آیت میں آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکرفرماکرمنکرین حشر کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ جو صاحب قدرت پانی جیسی پتلی چیز سے اولاد آدم کا پتلابنادینے پر قادر ہے جس قدرت کو رات دن یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں پھر حشر کے دن آدم کے پتلے کی طرح متی سے تمام اولاد آدم کے پتلے بنادینا اور ان میں پیٹ کے بچوں کی طرح روحوں کا پھونک دینا اس کی قدرت سے کیونکر باہرہوسکتا ہے۔ اسی کو فرمایا کہ اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر پانی کی بوند یعنی نطفہ سے پھر تمہارے لیے مرد اور عورت کے جوڑے بنادیے پھر فرمایا کہ کوئی عورت ایسی نہیں کہ اس کو حمل ہو یا وہ جنے اور خدا کو اس کے حمل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
[8] یعنی روزی۔
Read the full tafseer →کتاب فطرت
3: قرآن حکیم کو تمام مذہبی کتابوں پر فضیلت حاصل ہے ۔ کہ اس میں مظاہر قدرت کا کثرت سے بیان ہے ۔ اس میں انسانی توجہ کو براہ راست فطرت کے عجائبات کی طرف مبذول کیا گیا ہے اور فکروکاوش پر زور دیا گیا ہے ۔ یہ کتاب انسان کو اس کی کوتاہی نظر پر متنبہ کرتی ہے ۔ اور بتلاتی ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ علوم وغر ائب کا حامل ہے ۔ اور اس لائق ہے ۔ کہ گہری نظر سے اسے دیکھا جائے ۔ قرآن جس مذہب کو پیش کرتا ہے ۔ وہ بالکل سادہ اور فرط کے اصولوں کے قطعاً مطابق ہے ۔ اس میں منطقی اشکال و صورت سے بحث نہیں کی گئی ۔ بلکہ نیچرکے سادہ سہل اور جمیل اصول بیان کئے گئے ہیں اس کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے ۔ کہ اللہ کا علم…
Read the full tafseer →(11) اور اللہ تعالیٰ نے تم کو یعنی تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نسل انسانی اور آدم کی اولاد کو نطفہ سے پیدا کیا پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا یعنی نر و مادہ کو پیدا کیا اور بغیر علم الٰہی کے نہ کوئی مادہ حمل کو اٹھاتی ہے اور نہ حمل کو جنتی ہے اور نہ کسی بڑے عمر والے کی عمر مقرر کی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم مقرر کی جاتی ہے مگر یہ سب کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے بلاشبہ یہ کام اللہ پر آسان ہے۔
یعنی کسی عورت کو حمل ٹھہرنا اور کسی کا وضع حمل ہونا اس سب کی اس کو اطلاع ہوتی ہے بلکہ حمل کے گھٹنے بڑھنے کا بھی اس کو علم ہوتا ہے جیسا کہ سورة رعد میں گزر چکا ہے اور کسی عمر کا زیادہ ہونا یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 7۔ یعنی کچھ مذکر کچھ مونث بنائے۔
8۔ یعنی اس کو پہلے سے سب کی خبر ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →نشانات آفاق سے نشانات انفس کی طرف مضمون کو منتقل کرکے استدلال کیا جارہا ہے
11 ۔ ” اور اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا “ ظاہر ہے کہ یہ انسان کی پہلی پیدائش کی طرف اشارہ ہے جو توالد وتناسل کے ضابطہ سے مستثنیٰ تھی اس پیدائش میں کتنے انسان پیدا ہوئے ؟ خواہ وہ کتنے ہوں بہرحال وہ پیدائش اول ایک ہی سلسلہ تخلیق رکھنے کے باعث ایک ہی قسم کی پیدائش تصور کی جائے گی جس کے ہادی ورہنما کو آدم سے موسوم کیا گیا اور اس پیدائش میں مرد و عورت دونوں کا ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ ایک جنس کی دواصناف ہیں اور دونوں الگ الگ ہوں تو کسی ایک کی بھی انسانیت کی تکمیل نہیں ہوتی اور دونوں کے ملنے سے دونوں ہی کی انسانیت کی تکمیل…
Read the full tafseer →The sense of the verse: وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ (And no aged person is made to advance in age, nor a part is curtailed from his age, but all this is (recorded) in a book - 35:11), according to the majority of the commentators is that if Allah Ta’ ala blesses a person with a long age, it is a fact already on record in the Preserved Tablet (al-lawh al-mahfuz). Similarly, when the age of a certain person is kept at a lower mark in terms of the number of years, that too already stands recorded in al-lawh al-mahfuz. The outcome of it all is…
Read the full tafseer →23 From here again the discourse is directed to the common people.
24 That is, man in the first instance was created from the dust directly, then his race was perpetuated through the sperm-drop.
25 That is, "It is pre-ordained for everyone who is born in this world how long he will live. If a person lives a long life, he dces so by Allah's decree, and if another one lives a short life, he too lives so by Allah's decree. Some ignorant people give the argument that in the past the death-rate of the newly-born children used to be high, and now it has been checked by the advancement of the…
Read the full tafseer →