Saba 34:53

Saba · from ayah 53

34:53

وَّقَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ ۚ— وَیَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍ بَعِیْدٍ ۟وَّقَدۡ كَفَرُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُۚ وَيَقۡذِفُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ مِنۡ مَّكَانٍۢ بَعِيۡدٍ‌

اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they had already disbelieved in it before and would assault the unseen from a place far away.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:53

اِس سے پہلے یہ کفر کر چکے تھے اور بلا تحقیق دور دور کی کوڑیاں لایا کرتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس سے پہلے تو انہوں نے اس سے کفر کیا تھا، اور دور دراز سے بن دیکھے ہی پھینکتے رہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جبکہ انہوں نے پہلے اس کا انکار کیا تھا، اور دور دور سے اٹک پچوں تیر پھینکا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ پہلے تو اس سے کفر کرچکے تھے، اور بے دیکھے پھینک مارتے ہیں دور مکان سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

حالانکہ وہ اس سے پہلے کفر کر چکے، اور وہ بِن دیکھے دور کی جگہ سے باطل گمان کے تیر پھینکتے رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

حالانکہ بلا شبہ وہ اس سے پہلے اس سے انکار کرچکے ہیں اور وہ بہت دور جگہ سے بن دیکھے (نشانے پر) پھینکتے رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

حالانکہ اس سے پہلے وہ (دنیا میں) انکار کرچکے تھے اور بن دیکھے (اندھیرے میں) انہیں بہت دور کی سوجھتی تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس سے پہلے انہوں نے اس کا انکار کیا اور دور سے اٹکلی کے تیز تکتے چلاتے رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب کہ اس سے قبل یہ لوگ (زندگی بھر) اس کا انکار کرتے رہے تھے اور یہ بن دیکھے (اٹکل کے) تیر پھینکتے رہے دور کی جگہ سے

— مولانا اسحاق مدنی

درآنحالیکہ پہلے سے یہ لوگ اس (حق) کا انکار کرتے رہے اور بےتحقیق باریں دور ہی سے ہانکا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور پہلے تو انہوں نے اس کا کفر کیا تھا اور وہ (اٹکل کے) تیر ُ تکے چلاتے رہے بن دیکھے دور کی جگہ سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بغیر دیکھے دور ہی سے خیالی تیر چلاتے رہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They disbelieved in it before and indulged in conjectures from far away.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

while they had rejected it before, and used to make conjectures from a remote place?

— Muhammad Taqi Usmani

while they had rejected it before, and used to make conjectures from a remote place?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Indeed they did disbelieve before (in this world), and they (used to) conjecture about the Unseen, from a far place.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When they disbelieved in it of yore. They aim at the unseen from afar off.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they had already disbelieved in it before and would assault the unseen from a place far away.

— Saheeh International

They had rejected it in their worldly life and expressed disbelief at the unseen (Day of Judgment), considering it less than a remote possibility.

— Muhammad Sarwar

And they disbelieved in it before, and they utter conjectures with regard to the unseen from a distant place.

— Muhammad Habib Shakir

Whereas they disbelieved therein afore, and conjectured about the unseen from a place so afar.

— Abdul Majid Daryabadi

Seeing that they did reject Faith (entirely) before, and that they (continually) cast (slanders) on the unseen from a position far off?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–54

عذاب قیامت اور کافر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے اے نبی کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے۔ کہ ہرچند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔ نہ بھاگ کر، نہ چھپ کر، نہ کسی کی حمایت سے، نہ کسی کی پناہ سے۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے پکڑ لئے جائیں گے۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لئے گئے۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لئے گئے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں۔ بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکہ مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے۔ ابن جریر نے اسے بیان کر کے اس کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 75 یعنی رسول ﷺ اور تعلیمات رسول ﷺ اور اہل ایمان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے، آوازے کستے اور فقرے چست کرتے تھے۔ کبھی کہتے یہ شخص ساحر ہے۔ کبھی کہتے مجنون ہے۔ کبھی توحید کا مذاق اڑاتے اور کبھی آخرت کے تخیل پر باتیں چھانٹتے۔ کبھی یہ افسانہ تراشتے کہ رسول ﷺ کو کوئی اور سکھاتا پڑھاتا ہے اور کبھی ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے کہ یہ محض اپنی نادانی کی وجہ سے رسول ﷺ کے پیچھے لگ گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وقد کفروا بہ من قبل ویقذنون بالغیب من مکان بعید، قذف کے معنی کوئی چیز پھینک کر مارنے کے آتے ہیں۔ عرب کا محاورہ ہے کہ جو شخص بلا دلیل محض اپنے خیال سے باتیں کرتا ہے اس کو رجم بالغیب اور قذف بالغیب کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں، کہ یہ اندھیرے میں تیر چلاتے ہیں جس کا کوئی نشانہ نہیں ہوتا، اور یہاں من مکان بعید کے الفاظ سے مراد یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں ان کے دلوں سے دور ہوتا ہے دل میں اس کا عقیدہ نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 53 ’ قذف بالحجارۃ ‘ کے معنی ہیں پتھر پھینکا۔ ’ قذف بالقول ‘ تکلم بلا تدبر ولا تامل۔ یعنی بےسوچے سمجھے بات پھینک ماری۔ یہیں سے یہ ’ رجما بالغیب ‘ یعنی اتکل پچو بات کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب دیکھنے کے بعد وہ ایمان کا اقرار کریں گے حالانکہ اس سے پہلے وہ دور سے بیٹھے ہوئے اٹکل کے تیر تکے چلاتے رہے تھے کہ یہ کتاب من گھڑت ہے، اس کا پیش کرنے والا (العیاذ باللہ) برخود غلط ہے، عذاب کی دھمکی محض دھونس ہے، قیامت کا ڈراوا محض خلل دماغ کا نتیجہ ہے اور اگر قیامت کا کوئی مرحلہ پیش آیا تو ہمارے شرکاء کے طفیل ہمارا تفوق وہاں بھی قائم رہیگا۔ الغرض عقل کو بالائے طاق رکھ کے قرآن اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 یعنی اپنے گمان سے کہتے رہے کہ قیامت اور حساب کتاب نہیں۔ یا قرآن کے بارے میں کہتے رہے کہ یہ جادو، گھڑا ہوا جھوٹ اور پہلوں کی کہانیاں ہیں یا محمد ﷺ کے بارے میں کہتے رہے کہ یہ جادوگر ہے، کاہن ہے، شاعر ہے مجنون ہے۔ جب کہ کسی بات کی بھی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 52–54

23: یعنی ایمان لانے کی اصل جگہ دنیا تھی جو اب دور جا چکی، اب یہاں اتنی دور پہنچنے کے بعد وہ ایمان تمہارے ہاتھ نہیں آسکتا جو دنیا ہی میں مطلوب تھا، کیونکہ دیکھنا تو یہی تھا کہ دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو کر تم اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے ہو، یا بھول جاتے ہو ؟ اب جبکہ آخرت کا سارا منظر آنکھوں کے سامنے آگیا تو اب ایمان لانا کون سے کمال کی بات ہے جس کی بنا پر تمہیں معاف کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–54

اب خاتمہ اس سورة کا قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ منظر حرکت اور دوڑ دھوپ سے پر ہے ۔ اس میں دنیا اور آخرت کے ڈانڈے ملے ہوئے ہیں ۔ گویا دنیا اور آخرت ایک ہی اسٹیج پر ہیں ۔ اس منظر کی جھلکیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر گزرتی ہیں۔ فزعوا (34: 51) اچانک ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔ یہ بھا گنا چاہتے تو تھے لیکن دیکھو پکڑے جارہے ہیں ، کوئی ایک بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ دور تک نہیں بھاگ سکتے قریب قریب ہی سے پکڑے جارہے ہیں ۔ واخذوا من مکان قریب (34: 51) اچانک انہوں نے تھوڑی بہت حرکت تو کی بھاگنے کے لیے مگر نہ بھاگ سگے ۔ اب سب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے بعد ازوقت ۔ اب تو ایمان ان سے بہت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی پہلے جب ایمان لانے کا وقت تھا انکار پر تلے رہے اور یوں ہی اٹکل کے تیر چلاتے رہے۔ دنیا میں رہ کر ہمیشہ بےتحقیق باتیں کیں۔ سچی اور تحقیقی باتوں کو قبول نہ کیا۔ اب پچھتانے سے کیا حاصل ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 53 { وَّقَدْ کَفَرُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ وَیَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } ”اور پہلے تو انہوں نے اس کا کفر کیا تھا ‘ اور وہ اٹکل کے تیر ُ تکے ّچلاتے رہے بن دیکھے دور کی جگہ سے۔“ اپنی دنیا کی زندگی میں تو وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں کبھی کہتے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور یہ ان کا اپنا کلام ہے ‘ کبھی کہتے کہ انہوں نے گھر میں کوئی آدمی چھپا رکھا ہے جو انہیں یہ سب کچھ سکھاتا ہے۔ کبھی کہتے کہ ان پر ِجن آگیا ہے۔ بہر حال جب ان کے سوچنے اور ایمان لانے کا موقع تھا اس وقت تو وہ قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا انکار کرتے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

78 یعنی جب دنیا میں ان سے عالم آخرت کی بات کی جاتی تھی تو اس پر غور کرنے کے بجائے اسے دیوانگی پر محمول کرتے تھے۔ کبھی داعی حق کو مفتری علی اللہ کے لقب سے نوازتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ اسے کوئی عجمی سکھلا جاتا ہے۔ کبھی اسے ساحر، کاہن اور شاعر کے طعنے دیتے تھے۔ ان دل کے اندھوں کو بصالت کے اندھیروں میں بہت دور کی سوجھتی تھی۔ لیکن نیک نیتی کے ساتھ غور و فکر کرنے کا نام تک نہ لیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

71۔ یعنی تحقیق حق سے بہت دور رہے، اور اٹکل کے تکے چلاتے رہے۔ (آیت) ” یقذفون بالغیب “۔ قذف بالغیب کے معنی اٹکل کے تکے چلانے کے ہیں۔ العرب تقول لکل من تکلم بما لایحقہ ھو یقذف ویرجم بالغیب (قرطبی) (آیت) ” بہ “۔ ضمیر یہاں بھی دین حق کے جانب ہے۔ (آیت) ” من قبل “۔ یعنی دنیا میں جو دارالعمل تھی، عمل کی مہلت تو اسی عالم ناسوت کے ساتھ مخصوص ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–54

آیت نمبر 46 تا 54 ترجمہ : آپ کہئے کہ میں تمہیں صرف ایک (مختصر سی) بات کی نصحیت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم خدا کے وسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو یا تنہا تنہا کھڑے (مستعد) ہوجاؤ، پھر سوچو تو تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے ساتھی محمد کو کوئی جنون نہیں وہ تو تم کو آخرت کے سخت عذاب سے اس کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے اگر تم اس کی بات نہ مانو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرنے اور تبلیغ پر تم سے جو معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو یعنی میں اس انذار و تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ طلب نہیں کرتا، میرا صلہ تو اللہ ہی کے ذمہ ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے میری صداقت سے واقف ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق بات اپنے نبیوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقد کفروا بہ من قبل . اور اس سے پہلے (دنیا میں) انہوں نے اللہ کا (یا اللہ کے رسول کا ‘ یا قرآن کا ‘ یا عذاب کا) انکار کیا تھا (ضمیر کا مرجع پہلے کلام میں ہونا ضروری ہے ‘ خواہ صراحۃً اس کا ذکر کیا گیا ہو یا ضمناً ) اللہ کا کر تو صراحۃً پہلے موجود ہے اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر آیت مَا بِصَاحِبِکُمْ مِّنْ جِنَّہٍ میں کردیا گیا ہے۔ اسی طرح قرآن کا ذکر آیت جاء الحق میں آیا ہے اور اُخِذُوْا کے لفظ کے اندر عذاب کا مفہوم موجود ہے۔ ویقذفون بالغیب من مکان بعید . اور بےتحقیق باتیں دور ہی دور سے ہانکا کرتے تھے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ اور آخرت کے معاملہ میں بلاتحقیق شبہات کرتے تھے۔ جو شخص بن دیکھی چیز پر دور سے تیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

حالانکہ دنیا میں بےتحقیق باتیں ہانک رہے تھے کہ جنت و دوزخ کچھ نہیں اور اب مرنے کے بعد پھر بلا تحقیق دنیا کی طرف واپسی کی درخواست کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّقَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ : یعنی اس سے پہلے جب ایمان لانے کا وقت تھا تو اس کے ساتھ کفر کرتے رہے۔ وَيَقْذِفُوْنَ بالْغَيْبِ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ : غیب سے مراد بِن دیکھے ہے۔ دور سے پتھر یا تیر پھینکا جائے، پھر ایسے نشانے پر پھینکا جائے جسے دیکھا ہی نہ ہو تو وہ پتھر یا تیر نشانے پر کیسے پہنچ سکتا ہے۔ یعنی یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسول اور آخرت کے انکار پر اڑے رہے اور ان کے متعلق کچھ بھی جانے بغیر طرح طرح کی باتیں کرتے رہے، کبھی رسول کا مذاق اڑاتے، اسے مجنون، ساحر، کذّاب کہتے، کبھی اہل ایمان پر پھبتیاں کستے، کبھی موت کے بعد زندگی کو ناممکن قرار دیتے رہے۔ الغرض ! جو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–53

و قد کفروا بہ ہا ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ من قبل یعنی دنیا میں۔ آیت : و یقذ فون با لغیب عرب ہر ایسے شخص کے بارے میں کہتے ہیں جو ایسی گفتگو کرتا ہے جو مناسب نہیں ہوتی : ھو یقذف و یرجہ با لغیب۔ آیت : من مکان بعید جو آدمی پتھر پھینکتا ہے اور وہ صحیح جگہ نہیں پہنچتا، اس کے لیے تمثیل کے طریقہ پر یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ ظن وتخمین کرتے ہیں اور کہتے ہیں : کوئی دوبارہ اٹھانا نہیں، کوئی نشور نہیں (1) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 253 ) ، کوئی جنت نہیں اور کوئی دوزخ نہیں۔ وہ یہ باتیں ظن وتخمین کے طور پر کرتے ہیں : یہ قتادہ کا قول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–53

1: ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت وقالوا اٰمنا بہ اور انہوں نے کہا کہ ہم اس کے ساتھ ایمان لے آئے یعنی اللہ پر آیت وانی لہم التناوش (ان کے لیے ایمان کا ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے) یعنی پہنچنا ایمان کو آیت من مکان بعید۔ (اتنی دور جگہ سے) جو آخرت اور دنیا کے درمیان ہوگا آیت وقد کفور ا بہ من قبل (اور وہ اس سے پہلے اس کا انکار کرچکے ہیں) یعنی دنیا میں اللہ کا انکار کرچکے ہیں آیت ویقذفون بالغیب من مکان بعید (بےتحقیق باتیں دور ہی دور سے ہانکا کرتے تھے) یعنی دنیا میں ان کی باتیں تھیں کہ وہ (یعنی محمد ﷺ جادوگر ہیں بلکہ کاہن ہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَّقَدْ كَفَرُوْا بِهٖ [اس حال میں کہ وہ انکار کرچکے ہیں اس کا ] مِنْ قَبْلُ ۚ [اسے سے پہلے ] وَيَقْذِفُوْنَ [اور وہ پھینکیں گے ] بِالْغَيْبِ [غیبیں (اندھیرے ہیں)] مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ [دور والی جگہ سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–54

آخری آیتوں میں منکرین کے لیے وعید ہے، فرمایا (وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا) (الی اخر السورۃ) (اور اگر آپ اس وقت کو دیکھیں جب یہ لوگ گھبرا جائیں گے تو پھر چھوٹنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور قریبی جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لائے اور اتنی دور سے ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے اس کا انکار کرچکے ہیں، اور دور ہی دور سے بےتحقیق باتیں پھینکا کرتے ہیں اور ان کے اور ان کی آرزو کے درمیان آڑ کردی جائے گی۔ بلاشبہ وہ تردد میں ڈالنے والے شک میں تھے۔ بتوفیق اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ سورة سبا کی تفسیر تمام ہوئی والحمد للّٰہ اولاً واخرًا و باطناً وظاھرًا والسلام علی من…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–54

خاتمہء سورت برکلمہء حکمت وموعظت قال اللہ تعالی۔ قل انما اعظکم بواحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ انہم کانوا فی شک مریب۔ (ربط) ابتدائے سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت اور قیامت تینوں مضمون بیان ہوئے اب سورت کو ایک نصیحت پر ختم فرماتے ہیں جس سے توحید اور رسالت اور قیامت یعنی دین کے اصول ثلاثہ کی حقانیت واضح ہوجائے۔ ان تقوموا للہ سے توحید کی طرف اشارہ ہے اور ما بصحبکم من جنۃ ان ھو الا نذیر لکم۔ سے رسالت کی طرف اشارہ ہے اور بین یدی عذاب شدید سے یوم آخرت کی طرف اشارہ ہے تفسیر کبیر ص 24 ج 7۔ اور قل ما سالتکم من اجر سے مشرکین کے اس شبہ کو قطع کرنا ہے کہ آپ ﷺ کا فرمانا کسی طمع اور غرض پر مبنی نہیں بلکہ فقط تمہاری…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

55:۔ و قد کفروا بہ الخ : ای یقال یعنی کہا جائے گا۔ آخرت سے پہلے وہ دنیا میں کفر کرچکے ہیں جو ایمان لانے کی جگہ تھی اس لیے اب ایمان لانا بےفائدہ ہے۔ ویقذفون الخ : جب دنیا میں تھے تو حق سے بہت دور تھے اور اٹکل کے تیر چلاتے تھے یعنی آخرت جوان دیکھی چیز تھی کے بارے میں دنیا میں جو آخرت سے بہت دور تھی اٹکل سے باتیں کرتے تھے۔ اور حشر و نشر اور آخرت کا انکار کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–54

ربط آیات گزشتہ آیات میں مشرکین کے باطل نظریات کا رد ہوا وہ بدبخت پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت و نبوت کا انکار کرتے تھے اور قرآن پاک کو کلام الٰہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، پھر جب قرآن کے اثر انداز ہونے کی بات ہوئی تو اسے جاننے سے تعبیر کرتے۔ اللہ نے مشرکین کو سخت تنبیہ کی اور اب آخر میں نصیحت کے پیرائے میں فرمایا کہ اگر مشرک لوگ ذرا بھی غور و فکر کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ حضور ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور ان کا لایا ہوا قرآن اللہ کی برحق کتاب ہے۔ قیامت یقینا آنے والی ہے اور سب کو محاسبے کے عمل سے گزرنا ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے سابقہ ادوار کے مشرکوں کا حال بھی بیان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّقَدْ كَفَرُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ۝ 0 ۚ وَيَقْذِفُوْنَ بِالْغَيْبِ مِنْ مَّكَانٍؚبَعِيْدٍ۝ 53 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–54

دلائل قائم کرکے ہٹ دھرم مخاطبوں کو اب ایک اور طریقہ سے ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ فقال قل انما اعظکم بواحدۃ کہ میں تم کو ایک ہی بات کہتا ہوں، نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر اس کے بھی معنی نہیں کہ آپ ان کو صرف ایک ہی حکم پر مامور کرتے تھے۔ توحید وغیرہ کہ پھر باقی شاخیں قرار دی جاویں، جیسا کہ تفسیر کبیر میں ہے بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ جیسا کہ کہا کرتے ہیں۔ لو اب تم ایک کام کرو۔ ان تقوموا للّٰہ کہ ایک ایک تنہا ہو کر اور باہم مل کر خدا کے لیے یہ تو سوچو کہ تمہارے صاحب کو یعنی مجھے کچھ جنون تو نہیں ہے۔ یہ رسالت کے اثبات میں کلام ہے کہ خوب غور کرو کہ میں دیوانہ نہیں ہوں۔ جب دیوانہ نہیں تو کون عاقل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 52–53

وَّقَدْکَفَرُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ ج وَیَـقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّکَانٍ م بَعِیْدٍ ۔ (السباء : 53) (اور اس سے پہلے یہ کفر کرچکے تھے اور دور سے اٹکل کے تیرت کے چلاتے رہے۔ ) قذف کے معنی کوئی چیز پھینک کر مارنے کے آتے ہیں۔ قَذَفَ بِالْحِجَارَۃ کے معنی ہیں اس نے پتھر پھینکا۔ قذف بالقول بےسوچے سمجھے بات پھینک ماری۔ یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جو شخص بلادلیل محض اپنے خیال سے باتیں کرتا ہے اس کو رجم بالغیب اور قذف بالغیب کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب دیکھنے کے بعد وہ ایمان کا اقرار کریں گے۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ اس کا انکار کرچکے اور دور سے بےسروپا باتیں کہتے رہے اور اٹکل کے تیر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 52–54

فہم القرآن ربط کلام : کفر و شرک پر قائم رہنے والوں کا انجام۔ کفار اور مشرکین جہنم کو دہکتے اور ہانپتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے پسینے چھوٹ جائیں گے اور ان کے کلیجے منہ کو آجائیں گے وہ اپنے طور پر بھاگنے کی کوشش کریں گے۔ ابھی وہ بھاگنے کا سوچ ہی رہے ہوں گے کہ ملائکہ ان کی گردنیں دبوچتے ہوئے ان کے گلے میں جہنم کے طوق ڈال دیں گے اور ان کے پاؤں میں بیڑیاں پہنا دیں گے۔ ان کو کوڑوں سے ہانکتے ہوئے جہنم کی طرف دھکیل دیں گے۔ اس صورت حال میں جہنمی حسرت بھرے الفاظ اور انداز میں فریاد کریں گے کہ اب ہم ایمان لاتے ہیں کیونکہ ہم نے وہ سب کچھ دیکھ اور پالیا ہے جس کی ہم تکذیب کیا کرتے تھے۔ لیکن اس وقت ایمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

غیب کے متعلق بلا تحقیق باتیں : 53: وَّ قَدْ کَفَرُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ (حالانکہ پہلے سے یہ لوگ اس حق کا انکار کرتے رہے) من قبل العذاب : عذاب سے پہلے یا دنیا میں وَیَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ (اور بےتحقیق باتیں کہتے تھے) اس کا عطف قد کفروا پر ہے۔ حال ماضی کی حکایت ہے۔ مطلب یہ ہے وہ غیب کے متعلق باتیں کرتے یا اس شئی کے متعلق بات کرتے جو غائب ہے کہا کرتے تھے نہ بعث بعدالموت ہے اور نہ حساب ہے۔ یا کہا کرتے کہ محمد ﷺ شاعر، ساحر، کذاب ہے اور یہ تکلم بالغیب ہے اور مخفی بات کے متعلق نکالی گئی بات ہے کیونکہ انہوں نے آج تک آپ سے سحر، شعر اور نہ ہی کذب کا مشاہدہ کیا۔ اور اب وہ یہ پوشیدہ کر رہے ہیں جو آپ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

53، وقد کفروابہ من قبل ، اس سے مراد قرآن ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ عذاب کو دیکھنے سے پہلے اور قیامت کی ہولنا کیوں کے معائنہ کرنے سے ۔ ، ویقذفون بالغیب من مکان بعید، مجاہد کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک کو انہوں نے بلاتحقیق نشانہ بنار کھا تھا ۔ قتادہ نے کہا کہ وہ اپنے تیر کے گمان چلا تے تھے۔ ان کا قول تھا کہ نہ قیامت ہوگی نہ جنت نہ دوزخ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–54

50۔ سعد بن ابی وقاص کے بیٹے عمر بن سعد ؓ کہا کرتے تھے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا ہے جو مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی شان میں کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ نے خود بھی اپنے باپ دادا کا دین چھوڑا نا چاہتے ہیں اوپر کی آیتوں میں مشریکن مکہ کا یہ قول جو گذرا کہ ما ھذا الارجل یرید ان یصد کم عماکان یعبد آیا ثمکم اس سے عمر بن سعد کے اس قول کی تصدیق بھی ہوتی ہے ‘ یہ عمر بن سعدثقہ تابعیوں میں ہیں لیکن یزید کی طرف سے جو لشکر حضرت حسین ؓ نے کوفہ پر لڑا اس لشکر کے یہ عمر بن سعد سردار تھے اس واسطے اسماء الرجال اور تاریخ کی کتابوں میں ان عمر بن سعد ؓ پر لوگ طعن کرتے ہیں لیکن ان کی روایت میں کچھ طعن نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–54

آیت 51 اللہ تبارک فرماتا ہے : (ولو تری) ” اور اگر آپ دیکھیں “ اے رسول ! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال (اذفرعوا) ” جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے “ عذبا اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انہوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب ان کے لئے عذاب کا فیصلہ کردیا جائے گا تو ان کے لئے بھاگنے کی کوئی جگہ ہوگی نہ وہ بچ ہی سکیں گے (واخذوا من مکان قریب) ” اور وہ قریب ہی سے پکڑ لئے جائیں گے۔ “ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے کہ ان کو پکڑ لیا جائے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

110 بےوقت کے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں : " تَنَاوُشُ “ َ کے معنیٰ دراصل ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو لے لینے کے ہیں۔ یعنی ایمان لانے کی جگہ تو دنیا تھی جو گزر گئی۔ وہ فرصت انہوں نے انکار میں گنوا دی اور ایمان لانے کے اس موقع کو انہوں نے یونہی ضائع کردیا۔ تو اب اتنی دور سے ہو کر ایمان بالغیب کی اس نعمت کو یہ لوگ کس طرح پاسکتے ہیں ؟ اب تو ان کے لئے حرمان و افسوس کے سوا کچھ نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس وقت یہ لوگ ایمان کے دعوے تو بڑے زور و شور سے کریں گے مگر بےوقت کے اس ایمان کا انکو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا کہ وہ ایمان ایمان بالشہود و المشاہدہ ہوگا۔ جبکہ مطلوب و مفید ایمان بالغیب ہے جس کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–54

ایمان لانے کا مقام دنیا ہے آخرت نہیں تشریح : انسانی فطرت کا بیان ہے کہ جب تک اس کے اندر یقین کی کیفیت پیدا نہ ہوجائے وہ کچھ نہیں کرسکتا یہ صرف مکہ والوں کا حال ہی نہیں بلکہ یہ ان سے پہلے اور ان سے بعد میں آنے والے سب لوگوں کا ایک ہی طریقہ ہے۔ موجودہ زمانہ ترقی اور علم و عرفان کا زمانہ ہے مگر جب ہم کفار و مشرکین اور مسلمانوں کی تعداد کا حساب لگاتے ہیں تو نسبتاً مسلمان پوری دنیا میں کم تعداد رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اس وقت دنیا کی آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی ہیں۔ اکثر مسلم ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں اور یہ کل ارکان کا ایک تہائی ہیں۔ باقی کل آبادی یہ بھی جانتی ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–54

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 46 تا 54: اسرار و معارف : آپ ان کے اندیشوں کے جواب میں انہیں فرما دیجئے کہ ایک کام کرو محض جذباتی باتیں نہ کرو ذرا خلوص کے ساتھ جذبات سے الگ ہو کر محض اللہ کے لیے غور کرو اکیلے میں یا مل کر اور اچھی طرح سے فکر کرو کہ اللہ کا جو بندہ تم سے مخاطب ہے وہ کیسا ہے اتنا بڑا دعوی کرتا ہے اور پھر اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد یا لاؤ لشکر اور مال و دولت کے وہ بات کہہ رہا ہے جو نہ صرف اہل مکہ بلکہ دنیا بھر کے کفار کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ان کے صدیوں کے مذاہب کو باطل قرار دے رہا ہے اہل عرب کے سامنے صرف یہ ایک دعوی کہ جو کتاب میں پیش کر رہا ہوں دنیا کے سب اہل علم مل کر بھی اس جیسا ایک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی محض اپنے گمان سے قرآن اور پیغمبر ﷺ کے متعلق جو دل میں آیا کہتے رہے۔ کبھی آپ ﷺ کو شاعر اور جھوٹا کہتے، کبھی جادوگر ہونے کی تہمت لگاتے اور کبھی بائولا کہتے، کبھی قرآن کا مذاق اڑاتے اور عقیدہ ٔ توحید پر طعن کرتے اور موت کے بعد دوبارہ زندگی کی تکذیب کرتے۔ الغرض جو دل میں آتا پوری بےباکی اور بےخوفی سے بکتے رہتے۔ ( ابن کثیر وغیرہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 53–54

(34:53) یقذفون بالغیب۔ یقذفون کے لئے ملاحظہ ہو آیۃ (34:48) ۔ جب کوئی شخص لا یعنی باتیں کرتا ہے اور ہر زہ سرائی کرتا ہے تو عرب کہتے ہیں ھو یقذف بالغیب وہ اندھیرے میں تیر چلانا ہے۔ اس جملہ کا عطف وقد کفروا پر ہے۔ اور جملہ حالیہ ہے۔ من مکان بعید دور جگہ سے یعنی بغیر کسی عقلی دلیل کے اپنے کفریہ عقائد پر اڑے رہے کبھی توحید کا انکار کیا اور کبھی قرآن کو من گھڑت افسانہ قرار دیا۔ ملائکہ کو خدا کا شریک گردانا۔ رسول خدا ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیں۔ کبھی ان کو ساحر کبھی شاعر اور کبھی مجنون کہا۔ اور کبھی بھی نزدیک سے رسول اللہ ﷺ کے پیغام پر غوروخوض نہ کیا۔ حقیقت کو جاننے سے دور ہی رہے۔ تو ایسی صورت میں جب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–54

لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 54 اعظ : میں نصیحت کرتا ہوں مثنی : دو دو فرادی : ایک ایک صاحب : ساتھی یقذف : وہ پھینکتا ہے ما یبدی : وہ ابتدا نہیں کرتا فزعوا : وہ گھبرا گئے التناوش : جھپٹ کر پکڑ لینا یشتھون : وہ خواہش رکھتے ہیں تشریح ـ : آیات نمبر 46 تا 54 اعلان نبوت سے پہلے بھی عرب کا بچہ بچہ بنی کریم حضرت محمد رسول ﷺ کی متا نت و سنجیدگی ، عقل و دانش ، دیانت و امانت ، حسن عمل اور خاندانی شرافت سے نہ صرف اچھی طرح واقف تھا بلکہ ہر شخص آپ سے ملنے کے بعد صرف آپ ہی کی تعریف کرتا نظرآتا تھا لیکن جیسے ہی آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور ان کی رسموں اور طریقوں کو غلط بتایا بت پرستی ، جہالت اور بہت سی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–54

منکرین حشر کا زکر۔ (ف 2) فرمایا اے محبوب ﷺ اگر آپ کافروں کے بدانجام احوال دیکھیں جب وہ موت کے قریب ، یا دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنے کے وقت یا جنگ بدر کے دن گھبرائیں گے تو ایک عجیب ہولناک بات دیکھیں گے یہ لوگ وہاں سے بھاگ کر کہاں جاسکتے ہیں اور اس روز یہ ہمارے عذاب سے بھاگ نہ سکیں گے ، اور پاس ہی کے مقام یعنی قبروں سے پکڑ لیے جائیں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہم محمد ﷺ اور قرآن شریف پر ایمان لے آئے لیکن ایمان ان کے ہاتھ اس قدر دور مقام سے کیسے لگ سکتا ہے یعنی ایمان کی جگہ دنیا تھی اور یہ اس وقت آخرت میں ہیں پہلے سے تو یہ لوگ کفر کررہے تھے اور ان باتوں میں جن کی ان کو خبر نہ تھی اٹکلیں مارتے رہے، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 52–53

[33] یعنی دارالعمل تو یہ دنیا ہے۔ ایمان یہیں کا معتبر ہے اور اسے یہ لوگ پیچھے چھوڑ آئے۔ اب ان کا ہاتھ اتنی دور کہاں پہنچ سکتا ہے کہ وہاں سے ایمان کو اٹھا لائیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان مقبول وہ ہے جو موت سے پہلے دنیا میں حاصل ہو۔ آخرت میں تو آنکھوں سے دیکھ کر سبھی کو یقین آجائے گا۔ اس میں کیا کمال ہوا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–53

ف 1: یقذف بالحق سے مراد یا تو یہ ہے کہ باوجود تمہاری مساعی کے میرا رب ضرور اس کے لئے لوگوں کے دلوں میں پذیرائی کی صلاحیت پیدا کرے گا ۔ اور ضرور اسلام کی سچائی اور صداقت کو ان کے قلوب میں ڈال دے گا ۔ کیونکہ صداقت بجائے خود اپنے اندر جاذبیت رکھتی ہے ۔ اور اس لائق ہوتی ہے ۔ کہ لوگ اس کو ترجیح دیں ۔ یا یہ مراد ہے کہ بل نقذف بالحق علے الباطل یعنی حق باطل سے متصادم ہوتا ہے ۔ اور باطل دب جاتا ہے ۔ اور حق کو غلبہ وقوت عطا ہوتی ہے ۔ تم بھی یہ دیکھتے رہو ۔ کہ اسلام کے عقائد کیونکر تمہارے مزعومات باطلہ سے ٹکرا کر انہیں کس طرح پاس پاس کردیتے ہیں ۔ حق وصداقت کی پرکھ یہ بھی ہے ۔ کہ بالآخر حق وبقاو دوام کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(53) حالانکہ یہ اس سے پیشتر اس دین حق کا انکار کیا کرتے تھے اور دوردراز جگہ سے بن دیکھے نشانے پر تیر پھینکا کرتے تھے۔ یعنی اب دنیا میں واپس جانے اور ایمان لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس سے پیشتر تو انکار کیا کرتے تھے اور بن دیکھے نشانے پر دور سے تیر پھینکا کرتے تھے یعنی بن دیکھی باتوں کو جھوٹ کہتے تھے۔ میدان حشر کا انکار، حساب کتاب کا انکار، جنت دوزخ کی تکذیب یا حضور ﷺ کو ساحر، شاعر، کاہن وغیرہ کہتے تھے۔ یہی اٹکل کے تیر چلانا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 9۔ دور کا مطلب یہ کہ اس کی تحقیق سے دور تھے، یعنی دنیا میں تو کفر کرتے رہے، اب ایمان سوجھا ہے اور اس کے مقبول ہونے کی آرزو ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قبل ازیں وہ کفر پر ڈٹے رہے اور دور سے یا وہو گوئیوں میں مصروف رہے 53 ۔ دوبارہ گزشتہ بات کی تصدیق کی جارہی ہے کہ اب ان کو ایمان لانا یاد آیا اور جب ایمان لانے کا و قت تھا اس وقت کفر پر ڈٹے رہے اور جب ایمان لانے کا وقت نکل گیا اب ان کو ایمان لانا یاد آیا جو اس وقت کیا وہ بھی بےسود اور جو اب کر رہے ہیں وہ بھی بےسود کیا۔ انہوں نے زیاں کاری کی قسم اٹھائی ہے اور اس طرح اندھیرے میں تیر پھینک رہے ہیں بلا شبہ نشانہ پر نشانہ پھینک کر گم شدہ تیر کی تلاش کی جاسکتی ہے لیکن اس جگہ جب اور جہاں پہلا تیر پھینکا گیا نہ جگہ وہ رہی اور نہ بات قریب کی رہی اتنی مدت کے بعد نشانہ پر نشانہ ان کو یاد آیا اس طرح جس طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The word: قَذف (qadhf) in verse 53: وَقَدْ كَفَرُ‌وا بِهِ مِن قَبْلُ وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ (while they had rejected it before, and used to make conjectures from a place (so) far off) means to hit something by throwing. In the Arab idiom, anyone talking out of his hat having no proof for it is referred to by the expressions: رجم بالغیب (rajm bil-ghayb) and: قذف بالغیب (qadhfbil-ghayb), that is, this person shoots arrows in the dark which has no aim or target. At this place, the expression: مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ (from a place far away) means 'what they say is far from…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

75 That is, "They used to charge the Messenger and the believers with false accusations and used to taunt and mock his message. Some times they said he was a sorcerer or a madman; sometimes they ridiculed Tauhid and the concept of the Hereafter; sometimes they invented the story that another one taught him everything; and sometimes they said that the believers had started following him only on account of folly and ignorance "

Read the full tafseer →