Explained with ayahs 47–50
مشرکین کو دعوت اصلاح۔
حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت (رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ 15 ۙ) 40۔ غافر :15) ، ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے حضرت جبرائیل کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے۔ جو حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
سورة سَبـَا 70
اصل الفاظ ہیں یَقْذِفُ بَالْحَقِّ۔ اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ وحی کے ذریعہ سے وہ علم حق میرے اوپر القا کرتا ہے اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ وہ حق کو غالب کر رہا ہے، باطل کے سر پر حق کی ضرب لگا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
(آیت) ان ربی یقذف بالحق علام الغیوب، یعنی میرا پروردگار جو علام الغیوب ہے وہ حق کو باطل پر دے مارتا ہے (جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ باطل پاش پاش ہوجاتا ہے، کما قال تعالیٰ فاذا ہو زاھق، لفظ قذف کے لغوی معنی پھینک مارنے کے ہیں، یہاں باطل کے مقابلہ میں حق کو پیش کرنا مراد ہے، اور لفظ یقذف سے تعبیر کرنے میں شاید یہ حکمت ہو کہ باطل پر حق کی زد پڑنے کا اثر بتلانا مقصود ہو۔ یہ ایک تمثیل ہے کہ جس طرح کوئی بھاری چیز کسی نازک چیز پر پھینک دی جائے تو وہ چیز پاش پاش ہوجاتی ہے، اسی طرح حق کے مقابلہ میں باطل پاش پاش ہوجاتا ہے۔ اسی لئے آگے فرمایا (آیت) و ما یبدی الباطل ومایعید، یعنی حق کے مقابلہ میں باطل ایسا…
Read the full tafseer →قل جاء الحق وما یبدی الباطل وما یعید (45)
جس طرح اوپر کی آیت میں ’ یقذف بالحق ‘ کے بعد زھق الباطل ‘ کے الفاط حذف ہیں اسی طرح یہاں جاء الحق کے بعد زھق الباطل کے الفاظ حذف ہیں اور اس خلا کو وما یبدی الباطل وما یعید کے الفاظ نے بھر دیا ہے۔
فرمایا کہ ان نادانوں کو بتادو کہ اب حق قرآن کی شکل میں آگیا اور جب حق آگیا تو اس باطل کا نابود ہونا لازمی ہے جس کی وہ پرستش کرتے رہے ہیں۔ اب اگر وہ اس باطل کے ساتھ چمٹے رہے تو اس کے ساتھ وہ بھی پس جائیں گے۔
’ وما یبدی الباطل وما یعید ‘۔ یہ باطل کی بےثباتی کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ اس کارخانہ کائنات کا آغاز اس کے خالق نے حق کے ساتھ فرمایا ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ…
Read the full tafseer →49۔ 1 حق سے مراد قرآن اور باطل سے مراد کفر و شرک ہے۔ مطلب ہے اللہ کی طرف سے اللہ کا دین اور اس کا قرآن آگیا ہے۔ جس سے باطل ختم ہوگیا ہے، اب وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
22: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ حق باتیں وحی کے ذریعے اوپر سے آرہی ہیں، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اوپر سے حق کو بھیج کر اسے باطل پر غالب فرما رہا ہے، لہذا چاہے تم کتنی مخالفت کرو، باطل رفتہ رفتہ ختم ہوجائے گا، اور حق غالب آ کر رہے گا۔
Read the full tafseer →اب آخری ضرب : قل جاء ۔۔۔۔۔ وما یعید (49) ” “۔ سچائی آگئی ہے ، رسول آگیا ، قرآن آگیا ، اسلامی نظام زندگی سیدھا سیدھا آگیا ۔ اعلان کردو ، اور کھلا اعلان کردو کہ اب حق آگیا ہے ۔ یہ گولہ قوت کے ساتھ پھینکا گیا ہے ۔ قوت اور سربلندی کے ساتھ آگیا ہے ۔
وما یبدی الباطل وما یعید (34: 49) ” باطل کے لیے نہ آغاز ہے اور نہ انجام “۔ اس کا معاملہ اب ختم ہے ۔ اس کی زندگی ختم ہے ۔ اب اس کے لیے کوئی میدان عمل نہیں ہے ۔ اس کا جانا ٹھہر گیا ہے ۔ یہ ایک نہایت ہی ہلا مارنے والی ضرب ہے ۔ جو کوئی بھی اس اعلان کو سنتا ہے ، وہ یقین کرلیتا ہے کہ اب کوئی گنجائش نہیں ہے ، باطل کے قائم رہنے کی ۔ لہٰذا حق کے سوا اب کسی اور…
Read the full tafseer →6 یعنی دین حق آپہنچا اب اس کا زور رکنے والا نہیں۔ سب پر غالب ہو کر اور باطل کو زیر کر کے رہے گا جھوٹ کے پاؤں کہاں جو حق کے سامنے چل سکے۔ وہ تو اب کرنے کا نہ دھرنے کا سمجھ لو آیا گیا ہوا۔ فتح مکہ کے دن یہ آیت آپ ﷺ کی زبان پر تھی۔
Read the full tafseer →آیت 49 { قُلْ جَآئَ الْحَقُّ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ حق آگیا ہے“
آپ ﷺ اعلان کردیجیے کہ حق کا بول بالا ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اب چند ہی برسوں بعد پورے جزیرہ نمائے عرب میں اللہ کے دین کا غلبہ ہوجائے گا۔
{ وَمَا یُبْدِیُٔ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ } ”اور باطل نہ تو کسی چیز کی ابتدا کرسکتا ہے اور نہ ہی اعادہ۔“
Read the full tafseer →74 یہاں باطل سے بعض لوگوں نے مراد معبودان باطل لیا ہے۔ یعنی ان باطل معبودوں نے کائنات میں پہلے بھلا کون سی چیز پیدا کی تھی کہ اب وہ دوبارہ وہ کچھ کرسکیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ معبود قطعی بےاختیار اور مجبور محض ہیں۔ تم لوگ ان سے خواہ مخواہ ہی کئی طرح کی توقعات وابستہ کئے بیٹھے ہو۔ اور اگر باطل کو اپنے ہی معنوں میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا۔ کہ باطل کو کبھی استقلال نصیب نہیں ہوتا۔ جسے ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ کسی بھی بات کی تحقیق شروع کرو۔ باطل کو فوراً وہاں سے رخصت ہونا پڑے گا۔ باطل کی ضد حق ہے۔ یعنی جوں جوں حق آجاتا ہے، باطل از خود رخصت ہوتا چلا جاتا ہے۔ فتح مکہ کے دن جب…
Read the full tafseer →67۔ یعنی اب دین حق کے آجانے سے دین باطل کا بطلان بالکل واضح و روشن ہوگیا۔ باطل میں جان اس سے مقابلہ کرنے کی نہ رہی۔ (آیت) ” ما یبدیء الباطل وما یعید “۔ محاورہ میں مراد ہلاک اور بیجان ہونے سے ہوتی ہے۔ اے زال الباطل وھلک لان الابداء والاعادۃ من صفات الحی فعدمھما عبارۃ عن الھلاک (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
آیت نمبر 46 تا 54
ترجمہ : آپ کہئے کہ میں تمہیں صرف ایک (مختصر سی) بات کی نصحیت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم خدا کے وسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو یا تنہا تنہا کھڑے (مستعد) ہوجاؤ، پھر سوچو تو تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے ساتھی محمد کو کوئی جنون نہیں وہ تو تم کو آخرت کے سخت عذاب سے اس کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے اگر تم اس کی بات نہ مانو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرنے اور تبلیغ پر تم سے جو معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو یعنی میں اس انذار و تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ طلب نہیں کرتا، میرا صلہ تو اللہ ہی کے ذمہ ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے میری صداقت سے واقف ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق بات اپنے نبیوں پر…
Read the full tafseer →قل جآء الحق . آپ کہہ دیجئے کہ حق (یعنی قرآن یا اسلام) آگیا۔
وما یبدئ الباطل وما یعید اور باطل نہ کرنے کا رہا نہ دھرنے کا۔ یعنی باطل (شرک) فنا ہوگیا ‘ نابود ہوگیا اور باطل
کا کوئی حصہ ایسا باقی نہیں رہا جو کسی چیز کو ابتداءً نمودار کرسکے یا اعادہ کرسکے۔ دوسری آیت میں آیا ہے : بَلْ یَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِل فَیَدْ مَغُہٗ فَاِذَا ھُوَ زَاھِقٌ۔ قتادہ نے کہا : باطل سے مراد ابلیس ہے ‘ جو نہ کسی کی ابتدائی تخلیق کرتا ہے نہ دوبارہ قبروں سے اٹھا سکے گا۔ کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ بعض کے نزدیک باطل سے بت مراد ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ مکہ کے کافر رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے : تم گمراہ ہوگئے ہو ‘ تم…
Read the full tafseer →آپ ان سے فرما دیجیے کہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ ہوگیا اور ان کی تعداد بڑھ رہی ہے اور شیاطین اور یہ بت کسی کام کے نہ رہے اور وہی مرنے کے بعد دوبارہ سب کو زندہ کرے گا۔
Read the full tafseer →قُلْ جَاۗءَ الْحَـقُّ : یہ چوتھی تلقین ہے کہ انھیں واضح کردیں کہ ان کا باطل بہت جلد ختم ہوجائے گا اور اس کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا) [ بني إسرائیل : 81 ] ”اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل ہمیشہ سے مٹنے والا تھا۔“
وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ : ”أَبْدَأَ یُبْدِئُ إِبْدَاءً“ (افعال) کوئی کام شروع میں کرنا اور اعادہ کا معنی ہے اسے دوبارہ کرنا۔ ہر زندہ شخص ان دونوں سے خالی نہیں ہوتا، یا وہ کوئی کام ابتداءً کرتا ہے یا دوبارہ، البتہ مردہ ان میں سے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ یہ…
Read the full tafseer →آیت : قل جاء الحق سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ الحق سے مراد قرآن ہے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 457 ) ۔ نحاس نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے جاء صاحب الحق یعنی ایسی کتاب جس میں براہین اور دلائل ہیں۔ آیت : و ما یبدی الباطل قتادہ نے کہا : اس سے مرا دشیطان ہے، یعنی شیطان کسی چیز کو پیدا نہیں کرتا۔ و ما یعید، ما نافیہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ ما استفہامیہ ہو، یہ ای شیء کے معنی میں ہوگا۔ یعنی حق آگیا تو باطل کے لیے کیا چیز باقی رہ گئی ہے کہ وہ اسے لوٹائے اور اسے نئے سرے سے شروع کرے یعنی کوئی چیز باقی نہیں بچی، جس اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
آیت : قل ان ضللت فا نما اضل علی نفسی اس کی وجہ یہ کہ کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل ما سألتکم من اجر آپ فرماد یجیے کہ جو معاوضہ میں تم سے طلب کروں وہ تمہارا ہی ہے اجر سے مراد انعام ہے۔ آیت فہو لکم وہ تمہارا ہی ہے۔ یعنی میں تم سے اسلام پر کوئی سوال نہیں کرتا کسی مزدوری کا آیت قل ان ربی یقذف بالحق علام الغیوب، قل جاء الحق وما ئبدء الباطل فرمادیجیے تیرا رب حق کو باطل پر غالب کر رہا ہے وہی چھپی باتوں کو خوب جاننے والا ہے آپ فرمادیجیے کہ حق آگیا اور جھوٹے معبود نہ پہلی بار پیدا کرتے ہیں اور نہ دوبارہ پیدا کریں گے۔ یعنی شیطان نہ پہلی بار پیدا کرتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا جب انسان وہ ہلاک…
Read the full tafseer →قُلْ جَاۗءَ الْحَـقُّ [آپ ﷺ کہیے آگیا حق ] وَمَا يُبْدِئُ [اور ابتدا نہیں کرتے (تخلیق کی)] الْبَاطِلُ [سارے باطل (غیر اللہ)] وَمَا يُعِيْدُ [اور نہ وہ دوبارہ لاتے ہیں (مخلوق کو)] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
انفرادی اور اجتماعی طور پر غور و فکر کرنے کی دعوت
رسول اللہ ﷺ کے اولین مخاطبین جو آپ کی تکذیب کرتے تھے وہ آپ کو دیوانگی کی طرف منسوب کرتے تھے، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں یہ نصیحت محض تمہاری ہمدردی کے لیے ہے، تم دو دو آدمی مل کر یا علیحدہ علیحدہ تنہائیوں میں سوچو اور غور و فکر کرو تمہارا یہ سوچنا صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، اس میں نفسانیت اور تعصب کا دخل نہ ہو، تم لوگ یہ سوچ لو کہ جو شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میں نبی ہوں اور تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہے وہ دیوانہ نہیں ہے، اس کے احوال دیکھ لو، اس کی بات سن لو، وہ قرآن سناتا ہے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
خاتمہء سورت برکلمہء حکمت وموعظت
قال اللہ تعالی۔ قل انما اعظکم بواحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ انہم کانوا فی شک مریب۔
(ربط) ابتدائے سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت اور قیامت تینوں مضمون بیان ہوئے اب سورت کو ایک نصیحت پر ختم فرماتے ہیں جس سے توحید اور رسالت اور قیامت یعنی دین کے اصول ثلاثہ کی حقانیت واضح ہوجائے۔ ان تقوموا للہ سے توحید کی طرف اشارہ ہے اور ما بصحبکم من جنۃ ان ھو الا نذیر لکم۔ سے رسالت کی طرف اشارہ ہے اور بین یدی عذاب شدید سے یوم آخرت کی طرف اشارہ ہے تفسیر کبیر ص 24 ج 7۔
اور قل ما سالتکم من اجر سے مشرکین کے اس شبہ کو قطع کرنا ہے کہ آپ ﷺ کا فرمانا کسی طمع اور غرض پر مبنی نہیں بلکہ فقط تمہاری…
Read the full tafseer →51:۔ قل جاء الخ : یہ ساتواں طریق تبلیغ ہے۔ آپ فرما دیجئے اب حق کا مقابلہ کرنا موت کو دعوت دینا ہے۔ کیونکہ اب حق غالب آچکا ہے اور باطل بےجان ہوچکا ہے۔ باطل میں اب حق کا مقابلہ کرنے کی سکت باقی نہیں رہی ای ذھب واضمحل بحیث لم یبق لہ اثر (روح ج 22 ص 156) ۔ یا باطل سے معبودان باطلہ مراد ہیں یعنی معبود باطل نہ ابتداء کسی کو پیدا کرسکتا ہے نہ کسی مرے ہوئے کو زندہ کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کے باطل نظریات کا رد ہوا وہ بدبخت پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت و نبوت کا انکار کرتے تھے اور قرآن پاک کو کلام الٰہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، پھر جب قرآن کے اثر انداز ہونے کی بات ہوئی تو اسے جاننے سے تعبیر کرتے۔ اللہ نے مشرکین کو سخت تنبیہ کی اور اب آخر میں نصیحت کے پیرائے میں فرمایا کہ اگر مشرک لوگ ذرا بھی غور و فکر کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ حضور ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور ان کا لایا ہوا قرآن اللہ کی برحق کتاب ہے۔ قیامت یقینا آنے والی ہے اور سب کو محاسبے کے عمل سے گزرنا ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے سابقہ ادوار کے مشرکوں کا حال بھی بیان…
Read the full tafseer →قُلْ جَاۗءَ الْحَـقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ 49
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
دلائل قائم کرکے ہٹ دھرم مخاطبوں کو اب ایک اور طریقہ سے ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ فقال قل انما اعظکم بواحدۃ کہ میں تم کو ایک ہی بات کہتا ہوں، نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر اس کے بھی معنی نہیں کہ آپ ان کو صرف ایک ہی حکم پر مامور کرتے تھے۔ توحید وغیرہ کہ پھر باقی شاخیں قرار دی جاویں، جیسا کہ تفسیر کبیر میں ہے بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ جیسا کہ کہا کرتے ہیں۔ لو اب تم ایک کام کرو۔ ان تقوموا للّٰہ کہ ایک ایک تنہا ہو کر اور باہم مل کر خدا کے لیے یہ تو سوچو کہ تمہارے صاحب کو یعنی مجھے کچھ جنون تو نہیں ہے۔ یہ رسالت کے اثبات میں کلام ہے کہ خوب غور کرو کہ میں دیوانہ نہیں ہوں۔ جب دیوانہ نہیں تو کون عاقل…
Read the full tafseer →قُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَمَا یُبْدِیُٔ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ ۔ (السباء : 49)
(کہہ دیجیے کہ حق آگیا اور باطل نہ ابتداء کرتا ہے اور نہ پھیر کر لاتا ہے۔ )
باطل کی بےثباتی
سورة بنی اسرائیل کی ایک آیت میں جَآئَ الْحَقُّ کے بعد زھق الباطل ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معنوی طور پر یہاں بھی زھق الباطل کے الفاظ حذف ہیں۔ اور بعد کا جملہ اس کی تائید بھی کررہا ہے۔ یعنی جس طرح حق و باطل کی جب کشمکش ہوتی ہے تو حق باطل کی سرکوبی کرتا ہے۔ اسی طرح جب حق آجاتا ہے تو حق و باطل کی کشمکش کے نتیجے میں باطل پسپا ہوجاتا ہے۔ قریش سے دراصل یہ کہا جارہا ہے کہ اب جبکہ حق آگیا ہے یعنی قرآن نازل ہوگیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
فہم القرآن
ربط کلام : آدمی کی حماقت کی ایک وجہ اس کا مفاد اور لالچ ہوا کرتا ہے نبی معظم ﷺ کو لوگوں سے کوئی دنیوی مفاد نہ تھا جس بنا پر کفار کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے چار استفسار کیے گئے ہیں۔
اے پیغمبر ﷺ ! انہیں فرما دیں کہ کیا میں نے تم سے اس دعوت کے کام پر کسی قسم کا کوئی مطالبہ کیا ہے جس بنا پر تم مجھے مجنون کہتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں کسی لالچ کے پیش نظرتمہارے نظریات کی مخالفت کرتا ہوں ؟ ہرگز نہیں میرا مقصد تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ لہٰذا اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ میرا صلہ میرے رب کے ذمہ ہے جو میرے اور تمہارے احوال کو اچھی طرح جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رب مجھ پر حق نازل کرتا ہے جسے…
Read the full tafseer →49: قُلْ جَآ ئَ الْحَقُّ (کہہ دیجئے حق آگیا) حق سے اسلام اور قرآن مراد ہے وَمَا یُبْدِیُٔ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ (اور باطل کرنے دھرنے کا نہ رہا) ۔ یعنی باطل زائل ہوگیا اور تباہ و برباد ہواکیون کہ ابداء و اعادہ یہ اللہ تعالیٰ کی جو حی وقیوم ہے اس کی صفات سے ہے۔ پس ان کا عدم یہ ہلاکت کی تعبیر ہے حاصل یہ ہوا حق آیا اور باطل بھاگ گیا جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : جاء الحق وزھق الباطل ] الاسراء : 81[
قولِ ابن مسعود ؓ :
نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت کعبہ کے گرد بت تھے۔ آپ ان کو نبع درخت کی چھڑی سے ان کو چوک دیتے اور فرماتے جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا ‘ جاء الحق وما یبدیٔ الباطل…
Read the full tafseer →49، قل جاء الحق ، حق سے مراد قرآن اور اسلام ہے۔ ، وما یبدی البا طل وما یعید، باطل چلا گیا۔ اس میں ذرہ برابر باقی نہیں رہاجس سے وہ دوبارہ اٹھ سکے۔
جیسا کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا :، بل نقذف بالحق علی الباطل فید مغہ، قتادہ کا بیان ہے کہ باطل سے مراد ابلیس ہے۔ یہی قول مقاتل اور کلبی (رح) کا بھی ہے۔ بعض نے کہا کہ باطل سے مراد بت ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
47 تا 49۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ مشرکوں سے اس طرح کہیں کہ میں جو تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا ہوں اور خدا کی عبادت کا تم کو حکم کرتا ہوں اس کے اوپر میں تم سے کچھ اجرت نہیں طلب کرتا نہ کچھ انعام چاہتا ہوں تم اپنا بھی اور تمہاری کو بھی سب چیز اس کے سامنے ہے کچھ اس سے پوشیدہ نہیں اسے خوب معلوم ہے کہ میں تم سے کچھ اجر نہیں چاہتا قرآن یہ بھی فرمایا کہ قرآن اللہ غیب دان کا کلام ہے اس واسطے اس میں غیب کی خبریں ہیں فرمایا اس قرآن کے ذریعہ سے اب وہ دین حق آگیا جس کے سبب سے نہ آیندہ شرک کی نئی رسمیں پیدا ہوسکتی ہیں نہ مٹی ہوئی رسمیں پھر رواج پکڑ سکتی ہیں مسند امام احمد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
آیت 43
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرما رہا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیشکئے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیا کرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →106 باطل ایک بےبنیاد اور بےثبات چیز ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ حق آگیا اور باطل نہ کرنے کا رہا نہ دھرنے کا۔ یعنی مٹ گیا اور ختم ہوگیا۔ کیونکہ زندگی اور بقاء کی نشانی و علامت یہ ہے کہ یا تو وہ ابتدئً کوئی فعل کرے یا اسے دوہرائے۔ اور جب ان دونوں میں سے کوئی بات بھی باقی نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ ختم ہوگیا۔ محاورے کی زبان میں کسی چیز کے زوال کو اس طرح تعبیر کیا جاتا ہے " مَا یُبْدِی وَمَا یُعِیْدُ "، " نہ وہ کرنے کا رہا نہ دھرنے کا " اسی لئے بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ { قُلْ جَآئَ الْحَقُّ } والی آیت کریمہ اور یہ آیت کریمہ پڑھتے ہوئے اپنی تلوار کے اشارے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
کفار کو غور وفکر کی دعوت
تشریح : ان آیات میں کفار مکہ کو دعوت ایمان دی گئی ہے مگر ہمیشہ کی طرح یہی اعتراضات کہ نبی جھوٹا ہے ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے مذہب سے ہٹانا چاہتا ہے۔ دوسرا بڑا اعتراض کہ یہ قرآن اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب نہیں بلکہ خود اپنے پاس سے ہی بنالی گئی ہے۔ تیسری بات یہ کہ سب کچھ جادو ہے۔ یہی سب باتیں ہر زمانے میں ہر پیغمبر کو سننی پڑی تھیں۔ لوگ اسی طرح پیغمبر کو جھٹلاتے جادوگر کہتے، مجنوں کہتے اور پھر خوب اذیتیں دیتے بلکہ بہت سے تو اپنے پیغمبروں کو قتل ہی کردیتے۔ یہی کچھ نبی ﷺ کے ساتھ ان کے ہم وطنوں نے کیا۔ مندرجہ بالا آیات میں انہی کے حالات، خیالات، اعتقادات اور اعمال کا ذکر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 46 تا 54:
اسرار و معارف :
آپ ان کے اندیشوں کے جواب میں انہیں فرما دیجئے کہ ایک کام کرو محض جذباتی باتیں نہ کرو ذرا خلوص کے ساتھ جذبات سے الگ ہو کر محض اللہ کے لیے غور کرو اکیلے میں یا مل کر اور اچھی طرح سے فکر کرو کہ اللہ کا جو بندہ تم سے مخاطب ہے وہ کیسا ہے اتنا بڑا دعوی کرتا ہے اور پھر اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد یا لاؤ لشکر اور مال و دولت کے وہ بات کہہ رہا ہے جو نہ صرف اہل مکہ بلکہ دنیا بھر کے کفار کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ان کے صدیوں کے مذاہب کو باطل قرار دے رہا ہے اہل عرب کے سامنے صرف یہ ایک دعوی کہ جو کتاب میں پیش کر رہا ہوں دنیا کے سب اہل علم مل کر بھی اس جیسا ایک…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی اب باطل کوئی چال چل لے وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ( ابن کثیرعن ابن مسعود) روایات میں ہے کہ جب فتح مکہ کے دن آنحضرت ﷺ مسجد حرام میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد جو بت نصیب تھے ان کو آنحضرت ﷺ اپنی کمان کے چلہ سے مارتے اور یہ آیت پڑھتے۔ ( ابن کثیر بحوالہ بخاری)
Read the full tafseer →(34:49) ما یبدی الباطل وما یعید۔ اس کے لفظی معنی ہیں :۔ ” باطل نہ تو کوئی نیا کام شروع کرسکتا ہے اور نہ کسی کام کا اعادہ کرسکتا ہے “۔ عربی محاورہ میں جب کسی چیز کی ہلاکت یا بربادی کا ذکر کرنا ہو تو انہی الفاظ سے کرتے ہیں فصار قولہم ما یبدی ولا یعید مثلاً فی الھلاک یعنی ان کا یہ قول ما یبدی وما یعید ہلاکت کی مثال بن گیا۔
اسی طرح جب کوئی شخص بےبس اور کمزور ہوجائے تو اس وقت بھی کہتے ہیں فلان ما یبدی وما یعید۔
لہٰذا ما یبدی الباطل وما یعید : کا مطلب ہوا کہ باطل اب بےبس اور کمزور ہوچکا ہے اب یہ نہ تو اسلام کو کوئی گزند پہنچا سکتا ہے اور نہ مسلمانوں کا کوئی نقصان کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 54
اعظ : میں نصیحت کرتا ہوں
مثنی : دو دو
فرادی : ایک ایک
صاحب : ساتھی
یقذف : وہ پھینکتا ہے
ما یبدی : وہ ابتدا نہیں کرتا
فزعوا : وہ گھبرا گئے
التناوش : جھپٹ کر پکڑ لینا
یشتھون : وہ خواہش رکھتے ہیں
تشریح ـ : آیات نمبر 46 تا 54
اعلان نبوت سے پہلے بھی عرب کا بچہ بچہ بنی کریم حضرت محمد رسول ﷺ کی متا نت و سنجیدگی ، عقل و دانش ، دیانت و امانت ، حسن عمل اور خاندانی شرافت سے نہ صرف اچھی طرح واقف تھا بلکہ ہر شخص آپ سے ملنے کے بعد صرف آپ ہی کی تعریف کرتا نظرآتا تھا لیکن جیسے ہی آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور ان کی رسموں اور طریقوں کو غلط بتایا بت پرستی ، جہالت اور بہت سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
(ف 1) اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو ارشاد فرماتا ہے کہ مشرکوں سے اس طرح کہیں کہ میں جو تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام اور تبلیغ کرتا ہوں اور خدا کی عبادت کا حکم کرتا ہوں اس کے اوپر میں تم سے کچھ اجرت نہیں طلب کرتا، نہ کچھ انعام چاہتا ہوں تماپنا اجر اپنے پاس رہنے دو ، کیونکہ میں تو اللہ سے اس کا ثواب چاہتا ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے اور میرے قول کی سچائی کو بھی جانتا ہے فرمایا اس قرآن کے ذریعہ سے اب وہ دین حق آگیا جس کے سبب سے نہ آئندہ شرک کی نئی رسم پیدا ہوسکتی ہے نہ مٹی ہوئی رسم پھر رواج پکڑ سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
[32] یعنی تعصب وعناد کو چھوڑ کر انصاف و اخلاص کے ساتھ اللہ کے نام پر اٹھ کھڑے ہو اور سب مل کر مشورہ کرلو اور الگ الگ تنہائی میں غور کر کے سوچو کہ یہ تمہارا رفیق یعنی محمد ﷺ جو چالیس برس سے زیادہ تمہاری آنکھوں کے سامنے رہا اور جس کی امانت و دیانت اور فہم و دانش کے تم برابر قائل رہے اور کبھی نفسانیت پرستی یا خود غرضی کا الزام تم نے اس پر نہیں رکھا، کیا واقعی تم گمان کرسکتے ہو کہ اسے بیٹھے بٹھائے جنون ہوگیا ہے۔ کیا کہیں دیوانے ایسی حکمت کی باتیں کیا کرتے ہیں ؟ کیا کوئی مجنون اپنی قوم کی خیرخواہی اور اس کی اخروی فلاح اور دنیوی ترقی کا اتنا زبردست لائحہ عمل پیش کرسکتا ہے ؟ وہ تو تم کو مستقبل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
حضور ﷺ کی صداقت پر سب سے بڑی دلیل
1: حضور ﷺ کی صادقت پر سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ آپ محض حسیتہ اللہ لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیتے تھے ۔ اس میں آپ کی کوئی ذاتی منفعت ہرگز پہناں نہ تھی ۔ بلکہ جب آپ سے کہا گیا ۔ کہ اگر آپ نبوت کے ڈھونگ سے (معاذ اللہ) باز آجائیں ۔ تو ہم بہترین معاوضہ دینے کے لئے تیار ہیں ۔ ہم آپ کے قدموں میں سونے اور چاندی کے ڈھیر لگا سکتے ہیں ۔ ہم عرت کی جمیل ترین اور شریف ترین خاتوں کو آپ کے قصد میں دے سکتے ہیں ۔ اور ہم یہ بھی کرسکتے ہیں کہ آپ کو قیادت مطلقہ کے منصب پر سرفراز کردیں ۔ تو آپ نے پورے جوش کے ساتھ فرمایا ۔ کہ تم لوگوں نے مجھے بالکل سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ اگر تم…
Read the full tafseer →(49) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے دین حق آپہنچا اور باطل نہ کسی کو ابتدائً پیدا کرے اور نہ دوبارہ پیدا کرے۔ باطل سے مراد یا تو صنم ہے یا شیطان ہے یعنی ابتدائً کسی چیز کو پیدا کرنا اور مرنے کے بعد اس کو قیامت میں دوبارہ پیدا کرنا یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔ غیر اللہ میں سے کسی کا کام نہیں خواہ وہ شیطان ہو یا بت ہو۔ صاحب مدراک نے ایک اور معنی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے یعنی حق آگیا اور باطل گیا گزرا ہوگیا۔
جیسا کہ فرمایا جاء الحق وزھق الباطل مطلب یہ ہے کہ باطل کا بطلان خوب کھل گیا اور ظاہر ہوگیا یہ مطلب نہیں کہ باطل کو کبھی عارضی غلبہ بھی نہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ حق کے آنے سے پہلے کبھی کبھی باطل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
ف 7۔ اصل مقصود مخاطبین کو سنانا ہے کہ باوجود وضوح حق کے اگر تم نے حق کا اتباع نہ کیا تو تم بھگتو گے، میرا کیا بگڑے گا، اور اگر راہ پر آگئے تو یہ راہ پر آنا ہی دین حق ثابت بالوحی کے اتباع کی بدولت ہوگا، پس تم کو چاہئے کہ راہ راست پر آنے کے لئے اس دین کو اختیار کرو۔
Read the full tafseer →بلا شبہ حق آگیا اور باطل حق کا کبھی مقابلہ نہیں کرسکتا
49 ۔ یہ بات قرآن کریم میں بار بار دہرائی جاچکی ہے کہ حق اور باطل نہ تو آپس میں مل سکتے ہیں اور نہ باطل حق کو معدوم کرسکتا ہے ہاں ! حق کو چھپایا جاسکتا ہے کہ باطل اس طرح پھیل جائے کہ حق نظر ہی نہ آئے ۔ پھر جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ذمہ فرض ہی یہ ہے کہ وہ حق کو ظاہر کریں اور بلاشبہ وہ حق کو ظاہر کر بھی رہے ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ آخر انجام کار باطل مٹ نہ جائے حالانکہ حق کے مقابلہ میں باطل نہیں ٹھہرسکتا لہٰذا جب بھی حق اور باطل کی ٹکر ہوگی تو حق چھائے گا اور باطل مٹ جائے گا۔ سورک کی عدم موجودگی کا اندھیرا ہے ، سورج بھی طلوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
Commentary
According to most commentators, the attending condition described in verse 51: وَأُخِذُوا مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ (and they will be seized from a place near at hand) refers to the Day of Resurrection (al-hashr) from the terror of which disbelievers and sinners will not be able to escape even if they try to do so. In our normal experience in this world, when a culprit runs away, he has to be searched for. Something like that will not happen in the present case. In fact, all of them will be seized from where they are located. No one will have the chance to escape. Others have taken…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
70 The words yaqdhifu bil-haqq give two meanings: (1) "He inspires me with the knowledge of the truth by Revelation; " and (2) "He is making the truth to prevail: He is crushing falsehood by means of the truth. "
Read the full tafseer →