Saba 34:48

Saba · from ayah 48

34:48

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ ۚ— عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ۟قُلۡ اِنَّ رَبِّىۡ يَقۡذِفُ بِالۡحَـقِّ‌ۚ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ

کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اُتارتا ہے (اور وہ) غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Indeed, my Lord projects the truth. Knower of the unseen."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:48

ان سے کہو "میرا رب (مجھ پر) حق کا القا کرتا ہے اور وہ تمام پوشیدہ حقیقتوں کا جاننے والا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اُتارتا ہے (اور وہ) غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجیئے! کہ میرا رب حق (سچی وحی) نازل فرماتا ہے وه ہر غیب کا جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : میرا پروردگار حق کو اوپر سے بھیج رہا ہے۔ وہ غیب کی ساری باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ بیشک میرا رب حق پر القا فرماتا ہے بہت جاننے والا سب نبیوں کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: میرا رب (انبیاء کی طرف) حق کا القاء فرماتا ہے (وہ) سب غیبوں کو خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ بیشک میرا رب (دل میں) حق ڈالتا ہے، سب غیبوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ انہیں کہہ دیجئے کہ : میرا پروردگار حق کے ساتھ (باطل پر) ضرب لگاتا ہے اور وہ سب چھپی باتوں کو جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

میرا رب حق کو (باطل پر) مارے گا۔ وہ تمام بھیدوں کو خوب جاننے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(نیز ان سے) کہو کہ میرا رب (بندوں کے دلوں میں) حق ڈالتا ہے وہی ہے جاننے والا سب غیبوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ میرا پروردگار حق کو غالب کرتا ہے وہ غیوب کا جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

} آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ یقینا میرا رب حق کے ساتھ ضرب لگاتا ہے (باطل کو) وہ خوب جاننے والا ہے تمام غیبوں کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ میرا رب اوپر سے حق اتارتا ہے اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say to them: “My Lord hurls down the Truth (upon me). He knows fully all that lies beyond the range of perception.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :My Lord sends forth the Truth. He is the Best-Knower of the Unseen.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :My Lord sends forth the Truth. He is the Best-Knower of the Unseen.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Verily, my Lord sends down the truth, the All-Knower of the Unseen."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Lo! my Lord hurleth the truth. (He is) the Knower of Things Hidden.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Indeed, my Lord projects the truth. Knower of the unseen."

— Saheeh International

Say, "My Lord speaks the Truth. He has the knowledge of the unseen".

— Muhammad Sarwar

Say: Surely my Lord utters the truth, the great Knower of the unseen.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: verily my Lord hurleth the truth: the Knower of things hidden.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Verily my Lord doth cast the (mantle of) Truth (over His servants),- He that has full knowledge of (all) that is hidden."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–50

مشرکین کو دعوت اصلاح۔ حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت (رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ 15 ۙ) 40۔ غافر :15) ، ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے حضرت جبرائیل کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے۔ جو حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–49

سورة سَبـَا 70 اصل الفاظ ہیں یَقْذِفُ بَالْحَقِّ۔ اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ وحی کے ذریعہ سے وہ علم حق میرے اوپر القا کرتا ہے اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ وہ حق کو غالب کر رہا ہے، باطل کے سر پر حق کی ضرب لگا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

(آیت) ان ربی یقذف بالحق علام الغیوب، یعنی میرا پروردگار جو علام الغیوب ہے وہ حق کو باطل پر دے مارتا ہے (جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ باطل پاش پاش ہوجاتا ہے، کما قال تعالیٰ فاذا ہو زاھق، لفظ قذف کے لغوی معنی پھینک مارنے کے ہیں، یہاں باطل کے مقابلہ میں حق کو پیش کرنا مراد ہے، اور لفظ یقذف سے تعبیر کرنے میں شاید یہ حکمت ہو کہ باطل پر حق کی زد پڑنے کا اثر بتلانا مقصود ہو۔ یہ ایک تمثیل ہے کہ جس طرح کوئی بھاری چیز کسی نازک چیز پر پھینک دی جائے تو وہ چیز پاش پاش ہوجاتی ہے، اسی طرح حق کے مقابلہ میں باطل پاش پاش ہوجاتا ہے۔ اسی لئے آگے فرمایا (آیت) و ما یبدی الباطل ومایعید، یعنی حق کے مقابلہ میں باطل ایسا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل ان ربی یقذف بالحق، علامہ الغیوب (48) ’ یقذف بالحق، کے بعد علی الباطل کے الفاظ بربنائے قرینہ مخدوف ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا۔ بل نقذف بالحق علی الباطل مغہ (الانبیاء : 18) (ہم حق کو باطل پر ماریں گے پس وہ اس کا بھیجا نکال کے رکھ دے گا)۔ یعنی ان نادانوں کو بتا دو کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ یہ دنیا یوں ہی پیدا ہوئی، یوں ہی تمام ہوجائے گی بلکہ ایک ایسا دن لازماً آنے والا ہے جس دن اس کا خالق اس کے حق و باطل میں فیصلہ فرمائے گا اور خق کو باطل پر مارے گا جس سے باطل پاش پاش ہو کے رہ جائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اصلاً تو یہ بات آخرت کی عدالتِ کیریٰ سے متعلق ہے لیکن یہی نتیجہی اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

48۔ 1 قذف کے معنی تیراندازی اور خشت باری کے بھی ہیں اور کلام کرنے کے بھی، یہاں اس کے دوسرے معنی ہیں یعنی وہ حق کے ساتھ گفتگو فرماتا، اور اپنے رسولوں پر وحی نازل فرماتا اور ان کے ذریعے سے لوگوں کے لیے حق واضح فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–51

22: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ حق باتیں وحی کے ذریعے اوپر سے آرہی ہیں، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اوپر سے حق کو بھیج کر اسے باطل پر غالب فرما رہا ہے، لہذا چاہے تم کتنی مخالفت کرو، باطل رفتہ رفتہ ختم ہوجائے گا، اور حق غالب آ کر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل ان ربی ۔۔۔۔ الغیوب (48) ” “۔ یعنی میں جو چیز لے کر آیا ہوں وہ حق ہے ۔ یہ وہ مضبوط حق ہے جسے اللہ قوت سے پھینکتا ہے ۔ اس سچائی کے مقابلے میں کون کھڑا ہوسکتا ہے جسے اللہ زور دار انداز سے نازل کررہا ہو ۔ یہ ایک نہایت ہی مجسم اور مصور انداز تعبیر ہے ۔ گویا حق کے گولے برس رہے ہیں ، بمباری ہورہی ہے اور کسی کو ہمت نہیں ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہوسکے ۔ اللہ سچائی کے گولے پھینک رہا ہے جو علام الغیوب ہے ۔ وہ علم سے یہ گولے پھینک رہا ہے ۔ علم کے ساتھ ان کا رخ کسی کی طرف کرتا ہے ۔ اس کا نشانہ خطا نہیں ہوتا ۔ کوئی چیز اس سے غائب نہیں ہے اور کوئی چیز اس سچائی کی ذد سے بچ نہیں سکتی اس لیے کہ رکاوٹ بننے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اوپر سے وحی اتر رہی اور دین کی بارش ہو رہی ہے۔ موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دو اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ جس زور سے اللہ تعالیٰ حق کو باطل کے سر پر پھینک کر مار رہا ہے اس سے اندازہ کرو کہ باطل کہاں ٹھہر سکے گا، ضرور علام الغیوب نے خوب دیکھ بھال کر عین موقع پر حق کو باطل کا سر کچلنے کے لیے بھیجا ہے۔ (بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ) 21 ۔ الانبیاء :18)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 { قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ یقینا میرا رب حق کے ساتھ ضرب لگاتا ہے باطل کو ‘ وہ خوب جاننے والا ہے تمام غیبوں کا۔“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة الانبیاء کی آیت 18 میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌط } ”بلکہ ہم حق کو دے مارتے ہیں باطل پر تو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے ‘ پھر وہ مٹ جاتا ہے“۔ آیت زیر مطالعہ کا بھی بالکل یہی مفہوم ہے ‘ اس لیے یہاں ”یَقْذِفُ بِالْحَقِّ“ کے بعد ”عَلَی الْبَاطِلِ“ کے الفاظ کو محذوف سمجھا جانا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

73 یعنی آسمان سے جو وحی نازل ہو رہی ہے وہ حق ہے اور جو تمہارا طرز عمل ہے وہ باطل ہے۔ یہ حق باطل کا سر توڑ دے گا اور اس کا کچومر نکال دے گا۔ باطل کو بالآخر راہ فرار اختیار کرنا ہی پڑے گی۔ اور حق اس پر غالب آکے رہے گا۔ اللہ علام الغیوب ہے۔ اس نے عین موقعہ پر مجھے اپنے وحی کے ساتھ بھیجا ہے۔ اور وہ خوب جانتا ہے کہ باطل کا سر توڑنے کے لئے یہی مناسب موقع ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

66۔ اس پر وہ دور دور کی چیزیں بھی روشن ہیں، جو بندوں سے مخفی رہتی ہیں۔ (آیت) ” یقذف بالحق “۔ یہ غلبہ دلائل کی مدد سے تو ہمیشہ ہی ہوتا ہے، اور کبھی ظاہری قوت و شوکت سے بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–54

آیت نمبر 46 تا 54 ترجمہ : آپ کہئے کہ میں تمہیں صرف ایک (مختصر سی) بات کی نصحیت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم خدا کے وسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو یا تنہا تنہا کھڑے (مستعد) ہوجاؤ، پھر سوچو تو تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے ساتھی محمد کو کوئی جنون نہیں وہ تو تم کو آخرت کے سخت عذاب سے اس کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے اگر تم اس کی بات نہ مانو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرنے اور تبلیغ پر تم سے جو معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو یعنی میں اس انذار و تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ طلب نہیں کرتا، میرا صلہ تو اللہ ہی کے ذمہ ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے میری صداقت سے واقف ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق بات اپنے نبیوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ان ربی یقذف بالحق آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق (یعنی اسلام) کو (باطل یعنی کفر پر) غالب کر رہا ہے۔ یَقْذِفُ یعنی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کر کے اس پر حق کو نازل فرماتا ہے اور وحی بھیجتا ہے ‘ یا یہ معنی ہے کہ حق کی چوٹ باطل پر لگاتا ہے اور باطل کو چکناچور کردیتا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ حق کو اطراف عالم میں پھیلائے گا۔ اس صورت میں یہ اسلام کو غالب کرنے کا وعدہ ہوگا۔ امام احمد کی روایت ہے کہ حضرت مقداد نے بیان کیا : میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : روئے زمین پر کوئی گھر مٹی کا ہو یا اون کا (خیمہ) ایسا نہ بچے گا جس کے اندر ‘ اللہ ‘ کلمۂ اسلام داخل نہ کر دے خواہ عزت والے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ ان سے فرما دیجیے کہ میرا پروردگار حق بات کو غالب کر رہا ہے اور اسی کا حکم دیتا ہے اور وہ تمام ان باتوں سے باخبر ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَقْذِفُ بالْحَـقِّ : ”قَذَفَ یَقْذِفُ“ کا معنی پھینکنا ہے، یہ ڈالنے کے معنی میں بھی آتا ہے : ”أَيْ یَقْذِفُ بالْحَقِّ فِيْ قُلُوْبِ أَصْفِیَاءِ ہِ“ یعنی وہ اپنے خاص بندوں کے دلوں میں حق ڈال دیتا ہے۔ جب ثابت ہوگیا کہ یہ نبی نہ مجنون ہے، نہ دنیا کا طالب، نہ تم اس کے کسی قول یا فعل کو جھوٹ، جادو یا دیوانگی ثابت کرسکے تو ثابت ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس لیے فرمایا، اے نبی ! جو لوگ توحید، انبیاء کی رسالت اور آخرت کے منکر ہیں ان سے کہہ دے کہ بیشک میرا رب وحی کے ذریعے سے اپنے چنے ہوئے بندوں کے دل میں حق بات ڈالتا ہے، اسی نے میرے دل میں بذریعہ وحی اس حق کا القا فرمایا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : قل ان ربی یقذف با الحق وہ حجت کو ظاہر کرتا ہے اور بیان کرتا ہے۔ قتادہ نے کہا : بالحق سے مراد وحی ہے ان سے یہ بھی مروی ہے : الحق سے مراد قرآن ہے۔ ابن عباس ؓ نے کہا : علام الغیوب باطل پر حق کے ساتھ ضرب لگاتا ہے۔ عیسیٰ ٰ بن عمر نے اسے پڑھا علام الغیوب پر رفع دو وجوہ سے ہے کیونکہ یہ رفع کا محل ہے یایقذف میں جو ضمیر ہے اس سے یہ بدل ہے۔ نحاس نے کہا : رفع میں دو اور وجوہ بھی ہیں۔ یہ خبر کے بعد خبر ہو۔ اس کی مثل یہ ہے : آیت : ان ذالک لحق تخا صم اھل النار (ص) اسے الغیوب غین کی تین حرکتوں کے ساتھ پڑھا ہے۔ الغیوب یہ البیوت کی طرح ہے۔ الغیوب یہ ا لصبور کی طرح ہے اس سے مراد ایسا امر ہے جو بہت ہی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–50

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل ما سألتکم من اجر آپ فرماد یجیے کہ جو معاوضہ میں تم سے طلب کروں وہ تمہارا ہی ہے اجر سے مراد انعام ہے۔ آیت فہو لکم وہ تمہارا ہی ہے۔ یعنی میں تم سے اسلام پر کوئی سوال نہیں کرتا کسی مزدوری کا آیت قل ان ربی یقذف بالحق علام الغیوب، قل جاء الحق وما ئبدء الباطل فرمادیجیے تیرا رب حق کو باطل پر غالب کر رہا ہے وہی چھپی باتوں کو خوب جاننے والا ہے آپ فرمادیجیے کہ حق آگیا اور جھوٹے معبود نہ پہلی بار پیدا کرتے ہیں اور نہ دوبارہ پیدا کریں گے۔ یعنی شیطان نہ پہلی بار پیدا کرتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا جب انسان وہ ہلاک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنَّ رَبِّيْ [بیشک میرا رب ] يَقْذِفُ [ڈالتا (القا کرتا) ہے ] بِالْحَـقِّ ۚ [حق کو ] عَلَّامُ الْغُيُوْبِ [(وہ) غیبوں کا خوب جاننے والا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–50

انفرادی اور اجتماعی طور پر غور و فکر کرنے کی دعوت رسول اللہ ﷺ کے اولین مخاطبین جو آپ کی تکذیب کرتے تھے وہ آپ کو دیوانگی کی طرف منسوب کرتے تھے، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں یہ نصیحت محض تمہاری ہمدردی کے لیے ہے، تم دو دو آدمی مل کر یا علیحدہ علیحدہ تنہائیوں میں سوچو اور غور و فکر کرو تمہارا یہ سوچنا صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، اس میں نفسانیت اور تعصب کا دخل نہ ہو، تم لوگ یہ سوچ لو کہ جو شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میں نبی ہوں اور تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہے وہ دیوانہ نہیں ہے، اس کے احوال دیکھ لو، اس کی بات سن لو، وہ قرآن سناتا ہے اسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–54

خاتمہء سورت برکلمہء حکمت وموعظت قال اللہ تعالی۔ قل انما اعظکم بواحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ انہم کانوا فی شک مریب۔ (ربط) ابتدائے سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت اور قیامت تینوں مضمون بیان ہوئے اب سورت کو ایک نصیحت پر ختم فرماتے ہیں جس سے توحید اور رسالت اور قیامت یعنی دین کے اصول ثلاثہ کی حقانیت واضح ہوجائے۔ ان تقوموا للہ سے توحید کی طرف اشارہ ہے اور ما بصحبکم من جنۃ ان ھو الا نذیر لکم۔ سے رسالت کی طرف اشارہ ہے اور بین یدی عذاب شدید سے یوم آخرت کی طرف اشارہ ہے تفسیر کبیر ص 24 ج 7۔ اور قل ما سالتکم من اجر سے مشرکین کے اس شبہ کو قطع کرنا ہے کہ آپ ﷺ کا فرمانا کسی طمع اور غرض پر مبنی نہیں بلکہ فقط تمہاری…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

50:۔ قل ان ربی الخ : یہ چھٹا طریق تبلیغ ہے۔ میرا پروردگار جو ہر چھپی چیز کو جانتا ہے حق کو خوب کھول کر بیان کرتا ہے اور وحی کے ذریعہ انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرماتا ہے تاکہ وہ اس کی تبلیغ و اشاعت کریں۔ یقذف بالھق یلقیہ و ینزلہ الی انبیائہ (مدارک) ای یبین الحجۃ ویظہرھا (قرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–54

ربط آیات گزشتہ آیات میں مشرکین کے باطل نظریات کا رد ہوا وہ بدبخت پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت و نبوت کا انکار کرتے تھے اور قرآن پاک کو کلام الٰہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، پھر جب قرآن کے اثر انداز ہونے کی بات ہوئی تو اسے جاننے سے تعبیر کرتے۔ اللہ نے مشرکین کو سخت تنبیہ کی اور اب آخر میں نصیحت کے پیرائے میں فرمایا کہ اگر مشرک لوگ ذرا بھی غور و فکر کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ حضور ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور ان کا لایا ہوا قرآن اللہ کی برحق کتاب ہے۔ قیامت یقینا آنے والی ہے اور سب کو محاسبے کے عمل سے گزرنا ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے سابقہ ادوار کے مشرکوں کا حال بھی بیان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَقْذِفُ بِالْحَـقِّ۝ 0 ۚ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ۝ 48 قذف الْقَذْفُ : الرّمي البعید، ولاعتبار البعد فيه قيل : منزل قَذَفٌ وقَذِيفٌ ، وبلدة قَذُوفٌ: بعیدة، وقوله : فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِ [ طه/ 39] ، أي : اطرحيه فيه، وقال : وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ [ الأحزاب/ 26] ، بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْباطِلِ [ الأنبیاء/ 18] ، يَقْذِفُ بِالْحَقِي عَلَّامُ الْغُيُوبِ [ سبأ/ 48] ، وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جانِبٍ دُحُوراً [ الصافات/ 8- 9] ، واستعیر القَذْفُ للشّتم والعیب کما استعیر الرّمي . ( ق ذ) القذف ( ض ) کے معنی دور پھیکنا کے ہیں پھر معنی بعد کے اعتبار سے دور دراز منزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–54

دلائل قائم کرکے ہٹ دھرم مخاطبوں کو اب ایک اور طریقہ سے ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ فقال قل انما اعظکم بواحدۃ کہ میں تم کو ایک ہی بات کہتا ہوں، نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر اس کے بھی معنی نہیں کہ آپ ان کو صرف ایک ہی حکم پر مامور کرتے تھے۔ توحید وغیرہ کہ پھر باقی شاخیں قرار دی جاویں، جیسا کہ تفسیر کبیر میں ہے بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ جیسا کہ کہا کرتے ہیں۔ لو اب تم ایک کام کرو۔ ان تقوموا للّٰہ کہ ایک ایک تنہا ہو کر اور باہم مل کر خدا کے لیے یہ تو سوچو کہ تمہارے صاحب کو یعنی مجھے کچھ جنون تو نہیں ہے۔ یہ رسالت کے اثبات میں کلام ہے کہ خوب غور کرو کہ میں دیوانہ نہیں ہوں۔ جب دیوانہ نہیں تو کون عاقل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ ج عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ۔ (السباء : 48) (کہہ دیجیے بیشک میرا رب حق کو (باطل پر) پھینک رہا ہے، وہ تمام پوشیدہ باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔ ) قذف کا معنی پھینکنا بھی ہوتا ہے اور مارنا بھی۔ پھینکنے میں چونکہ مارنے کا مفہوم بھی مضمر ہوتا ہے اس لیے ہم نے ترجمے میں یہی لفظ اختیار کیا ہے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ اور ایک تنبیہ ایک آیت دوسری آیت کی تشریح کرتی ہے۔ چناچہ سورة الانبیاء آیت اٹھارہ میں ارشاد ہے بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی البَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ ” ہم حق کو باطل پر مارتے ہیں، پس وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے۔ “ قریش آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت میں شب و روز کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–51

فہم القرآن ربط کلام : آدمی کی حماقت کی ایک وجہ اس کا مفاد اور لالچ ہوا کرتا ہے نبی معظم ﷺ کو لوگوں سے کوئی دنیوی مفاد نہ تھا جس بنا پر کفار کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے چار استفسار کیے گئے ہیں۔ اے پیغمبر ﷺ ! انہیں فرما دیں کہ کیا میں نے تم سے اس دعوت کے کام پر کسی قسم کا کوئی مطالبہ کیا ہے جس بنا پر تم مجھے مجنون کہتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں کسی لالچ کے پیش نظرتمہارے نظریات کی مخالفت کرتا ہوں ؟ ہرگز نہیں میرا مقصد تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ لہٰذا اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ میرا صلہ میرے رب کے ذمہ ہے جو میرے اور تمہارے احوال کو اچھی طرح جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رب مجھ پر حق نازل کرتا ہے جسے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حق سے باطل کو پاش کردیا جائے گا : 48: قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ (آپ کہہ دیجئے میرا رب حق کو غالب کرتا ہے) وحی کے ذریعہ۔ القذفؔ کا معنی تیر کو متوجہ کرنا اور اعتماد سے قصد کرنا۔ ڈالنے کے معنی میں بطور استعارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس ارشاد میں یہی معنی ہے۔ وقذف فی قلوبھم الرعب ] الاحزاب : 26 [ اسی طرح اس ارشاد میں۔ ان اقدفیہ فی التابوت ] طہ : 39 [ یقذف بالحقؔ کا مطلب وحی کا القاء کرنا اور بھیجنا ہے۔ یا حق کو باطل پر پھینک کر پاش پاش اور تتربتر کردینا ہے۔ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ (وہ علام الغیوب ہے) یہ یقذف کی ضمیر سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ مبتدأ محذوف ھوؔ کی خبر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48، قل ان ربی یقذبالحق، قذف کہاجاتا ہے پھینکنے کو تیر کے ذریعے یا کسی اور چیز کے ذریعے ۔ معنی اس کا یہ ہے کہ ان کے پاس حق بات آئی ہے ، وحی آسمان سے اتری اور انبیاء پر آئی۔ ، علام الغیوب ، مرفوع ہے خبر ہونے کی وجہ سے یعنی وہ علام الغیوب ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 47–49

47 تا 49۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ مشرکوں سے اس طرح کہیں کہ میں جو تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا ہوں اور خدا کی عبادت کا تم کو حکم کرتا ہوں اس کے اوپر میں تم سے کچھ اجرت نہیں طلب کرتا نہ کچھ انعام چاہتا ہوں تم اپنا بھی اور تمہاری کو بھی سب چیز اس کے سامنے ہے کچھ اس سے پوشیدہ نہیں اسے خوب معلوم ہے کہ میں تم سے کچھ اجر نہیں چاہتا قرآن یہ بھی فرمایا کہ قرآن اللہ غیب دان کا کلام ہے اس واسطے اس میں غیب کی خبریں ہیں فرمایا اس قرآن کے ذریعہ سے اب وہ دین حق آگیا جس کے سبب سے نہ آیندہ شرک کی نئی رسمیں پیدا ہوسکتی ہیں نہ مٹی ہوئی رسمیں پھر رواج پکڑ سکتی ہیں مسند امام احمد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 43–49

آیت 43 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرما رہا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیشکئے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیا کرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

105 غیب دان اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے جاننے والا سب غیبوں کا "۔ کیونکہ وہی علام الغیوب پوری اور ٹھیک طرح سے جانتا ہے کہ کون کس کے لائق ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہ } ۔ نیز دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ } ۔ اَیْ یُلْقِی الْوَحْیَ وَ یُنَزِّلُہ عَلٰی قَلْبٍ مَنْ یُحِبُّہ مِنْ عِبَادِہ ۔ (المدارک، المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرا رب حق کو باطل پر مارتا ہے جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–50

کفار کو غور وفکر کی دعوت تشریح : ان آیات میں کفار مکہ کو دعوت ایمان دی گئی ہے مگر ہمیشہ کی طرح یہی اعتراضات کہ نبی جھوٹا ہے ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے مذہب سے ہٹانا چاہتا ہے۔ دوسرا بڑا اعتراض کہ یہ قرآن اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب نہیں بلکہ خود اپنے پاس سے ہی بنالی گئی ہے۔ تیسری بات یہ کہ سب کچھ جادو ہے۔ یہی سب باتیں ہر زمانے میں ہر پیغمبر کو سننی پڑی تھیں۔ لوگ اسی طرح پیغمبر کو جھٹلاتے جادوگر کہتے، مجنوں کہتے اور پھر خوب اذیتیں دیتے بلکہ بہت سے تو اپنے پیغمبروں کو قتل ہی کردیتے۔ یہی کچھ نبی ﷺ کے ساتھ ان کے ہم وطنوں نے کیا۔ مندرجہ بالا آیات میں انہی کے حالات، خیالات، اعتقادات اور اعمال کا ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–54

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 46 تا 54: اسرار و معارف : آپ ان کے اندیشوں کے جواب میں انہیں فرما دیجئے کہ ایک کام کرو محض جذباتی باتیں نہ کرو ذرا خلوص کے ساتھ جذبات سے الگ ہو کر محض اللہ کے لیے غور کرو اکیلے میں یا مل کر اور اچھی طرح سے فکر کرو کہ اللہ کا جو بندہ تم سے مخاطب ہے وہ کیسا ہے اتنا بڑا دعوی کرتا ہے اور پھر اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد یا لاؤ لشکر اور مال و دولت کے وہ بات کہہ رہا ہے جو نہ صرف اہل مکہ بلکہ دنیا بھر کے کفار کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ان کے صدیوں کے مذاہب کو باطل قرار دے رہا ہے اہل عرب کے سامنے صرف یہ ایک دعوی کہ جو کتاب میں پیش کر رہا ہوں دنیا کے سب اہل علم مل کر بھی اس جیسا ایک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 لہٰذا وہ جو بات کہتے ہیں سچی کہتے ہیں ” یقذف بالحق) کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ حق کو باطل سے ٹکرا کر حق کو غالب اور باطل کو مغلوب کر رہا ہے۔ ( دیکھئے سورة انبیاء : آیت 18)9 مراد ہیں وہ باتیں جو دوسروں سے پوشیدہ ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:48) یقذف۔ مضارع واحد مذکر غائب قذف (ضرب) مصدر۔ جس کے معنی دور پھینکنے کے ہیں۔ جیسے فاقذ فیہ فی الیم (20: 39) پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو یا جیسے سچ کو جھوٹ پر پھینک مارنے کے معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے بل نقذف بالحق علی الباطل۔ (21:18) بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں۔ رمی کی طرح قذف کو بطور استعارہ گالی دینے یا عیب لگانے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں لیکن قرآن مجید میں اس کا استعمال نہیں آیا۔ اگرچہ رمی سے ان ہی معنوں میں قرآن مجید میں ہے۔ والذین یرمون المحصنت ثم لم یاتوا باربعۃ شھداء فاجلدوہم ثمانین جلدۃ (24:4) اور جو لوگ تہمت لگائیں پاک دامن عورتوں کو اور پھر چار گواہ نہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–54

لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 54 اعظ : میں نصیحت کرتا ہوں مثنی : دو دو فرادی : ایک ایک صاحب : ساتھی یقذف : وہ پھینکتا ہے ما یبدی : وہ ابتدا نہیں کرتا فزعوا : وہ گھبرا گئے التناوش : جھپٹ کر پکڑ لینا یشتھون : وہ خواہش رکھتے ہیں تشریح ـ : آیات نمبر 46 تا 54 اعلان نبوت سے پہلے بھی عرب کا بچہ بچہ بنی کریم حضرت محمد رسول ﷺ کی متا نت و سنجیدگی ، عقل و دانش ، دیانت و امانت ، حسن عمل اور خاندانی شرافت سے نہ صرف اچھی طرح واقف تھا بلکہ ہر شخص آپ سے ملنے کے بعد صرف آپ ہی کی تعریف کرتا نظرآتا تھا لیکن جیسے ہی آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور ان کی رسموں اور طریقوں کو غلط بتایا بت پرستی ، جہالت اور بہت سی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–49

(ف 1) اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو ارشاد فرماتا ہے کہ مشرکوں سے اس طرح کہیں کہ میں جو تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام اور تبلیغ کرتا ہوں اور خدا کی عبادت کا حکم کرتا ہوں اس کے اوپر میں تم سے کچھ اجرت نہیں طلب کرتا، نہ کچھ انعام چاہتا ہوں تماپنا اجر اپنے پاس رہنے دو ، کیونکہ میں تو اللہ سے اس کا ثواب چاہتا ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے اور میرے قول کی سچائی کو بھی جانتا ہے فرمایا اس قرآن کے ذریعہ سے اب وہ دین حق آگیا جس کے سبب سے نہ آئندہ شرک کی نئی رسم پیدا ہوسکتی ہے نہ مٹی ہوئی رسم پھر رواج پکڑ سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 46–51

[32] یعنی تعصب وعناد کو چھوڑ کر انصاف و اخلاص کے ساتھ اللہ کے نام پر اٹھ کھڑے ہو اور سب مل کر مشورہ کرلو اور الگ الگ تنہائی میں غور کر کے سوچو کہ یہ تمہارا رفیق یعنی محمد ﷺ جو چالیس برس سے زیادہ تمہاری آنکھوں کے سامنے رہا اور جس کی امانت و دیانت اور فہم و دانش کے تم برابر قائل رہے اور کبھی نفسانیت پرستی یا خود غرضی کا الزام تم نے اس پر نہیں رکھا، کیا واقعی تم گمان کرسکتے ہو کہ اسے بیٹھے بٹھائے جنون ہوگیا ہے۔ کیا کہیں دیوانے ایسی حکمت کی باتیں کیا کرتے ہیں ؟ کیا کوئی مجنون اپنی قوم کی خیرخواہی اور اس کی اخروی فلاح اور دنیوی ترقی کا اتنا زبردست لائحہ عمل پیش کرسکتا ہے ؟ وہ تو تم کو مستقبل کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–49

حضور ﷺ کی صداقت پر سب سے بڑی دلیل 1: حضور ﷺ کی صادقت پر سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ آپ محض حسیتہ اللہ لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیتے تھے ۔ اس میں آپ کی کوئی ذاتی منفعت ہرگز پہناں نہ تھی ۔ بلکہ جب آپ سے کہا گیا ۔ کہ اگر آپ نبوت کے ڈھونگ سے (معاذ اللہ) باز آجائیں ۔ تو ہم بہترین معاوضہ دینے کے لئے تیار ہیں ۔ ہم آپ کے قدموں میں سونے اور چاندی کے ڈھیر لگا سکتے ہیں ۔ ہم عرت کی جمیل ترین اور شریف ترین خاتوں کو آپ کے قصد میں دے سکتے ہیں ۔ اور ہم یہ بھی کرسکتے ہیں کہ آپ کو قیادت مطلقہ کے منصب پر سرفراز کردیں ۔ تو آپ نے پورے جوش کے ساتھ فرمایا ۔ کہ تم لوگوں نے مجھے بالکل سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ اگر تم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(48) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ میرا پروردگار امر حق کو اور سچی بات کو ڈالتا ہے اور وحی راست کو اتارتا ہے اور وہ تمام چھپی چیزوں کو خوب جاننے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ امر حق کو اور دین حق کو اتارتا ہے اور میں اس کے بندوں تک پہنچاتا ہوں یا یہ مطلب کہ وہی امر حق کو باطل پر غالب کرتا ہے جیسا کہ سورة انبیاء میں ہم عرض کرچکے ہیں۔ قذف کے معنی اگرچہ تیر پھینکنے کے ہیں لیکن قرآن میں عام طور سے القا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ وقذف فی قلوبھم الرعب اور ان اقذفیہ فی التابوت ہم نے تیسیر میں دونوں کو واضح کردیا ہے اور وہی غیب کی تمام باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 47–48

ف 5۔ یعنی تم اپنے ہی پاس رکھو یہ محاورہ میں نفی ہے طلب اجر کی، بطریق مبالغہ۔ 6۔ معاوضہ میں مال اور جاہ یعنی ریاست سب آگیا، کیونکہ اعیان و اعراض دونوں میں اجر ملنے کی صلاحیت ہے، مطلب یہ کہ میں تم سے کسی غرض کا طالب نہیں ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میرا رب مجھ پر حق القا کرتا ہے اور ہر پوشیدہ چیز کو جانتا ہے 48 ۔ اب نبی اعظم وآخر ﷺ سے اس بات کا اعلان کرایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر حق اتارا جارہا ہے اس لئے جو کچھ میں تم کو کہہ اور بتارہا ہوں وہ چونکہ وہی کچھ ہے جو مجھ پر اترا ہے پھر آخر وہ حق کیوں نہیں ہوگا ؟ رہے نہ ماننے والے اور مجھ پر طرح طرح کے الزام لگانے والے تو وہ نہ ماننا چاہیں تو بالکل نہ مانیں اور جو الزام لگاتے ہیں وہ لگاتے رہیں میں اس معاملہ میں ان کی مزاحمت آخر کیوں کروں گا جب کہ میں جانتا ہوں کہ وہ علام الغیوب ہے ، وہ میرے حق پہنچانے کو بھی جانتا ہے اور ان جھٹلانے والوں کو بھی دیکھ رہا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–48

Verse 48: إِنَّ رَ‌بِّي يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ (Say," My Lord sends forth the Truth. He is the Best-Knower of the Unseen." - 34:48) Say, "Truth has come, and falsehood (has vanished so as it) has no power to produce or reproduce (anything) ". It means that my Lord who is the Knower of the Unseen strikes out the false with a throw of the truth (as a result of which the false is destroyed, as it was said: فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ 'and there it is all gone'. Al-Anbiya', 21:18). Literally, the word: قَذَف (qadhf) means to hit by throwing. Here, the purpose is to highlight the truth…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–49

70 The words yaqdhifu bil-haqq give two meanings: (1) "He inspires me with the knowledge of the truth by Revelation; " and (2) "He is making the truth to prevail: He is crushing falsehood by means of the truth. "

Read the full tafseer →