Explained with ayahs 51–54
عذاب قیامت اور کافر۔
اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے اے نبی کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے۔ کہ ہرچند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔ نہ بھاگ کر، نہ چھپ کر، نہ کسی کی حمایت سے، نہ کسی کی پناہ سے۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے پکڑ لئے جائیں گے۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لئے گئے۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لئے گئے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں۔ بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکہ مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے۔ ابن جریر نے اسے بیان کر کے اس کی…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 73
مراد یہ ہے کہ اس تعلیم پر ایمان لے آئے جو رسول نے دنیا میں پیش کی تھے۔
سورة سَبـَا 74
یعنی ایمان لانے کی جگہ تو دنیا تھی اور وہاں سے اب یہ بہت دور نکل آئے ہیں۔ عالم آخرت میں پہنچ جانے کے بعد اب توبہ و ایمان کا موقع کہاں مل سکتا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) وقالوا امنابہ وانی لہم التناوش من مکان بعید، تناوش کے معنی ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو اٹھا لینے کے ہیں، اور یہ ظاہر ہے کہ ہاتھ بڑھا کر وہی چیز اٹھائی جاسکتی ہے جو بہت دور نہ ہو ہاتھ وہاں تک پہنچ سکے۔ مضمون آیت کا یہ ہے کہ کفار و منکرین قیامت کے روز حقیقت سامنے آجانے کے بعد کہیں گے ہم قرآن پر یا رسول اللہ پر ایمان لے آئے، مگر ان کو معلوم نہیں کہ ایمان کا مقام ان سے بہت دور ہوچکا ہے کیونکہ ایمان صرف دنیا کی زندگی کا مقبول ہے، آخرت دارالعمل نہیں وہاں کا کوئی عمل حساب میں نہیں آسکتا۔ اس لئے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ دولت ایمان کو ہاتھ بڑھا کر اٹھا لیں۔
Read the full tafseer →آیت 52
یعنی اس وقت ان کا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا اور وہ پکار اٹھیں گے کہ اب ہم اس قرآن پر ایمان لائے۔ ضمیر کا مرجع یہاں قرآن ہے جس کا ذکر اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ قرآن کو پیش کرنے والے یعنی آنحضرت ﷺ از خود اس میں شامل ہیں۔
’ وانی لھم الستنا وش من مکان بعید۔ ‘ یعنی ایمان کا محل تو یہ دنیا ہے اور وہ بھی عذاب الٰہی کے ظہور سے پہلے تو جب تو عذاب الٰہی ظاہر ہوجائے گا اس وقت تو یہ ایمان کی منزل سے اتنی دور نکل جائیں گے کہ وہاں سے ان کے لئے اس کے پاسکنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جائے گا۔ عذابِ الٰہی کی گرفت میں آجانے کے بعد تو فرعون جیسا سرکش بھی پکار اٹھا تھا کہ میں موسیٰ و ہارون کے رب پر…
Read the full tafseer →52۔ 1 تَنَاوُش، ُ کے معنی تناول یعنی پکڑنے کے ہیں یعنی اب آخرت میں انہیں ایمان کس طرح حاصل ہوسکتا ہے جب کہ دنیا میں اس سے گریز کرتے رہے گویا آخرت میں انہیں ایمان کے لئے، دنیا کے مقابلے میں دور کی جگہ ہے، جس طرح دور سے کسی چیز کو پکڑنا ممکن نہیں، آخرت میں ایمان لانے کی گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
23: یعنی ایمان لانے کی اصل جگہ دنیا تھی جو اب دور جا چکی، اب یہاں اتنی دور پہنچنے کے بعد وہ ایمان تمہارے ہاتھ نہیں آسکتا جو دنیا ہی میں مطلوب تھا، کیونکہ دیکھنا تو یہی تھا کہ دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو کر تم اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے ہو، یا بھول جاتے ہو ؟ اب جبکہ آخرت کا سارا منظر آنکھوں کے سامنے آگیا تو اب ایمان لانا کون سے کمال کی بات ہے جس کی بنا پر تمہیں معاف کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
اب خاتمہ اس سورة کا قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ منظر حرکت اور دوڑ دھوپ سے پر ہے ۔ اس میں دنیا اور آخرت کے ڈانڈے ملے ہوئے ہیں ۔ گویا دنیا اور آخرت ایک ہی اسٹیج پر ہیں ۔ اس منظر کی جھلکیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر گزرتی ہیں۔
فزعوا (34: 51) اچانک ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔ یہ بھا گنا چاہتے تو تھے لیکن دیکھو پکڑے جارہے ہیں ، کوئی ایک بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ دور تک نہیں بھاگ سکتے قریب قریب ہی سے پکڑے جارہے ہیں ۔
واخذوا من مکان قریب (34: 51) اچانک انہوں نے تھوڑی بہت حرکت تو کی بھاگنے کے لیے مگر نہ بھاگ سگے ۔
اب سب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے بعد ازوقت ۔ اب تو ایمان ان سے بہت…
Read the full tafseer →9 یعنی اس وقت کہیں گے کہ ہمیں پیغمبر کی باتوں پر یقین آگیا اب ہم ایمان لاتے ہیں۔ حالانکہ اب ایمان کیسا ؟ وہ موقع دور گیا جب ایمان لا کر اپنے کو بچا سکتے تھے۔ اب ان کا ہاتھ اتنی دور کہاں پہنچ سکتا ہے جو وہاں سے ایمان کو اٹھا لائیں۔ مطلب یہ کہ ایمان مقبول و منجی وہ ہے جو موت سے پہلے اس دنیا میں حاصل ہو۔ آخرت میں تو آنکھوں سے دیکھ کر سب ہی کو یقین آجائے گا اس میں کیا کمال ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 52 { وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖ وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } ”اور اُس وقت وہ کہیں گے کہ اب ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور اُس وقت کہاں ہوگی ان کی رسائی ایمان تک اتنی دور کی جگہ سے !“
”تناوش“ اور ”تناول“ ہم معنی الفاظ ہیں۔ یعنی پالینا ‘ کسی چیز کا پہنچ میں ہونا اور اس تک رسائی ہونا۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ایمان لانے کا فائدہ تو دنیا کی زندگی میں ہے جو انسانوں کے لیے امتحانی عرصہ ہے۔ جب امتحان کی مہلت ختم ہوجائے گی تو ایمان لانے کا موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ چناچہ اس روز کسی کا ایمان لانا اسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔
Read the full tafseer →77 یعنی ایمان لانے کا مقام تو دنیا ہے اور اس وقت وہ عالم آخرت میں پنچ چکے۔ اور ان دونوں کے درمیان طویل فاصلہ ہے اور طویل مدت ہے۔ پھر وہ ایمان کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔ بالفاظ دیگر ایمان تو ایمان بالغیب کا نام ہے۔ اور اس کا مقام دنیا ہے جہاں کئی غیب کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اور آخرت میں غیب کا کوئی پردہ باقی نہ رہے گا۔ ہر شخص حقیقت حال کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے گا۔ وہاں ایمان لانے یا ایسی بات کہنے کا کچھ مطلب ہی نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →70۔ یعنی دارالعمل تو یہ دنیا ہے، ایمان یہیں کا معتبر ہے، اور اسے یہ لوگ کہیں پیچھے چھوڑ آئے، اب تو عالم آخرت میں ہیں جو دارالجزاء ہے۔ (آیت) ” بہ “۔ یعنی اس دین حق پر۔ ضمیر کا مرجع قرآن، اللہ، بعث، رسول کو ہی سمجھا گیا ہے، اور مفہوم بہرصورت ایک ہی ہے۔ والاشارۃ الی الحق الذی اتی بہ محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) (کبیر) اے بالقران، قال مجاھد باللہ عزوجل والحسن بالبعث وقتادۃ بالرسول ﷺ (قرطبی) (آیت) ” مکان بعید “۔ عالم آخرت قبول توبہ، قبول ایمان کے لحاظ سے مکان بعید ہے، یرید ان التوبۃ کانت تقبل منھم فی الدنیا وقد ذھب الدنیا وبعدت من الاخرۃ (مدارک) فانہ فی حیز التکلیف وھم منہ بمعزل بعید (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
آیت نمبر 46 تا 54
ترجمہ : آپ کہئے کہ میں تمہیں صرف ایک (مختصر سی) بات کی نصحیت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم خدا کے وسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو یا تنہا تنہا کھڑے (مستعد) ہوجاؤ، پھر سوچو تو تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے ساتھی محمد کو کوئی جنون نہیں وہ تو تم کو آخرت کے سخت عذاب سے اس کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے اگر تم اس کی بات نہ مانو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرنے اور تبلیغ پر تم سے جو معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو یعنی میں اس انذار و تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ طلب نہیں کرتا، میرا صلہ تو اللہ ہی کے ذمہ ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے میری صداقت سے واقف ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق بات اپنے نبیوں پر…
Read the full tafseer →وقالوا امنا بہ . اور وہ کہیں گے : ہم اس پر (یعنی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے۔ اور بدر کے دن کافروں
نے اَمَنَّا بِہٖ نہیں کہا تھا ‘ بلکہ ابوجہل جب زخمی ہو کر گرا ‘ کچھ آخری سانس باقی تھا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے اس کی داڑھی پکڑ کر کہا : اللہ کا شکر ہے کہ اس نے دشمن خدا کو رسوا کیا۔ ابوجہل نے کہا : میری رسوائی کس طرح ہوئی ؟ کیا جس شخص کو اس کی قوم والے ہی قتل کردیں اس کی رسوائی ہوتی ہے ؟
کافر تو اس وقت اَمَنَّا بِہٖ کہتے ہیں جب سکرات موت میں مبتلا ہوتے ہیں اور آس ٹوٹ جاتی ہے ‘ یا اس وقت ایمان لائیں گے جب قبروں سے اٹھائے جانے کے بعد عذاب کو آنکھوں سے دیکھیں گے اور دوزخ کی طرف بھیجے جائیں…
Read the full tafseer →پھر یہ زمین میں دھنسنے کے وقت کہیں گے کہ ہم رسول اکرم اور قرآن حکیم پر ایمان لے آئے تب اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا اب مرنے کے بعد توبہ اور کفر سے رجوع کہاں وقت رہا حالانکہ یہ لوگ دھنسنے سے پہلے تو رسول اکرم اور قرآن کریم کے منکر تھے۔
Read the full tafseer →وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ : یعنی جب آخرت کے عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے، ہم اللہ پر ایمان لے آئے جو اکیلا ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ) [ المؤمن : 84 ] ”پھر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو انھوں نے کہا ہم اس اکیلے اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا انکار کیا جنھیں ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے تھے۔“ اور فرمایا : (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ) […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
و قد کفروا بہ ہا ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ من قبل یعنی دنیا میں۔ آیت : و یقذ فون با لغیب عرب ہر ایسے شخص کے بارے میں کہتے ہیں جو ایسی گفتگو کرتا ہے جو مناسب نہیں ہوتی : ھو یقذف و یرجہ با لغیب۔ آیت : من مکان بعید جو آدمی پتھر پھینکتا ہے اور وہ صحیح جگہ نہیں پہنچتا، اس کے لیے تمثیل کے طریقہ پر یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ ظن وتخمین کرتے ہیں اور کہتے ہیں : کوئی دوبارہ اٹھانا نہیں، کوئی نشور نہیں (1) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 253 ) ، کوئی جنت نہیں اور کوئی دوزخ نہیں۔ وہ یہ باتیں ظن وتخمین کے طور پر کرتے ہیں : یہ قتادہ کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
1: ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت وقالوا اٰمنا بہ اور انہوں نے کہا کہ ہم اس کے ساتھ ایمان لے آئے یعنی اللہ پر آیت وانی لہم التناوش (ان کے لیے ایمان کا ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے) یعنی پہنچنا ایمان کو آیت من مکان بعید۔ (اتنی دور جگہ سے) جو آخرت اور دنیا کے درمیان ہوگا آیت وقد کفور ا بہ من قبل (اور وہ اس سے پہلے اس کا انکار کرچکے ہیں) یعنی دنیا میں اللہ کا انکار کرچکے ہیں آیت ویقذفون بالغیب من مکان بعید (بےتحقیق باتیں دور ہی دور سے ہانکا کرتے تھے) یعنی دنیا میں ان کی باتیں تھیں کہ وہ (یعنی محمد ﷺ جادوگر ہیں بلکہ کاہن ہیں بلکہ…
Read the full tafseer →وَّقَالُوْٓا [اور وہ کہیں گے ] اٰمَنَّا بِهٖ ۚ [ہم ایمان لائے اس پر ] وَاَنّٰى لَهُمُ [حالانکہ اب کہاں ہوگا ان کے لئے ] التَّنَاوُشُ [حاصل کرلینا (مقبول ایمان کو ] مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ [(اتنی) دور والی جگہ سے ] ۔
ن و ش (ن) نوشا کسی چیز کو پکڑنا۔ طلب کرنا۔
(تفاعل) تناوشا کسی چیز کو پکڑ لینا۔ حاصل کرلینا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 52 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
آخری آیتوں میں منکرین کے لیے وعید ہے، فرمایا (وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا) (الی اخر السورۃ) (اور اگر آپ اس وقت کو دیکھیں جب یہ لوگ گھبرا جائیں گے تو پھر چھوٹنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور قریبی جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لائے اور اتنی دور سے ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے اس کا انکار کرچکے ہیں، اور دور ہی دور سے بےتحقیق باتیں پھینکا کرتے ہیں اور ان کے اور ان کی آرزو کے درمیان آڑ کردی جائے گی۔ بلاشبہ وہ تردد میں ڈالنے والے شک میں تھے۔
بتوفیق اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ سورة سبا کی تفسیر تمام ہوئی
والحمد للّٰہ اولاً واخرًا و باطناً وظاھرًا والسلام علی من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
خاتمہء سورت برکلمہء حکمت وموعظت
قال اللہ تعالی۔ قل انما اعظکم بواحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ انہم کانوا فی شک مریب۔
(ربط) ابتدائے سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت اور قیامت تینوں مضمون بیان ہوئے اب سورت کو ایک نصیحت پر ختم فرماتے ہیں جس سے توحید اور رسالت اور قیامت یعنی دین کے اصول ثلاثہ کی حقانیت واضح ہوجائے۔ ان تقوموا للہ سے توحید کی طرف اشارہ ہے اور ما بصحبکم من جنۃ ان ھو الا نذیر لکم۔ سے رسالت کی طرف اشارہ ہے اور بین یدی عذاب شدید سے یوم آخرت کی طرف اشارہ ہے تفسیر کبیر ص 24 ج 7۔
اور قل ما سالتکم من اجر سے مشرکین کے اس شبہ کو قطع کرنا ہے کہ آپ ﷺ کا فرمانا کسی طمع اور غرض پر مبنی نہیں بلکہ فقط تمہاری…
Read the full tafseer →54:۔ وقالو امنا الخ : التناوش : پکڑنا۔ اور مکان بعید سے مراد دنیا ہے جو ایمان لانے کی جگہ تھی جو آخرت سے اب دور نکل چکی ہے۔ آخرت کا عذاب دیکھ کر مشرکین و کفار کہیں گے ہم اللہ کی توحید اور اس کے پیغمبروں کی رسالت پر ایمان لے آئے۔ لیکن جو ایمان قابل اعتبار ہے وہ تو دنیا کا ایمان ہے اور دنیا اب بہت دور نکل چکی ہے اور اتنی دور سے اب وہ کسی طرح بھی ایمان حاصل نہیں کرسکتے۔ انی لھم تناول الایمان فی الخرۃ وقد کفروا بہ فی الدنیا (قرطبی ج 14 ص 316) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کے باطل نظریات کا رد ہوا وہ بدبخت پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت و نبوت کا انکار کرتے تھے اور قرآن پاک کو کلام الٰہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، پھر جب قرآن کے اثر انداز ہونے کی بات ہوئی تو اسے جاننے سے تعبیر کرتے۔ اللہ نے مشرکین کو سخت تنبیہ کی اور اب آخر میں نصیحت کے پیرائے میں فرمایا کہ اگر مشرک لوگ ذرا بھی غور و فکر کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ حضور ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور ان کا لایا ہوا قرآن اللہ کی برحق کتاب ہے۔ قیامت یقینا آنے والی ہے اور سب کو محاسبے کے عمل سے گزرنا ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے سابقہ ادوار کے مشرکوں کا حال بھی بیان…
Read the full tafseer →وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖ 0 ۚ وَاَنّٰى لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍؚبَعِيْدٍ 52ۚۖ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
دلائل قائم کرکے ہٹ دھرم مخاطبوں کو اب ایک اور طریقہ سے ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ فقال قل انما اعظکم بواحدۃ کہ میں تم کو ایک ہی بات کہتا ہوں، نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر اس کے بھی معنی نہیں کہ آپ ان کو صرف ایک ہی حکم پر مامور کرتے تھے۔ توحید وغیرہ کہ پھر باقی شاخیں قرار دی جاویں، جیسا کہ تفسیر کبیر میں ہے بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ جیسا کہ کہا کرتے ہیں۔ لو اب تم ایک کام کرو۔ ان تقوموا للّٰہ کہ ایک ایک تنہا ہو کر اور باہم مل کر خدا کے لیے یہ تو سوچو کہ تمہارے صاحب کو یعنی مجھے کچھ جنون تو نہیں ہے۔ یہ رسالت کے اثبات میں کلام ہے کہ خوب غور کرو کہ میں دیوانہ نہیں ہوں۔ جب دیوانہ نہیں تو کون عاقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
وَّقَدْکَفَرُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ ج وَیَـقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّکَانٍ م بَعِیْدٍ ۔ (السباء : 53)
(اور اس سے پہلے یہ کفر کرچکے تھے اور دور سے اٹکل کے تیرت کے چلاتے رہے۔ )
قذف کے معنی کوئی چیز پھینک کر مارنے کے آتے ہیں۔ قَذَفَ بِالْحِجَارَۃ کے معنی ہیں اس نے پتھر پھینکا۔ قذف بالقول بےسوچے سمجھے بات پھینک ماری۔ یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جو شخص بلادلیل محض اپنے خیال سے باتیں کرتا ہے اس کو رجم بالغیب اور قذف بالغیب کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب دیکھنے کے بعد وہ ایمان کا اقرار کریں گے۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ اس کا انکار کرچکے اور دور سے بےسروپا باتیں کہتے رہے اور اٹکل کے تیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
فہم القرآن
ربط کلام : کفر و شرک پر قائم رہنے والوں کا انجام۔
کفار اور مشرکین جہنم کو دہکتے اور ہانپتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے پسینے چھوٹ جائیں گے اور ان کے کلیجے منہ کو آجائیں گے وہ اپنے طور پر بھاگنے کی کوشش کریں گے۔ ابھی وہ بھاگنے کا سوچ ہی رہے ہوں گے کہ ملائکہ ان کی گردنیں دبوچتے ہوئے ان کے گلے میں جہنم کے طوق ڈال دیں گے اور ان کے پاؤں میں بیڑیاں پہنا دیں گے۔ ان کو کوڑوں سے ہانکتے ہوئے جہنم کی طرف دھکیل دیں گے۔ اس صورت حال میں جہنمی حسرت بھرے الفاظ اور انداز میں فریاد کریں گے کہ اب ہم ایمان لاتے ہیں کیونکہ ہم نے وہ سب کچھ دیکھ اور پالیا ہے جس کی ہم تکذیب کیا کرتے تھے۔ لیکن اس وقت ایمان…
Read the full tafseer →طلب ناممکن کی تمثیل :
52: وَّقَالُوْا (اور وہ کہیں گے) جب عذاب کو آنکھوں سے دیکھیں گے۔ ٰامَنَّا بِہٖ (ہم اس پر ایمان لے آئے) یعنی محمد ﷺ پر ہٗ کی ضمیر کا مرجع آپ ہیں کیونکہ اس آیت میں تذکرہ گزرا۔ مابصاحبکم من جنۃ ] سبا : 46[ یا ہٗ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ وَاَنّٰی لَھُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ (اور کیونکر ان کے ہاتھ آنا ممکن ہے اتنی دور جگہ سے) ۔ التناوشؔ (لینا، پکڑنا) مطلب یہ ہے کہ وہ توبہ کو کس طرح حاصل کرسکتے ہیں۔ حالانکہ وہ ان سے دور جاچکی۔ مقصد یہ ہے کہ توبہ تو دنیا میں ان سے قبول کی جانی تھی اور دنیا ختم ہوئی اور آخرت سے دور ہوچکی۔
ایک قول :
یہ تمیثل ناممکن کی…
Read the full tafseer →52، وقالوا آمنا بہ، جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے۔ بعض نے کہا جب وہ مایوس ہوجائیں گے تو ایمان لے آئیں گے ۔ بعض نے کہا کہ اٹھائے جانے کے بعد ۔ ، وانی ، أین کے معنی میں ہے۔ ، لھم التناوش، ابو عمر و، حمزہ ، کسائی اور ابوب کرنے نے التناوش مد کے ساتھ اور ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے واؤ کے ساتھ پڑھا ہے۔ بغیر مد اور بغیر ہمزہ کے ، معنی طلب کرنا، چلنا ، تیزی سے اٹھنا ۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان کا حصول تو اس وقت ممکن تھا جب آدمی مکلف تھا اور وہ مقام تکلیف بالا یمان تو دور ہوگیا اور دنیا دور کے مقام یعنی آخرت سے دنیا میں ان کا لوٹنا کہاں ہوسکے گا۔ ، من مکان بعید ، یعنی آخرت دنیا کے اعتبار سے دور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
50۔ سعد بن ابی وقاص کے بیٹے عمر بن سعد ؓ کہا کرتے تھے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا ہے جو مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی شان میں کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ نے خود بھی اپنے باپ دادا کا دین چھوڑا نا چاہتے ہیں اوپر کی آیتوں میں مشریکن مکہ کا یہ قول جو گذرا کہ ما ھذا الارجل یرید ان یصد کم عماکان یعبد آیا ثمکم اس سے عمر بن سعد کے اس قول کی تصدیق بھی ہوتی ہے ‘ یہ عمر بن سعدثقہ تابعیوں میں ہیں لیکن یزید کی طرف سے جو لشکر حضرت حسین ؓ نے کوفہ پر لڑا اس لشکر کے یہ عمر بن سعد سردار تھے اس واسطے اسماء الرجال اور تاریخ کی کتابوں میں ان عمر بن سعد ؓ پر لوگ طعن کرتے ہیں لیکن ان کی روایت میں کچھ طعن نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
آیت 51
اللہ تبارک فرماتا ہے : (ولو تری) ” اور اگر آپ دیکھیں “ اے رسول ! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال (اذفرعوا) ” جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے “ عذبا اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انہوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب ان کے لئے عذاب کا فیصلہ کردیا جائے گا تو ان کے لئے بھاگنے کی کوئی جگہ ہوگی نہ وہ بچ ہی سکیں گے (واخذوا من مکان قریب) ” اور وہ قریب ہی سے پکڑ لئے جائیں گے۔ “ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے کہ ان کو پکڑ لیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
109 عذاب کے وقت منکروں کی بےبسی اور لاچاری کا منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت یہ نہایت گھبراہٹ کے عالم میں ہوں گے۔ ان کے لیے بھاگ نکلنے کی بھی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی اور ان کو قریب کی جگہ ہی سے فورا پکڑ لیا جائے گا۔ یعنی منکروں کیلئے اس وقت نہ تو اس طرح کہیں بھاگ کر بچ نکلنے کی کوئی صورت ممکن ہوگی جس طرح کہ دنیا میں مجرم لوگ بسا اوقات ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور نہ ہی اس روز ان کے پکڑنے کے لئے کسی بڑی بھاگ دوڑ اور خاص اہتمام و انتظام کی ضرورت ہوگی، جس طرح کہ دنیا میں پولیس اور حکومتوں وغیرہ کو کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ یہ لوگ جہاں کہیں بھی ہوں گے وہیں سے دھر لئے جائیں گے اور بہت آسانی سے پکڑ لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ایمان لانے کا مقام دنیا ہے آخرت نہیں
تشریح : انسانی فطرت کا بیان ہے کہ جب تک اس کے اندر یقین کی کیفیت پیدا نہ ہوجائے وہ کچھ نہیں کرسکتا یہ صرف مکہ والوں کا حال ہی نہیں بلکہ یہ ان سے پہلے اور ان سے بعد میں آنے والے سب لوگوں کا ایک ہی طریقہ ہے۔ موجودہ زمانہ ترقی اور علم و عرفان کا زمانہ ہے مگر جب ہم کفار و مشرکین اور مسلمانوں کی تعداد کا حساب لگاتے ہیں تو نسبتاً مسلمان پوری دنیا میں کم تعداد رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اس وقت دنیا کی آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی ہیں۔ اکثر مسلم ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں اور یہ کل ارکان کا ایک تہائی ہیں۔ باقی کل آبادی یہ بھی جانتی ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 46 تا 54:
اسرار و معارف :
آپ ان کے اندیشوں کے جواب میں انہیں فرما دیجئے کہ ایک کام کرو محض جذباتی باتیں نہ کرو ذرا خلوص کے ساتھ جذبات سے الگ ہو کر محض اللہ کے لیے غور کرو اکیلے میں یا مل کر اور اچھی طرح سے فکر کرو کہ اللہ کا جو بندہ تم سے مخاطب ہے وہ کیسا ہے اتنا بڑا دعوی کرتا ہے اور پھر اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد یا لاؤ لشکر اور مال و دولت کے وہ بات کہہ رہا ہے جو نہ صرف اہل مکہ بلکہ دنیا بھر کے کفار کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ان کے صدیوں کے مذاہب کو باطل قرار دے رہا ہے اہل عرب کے سامنے صرف یہ ایک دعوی کہ جو کتاب میں پیش کر رہا ہوں دنیا کے سب اہل علم مل کر بھی اس جیسا ایک…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی اب ایمان ان کے ہاتھ کیسے آسکتا ہے ؟ دنیا میں ایمان لاتے تو اس کا فائدہ بھی ہوتا۔ اب جو دنیا دور ہوگئی اور اس کی طرف پلٹنا بھی ممکن نہیں رہا تو انہیں ایمان کا موقع کہاں سے مل سکتا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ ایمان اور تو بہ کا وقت تو سکرات موت سے پہلے پہلے ہے۔ مرنے کے بعد عذاب کا مشاہدہ کر کے تو ہر ایک کو یقین آجائے گا مگر اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہو سکے گی۔ ( ابن کثیر وغیرہ)
Read the full tafseer →(34:52) امنا بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے (ای باللہ عزوجل۔ روح ) یا حضور نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہے (ای بمحمد ﷺ ۔ کشاف)
انی ۔ کیونکر۔ کیسے۔ اسم ظرف، زمان ومکان (دونوں کے لئے) یہاں استفہامیہ ہے اور کیف کے معنی میں آیا ہے۔ مکان بعید موصوف وصفت۔ دور جگہ ۔ میدان حشر۔ یعنی دنیا سے نکل کر اب یہ لوگ دور اس میدان حشر میں آپہنچے ہیں اب اتنی دور آکر وہ ایمان کیسے حاصل کرسکتے ہیں جب کہ بہت دور پیچھے دنیا میں وہ موقع کو ہاتھ سے گنوا چکے ہیں ان لہم تناول الایمان فی الاخرۃ وقد کفروا بہ فی الدنیا۔ یعنی آج قیامت کے دن وہ ایمان کس طرح پاسکتے ہیں جبکہ وہ دنیا میں اس کا انکار کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 54
اعظ : میں نصیحت کرتا ہوں
مثنی : دو دو
فرادی : ایک ایک
صاحب : ساتھی
یقذف : وہ پھینکتا ہے
ما یبدی : وہ ابتدا نہیں کرتا
فزعوا : وہ گھبرا گئے
التناوش : جھپٹ کر پکڑ لینا
یشتھون : وہ خواہش رکھتے ہیں
تشریح ـ : آیات نمبر 46 تا 54
اعلان نبوت سے پہلے بھی عرب کا بچہ بچہ بنی کریم حضرت محمد رسول ﷺ کی متا نت و سنجیدگی ، عقل و دانش ، دیانت و امانت ، حسن عمل اور خاندانی شرافت سے نہ صرف اچھی طرح واقف تھا بلکہ ہر شخص آپ سے ملنے کے بعد صرف آپ ہی کی تعریف کرتا نظرآتا تھا لیکن جیسے ہی آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور ان کی رسموں اور طریقوں کو غلط بتایا بت پرستی ، جہالت اور بہت سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
منکرین حشر کا زکر۔
(ف 2) فرمایا اے محبوب ﷺ اگر آپ کافروں کے بدانجام احوال دیکھیں جب وہ موت کے قریب ، یا دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنے کے وقت یا جنگ بدر کے دن گھبرائیں گے تو ایک عجیب ہولناک بات دیکھیں گے یہ لوگ وہاں سے بھاگ کر کہاں جاسکتے ہیں اور اس روز یہ ہمارے عذاب سے بھاگ نہ سکیں گے ، اور پاس ہی کے مقام یعنی قبروں سے پکڑ لیے جائیں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہم محمد ﷺ اور قرآن شریف پر ایمان لے آئے لیکن ایمان ان کے ہاتھ اس قدر دور مقام سے کیسے لگ سکتا ہے یعنی ایمان کی جگہ دنیا تھی اور یہ اس وقت آخرت میں ہیں پہلے سے تو یہ لوگ کفر کررہے تھے اور ان باتوں میں جن کی ان کو خبر نہ تھی اٹکلیں مارتے رہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
[33] یعنی دارالعمل تو یہ دنیا ہے۔ ایمان یہیں کا معتبر ہے اور اسے یہ لوگ پیچھے چھوڑ آئے۔ اب ان کا ہاتھ اتنی دور کہاں پہنچ سکتا ہے کہ وہاں سے ایمان کو اٹھا لائیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان مقبول وہ ہے جو موت سے پہلے دنیا میں حاصل ہو۔ آخرت میں تو آنکھوں سے دیکھ کر سبھی کو یقین آجائے گا۔ اس میں کیا کمال ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
ف 1: یقذف بالحق سے مراد یا تو یہ ہے کہ باوجود تمہاری مساعی کے میرا رب ضرور اس کے لئے لوگوں کے دلوں میں پذیرائی کی صلاحیت پیدا کرے گا ۔ اور ضرور اسلام کی سچائی اور صداقت کو ان کے قلوب میں ڈال دے گا ۔ کیونکہ صداقت بجائے خود اپنے اندر جاذبیت رکھتی ہے ۔ اور اس لائق ہوتی ہے ۔ کہ لوگ اس کو ترجیح دیں ۔ یا یہ مراد ہے کہ بل نقذف بالحق علے الباطل یعنی حق باطل سے متصادم ہوتا ہے ۔ اور باطل دب جاتا ہے ۔ اور حق کو غلبہ وقوت عطا ہوتی ہے ۔ تم بھی یہ دیکھتے رہو ۔ کہ اسلام کے عقائد کیونکر تمہارے مزعومات باطلہ سے ٹکرا کر انہیں کس طرح پاس پاس کردیتے ہیں ۔ حق وصداقت کی پرکھ یہ بھی ہے ۔ کہ بالآخر حق وبقاو دوام کی…
Read the full tafseer →(52) اور یوں کہتے ہوں گے کہ ہم دین حق پر ایمان لائے اور بھلا اب اتنی دور جگہ سے ان کا ہاتھ ایمان کو کہاں پہنچ سکتا ہے۔ یعنی اے پیغمبر قیامت میں جو ان پر گزرے گی اگر وہ حالت ان کی دیکھ لیں تو آپ کو سخت حیرت ہو کہ یہ میدان حشر کی ہولناکیوں سے گھبرا رہے ہوں گے اور کہیں بھاگ نکلنے کو جگہ نہ ہوگی اور قریب کے قریب ہی گرفتار کر لئے جائیں گے اور یہ منکر یوں کہیں گے کہ ہم دین حق پر ایمان لے آئے حالانکہ یہ بات دنیا میں ہوسکتی تھی۔ اب دارالجزا میں اس کا موقع کہاں، وہ ایمان لانے کی بات دور گئی اور بھلا درالعمل کی بات کا اقرار دارالجزا میں جا کر کرنا تو بھلا اتنی دور کے فاصلے سے ہاتھ ایمان تک کہاں پہنچ…
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی ایمان لانے کی جگہ بوجہ دار العمل ہونے کے دنیا تھی جو بڑی دور ہوگئی، اب آخرت میں کہ دار الجزاء ہے ایمان مقبول نہیں۔
Read the full tafseer →اب وہ ایمان کا اقرار کریں گے لیکن اتنی دور سے اب ایمان ان کو کہاں میسر آئے گا ؟
52 ۔ جب وہ عذاب کو اور خصوصاً اس دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور بھاگنا چاہیں گے تو بھاگ بھی نہ سکیں گے اور فوراً ہی پکڑ لیے جائیں گے اور اب ان کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہے گا تو وہ ایمان کا اقرار کرنا شروع کردیں گے کہ ہم تو قیامت کے منکر ہی نہیں تھے ، رسولوں کو بھی ہم مانتے تھے اور قیامت کے دن کے بھی ہم قائل تھے اور اس طرح وہ سمجھیں گے کہ شاید اس کا اقرار کرکے وہ بچ جائیں گے اور اس طرح اللہ کو ، اس کے رسول کو اور ان فرشتوں کو جو اعمال لکھتے رہے تھے سب کی آنکھوں میں مرچیں چھڑک جائیں گے اور ان کی سمجھ میں…
Read the full tafseer →The word: تَّنَاوُشُ (tanawush) in verse 52: وَقَالُوا آمَنَّا بِهِ وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ (And they will say, “ We believe in Him." And how can they achieve it (the faith) from a place (so) far off?) means to pick up something by stretching one's hand. Then, it is obvious that one can pick up only what is near at hand. If it is very far, it will be out of reach. The subject of the verse is that disbelievers and deniers, once they see reality as it is on the Day of Judgment, will say, "We have now come to believe in the Qur'an, or the messenger of Allah to whom it…
Read the full tafseer →73 "We believe in it": "We believe in the message presented by the Messenger in the world. "
74 That is, "They should have believed when they lived in the world; they have come a long way away from it. After having arrived in the Next World how can they get a chance to repent and believe ?"
Read the full tafseer →