35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار ہے) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں وہ (اپنی) مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

تمام تر حمد وثناء اسی اللہ کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق اور فرشتوں کو پیدا کرنے والا اور ان کو یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل، ملک الموت اور رعد و حفظہ کو پیغام رساں بنا کر سرفراز فرمانے والا ہے۔ ان فرشتوں میں سے بعض کے دو پر اور بازو ہیں کہ جن سے وہ اڑتے ہیں اور بعض کے تین ہیں اور بعضوں کے چار۔ بلکہ وہ فرشتوں کی پیدائش میں جو چاہے زیادہ کردیتا ہے یا یہ کہ ان پروں میں یا چھی اچھی نعمتوں میں یا عمدہ آواز میں جو چاہے اضافہ کردیتا ہے۔ وہ نقصان اور زیادتی ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

خدا جو اپنی رحمت (کا دروازہ) کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں اور جو بند کر دے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے

اللہ تعالیٰ جو رحمت یعنی بارش رزق اور سلامتی بندوں کے لیے بھیجے تو اس کی رحمت کا کوئی روکنے والا نہیں اور جس رحمت کو وہ بند کردے سو اس کے بند کرنے کے بعد کوئی اس رحمت کا جاری کرنے والا نہیں۔ اور وہ بند کرنے پر غالب اور جو چھوڑی ہے اس میں حکمت والا ہے۔
Ayah 35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

لوگو ! خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رزاق) ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو ؟

مکہ والو اللہ تعالیٰ کے احسانات یعنی بارش روزی اور امن کو یاد کرو سو کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود ہے جو آسمان سے بارش برساتا اور زمین سے سبزیاں اگاتا ہو۔ اس کے علاوہ جو تمہیں رزق دیتا ہے اور کوئی معبود نہیں پھر کیوں جھٹلا رہے ہو کہ اس کے علاوہ اور معبود تمہیں روزی دیتے ہیں۔
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ اگر یہ لوگ تم کو جھٹلائیں تو تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے گئے ہیں اور (سب) کام خدا ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے

اور اگر قریش آپ کو جھٹلائیں تو آپ کی قوم سے پہلے بھی دوسری قوموں نے جھٹلایا تھا اور بالآخر تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
Ayah 35:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

لوگو ! خدا کا وعدہ سچا ہے تو تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ (شیطان) فریب دینے والا تمہیں فریب دے

اے مکہ والو بعث بعد الموت ضرور ہوگا سو ایسا نہ ہو کہ یہ دنیوی زندگی رونق و بہار تمہیں اللہ کی پیروی سے دھوکے میں ڈالے رکھے اور ایسا نہ ہو کہ تمہیں دھوکا باز شیطان دین الہی سے دھوکا میں ڈال دیں یا کہ دنیا کی جھوٹی چیزیں۔
Ayah 35:6

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو وہ اپنے (پیروؤں کے) گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوں

بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے دین الہی اور اطاعت خداوندی میں ہرگز اس کی اطاعت مت کرو وہ تو اپنے گروہ اور اپنے ماننے والوں کو اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ بھی دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں جمع ہوجائیں۔
Ayah 35:7

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے

جو لوگ کافر ہوگئے یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو حضرات ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے جیسا کہ حضرت ابوبکر اور ان کے ساتھی ان کے لیے ان کے دنیاوی گناہوں کی بخشش اور جنت میں اجر عظیم ہے۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

بھلا جس شخص کو اس کے اعمال بد آراستہ کر کے دکھائے جائیں اور وہ ان کو عمدہ سمجھنے لگے تو (کیا وہ نیکو کار آدمی جیسا ہوسکتا ہے ؟) بیشک خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو ان لوگوں پر افسوس کر کے تمہارا دم نہ نکل جائے یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے واقف ہے

سو ایسا شخص جس کو اس کا عمل بد اچھا کر کے دکھلا دیا گیا پھر وہ اس کو اچھا سمجھنے لگا جیسا کہ ابو جہل تو کہیں یہ ایسے شخص کی برابری کرسکتا ہے جس کو ہم نے ایمان و اطاعت کے ساتھ سرفرازی عطا فرمائی جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ جو گمراہی کا اہل ہوتا ہے اسے اپنے دین سے گمراہ کرتے ہیں یعنی ابو جہل وغیرہ اور جو ہدایت کا مستحق ہوتا ہے اسے ہدایت کرتے ہیں جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق۔ لہٰذا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو ان کی تباہی و بربادی پر حسرت کر کے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے۔ یہ اپنی کفریہ حالت میں جو دار الندوہ میں رسول اکرم کو نقصان پہنچانے کی جو تدابیر و مشورے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کو ان سب سے باخبر ہے۔ شان نزول : اَفَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْۗءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَـنًا (الخ) جبیر نے بواسطہ ضحاک حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اکرم نے فرمایا تھا الہ العالمین اپنے دین کو عمر بن الخطاب یا ابوجہل بن ہشام کے ذریعے سے عزت عطا فرما تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق کو ہدایت دی اور ابو جہل کو گمراہ کیا ان دونوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور خدا ہی تو ہے جو ہوائیں چلاتا ہے اور وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر ہم انکو ایک بےجان شہر کی طرف چلاتے ہیں پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیتے ہیں اسی طرح مردوں کو جی اٹھنا ہوگا

اللہ تعالیٰ ایسا قادر ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے پھر وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم بارش سے زمین کو سیراب کرتے ہیں پھر ہم اس کے ذریعے سے بنجر زمین کو آباد کرتے ہیں اسی طرح تم زندہ کیے جاؤ گے اور قبروں سے نکالے جاؤ گے۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو شخص عزت کا طلبگار ہے تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتے ہیں اور جو لوگ برے برے مکر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر نابود ہوجائے گا

اور جو شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ عزت قدرت و طاقت کس کے لیے ہے تو سمجھ لے کہ تمام تر عزت بالذات اور قدرت اللہ ہی کو حاصل ہے۔ اچھا کلام یعنی کلمہ طیبہ اسی تک پہنچتا ہے اور وہ اس کو قبول کرتا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کر رہے ہیں یا یہ کہ جو دار الندوہ میں بڑی بڑی تدابیر کر رہے ہیں کہ رسول اکرم کو یا تو معاذ اللہ قید کرلیں یا آپ کو اس بستی سے نکال دیں یا سب ملکر آپ کو شہید کردیں۔ ان لوگوں یعنی ابو جہل وغیرہ کو سخت ترین عذاب ہوگا اور ان کا یہ مکر و فریب تباہ و برباد ہوجائے گا اور کہا گیا کہ یہ آیت سود خوروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تم کو جوڑا جوڑا بنادیا اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اسکے علم سے اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک یہ خدا کو آسان ہے

اللہ تعالیٰ نے تمہیں بذریعہ آدم مٹی سے پیدا کیا ہے پھر تمہیں تمہارے آباء کے نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنایا اور کسی عورت کو نہ حمل رہتا ہے اور نہ وہ پورا یا ادھورا جنتی ہے مگر سب کچھ اس کی اطلاع اور اجازت سے ہوتا ہے اور نہ کسی عمر والے کو عمر دی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر بڑھائی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم کی جاتی ہے، مگر یہ سب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہوتا ہے بغیر کتابت کے بھی ان تمام امور کا محفوظ رکھنا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور دونوں دریا مل کر یکساں نہیں ہوجاتے یہ تو میٹھا ہے پیاس بجھانے والا جس کا پانی خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے کڑوا اور سب سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے پہنتے ہو اور تم دریا میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ (پانی کو) پھاڑتی چلی آتی ہے تاکہ تم اسکے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

اور شیریں اور کھاری دونوں دریا ایک جیسے نہیں ہوسکتے بلکہ ان میں ایک تو شیریں پیاس بجھانے والا ہے جس کا پینا بھی آسان ہے اور ایک شور و تلخ ہے جو حلق سے نیچے بھی نہیں اترتا اور تم ان میں سے ہر ہر ایک دریا سے تازہ مچھلیاں نکال کر کھاتے ہو اور خاص طور سے تلخ شور دریا سے موتی اور جواہرات نکال کر ان کے زیورات پہنتے ہو اور تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ سمندر میں ہوا سے آتی جاتی اور پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں۔ تاکہ ان کے ذریعے سے اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم اس کی نعمتوں کا شکر کرا۔
Ayah 35:13

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے اور جن لوگوں کو تم اسکے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی تو (کسی چیز) کے مالک نہیں

وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے جس کی وجہ سے چند گھنٹے دن رات سے بڑا ہوجاتا ہے اور دن کے اجزاء رات میں داخل کرتا ہے جس سے چند گھنٹے رات لمبی ہوجاتی ہے اور اس نے چاند و سورج کی روشنی کو انسانوں کے کام میں لگا رکھا ہے۔ چاند، سورج، رات اور دن میں سے ہر ایک وقت مقررہ تک اپنی منزلوں میں چلتے رہیں گے۔ یہی اللہ جس کی یہ شان ہے تمہارا پروردگار ہے وہی یہ تمام کام کرتا ہے یہ جھوٹے معبود کچھ بھی نہیں کرسکتے اسی کے قبضہ قدرت میں تمام خزانے ہیں اور جن کی تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ پوجا کرتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتے۔
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کردیں گے اور (خدائے باخبر) کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا

اگر تم ان کو پکارو تو اول تو وہ تمہاری سنیں گے نہیں کیوں کہ وہ بہرے ہیں اور اگر وہ بالفرض سن بھی لیں تو کیونکہ انہیں تم سے دشمنی ہے اس لیے وہ تمہارا کہنا نہیں مانیں گے۔ اور قیامت کے روز تو وہ بت تمہارے شرک اور تمہاری عبادت کرنے کے خود مخالف ہوجائیں گے۔ اور تمہیں ان کے اور ان کے اعمال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی نہیں بتائے۔
Ayah 35:15

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

لوگو تم (سب) خدا کے محتاج ہو اور خدا بےپروا سزاوار (حمد و ثنا) ہے

اے لوگو تم ہی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور اس کے رزق اور سلامتی کے اور آخرت میں اس کی جنت کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ تو تمہارے مال و دولت سے بےنیاز اور خوبیوں والا ہے۔
Ayahs 35:16–17

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر چاہے تو تم کو نابود کر دے اور نئی مخلوقات لا آباد کرے

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ خدا کو کچھ مشکل نہیں

(16۔ 17) اور اے مکہ والو اگر وہ چاہے تو تمہیں فنا کردے اور تم سے بہتر اور زیادہ فرمانبردار ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ فنا اور نئی مخلوق کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ پر کوئی مشکل بات نہیں۔
Ayah 35:18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا اپنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو کوئی اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قرابت دار ہی ہو (اے پیغمبر ﷺ تم انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہو جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے اور نماز بالالتزام پڑھتے ہیں اور جو شخص پاک ہوتا ہے اپنے ہی لئے پاک ہوتا ہے اور (سب کو) خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

اور کوئی خوشی سے کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا لیکن زبردستی دوسرا اس پر لادنا چاہے گا یا یہ کہ کسی کو دوسرے کے گناہ میں نہیں پکڑا جائے گا یا یہ کہ کسی انسان کو بغیر گناہ کے عذاب نہیں دیا جائے گا اور اگر کوئی گناہوں کے بوجھ سے لدا ہوا کسی کو اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے بلا لے گا تو بھی اس کے سننے والوں سے کچھ بھی بوجھ نہیں اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ شخص قرابت دار یعنی ماں باپ اور اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ اے نبی اکرم آپ کا ڈرانا تو ایسے لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے جو بغیر دیکھے اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں اور پانچوں نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور جو توحید کا قائل ہوتا ہے اور پاک ہوتا ہے اور اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے تو ان تمام خوبیوں کا ثواب اسی کی ذات کو پہنچانا ہے اور آخرت میں سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Ayahs 35:19–24

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ اندھیرا اور روشنی

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ اور دھوپ

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں خدا جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے

(19۔ 24) اور کافر مومن دونوں برابر نہیں اور نہ کفر و ایمان اور نہ جنت و دوزخ اور نہ مومنین و کافرین اطاعت و بزرگی میں برابر ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو اس چیز کا اہل ہوتا ہے اس کو سمجھا دیتا ہے اور آپ ان لوگوں کو نہیں سمجھا سکتے جو ایسے ہیں جیسا کہ قبروں میں دفن کیے گئے ہیں۔ آپ تو صرف قرآن کریم کے ذریعے سے ڈرانے والے پیغمبر ہیں۔ ہم ہی نے آپ کو قرآن کریم دے کر مسلمانوں کو جنت کی خوشخبری سنانے والا اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی اللہ کی طرف سے ڈرانے والا پیغمبر نہ گزرا ہو۔
Ayah 35:25

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کریں تو جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں ان کے پاس ان کے پیغمبر کی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے لے کر آتے رہے

اور محمد اگر قریش آپ کو جھٹلائیں تو جو لوگ آپ کی قوم سے پہلے گزرے ہیں انہوں نے بھی اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور وہ پیغمبر ان کے پاس اوامرو نواہی معجزات اور پہلے صحیفوں کی خبر اور حلال و حرام کو واضح کردینے والی کتاب لے کر آئے تھے۔
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا ہوا ؟

نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے ان کافروں کو پکڑ لیا سو آپ دیکھیے کہ جب وہ ایمان نہ لائے تو میں نے عذاب سے ان کو کیسا تہ وبالا کیا۔
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا ؟ تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے پیدا کئے اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور (بعض) کالے سیاہ ہیں

اے مخاطب کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بارش برسائی پھر ہم نے اس پانی سے مختلف اقسام کے تلخ اور شیریں پھل پیدا کیے اسی طرح پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں اور پھلوں کی رنگتوں کی طرح کچھ سفید ہیں اور کچھ سرخ اور کچھ بہت گہرے سیاہ ہیں۔
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

انسانوں اور جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں بیشک خدا غالب (اور) بخشنے والا ہے

اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی کچھ ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں کہ بعض اوقات اختلاف اصناف کے ساتھ یہ چیز ہے۔ اور اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو اس کی عظمت کا علم رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی سلطنت و بادشاہت میں زبردست اور مومن کی مغفرت فرمانے والا ہے۔
Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیداوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی

اور جو حضرات یعنی حضرت ابوبکر اور ان کے ساتھی قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور پانچوں نمازوں کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو مال دیا ہے اس میں سے خفیہ طور پر بھی اور علانیہ طور پر بھی خرچ کرتے ہیں۔ اور دائمی نفع والی تجارت یعنی جنت کے امیدوار ہیں جو کبھی ماند نہ ہوگی۔ شان نزول : اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ (الخ) عبدالغنی بن سعید ثقفی نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حسین بن حارث بن عبدالمطلب قرشی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

کیونکہ خدا ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی دے گا وہ تو بخشنے والا (اور) قدردان ہے

تاکہ اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے اعمال کا ثواب ان کو پورا دیں اور اپنے فضل سے اور زیادہ بھی دیں کہ ایک نیکی پر دس گنا ثواب عطا کریں۔ وہ ان کے بڑے گناہوں کا بخشنے والا اور معمولی نیکیوں کا قبول کرنے والا ہے کہ ذرا سی نیکی کو قبول فرماتا ہے اور اس پر زیادہ ثواب دیتا ہے۔
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں بیشک خدا اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے۔

اور یہ قرآن حکیم جو ہم نے آپ پر بذریعہ جبریل امین نازل کیا ہے بالکل ٹھیک ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی توحید اور بعض احکام میں تصدیق کرتا ہے اللہ تعالیٰ مومن وغیر مومن سب کی حالت کی پوری خبر رکھنے والا ہے۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں یہی بڑا فضل ہے

پھر آپ پر قرآن حکیم نازل کرنے کے بعد اس کے یاد رکھنے اور اس کے لکھنے اور اس کی کتاب کی تلاوت کرنے کی دولت ان لوگوں کو نصیب فرمائی جن کو ہم نے بذریعہ ایمان اپنے تمام بندوں میں پسند کیا ہے یعنی رسول اکرم کی امت تو ان میں سے بعض کبیرہ گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں کہ ان کی نجات شفاعت یا مغفرت وعدہ ہی کے ساتھ ہوسکتی ہے اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں کہ ان کی نیکیاں اور گناہ دونوں برابر ہیں کہ ان کا معمولی سا حساب ہو کر پھر ان کی نجات ہوجائے گی اور کچھ ان میں ایسے ہیں جو اللہ کی توفیق سے دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے جارہے ہیں اور آخرت میں جنت عدن کا قرب حاصل کرتے جارہے ہیں یہ انتخاب اور اعمال صالحہ میں سبقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ان پر بڑا عظیم الشان احسان ہے۔
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

(ان لوگوں کے لئے) بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کی پوشاک ریشمی ہوگی

اور جنت الفردوس ان کا ٹھکاناہ ہوگا کہ باغات جس کے چاروں طرف ہوں گے اور جنت میں مردوں کو سونے کے کنگن اور عورتوں کو موتی پہنائے جائیں گے اور پوشاک وہاں ریشم کی ہوگی۔
Ayah 35:34

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا بیشک ہمارا پروردگار بخشنے والا (اور) قدردان ہے

اور جنتی جنت میں کہیں گے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ جس نے ہم سے موت وزوال اور قیامت کی سختیوں کے غم کو یا یہ کہ دنیوی مصائب کے غم کو دور کیا بیشک ہمارا پروردگار بڑے گناہوں کو معاف کرنے والا اور معمولی نیکیوں کا قبول کرنے والا ہے۔
Ayah 35:35

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ کے رہنے کے گھر اتارا یہاں نہ تو ہم کو رنج پہنچے گا اور نہ ہمیں تکان ہی ہوگی

جس نے ہمیں اپنے فضل سے جنت میں اتارا کہ جہاں نہ ہمیں کوئی تکلیف پہنچے اور نہ کوئی تھکان پہنچے گی۔ شان نزول : لَا يَمَسُّنَا فِيْهَا نَصَبٌ (الخ) اور امام بیہقی نے کتاب البعث میں اور ابن ابی حاتم نے نفیع بن حارث کے واسطہ سے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ نیند ایسی چیز ہے کہ جس سے اللہ تعالیٰ دنیا میں ہماری آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے تو کیا جنت میں بھی سونا میسر ہوگا۔ آپ نے فرمایا نہیں سونا تو موت کا شریک ہے اور جنت میں موت نہیں ہوگی اس نے عرض کیا تو پھر ان کی راحت کا کیا سامان ہوگا۔ رسول اکرم پر سوال گراں گزرا آپ نے فرمایا وہاں ہر ایک کو راحت ہوگی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 35:36

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے نہ انہیں موت آئے گی کہ مرجائیں اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا ہم ہر ایک ناشکرے کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

اور جو کافر ہیں یعنی ابو جہل وغیرہ ان کے لیے آخرت میں دوزخ کی آگ ہوگی نہ تو ان کی قضا آئے گی کہ وہ مر ہی جائیں کہ اس عذاب سے آرام ہو اور نہ ایک لمحہ کے برابر ان سے دوزخ کا عذاب ہی ہلکا اور نہ ختم کیا جائے گا۔ آخرت میں اسی طرح ہم ہر ایک کافر کو سزا دیتے ہیں۔
Ayah 35:37

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

وہ اس میں چلائیں گے کہ اے پروردگار ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کریں گے نہ وہ جو (پہلے) کرتے تھے کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تو اب مزے چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

اور وہ کافر اس دوزخ میں پڑے ہوئے فریاد اور واویلا اور آہ وزاری کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں دوزخ سے نکال کر پھر دنیا میں بھیج دیجیے تاکہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور خوب خلوص کے ساتھ نیک اعمال کریں بجائے ان کاموں کے جو کہ حالت شرک میں کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ اے گروہ کفار کیا ہم نے تمہیں دنیا میں اتنی مہلت نہیں دیت کہ جس کو نصیحت حاصل کرنی اور ایمان لانا ہوتا وہ نصیحت حاصل کرلیتا اور ایمان لے آتا اور تمہارے پاس رسول اکرم قرآن کریم لے کر آئے تھے اور تمہیں اس دن سے ڈرایا تھا مگر پھر بھی تم ایمان نہیں لائے سو اب دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو ایسے کافروں کا عذاب خداوندی کے مقابلہ میں کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک خدا ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے وہ تو دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے

اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے اگر تمہیں پھر دنیا میں بھیج دیا جائے تو پھر تم ان ہی باتوں کا ارتکاب کرو گے جن سے تمہیں روکا گیا تھا اور دلوں میں جو نیکی اور برائی پوشیدہ ہے وہ ہی اس کا جاننے والا ہے۔
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں (پہلوں کا) جانشین بنایا تو جس نے کفر کیا اسکے کفر کا ضرر اسی کو ہے اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی بڑھتی ہے اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی زیادہ کرتا ہے

وہی ایسا ہے اے امت محمدیہ جس نے تمہیں پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد زمین پر آباد کیا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے۔ اور نیز کافروں کے لیے ان کا دنیوی کفر آخرت میں خسارہ ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے۔
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

بھلا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا جن کو تم نے خدا کے سواء پکارتے ہو مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی ہے یا (بتاؤ کہ) آسمانوں میں انکی شرکت ہے ؟ یا ہم نے ان کو کتاب دی ہے تو وہ اس کی سند رکھتے ہیں ؟ (ان میں سے کوئی بات بھی نہیں) بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں محض فریب ہے

آپ ان کفار مکہ سے یہ تو کہیے کہ تم معبودوں کا حال تو بتاؤ جن کی تم پوجا کرتے ہو کہ انہوں نے زمین کا کون سا حصہ بنایا ان کا آسمانوں کے بنانے میں کچھ حصہ ہے یا ہم نے ان کفار مکہ کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کتاب کی کسی دلیل پر قائم ہوں کہ ان کو عذاب نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ مشرک سردار دنیا میں اپنے پیروکاروں سے ایسا وعدہ کرتے آئے ہیں جو آخر بالکل ہی بےبنیاد اور دھوکا ہے۔