قدرت الٰہی۔
مختلف قسم کی چیزوں کی پیدائش کو بیان فرما کر اپنی زبردست قدرت کو ثابت کر رہا ہے۔ دو قسم کے دریا پیدا کردیئے ایک کا تو صاف ستھرا میٹھا اور عمدہ پانی جو آبادیوں میں جنگلوں میں برابر بہہ رہا ہے اور دوسرا ساکن دریا جس کا پانی کھاری اور کڑوا ہے جس میں بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز چل رہے ہیں اور دونوں قسم کے دریا میں سے قسم قسم کی مچھلیاں تم نکالتے ہو اور ترو تازہ گوشت کھاتے رہتے ہیں۔ پھر ان میں سے زیور نکالتے ہو یعنی لو لو اور مرجان۔ یہ کشتیاں برابر پانی کو کاٹتی رہتی ہیں۔ ہواؤں کا مقابلہ کر کے چلتی رہتی ہیں۔ تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرلو تجارتی سفر ان پر طے کرو۔ ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچ…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 27
یعنی ایک وہ ذخیرہ جو سمندروں میں ہے۔ دوسرا وہ ذخیرہ جو دریاؤں، چشموں اور جھیلوں میں ہے۔
سورة فَاطِر 28
یعنی آبی جانوروں کا گوشت۔
سورة فَاطِر 29
یعنی موتی، مونگے، اور بعض دریاؤں سے ہیرے اور سونا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(آیت) ومن کل یاکلون لحما طریا و تسخرجون حلیة تلبسونھا یعنی دریائے شور و شیریں دونوں سے تمہیں تازہ گوشت کھانے کو ملتا ہے، مراد اس سے مچھلی ہے۔ اس آیت میں مچھلی کو گوشت کے لفظ سے تعبیر کرنے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ مچھلی خود بخود حلال گوشت ہی اس کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں۔ بخلاف دوسرے بڑی جانوروں کے کہ جب تک ان کو اللہ کے نام پر ذبح نہ کرو وہ حلال نہیں۔ مچھلی میں شرط نہیں اس لئے وہ بنا بنایا گوشت ہے اور حلیہ کے معنی زیور کے ہیں، مراد اس سے موتی ہیں۔ آیت سے معلوم ہوا کہ موتی جس طرح دریائے شور میں پیدا ہوتے ہیں شیریں دریاؤں میں بھی ہوتے ہیں جو عام شہرت کے خلاف ہے کیونکہ معروف و مشہور یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 12۔ 13
یہ ایک دوسرے پہلو سے شرک اور شرکاء کی تردید فرمائی گئی۔ اس کائنات میں اضداد کا جو تصادم ہے یہ بھی شرک کے نہایت اہم عوامل میں سے ہے۔ قرآن نے مختلف پہلوئوں سے اس کی تردید فرمائی ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آرہے ہیں۔ یہاں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں اضداد کا وجود اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کے اندر مختلف ارادے کارفرما ہیں اس لئے کہ اس کے اضداد ظاہری تضاد کے ساتھ ساتھ نہایت گہری سازگاری بھی پائی جاتی ہے جس سے اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ کوئی بالاتر اور ہمہ گیر وہمہ جہت قوت قاہرہ ان تمام اضداد پر حاوی ہے جو ان کو اپنی حکمت کے تحت اس کائنات کی مجموعی بہبود کے لئے استعمال کر رہی…
Read the full tafseer →12۔ 1 مواخر وہ کشتیاں جو آتے جاتے پانی کو چیرتی ہوئی گزر جاتی ہیں۔ اس کی وضاحت سورة فرقان میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
5: جیسا کہ پہلے کئی بار عرض کیا جا چکا ہے، اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی اصطلاح ہے جس سے مراد تجارت وغیرہ کے ذریعے روزی کمانا ہے۔ اس اصطلاح میں اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کو جو روزی ملتی ہے، ظاہری اعتبار سے انسان اسے اپنی قوت بازو کا کرشمہ سمجھتا ہے، لیکن درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اگر یہ شامل حال نہ ہو تو کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →وما یستوی البحرن۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (12) پانی کی تخلیق میں انواع و اقسام واضح ہیں۔ اور اس تقسیم کے پیچھے جو خدمت ہے وہ بھی واضح ہے۔ میٹھے پانی کا استعمال تو واضح ہے۔ رات اور ان ہم اسے استعمال کرتے ہیں۔ ہر قسم کی زندگی تو پانی پر موقوف ہے اور پانی زندگی کا اہم عنصر ہے۔ رہا کڑوا پانی مثلاً سمندر اور بڑے سمندر تو اس کے بارے میں بعض سائنس دانوں نے عجیب معلومات دی ہیں اور بتایا ہے کہ اس کی تخلیق میں کس قدر گہری انجینئرنگ کار فرما ہے۔
اور اب رات اور دن کے منظر پر یہ کائناتی سفر ختم ہوتا ہے ۔ شمس و قمر کی تسخیر جو اللہ کے وسیع کائناتی نظام کا ایک حصہ ہے
” لاکھوں سالوں سے زمین مختلف قسم کے گیس چھوڑتی…
Read the full tafseer →7 اوپر سے دلائل توحید اور شواہد قدرت بیان ہوتے آرہے ہیں۔ اسی کے ضمن میں لطیف اشارے اسلام کے غلبہ کی طرف بھی ہوتے جاتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی کفر اور اسلام برابر نہیں۔ خدا کفر کو مغلوب ہی کرے گا اگرچہ تم کو دونوں سے فائدہ ملے گا۔ مسلمانوں سے قوت دین اور کافروں سے جزیہ خراج اور گوشت میٹھے کھاری دونوں دریاؤں سے نکلتا ہے یعنی مچھلی۔ اور گہنا (زیور) یعنی موتی، مونگا اور جواہر اکثر کھاری سے نکلتے ہیں۔ "
8 اکثر بڑی بڑی تجارتیں جہازوں کے ذریعے ہوتی ہیں۔ ان سے جو منافع حاصل ہو یہ ہی اللہ کا فضل ہے۔ ان تمام انعامات پر انسان کو چاہیے مالک کا شکر ادا کرے۔
Read the full tafseer →آیت 12 { وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِق } ”اور دو سمندر ایک جیسے نہیں ہیں“
{ ہٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَہٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ} ”یہ میٹھا ہے فرحت بخش ‘ اس کا پینا خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے سخت کڑوا۔“
{ وَمِنْ کُلٍّ تَاْکُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا } ”اور ان سب سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت“
دونوں طرح کے سمندروں سے تم لوگ مچھلیاں شکار کر کے کھاتے ہو۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کھاری سمندر کی مچھلیوں کا گوشت کڑوا ہو اور میٹھے پانی کی مچھلیاں کھانے میں خوش ذائقہ ہوں۔
{ وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَہَاج } ”اور دونوں سے ہی تم نکالتے ہو زیورات جنہیں تم پہنتے ہو۔“
{ وَتَرَی الْفُلْکَ فِیْہِ…
Read the full tafseer →18 میٹھا پانی اور کھاری پانی اور ان کے مشترکہ فوائد :۔ دریاؤں، چشموں اور جھیلوں کا پانی عموماً میٹھا ہوتا ہے اور سمندروں کا پانی کھاری اور کڑوا۔ پہلی قسم کا پانی زندگی بخش ہے۔ اور دوسری قسم کا پانی پینا تو درکنار اس سے انسان نہا بھی نہیں سکتا۔ گویا پانی ہی دو قسموں میں بٹ گیا۔ اور کبھی کبھی ان دونوں قسم کے پانیوں کے دریا ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ مگر ان کے درمیان کچھ ایسا پردہ حائل ہوتا ہے کہ یہ آپس میں ملنے نہیں دیتا یہ تو ایک الگ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے یہاں یہ بتایا جارہا ہے کہ زندگی بخش اور حیات افزا پانی کا ذخیرہ اور کڑوے کسیلے پانی کا ذخیرہ دونوں ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ تاہم کچھ فوائد ایسے ہیں…
Read the full tafseer →23۔ (مچھلیوں کا) (آیت) ” ومن کل “۔ کھانے والی مچھلیاں، نمکین وتلخ سمندر، اور شیریں وخوش ذائقہ دریاؤں سب میں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ (آیت) ” البحرن “۔ دونوں قسم کے پانیوں پر حاشیے پہلے گزر چکے۔
24۔ (آیت) ” حلیۃ “۔ یا زیور سے اس سیاق میں مراد موتی اور مونگا وغیرہ ہیں۔ جو انسانی لباس، زیور آرائش وغیرہ کے کام میں آتے ہیں۔ اے اللؤلؤ والمرجان (روح) والمراد اللالی والیواقیت (بیضاوی)
25۔ آیت میں ایک طرف تو دنیا کے نظام الہی کی وحدت، تنظیم ومنافع بخشی سے صانع کی توحید اور کمال قدرت اور کمال صنعت اور صفت نعمت بخشی پر استدلال ہے، اور دوسری طرف صاف ترغیب مل رہی ہے بحری تجارت کی۔ وہ تجارت جو آج بیسویں صدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
آیت نمبر 8 تا 14
ترجمہ : (آئندہ) آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیا وہ شخص کہ جس کے سامنے اس کے برے عمل کو تلبیس کے ذریعہ مزین کرکے پیش کیا گیا پھر وہ اس کو نیک عمل سمجھنے لگا (اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کو اللہ نے ہدایت دی ہو ؟ نہیں ہوسکتا) مَنْ مبتداء ہے اور اس کی خبر کَمَنْ ھدَاہُ ہے (اس حذف خبر پر) فاِنّ اللہ یُضَلُّ مَنْ یشَاءُ (الآیۃ) دال ہے، یقین مانو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو آپ ان پر یعنی ان لوگوں پر کہ جن کے (اعمال بد) ان کے لئے مزین کردیئے گئے ہیں، اتنا غم نہ کیجئے، کہ ان کی اس بات پر غم کی وجہ سے کہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان ہی…
Read the full tafseer →وما یستوی البحرٰن ھذا عذب فرات سائغ شرابہ وھذا ملح اجاج اور دونوں سمندر برابر نہیں
ہیں (بلکہ) ایک تو شیریں ہے پیاس بجھانے والا ‘ جس کا پینا خوشگوار ہے اور دوسرا شور و تلخ ہے۔
فُرَاتٌ بہت شیریں۔ بعض نے ترجمہ کیا : پیاس بجھانے والا۔
سَاءِغٌ آسانی سے حلق میں اتر جانے والا۔ اُجَاجٌ سخت نمکین۔ بعض نے اس کا ترجمہ کیا : اتنا نمکین کی حلق کو جلا دے۔
یہ مؤمن و کافر کی مثال ہے۔ اس آیت میں اللہ کی قدرت کاملہ کا بیان کیا گیا ہے کہ ایک ہی جنس سے اللہ نے مختلف الخواص دو چیزیں پیدا کی ہیں۔
ومن کل تاکلون لحما طریا . اور تم ہر ایک سمندر سے (نکال کر) تازہ گوشت (یعنی مچھلیاں) کھاتے ہو۔
یہ جملہ یا تو دونوں…
Read the full tafseer →اور شیریں اور کھاری دونوں دریا ایک جیسے نہیں ہوسکتے بلکہ ان میں ایک تو شیریں پیاس بجھانے والا ہے جس کا پینا بھی آسان ہے اور ایک شور و تلخ ہے جو حلق سے نیچے بھی نہیں اترتا اور تم ان میں سے ہر ہر ایک دریا سے تازہ مچھلیاں نکال کر کھاتے ہو اور خاص طور سے تلخ شور دریا سے موتی اور جواہرات نکال کر ان کے زیورات پہنتے ہو اور تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ سمندر میں ہوا سے آتی جاتی اور پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں۔ تاکہ ان کے ذریعے سے اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم اس کی نعمتوں کا شکر کرا۔
Read the full tafseer →وَمَا يَسْتَوِي الْبَحْرٰنِ۔۔ : موت کے بعد زندگی کے لیے بارش کے ساتھ مردہ زمین کو زندہ کرنے کی مثال اور دوسری مثالوں کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت کے مزید دلائل کا بیان فرمایا۔ ان میں سے ایک دلیل میٹھے دریاؤں اور نمکین سمندروں کا بظاہر ایک ہونے اور کئی منافع میں ایک جیسا ہونے کے باوجود کئی چیزوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہونا ہے۔ عذب فرات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة فرقان (53) اور باقی آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نحل (14)۔
Read the full tafseer →اس کے چار مسائل ہیں :
مسلہ نمبر 1 ۔ حضرت ابن عباس نے کہا : فرات کا معنی میٹھا ہے اور اجاج کا معنی کڑوا ہے۔ طلحہ نے قراءت کی آیت : ہذاملح اجاج میم پر فتحہ اور لام کے نیچے کسرہ ہے الف نہیں ہے۔ جہاں تک ملح کا تعلق ہے وہ وہ ہوتا ہے جس میں نمک ڈالا جاتا ہے عیسٰی اور ابن ابی اسحاق نے۔ آیت : سیغ شرابہ قراءت کی ہے جس طرح سید اور میت ہے۔ آیت : ومن کل تا کلون لحما طریا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ : گوشت (مچھلی) ان دونوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اس بارے میں گفتگو سورة النحل میں گزر چکی ہے۔
مسلہ نمبر 2 ۔ آیت : وتستخر جون حلیۃ تلبسو نھا ابو اسحاق کا مذہب یہ ہے کہ زیور نمکین سمندر سے نکالا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب پانی پیتے تو (یہ دعا) پڑھتے تھے۔
الحمد اللہ الذی جعلہ عذبا فراتا برحمتہ ولم یجلعہ ملحا اجاجا بذنوبنا :
ترجمہ : سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے جس نے اس کو میٹھا اور پیاس بجھانے والا بنایا اپنی رحمت کے ساتھ اور ہمارے گناہوں کی وجہ سے اس کو نمکین اور کھاری نہیں بنایا۔
میٹھے اور کھارا پانی کا سمندر ساتھ ساتھ :
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یستوی البحرن، ھذا عذب فرات سآ ئغ وھذا ملح اجاج “ (اور دو دریا برابر نہیں ہیں یہ میٹھا ہے پیاس بجھانے والا اور…
Read the full tafseer →وَمَا يَسْتَوِي [اور برابر نہیں ہوتے ] الْبَحْرٰنِ ڰ [دونوں سمندر ] ھٰذَا [یہ ] عَذْبٌ [میٹھا ہے ] فُرَاتٌ [نہایت شیریں ہے ] سَاۗىِٕــغٌ [خوشگوار ہے ] شَرَابُهٗ [اس کا پینا ] وَھٰذَا [اور یہ ] مِلْحٌ [کھاری ہے ] اُجَاجٌ ۭ [نہایت کڑوا ہے ] وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ [اور ہر ایک میں سے تم لوگ کھاتے ہو ] لَحـْـمًا طَرِيًّا [کچھ تازہ گوشت ] وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ [اور نکالتے ہو ] حِلْيَةً [ایک ایسا زیور ] تَلْبَسُوْنَهَا ۚ [تم لوگ پہنتے ہو جس کو ] وَتَرَى الْفُلْكَ [اور تو دیکھتا ہے کشتیوں کو ] فِيْهِ [اس میں ] مَوَاخِرَ [پانی چیر نے والیاں ہوتے ہوئے ] لِتَبْتَغُوْا [تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] مِنْ…
Read the full tafseer →سمندر کے سفر کے فوائد اور چاند سورج کی تسخیر کا بیان، مشرکین کو تنبیہ کہ تمہارے معبود گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں
سمندر بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے بعض سمندر میٹھے پانی کے ہیں ان کا پانی پیؤ تو خوب میٹھا اور شیریں ہوتا ہے جو پیاس کو بجھاتا ہے اور اس کا پانی بھی آسانی کے ساتھ گلے میں اتر جاتا ہے اور بعض سمندر ایسے ہیں کہ ان کا پانی بہت زیادہ نمکین اور شور ہے وہ پیا ہی نہیں جاسکتا نہ گلے سے اترتا ہے نہ اس سے پیاس بجھتی ہے۔ بعض دریاؤں میں شیرینی اور مٹھاس اور بعض میں یہ نمکینی اور کڑوا پن سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے ہے، دونوں سمندر برابر نہیں اور میٹھے سمندر کا میٹھا پن اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ذکر دلیل آخر برتوحید وامکان حشر ونشر و اثبات قضاء قدر
قال اللہ تعالی۔ واللہ خلقکم من تراب۔۔۔ الی۔۔۔ ولا ینبئک مثل خبیر۔
اب آئندہ آیات میں امکان حشر ونشر پر ایک اور دلیل ذکر کرتے ہیں جو توحید کی بھی دلیل ہے۔ اوپر کی آیتوں میں دلائل آفاق کا ذکر تھا اب ان آیات میں دلائل انفس کا ذکر کرتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ص 33 ج 7) اور اللہ ہی نے پہلے تم کو یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر تم کو نطفہ سے پیدا کیا پھر تم کو جوڑا جوڑا بنایا یعنی مردو عورت بنایا جس سے باہم جفت ہوتے ہو اور کسی کو مرد بنانا اور کسی کو عورت بنانا حالانکہ مادہ دونوں کا ایک ہے یہ بھی اس کی قدرت کی دلیل ہے اور نہیں…
Read the full tafseer →18:۔ وما یستوی الخ : یہ چھٹی عقلی دلیل ہے۔ یہ بھی اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے کہ ایک دریا کا پانی نہایت میٹھھا اور خوشگوار بنا دیا اور دوسرے کا نہایت بد مزہ اور کھاری اور دونوں میں مچھلیاں پرورش پاتی ہیں۔ لیکن ان کا گوشت یکساں طور پر لذیذ ہوتا ہے اور دونوں سے جواہرات نکلتے ہیں جو زینت و آرائش کے کام آتے ہیں۔ اور دونوں میں کشتیاں پانی کو چیرتی ہوئی سفر کرتی ہیں۔ جن میں تم ایک جگہ سے دوسری جگہ مال تجارت کو منتقل کر کے نفع کماتے ہو یہ سب کچھ اللہ کی مہربانی اور اس کا فضل و احسان ہے تاکہ تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ اس کی عبادت کرو اور اس کی توحید پر ایمان لاؤ۔ تعرفون حقوقہ تعالیٰ فتقومون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
گزشتہ آیات میں نیک و بدانسانوں کا ذکر ہوا ہے۔ پھر اللہ کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلائل بیان ہوئے۔ اللہ نے مشرکوں کے متعلق فرمایا کہ وہ غیر اللہ سے عزت کے طلب گار ہیں حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس کے بعد اللہ نے پاکیزہ کلمات کا ذکر کیا کہ وہ بارگاہ رب العزت میں پیش ہوتے ہیں اور اگ ان کو نیک اعمال کی تائید بھی حاصل ہو تو وہ مزید تقویت کا باعث باتی ہے۔ نیک عمل کو پاکیزہ کلمہ اوپر اٹھاتا ہے اور اس کی مقبولیت اس وقت ہوتی ہے جب اس کی تہہ میں ایمان اور توحید ہو۔ اللہ نے کافروں کے متعلق فرمایا کہ ان کے لیے شدید عذاب ہے اور ان کی ہر تدبیر ناکام ہوگی۔
تخلیق انسانی کے مراحل
اب…
Read the full tafseer →وَمَا يَسْتَوِي الْبَحْرٰنِ 0 ۤۖ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَاۗىِٕــغٌ شَرَابُہٗ وَھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ 0 ۭ وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَۃً تَلْبَسُوْنَہَا 0 ۚ وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْہِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 12
استوا
أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6]
( س و ی ) المسا واۃ
کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے
بحر
أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء…
Read the full tafseer →ترکیب : سائغ علی فاعل شرابہ مرفوع لاعتمادہ علی ماقبلہ لتبتغوا اللام متعلقہ، بمواخر ویجوزان یتعلق بمادل علیہ الافعال المذکورۃ یولج جملۃ مستانفۃ ذلکم مبتداء اللہ خبرہ ربکم خبرثان لہ الملک الجملۃ خبر ثالث والذین مبتداء مایملکون خبر من قطمیر بیان لمفعول مایملکون ای لایملکون شیئا من قطمیر۔
تفسیر : مایستوی البحران یہاں سے ان دونوں شخصوں کی تمثیل بیان کرتا ہے، یعنی اس کی کہ جس کو شیطان نے اندھا کیا، بلکہ برعکس میں کردیا اور اس کی جو سیدھے رستہ پر چلا جاتا ہے کہ جس طرح شیریں اور کھاری دریا برابر نہیں گو دونوں میں سے تازہ گوشت مچھلیاں اور زیور پہننے کا موتی اور مونگا نکالتے ہیں اور ہر ایک میں کشتیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ صلے ق ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ط وَمِنْ کُلٍّ تَاْکُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّاوَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا ج وَتَرَی الْفُلْکَ فِیْہِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ لا وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ صلے ز کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّـکُمْ لَـہُ الْمُلْکُ ط وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَایَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ ۔ (فاطر : 12، 13)
(اور دونوں دریا یکساں نہیں ہیں، ایک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا تعارف کرواتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو ہوائیں چلاتا اور بارش برساتا ہے، وہی عزت کا مالک ہے اور اسی نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر ایک نطفے سے انسان کی تخلیق کا سلسلہ شروع فرمایا۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ ہی سمندر کے میٹھے اور کڑوے پانی کو اکٹھا چلانے والا ہے۔ وہ اپنی قدرتوں اور نعمتوں کا اس لیے تذکرہ کرتا ہے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا کہ کیا کفار نے غور نہیں کیا کہ زمین و آسمان باہم ملے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا اور اسی نے ہر زندہ چیز پانی سے پیدا فرمائی۔ کیا پھر بھی…
Read the full tafseer →قدرت کا ایک اور نمونہ :
12: وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ ھٰذَا (اور دونوں دریا برابر نہیں) ھذایہاں احدھما کے معنی میں ہے ان دونوں میں سے ایک عَذْبٌ فُرَاتٌ (ایک تو میٹھا) نہایت شیریں ایک قول یہ ہے وہ جو پیاس کو بجھا دے۔ سَآ ئِغٌ شَرَابُہٗ (خوشگوار اس کا پینا) مٹھاس کی وجہ سے حلق سے جلد نیچے اترنے والا، اسی لئے اس کا پینا اچھا ہے۔ وَھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ (اور ایک شور تلخ ہے) نہایت نمکین ایک قول یہ ہے جو اپنی نمکینی سے جلا ڈالے۔ وَمِنْ کُلٍ (ان میں ہر ایک سے) تَاْ کُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا (تم تازہ گوشت کھاتے ہو وہ مچھلی ہے) ۔ وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا (اور اس سے زیور نکالتے…
Read the full tafseer →تفسیر 12، وما یستوی البحران ، میٹھا اور شور ملح والا پانی ۔ ، ھذاعذب فرات، پاکیز ہ، سائغ شراب ، آسانی سے حلق سے اترجانے والا۔ ، وھذاملح اجاج ، اتنا تمکین کہ حلق کو جلادے ۔ ضحاک نے اس کا ترجمہ کڑواہوں نے سے کیا ہے۔
، ومن کل تاکلون لحما طریا، اور ان دونوں سمندروں کی مچھلیاں کھاتے ہو۔ ، وتستخرجون حلیۃ ، نمکین اور میٹھی ۔ ، تلبسونھا، اس سے مراد موتی ہیں۔ شیریں سمند رسے موتی نکالتے ہیں کڑوے سمندر سے بھی ۔ ، وتری الفلک فیہ مواخر، آتے جاتے وقت کشتیاں پانی کو پھاڑتی ہیں، ایک ہی ہوا کے ساتھ ۔ ، لتبتغوامن فضلہ ، تجارت کے ذریعے سے۔ ، ولعلکم تشکرون، اس کی نعمتوں پر اللہ کا شکرادا کرے۔
Read the full tafseer →12۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے آدم اور ادلاد آدم کو کیوں کر پیدا کیا اس آیت میں قدرت کی یہ نشانی بیان فرمائی کہ زمین کے اوپر اللہ عتالیٰ نے دوسرح کے دریا پیدا کئے ہیں ایک دریا شیریں ہے پیاس کو بجھاتا ہے اور دوسرا دریا نہایت کھاری کڑوا ہے جو حلق کو جلا دیتا ہے اسی طرح زمین کے اندر کا حال ہے کہ کھودنے سے کہیں میٹھا پانی نکالتا ہے کہیں کھاری لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان دونوں کے بیچ میں آڑ رکھ دی ہے چناچہ اس کا ذکر سورة الفرقان میں گزرا پھر فرمایا کہ تم دونوں دریاؤں میں سے کھاتے ہوتا زہ گوشت اس سے مقصود مچھلی ہے اور نکالتے ہو زیور جیسے تم پہنتے ہو زیور سے مراد اس سے موتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ آدمی کی تخلیق یعنی مٹی سے لے کر نطفے اور بعد کے مراحل میں اس کے منتقل ہونے کا تذکرہ فرماتا ہے۔ (ثم جعلکم ازواجاً ) ” پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنادیا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتا رہا حتی کہ تم مرد اور عورت نکاح کے مرحلے میں داخل ہوگئے۔ یہاں نکاح اور ازدواج سے مراد اولاد اور ذریت ہے۔ نکاح اگرچہ حصول اولاد کا سبب ہے، تاہم یہ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر اور اس کے علم سے مقرون ہے۔ (وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ) ” اور جو بھی مادہ حاملہ ہوتی ہے یا بچہ جنتی ہے تو اللہ کو اس کا علم ہوتا ہے۔ “ اسی طرح آدمی کی تخلیق کے مختلف ادوار اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–27
حانث نہ ہونے کی صورتیں
قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔
کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →31 شرک کی تردید اضداد میں سازگاری کے پہلو سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " باہم برابر نہیں ہوسکتے پانی کے دو عظیم الشان ذخیرے "۔ ان میں سے ایک میٹھا، پیاس بجھانے والا جو خوشگوار۔ اور لذیذ۔ ہے پینے میں اور دوسرا سخت کھاری حلق چھیل دینے والا۔ اور ان میں سے ہر ایک سے تم لوگ تازہ گوشت حاصل کرتے ہو۔ یعنی مچھلی۔ جسے ذبح کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لئے اسے لحم فرمایا گیا کہ وہ تو بنا بنایا اور تیار و تازہ گوشت ہے ۔ والحمد للہ رب العلمین ۔ سو میٹھے اور کھاری پانی دونوں کے یہ عظیم الشان ذخیرے جو اپنی ظاہری صفات و خصوصیات کی بنا پر ایک دوسرے سے یکسر مختلف اور اس کی ضد ہیں۔ دونوں برابر موجود ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
اللہ کی قدرتیں اور جھوٹے معبودوں کی بےبسی
تشریح : ان آیات میں بھی اللہ رب العزت کی نعمتوں اور رحمتوں کا ذکر دوبارہ کیا گیا ہے۔ قدرت کے بہترین شاہکار یعنی (1) میٹھے اور کھاری پانی کا ایک ساتھ بہنا اور آپس میں مکس نہ ہونا اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ (2) پانی کی یہ خاصیت کہ وہ کشتیوں کو انسانوں اور مال سمیت لیکر تیرتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں مدد کرتا ہے اور یہ نقل و حمل کا ایک سستا ذریعہ ہے۔ (3) رات اور دن کا باری باری آنا۔ انسان کے لیے بہترین نعمت ہے۔ یہ بہترین طبیعیاتی نظام ہے۔ جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے (4) کائنات کے نظام کا قیام اس قدر حیرت انگیز ہے کہ انسان حیران ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 8 تا 14:
اسرار و معارف :
کچھ لوگ جب اللہ سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان پر اللہ کا یہ غضب ہوتا ہے کہ ان کی سوچ الٹ جاتی ہے اور انہیں برائی کے کام بھلے لگنے لگتے ہیں اور یوں وہ کرتے چلے جاتے ہیں اور جس کو اللہ چاہتا ہے یعنی جس کے دل میں اللہ سے ہدایت کی طلب پیدا ہوجائے اسے ہدایت عطا فرما دیتا ہے لہذا آپ ان کی گمراہی کے دکھ کو اس قدر شدت سے محسوس نہ کیجیے کہ یہ ان کا اپنا انتخاب کردہ راستہ ہے اور اللہ ان کے کردار اور قلبی ارادوں تک سے خوب واقف ہے۔ سبحان اللہ جس رسول رحمتکو کفار کا کفر پہ رہنا دکھی کردیتا ہے اسے مسلمانوں کا کفار کے سے اعمال کرنا کس قدر دکھ پہنچاتا ہوگا۔ اللہ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 3 یعنی دن کی روشنی آہستہ آہستہ گھنٹی شروع ہوتی ہے اور رات کی تاریکی بڑھتے بڑھتے آخر کارپوری طرح چھا جاتی ہے۔ وبالعکس (دیکھئے آل عمران آیت 26) اشارہ ہے کہ رات دن کی طرح کبھی کفر غالب ہے کبھی اسلام اور سورج چاند کی طرح ہر چیز کی مدت بندھی ہے دیر سویر نہیں ہوتی۔ ( موضح)4 یعنی کوئی معمولی سے معمولی اختیار بھی نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →(35:12) یستوی۔ مضارع واحد مذکر غائب استواء مصدر (افتعال) سے ما یستوی وہ برابر نہیں ہے۔
البحران۔ البحرین (دو بحر) البحر۔ الماء الکثیر ملحا کان او عذبا یعنی پانی کی کثیر مقدار اور وسیع ذخیرہ ۔ خواہ وہ نمکین ہو یا شیریں۔ بحر کو بحر کہنے کی وجہ انہوں نے یہ لکھی ہے کہ اس میں وسعت اور انبساط کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسے کوئی شخص بہت سخی ہو تو اسے کہتے انہ لبحر۔ کہ وہ تو بحر ہے۔ یہ درست ہے کہ عام طور پر بحر کا اطلاق سمندر پر ہوتا ہے لیکن میٹھے پانی کے ذخیرہ کو بھی اہل عرب بحر کہتے۔ ھذا۔ یہ ایک پانی۔ ان دونوں میں سے یہ ایک !
عذب۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بہت شیریں۔ بہت میٹھا ۔ عذوبۃ سے جس کے معنی پانی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 14۔ ۔ نطفۃ ( نطفہ ، پانی کی حقیر بوند) انثی (عورت) لا تصنع (پیدا نہیں کرتی ، جنم نہیں دیتی) یعمر ( وہ عمر کو بڑھاتا ہے) لا ینقص ( وہ کمی نہیں کرتا) یسیر ( آسان کرتا ہے) لا یستوی (برابر نہیں ہے) عذب فرات (میٹھا پانی ، پیاس بجھانے والا) سائغ (خوش گوار) شراب ( پینے کی چیز) ملح ( کھارا ، نمکین) اجاج ( کڑوا) طری ( تازہ) حلیۃ ( زیور) تلبسون ( تم پہنتے ہو) مواخر ( پانی پھاڑنے والا) یولج ( داخل کرتا ہے) مسمی (مقرر مدت ، متعین) قطمیر (چھلکا ، کھجور کی گٹھلی پر لگی جھلی) یا ینبی (وہ جبر نہیں دیتا) خبیر ( بہت خبر رکھنے والا ، نگہبان)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 14 :۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں قدرت کی یہ نشانی فرمائی کہ زمین کے اوپر اللہ تعالیٰ نے دوطرح کے دریا پیدا کیے ہیں ایک دریا توشیریں ہے پیاس کو بجھاتا ہے ۔ اور دوسرا دریانہایت کھاری کڑوا ہے جو حلق کو جلادیتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان دونوں کے بیچ میں آڑ رکھ دی ہے چناچہ اس کا ذکر سورة فرقان میں گزرا پھر فرمایا کہ تم دونوں دریاؤں میں سے تازہ گوشت مچھلیاں کھاتے ہو اور پہننے کا زیور موتی اور مونگا نکالتے ہو آگے فرمایا کیہ سمندر میں جہاز چلتے ہیں اور چھوٹے دریاؤں میں کشتیاں چلتی ہیں جس میں تجارت کا مال ادھر سے ادھر جاکربکتا ہے جس کے سبب سے لوگوں کو بڑا فائدہ ہوتا ہے اور اس لیے کہ تم شکر کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
[8] یعنی روزی۔
Read the full tafseer →ف 1: پھر تم ان دونوں میں سے اپنے لئے تازہ گوشت مہیا کرتے ہو ۔ اور ان کی گہرائیوں میں سے قیمتی موتی نکالتے ہو ۔ اور اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ تم دریا میں کشتیاں چلاتے ہو ۔ جس کی وجہ سے تم دور دور تک تجارت کا مال لے جاتے ہو ۔ اور کسب معاش کرتے ہو ۔ یہ نعمتیں اللہ نے اس لئے پیدا کی ہیں ۔ تاکہ تم اس کی شکر گزاری کرو ۔ مفسرین کی رائے ہے ۔ کہ ان دو دریاؤں سے مراد مومن اور کافر ہے ۔ مومن تہہ فائدہ ہوتا ہے ۔ شیریں ہوتا ہے ۔ پیاس بجھاتا ہے ۔ اور دوسرے مسلمان کے لئے وجہ تسکین ہوتا ہے ۔ اور کافر سراپا مضرت ، کڑوا اور کھاری ۔
حل لغات :۔ حلیۃ ۔ یعنی وہ موتی جن کو بطور زیور کے استعمال کیا جاتا ہے فضلہ ۔…
Read the full tafseer →(12) اور دونوں دریا اپنی کیفیت میں برابر نہیں ہیں اور دونوں مساوی نہیں ہیں ایک تو شیریں اور میٹھا ہے پیاس بجھاتا ہے اس کا پینا خوشگوار ہے اور یہ دوسرا کھاری اور سخت کڑوا ہے تم ہر ایک میں تازہ گوشت کھاتے ہو اور زینت کا وہ سامان بھی نکالتے ہو جس کو تم پہنتے ہو۔
اور اے مخاطب تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ وہ دونوں میں سے ہر ایک میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں۔ یہ اس لئے تاکہ اللہ تعالیٰ کا فضل یعنی اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا احسان مانو دو دریائوں کا ذکر فرمایا ایک کھاری اور دوسرا میٹھا یا تو ان دونوں کے علیحدہ رہنے کی صورت میں ان کی کیفیت کا بیان ہے یا مل کر بہنے کی حالت کا تذکرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 7۔ یعنی کچھ مذکر کچھ مونث بنائے۔
8۔ یعنی اس کو پہلے سے سب کی خبر ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →غور کرو کہ میٹھا اور ٹھنڈا ، کھاری اور کڑوا کبھی برابر ہوتے ہیں ؟
12 ۔ غور کرو کہ پانی کے دو طرح کے ذخائر پائے جاتے ہیں ایک وہ ذخیرہ ہے جو ٹھنڈا اور میٹھا ہے اور ایک وہ ہے جو کھاری اور کڑوا ہے اور دونوں ذخائر کا ملاحظہ زمین کے اندر بھی کیا جاسکتا ہے او سمندر کے اندر بھی۔ زمین کے اندر کی مثال ہمارے ان ہینڈ پمپز Hend Pumps سے دی جاسکتی ہے کہ ایک جگہ نل لگایا تو پانی کھاری اور کڑوا نکل آیا اور قریب ہی دوسری جگہ لگایا تو پانی میٹھا اور ٹھنڈا دستیاب ہوگیا حالانکہ دونوں کی گہرائی ایک ہی ہے اس میں بھی کوئی کمی بیشی نہیں کی گئی اور سمندر میں دونوں طرح کے پانی مشاہدہ کیے جاچکے ہیں جو دور تک ساتھ ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
In the next verse: وَمِن كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُونَ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا (And from each, you eat fresh meat, and derive ornaments that you wear - 35:12), it is being said that one gets fresh meat, that is, fish to eat from both waters, sweet or brackish. In this verse, by alluding to fish as meat, the hint released is that fish is meat, already halal by itself. One does not have to slaughter it. This is contrary to the case of the animals found on land. Unless one slaughters them with the name of Allah, they do not become halal. Fish does not have this…
Read the full tafseer →27 That is, the body of water in the oceans, and the body of water in the rivers and springs and lakes.
28 "Fresh flesh": Flesh of water animals.
29 That is pearls and corals and, in some rivers, diamonds and gold.
Read the full tafseer →