Saba 34:51

Saba · from ayah 51

34:51

وَلَوْ تَرٰۤی اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَاُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍ ۟ۙوَلَوۡ تَرٰٓى اِذۡ فَزِعُوۡا فَلَا فَوۡتَ وَاُخِذُوۡا مِنۡ مَّكَانٍ قَرِيۡبٍۙ

اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرا جائیں گے تو (عذاب سے) بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if you could see when they are terrified but there is no escape, and they will be seized from a place nearby.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:51

کاش تم دیکھو اِنہیں اُس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جا سکیں گے، بلکہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرا جائیں گے تو (عذاب سے) بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر آپ (وه وقت) ملاحظہ کریں جب کہ یہ کفار گھبرائے پھریں گے پھر نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور قریب کی جگہ سے گرفتار کر لئے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر تمہیں ان کی حالت عجیب نظر آئے گی) اگر تم وہ منظر دیکھو جب یہ گھبرائے پھرتے ہوں گے، اور بھاگ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا، اور انہیں قریب ہی سے پکڑ لیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کسی طرح تو دیکھے جب وہ گھبراہٹ میں ڈالے جائیں گے پھر بچ کر نہ نکل سکیں گے اور ایک قریب جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر آپ (ان کا حال) دیکھیں جب یہ لوگ بڑے مضطرب ہوں گے، پھر بچ نہ سکیں گے اور نزدیکی جگہ سے ہی پکڑ لئے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کاش ! تو دیکھے جب وہ گھبرا جائیں گے، پھر بچ نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور وہ قریب جگہ سے پکڑلیے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کاش آپ دیکھیں جب وہ وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے تو بچ نہ سکیں گے بلکہ قریب ہی سے پکڑ لئے جائیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تم دیکھ پاتے جب ان پر گبھراہٹ طاری ہوگی۔ پس وہ کہیں بھاگ نہ سکیں گے اور پاس ہی سے دھر لئے جائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر تم (کسی طرح وہ منظر) دیکھ سکو جب کہ یہ لوگ نہایت ہی گھبراہٹ کے عالم میں ہوں گے پھر بھاگنے کی بھی کوئی صورت نہ ہوگی اور ان کو قریب کی جگہ سے (اور فورا ہی) پکڑ لیا جائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور کاش آپ وہ وقت دیکھتے جب یہ (یہ کافر) گھبراتے پھریں گے پھر بھاگ نہ سکیں گے اور پاس کے پاس ہی پکڑلئے جائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کاش آپ دیکھیں جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے تب بچ نکلنا ممکن نہیں ہوگا } اور وہ پکڑ لیے جائیں گے قریبی جگہ سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرا جائیں گے تو عذاب سے بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If you could only see when the unbelievers will go about in a state of terror. They will have no escape and will be seized from a place near at hand.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And if you could only see when they will be terrified! Then there will be no escape, and they will be seized from a place near at hand.

— Muhammad Taqi Usmani

And if you could only see when they will be terrified! Then there will be no escape, and they will be seized from a place near at hand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if you could but see, when they will be terrified with no escape, and they will be seized from a near place.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Couldst thou but see when they are terrified with no escape, and are seized from near at hand,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if you could see when they are terrified but there is no escape, and they will be seized from a place nearby.

— Saheeh International

Would that you could see how the unbelievers will be terrified by death from which they cannot escape. They will be seized from a nearby place

— Muhammad Sarwar

And could you see when they shall become terrified, but (then) there shall be no escape and they shall be seized upon from a near place

— Muhammad Habib Shakir

And couldst thou see the time when they shall be terrified! Then there shall be no escaping, and they shall be laid hold of from a place quite nigh.

— Abdul Majid Daryabadi

If thou couldst but see when they will quake with terror; but then there will be no escape (for them), and they will be seized from a position (quite) near.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–54

عذاب قیامت اور کافر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے اے نبی کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے۔ کہ ہرچند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔ نہ بھاگ کر، نہ چھپ کر، نہ کسی کی حمایت سے، نہ کسی کی پناہ سے۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے پکڑ لئے جائیں گے۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لئے گئے۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لئے گئے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں۔ بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکہ مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے۔ ابن جریر نے اسے بیان کر کے اس کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 72 یعنی قیامت کے روز ہر مجرم اس طرح پکڑا جائے گا کہ گویا پکڑنے والا قریب ہی کہیں چھپا کھڑا تھا، ذرا اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور فوراً ہی دھر لیا گیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ اگر آپ وہ وقت ملاحظہ کریں (تو آپ کو حیرت ہو) جب یہ کفار (قیامت کے ہول وہیبت سے) گھبرائے پھریں گے پھر نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور پاس کے پاس ہی سے (یعنی فوراً) پکڑ لئے جاویں گے اور (اس وقت) کہیں گے کہ ہم اس حق پر ایمان لے آئے (اور جتنے امور اس میں بتلائے گئے ہیں سب کو مان لیا اس لئے ہماری توبہ قبول کرلیجئے، خواہ دوبارہ دنیا میں بھیج کر یا بغیر بھیجے ہوئے اور اتنی دور جگہ سے (ایمان کا) ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے (یعنی ایمان لانے کی جگہ بوجہ دارالعمل ہونے کے دنیا تھی جو بڑی دور ہوگئی، اب آخرت کا عالم ہے جو دارالعمل نہیں دارالجزاء ہے، اس میں ایمان مقبول نہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولو تری اذ فزعوا فملا فوت واخذوا من مکان قریب (51) یہاں جوابِ شرط مخدوف ہے۔ اس کی مثال آیت 31 میں گزر چکی ہے۔ اس طرح جوابِ شرط کا محذوف ہونا اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ جواب تعبیر وتصویر سے مافوق ہے۔ فرمایا کہ آج تو ان کے استکبار کا یہ حال ہے کہ پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دے رہے ہیں لیکن اگر کہیں تم ان کے اس وقت کو دیکھ پاتے جب کہ وہ خدا کی اس گرفت میں آجائیں جس کو آج جھٹلا رہے ہیں تب تم کو ان کی بےبسی کا کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح یہ ناک رگڑتے اور حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں۔ فرمایا کہ جب یہ خدا کے عذاب کی پکڑ میں آئیں گے تو گھبرا کر بھاگنے اور بچنے کی کوشش کریں گے لیکن خدا کی گرفت سے کون بچ سکا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

51۔ 1 فَلَافَوْتَ کہیں بھاگ نہیں سکیں گے ؟ کیونکہ وہ اللہ کی گرفت میں ہونگے، یہ میدان محشر کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–51

22: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ حق باتیں وحی کے ذریعے اوپر سے آرہی ہیں، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اوپر سے حق کو بھیج کر اسے باطل پر غالب فرما رہا ہے، لہذا چاہے تم کتنی مخالفت کرو، باطل رفتہ رفتہ ختم ہوجائے گا، اور حق غالب آ کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–54

اب خاتمہ اس سورة کا قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ منظر حرکت اور دوڑ دھوپ سے پر ہے ۔ اس میں دنیا اور آخرت کے ڈانڈے ملے ہوئے ہیں ۔ گویا دنیا اور آخرت ایک ہی اسٹیج پر ہیں ۔ اس منظر کی جھلکیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر گزرتی ہیں۔ فزعوا (34: 51) اچانک ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔ یہ بھا گنا چاہتے تو تھے لیکن دیکھو پکڑے جارہے ہیں ، کوئی ایک بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ دور تک نہیں بھاگ سکتے قریب قریب ہی سے پکڑے جارہے ہیں ۔ واخذوا من مکان قریب (34: 51) اچانک انہوں نے تھوڑی بہت حرکت تو کی بھاگنے کے لیے مگر نہ بھاگ سگے ۔ اب سب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے بعد ازوقت ۔ اب تو ایمان ان سے بہت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی یہ کفار یہاں ڈینگیں مارتے ہیں مگر وہ وقت عجیب قابل دید ہوگا جب یہ لوگ محشر کا ہولناک منظر دیکھ کر گھبرائیں گے اور کہیں بھاگ نہ سکیں گے۔ اس وقت گرفتاری کے لیے کہیں دور سے ان کو تلاش کرنا نہ پڑے گا۔ بلکہ نہایت آسانی سے فورا جہاں کے تہاں گرفتار کرلیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 51 { وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ } ”اور کاش آپ دیکھیں جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے ‘ تب بچ نکلنا ممکن نہیں ہوگا“ انسانوں کی گھبراہٹ اور پریشانی کی اس کیفیت کو سورة الانبیاء کی آیت 103 میں ”الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کیفیت قیامت کے اس ”زلزلے“ کے باعث ہوگی جس کا ذکر سورة الحج کی ابتدائی آیت میں اس طرح ہوا ہے : { اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ۔ ”یقینا قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہوگا۔“ { وَاُخِذُوْا مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ } ”اور وہ پکڑ لیے جائیں گے قریبی جگہ سے۔“ جیسے کوئی پاس پڑی ہوئی چیز کو ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیتا ہے اسی طرح انہیں آسانی کے ساتھ قابو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

76 یعنی ایسے مجرموں کو کہیں دور سے تلاش نہیں کرنا پڑے گا۔ بلکہ وہ جہاں بھی ہوں گے وہیں گرفتار کر لئے جائیں گے کہیں بھاگ کھڑا ہونے کی ان میں ہمت ہی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

69۔ (قیامت کے دن) (آیت) ” فزعوا “ یہ گھبراتے ہوئے پھرنا ہول قیامت سے ہوگا۔ (آیت) ” فلافوت “۔ یعنی نہ جائے فرار ملے گی اور نہ اللہ سے بچ سکیں گے۔ اے لامھرب اولا یفوتون اللہ ولا یستبقونہ (مدارک) (آیت) ” من مکان قریب “۔ یعنی میدان حشر سے دوزخ کی طرف۔ من الموقف الی النار (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–54

آیت نمبر 46 تا 54 ترجمہ : آپ کہئے کہ میں تمہیں صرف ایک (مختصر سی) بات کی نصحیت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم خدا کے وسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو یا تنہا تنہا کھڑے (مستعد) ہوجاؤ، پھر سوچو تو تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے ساتھی محمد کو کوئی جنون نہیں وہ تو تم کو آخرت کے سخت عذاب سے اس کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے اگر تم اس کی بات نہ مانو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرنے اور تبلیغ پر تم سے جو معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو یعنی میں اس انذار و تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ طلب نہیں کرتا، میرا صلہ تو اللہ ہی کے ذمہ ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے میری صداقت سے واقف ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق بات اپنے نبیوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو تری اذ فزعوا فلا فوت واخذوا من مکان قریب اور تو (اے مخاطب ! حیرت سے) دیکھے گا جبکہ وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے ‘ پھر نکل بھاگنے کی کوئی راہ نہ ہوگی اور اس وجہ سے پاس ہی سے پکڑ لئے جائیں گے۔ فَزِعُوْا یعنی مرنے کے وقت کافر گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : قبروں سے اٹھائے جانے کے وقت گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ لَوْ شرط ہے ‘ جزا محذوف ہے یعنی اگر تو کافروں کے گھبرانے کا منظر دیکھے گا تو ہولناک منظر تیرے سامنے ہوگا۔ مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ یعنی زمین کے اوپر سے پکڑ کر زمین کے اندر لے جائے جائیں گے (یہ تفسیر اس وقت ہوگی جب فزع سے مراد فزع موت ہو ‘ مترجم) یا مؤقف حساب سے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے جائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اگر آپ اس وقت کا ملاحظہ کریں جس وقت یہ کفار زمین میں دھنسا دیے جائیں گے اور ان کو موت آئے گی یعنی مقام بیداء میں دھنسیں گے تو ان میں سے کسی کے لیے بچ کر نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور پیروں کے نیچے سے پکڑ لیے جائیں گے تو پھر زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَوْ تَرٰٓى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ : ”اِذْ فَزِعُوْا“ (جب گھبرا جائیں گے) سے دنیا کے بعد آخرت کی تمام منزلیں مراد ہیں، جن میں موت کے وقت فرشتوں کی آمد، پھر قبر میں سوال و جواب، پھر قبروں سے نکلنا اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا، پھر جہنم میں جانا سب کچھ شامل ہے۔ یعنی اب تو کفار بہت ڈینگیں مارتے ہیں، لیکن جب دنیا کی مہلت ختم ہوگی، اللہ تعالیٰ کی گرفت آئے گی اور ان پر گھبراہٹ طاری ہوگی، اس وقت ان کے لیے اس سے بچ کر نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ وَاُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ : یعنی ایسے مجرموں کو کہیں دور سے تلاش نہیں کرنا پڑے گا، وہ جہاں بھی ہوں گے وہیں گرفتار کرلیے جائیں گے۔ بچ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : و قالوا امنا بہ ہا ضمیر سے مراد قرآن ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : اس سے مراد بعث ہے (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 329 ) ۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد رسول اللہ کی ذات ہے۔ آیت : و انی لھم التناوش من مکان بعید حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک نے کہا : التناوش سے مراد لوٹنا ہے (2) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 459) یعنی وہ دنیا کی طرف لوٹنے مطالبہ کریں گے تاکہوہ ایمان لے آئیں۔ یہ مطالبہ کتنا ہی حقیقت سے دور ہے۔ اس معنی شاعر کا قول ہے : تمنی ان تئوب الی می ولیس تناوشھاسبیل (3) (ایضا) میں نے آرزو کی کہ میری طرف لوٹ آئے جب کہ اس کے لوٹنے کی کوئی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

موت کے وقت فرشتوں کو دیکھ کر گھبراہٹ 1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنزر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو تری اذ فزعوا اگر تو دیکھے گا جب کہ وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ دنیا میں موت کے وقت جب وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اور وہ دیکھیں گے اللہ کے عذاب کو آیت وانا لہم التناوش من مکان بعید اور اتنی دور جگہ سے ایمان کا ہاتھ آناان کے لیے کہاں ممکن ہے۔ فرمایا ان کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے ایمان کی طرف جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت فلما رأو بأسنا قالوا اٰمنا باللہ وحدہ وکفرنا بما کنا بہ مشرکین (غافر آیت 84) جب وہ دیکھیں گے ہمارے عذاب کو تو کہیں گے کہ ہم ایک اللہ پر ایمان لائے حالانکہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْ تَرٰٓى [اور اگر آپ ﷺ دیکھتے ] اِذْ فَزِعُوْا [جب وہ لوگ دہشت زدہ ہوں گے ] فَلَا فَوْتَ [تو کوئی بھی بھاگ نکلنا نہیں ہوگا ] وَاُخِذُوْا [اور وہ پکڑے جائیں گے ] مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ [قریبی جگہ سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–54

آخری آیتوں میں منکرین کے لیے وعید ہے، فرمایا (وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا) (الی اخر السورۃ) (اور اگر آپ اس وقت کو دیکھیں جب یہ لوگ گھبرا جائیں گے تو پھر چھوٹنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور قریبی جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لائے اور اتنی دور سے ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے حالانکہ وہ اس سے پہلے اس کا انکار کرچکے ہیں، اور دور ہی دور سے بےتحقیق باتیں پھینکا کرتے ہیں اور ان کے اور ان کی آرزو کے درمیان آڑ کردی جائے گی۔ بلاشبہ وہ تردد میں ڈالنے والے شک میں تھے۔ بتوفیق اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ سورة سبا کی تفسیر تمام ہوئی والحمد للّٰہ اولاً واخرًا و باطناً وظاھرًا والسلام علی من…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–54

خاتمہء سورت برکلمہء حکمت وموعظت قال اللہ تعالی۔ قل انما اعظکم بواحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ انہم کانوا فی شک مریب۔ (ربط) ابتدائے سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت اور قیامت تینوں مضمون بیان ہوئے اب سورت کو ایک نصیحت پر ختم فرماتے ہیں جس سے توحید اور رسالت اور قیامت یعنی دین کے اصول ثلاثہ کی حقانیت واضح ہوجائے۔ ان تقوموا للہ سے توحید کی طرف اشارہ ہے اور ما بصحبکم من جنۃ ان ھو الا نذیر لکم۔ سے رسالت کی طرف اشارہ ہے اور بین یدی عذاب شدید سے یوم آخرت کی طرف اشارہ ہے تفسیر کبیر ص 24 ج 7۔ اور قل ما سالتکم من اجر سے مشرکین کے اس شبہ کو قطع کرنا ہے کہ آپ ﷺ کا فرمانا کسی طمع اور غرض پر مبنی نہیں بلکہ فقط تمہاری…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

53:۔ ولو تری الخ : یہ تخویف اخروی ہے۔ فلا فوت : یعنی بھاگ نہ سکیں گے۔ واخذوا الخ : یہ بھی اسی سے کنایہ ہے قیامت کے دن جب وہ میدانِ حشر کی ہولناکی سے گھبرا اٹھیں گے تو اس وقت وہ کہیں بھاگ کر جان نہیں بچا سکیں گے۔ اور انہیں پکڑ لینا نہایت ہی آسان ہوگا۔ وحیثنا کانوا فہم من اللہ قریب لا یفوتونہ ولا یعجرزونہ (معالم و خازن ج 5 ص 243) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–54

ربط آیات گزشتہ آیات میں مشرکین کے باطل نظریات کا رد ہوا وہ بدبخت پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت و نبوت کا انکار کرتے تھے اور قرآن پاک کو کلام الٰہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، پھر جب قرآن کے اثر انداز ہونے کی بات ہوئی تو اسے جاننے سے تعبیر کرتے۔ اللہ نے مشرکین کو سخت تنبیہ کی اور اب آخر میں نصیحت کے پیرائے میں فرمایا کہ اگر مشرک لوگ ذرا بھی غور و فکر کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ حضور ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور ان کا لایا ہوا قرآن اللہ کی برحق کتاب ہے۔ قیامت یقینا آنے والی ہے اور سب کو محاسبے کے عمل سے گزرنا ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے سابقہ ادوار کے مشرکوں کا حال بھی بیان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ تَرٰٓى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَاُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ۝ 51ۙ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–54

دلائل قائم کرکے ہٹ دھرم مخاطبوں کو اب ایک اور طریقہ سے ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ فقال قل انما اعظکم بواحدۃ کہ میں تم کو ایک ہی بات کہتا ہوں، نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر اس کے بھی معنی نہیں کہ آپ ان کو صرف ایک ہی حکم پر مامور کرتے تھے۔ توحید وغیرہ کہ پھر باقی شاخیں قرار دی جاویں، جیسا کہ تفسیر کبیر میں ہے بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ جیسا کہ کہا کرتے ہیں۔ لو اب تم ایک کام کرو۔ ان تقوموا للّٰہ کہ ایک ایک تنہا ہو کر اور باہم مل کر خدا کے لیے یہ تو سوچو کہ تمہارے صاحب کو یعنی مجھے کچھ جنون تو نہیں ہے۔ یہ رسالت کے اثبات میں کلام ہے کہ خوب غور کرو کہ میں دیوانہ نہیں ہوں۔ جب دیوانہ نہیں تو کون عاقل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَوْتَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا فَلاَ فَوْتَ وَاُخِذُوْا مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ ۔ وَقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖ ج وَاَنّٰی لَھُمُ التَّـنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ م بَعْیِدٍ ۔ (السباء : 51، 52) (کاش آپ دیکھتے جب یہ گھبرائے پھر رہے ہوں گے، پس وہ کہیں بھاگ نہ سکیں گے اور قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔ اور وہ کہیں گے ہم اس پر ایمان لے آئے حالانکہ اب کہاں ان کا ہاتھ پہنچ سکتا ہے بعید جگہ سے۔ ) قیامت کے روز متکبرین کی بےبسی آج جبکہ مخالفین اور معاندین آپ کی بات سننے کے روادار نہیں اور ان کے استکبار کا عالم یہ ہے کہ پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دے رہے لیکن وقت نزع یا قیامت کے دن کاش آپ ان کا حال دیکھتے۔ پھر جوابِ شرط…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–51

فہم القرآن ربط کلام : آدمی کی حماقت کی ایک وجہ اس کا مفاد اور لالچ ہوا کرتا ہے نبی معظم ﷺ کو لوگوں سے کوئی دنیوی مفاد نہ تھا جس بنا پر کفار کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے چار استفسار کیے گئے ہیں۔ اے پیغمبر ﷺ ! انہیں فرما دیں کہ کیا میں نے تم سے اس دعوت کے کام پر کسی قسم کا کوئی مطالبہ کیا ہے جس بنا پر تم مجھے مجنون کہتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں کسی لالچ کے پیش نظرتمہارے نظریات کی مخالفت کرتا ہوں ؟ ہرگز نہیں میرا مقصد تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ لہٰذا اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ میرا صلہ میرے رب کے ذمہ ہے جو میرے اور تمہارے احوال کو اچھی طرح جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رب مجھ پر حق نازل کرتا ہے جسے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

51: وَلَوْ تَرٰٓی (اور اگر آپ وہ وقت ملاحظہ کریں) ۔ اس کا جواب محذوف ہے۔ ای رأیت امرًا عظیمًا وحالا ھائلۃً تو ضرور تم بڑا معاملہ اور خوفناک حالت دیکھو گے۔ اِذْ فَزِعُوْا (جبکہ وہ گھبراتے پھریں گے) جب اٹھیں گے یا موت کے وقت یا بدر کے دن فَلاَ فَوْتَ (پھر نکلنے بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی) کوئی بھاگنے کا راستہ نہیں یا نہ وہ اللہ تعالیٰ سے آگے نکل سکیں گے اور نہ پیچھے بھاگ سکیں گے۔ وَاُخِذُوْا (اور پکڑ لیے جائیں گے) اُخُذوا کا عطف فزعوا پر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے فزعوا واخذوافلا فوت لھم پھر وہ گھبرائیں گے اور پکڑ لیے جائیں گے پس نکل کر نہ بھاگ سکیں گے۔ نمبر 2۔ لا فوتؔ پر عطف ہے۔ معنی اس طرح ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

51، ولو تری اذفزعوا، قتا دہ نے کہا کہ قبروں سے اٹھائے جانے کے وقت گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ ، فلا فوت، اللہ کی گرفت سے نکل نہیں سکیں گے نہ بھاگ کر نہ قلعہ بند ہوکرنہ اپنی جان کا مالی معاوضہ دے کر۔ ، ولات حین مناص، بعض نے کہا کہ جب وہ گھبراجائیں گے تو نہ وہ اللہ کی گرفت سے نکل سکیں گے اور نہ ہی ان کے لیے کوئی نجات ہوگی۔ واخذوامن مکان قریب کی تفسیر ، واخذوامن مکان قریب، کلبی کا بیان ہے کہ ان کو قدموں کے نیچے سے پکڑاجائے گا۔ بعض نے کہا کہ ان کو زمین کے درمیان سے پیٹھ کے بل نکالا جائے گا۔ بعض نے کہا کہ زمین کے اوپر سے پکڑکرزمین کے اندرلے جائے جائیں گے۔ بعض نے کہا کہ، من مکان قریب ، سے مراد دنیا کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–54

50۔ سعد بن ابی وقاص کے بیٹے عمر بن سعد ؓ کہا کرتے تھے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا ہے جو مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی شان میں کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ نے خود بھی اپنے باپ دادا کا دین چھوڑا نا چاہتے ہیں اوپر کی آیتوں میں مشریکن مکہ کا یہ قول جو گذرا کہ ما ھذا الارجل یرید ان یصد کم عماکان یعبد آیا ثمکم اس سے عمر بن سعد کے اس قول کی تصدیق بھی ہوتی ہے ‘ یہ عمر بن سعدثقہ تابعیوں میں ہیں لیکن یزید کی طرف سے جو لشکر حضرت حسین ؓ نے کوفہ پر لڑا اس لشکر کے یہ عمر بن سعد سردار تھے اس واسطے اسماء الرجال اور تاریخ کی کتابوں میں ان عمر بن سعد ؓ پر لوگ طعن کرتے ہیں لیکن ان کی روایت میں کچھ طعن نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–54

آیت 51 اللہ تبارک فرماتا ہے : (ولو تری) ” اور اگر آپ دیکھیں “ اے رسول ! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال (اذفرعوا) ” جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے “ عذبا اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انہوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب ان کے لئے عذاب کا فیصلہ کردیا جائے گا تو ان کے لئے بھاگنے کی کوئی جگہ ہوگی نہ وہ بچ ہی سکیں گے (واخذوا من مکان قریب) ” اور وہ قریب ہی سے پکڑ لئے جائیں گے۔ “ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے کہ ان کو پکڑ لیا جائے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 51–52

109 عذاب کے وقت منکروں کی بےبسی اور لاچاری کا منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت یہ نہایت گھبراہٹ کے عالم میں ہوں گے۔ ان کے لیے بھاگ نکلنے کی بھی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی اور ان کو قریب کی جگہ ہی سے فورا پکڑ لیا جائے گا۔ یعنی منکروں کیلئے اس وقت نہ تو اس طرح کہیں بھاگ کر بچ نکلنے کی کوئی صورت ممکن ہوگی جس طرح کہ دنیا میں مجرم لوگ بسا اوقات ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور نہ ہی اس روز ان کے پکڑنے کے لئے کسی بڑی بھاگ دوڑ اور خاص اہتمام و انتظام کی ضرورت ہوگی، جس طرح کہ دنیا میں پولیس اور حکومتوں وغیرہ کو کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ یہ لوگ جہاں کہیں بھی ہوں گے وہیں سے دھر لئے جائیں گے اور بہت آسانی سے پکڑ لئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–54

ایمان لانے کا مقام دنیا ہے آخرت نہیں تشریح : انسانی فطرت کا بیان ہے کہ جب تک اس کے اندر یقین کی کیفیت پیدا نہ ہوجائے وہ کچھ نہیں کرسکتا یہ صرف مکہ والوں کا حال ہی نہیں بلکہ یہ ان سے پہلے اور ان سے بعد میں آنے والے سب لوگوں کا ایک ہی طریقہ ہے۔ موجودہ زمانہ ترقی اور علم و عرفان کا زمانہ ہے مگر جب ہم کفار و مشرکین اور مسلمانوں کی تعداد کا حساب لگاتے ہیں تو نسبتاً مسلمان پوری دنیا میں کم تعداد رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اس وقت دنیا کی آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی ہیں۔ اکثر مسلم ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں اور یہ کل ارکان کا ایک تہائی ہیں۔ باقی کل آبادی یہ بھی جانتی ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–54

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 46 تا 54: اسرار و معارف : آپ ان کے اندیشوں کے جواب میں انہیں فرما دیجئے کہ ایک کام کرو محض جذباتی باتیں نہ کرو ذرا خلوص کے ساتھ جذبات سے الگ ہو کر محض اللہ کے لیے غور کرو اکیلے میں یا مل کر اور اچھی طرح سے فکر کرو کہ اللہ کا جو بندہ تم سے مخاطب ہے وہ کیسا ہے اتنا بڑا دعوی کرتا ہے اور پھر اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد یا لاؤ لشکر اور مال و دولت کے وہ بات کہہ رہا ہے جو نہ صرف اہل مکہ بلکہ دنیا بھر کے کفار کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ان کے صدیوں کے مذاہب کو باطل قرار دے رہا ہے اہل عرب کے سامنے صرف یہ ایک دعوی کہ جو کتاب میں پیش کر رہا ہوں دنیا کے سب اہل علم مل کر بھی اس جیسا ایک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی اس طرح پکڑ لئے جائیں گے گویا ان کا پکڑنے والا قریب ہی کھڑا تھا۔ جونہی انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی فوراً پکڑ لئے تھے۔ ابن جریر (رح) لکھتے ہیں کہ ان سے مراد وہ لشکر ہے جو عباسی دور حکومت میں مکہ اور مدینہ کے درمیان زمین کے اندر دھنسا دیا گیا تھا اور افسوس ہے کہ انہوں نے اس کی تائید میں ایک موضوع حدیث بھی درج کردی ہے مگر صحیح ہے کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ( ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:51) لو تری میں لو حرف تمنا ہے۔ کاش تو دیکھے۔ فزعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب فزع مصدر۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل استعمال ہوا ہے (جب) یہ لوگ گھبرائے ہوئے ہوں گے۔ گھبراہٹ میں ہوں گے۔ ڈر اور کوکی حالت میں ہوں گے۔ نیز ملاحظہ ہو (34:23) فوت۔ اسم فعل۔ آگے بڑھ جانا۔ گرفت سے باہر ہوجانا۔ الفوت (باب نصر) ہاتھ سے نکل جانا۔ کسی چیز کا انسان سے اتنی دور ہوجانا کہ اس کا ھاصل کرلینا اس کے لئے دشوار ہو مثلاً قرآن مجید میں ہے وان فاتکم شییء من ازواجکم الی الکفار (60: 11) اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے ۔ دوسری آیت : لکیلا تاسوا علی ما فاتکم۔ تا کہ تم غم نہ کیا کرو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–54

لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 54 اعظ : میں نصیحت کرتا ہوں مثنی : دو دو فرادی : ایک ایک صاحب : ساتھی یقذف : وہ پھینکتا ہے ما یبدی : وہ ابتدا نہیں کرتا فزعوا : وہ گھبرا گئے التناوش : جھپٹ کر پکڑ لینا یشتھون : وہ خواہش رکھتے ہیں تشریح ـ : آیات نمبر 46 تا 54 اعلان نبوت سے پہلے بھی عرب کا بچہ بچہ بنی کریم حضرت محمد رسول ﷺ کی متا نت و سنجیدگی ، عقل و دانش ، دیانت و امانت ، حسن عمل اور خاندانی شرافت سے نہ صرف اچھی طرح واقف تھا بلکہ ہر شخص آپ سے ملنے کے بعد صرف آپ ہی کی تعریف کرتا نظرآتا تھا لیکن جیسے ہی آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور ان کی رسموں اور طریقوں کو غلط بتایا بت پرستی ، جہالت اور بہت سی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–54

منکرین حشر کا زکر۔ (ف 2) فرمایا اے محبوب ﷺ اگر آپ کافروں کے بدانجام احوال دیکھیں جب وہ موت کے قریب ، یا دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنے کے وقت یا جنگ بدر کے دن گھبرائیں گے تو ایک عجیب ہولناک بات دیکھیں گے یہ لوگ وہاں سے بھاگ کر کہاں جاسکتے ہیں اور اس روز یہ ہمارے عذاب سے بھاگ نہ سکیں گے ، اور پاس ہی کے مقام یعنی قبروں سے پکڑ لیے جائیں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہم محمد ﷺ اور قرآن شریف پر ایمان لے آئے لیکن ایمان ان کے ہاتھ اس قدر دور مقام سے کیسے لگ سکتا ہے یعنی ایمان کی جگہ دنیا تھی اور یہ اس وقت آخرت میں ہیں پہلے سے تو یہ لوگ کفر کررہے تھے اور ان باتوں میں جن کی ان کو خبر نہ تھی اٹکلیں مارتے رہے، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 46–51

[32] یعنی تعصب وعناد کو چھوڑ کر انصاف و اخلاص کے ساتھ اللہ کے نام پر اٹھ کھڑے ہو اور سب مل کر مشورہ کرلو اور الگ الگ تنہائی میں غور کر کے سوچو کہ یہ تمہارا رفیق یعنی محمد ﷺ جو چالیس برس سے زیادہ تمہاری آنکھوں کے سامنے رہا اور جس کی امانت و دیانت اور فہم و دانش کے تم برابر قائل رہے اور کبھی نفسانیت پرستی یا خود غرضی کا الزام تم نے اس پر نہیں رکھا، کیا واقعی تم گمان کرسکتے ہو کہ اسے بیٹھے بٹھائے جنون ہوگیا ہے۔ کیا کہیں دیوانے ایسی حکمت کی باتیں کیا کرتے ہیں ؟ کیا کوئی مجنون اپنی قوم کی خیرخواہی اور اس کی اخروی فلاح اور دنیوی ترقی کا اتنا زبردست لائحہ عمل پیش کرسکتا ہے ؟ وہ تو تم کو مستقبل کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–53

ف 1: یقذف بالحق سے مراد یا تو یہ ہے کہ باوجود تمہاری مساعی کے میرا رب ضرور اس کے لئے لوگوں کے دلوں میں پذیرائی کی صلاحیت پیدا کرے گا ۔ اور ضرور اسلام کی سچائی اور صداقت کو ان کے قلوب میں ڈال دے گا ۔ کیونکہ صداقت بجائے خود اپنے اندر جاذبیت رکھتی ہے ۔ اور اس لائق ہوتی ہے ۔ کہ لوگ اس کو ترجیح دیں ۔ یا یہ مراد ہے کہ بل نقذف بالحق علے الباطل یعنی حق باطل سے متصادم ہوتا ہے ۔ اور باطل دب جاتا ہے ۔ اور حق کو غلبہ وقوت عطا ہوتی ہے ۔ تم بھی یہ دیکھتے رہو ۔ کہ اسلام کے عقائد کیونکر تمہارے مزعومات باطلہ سے ٹکرا کر انہیں کس طرح پاس پاس کردیتے ہیں ۔ حق وصداقت کی پرکھ یہ بھی ہے ۔ کہ بالآخر حق وبقاو دوام کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(51) اور اے پیغمبر آپ ان دین حق کے منکروں کی حالت اس وقت دیکھئے کہ جب یہ منکر سخت گھبرا رہے ہوں گے اور کہیں بھاگ کر بچ بھی نہ سکتے ہوں گے اور قریب ہی کے قریب پکڑ لئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 49–51

ف 7۔ اصل مقصود مخاطبین کو سنانا ہے کہ باوجود وضوح حق کے اگر تم نے حق کا اتباع نہ کیا تو تم بھگتو گے، میرا کیا بگڑے گا، اور اگر راہ پر آگئے تو یہ راہ پر آنا ہی دین حق ثابت بالوحی کے اتباع کی بدولت ہوگا، پس تم کو چاہئے کہ راہ راست پر آنے کے لئے اس دین کو اختیار کرو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کاش کہ تم دیکھو جب یہ گھبرائے ہوئے ہوں گے اور بچ کر نہ جاسکیں گے 51 ۔ فطرت انسانی ہے کہ جب وہ گھبراجاتا ہے تو اس کا ذہنی توازن صحیح نہیں رہتا اور اکثر گھبراتا بھی اسی وقت ہے جب اس کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ پکڑا گیا تو بس دھرلیا گیا۔ زیر نظر آیت میں جو حالت بیان کی گئی ہے یہ اس وقت کی ہے جب منکرین قیامت کو قیامت کے لئے اٹھا کھڑا کردیا جائے گا اور یہ مرحلہ دیکھتے ہی وہ گھبرا جائیں گے اور ان کے سامنے دنیوی زندگی کا پورا نقشہ کھنچ جائے گا جس طرح ان کے پاس انبیاء کرام اور رسل عظام آئے اور ان کو ہدیات کی راہ بتائی اور وہ اکڑ کر اور اترا کر ان سے الگ ہوگئے اور ان سے طرح طرح کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–51

Commentary According to most commentators, the attending condition described in verse 51: وَأُخِذُوا مِن مَّكَانٍ قَرِ‌يبٍ (and they will be seized from a place near at hand) refers to the Day of Resurrection (al-hashr) from the terror of which disbelievers and sinners will not be able to escape even if they try to do so. In our normal experience in this world, when a culprit runs away, he has to be searched for. Something like that will not happen in the present case. In fact, all of them will be seized from where they are located. No one will have the chance to escape. Others have taken…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

72 That is, "On the Day of Resurrection, every culprit will be seized in a way as though he lay in hiding closeby. As he will try to flee, he will be seized inunediately . "

Read the full tafseer →