Explained with ayahs 15–18
اللہ قادر مطلق۔
اللہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ وہ غنی ہے اور سب فقیر ہیں۔ وہ بےپرواہ ہے اور سب اس کے حاجت مند ہیں۔ اس کے سامنے ہر کوئی ذلیل ہے اور وہ عزیز ہے کسی قسم کی حرکت و سکون پر کوئی قادر نہیں سانس تک لینا کسی کے بس میں نہیں۔ مخلوق بالکل ہی بےبس ہے۔ غنی بےپرواہ اور بےنیاز صرف اللہ ہی ہے تمام باتوں پر قادر وہی ہے۔ وہ جو کرتا ہے اس میں قابل تعریف ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت و تعریف سے خالی نہیں۔ اپنے قول میں اپنے فعل میں اپنی شرع میں تقدیروں کے مقرر کرنے میں غرض ہر طرح سے وہ بزرگ اور لائق حمد وثناء ہے۔ لوگو اللہ کی قدرت ہے اگر وہ چاہے تو تم سب کو غارت و برباد کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
سورة فَاطِر 36
یعنی اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ خدا تمہارا محتاج ہے، تم اسے خدا نہ مانو گے تو اس کی خدائی نہ چلے گی، اور تم اس کی بندگی و عبادت نہ کرو گے تو اس کا کوئی نقصان ہوجائے گا۔ نہیں، اصل حقیقت یہ ہے کہ تم اس کے محتاج ہو۔ تمہاری زندگی ایک لمحہ کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکتی اگر وہ تمہیں زندہ نہ رکھے اور وہ اسباب تمہارے لیے فراہم نہ کرے جن کی بدولت تم دنیا میں زندہ رہتے ہو اور کام کرسکتے ہو۔ لہٰذا تمہیں اس کی اطاعت و عبادت اختیار کرنے کی جو تاکید کی جاتی ہے وہ اس لیے نہیں ہے کہ خدا کو اس کی احتیاج ہے بلکہ اس لیے ہے کہ اسی پر تمہاری اپنی دنیا اور آخرت کی فلاح کا انحصار ہے۔ ایسا نہ کرو گے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
خلاصہ تفسیر
اے لوگو تم (ہی) خدا کے محتاج ہو اور اللہ (تو) بےنیاز (اور خود تمام) خوبیوں والا ہے (پس تمہاری احتیاج دیکھ کر تمہارے لئے توحید وغیرہ کی تعلیم کی گئی ہے، اگر تم نہیں مانو گے تو تم اپنا ضرر کرو گے۔ باقی حق تعالیٰ کو تو بوجہ غنائے ذاتی و کمال ذاتی کے تمہاری یا تمہارے عمل کی کوئی حاجت ہی نہیں کہ اس کے ضرر کا احتمال ہو اور کفر یہ جو ضرر ہونے والا ہے خدا تعالیٰ اس کے فی الحال ایقاع پر بھی قادر ہے چنانچہ) اگر وہ چاہے تو (تمہارے کفر کی سزا میں) تم کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق پیدا کر دے (جو تمہاری طرح کفر و انکار نہ کریں) اور یہ بات خدا کو کچھ مشکل نہیں (لیکن بمصلحت مہلت دے رکھی ہے۔ غرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت 15۔ 17
یہ اسی تنبیہ پر اضافہ اور نہایت زور دار اضافہ ہے۔ خطاب میں ’ یایھا الناس ‘ کے الفاظ سے ہے کہ سب کان کھول کر سن لیں کہ تعلیم وتذکیر کا یہ سارا اہتمام جو کیا گیا ہے، اور خدا کا رسول لوگوں کو جگانے اور جھنجوڑنے کے لئے اپنے رات دن جو ایک کیے ہوئے ہے تو اس لئے نہیں کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے سے خدا کا کوئی کام اٹکا ہوا ہے، خدا تو بالکل بےنیاز اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے، البتہ تم لوگ خود خدا کے محتاج ہو، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ خدا کی بےنیازی کا تو یہ عالم ہے کہ وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک دوسری نئی مخلوق لا بسائے۔ اگر وہ یہ کرنا چاہے تو یہ کام ذرا بھی اس…
Read the full tafseer →15۔ 1 ناس کا لفظ عام ہے جس میں عوام وخاص حتی کہ انبیاء وصلحا سب آجاتے ہیں اللہ کے در کے سب ہی محتاج ہیں لیکن اللہ کسی کا محتاج نہیں۔
15۔ 2 وہ اتنا بےنیاز ہے کہ اگر سب لوگ اس کے مخالف ہوجائیں اس سے اس کی سلطنت میں کوئی کمی اور سب اس کے اطاعت گزار بن جائیں، تو اس سے اس کی قوت میں زیادتی نہ ہوگی بلکہ نافرمانی میں لوگوں کا اپنا ہی نقصان ہے۔ اور عبادت واطاعت میں اپنا ہی فائدہ ہے۔
15۔ 3 یعنی محمود ہے اپنی نعمتوں کی وجہ سے۔ پس ہر نعمت، جو اس نے بندوں پر کی ہے، اس پر وہ حمد و شکر کا مستحق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
6: یعنی اللہ تعالیٰ دوسروں کی عبادت اور ان کے تعریف کرنے سے بالکل بےنیاز ہے، کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے، وہ بذات خود قابل تعریف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
درس نمبر 202 ایک نظر میں
ایک بار پھر پکارا جاتا ہے کہ لوگو ! ذرا اپنی حقیقت پر غور کرو ، اور اپنے تعلق باللہ کا جائزہ لو ، ایک بار پھر حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں۔ یہ جو لوگ روگردانی کرتے ہیں یہ خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اس سورة کے دوسرے سبق میں بھی حضور ﷺ کو ایسی ہی تسلی دی گئی تھی۔ البتہ یہاں ذرا اس بات کی وضاحت کردی جاتی ہے کہ ہدایت اور ضلالت کی حقیقت اور ماہیت ایک نہیں ہے ، دونوں کے درمیان اس طرح کا فرق و امتیاز ہے جس طرح اندھے اور بینا میں ہوتا ہے۔ جس طرح نور و تاریکی میں ہے ، جس طرح سائے اور کڑکتی دھوپ میں ہے۔ جس طرح موت وحیات میں ہے۔ پھر ہدایت ، بصیرت ، نور ، سائے اور…
Read the full tafseer →4 یعنی سب لوگ اسی اللہ کے محتاج ہیں جسے کسی کی احتیاج نہیں کیونکہ تمام خوبیاں اور کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں۔ پس وہ ہی مستحق عبادات و استعانت کا ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 15 { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِج وَاللّٰہُ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ } ”اے لوگو ! تم سب اللہ کے محتاج ہو ‘ اور اللہ تو الغنی اور الحمید ہے۔“
تمہاری بیشمار احتیاجات ہیں جو اللہ تعالیٰ پوری کرتا ہے ‘ لیکن وہ خود بےنیاز ہے ‘ اس کی کوئی حاجت نہیں جو تمہیں پوری کرنا ہو۔ اور وہ ستودہ صفات ہے ‘ اپنی ذات میں خود محمود ہے ‘ کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے ‘ مگر حمد شکر و تعریف کا استحقاق اسی کو پہنچتا ہے۔
Read the full tafseer →23 یہ خطاب تمام جہان کے انسانوں سے ہے کہ تم اپنی صحت کے لئے، اپنے رزق کے لئے، اپنی زندگی کی بقاء غرض ایک ایک چیز کے لئے اللہ کے محتاج ہو تمہارے رزق اور بقائے حیات کے لئے اللہ تعالیٰ نے جن جن اشیائے کائنات کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو ہٹالے تو تم زندہ بھی نہیں رہ سکتے۔ دوسری ضرورتوں کی احتیاج بعد کی چیز ہے اور اللہ کی شان یہ ہے کہ اسے کسی انسان بلکہ کائنات کی کسی بھی چیز کی احتیاج نہیں۔ وہ بذات خود ازل سے لے کر ابد تک قائم و دائم ہے۔ اور کوئی اس کی حمد و ثنا نہ بھی کرے تو بھی وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔
Read the full tafseer →28۔ اس کی ذات میں کسی چیز کی کیا کمی اور کیا کسر ہے۔ وہ خود ہی سارے کمالات کا جامع ہے اور اس نے ایمان، اور احکام شریعت کی جو تلقین کی ہے، یہ تمہارے ہی نفع کے لیے۔ (آیت) ” انتم الفقرآء “۔ انسان اپنے وجود میں، بقاء میں، فنا میں ، جملہ حاجات میں محتاج اسی ذات واجب الوجود کا ہے۔ وجود، بقاء وفناء وغیرہ میں تو یہ محتاجی ظاہرہی ہے۔ جی چیزوں میں بظاہر اختیار معلوم ہوتا ہے۔ مثلا بولنے چلنے، دیکھنے سننے، چلنے پھرنے، ان میں بھی ایک ایک حرکت مشیت الہی، اذن خداوندی ہی کی محتاج ہے۔ (آیت) ” ھوالغنی “۔ یعنی اسے مخلوق کی امداد واعانت کی حاجت تو کجا، وہ تو اس کی مملوکیت وعبدیت کے تعلق سے بھی بےپروا ہے۔ لیکن اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : اے لوگو ! تم ہرحال میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور وہ اپنی مخلوق پہر احسان کی وجہ سے سزاوار حمد ہے اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، کوئی بھی گنہ گار شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، گوجس شخص کو بلایا گیا ہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ باپ اور بیٹا اور دونوں صورتوں میں عدم حمل اللہ کا حکم ہے، آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہوں یعنی اس سے ڈرتے ہوں حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے، اس لئے کہ یہی لوگ تنبیہ سے فائدہ اٹھانے والے…
Read the full tafseer →یایھا الناس انتم الفقرآء الی اللہ وا اللہ ھو الغنی الحمید . اے لوگو ! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ بےنیاز اور خوبیوں والا ہے۔
یعنی وجود ‘ توابع وجود ‘ بقاء وجود۔ دوزخ سے نجات اور جنت کے ثواب میں تم ہمیشہ اللہ کے محتاج ہو۔ یوں تو ساری خلائق اللہ کی محتاج ہے لیکن انسان نے باوجود کمزور اور ظالم و جاہل ہونے کے بار امانت اپنے کندھوں پر اٹھایا اس لئے دوسری مخلوق کے مقابلہ میں یہ زیادہ محتاج ہے ‘ اس کی احتیاج کی بہ نسبت باقی مخلوق کی احتیاج درخور اعتناء نہیں ہے۔
اَلْغَنِیُّ میں الف لام عہدی ہے ‘ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جس کی بےنیازی اور موجودات پر عمومی انعام معروف ہے۔
اَلْحَمیْدُ فی نفسہٖ وہ مخلوق کی…
Read the full tafseer →اے لوگو تم ہی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور اس کے رزق اور سلامتی کے اور آخرت میں اس کی جنت کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ تو تمہارے مال و دولت سے بےنیاز اور خوبیوں والا ہے۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ۔۔ : خبر ”الْفُقَرَاۗءُ“ پر الف لام آنے سے حصر اور تاکید کا معنی پیدا ہوگیا کہ لوگو ! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو۔ اسی طرح ”وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ“ میں ضمیر فصل ”هُوَ“ اور خبر ”الْغَنِيُّ“ پر الف لام سے حصر کا معنی پیدا ہوا کہ صرف اللہ ہی ہے جو سب سے بےپروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔
یہ بیان کرنے کے بعد کہ آسمان و زمین کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا جنھیں پکارا جاتا ہے وہ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں، حتیٰ کہ وہ ایک قطمیر (کھجور کی گٹھلی پر باریک چھلکا) کے مالک بھی نہیں۔ اب پچھلے سارے بیان کے خلاصے…
Read the full tafseer →آیت : یا یھا الناس انتم الفقراء الی اللہ تم اپنی بقا اور اپنے اصولوں میں اس کے محتاج ہو۔ زمحشری نے کہا : اگر تو کہے الفقراء کو معرف باللام کیوں لایا گیا ہے ؟ میں کہوں گا : اس سے اس امر کا قصد کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دکھائے کہ وہ اس کے شدید محتاج ہونے کی وجہ سے وہ فوراء کی جنس ہے، اگرچہ تمام محلوق انسان ہوں یا غیر سب اس کے محتاج ہیں، کیونکہ فقراء ان چیزوں میں سے ہے جو ضعف کے تابع ہوتا ہے جب بھی فقیر زیادہ کمزور ہوگا وہ زیادہ محتاج ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں انسان کے ضعف کی گواہی دی ہے : آیت : اللہ الذی خلقکم من ضعف (الروم :54) اگر فقراء نکرہ ہوتا تو معنی ہوتا تم فقراء کا بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
1:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان تدعوھم لا یسمعوا دعآء کم ولو سمعوا ما استجابوا لکم “ (اگر تم ان کو پکاروہ گے تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنیں گے اور اگر سن لیں گے تو تمہارا کہنا قبول نہ کریں گے) یعنی تم سے اس پکارنے کو قبول نہیں کریں گے (آیت) ” ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم “ (اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کو انکار کردیں گے) یعنی وہ راضی ہوں گے اور نہ اس کا اقرار کریں گے (آیت) ” ولا ینبئک مثل خبیر “ (اور تم کو خبر رکھنے والے کے برابر کوئی نہیں بتائے گا) یعنی اللہ تعالیٰ وہی خبیر ہیں عنقریب یہ ان کے حکم میں سے ہوگا قیامت کے دن۔
2:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ [اے لوگو ! تم لوگ ہی ] الْفُقَرَاۗءُ [محتاج ہو ] اِلَى اللّٰهِ ۚ [اللہ کے ] وَاللّٰهُ [اور اللہ ] هُوَ الْغَنِيُّ [وہی بےنیاز ہے ] الْحَمِيْدُ [حمد کیا ہوا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
سب اللہ کے محتاج ہیں، قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا، بینا اور نابینا، اندھیریاں اور روشنی، زندہ اور مردہ برابر نہیں، ہر امت میں نذیر بھیجا گیا ہے
یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جس میں بہت سے امور پر تنبیہ فرمائی ہے اور متعدد نصیحتیں فرمائیں۔
اولاً یہ فرمایا کہ اے لوگو تم سب اللہ ہی کے محتاج ہو، اللہ تعالیٰ غنی ہے جسے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے، کوئی بھی ایمان لانے والا اور اس کی عبادت کرنے والا یہ نہ سمجھے کہ اسے میری حاجت اور ضرورت ہے، بلکہ یہ سمجھ کر اس کی عبادت کرے کہ مجھے اسے راضی کرنے کی حاجت ہے، وہ غنی ہے، بےنیاز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور صفات جلیلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
ذکر فقرواحتیاج بشرواستغنا خداوند بر وبحر
قال اللہ تعالی۔ یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔
(ربط) اوپر سے منکرین توحید کا رد چلا آرہا ہے اب یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ متکبر اور مغرور ہیں اور دراہم معدودہ کے نشہ کے میں چور ہیں اور خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں اور اس کی یاد سے دور ہیں۔ اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل عالم اپنے وجود میں اور اپنی بقاء میں اللہ کا محتاج ہے اور خاص کر انسان تو سب سے زیادہ حاجتوں میں جکڑا ہوا ہے اور خداوند ذوالجلال۔ غنی مطلق اور بےنیاز مطلق ہے جب چاہے پکڑ سکتا ہے اللہ کو نہ کسی کے مال و دولت کی حاجت ہے اور نہ کسی کی عبادت کی حاجت ہے۔ وہ سب سے بےنیاز ہے پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
21:۔ یا ایہا الناس الخ : یہ آٹھویں عقلی دلیل ہے یعنی تم سب خدا کے محتاج ہو اور وہ کسی کا محتاج نہیں اور تمام صفات کمال سے متصف ہے لہذا اس کے سوا تمہاری کوئی معبود نہیں وہ اگر چاہے تو تم سب کو مار ڈالے اور دوسروں کو پیدا کرلے لیکن تمہارے مزعومہ معبودوں میں یہ قدرت نہیں جب انہیں اتنا بھی اختیار نہیں تو ان عاجزوں کو کیوں غائبانہ پکارتے ہو جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ان اراد ان یہلک المسیح بن مریم وامہ و من فی الارض جمیعا (المائدہ) ۔ وہ ان سب کو ہلاک کرسکتا ہے تو وہ معبود کس طرح بن سکتے ہیں۔ نیز فرمایا ان یشا یذھبکم و یستخلف من بعدکم ما یشاء (انعام) ۔ انسان جو اشرف المخلوقات ہے جب وہ خدا کا محتاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
گزشتہ آیات کی طرح آج کے درس میں بھی توحید کا اثبات ، شرک کا رد ، وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا بیان ہے۔ ساتھ ساتھ منکرین کے لیے جبر و تنبیہ کا پہلو بھی ہے۔ تمام بنی نوع انسان کو خطاب کرکے انہیں ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا جارہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الناس ان تم للفقرا الی اللہ اے دنیا جہان کے لوگو ! تم سب کے سب اللہ تعالیٰ کی طرف محتاج ہو۔ فقار دراصل پشت کے مہرے کو کہا جاتا ہے جس شخص کا مہرہ ٹوٹا ہوا ہو اس کی کمر سیدھی نہیں ہوکستی اور اس لحاظ سے وہ محتاج ہوتا ہے۔ تو فرمایا تم سارے کے سارے اللہ کے دروازے کے فقیر ہو اور اپنی تمام حاجات اسی سے طلب کرتے ہو۔ سورة الرتین میں بھی فرمایا ہے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللہِ 0 ۚ وَاللہُ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ 15
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب،
قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1]
( ن و س ) الناس ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ترکیب : ان شرطیۃ یشاء شرط مفعولہ محذوف یذھبکم جواب الشرط ویات معطوف علیہ ولذاقرء مجزومین، وزر اخریٰ مفعول ولا تزر منتقلۃ قال الفراء ای نفس مثقلۃ بالذنوب قال وھذا یقع للمذکروالمؤنث الحمل بالکسر مایحمل علی الظھر و نحوہ والجمع احمال و حمول، والحمل بالفتح ماکان فی البطن وعلی راس شجرۃ، یقال امرء ۃ حامل و حاملۃ اذا کانت حبلٰی، قال الازھری، ولو وصیلتہ تتعلق بلا یحمل انما تنذر مستانفۃ، ولا الحرور فعول من الحر غلب علی السموم وقیل السموم مایہبّ نار اوالحرور مایکون بالیل خاصتہ وقیل عکسہ، ولا لتا کیدنفی الاستواء و تکریرھا لمزید التاکید۔
تفسیر : جبکہ نبی ﷺ کی طرف سے کفار کو ہدایت پر بلانے میں اصرار ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
یٰٓـاَیُّھَاالنَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِ ج وَاللّٰہُ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ اِنْ یَّشَاْبُذْھِبْکُمْ وَیَاتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ ۔ (فاطر : 15 تا 17)
(اے لوگو ! تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اللہ تو غنی اور ستودہ صفات ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمہیں ہلاک کردے اور ایک نئی مخلوق تمہاری جگہ لے آئے۔ اور یہ اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ )
اللہ تعالیٰ غنی اور حمید ہے
گزشتہ آیات میں مختلف حوالوں سے اللہ تعالیٰ کی بےپایاں قدرت اور جن قوتوں کو اس کا شریک ٹھہرایا گیا ہے ان کی بےبسی کو بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ انسانوں کی غیرمعمولی ضروریات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ ہی کی بادشاہی ہے۔ اس کی باشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ طالب اور مطلوب سب کے سب اسی کے در کے فقیر ہیں۔
اے لوگو ! تم تمام کے تمام اپنے رب کی بارگاہ کے فقیر ہو اور اللہ غنی ہے۔ ساری کائنات اسی کی ثناء خواں اور محتاج ہے۔ وہ چاہے تو تمہیں ختم کرکے نئی مخلوق پیدا کردے وہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے اور اسے نافذ کرنے پر قادر ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بڑی بڑی قدرتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ جن کو ” اللہ “ کی خدائی میں شریک سمجھتے ہو وہ تو ایک چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ہی تمہاری دعاؤں کو سننے اور قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اب ارشاد فرمایا کہ جن سے تم…
Read the full tafseer →وہ ایسا غنی جو اغنیاء کو دینے والا ہے :
15: یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآ ئُ اِلَی اللّٰہِ (اے لوگو ! تم اللہ تعالیٰ ہی کے محتاج ہو) ۔
قولِ ذوالنون (رح) :
مخلوق ہر سانس اور قدم اور ہر لحظہ اس کی محتاج ہے اور کیسے نہ ہو ؟ اس لئے کہ ان کا وجود اسی کے وجود دینے سے اور ان کی بقاء اسی سے ہے۔ وَاللّٰہُ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (اور اللہ تعالیٰ ہی بےنیاز ہیں) تمام اشیاء سے۔
الْحَمِیْدُ : (خوبیوں والے ہیں) ہر زبان کی مدح خواں ہے۔
انسانوں کو تحقیر کیلئے فقراء نہیں فرمایا۔ بلکہ انسان کے استغناء پر تعریض کی گئی ہے اسی لئے تو اپناوصف الغنی لائے غنی وہ ذات ہے جو اغنیاء کو کھانا کھلائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
15، یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ، اللہ کا فضل فقیر محتاج ۔ ، واللہ ھو الغنی الحمید ، وہ فی نفسہ مخلوق کی حمد کی مستحق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
13 تا 17۔ یہ ایک اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ گرمی کے موسم میں رات کا کچھ حصہ دن میں ملایا جا کر دن کو بڑا کردیا جاتا ہے اور جاڑے کے موسم میں اسی طرح رات کو بڑھا دیا جاتا ہے پھر فرمایا سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے نفع کے لیے کام میں لگا رکھا کہ ہر ایک چلتا ہے مقدار معین کے ساتھ مدت مقرر تک پھر فرمایا یہ ہے اللہ پروردگار ہے تمہارا جس نے یہ سارے کام کئے ہیں اسی کے واسطے بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ مالک نہیں ایک قطمیر کے ‘ قطمیر چھلکے کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد وغیرہ نے کہا ہے کہ قطمیر وہ چھلکا ہے جو کھجور کی کٹھلی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
آیت 15
اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انہیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں :
(1) وہ وجود میں آنے کے لئے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو جود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آسکتے۔
(2) وہ اپنے مختلف قویٰ اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قوی عطا نہ کرے تو کسی کام کے لئے ان میں کوئی استعداد نہیں۔
(3) وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری و باطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں۔ اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کرسکتے۔
(4)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–27
حانث نہ ہونے کی صورتیں
قول باری ہے (ومن کل تاکلون لحما طریاو تستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو) حلیہ سے یہاں موتی اور وہ چیزیں مراد ہیں جو سمندر سے نکالی جاتی ہیں اور بطور زیور انہیں پہنا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت زیور نہ پہننے کی قسم کھالے تو اس قسم کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ تنہا موتی زیور نہیں کہلاتے جب تک ان کے ساتھ سونا نہ ہو۔
کیونکہ قول باری ہے (ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ او متاع اور جن چیزوں کو زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے آگ کے اندر تپاتے ہیں) یہ بات سونے میں ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
45 سب اللہ تعالیٰ ہی کی محتاج ہیں : سو اس ارشاد میں غافل اور ناشکرے لوگوں کے لیے ایک تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا اور ایسے غافل اور نا شکرے لوگوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " لوگو ! تم سب محتاج ہو اللہ کے اور اللہ ہی ہے جو ہر طرح سے اور ہر کسی سے غنی و بےنیاز اور ہر تعریف کا حق دار ہے۔ سو تم سب لوگ محتاج ہو اللہ کے۔ اپنے وجود میں، اپنی بقا میں اور اپنی ہر ضرورت و حاجت کی تحصیل و تکمیل میں۔ تم سب ہر وقت اور ہر اعتبار سے اس کے محتاج ہو کہ سب کا اور ہر طرح سے حاجت روا و مشکل کشا وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اللہ تم سے ہمیشہ اور ہر لحاظ و اعتبار سے غنی و بےنیاز ہے۔ اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–45
سچ تو یہ ہے جو اللہ نے اعلان کیا ہے
تشریح : ان آیات کی وضاحت کیا کی جائے یہ تو بذات خود علم و عرفان اور کلام الٰہی کی انتہائی آسان اور عام فہم مضمون کا مجموعہ ہیں۔ اہل علم کو معلوم ہے کہ مومن کو آنکھوں والا، زندہ اور نور سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ کافر کو اندھا، تاریکی اور مردہ کہا گیا ہے۔ پھر کفار کی ایک خاص خصلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اتنا ہٹ دھرم اور ضد کا پکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ نبیوں کو جھٹلاتا رہتا ہے اس لیے سیدنامحمد ﷺ کو بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ آپ ان کی ضد پر پریشان نہ ہوا کریں بس آپ ان کو سمجھاتے رہیں ان سے نمٹنا اللہ کا کام ہے۔ بار بار کفار کے لیے دوزخ اور مومن کے لیے جنت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی تم ہر لمحہ اور ہر آن اپنے وجود اور بقاء میں اسی کے محتاج ہو اور اس نے باوجود خود ” بےپروا “ ہونے کے تمہارے لئے زندگی کے اسباب فراہم کئے۔ پھر وہ حمید بھی ہے اگر تم ایمان لے آئو گے تو آخرت میں تمہیں اپنی نعمتوں سے نوازے گا۔ ( کبیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(35:15) الغنی۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ال۔ تعریف کا ہے اور عہد کا بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بےنیازی اور موجودات پر عمومی انعام معلوم و معروف ہے۔ الغنی بےنیاز۔ غیر محتاج۔ یہ بھی ذات باری تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے ہے !
الحمید۔ جو اپنی ذات میں مخلوق کی حمد کا مستحق ہو۔ حمد سے بروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی مفعول۔ یعنی محمود ہے ستودہ۔ تعریف کیا ہوا۔ یہ بھی ذات باری تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 26
فقرائ ( محتاج ، ضرورت مند) الغنی ( بےنیاز ، جو کسی کا محتاج نہ ہو) الحمید (جس کی ذات میں ہر طرح کی خوبیاں موجود ہوں) لا تزر (بوجھ نہیں اٹھاتا ہے) مثقلۃ ( لدا ہوا بوجھ) حمل (بوجھ) مسمع ( سنانے والا) خلا (گزر گیا) زبر (صحیفے ، کتابیں) نکیر (عذاب)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 26 :۔ انسان کی سب سے بڑی بھول اور نادانی یہ ہے کہ وہ اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کے لئے ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سی ایسے کمزور اور ناقابل اعتبار سہاروں میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے جن کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ زندگی بھر گمراہی کے اسی دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ ایسے نادانوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
(ف 1) یہ ایک اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ گرمی کے موسم میں رات کا کچھ حصہ دن میں ملاکردن کو بڑا کردیاجاتا ہے اور جاڑے کے موسم میں اسی طرح رات کو بڑھا دیاجاتا ہے پھر فرمایا کہ سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ نے نفع کے لیے کام میں لگارکھا ہے کہ ہر ایک بندھے ہوئے وقتوں پر چلتا ہے پھر فرمایا کہ یہی اللہ پروردگار ہے تمہارا، جس نے یہ سارے کام کیے ہیں اسی کے واسطے دونوں جہانوں میں بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے، اور اگر تم بتوں کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو بھی نہیں سنتے ، اس لیے کہ وہ پتھر ہی جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
[11] یعنی جس کی ہدایت منظور ہو۔ اور اللہ کو ہدایت اسی کی منظور ہے جو طالب ہدایت ہو۔ اس کو قبول ہدایت کی توفیق عطا فرماتا ہے۔
[12] یعنی جن لوگوں کے سینے ضمیر کا مدفن بن چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
تم سب محتاج ہو
1: اس ایک آیت میں مسئلہ شرک کا سارا زور توڑ دیا ہے ۔ فرمایا ہے کہ تم دیکھو ۔ کہ باوجود اس کے کہ تم بڑے بڑے جلیل القدر لوگ موجود ہیں اور مادنی اور روحانی اعتبار سے اعلیٰ ترین مراتب پر فائز ہیں ۔ مگر کیا ایک شخص بھی ایسا ہے ۔ جو اللہ سے لے نیازی کا دعویٰ کرسکے ۔ جو اس کے بنائے ہوئے قوانین کے سامنے اپنے آپ کو بےبس نہ پاتا ہو ۔ کیا کوئی ایسا ہے ۔ جو موت کے آہنی چنگل سے بچ جائے ۔ جو بیماری کو تکلیف کو محسوس نہ کرے ۔ جو بھوک سے بےقرار نہ ہوجائے ۔ جیسے پیاس بےچین نہ کردے ۔ پھر ان حالات میں جبکہ تم ہمہ احتیاج ہو ۔ ہر حالت میں ایک ایک دم اور قدم میں اس کے مقرر کردہ نظام کے تابع ہو ۔…
Read the full tafseer →(15) اے لوگو ! تم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ وہی ہے بےنیاز و بےاحتیاج سب خوبیوں سراہا اور تعریف کیا گیا۔ تمام بنی نوع انسان کو خطاب کر کے فرمایا تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ تو وہ سب سے بےنیاز ہے وہ کسی کا محتاج نہیں اور وہ تمام صفات حمیدہ سے متصف ہے لہٰذا عبادت کرنے اور شرک سے بچنے میں تمہارا ہی فائدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے کفر کی پرواہ نہیں کیونکہ وہ تو تمام خوبیوں سے متصف اور تعریف کیا گیا ہے۔ وہ سب خوبیوں کا مالک ہے۔ آگے حضرت حق تعالیٰ کی قوت اور مخلوق کی کمزوری کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 1۔ اوپر توحید کا ذکر تھا چونکہ کفار اس کا انکار کرتے تھے، اور اس انکار سے رسول اللہ ﷺ کو حزن بھی ہوتا تھا، اس لئے آگے انکار سے حق تعالیٰ کا ضرر نہ ہونا بلکہ خود ان کفار ہی کا ضرر ہونا اور تسلیم سے حق تعالیٰ کا کچھ نفع نہ ہونا بلکہ خود ان کا ہی نفع ہونا اور دنیا میں اس کا ضرر کا احتمال اور آخرت میں اس کا وقوع بیان کر کے کفار کی تحذیر اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حزن پر آپ کے تسلیہ کا مضمون ہے۔
Read the full tafseer →اے لوگو ! تم سب محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ ہی غنی ہے ، تعریف کیا گیا
15 ۔ انسان اور اغراض دونوں لازم وملزوم ہیں اور پھر انسان ہر غرض کے لئے محتاج ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی غرض پوری ہو اور اللہ تعالیٰ نے انسان کی ساری جائز اغراض کا جائز بندوبست کردیا ہے اس کی کوئی غرض ایسی نہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے بندوبست نہ کیا ہو اب انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اغراض کے لئے جائز اور درست کوشش اور جدوجہد کرے تاکہ وہ ان کو پورا کرسکے اس طرح انسان کے اندر جتنی خواہشات پیدا ہوسکتی ہیں ان سب کو پورا کرنے کا ایک جائز طریقہ بھی اور بہت سے ناجائز طریقے بھی ہیں اور یہ اس کے لئے امتحان رکھ دیا گیا ہے کہ وہ جائز طریقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
In the last verse: إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ (If you call them, they do not hear your call, and even if they were to hear, they would not respond to you. - 35:14). To explain, it can be said that if you call those idols or some prophets or angels you take as god and worship them asking them to help you in distress, they will, first of all, be unable to listen to you because idols do not have the ability to listen. Though, prophets and angels have this ability, yet they are not present everywhere nor do they hear that which is said by…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
36 That is, "You should not remain under the delusion that Allah stands in need of your help. If you do not accept Him as God, His Godhead will fail, and if you do not serve and worship Him, He will incur some loss. Nay, but the fact is that you stand in need of Him. You cannot remain alive for a moment if He dces not keep you alive, and does not provide you with the means by which you remain alive in the world and function. Therefore, when you are told to adopt His service and obedience, it is not because Allah stands in need of it, but because upon it depends your own success here as well…
Read the full tafseer →