Saba 34:50

Saba · from ayah 50

34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰی نَفْسِیْ ۚ— وَاِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ ؕ— اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ ۟قُلۡ اِنۡ ضَلَلۡتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَـفۡسِىۡ ۚ وَاِنِ اهۡتَدَيۡتُ فَبِمَا يُوۡحِىۡۤ اِلَىَّ رَبِّىۡ ؕ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ قَرِيۡبٌ

کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے۔ اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بےشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "If I should err, I would only err against myself. But if I am guided, it is by what my Lord reveals to me. Indeed, He is Hearing and near."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:50

کہو "اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا رب میرے اوپر نازل کرتا ہے، وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے۔ اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بےشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجیئے کہ اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے (کا وبال) مجھ پر ہی ہے اور اگر میں راه ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس وحی کے جو میرا پروردگار مجھے کرتا ہے وه بڑا ہی سننے واﻻ اور بہت ہی قریب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : اگر میں راستے سے بھٹکا ہوں تو میرے بھٹکنے کا نقصان مجھی کو ہوگا، اور اگر میں نے سیدھا راستہ پالیا ہے تو یہ اس وحی کی بدولت ہے جو میرا رب مجھ پر نازل کر رہا ہے۔ وہ یقینا سب کچھ سننے والا، ہر ایک سے قریب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ اگر میں بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا اور اگر میں نے راہ پائی تو اس کے سبب جو میرا رب میری طرف وحی فرماتا ہے بیشک وہ سننے والا نزدیک ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے کا گناہ (یا نقصان) میری اپنی ہی ذات پر ہے، اور اگر میں نے ہدایت پا لی ہے تو اس وجہ سے (پائی ہے) کہ میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بیشک وہ سننے والا ہے قریب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے اگر میں گمراہ ہوا تو اپنی جان ہی پر گمراہ ہوں گا اور اگر میں نے ہدایت پائی تو اسی کی وجہ سے جو میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے، یقینا وہ سب کچھ سننے والا، قریب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ اگر میں راہ بھولا ہوا ہوں تو اس بھول کا وبال مجھ پر ہوگا اور اگر میں سیدھی راہ پر گامزن ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا پروردگار میری طرف وحی کرتا ہے وہ یقینا سب کچھ سننے والا ہے اور قریب ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو اگر میں گمراہی پر ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھی پر ہے اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کی بدولت ہے جو میرا رب میری طرف بھیج رہا ہے۔ وہ سننے والا اور نہایت قریب ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کہ اگر (بالفرض) میں گمراہی پر ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ ہی پر ہوگا اور اگر میں سیدھی راہ پر ہوں تو یہ اس وحی کی بناء پر ہے جو میرا رب میری طرف بھیجتا ہے بلاشبہ وہ سنتا ہے (ہر کسی کی اور) نہایت ہی قریب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں گمراہ ہوگیا تو میری گمراہی کا وبال مجھ ہی پر رہے گا اور اگر میں ہدایت پر رہوں تو یہ اس وحی کی بدولت ہے جو میرا پروردگار مجھے کرتا رہتا ہے بیشک وہ بڑا سننے والا ہے بہت قریب ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) کہیے کہ اگر میں بہک گیا ہوں تو اس کا وبال میرے اوپر ہی آئے گا } اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کے طفیل ہے جو میرا رب میری طرف کرتا ہے۔ یقینا وہ خوب سننے والا بہت قریب ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا نقصان مجھی کو ہوگا اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کی وجہ سے ہے جو میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بیشک وہ سننے والا اور نزدیک ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: “If I go astray then the hurt of straying will come only upon me. But if I am rightly-guided, that is only because of the revelation that my Lord makes to me. He is All-Hearing, Ever Nigh.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :If I go astray, I shall go astray only to my own detriment. And if I follow the right path, it is because of what my Lord reveals to me. Surely He is All-Hearer, Ever-Near.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :If I go astray, I shall go astray only to my own detriment. And if I follow the right path, it is because of what my Lord reveals to me. Surely He is All-Hearer, Ever-Near.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "If (even) I go astray, I shall stray only to my own loss. But if I remain guided, it is because of the Revelation of my Lord to me. Truly, He is All-Hearer, Ever Near."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: If I err, I err only to my own loss, and if I am rightly guided it is because of that which my Lord hath revealed unto me. Lo! He is Hearer, Nigh.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "If I should err, I would only err against myself. But if I am guided, it is by what my Lord reveals to me. Indeed, He is Hearing and near."

— Saheeh International

Say, "If I go astray it will only be against my own soul, but if I receive guidance, it will be through my Lord's revelations." He is All-hearing and Omnipresent.

— Muhammad Sarwar

Say: If I err, I err only against my own soul, and if I follow a right direction, it is because of what my Lord reveals to me; surely He is Hearing, Nigh.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: if ever I go astray, I shall stray only against myself, and if I remain guided it is because of that which my Lord hath revealed Unto me. Verily He is Hearing, Nigh.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "If I am astray, I only stray to the loss of my own soul: but if I receive guidance, it is because of the inspiration of my Lord to me: it is He Who hears all things, and is (ever) near."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–50

مشرکین کو دعوت اصلاح۔ حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت (رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ 15 ۙ) 40۔ غافر :15) ، ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے حضرت جبرائیل کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے۔ جو حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 71 اس زمانے کے بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس کی رو سے نبی ﷺ گمراہ ہو سکتے تھے، بلکہ ہوجایا کرتے تھے، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے خود حضور ﷺ ہی کی زبان سے یہ کہلوا دیا کہ اگر میں گمراہ ہوتا ہوں تو اپنی گمراہی کا خود ذمہ دار ہوتا ہوں اور راہ راست پر میں بس اس وقت ہوتا ہوں جب میرا رب مجھ پر وحی (یعنی آیات قرآنی) نازل کرتا ہے۔ اس غلط تاویل سے یہ ظالم گویا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی زندگی معاذ اللہ ہدایت و ضلالت کا مجموعہ تھی اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے سامنے حضور ﷺ سے یہ اعتراف اس لیے کروا رہا تھا کہ کہیں کوئی شخص آپ ﷺ کو بالکل ہی راہ راست پر سمجھ کر آپ کی مکمل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

(آیت) ان ربی یقذف بالحق علام الغیوب، یعنی میرا پروردگار جو علام الغیوب ہے وہ حق کو باطل پر دے مارتا ہے (جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ باطل پاش پاش ہوجاتا ہے، کما قال تعالیٰ فاذا ہو زاھق، لفظ قذف کے لغوی معنی پھینک مارنے کے ہیں، یہاں باطل کے مقابلہ میں حق کو پیش کرنا مراد ہے، اور لفظ یقذف سے تعبیر کرنے میں شاید یہ حکمت ہو کہ باطل پر حق کی زد پڑنے کا اثر بتلانا مقصود ہو۔ یہ ایک تمثیل ہے کہ جس طرح کوئی بھاری چیز کسی نازک چیز پر پھینک دی جائے تو وہ چیز پاش پاش ہوجاتی ہے، اسی طرح حق کے مقابلہ میں باطل پاش پاش ہوجاتا ہے۔ اسی لئے آگے فرمایا (آیت) و ما یبدی الباطل ومایعید، یعنی حق کے مقابلہ میں باطل ایسا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل ان ضلک فانما اضل علی نفسی وان اھتدیت فبما یوحی الی ربی انہ سمیع قریب (50) اب یہ ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی کہ ان سے کہو دو کہ اگر میں گمراہی ہوں، جیسا کہ تم سمجھتے ہو تو اس گمراہی کا خمیازہ بہرحال مجھ ہی کو بھگتنا ہے، تم اس کے وبال سے محفوظ ہو اس لئے کہ تم اس میں میرا ساتھ نہیں دے رہے ہو۔ لیکن اس مسئہ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اس پر بھی اچھی طرح غور کرلو۔ وہ یہ کہ اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ ہدایت اس وحی کی بدولت مجھے حاصل ہوئی ہے جو میرا پروردگار مجھ پر نازل فرما رہا ہے۔ اس صورت میں میری تکذیب تمہارے لئے کوئی سہل چیز نہیں ہے بلکہ تم وحی الٰہی کے جھٹلانے والے ٹھہرتے ہو اور وحی الٰہی کی تکذیب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 یعنی بھلائی سب اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جو وحی اور حق مبین نازل فرمایا، اس میں رشدو ہدایت ہے، صحیح راستہ لوگوں کو اس سے ملتا ہے۔ پس جو گمراہ ہوتا ہے، تو اس میں انسان کی اپنی ہی کوتاہی اور ہوائے نفس کا دخل ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا 50۔ 2 جس طرح حدیث میں فرمایا ' تم بہری اور غائب ذات کو نہیں پکار رہے ہو ' بلکہ اس کو پکار رہے ہو جو سننے والا، قریب اور قبول کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–51

22: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ حق باتیں وحی کے ذریعے اوپر سے آرہی ہیں، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اوپر سے حق کو بھیج کر اسے باطل پر غالب فرما رہا ہے، لہذا چاہے تم کتنی مخالفت کرو، باطل رفتہ رفتہ ختم ہوجائے گا، اور حق غالب آ کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل ان ضللت۔۔۔۔ سمیع قریب (50) اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو اس کا وہال تم پر نہ ہوگا ۔ میں خود ذمہ دار ہوں گا اور اگر میں ہدایت ہر ہوں تو اللہ نے بذریعہ وحی مجھے یہ ہدایات دی ہیں ۔ میں خود از خود کوئی کام کرنے کا مجاز نہیں ہوں ۔ میں تو خود بھی اسیراشارہ ابرر دہوں ۔ انہ سمیع قریب (34: 50) ” وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے “۔ یہ لوگ اللہ کو قریب پاتے تھے ۔ ان کے تصور میں اللہ کی یہ صفات بیٹھی ہوئی تھیں اور ان کی حقیقی زندگی میں یہ صفات موثر تھیں ۔ ان کو یقین تھا کہ اللہ سمیع ہے اور قریب ہے ۔ اور وہ ان کے امور کو براہ راست دیکھ رہا ہے ۔ ان کی شکایت اور ان کے مشورے سب اللہ کے سامنے ہیں ۔ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اگر میں نے یہ ڈھونگ خود کھڑا کیا ہے تو کون سے دن چلے گا اس میں آخر میرا ہی نقصان ہے۔ دنیا کی عداوت مول لینا، ذلت اٹھانا اور آخرت کی رسوائی قبول کرنا۔ (العیاذ باللہ) لیکن اگر میں سیدھے راستہ پر ہوں جیسا کہ واقعی ہوں تو سمجھ لو کہ یہ سب اللہ کی تائید و امداد اور وحی الٰہی کی برکت و ہدایت سے ہے جو کسی وقت میرا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی۔ میرا خدا سب کچھ سنتا ہے اور بالکل نزدیک ہے وہ ہمیشہ میری مدد فرمائے گا۔ اور اپنے پیغام کو دنیا میں روشن کرے گا۔ تم مانو یا نہ مانو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 { قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰی نَفْسِیْ } ”آپ ﷺ ان سے یہ بھی کہیے کہ اگر میں بہک گیا ہوں تو اس کا وبال میرے اوپر ہی آئے گا۔“ { وَاِنِ اہْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْٓ اِلَیَّ رَبِّیْ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ } ”اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کے طفیل ہے جو میرا رب میری طرف کرتا ہے۔ یقینا وہ خوب سننے والا ‘ بہت قریب ہے۔“ یہ انتہائی متواضع اندازِ بیان ہے کہ اگر بالفرض میں بہک گیا ہوں تو یہ میرے نفس کی شرارت کے باعث ہے اور اس کا وبال بھی مجھ پر ہوگا۔ اور اگر میں سیدھے راستے پر ہوں تو یقینا میرے رب کی راہنمائی کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا ہے۔ میں اپنی محنت اور کوشش سے ہدایت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

75 یعنی اگر میں نے یہ محض ایک ڈھونگ ہی رچایا ہوا ہے تو آخر یہ کتنے دل چل سکتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اس صورت میں تمہیں میری فکر چھوڑ دینا چاہئے میں اس باطل کے انجام سے جلد از جلد خود ہی دوچار ہوجاؤں گا اور اس کا وبال تم پر کچھ نہ ہوگا۔ لیکن اگر میں راہ راست ہوں تو اس راست روی کا ذریعہ سوا وحی الٰہی کے اور کیا ہوسکتا ہے ؟ تمہارے پاس تو تقلید آباء ذریعہ معلومات ہے۔ میرے پاس تو وہ بھی نہیں اس صورت میں تم خود ہی سوچ لو کہ تمہارا انجام کیا ہوسکتا ہے۔ میرا پروردگار جو اس پیغام کو بھیجنے والا ہے ہماری سب باتیں سن رہا ہے اور وہ جلد ہی حق کی مدد فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

68۔ (ہر ایک کو جزاء اس کے مناسب حال دینے پر قادر) (آیت) ” سمیع قریب “۔ اس میں مشرکوں کی تردید آگئی جو اپنے دیوتاؤں کو نہ حاضر وناظر تسلیم کرتے تھے اور نہ ہمہ بین وہمہ داں۔ آیت بڑی سبق آموز ہے۔ رسول کو بایں جلالت وشرف حکم یہ ملتا ہے کہ کمزوری اور غلط روی کو اپنی ہی جانب منسوب کرو، اور ہدایت و استقامت حق کو وحی الہی کی جانب، تو جب رسول معصوم ﷺ کا یہ حال ہے تو غیر معصوموں کے لیے جو حکم ہوگا ظاہر ہے۔ لان النفس کل ماھو وبال علیھا وضارلھا فھو بھا وبسببا لانھا الامارۃ بالسوء ومالھا مما ینفعھا فبھدایۃ ربھا و توفیقہ وھذا حکم عام لکل مکلف انما امر رسولہ ان یسندہ الی نفسہ لان الرسول اذا دخل تحتہ مع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–54

آیت نمبر 46 تا 54 ترجمہ : آپ کہئے کہ میں تمہیں صرف ایک (مختصر سی) بات کی نصحیت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم خدا کے وسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو یا تنہا تنہا کھڑے (مستعد) ہوجاؤ، پھر سوچو تو تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے ساتھی محمد کو کوئی جنون نہیں وہ تو تم کو آخرت کے سخت عذاب سے اس کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے اگر تم اس کی بات نہ مانو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرنے اور تبلیغ پر تم سے جو معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو یعنی میں اس انذار و تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ طلب نہیں کرتا، میرا صلہ تو اللہ ہی کے ذمہ ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے میری صداقت سے واقف ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق بات اپنے نبیوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ان ضللت فانما اضل علی نفسی وان اھتدیت فبما یوحی الی ربی (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر (بالفرض) میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی مجھی پر وبال ہوگی اور اگر میں راہ راست پر ہوں تو یہ اس قرآن کی وجہ سے ہوگی جو میرا رب میرے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیج رہا ہے۔ یعنی جو دین میں نے اختیار کیا ہے ‘ اگر وہ گمراہی ہے تو گمراہی کا وبال مجھی پر پڑے گا اور ظاہر ہے کہ میں دیوانہ نہیں ‘ نہ اس سے مجھے کوئی دنیوی فائدہ حاصل ہوگا ‘ پھر گمراہی کے وبال کو میں اپنے لئے کیسے اختیار کرسکتا ہوں اور اگر یہ دین (مبنی بر) ہدایت ہے تو میری طرف سے نہیں ہے (یعنی میرا ساختہ پرداختہ نہیں ہے) نہ اس شہر میں میں نے کسی سے سیکھا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر میں اس حق و ہدایت کو چھوڑ کر گمراہ ہوجاؤں تو میری گمراہی بھی وبال ہوگی اور اگر میں حق و ہدایت پر قائم رہوں تو یہ ہدایت بدولت اس قرآن کے ہے جس کو میرا رب میرے پاس بھیج رہا ہے اور پکارنے والے پکار کو سننے والا اور محد کی دعا کی قبولیت کے قریب ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰي نَفْسِيْ : یہ پانچویں تلقین ہے کہ آپ انھیں سمجھانے کے لیے کہیں کہ اگر تمہارے بتوں کو اور تمہارے آباء کے دین کو چھوڑنے کی وجہ سے میں گمراہ ہوگیا ہوں، جیسا کہ میرے بارے میں تم کہتے پھرتے ہو تو اس گمراہی کا وبال مجھی پر پڑے گا، تم پر اس کی ذمہ داری نہیں اور اگر میں ہدایت یافتہ ہوں، جیسا کہ حقیقت ہے، تو یہ میرا کمال یا خوبی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری راہ نمائی ہے اور میں تمہیں صاف بتاچکا ہوں کہ میں اپنے نفس کی یا کسی اور کی پیروی کرتا ہی نہیں، بلکہ صرف وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف کی جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (ۭقُلْ اِنَّمَآ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : و لو تری اذ فذعوا فلا فوت کفار کے احوال ایسے وقت میں ذکر کیے جس میں وہ حق کی معرفت کے محتاج ہوں گے معنی ہے اگر آپ دنیا میں دیکھتیجب موت ان پر نازل ہوئی یا اللہ تعالیٰ کی ان پر پکڑ نازل ہوئی : یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے کہا : اس سے مراد صیحہ کی وجہ سے ان کا قبروں میں خوف ذدہ ہونا ہے (1) (تفسیر الحسن البصری، جلد 4، صفحہ 328 ) ۔ ان سے یہ قول بھی مروی ہے : یہ گھبراہٹ اس وقت ہوئی جب وہ قبروں سے نکلیں گے ؛ یہ قتادہ کا قول ہے۔ ابن مغفل نے کہا : جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے عقاب کو دیکھیں گے۔ سدی نے کہا : اس سے مراد غزوہ بدر کے روز ان کا ڈرنا ہے جب فرشتوں کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–50

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل ما سألتکم من اجر آپ فرماد یجیے کہ جو معاوضہ میں تم سے طلب کروں وہ تمہارا ہی ہے اجر سے مراد انعام ہے۔ آیت فہو لکم وہ تمہارا ہی ہے۔ یعنی میں تم سے اسلام پر کوئی سوال نہیں کرتا کسی مزدوری کا آیت قل ان ربی یقذف بالحق علام الغیوب، قل جاء الحق وما ئبدء الباطل فرمادیجیے تیرا رب حق کو باطل پر غالب کر رہا ہے وہی چھپی باتوں کو خوب جاننے والا ہے آپ فرمادیجیے کہ حق آگیا اور جھوٹے معبود نہ پہلی بار پیدا کرتے ہیں اور نہ دوبارہ پیدا کریں گے۔ یعنی شیطان نہ پہلی بار پیدا کرتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا جب انسان وہ ہلاک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ [آپ ﷺ کہیے اگر میں بھٹک گیا ] فَاِنَّمَآ [تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَضِلُّ [میں بھٹکتا ہوں ] عَلٰي نَفْسِيْ ۚ [اپنے نفس پر (یعنی نفس کے سبب سے)] وَاِنِ اهْتَدَيْتُ [اور اگر میں نے ہدایت پائی ] فَبِمَا [تو بسبب اس کے جو ] يُوْحِيْٓ اِلَيَّ [وحی کرتا ہے میری طرف ] رَبِّيْ ۭ [میرا رب ] اِنَّهٗ [بیشک وہ ] سَمِيْعٌ [سننے والا ہے ] قَرِيْبٌ [قریب ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–50

انفرادی اور اجتماعی طور پر غور و فکر کرنے کی دعوت رسول اللہ ﷺ کے اولین مخاطبین جو آپ کی تکذیب کرتے تھے وہ آپ کو دیوانگی کی طرف منسوب کرتے تھے، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں یہ نصیحت محض تمہاری ہمدردی کے لیے ہے، تم دو دو آدمی مل کر یا علیحدہ علیحدہ تنہائیوں میں سوچو اور غور و فکر کرو تمہارا یہ سوچنا صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، اس میں نفسانیت اور تعصب کا دخل نہ ہو، تم لوگ یہ سوچ لو کہ جو شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میں نبی ہوں اور تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہے وہ دیوانہ نہیں ہے، اس کے احوال دیکھ لو، اس کی بات سن لو، وہ قرآن سناتا ہے اسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–54

خاتمہء سورت برکلمہء حکمت وموعظت قال اللہ تعالی۔ قل انما اعظکم بواحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ انہم کانوا فی شک مریب۔ (ربط) ابتدائے سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت اور قیامت تینوں مضمون بیان ہوئے اب سورت کو ایک نصیحت پر ختم فرماتے ہیں جس سے توحید اور رسالت اور قیامت یعنی دین کے اصول ثلاثہ کی حقانیت واضح ہوجائے۔ ان تقوموا للہ سے توحید کی طرف اشارہ ہے اور ما بصحبکم من جنۃ ان ھو الا نذیر لکم۔ سے رسالت کی طرف اشارہ ہے اور بین یدی عذاب شدید سے یوم آخرت کی طرف اشارہ ہے تفسیر کبیر ص 24 ج 7۔ اور قل ما سالتکم من اجر سے مشرکین کے اس شبہ کو قطع کرنا ہے کہ آپ ﷺ کا فرمانا کسی طمع اور غرض پر مبنی نہیں بلکہ فقط تمہاری…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

52:۔ قل ان ضللت الخ : یہ آٹھواں طریق تبلیغ ہے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں، غلط بات اور گمراہی کی دعوت نہیں دے رہا ہوں۔ اگر میں جھوٹ کہوں گا اور تمہیں گمراہی کی دعوت دوں گا تو اس کا وبال مجھ پر پڑے گا۔ اور اگر میں راہ راست پر چل رہا راہ توحید کی طرف بلا رہا ہوں اس کی راہنمائی مجھے وحی الٰہی سے ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–54

ربط آیات گزشتہ آیات میں مشرکین کے باطل نظریات کا رد ہوا وہ بدبخت پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت و نبوت کا انکار کرتے تھے اور قرآن پاک کو کلام الٰہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، پھر جب قرآن کے اثر انداز ہونے کی بات ہوئی تو اسے جاننے سے تعبیر کرتے۔ اللہ نے مشرکین کو سخت تنبیہ کی اور اب آخر میں نصیحت کے پیرائے میں فرمایا کہ اگر مشرک لوگ ذرا بھی غور و فکر کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ حضور ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور ان کا لایا ہوا قرآن اللہ کی برحق کتاب ہے۔ قیامت یقینا آنے والی ہے اور سب کو محاسبے کے عمل سے گزرنا ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے سابقہ ادوار کے مشرکوں کا حال بھی بیان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰي نَفْسِيْ۝ 0 ۚ وَاِنِ اہْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوْحِيْٓ اِلَيَّ رَبِّيْ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ۝ 50 ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–54

دلائل قائم کرکے ہٹ دھرم مخاطبوں کو اب ایک اور طریقہ سے ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ فقال قل انما اعظکم بواحدۃ کہ میں تم کو ایک ہی بات کہتا ہوں، نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر اس کے بھی معنی نہیں کہ آپ ان کو صرف ایک ہی حکم پر مامور کرتے تھے۔ توحید وغیرہ کہ پھر باقی شاخیں قرار دی جاویں، جیسا کہ تفسیر کبیر میں ہے بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ جیسا کہ کہا کرتے ہیں۔ لو اب تم ایک کام کرو۔ ان تقوموا للّٰہ کہ ایک ایک تنہا ہو کر اور باہم مل کر خدا کے لیے یہ تو سوچو کہ تمہارے صاحب کو یعنی مجھے کچھ جنون تو نہیں ہے۔ یہ رسالت کے اثبات میں کلام ہے کہ خوب غور کرو کہ میں دیوانہ نہیں ہوں۔ جب دیوانہ نہیں تو کون عاقل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰی نَفْسِیْ ج وَاِنِ اھْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْٓ اِلَیَّ رَبِّیْ ط اِنَّـہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ۔ (السباء : 50) (کہہ دیجیے اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں سیدھے راستے پر ہوں تو یہ اس سبب سے ہے کہ میرا رب مجھ پر وحی بھیجتا ہے، بیشک وہ سب کچھ سنتا ہے، نزدیک ہے۔ ) وحیِ الٰہی کی تکذیب کا انجام آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ یہ لوگ جو نہایت جارحانہ انداز میں آپ کی مخالفت کررہے ہیں تو انھیں کہئے کہ اگر میں تمہاری نگاہ میں ایک گمراہ آدمی ہوں تو پھر تم میری مخالفت کیوں کررہے ہو۔ کیونکہ میری گمراہی کا وبال بہرحال مجھ ہی پر پڑے گا۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–51

فہم القرآن ربط کلام : آدمی کی حماقت کی ایک وجہ اس کا مفاد اور لالچ ہوا کرتا ہے نبی معظم ﷺ کو لوگوں سے کوئی دنیوی مفاد نہ تھا جس بنا پر کفار کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے چار استفسار کیے گئے ہیں۔ اے پیغمبر ﷺ ! انہیں فرما دیں کہ کیا میں نے تم سے اس دعوت کے کام پر کسی قسم کا کوئی مطالبہ کیا ہے جس بنا پر تم مجھے مجنون کہتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں کسی لالچ کے پیش نظرتمہارے نظریات کی مخالفت کرتا ہوں ؟ ہرگز نہیں میرا مقصد تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ لہٰذا اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ میرا صلہ میرے رب کے ذمہ ہے جو میرے اور تمہارے احوال کو اچھی طرح جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رب مجھ پر حق نازل کرتا ہے جسے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فائدہ خالص توحید ِالٰہی سے ہے : 50: جب کفار نے کہا تو اپنے آباء کا دین چھوڑ کر گمراہ ہوگیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰی نَفْسِیْ (کہہ دیجئے اگر میں گمراہ ہوجائوں تو میری گمراہی مجھ ہی پر ہے) یعنی اگر میں گمراہ ہوجائوں تو وہ میری طرف سے ہے اور اس کا وبال بھی مجھ پر ہے۔ وَاِنْ اھْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْ اِلَیَّ رَبِّیْ (اور اگر میں راہ پر ہوں تو یہ اس وحی کے سبب ہے جو میرے رب نے مجھ پر کی ہے) اس لئے یہ وحی کے ذریعہ اس میں میری راہنمائی کردی گئی ہے۔ تقابل کے قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا وان اھتدیت فانما اھتدی لھاجیسا کہ اس آیت میں فرمایا : فمن اھتدٰی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 50۔ ، قل ان ضللت فانما اضل علی نفسی ، کفارم کہ یوں کہا کرتے تھے کہ جب انہوں نے اپنے آباؤ اجداد ا دین چھوڑاتو گمراہ ہوگیا (نعوذباللہ ) آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر انہوں نے گمراہی اختیار کی ہے تو اس کا وبال انہی پر ہوگا۔ ، وان اھتدیت فبما یوحی الی ربی، اس سے مراد قرآن اور حکمت ہے ۔ ، انہ سمیع قریب،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–54

50۔ سعد بن ابی وقاص کے بیٹے عمر بن سعد ؓ کہا کرتے تھے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا ہے جو مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی شان میں کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ نے خود بھی اپنے باپ دادا کا دین چھوڑا نا چاہتے ہیں اوپر کی آیتوں میں مشریکن مکہ کا یہ قول جو گذرا کہ ما ھذا الارجل یرید ان یصد کم عماکان یعبد آیا ثمکم اس سے عمر بن سعد کے اس قول کی تصدیق بھی ہوتی ہے ‘ یہ عمر بن سعدثقہ تابعیوں میں ہیں لیکن یزید کی طرف سے جو لشکر حضرت حسین ؓ نے کوفہ پر لڑا اس لشکر کے یہ عمر بن سعد سردار تھے اس واسطے اسماء الرجال اور تاریخ کی کتابوں میں ان عمر بن سعد ؓ پر لوگ طعن کرتے ہیں لیکن ان کی روایت میں کچھ طعن نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 50 (قل) اے رسول ! ان مکذبین و معاندین، تکذیب حق میں بھگا دوڑ کرنے اور حق لانے والے کے بارے میں جرح وقدح کے در پے رہنے والوں سے کہہ دیجیے : (انما اعظکم بواحدۃ) ” میں تمہیں صرف ایک بات کی وصیت کترا ہوں “ تمہیں اس کا مشورہ دیتا ہوں اور اس بارے میں تمہارے ساتھ خیر خواہی کرتا ہوں۔ یہی انصاف پر مبنی طریقہ ہے، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات مانو نہ یہ کہتا ہوں کہ تم بغیر کسی موبج کے اپنی بات چھوڑ دو ، میں تم لوگوں سے صرف یہ کہتا ہوں : (ان تقوموا للہ مثنی وفرادی) ” کہ تم اللہ کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ۔ “ یعنی ہمت، نشاط، اتباع صواب کے قصد اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کے ساتھ،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

107 منکرین و مشرکین کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑنے والی تنبیہ : کہ وحی خداوندی کی تکذیب کا انجام نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی حق کی پوری طرح وضاحت کے بعد بھی جو لوگ ضد اور ہٹ دھرمی سے ہی کام لیں ان کو یہ آخری اعلان سنا دیں کہ اگر بالفرض میں گمراہی پر ہوں تو اس کا وبال مجھ ہی پر ہوگا۔ تم سے اس کی کوئی پوچھ نہیں ہوگی۔ اور اگر میں ہدایت پر ہوں جیسا کہ حقیقت اور واقعہ کے اعتبار سے میں ہوں، تو یہ اس وحی کی بنا پر ہے جو میرے رب کی طرف سے میری طرف کی جاتی ہے۔ اور اس صورت میں حق کا انکار کرنے پر جو انجام تمہارا ہوسکتا ہے اور ہوگا اسے تم خود سوچ اور سمجھ لو اور اپنی فکر خود کرلو۔ اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–50

کفار کو غور وفکر کی دعوت تشریح : ان آیات میں کفار مکہ کو دعوت ایمان دی گئی ہے مگر ہمیشہ کی طرح یہی اعتراضات کہ نبی جھوٹا ہے ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے مذہب سے ہٹانا چاہتا ہے۔ دوسرا بڑا اعتراض کہ یہ قرآن اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب نہیں بلکہ خود اپنے پاس سے ہی بنالی گئی ہے۔ تیسری بات یہ کہ سب کچھ جادو ہے۔ یہی سب باتیں ہر زمانے میں ہر پیغمبر کو سننی پڑی تھیں۔ لوگ اسی طرح پیغمبر کو جھٹلاتے جادوگر کہتے، مجنوں کہتے اور پھر خوب اذیتیں دیتے بلکہ بہت سے تو اپنے پیغمبروں کو قتل ہی کردیتے۔ یہی کچھ نبی ﷺ کے ساتھ ان کے ہم وطنوں نے کیا۔ مندرجہ بالا آیات میں انہی کے حالات، خیالات، اعتقادات اور اعمال کا ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–54

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 46 تا 54: اسرار و معارف : آپ ان کے اندیشوں کے جواب میں انہیں فرما دیجئے کہ ایک کام کرو محض جذباتی باتیں نہ کرو ذرا خلوص کے ساتھ جذبات سے الگ ہو کر محض اللہ کے لیے غور کرو اکیلے میں یا مل کر اور اچھی طرح سے فکر کرو کہ اللہ کا جو بندہ تم سے مخاطب ہے وہ کیسا ہے اتنا بڑا دعوی کرتا ہے اور پھر اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد یا لاؤ لشکر اور مال و دولت کے وہ بات کہہ رہا ہے جو نہ صرف اہل مکہ بلکہ دنیا بھر کے کفار کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ان کے صدیوں کے مذاہب کو باطل قرار دے رہا ہے اہل عرب کے سامنے صرف یہ ایک دعوی کہ جو کتاب میں پیش کر رہا ہوں دنیا کے سب اہل علم مل کر بھی اس جیسا ایک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی اگر تمہارے بتوں کو چھوڑدینے کی وجہ سے گمراہ ہوگیا ہوں، جیسا کہ تم میرے بارے میں کہتے پھرتے ہو تو اس گمراہی کا وبال مجھی پر پڑے گا تم پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور اگر میں ہدایت یافتہ ہوں، جیسا کہ حقیقت ہے، تو یہ میرا کمال یا خوبی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعہ میری رہنمائی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:50) ان ضللت فانما اضل علی نفسی وان اھتدیت فبما یوحی الی ربی۔ ان شرطیہ ہے اور فانما میں فا جواب شرط کے لئے ہے اسی طرح فبما میں فا جواب شرط کے لئے با سببیہ اور ما موصولہ یا مصدریہ ہے۔ ای ان ضللت فانما اضل بسبب نفسی ووبالہ علی نفسی وان اھتدیت فانما اھتدی لنفسی بھدایۃ اللہ تعالیٰ و توفیقہ۔ ترجمہ :۔ اگر ، میں گمراہ ہوگیا تو اس کا نقصان مجھے ہی ہوگا۔ اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ ہدایت و توفیق منجانب اللہ ہے (بوجہ اس وحی کے جو میرا رب مجھ پر نازل فرماتا ہے ) اور اس کا صلہ بھی میری جان کے لئے ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ اپنے زعم میں تم جو مجھے گمراہ سمجھتے ہو اگر بالفرض اسے مان بھی لیا جائے تو اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–54

لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 54 اعظ : میں نصیحت کرتا ہوں مثنی : دو دو فرادی : ایک ایک صاحب : ساتھی یقذف : وہ پھینکتا ہے ما یبدی : وہ ابتدا نہیں کرتا فزعوا : وہ گھبرا گئے التناوش : جھپٹ کر پکڑ لینا یشتھون : وہ خواہش رکھتے ہیں تشریح ـ : آیات نمبر 46 تا 54 اعلان نبوت سے پہلے بھی عرب کا بچہ بچہ بنی کریم حضرت محمد رسول ﷺ کی متا نت و سنجیدگی ، عقل و دانش ، دیانت و امانت ، حسن عمل اور خاندانی شرافت سے نہ صرف اچھی طرح واقف تھا بلکہ ہر شخص آپ سے ملنے کے بعد صرف آپ ہی کی تعریف کرتا نظرآتا تھا لیکن جیسے ہی آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور ان کی رسموں اور طریقوں کو غلط بتایا بت پرستی ، جہالت اور بہت سی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا ہے کہ جو مشرکین مکہ نبی ﷺ کی شان میں کہا کرتے تھے کہ آپ گمراہ ہوگئے معاذاللہ۔ مسئلہ : انبیاء سب معصوم ہیں گناہ ان سے نہیں ہوسکتا اور حضور ﷺ امام الانبیاء ہیں اور کہنے لگے کہ ہم سے بھی باپ دادا کا دین چھڑانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو حکم دیا کہ آپ ان سے فرمادیں کہ اگر یہ فرض کیا جائے کہ میں بہکا دیا تو اس کا وبال میرے نفس پر ہے اور اگر جس طرح میں کہتا ہوں کہ میری جو کچھ نصیحت ہے وہ اللہ کے حکم کے موافق ہے اور تم لوگ اس نصیحت کی مخالفت کرتے ہو تو اس مخالفت کا سخت عذاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے تم کو بھگتنا پڑے گا اللہ تعالیٰ میرے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 46–51

[32] یعنی تعصب وعناد کو چھوڑ کر انصاف و اخلاص کے ساتھ اللہ کے نام پر اٹھ کھڑے ہو اور سب مل کر مشورہ کرلو اور الگ الگ تنہائی میں غور کر کے سوچو کہ یہ تمہارا رفیق یعنی محمد ﷺ جو چالیس برس سے زیادہ تمہاری آنکھوں کے سامنے رہا اور جس کی امانت و دیانت اور فہم و دانش کے تم برابر قائل رہے اور کبھی نفسانیت پرستی یا خود غرضی کا الزام تم نے اس پر نہیں رکھا، کیا واقعی تم گمان کرسکتے ہو کہ اسے بیٹھے بٹھائے جنون ہوگیا ہے۔ کیا کہیں دیوانے ایسی حکمت کی باتیں کیا کرتے ہیں ؟ کیا کوئی مجنون اپنی قوم کی خیرخواہی اور اس کی اخروی فلاح اور دنیوی ترقی کا اتنا زبردست لائحہ عمل پیش کرسکتا ہے ؟ وہ تو تم کو مستقبل کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–53

ف 1: یقذف بالحق سے مراد یا تو یہ ہے کہ باوجود تمہاری مساعی کے میرا رب ضرور اس کے لئے لوگوں کے دلوں میں پذیرائی کی صلاحیت پیدا کرے گا ۔ اور ضرور اسلام کی سچائی اور صداقت کو ان کے قلوب میں ڈال دے گا ۔ کیونکہ صداقت بجائے خود اپنے اندر جاذبیت رکھتی ہے ۔ اور اس لائق ہوتی ہے ۔ کہ لوگ اس کو ترجیح دیں ۔ یا یہ مراد ہے کہ بل نقذف بالحق علے الباطل یعنی حق باطل سے متصادم ہوتا ہے ۔ اور باطل دب جاتا ہے ۔ اور حق کو غلبہ وقوت عطا ہوتی ہے ۔ تم بھی یہ دیکھتے رہو ۔ کہ اسلام کے عقائد کیونکر تمہارے مزعومات باطلہ سے ٹکرا کر انہیں کس طرح پاس پاس کردیتے ہیں ۔ حق وصداقت کی پرکھ یہ بھی ہے ۔ کہ بالآخر حق وبقاو دوام کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(50) آپ یہ بھی فرما دیجئے کہ فرض کرلو اگر میں خدانخواستہ راہ راست سے بھٹک جائوں اور گمراہ ہو جائوں تو سوائے اس کے نہیں کہ میں اپنے ہی برے کو اور اپنی ہی جان کے لئے گمراہی اختیار کروں گا اور اگر میں راہ راست پر قائم رہوں تو یہ اس قرآنی وحی کی وجہ سے ہوگی جو میرا پروردگار میری طرف بھیجتا ہے۔ بلاشبہ وہ خوب سننے والا اور بہت قریب و نزدیک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کلام الٰہی کا حق ہونا ثابت ہوگیا تو لو فرضنا اگر میں راہ حق سے بھٹک جائوں تو اس کا وبال اور اس کا ضرر مجھ پر ہوگا اور میں جیسا کہ راہ راست پر ہوں اسی راہ راست پر قائم رہوں تو اس کا سبب وہ وحی الٰہی ہوگی جس کو میرا پروردگار میری طرف بھیجتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 49–51

ف 7۔ اصل مقصود مخاطبین کو سنانا ہے کہ باوجود وضوح حق کے اگر تم نے حق کا اتباع نہ کیا تو تم بھگتو گے، میرا کیا بگڑے گا، اور اگر راہ پر آگئے تو یہ راہ پر آنا ہی دین حق ثابت بالوحی کے اتباع کی بدولت ہوگا، پس تم کو چاہئے کہ راہ راست پر آنے کے لئے اس دین کو اختیار کرو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

معاندین سے کہہ دو کہ اچھا اگر میں گمراہ ہوں تو اس کا وبال بھی مجھ پر ہوگا ؟ 50 ۔ مخالفین ومعاندین جب حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوں ان کو دلائل دے کر سمجھایا جائے تو ان دلائل کو وہ ٹھکرادیں اور تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہ ہوں اور کسی دلیل کو وہ دلیل نہ سمجھیں بلکہ اپنی دولت اور اولاد کے نشہ میں اس قدر چور ہوں کہ حقیقت کو وہ چاہیں جھٹلائیں اور چاہیں تو اس کا مذاق اڑائیں اور پھر صرف اس کا نہیں بلکہ اس کا بھی جو اس حقیقت کو تسلیم کرے تو ایسے پڑھے لکھے اور صاحب دولت وجاہ بیوقوفوں کو کیا کہا جاسکتا ہے ؟ یہی کہ بھائیو ! تم مجھے گمراہ اور ضال کہتے ہو ، ناقدر اور ناشناس سمجھتے ہو تو میں تم کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–51

Commentary According to most commentators, the attending condition described in verse 51: وَأُخِذُوا مِن مَّكَانٍ قَرِ‌يبٍ (and they will be seized from a place near at hand) refers to the Day of Resurrection (al-hashr) from the terror of which disbelievers and sinners will not be able to escape even if they try to do so. In our normal experience in this world, when a culprit runs away, he has to be searched for. Something like that will not happen in the present case. In fact, all of them will be seized from where they are located. No one will have the chance to escape. Others have taken…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

71 From this verse some people of the modern age have argued thus: According to it the Holy Prophet also could go astray: rather used to go astray. That is why Allah has made the Holy Prophet himself say: `If I have gone astray, I am myself responsible for this. And I am on right guidance only when my Lord sends down Revelation (i.e., verses of the Qur'an) to me." By this wrong interpretation these unjust people in fact want to prove that the Holy Prophet's life was, God forbid, a combination of guidance and error, and Allah had made him confess this before the disbelievers Lest one should…

Read the full tafseer →