Faatir 35:14

Faatir · from ayah 14

35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ ۚ— وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ ؕ— وَیَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ ؕ— وَلَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ ۟۠اِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡا دُعَآءَكُمۡ‌ ۚ وَلَوۡ سَمِعُوۡا مَا اسۡتَجَابُوۡا لَـكُمۡ ؕ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡكِكُمۡ ؕ وَلَا يُـنَـبِّـئُكَ مِثۡلُ خَبِيۡرٍ

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے۔ اور (خدائے) باخبر کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

If you invoke them, they do not hear your supplication; and if they heard, they would not respond to you. And on the Day of Resurrection they will deny your association. And none can inform you like [one] Acquainted [with all matters].

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 2 of surah · Ruku 14 of juzع

Read the whole surah · Surah Faatir

All translations of 35:14

انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن نہیں سکتے اور سن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبردار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے۔ اور (خدائے) باخبر کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر تم انہیں پکارو تو وه تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے، بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے۔ آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری پکار سنیں گے ہی نہیں، اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکیں گے۔ اور قیامت کے دن وہ خود تمہارے شرک کی تردید کریں گے۔ اور جس ذات کو تمام باتوں کی مکمل خبر ہے اس کی برابر تمہیں کوئی اور صحیح بات نہیں بتائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں، اور بالفرض سن بھی لیں تو تمہاری حاجت روانہ کرسکیں اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک سے منکر ہوں گے اور تجھے کوئی نہ بتائے گا اس بتانے والے کی طرح

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے مشرکو!) اگر تم انہیں پکارو تو وہ (بت ہیں) تمہاری پکار نہیں سُن سکتے اور اگر (بالفرض) وہ سُن لیں تو تمہیں جواب نہیں دے سکتے، اور قیامت کے دن وہ تمہارے شِرک کا بالکل انکار کر دیں گے، اور تجھے خدائے باخبر جیسا کوئی خبردار نہ کرے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمہاری درخواست قبول نہیں کرینگے اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کردیں گے اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے دن تو وہ تمہارے شرک کا انکار ہی کردیں گے۔ اور اللہ خبیر کی طرح آپ کو دوسرا کوئی صحیح خبر نہیں دے سکتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری فریاد نہیں سنیں گے اور اگر سنیں گے بھی تو تمہاری فریاد رسی نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کریں گے۔ اور ایک باخبر کی طرح کوئی دوسرا تمہیں آگاہ نہیں کرسکتا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو وہ تمہاری پکار کا کوئی جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے روز وہ صاف طور پر انکار کردیں گے تمہارے اس شرک کا اور تم کو کوئی خبر نہیں دے سکے گا (حق اور حقیقت کے بارے میں) ایک انتہائی باخبر ہستی کی طرح

— مولانا اسحاق مدنی

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری سنیں گے بھی نہیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہارا کہا نہ کرسکیں اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کرنے ہی سے منکر ہوں گے اور تجھ کو (خدائے) خبیر کا سا کوئی نہ بتائے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنتے اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری دعا قبول نہیں کرسکتے اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے اور نہیں آگاہ کرے گا کوئی بھی آپ کو اس (اللہ) کی طرح جو ہرچیز سے باخبر ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کردیں گے، اور آپ کو ایک پوری خبر رکھنے والے (اللہ) کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If you call upon them, they cannot hear your prayer. And if they hear it, they cannot answer it. On the Day of Resurrection they will disown you for associating others with Allah in His Divinity. No one can inform you of the truth save the All-Aware.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If you call them, they do not hear your call, and even if they were to hear, they would not respond to you. And on the Day of Judgment they will deny your having held them as Allah‘s partners. And none can inform you like Him who is Aware.

— Muhammad Taqi Usmani

If you call them, they do not hear your call, and even if they were to hear, they would not respond to you. And on the Day of Judgment they will deny your having held them as Allah‘s partners. And none can inform you like Him who is Aware.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If you invoke them, they hear your call; and if (in case) they were to hear, they could not grant it to you. And on the Day of Resurrection, they will disown your worshipping them. And none can inform you like Him Who is the All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If ye pray unto them they hear not your prayer, and if they heard they could not grant it you. On the Day of Resurrection they will disown association with you. None can inform you like Him Who is Aware.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If you invoke them, they do not hear your supplication; and if they heard, they would not respond to you. And on the Day of Resurrection they will deny your association. And none can inform you like [one] Acquainted [with all matters].

— Saheeh International

They will not listen to your prayers if you pray to them. Even if they would listen, they would not be able to answer you. On the Day of Judgment they will reject your worship of them. Not even an expert reporter can tell you the truth in the way that God can do.

— Muhammad Sarwar

If you call on them they shall not hear your call, and even if they could hear they shall not answer you; and on the resurrection day they will deny your associating them (with Allah); and none can inform you like the One Who is Aware.

— Muhammad Habib Shakir

If ye call Unto them, they hear not your calling, and even if they heard, they could not answer you. On the Day of Judgment they will deny your associating. And none can declare Unto thee the truth like Him who is Aware.

— Abdul Majid Daryabadi

If ye invoke them, they will not listen to your call, and if they were to listen, they cannot answer your (prayer). On the Day of Judgment they will reject your "Partnership". and none, (O man!) can tell thee (the Truth) like the One Who is acquainted with all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 35:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–14

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے رات کو اندھیرے والی اور دن کو روشنی والا بنایا ہے۔ کبھی کی راتیں بڑی کبھی کے دن بڑے۔ کبھی دونوں یکساں۔ کبھی جاڑے ہیں کبھی گرمیاں ہیں۔ اسی نے سورج اور چاند کو تھمے ہوئے اور چلتے پھرتے ستاروں کو مطیع کر رکھا ہے۔ مقدار معین پر اللہ کی طرف سے مقرر شدہ چال پر چلتے رہتے ہیں۔ پوری قدرتوں والے اور کامل علم والے اللہ نے یہ نظام قائم کر رکھا ہے جو برابر چل رہا ہے اور وقت مقررہ یعنی قیامت تک یونہی جاری رہے گا۔ جس اللہ نے یہ سب کیا ہے وہی دراصل لائق عبادت ہے اور وہی سب کا پالنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں۔ جن بتوں کو اور اللہ کے سوا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة فَاطِر 33 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ تمہاری دعا کے جواب میں پکار کر کہہ نہیں سکتے کہ تمہاری دعا قبول کی گئی یا نہیں کی گئی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہاری درخواستوں پر کوئی کاروائی نہیں کرسکتے۔ ایک شخص اگر اپنی درخواست کسی ایسے شخص کے پاس بھیج دیتا ہے جو حاکم نہیں ہے تو اس کی درخواست رائگاں جاتی ہے، کیونکہ وہ جس کے پاس بھیجی گئی ہے اس کے ہاتھ میں سرے سے کوئی اختیار ہی نہیں ہے، نہ رد کرنے کا اختیار اور نہ قبول کرنے کا اختیار۔ البتہ اگر وہی درخواست اس ہستی کے پاس بھیجی جائے جو واقعی حاکم ہو، تو اس پر لازماً کوئی نہ کوئی کارروائی ہوگی، قطع نظر اس سے کہ وہ قبول کرنے کی شکل میں ہو یا رد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ان تدعوھم لایسمعوا دعاء کم ولوسمعوا ما استجابوالکم یعنی یہ بت یا بعض انبیاء یا فرشتے جن کو تم خدا سمجھ کر پرستش کرتے ہو اگر ان کو مصیبت کے وقت پکارو گے تو اولاً یہ تمہاری بات سن ہی نہ سکیں گے، کیونکہ بتوں میں تو سننے کی صلاحیت ہے ہی نہیں، انبیاء اور فرشتوں میں اگرچہ صلاحیت ہے مگر نہ وہ ہر جگہ موجود ہیں نہ ہر ایک کے کلام کو سنتے ہیں۔ آگے فرمایا کہ اگر بالفرض وہ سن بھی لیں جیسے فرشتے اور انبیاء تو پھر بھی وہ تمہاری درخواست پوری نہ کریں گے۔ کیونکہ ان کو خود قدرت نہیں اور اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس سے کسی کی سفارش نہیں کرسکتے۔ سماع موتی کا مسئلہ جو پہلے گذر چکا ہے اس آیت سے نہ اس کا اثبات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 14 ’ استجاب لہ ‘ کے معنی ہیں اس کا جواب دیا یا اس کی فریاد رسی کی۔ یہ ان کے مزعومہ دیوتائوں کے بےبسی اور بےحقیقی واضح فرمائی ہے کہ اگر تم اپنی کسی مشکل میں ان کو مدد کے لئے پکارو گے تو اول تو وہ تمہاری فریاد سنیں گے نہیں اور سن بھی لیں تو وہ تمہاری کوئی فریاد رسی نہیں کریں گے۔ ان کی یہ بےبسی اس دنیا میں بھی واضح ہے اور آخرت میں یہ مزید ہوجائے گی۔ مشرکین جن چیزوں کو پوجتے تھے اول تو ان کا کوئی مسمی موجودہی نہیں تھا اس وجہ سے ان کے سننے یا فریاد رسی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر کچھ ایسی ہستیوں کو پوجتے تھے جن کا کوئی وجود ہے تو اول تو وہ آخرت میں اپنی بیخبر ی کا اظہار کریں گی کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 یعنی اگر تم انہیں مصائب پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں ہیں، کیونکہ جمادات ہیں پتھر کی مورتیاں۔ 14۔ 2 یعنی اگر بالفرض وہ سن بھی لیں تو بےفائدہ، اس لئے کہ تمہاری التجاؤں کے مطابق تمہارا کام نہیں کرسکتے۔ 14۔ 3 اس لئے کہ اس جیسا کامل علم کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ وہی تمام امور کی حقیقت سے پوری طرح باخبر ہے جس میں ان کے پکارے جانے والوں کی بےاختیاری، پکار کو نہ سننا اور قیامت کے دن اس کا انکار کرنا بھی شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–14

5: جیسا کہ پہلے کئی بار عرض کیا جا چکا ہے، اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی اصطلاح ہے جس سے مراد تجارت وغیرہ کے ذریعے روزی کمانا ہے۔ اس اصطلاح میں اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کو جو روزی ملتی ہے، ظاہری اعتبار سے انسان اسے اپنی قوت بازو کا کرشمہ سمجھتا ہے، لیکن درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اگر یہ شامل حال نہ ہو تو کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–14

یولج الیل ۔۔۔۔۔ لاجل مسمی ” رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں ۔ یہ نہایت ہی خوبصورت مناظر ہیں۔ جب رات دن میں داخل ہوتی ہے تو روشنی آہستہ آہستہ مدہم پڑتی ہے اور تاریکی دھیرے دھیرے چھاتی ہے۔ غروب کے بعد پھر تاریکی گہری ہوتی جاتی ہے اور رات کے اندر دن کے داخل ہونے کا منظر بھی بہت ہی دلچسپ ہے۔ سفیدہ صبح آہستہ آہستہ نمودار ہوتا ہے ، روشنی پھیلتی جاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ غائب ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ روشنی نمودار ہوتی ہے اور خوب پھیل جاتی ہے۔ یعنی رات دن کو پوری طرح کھا جاتی ہے اور دن رات کو کھا جاتا ہے۔ دونوں اوقات میں دل کو خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے اور دونوں اوقات میں انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی جن معبودوں کا سہارا ڈھونڈتے ہو وہ تمہاری پکار نہیں سنتے اور توجہ کرتے بھی تو کچھ کام نہ آسکتے۔ بلکہ قیامت کے دن تمہاری مشرکانہ حرکات سے اعلانیہ بیزاری کا اظہار کریں گے اور بجائے مددگار بننے کے دشمن ثابت ہوں گے۔ 3 یعنی اللہ سے زیادہ احوال کو نجانے وہ ہی فرماتا ہے کہ یہ شریک غلط ہیں جو کچھ کام نہیں آسکتے ایسے ٹھیک اور پکی باتیں اور کون بتلائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 { اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآئَ کُمْ } ”اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنتے۔“ { وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَـکُمْ } ”اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری دعا قبول نہیں کرسکتے۔“ جیسے کہ وہ لوگ فرشتوں کو بھی اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ چناچہ اگر فرشتہ سن بھی لے کہ مجھے پکارا جا رہا ہے تو وہ اس پکارنے والے کی حاجت روائی تو نہیں کرسکتا۔ { وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ } ”اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔“ { وَلَا یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ } ”اور نہیں آگاہ کرے گا کوئی بھی آپ کو اس اللہ کی طرح جو ہرچیز سے باخبر ہے۔“ اللہ تعالیٰ چونکہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 مشرکوں کی فریاد کیسے رائیگاں جاتی ہے ؟ إسْتَجَابُوْا کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک کسی پکار یا سوال کا جواب دینے میں مثلاً ایک شخص مجھ سے پوچھتا ہے کہ کراچی شہر کہاں واقع ہے ؟ تو میں اسے جواب دیتا ہوں کہ وہ پاکستان کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اور دوسرا استعمال یہ ہے کہ کوئی شخص مثلاً مجھ سے ایک سو روپیہ مانگتا ہے تو اس کی استجابت کا تعلق فعل سے ہوگا خواہ میں اسے سو روپیہ دے دوں یا نہ دوں اور جواب دے دوں۔ ان بتوں کی کیفیت یہ ہے کہ یہ کچھ سنتے ہی نہیں اور بالفرض سنتے بھی ہوں تو پھر نہ وہ کوئی جواب دے سکتے ہیں اور نہ ہی اس پر کچھ عمل درآمد کرسکتے ہیں گویا ان کے آگے درخواست پیش کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ یعنی خدائے علیم وخبیر سے بڑھ کر کس کی بات پکی ہوگی، اور وہی تمہیں ان حقائق سے آگاہ کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–14

آیت نمبر 8 تا 14 ترجمہ : (آئندہ) آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیا وہ شخص کہ جس کے سامنے اس کے برے عمل کو تلبیس کے ذریعہ مزین کرکے پیش کیا گیا پھر وہ اس کو نیک عمل سمجھنے لگا (اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کو اللہ نے ہدایت دی ہو ؟ نہیں ہوسکتا) مَنْ مبتداء ہے اور اس کی خبر کَمَنْ ھدَاہُ ہے (اس حذف خبر پر) فاِنّ اللہ یُضَلُّ مَنْ یشَاءُ (الآیۃ) دال ہے، یقین مانو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو آپ ان پر یعنی ان لوگوں پر کہ جن کے (اعمال بد) ان کے لئے مزین کردیئے گئے ہیں، اتنا غم نہ کیجئے، کہ ان کی اس بات پر غم کی وجہ سے کہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان تدعوھم لا یسمعوا دعآئکم ولو سمعوا ما استجابوا لکم ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم اور اگر تم ان کو (مراد پوری کرنے کیلئے) پکارو گے تو وہ تمہاری پکار (دعاء) سنیں گے نہیں اور اگر سن لیں گے تو تمہارا کہنا قبول نہ کر پائیں گے اور قیامت کے دن وہ (خود) تمہارے شرک کرنے کی مخالفت کریں گے۔ یعنی اول تو بےجان ہونے کی وجہ سے وہ تمہاری پکار کو سن نہ سکیں گے اور اگر ان میں سے کچھ باشعور ہوئے ‘ جیسے ابلیس وغیرہ تو تمہاری دعاء کو قبول نہ کرسکیں گے کیونکہ اول تو ان کو نفع رسانی کی قدرت ہی نہیں ‘ دوسرے یہ کہ وہ تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں ‘ جیسے عیسیٰ اور عزیر اور ملائکہ۔ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ یعنی تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اگر تم ان کو پکارو تو اول تو وہ تمہاری سنیں گے نہیں کیوں کہ وہ بہرے ہیں اور اگر وہ بالفرض سن بھی لیں تو کیونکہ انہیں تم سے دشمنی ہے اس لیے وہ تمہارا کہنا نہیں مانیں گے۔ اور قیامت کے روز تو وہ بت تمہارے شرک اور تمہاری عبادت کرنے کے خود مخالف ہوجائیں گے۔ اور تمہیں ان کے اور ان کے اعمال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی نہیں بتائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ : جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) [ الأحقاف : 5 ] ”اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔“ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ : اگر وہ سن بھی لیں تو تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے، کیونکہ ان کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : ان تد عو ھم لا یسمعوادعائکم اگر وہ مصائب میں ان سے مد طلب کریں تو وہ تمہاری دعا کو نہ سنیں گے کیونکہ یہ جمادات ہیں جو نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی سنتے ہیں۔ آیت : ولو سمعو اما استجابوالکم کین کہ ہر سننے والا بولنے والا نہیں ہوتا۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے اگر وہ سن بھی لیں تو تمہیں کوئی نفع نہ دیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر ہم ان کی عقلیں اور زندگی بنا دیں اور وہ تمہاری دعا کو سنیں تو وہ تمہاری بنسبت اللہ تعالیٰ کی اطاعت زیادہ کریں اور کفر پر ہوتے ہوئے تمہیں کوئی جواب نہ دیں۔ آیت : ویومالقیمۃ یکفرون بشرککم وہ انکار کردیں گے کہ تم نے ان کی عبادت کی ہے اور وہ تم سے اپنی براءت کا اظہار کریں گے ؟…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–17

1:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان تدعوھم لا یسمعوا دعآء کم ولو سمعوا ما استجابوا لکم “ (اگر تم ان کو پکاروہ گے تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنیں گے اور اگر سن لیں گے تو تمہارا کہنا قبول نہ کریں گے) یعنی تم سے اس پکارنے کو قبول نہیں کریں گے (آیت) ” ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم “ (اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کو انکار کردیں گے) یعنی وہ راضی ہوں گے اور نہ اس کا اقرار کریں گے (آیت) ” ولا ینبئک مثل خبیر “ (اور تم کو خبر رکھنے والے کے برابر کوئی نہیں بتائے گا) یعنی اللہ تعالیٰ وہی خبیر ہیں عنقریب یہ ان کے حکم میں سے ہوگا قیامت کے دن۔ 2:۔ ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنْ تَدْعُوْهُمْ [اگر تم لوگ پکارو گے ان کو ] لَا يَسْمَعُوْا [تو وہ نہیں سنیں گے ] دُعَاۗءَكُمْ ۚ [تمہاری پکار کو ] وَلَوْ سَمِعُوْا [اور اگر سنیں گے ] مَا اسْتَجَابُوْا [تو جواب نہیں دیں گے ] لَكُمْ ۭ [تمہارے لئے ] وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ [اور قیامت کے دن ] يَكْفُرُوْنَ [وہ لوگ انکار کریں گے ] بِشِرْكِكُمْ ۭ [تمہارے شرک کا ] وَلَا يُنَبِّئُكَ [اور خبر نہیں دے گا آپ ﷺ کو (کوئی)] مِثْلُ خَبِيْرٍ [خبر رکھنے والے کی طرح ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 14 کا مطلب یہ ہے کہ یہ بت یا بعض انبیاء یا فرشتے جن کو تم مصیبت کے وقت پکاروگے تو اولا یہ تمہاری بات سن ہی نہ سکیں گے، کیونکہ بتوں میں تو سننے کی صلاحیت ہے ہی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اِنْ تَدْعُوْھُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَ کُمْ ) (جن لوگوں کی اللہ تعالیٰ کے علاوہ تم عبادت کرتے ہو ان کی بےبسی اور عاجزی کا یہ حال ہے کہ اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار سن بھی نہ سکیں گے) (وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ ) (اور اگر بالفرض تمہاری بات سن بھی لیں تو تمہاری بات نہ مانیں) یعنی تمہاری پکار تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی، نہ جواب میں ہاں کہیں نہ اسی وقت کوئی مدد کرسکیں نہ بعد میں (یہ تو رہی دنیا کی حالت اور) رہا آخرت کا معاملہ سو سمجھ لو کہ تم نے جو ان کی مدد کا خیال جما رکھا ہے یہ خیال غلط ہے، وہ تو وہاں تم سے بیزار ہوجائیں گے اور تم جو انہیں اللہ کا شریک بناتے ہو اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–14

ذکر دلیل آخر برتوحید وامکان حشر ونشر و اثبات قضاء قدر قال اللہ تعالی۔ واللہ خلقکم من تراب۔۔۔ الی۔۔۔ ولا ینبئک مثل خبیر۔ اب آئندہ آیات میں امکان حشر ونشر پر ایک اور دلیل ذکر کرتے ہیں جو توحید کی بھی دلیل ہے۔ اوپر کی آیتوں میں دلائل آفاق کا ذکر تھا اب ان آیات میں دلائل انفس کا ذکر کرتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ص 33 ج 7) اور اللہ ہی نے پہلے تم کو یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر تم کو نطفہ سے پیدا کیا پھر تم کو جوڑا جوڑا بنایا یعنی مردو عورت بنایا جس سے باہم جفت ہوتے ہو اور کسی کو مرد بنانا اور کسی کو عورت بنانا حالانکہ مادہ دونوں کا ایک ہے یہ بھی اس کی قدرت کی دلیل ہے اور نہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–14

19:۔ یولج الیل الخ : یہ ساتویں عقلی دلیل ہے۔ رات دن کی آمد و رفت اور سورج اور چاند دوسرے لفظوں میں سارا نظام کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور اس میں تنہا وہی متصرف و مختار ہے لہذا وہی سب کا کارساز ہے۔ ذلک اللہ : یہ گذشتہ تمام دلائل پر متفرع ہے۔ یعنی جو ذات پاک مذکورہ بالا تمام صفات سے متصف ہے وہی اللہ تم سب کا مالک ہے اور ساری کائنات میں اسی کی حکومت اور اسی کا اختیار و تصرف ہے اس لیے کارساز اور حاجت روا بھی وہی ہے۔ اور وہی ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے اور وہی دعا اور پکار کے لائق ہے۔ 20:۔ والذین تدعون الخ : یہ دلائل سابقہ کا تفصیلی ثمرہ ہے۔ دلائل سابقہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی ساری…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–14

گزشتہ آیات میں نیک و بدانسانوں کا ذکر ہوا ہے۔ پھر اللہ کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلائل بیان ہوئے۔ اللہ نے مشرکوں کے متعلق فرمایا کہ وہ غیر اللہ سے عزت کے طلب گار ہیں حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس کے بعد اللہ نے پاکیزہ کلمات کا ذکر کیا کہ وہ بارگاہ رب العزت میں پیش ہوتے ہیں اور اگ ان کو نیک اعمال کی تائید بھی حاصل ہو تو وہ مزید تقویت کا باعث باتی ہے۔ نیک عمل کو پاکیزہ کلمہ اوپر اٹھاتا ہے اور اس کی مقبولیت اس وقت ہوتی ہے جب اس کی تہہ میں ایمان اور توحید ہو۔ اللہ نے کافروں کے متعلق فرمایا کہ ان کے لیے شدید عذاب ہے اور ان کی ہر تدبیر ناکام ہوگی۔ تخلیق انسانی کے مراحل اب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ۝ 0 ۚ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ۝ 0 ۭ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ۝ 0 ۭ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ۝ 1 4ۧ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–14

یولج الیل الخ یہاں سے اختلاف زمانہ سے اپنے قادر ہونے پر استدلال کرکے یہ فرماتا ہے۔ ذلکم اللہ ربکم یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کے قبضہ میں زمین و آسمان، رات دن ‘ چاند اور سورج ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ والذین تدعون اور جن کو کہ تم اس کے سوا پکارتے ہو، ان کا رب اور خالق ہونا تو درکنار ان کو کچھ بھی اختیار نہیں۔ اے شیطان کے فریب میں ڈالے ہوئو ! تم ان بتوں سے کیا عزت ڈھونڈتے ہو، اول تو ان کو کچھ اختیار ہی نہیں۔ دوم ان تدعوھم لایسمعوا دعاء کم اگر تم ان کو پکارو بھی تو وہ تمہارا پکارنا نہیں سنتے، کس لیے کہ جمادات بےحس و حرکت ہیں۔ سوم ولو سمعوا ما استجابوا لکم اگر فرض کیا جاوے کہ سنتے ہیں تو بھی کچھ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنْ تَدْعُوْھُمْ لاَ یَسْمَعُوْا دُعَآئَ کُمْ ج وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَـکُمْ ط وَیَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ ط وَلاَ یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ ۔ (فاطر : 14) (اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری پکار نہیں سنیں گے، اور اگر سنیں گے تو تمہاری فریاد رسی نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کردیں گے، اور تمہیں یہاں کوئی آگاہ نہیں کرسکتا، ایک باخبر کی طرح۔ ) فرضی معبودوں کی بےکسی دنیا اور آخرت دونوں میں مشرکینِ عرب نے جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا اور جنھیں وہ دیوتائوں کی طرح پکارتے اور پوجتے تھے ان کی بےبسی اور بےحقیقتی کو واضح فرماتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو مشرکین پکارتے ہیں ان کی حیثیت۔ قرآن مجید باربار ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو نہ پکارا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ سے بھی مدد مانگتا ہے اور اس کے ساتھ بتوں، فوت شدگان، جنّات، ملائکہ یا کسی اور غیر مری طاقت سے بھی امداد طلب کرتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے قیام، رکوع، سجدہ اور نذرونیاز پیش کرتا ہے اسی طرح ہی درسروں کے سامنے جھکتا اور نذرانے پیش کرتا ہے۔ گو یا کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی عبادت کرتا اور ان کو پکارتا ہے۔ قرآن مجید اس بات سے بھی روکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14: اِنْ تَدْعُوھُمْ (اگر تم ان کو پکارو بھی) یعنی بتوں کو لَا یَسْمَعُوْا دُعَآ ئَ کُمْ (وہ تمہاری پکار کو سنیں گے نہیں) ۔ کیونکہ وہ جماد ہیں۔ وَلَوْ سَمِعُوْا (اور اگر وہ سن لیں) بالفرض مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ (تو وہ تمہارا کہنا نہ مانیں گے) کیونکہ وہ اس الوہیت کے دعویدار نہیں جس کے تم ان کے متعلق دعویدار ہو۔ اور وہ اس سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْ کِکُمْ (اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کرنے کی مخالفت کریں گے) تمہارے شریک ٹھہرانے اور ان کی عبادت کرنے کا اور کہیں گے ما کنتم ایانا تعبدون ] یونس : 28[ وَلَا یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ (اور تمہیں خبر رکھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14، ان تدعوھم ، اگر تم ان بتوں کو پکاروگے، لا یسمعوا دعاء کم ولو سمعو اماا ستجابو الکم ، وہ تمہاری بات کا جواب نہیں دیں گے۔ ، ویوم القیامۃ یکفرون بشرککم ، جو تم ان کی عبادت کرتے ہو وہ قیامت کے دن اس کے منکر ہوجائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہم نے تو تمہیں عبادت کرنے کا نہیں کہا تھا۔ ، ولا ینبئک مثل خبیر، تجھے کوئی ایسی اطلاع نہیں دے گا جسے اللہ دے رہا جو اشیاء کے حقائق سے پوراباخب رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–17

13 تا 17۔ یہ ایک اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ گرمی کے موسم میں رات کا کچھ حصہ دن میں ملایا جا کر دن کو بڑا کردیا جاتا ہے اور جاڑے کے موسم میں اسی طرح رات کو بڑھا دیا جاتا ہے پھر فرمایا سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے نفع کے لیے کام میں لگا رکھا کہ ہر ایک چلتا ہے مقدار معین کے ساتھ مدت مقرر تک پھر فرمایا یہ ہے اللہ پروردگار ہے تمہارا جس نے یہ سارے کام کئے ہیں اسی کے واسطے بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ مالک نہیں ایک قطمیر کے ‘ قطمیر چھلکے کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد وغیرہ نے کہا ہے کہ قطمیر وہ چھلکا ہے جو کھجور کی کٹھلی پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 14 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بےپایاں رحمت کا بیان ہے کہ اس نے عالم ارضی کے لئے پانی کے مختلف ذخیرے تخلیقف فرمائے اور ان کو ایک سا نہیں بنایا کیونکہ مصلحت تقاضا کرتی ہے کہ دریاؤں کا پانی میٹھا، پیاس بجھانے والا اور پینے میں خوشگوار ہو، تاکہ اسے پینے والے، باغوں اور کھیتوں کو سیراب کرنے والے اپنے کام میں لائیں اور سمندروں کا پانی نمکین اور سخت کھاری ہو، تاکہ ان سمندروں کے اندر مرنے والے حیوانات کی بدبو سے ہوا خراب نہ ہو کیونکہ سمندر کا پانی چلتا نہیں بلکہ ساکن ہوتا ہے تاکہ اس کا کھاری پن اسے تغیر سے بچائے رکھے اور اس کے حیوانات خوبصورت اور زیادہ لذیذ ہوں، بنا بریں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–27

حانث نہ ہونے کی صورتیں قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔ اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔ کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

41 معبودان من دون اللہ کسی کی پکار نہیں سن سکتے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر تم انکو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو سن نہیں سکتے " کہ وہ جَمَادِ لا یعقل ہیں جیسے بت۔ یا وہ ایسی ہستیاں ہیں کہ فوق الاسباب طریقے سے مدد کرنا ان کے بس میں ہی نہیں۔ جیسے حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ اور اولیائے کرام اور بزرگان دین ۔ عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃُ وَالرِّضْوَانُ ۔ اسی لئے ایسے تمام حضرات زندگی بھر اللہ ہی کو پکارتے اور اسی کی عبادت و بندگی کرتے رہے۔ اور خلق خدا کو بھی اسی کی تعلیم و تلقین کرتے رہے کہ مانگو اسی ایک اللہ سے کہ سب کا حاجت روا و مشکل کشا وہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–14

اللہ کی قدرتیں اور جھوٹے معبودوں کی بےبسی تشریح : ان آیات میں بھی اللہ رب العزت کی نعمتوں اور رحمتوں کا ذکر دوبارہ کیا گیا ہے۔ قدرت کے بہترین شاہکار یعنی (1) میٹھے اور کھاری پانی کا ایک ساتھ بہنا اور آپس میں مکس نہ ہونا اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ (2) پانی کی یہ خاصیت کہ وہ کشتیوں کو انسانوں اور مال سمیت لیکر تیرتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں مدد کرتا ہے اور یہ نقل و حمل کا ایک سستا ذریعہ ہے۔ (3) رات اور دن کا باری باری آنا۔ انسان کے لیے بہترین نعمت ہے۔ یہ بہترین طبیعیاتی نظام ہے۔ جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے (4) کائنات کے نظام کا قیام اس قدر حیرت انگیز ہے کہ انسان حیران ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–14

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 8 تا 14: اسرار و معارف : کچھ لوگ جب اللہ سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان پر اللہ کا یہ غضب ہوتا ہے کہ ان کی سوچ الٹ جاتی ہے اور انہیں برائی کے کام بھلے لگنے لگتے ہیں اور یوں وہ کرتے چلے جاتے ہیں اور جس کو اللہ چاہتا ہے یعنی جس کے دل میں اللہ سے ہدایت کی طلب پیدا ہوجائے اسے ہدایت عطا فرما دیتا ہے لہذا آپ ان کی گمراہی کے دکھ کو اس قدر شدت سے محسوس نہ کیجیے کہ یہ ان کا اپنا انتخاب کردہ راستہ ہے اور اللہ ان کے کردار اور قلبی ارادوں تک سے خوب واقف ہے۔ سبحان اللہ جس رسول رحمتکو کفار کا کفر پہ رہنا دکھی کردیتا ہے اسے مسلمانوں کا کفار کے سے اعمال کرنا کس قدر دکھ پہنچاتا ہوگا۔ اللہ ہمیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 کیونکہ وہ تمہیں کسی قسم کا نفع یا نقصان پہنچانے سے قطعی عاجز ہیں۔6 یا ’ ’ تمہارے شرک سے انکار کریں گے “۔ یعنی یہ کہیں گے کہ ہم نے کبھی تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم تمہارے معبود ہیں اس لئے ہماری بندگی کیا کرو ہم سے دعائیں مانگا کرو اور حاجتیں طلب کیا کرو، مطلب یہ ہے کہ تمہارے یہ معبود تو دنیا میں کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ آخرت میں، بلکہ قیامت کے دن یہ تمہارے خلاف شہادت دیں گے۔ ( کبیر) ۔ 1 یعنی جب اللہ تعالیٰ جو ہر چیز کی خبر رکھتا ہے، خود یہ بتارہا ہے کہ لکڑی اور پتھر کے مجسمے قیامت کے دن گویا ہوناگے اور اپنی عبادت کرنے والوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے تو معلوم ہوا کہ اس کا کوئی شریک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(35:14) ما استجابوا لکم۔ ما نفی کے لئے ہے۔ استجابوا ماضی جمع مذکر غائب۔ استجابۃ مصدر باب استفعال سے بمعنی ماننا۔ قبول کرنا۔ یعنی وہ تمہارا کہنا قبول نہ کر پائیں گے ۔ تمہاری التجا قبول نہ کرسکیں گے۔ یکفرون بشرککم۔ وہ (خود) تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔ یعنی تم جو ان کو اللہ کی عبادت میں شریک کرتے ہو وہ قیامت کے دن اس کے منکر ہوجائیں گے اور کہیں گے ما کنتم ایانا تعبدون۔ (10:38) تم ہماری پوجا نہیں کرتے تھے (بلکہ اپنی ہوا وہوس اور باطل خیالات کی پوجا کرتے تھے) ۔ لا ینبئک۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ تنبئۃ مصدر باب تفعیل بمعنی خبر دینا۔ بتادینا۔ آگاہ کرنا۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تمہیں (کوئی ) نہیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–14

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 14۔ ۔ نطفۃ ( نطفہ ، پانی کی حقیر بوند) انثی (عورت) لا تصنع (پیدا نہیں کرتی ، جنم نہیں دیتی) یعمر ( وہ عمر کو بڑھاتا ہے) لا ینقص ( وہ کمی نہیں کرتا) یسیر ( آسان کرتا ہے) لا یستوی (برابر نہیں ہے) عذب فرات (میٹھا پانی ، پیاس بجھانے والا) سائغ (خوش گوار) شراب ( پینے کی چیز) ملح ( کھارا ، نمکین) اجاج ( کڑوا) طری ( تازہ) حلیۃ ( زیور) تلبسون ( تم پہنتے ہو) مواخر ( پانی پھاڑنے والا) یولج ( داخل کرتا ہے) مسمی (مقرر مدت ، متعین) قطمیر (چھلکا ، کھجور کی گٹھلی پر لگی جھلی) یا ینبی (وہ جبر نہیں دیتا) خبیر ( بہت خبر رکھنے والا ، نگہبان) تشریح : آیت نمبر 11 تا 14 :۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–17

(ف 1) یہ ایک اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ گرمی کے موسم میں رات کا کچھ حصہ دن میں ملاکردن کو بڑا کردیاجاتا ہے اور جاڑے کے موسم میں اسی طرح رات کو بڑھا دیاجاتا ہے پھر فرمایا کہ سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ نے نفع کے لیے کام میں لگارکھا ہے کہ ہر ایک بندھے ہوئے وقتوں پر چلتا ہے پھر فرمایا کہ یہی اللہ پروردگار ہے تمہارا، جس نے یہ سارے کام کیے ہیں اسی کے واسطے دونوں جہانوں میں بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے، اور اگر تم بتوں کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو بھی نہیں سنتے ، اس لیے کہ وہ پتھر ہی جس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[10] یعنی وہ صاف کہہ دیں گے کہ ہم نے ان سے کبھی یہ نہ کہا تھا کہ ہم اللہ کے شریک ہیں اور تم ہماری عبادت کیا کرو۔ یہ گزرے ہوئے صالحین، انبیاء، اولیا یا فرشتے ہوں گے جن کی دنیا میں پرستش کی جاتی تھی جو قیامت کے دن صاف الفاظ میں اعلان برأت کریں گے۔ رہے بت تو ان کے سننے اور بولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–14

ف 2: یہ فطرت کا تیسرا مظہر ہے ۔ کہ وہ کیونکر رات کا کچھ حصہ گھٹا کر دن میں داخل کردیتا ہے ۔ اور آفات وماہتاب کو کس طرح تمہاری خدمت میں لگا دیتا ہے ان مظاہر کو بیان کرکے فرمایا ۔ کہ خدا وہ ہے جو تمہارا مددگار ہے اور ساری کائنات کا مختار کل ہے ۔ تم جن لوگوں کو پکارتے ہو ۔ اور ان کی پرستش کرتے ہو ۔ وہ دنیا میں ذرہ برابر اختیارات نہیں رکھتے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) اگر تم ان کو پکارو بھی تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سن سکتے اور اگر فرض کرو وہ معبودان باطلہ سن بھی لیں تو تمہاری پکار کو قبول نہ کریں گے اور تمہاری پکار پر نہ پہنچیں گے اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کرنے اور شریک ٹھہرانے کی خود مخالفت کریں گے اور منکر ہوجائیں گے اور اے مخاطب تجھ کو خبر رکھنے والے کے برابر کوئی دوسرا نہ بتاسکے گا۔ یعنی جمادات میں تو سننے کی صلاحیت ہی نہیں اور رہے صاحب ارواح تو ان کا سننا بھی بغیر اذن خداوندی متحقق نہیں اور اگر سن بھی لیں تو وہ کام نہیں آسکتے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے سوا پکارنے کو پسند نہیں کرتے اور اپنے کو پکارنے پر راضی نہیں رہے۔ شیاطین تو ان میں قدرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–17

ف 1۔ اوپر توحید کا ذکر تھا چونکہ کفار اس کا انکار کرتے تھے، اور اس انکار سے رسول اللہ ﷺ کو حزن بھی ہوتا تھا، اس لئے آگے انکار سے حق تعالیٰ کا ضرر نہ ہونا بلکہ خود ان کفار ہی کا ضرر ہونا اور تسلیم سے حق تعالیٰ کا کچھ نفع نہ ہونا بلکہ خود ان کا ہی نفع ہونا اور دنیا میں اس کا ضرر کا احتمال اور آخرت میں اس کا وقوع بیان کر کے کفار کی تحذیر اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حزن پر آپ کے تسلیہ کا مضمون ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم ان کو پکارو تو وہ سن سکیں اور اگر سنیں تو جواب نہ دے سکیں تو ان کی حیثیت کیا ہوئی ؟ 14 ۔ انسانوں کے بنائے گئے معبودوں کا یہی حال ہے خواہ وہ کون ہوں اور کیسے ہوں ؟ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد تم ان کو بلائو اور پکارو تو ان کو تمہارے اس بلانے اور پکارنے کی کیا خبر ؟ اور اگر وہ زندہ ہوں جیسا کہ اکثر لوگ پیروں ، فقیروں اور بزرگوں کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ لیتے ہیں جو زندہ ہوتے ہیں فرمایا اگر تم ان کو جو زندہ ہیں سنوالو گے تو وہ تمہاری اس بات کو پورا ہی کب کرسکیں گے کیونکہ ان کے پاس اختیار تو ہے نہیں پھر الر کوئی بات سن بھی لے لیکن اس کے پورا کرنے کی طاقت وہمت اس میں نہ ہو تو اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–17

In the last verse: إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ (If you call them, they do not hear your call, and even if they were to hear, they would not respond to you. - 35:14). To explain, it can be said that if you call those idols or some prophets or angels you take as god and worship them asking them to help you in distress, they will, first of all, be unable to listen to you because idols do not have the ability to listen. Though, prophets and angels have this ability, yet they are not present everywhere nor do they hear that which is said by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

33 This does not mean that they cannot tell aloud, in answer to vour prayer.whether your prayer has been accepted or not, but it means that .they cannot take any action on your supplications. If a person sends his application to someone who is not a ruler. his application miscarries. For the person to whom it has been sent, has no authority whatever: he can neither reject it nor accept it. However, if the same application is sent to the one who is really a ruler, one or the other action will certainly be taken on it. 34 That is, "They will plainly say: We had never told theta that we are…

Read the full tafseer →