Explained with ayahs 13–14
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے رات کو اندھیرے والی اور دن کو روشنی والا بنایا ہے۔ کبھی کی راتیں بڑی کبھی کے دن بڑے۔ کبھی دونوں یکساں۔ کبھی جاڑے ہیں کبھی گرمیاں ہیں۔ اسی نے سورج اور چاند کو تھمے ہوئے اور چلتے پھرتے ستاروں کو مطیع کر رکھا ہے۔ مقدار معین پر اللہ کی طرف سے مقرر شدہ چال پر چلتے رہتے ہیں۔ پوری قدرتوں والے اور کامل علم والے اللہ نے یہ نظام قائم کر رکھا ہے جو برابر چل رہا ہے اور وقت مقررہ یعنی قیامت تک یونہی جاری رہے گا۔ جس اللہ نے یہ سب کیا ہے وہی دراصل لائق عبادت ہے اور وہی سب کا پالنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں۔ جن بتوں کو اور اللہ کے سوا…
Read the full tafseer →سورة فَاطِر 30
یعنی دن کی روشنی آہستہ آہستہ گھٹنی شروع ہوتی ہے اور رات کی تاریکی بڑھتے بڑھتے آخر کار پوری طرح چھا جاتی ہے۔ اسی طرح رات کے آخر میں پہلے افق پر ہلکی سے روشنی نمودار ہوتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ روز روشن نکل آتا ہے۔
سورة فَاطِر 31
ایک ضابطہ کا پابند بنا رکھا ہے۔
سورة فَاطِر 32
اصل میں لفظ قِطْمِیْر استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد وہ پتلی سی جھلی ہے جو کھجور کی گٹھلی پر ہوتے ہے۔ لیکن اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ مشرکین کے معبود کسی حقیر سے حقیر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ اسی لیے ہم نے لفظی ترجمہ چھوڑ کر مرادی ترجمہ کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(آیت) ومن کل یاکلون لحما طریا و تسخرجون حلیة تلبسونھا یعنی دریائے شور و شیریں دونوں سے تمہیں تازہ گوشت کھانے کو ملتا ہے، مراد اس سے مچھلی ہے۔ اس آیت میں مچھلی کو گوشت کے لفظ سے تعبیر کرنے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ مچھلی خود بخود حلال گوشت ہی اس کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں۔ بخلاف دوسرے بڑی جانوروں کے کہ جب تک ان کو اللہ کے نام پر ذبح نہ کرو وہ حلال نہیں۔ مچھلی میں شرط نہیں اس لئے وہ بنا بنایا گوشت ہے اور حلیہ کے معنی زیور کے ہیں، مراد اس سے موتی ہیں۔ آیت سے معلوم ہوا کہ موتی جس طرح دریائے شور میں پیدا ہوتے ہیں شیریں دریاؤں میں بھی ہوتے ہیں جو عام شہرت کے خلاف ہے کیونکہ معروف و مشہور یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 12۔ 13
یہ ایک دوسرے پہلو سے شرک اور شرکاء کی تردید فرمائی گئی۔ اس کائنات میں اضداد کا جو تصادم ہے یہ بھی شرک کے نہایت اہم عوامل میں سے ہے۔ قرآن نے مختلف پہلوئوں سے اس کی تردید فرمائی ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آرہے ہیں۔ یہاں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں اضداد کا وجود اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کے اندر مختلف ارادے کارفرما ہیں اس لئے کہ اس کے اضداد ظاہری تضاد کے ساتھ ساتھ نہایت گہری سازگاری بھی پائی جاتی ہے جس سے اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ کوئی بالاتر اور ہمہ گیر وہمہ جہت قوت قاہرہ ان تمام اضداد پر حاوی ہے جو ان کو اپنی حکمت کے تحت اس کائنات کی مجموعی بہبود کے لئے استعمال کر رہی…
Read the full tafseer →13۔ 1 یعنی مذکورہ تمام افعال کا فاعل ہے۔
13۔ 2 یعنی اتنی حقیر چیز کے بھی مالک نہیں نہ اسے پیدا کرنے پر ہی قادر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
5: جیسا کہ پہلے کئی بار عرض کیا جا چکا ہے، اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی اصطلاح ہے جس سے مراد تجارت وغیرہ کے ذریعے روزی کمانا ہے۔ اس اصطلاح میں اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کو جو روزی ملتی ہے، ظاہری اعتبار سے انسان اسے اپنی قوت بازو کا کرشمہ سمجھتا ہے، لیکن درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اگر یہ شامل حال نہ ہو تو کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
یولج الیل ۔۔۔۔۔ لاجل مسمی ”
رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں ۔ یہ نہایت ہی خوبصورت مناظر ہیں۔ جب رات دن میں داخل ہوتی ہے تو روشنی آہستہ آہستہ مدہم پڑتی ہے اور تاریکی دھیرے دھیرے چھاتی ہے۔ غروب کے بعد پھر تاریکی گہری ہوتی جاتی ہے اور رات کے اندر دن کے داخل ہونے کا منظر بھی بہت ہی دلچسپ ہے۔ سفیدہ صبح آہستہ آہستہ نمودار ہوتا ہے ، روشنی پھیلتی جاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ غائب ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ روشنی نمودار ہوتی ہے اور خوب پھیل جاتی ہے۔ یعنی رات دن کو پوری طرح کھا جاتی ہے اور دن رات کو کھا جاتا ہے۔ دونوں اوقات میں دل کو خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے اور دونوں اوقات میں انسان…
Read the full tafseer →9 یہ مضمون پہلے کئی جگہ گزر چکا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی رات دن کی طرح کبھی کفر غالب ہے کبھی اسلام۔ اور سورج چاند کی طرح ہر چیز کی مدت بندھی ہے۔ دیر سویر نہیں ہوتی۔ " حق کا نمایاں غلبہ اپنے وقت پر ہوگا۔
1 یعنی جس کی صفات و شؤن اوپر بیان ہوئی حقیقت میں یہ ہے تمہارا سچا پروردگار اور کل زمین و آسمان کا بادشاہ۔ باقی جنہیں تم خدا قرار دے کر پکارتے ہو۔ وہ مسکین بادشاہ تو کیا ہوتے کھجور کی گٹھلی پر جو باریک جھلی سی ہوتی ہے اس کے بھی مالک نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 13 { یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ لا } ”وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں“
{ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَز } ”اور اس نے مسخر کیا ہے سورج اور چاند کو۔“
{ کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی } ”ہرچیز چل رہی ہے ایک معین ّوقت تک۔“
{ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ } ”یہ اللہ ہے تمہارا ربّ ! ُ کل بادشاہی اسی کی ہے۔“
{ وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ } ”اور جنہیں تم پکارتے ہو اس کے سوا ‘ وہ ایک ذرّہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔“
عرب میں کھجور عام پائی جاتی تھی بلکہ یہ ان کی بنیادی…
Read the full tafseer →19 دن اور رات کے نظام میں تدریج :۔ یعنی جب سورج نکلنے کے قریب ہوتا ہے تو سب سے پہلے روشنی کی ایک لکیر آسمان پر نمودار ہوتی ہے یہ دن کا آغاز ہے۔ پھر یہ روشنی پھیلنا شروع ہوجاتی ہے۔ اور ہر چیز نظر آنے لگتی ہے پھر سورج نکلتا ہے تو روشنی میں اور اضافہ ہوجاتا ہے حتیٰ کہ دوپہر ہونے تک اس کی روشنی بڑھتی ہی جاتی ہے اور اس میں حرارت اور شدت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے پھر زوال کا وقت شروع ہوتا ہے تو اسی طرح بتدریج گرمی میں اور روشنی میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ حتیٰ کہ غروب آفتاب کے کچھ عرصہ بعد روشنی ختم ہوجاتی ہے تو اس کی جگہ تاریکی بڑھنے لگتی ہے اور یہ سب کچھ اس طرح آہستہ آہستہ اور تدریج کے ساتھ واقع ہوتا…
Read the full tafseer →26۔ (پھرکیس حماقت ہے کہ توحید کے ساتھ شرک کو کسی درجہ میں بھی شریک و شامل کرلیاجائے) (آیت) ” من قطمیر “۔ محاورۂ عرب میں اس کے وہی معنی ہیں۔ جو ہماری زبان میں ” ذرہ بھر “ ” رتی برابر “۔ کے ہوتے ہیں۔ (آیت) ” یولج ..... القمر “۔ یہ روز روشن اور یہ شب تار، یہ گرم آفتاب اور یہ خنک ماہتاب قدرت کے اتنے بڑے بڑے عظیم الشان مظاہر، ان میں سے کون اپنی جگہ پر آزاد وخود مختار ہے ؟ سب کے سب اللہ ہی کی مشیت تکوینی کی زنجیروں میں جکرے ہوئے ہیں۔ مشرک جاہلی قوموں نے سورج اور چاند اور رات اور دن، سب کو معبود سمجھا ہے۔ ابتدائی پاروں میں اس پر بار بار حاشیے گزر چکے۔ قرآن مجید اس مصلحت و ضرورت سے بار بار ان چیزوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
آیت نمبر 8 تا 14
ترجمہ : (آئندہ) آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیا وہ شخص کہ جس کے سامنے اس کے برے عمل کو تلبیس کے ذریعہ مزین کرکے پیش کیا گیا پھر وہ اس کو نیک عمل سمجھنے لگا (اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کو اللہ نے ہدایت دی ہو ؟ نہیں ہوسکتا) مَنْ مبتداء ہے اور اس کی خبر کَمَنْ ھدَاہُ ہے (اس حذف خبر پر) فاِنّ اللہ یُضَلُّ مَنْ یشَاءُ (الآیۃ) دال ہے، یقین مانو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو آپ ان پر یعنی ان لوگوں پر کہ جن کے (اعمال بد) ان کے لئے مزین کردیئے گئے ہیں، اتنا غم نہ کیجئے، کہ ان کی اس بات پر غم کی وجہ سے کہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان ہی…
Read the full tafseer →یولج الیل فی النھار ویولج النہار فی الیل . وہ (موسم گرما میں) رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور (موسم سرما میں) دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ یعنی دن کو بڑھاتا اور رات کو گھٹاتا ہے اور رات کو بڑھاتا ‘ دن کو گھٹاتا ہے۔
وسخر الشمس والقمر کل یجر لاجل مسمی . اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے ‘ ہر ایک مقررہ مدت تک چلتا رہے گا۔ یعنی آسمان میں چلتا رہے گا۔
لِاَجَلٍ مُسَمًّی اس سے مراد یا دورے کی مدت ہے یا دورے کی انتہا یا قیامت کا دن۔ قیامت ہونے پر ان کی رفتار ختم ہوجائے گی۔
ذلکم اللہ برکم لہ الملک . یہی (جس نے یہ تمام اشیاء بنائی ہیں) اللہ ہے جو تمہارا رب ہے ‘ اسی کا ملک ہے۔
یعنی اللہ ہی…
Read the full tafseer →وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے جس کی وجہ سے چند گھنٹے دن رات سے بڑا ہوجاتا ہے اور دن کے اجزاء رات میں داخل کرتا ہے جس سے چند گھنٹے رات لمبی ہوجاتی ہے اور اس نے چاند و سورج کی روشنی کو انسانوں کے کام میں لگا رکھا ہے۔ چاند، سورج، رات اور دن میں سے ہر ایک وقت مقررہ تک اپنی منزلوں میں چلتے رہیں گے۔ یہی اللہ جس کی یہ شان ہے تمہارا پروردگار ہے وہی یہ تمام کام کرتا ہے یہ جھوٹے معبود کچھ بھی نہیں کرسکتے اسی کے قبضہ قدرت میں تمام خزانے ہیں اور جن کی تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ پوجا کرتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (27) ، حج (61) اور سورة لقمان (29)۔
كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى : یعنی یہ سب قیامت کے دن تک چل رہے ہیں، جب قیامت آئے گی تو ان کا چلنا موقوف ہوجائے گا اور یہ نظام باقی نہیں رہے گا۔
وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ۔۔ :”قِطْمِيْرٍ“ کھجور کی گٹھلی پر باریک سے چھلکے کو کہتے ہیں، یعنی جس کی صفات اوپر بیان ہوئی ہیں حقیقت میں یہ ہے تمہارا سچا پروردگار، جو اکیلا زمین و آسمان کا بادشاہ ہے اور جنھیں تم حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہو وہ بےچارے بادشاہ تو کیا ہوں گے، کھجور کی…
Read the full tafseer →” وہ داخل کرتا ہے (کبھی) رات (کے ایک حصہ) کو دن میں اور (کبھی) داخل کرتا ہے دن (کے ایک حصہ) کو رات میں اور اس نے پابند حکم کردیا ہے سورج اور چاند کو، ہر ایک رواں ہے مقررہ میعاد تک، یہ ہے اللہ جو تمہارا رب ہیاسی ساری بادشاہی ہے، اور وہ (بت) جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا وہ تو گٹھلی کے چھلکے کے بھی۔ تک نہیں “۔
آیت : یو لج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل سورة آل عمران اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ آیت : وسحر الشمس والقمر کل یجری لا جل مسمی سورة لقمان میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ آیت : ذلکم اللہ ربکم لنا لملک جس کی یہ کاریگری ہے وہی خالق ہے مدبر ہے، قادر ہے اور مقتدر ہے…
Read the full tafseer →5:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مایملکون من قطمیر “ (جن کو تم اللہ کو چھو کر پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں) قطمیر سے مراد ہے چھلکا اور دوسرے لفظ میں وہ جلد مراد ہے جو گٹھلی کی پیٹھ پر ہوتی ہے۔
6:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” من قطمیر “ کے بارے میں بتائیے کہ اس سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے سفید جھلی جو گٹھلی پر ہوتی ہے پھر پوچھا کی عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے امیہ بن…
Read the full tafseer →[يُوْلِجُ الَّيْلَ : وہ گھساتا ہے رات کو ] فِي النَّهَارِ [دن میں ] وَيُوْلِجُ النَّهَارَ [اور وہ گھساتا ہے دن کو ] فِي الَّيْلِ ۙ [رات میں ] وَسَخَّرَ [اور اس نے مسخر کیا ] الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ڮ [سورج کو اور چاند کو ] كُلٌّ يَّجْرِيْ [ہر ایک رواں دواں ہے ] لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ [خاتمے کے ایک مقررہ وقت کے لئے ] ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [یہ اللہ ] رَبُّكُمْ [تم لوگوں کا رب ہے ] لَهُ [اس کے لئے ہی ہے ] الْمُلْكُ ۭ [کل بادشاہت ] وَالَّذِيْنَ [اور وہ لوگ جن کو ] تَدْعُوْنَ [تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِهٖ [اس کے علاوہ ] مَا يَمْلِكُوْنَ [وہ اختیار نہیں رکھتے ] مِنْ قِطْمِيْرٍ [کھجور کی گٹھلی پر جھلی…
Read the full tafseer →پھر فرمایا اللہ دن میں رات کو اور رات میں دن کو داخل فرماتا ہے، کبھی یہ کم ہو کر وہ بڑھ جاتا ہے اور کبھی وہ کم ہوتا ہے تو یہ بڑھ جاتا ہے، اور چاند اور سورج کو بھی اس نے مسخر فرمایا ہے یعنی ہر ایک کو اس سے متعلقہ کام میں لگا دیا ہے، ان کی روزانہ کی جو حرکات مقرر فرمائی ہیں اور ان کے لیے جو مدار معین فرمایا ہے وہ اس کے خلاف نہیں چل سکتے۔
ان کی یہ رفتار (اَجَلٍ مُّسَمًّی) یعنی مقررہ مدت تک اسی طرح جاری رہے گی جس طرح اللہ نے مقرر فرما دی اور مقررہ مدت سے یوم قیامت مراد ہے۔
(ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ ) یہ ذات پاک جس کی مخلوقات اور مصنوعات کا اوپر تذکرہ ہوا یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ذکر دلیل آخر برتوحید وامکان حشر ونشر و اثبات قضاء قدر
قال اللہ تعالی۔ واللہ خلقکم من تراب۔۔۔ الی۔۔۔ ولا ینبئک مثل خبیر۔
اب آئندہ آیات میں امکان حشر ونشر پر ایک اور دلیل ذکر کرتے ہیں جو توحید کی بھی دلیل ہے۔ اوپر کی آیتوں میں دلائل آفاق کا ذکر تھا اب ان آیات میں دلائل انفس کا ذکر کرتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ص 33 ج 7) اور اللہ ہی نے پہلے تم کو یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر تم کو نطفہ سے پیدا کیا پھر تم کو جوڑا جوڑا بنایا یعنی مردو عورت بنایا جس سے باہم جفت ہوتے ہو اور کسی کو مرد بنانا اور کسی کو عورت بنانا حالانکہ مادہ دونوں کا ایک ہے یہ بھی اس کی قدرت کی دلیل ہے اور نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
19:۔ یولج الیل الخ : یہ ساتویں عقلی دلیل ہے۔ رات دن کی آمد و رفت اور سورج اور چاند دوسرے لفظوں میں سارا نظام کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور اس میں تنہا وہی متصرف و مختار ہے لہذا وہی سب کا کارساز ہے۔ ذلک اللہ : یہ گذشتہ تمام دلائل پر متفرع ہے۔ یعنی جو ذات پاک مذکورہ بالا تمام صفات سے متصف ہے وہی اللہ تم سب کا مالک ہے اور ساری کائنات میں اسی کی حکومت اور اسی کا اختیار و تصرف ہے اس لیے کارساز اور حاجت روا بھی وہی ہے۔ اور وہی ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے اور وہی دعا اور پکار کے لائق ہے۔
20:۔ والذین تدعون الخ : یہ دلائل سابقہ کا تفصیلی ثمرہ ہے۔ دلائل سابقہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی ساری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
گزشتہ آیات میں نیک و بدانسانوں کا ذکر ہوا ہے۔ پھر اللہ کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلائل بیان ہوئے۔ اللہ نے مشرکوں کے متعلق فرمایا کہ وہ غیر اللہ سے عزت کے طلب گار ہیں حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس کے بعد اللہ نے پاکیزہ کلمات کا ذکر کیا کہ وہ بارگاہ رب العزت میں پیش ہوتے ہیں اور اگ ان کو نیک اعمال کی تائید بھی حاصل ہو تو وہ مزید تقویت کا باعث باتی ہے۔ نیک عمل کو پاکیزہ کلمہ اوپر اٹھاتا ہے اور اس کی مقبولیت اس وقت ہوتی ہے جب اس کی تہہ میں ایمان اور توحید ہو۔ اللہ نے کافروں کے متعلق فرمایا کہ ان کے لیے شدید عذاب ہے اور ان کی ہر تدبیر ناکام ہوگی۔
تخلیق انسانی کے مراحل
اب…
Read the full tafseer →يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَيُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ 0 ۙ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ 0 ۡ ۖ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى 0 ۭ ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ لَہُ الْمُلْكُ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ 1 3ۭ
ولج
الوُلُوجُ : الدّخول في مضیق . قال تعالی: حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ
[ الأعراف/ 40] ، وقوله : يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ
[ الحج/ 61] فتنبيه علی ما ركّب اللہ عزّ وجلّ عليه العالم من زيادة اللیل في النهار، وزیادة النهار في اللیل، وذلک بحسب مطالع الشمس ومغاربها .
( و ل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
یولج الیل الخ یہاں سے اختلاف زمانہ سے اپنے قادر ہونے پر استدلال کرکے یہ فرماتا ہے۔ ذلکم اللہ ربکم یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کے قبضہ میں زمین و آسمان، رات دن ‘ چاند اور سورج ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ والذین تدعون اور جن کو کہ تم اس کے سوا پکارتے ہو، ان کا رب اور خالق ہونا تو درکنار ان کو کچھ بھی اختیار نہیں۔ اے شیطان کے فریب میں ڈالے ہوئو ! تم ان بتوں سے کیا عزت ڈھونڈتے ہو، اول تو ان کو کچھ اختیار ہی نہیں۔ دوم ان تدعوھم لایسمعوا دعاء کم اگر تم ان کو پکارو بھی تو وہ تمہارا پکارنا نہیں سنتے، کس لیے کہ جمادات بےحس و حرکت ہیں۔ سوم ولو سمعوا ما استجابوا لکم اگر فرض کیا جاوے کہ سنتے ہیں تو بھی کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ صلے ق ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ط وَمِنْ کُلٍّ تَاْکُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّاوَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا ج وَتَرَی الْفُلْکَ فِیْہِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَیُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ لا وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ صلے ز کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّـکُمْ لَـہُ الْمُلْکُ ط وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَایَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ ۔ (فاطر : 12، 13)
(اور دونوں دریا یکساں نہیں ہیں، ایک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : میٹھے اور کڑوے پانی، مچھلیوں، کشتیوں اور جو ہرات کے ذکر کے بعد رات اور دن کا ذکر کیونکہ رات اور دن بھی قدرت کی بڑی، بڑی نشانیوں میں سے عظیم نشانی ہیں اور اسی سے ہی زندگی کا نظام ترتیب پاتا ہے۔
قرآن مجید میں کئی بار ذکر ہوا ہے کہ لیل و نہار کی گردش، سورج اور چاند کا آنا جانا ” اللہ “ کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں۔ بنیادی طور پر دن اور رات کا تعلق سورج اور چاند کی گردش کے ساتھ ہے۔ سورج اور چاند کے بارے میں سورة یٰس میں فرمایا ہے کہ نہ سورج چاند کو پاسکتا ہے اور نہ چاند سورج کے ساتھ مل سکتا ہے۔ دونوں اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ رات اور دن کے آنے، جانے میں سورج کا مرکزی…
Read the full tafseer →مظاہرِ قدرت ‘ دن رات کا آنا جانا :
13: یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ ویُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ (وہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے) ۔ ایک کی کچھ گھڑیاں دوسرے میں داخل کردیتا ہے یہاں تک کہ ان میں سے بڑھنے والا پندرہ گھنٹہ سے بڑھ جاتا ہے اور کم ہونے والا نو گھنٹے وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ (اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے) اس نے صورت میں سب سے زیادہ روشن کو سب سے زیادہ بد سیرت کے تابع کردیا۔ کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی (ہر ایک ان میں ایک وقت مقررہ تک چلتے رہیں گے) یعنی قیامت کے دن ان کی چال منقطع ہوجائے گی۔ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ…
Read the full tafseer →13، یولج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل وسخرالشمس والقمر کل یجری لا جل مسمی ذلکم اللہ ربکم لہ الملک والذی تد عون من دونہ ، اللہ کے سوابتوں کو پکار تے ہیں ۔ ، مایملکون من قطمیر، کھجور کی گٹھلی کا چھلکا جو اس پر لپٹا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
13 تا 17۔ یہ ایک اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ گرمی کے موسم میں رات کا کچھ حصہ دن میں ملایا جا کر دن کو بڑا کردیا جاتا ہے اور جاڑے کے موسم میں اسی طرح رات کو بڑھا دیا جاتا ہے پھر فرمایا سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے نفع کے لیے کام میں لگا رکھا کہ ہر ایک چلتا ہے مقدار معین کے ساتھ مدت مقرر تک پھر فرمایا یہ ہے اللہ پروردگار ہے تمہارا جس نے یہ سارے کام کئے ہیں اسی کے واسطے بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ مالک نہیں ایک قطمیر کے ‘ قطمیر چھلکے کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد وغیرہ نے کہا ہے کہ قطمیر وہ چھلکا ہے جو کھجور کی کٹھلی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ آدمی کی تخلیق یعنی مٹی سے لے کر نطفے اور بعد کے مراحل میں اس کے منتقل ہونے کا تذکرہ فرماتا ہے۔ (ثم جعلکم ازواجاً ) ” پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنادیا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتا رہا حتی کہ تم مرد اور عورت نکاح کے مرحلے میں داخل ہوگئے۔ یہاں نکاح اور ازدواج سے مراد اولاد اور ذریت ہے۔ نکاح اگرچہ حصول اولاد کا سبب ہے، تاہم یہ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر اور اس کے علم سے مقرون ہے۔ (وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ) ” اور جو بھی مادہ حاملہ ہوتی ہے یا بچہ جنتی ہے تو اللہ کو اس کا علم ہوتا ہے۔ “ اسی طرح آدمی کی تخلیق کے مختلف ادوار اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–27
حانث نہ ہونے کی صورتیں
قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔
کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →35 رات دن کے ادلنے بدلنے میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا " وہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور دن کو داخل کرتا ہے رات میں "۔ جس سے کبھی رات بڑی کبھی دن اور کبھی اس کے برعکس۔ سو یہ اس کی قدرت کی ایک عظیم نشانی ہے جسے تم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور ہمیشہ دیکھتے ہو۔ لیکن سوچتے اور غور نہیں کرتے کہ یہ کس کی قدرت بےپایاں اور حکمت بےنہایت کا کرشمہ ہے۔ نیز دن رات کی اس آمدورفت اور ادلنے بدلنے میں یہ عظیم الشان اور انقلاب آفریں درس بھی ہے کہ وہ خالق ومالک ہر لحظہ اپنی مخلوق اور اپنی اس عظیم الشان کائنات کی تدبیر فرماتا اور اس کی نگرانی میں لگا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر تم لوگ پھر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
اللہ کی قدرتیں اور جھوٹے معبودوں کی بےبسی
تشریح : ان آیات میں بھی اللہ رب العزت کی نعمتوں اور رحمتوں کا ذکر دوبارہ کیا گیا ہے۔ قدرت کے بہترین شاہکار یعنی (1) میٹھے اور کھاری پانی کا ایک ساتھ بہنا اور آپس میں مکس نہ ہونا اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ (2) پانی کی یہ خاصیت کہ وہ کشتیوں کو انسانوں اور مال سمیت لیکر تیرتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں مدد کرتا ہے اور یہ نقل و حمل کا ایک سستا ذریعہ ہے۔ (3) رات اور دن کا باری باری آنا۔ انسان کے لیے بہترین نعمت ہے۔ یہ بہترین طبیعیاتی نظام ہے۔ جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے (4) کائنات کے نظام کا قیام اس قدر حیرت انگیز ہے کہ انسان حیران ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 8 تا 14:
اسرار و معارف :
کچھ لوگ جب اللہ سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان پر اللہ کا یہ غضب ہوتا ہے کہ ان کی سوچ الٹ جاتی ہے اور انہیں برائی کے کام بھلے لگنے لگتے ہیں اور یوں وہ کرتے چلے جاتے ہیں اور جس کو اللہ چاہتا ہے یعنی جس کے دل میں اللہ سے ہدایت کی طلب پیدا ہوجائے اسے ہدایت عطا فرما دیتا ہے لہذا آپ ان کی گمراہی کے دکھ کو اس قدر شدت سے محسوس نہ کیجیے کہ یہ ان کا اپنا انتخاب کردہ راستہ ہے اور اللہ ان کے کردار اور قلبی ارادوں تک سے خوب واقف ہے۔ سبحان اللہ جس رسول رحمتکو کفار کا کفر پہ رہنا دکھی کردیتا ہے اسے مسلمانوں کا کفار کے سے اعمال کرنا کس قدر دکھ پہنچاتا ہوگا۔ اللہ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 3 یعنی دن کی روشنی آہستہ آہستہ گھنٹی شروع ہوتی ہے اور رات کی تاریکی بڑھتے بڑھتے آخر کارپوری طرح چھا جاتی ہے۔ وبالعکس (دیکھئے آل عمران آیت 26) اشارہ ہے کہ رات دن کی طرح کبھی کفر غالب ہے کبھی اسلام اور سورج چاند کی طرح ہر چیز کی مدت بندھی ہے دیر سویر نہیں ہوتی۔ ( موضح)4 یعنی کوئی معمولی سے معمولی اختیار بھی نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →(35:13) یولج۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ایلاج مصدر (افعال) سے وہ داخل کرتا ہے۔ یجری۔ مضارع واحد مذکر غائب جری وجریان مصدر (باب ضرب) وہ چلتا ہے وہ جاری رہتا ہے۔
اجل مسمی۔ اجل مدت مقررہ۔ موصوف ۔ مسمی اسم مفعول واحد مذکر ۔ تسمیۃ مصدر باب تفعیل۔ مقرر کردہ شدہ۔ صفت۔ اجل مسمی مدت مقررہ۔
ذلکم یہ ۔ یہی۔ اس میں کم ضمیر جمع خطاب کے لئے ہے۔ جو اتنی قدرتوں کا مالک ہے۔ جو اتنی حکمتوں والا ہے، جو اتنا عظیم احسان کرنے والا ہے ۔ اللہ ۔ وہ ہے اللہ۔ ربکم جو تمہارا پروردگار ہے۔ یعنی تمہارا پروردگار اللہ ان مذکوروہ بالا خوبیوں کا مالک ہے۔
تدعون۔ مضارع۔ جمع مذکر (جنہیں) تم پکارتے ہو۔ یعنی جن کی تم پوجا کرتے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 14۔ ۔ نطفۃ ( نطفہ ، پانی کی حقیر بوند) انثی (عورت) لا تصنع (پیدا نہیں کرتی ، جنم نہیں دیتی) یعمر ( وہ عمر کو بڑھاتا ہے) لا ینقص ( وہ کمی نہیں کرتا) یسیر ( آسان کرتا ہے) لا یستوی (برابر نہیں ہے) عذب فرات (میٹھا پانی ، پیاس بجھانے والا) سائغ (خوش گوار) شراب ( پینے کی چیز) ملح ( کھارا ، نمکین) اجاج ( کڑوا) طری ( تازہ) حلیۃ ( زیور) تلبسون ( تم پہنتے ہو) مواخر ( پانی پھاڑنے والا) یولج ( داخل کرتا ہے) مسمی (مقرر مدت ، متعین) قطمیر (چھلکا ، کھجور کی گٹھلی پر لگی جھلی) یا ینبی (وہ جبر نہیں دیتا) خبیر ( بہت خبر رکھنے والا ، نگہبان)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 14 :۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
(ف 1) یہ ایک اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ گرمی کے موسم میں رات کا کچھ حصہ دن میں ملاکردن کو بڑا کردیاجاتا ہے اور جاڑے کے موسم میں اسی طرح رات کو بڑھا دیاجاتا ہے پھر فرمایا کہ سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ نے نفع کے لیے کام میں لگارکھا ہے کہ ہر ایک بندھے ہوئے وقتوں پر چلتا ہے پھر فرمایا کہ یہی اللہ پروردگار ہے تمہارا، جس نے یہ سارے کام کیے ہیں اسی کے واسطے دونوں جہانوں میں بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے، اور اگر تم بتوں کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو بھی نہیں سنتے ، اس لیے کہ وہ پتھر ہی جس میں…
Read the full tafseer →[9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 18 صفحہ 585 اور سورة لقمان حاشیہ 11 صفحہ 977۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 2: یہ فطرت کا تیسرا مظہر ہے ۔ کہ وہ کیونکر رات کا کچھ حصہ گھٹا کر دن میں داخل کردیتا ہے ۔ اور آفات وماہتاب کو کس طرح تمہاری خدمت میں لگا دیتا ہے ان مظاہر کو بیان کرکے فرمایا ۔ کہ خدا وہ ہے جو تمہارا مددگار ہے اور ساری کائنات کا مختار کل ہے ۔ تم جن لوگوں کو پکارتے ہو ۔ اور ان کی پرستش کرتے ہو ۔ وہ دنیا میں ذرہ برابر اختیارات نہیں رکھتے ۔
Read the full tafseer →(13) وہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیا کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو تابع فرمان بنا رکھا ہے اور اس کام میں لگا رکھا ہے ان میں سے ہر ایک سورج اور چاند ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا یہی اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار ہے اسی کی سلطنت اور بادشاہی ہے اس کے سوا جن کو تم پوجتے اور پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔
یعنی رات کے اجزاء دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کے اجزاء رات میں داخل کردیتا ہے۔ دونوں سورج چاند مسخر ہیں اور اس کے تابع فرمان ہیں۔ ایک وقت مقرر سے مراد قیامت ہے کہ قیامت کے دن تک یہ اسی طرح چلتے رہیں گے۔ یہی اللہ…
Read the full tafseer →ف 9۔ جس سے دن اور رات کے گھٹنے بڑہنے کے متعلق منافع حاصل ہوتے ہیں۔
10۔ یعنی یوم قیامت تک۔
Read the full tafseer →دن کو رات اور رات کو دن میں داخل کرنے والا اور ہرچیز کو مسخر کرنے والا اللہ ہی ہے
13 ۔ تمہاری زندگی کی آسائش و آرام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان اجرام فلکی اور سماوی میں کیا کیا تبدیلیاں رکھ دی ہیں کہ کبھی رتا بڑھتی چلی جارہی ہے تو کبھی دن اور کبھی دن گھٹتا جارہا ہے اور کبھی رات ، نہ تو سال بھر کا موسم ایک ہے اور نہ ہی ان اجرام فلکی کے پورے سال کے راستے ایک جیسے ہیں کبھی سورج کا راستہ کچھ ہوتا ہے اور کبھی کچھ بلکہ چاند کو دیکھو تو وہ ہر روز کمہوتا اور بڑھتا تم کو نظرآئے گا ، چاند کی یہ کمی بیشی اور سورج اور چاند کے راستوں کی تبدیلی یہ سارا کچھ خواہ مخواہ نہیں ہے بلکہ ایک خاص نظم وضبط کے تحت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
In the next verse: وَمِن كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُونَ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا (And from each, you eat fresh meat, and derive ornaments that you wear - 35:12), it is being said that one gets fresh meat, that is, fish to eat from both waters, sweet or brackish. In this verse, by alluding to fish as meat, the hint released is that fish is meat, already halal by itself. One does not have to slaughter it. This is contrary to the case of the animals found on land. Unless one slaughters them with the name of Allah, they do not become halal. Fish does not have this…
Read the full tafseer →30 That is, "The light of the day starts diminishing and the darkness of the night increasing gradually so as to cover up everything completely. Likewise, towards the end of the night, in the beginning, a streak of the light appears on the horizon, and then the bright day dawns."
31 "Subjected .." : subjected to a law.
32 The word qitmira in the original means the thin skin that covers the stone of the date-fruit; but what is meant to be said is that the gods of the mushriks do not own anything whatever. That is why we have translated it "a blade of grass", which is an insignificant thing.
Read the full tafseer →