Explained with ayahs 47–50
مشرکین کو دعوت اصلاح۔
حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت (رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ 15 ۙ) 40۔ غافر :15) ، ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے حضرت جبرائیل کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے۔ جو حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 68
اصل الفاظ ہیں مَا سَاَلْتُکُمْ مِنْ اَجْرٍ فَھُوَ لَکُمْ۔ اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو اوپر ہم نے ترجمہ میں بیان کیا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہاری بھلائی کے سوا میں اور کچھ نہیں چاہتا، میرا اجر بس یہی ہے کہ تم درست ہوجاؤ۔ اس مضمون کو دوسری جگہ قرآن مجید میں یوں ادا کیا گیا ہے
قُلْ مَآ اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ الیٰ رَبِّہ سَبِیْلاً۔ (الفرقان 57)
اے نبی، ان سے کہو میں اس کام پر تم سے کوئی اجر اس کے سوا نہیں مانگتا کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے۔
سورة سَبـَا 69
یعنی الزام لگانے والے جو کچھ چاہیں الزام لگاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
کفار مکہ کو دعوت
(آیت) انما اعظکم بواحدة، اس میں اہل مکہ پر حجت تمام کرنے کے لئے ان کو تحقیق حق کا ایک مختصر راستہ بتلایا گیا ہے کہ صرف ایک کام کرلو کہ اللہ کے لئے کھڑے ہوجاؤ، دو دو اور ایک ایک، اللہ کے لئے کھڑے ہونے سے مراد حسی کھڑا ہونا نہیں کہ بیٹھے یا لیٹے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہوجائے، بلکہ اس سے مراد محاورہ کے مطابق کام کا پورا اہتمام کرنا ہے۔ اور یہاں قیام کے ساتھ لفظ للہ بڑھا کر یہ بتلانا منظور ہے کہ خالص اللہ کے راضی کرنے کے لئے پچھلے خیالات و عقائد سے خالی الذہن ہو کر حق کی تلاش میں لگو تاکہ پچھلے خیالات اور اعمال قبول حق کی راہ میں حائل نہ ہوں۔ اور دو دو یا ایک ایک میں کوئی عدد خاص مقصود…
Read the full tafseer →آیت 47
یہ مضمون قرآن میں دو اسلوبوں سے آیا ہے اور دونوں کا مفاد ایک ہی ہے۔ ایک اسلوب یہ ہے کہ میں نے اپنی خدمت پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگا ہے کہ تم مجھ سے بدک رہے ہو، میرا اجر تو بس میرے رب ہی کے ذمہ ہے۔
دوسرا یہ کہ اگر میں نے تم سے کوئی بات چاہی ہے جس کو تم اجر سمجھتے اور بار محسوس کرتے ہو تو وہ اپنے لئے ہیں بلکہ تمہاری ہی دنیا و آخرت کی بہبود کے لئے چاہی ہے۔
پہلے اسلوب کی مثالیں بکثرت ہیں۔ ان کے حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں یہ مضمون اس دوسرے اسلوب میں بیان ہوا ہے جس کی بعض نظیریں ہم نقل کرتے ہیں۔ سورة فرقان میں ہے :
قل ما اسالکم علیہ من اجرا الا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلا (57)
کہہ دو کہ…
Read the full tafseer →47۔ 1 اس میں اپنی بےغرضی اور دنیا کے مال و متاع بےرغبتی کا مزید اظہار فرما دیا تاکہ ان کے دلوں میں اگر یہ شک و شبہ پیدا ہو کہ اس دعوی نبوت سے اس کا مقصد کہیں دنیا کمانا تو نہیں، تو وہ دور ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
21: اٹھ کھڑا ہونا اہتمام اور سنجیدگی سے کنایہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی تک تم لوگوں نے سنجیدگی نہیں کی، اس لیے یہ بےبنیاد الزام لگا رہے ہو کہ (معاذ اللہ) آنحضرت ﷺ جنون میں مبتلا ہیں۔ سنجیدگی سے سوچنے کا تقاضا یہ ہے کہ اول تو اس مسئلے کی اہمیت محسوس کرو، دوسرے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت سے سوچو، اور کبھی اکیلے سوچنے سے فائدہ ہوتا ہے، کبھی اجتماعی طور پر سوچنے سے، اس لیے دونوں صورتیں ذکر فرمائی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →قل ما سالتکم۔۔۔۔۔ کل شیئ شھید (47) ” “۔ پہلے تو آپ نے ان کو دعوت دی کہ تم لوگ اکیلئے یا دو دو مل کر تحریک اسلامی پر غور کرو کہ تمہارے ساتھی کی دعوت میں آخر جنوں کی کیا بات ہے۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ لوگوں کے ڈرانے میں اس قدر مگن ہیں اور لوگوں کو شدید عذاب سے ڈرا رہے ہیں۔ آخر اس میں ان کا مفاد کیا ہے۔ اس کے اسباب کیا ہیں ۔ حضور ﷺ کو کیا فائدہ ہے۔ اس حقیقت کی طرف ان لوگوں کی سوچ اور قوت استدلال کو نہایت ہی موثر انداز میں متوجہ کیا جاتا ہے۔
قل ما سالتکم من اجر فھو لکم (34: 47) ” کہو میں اگر تم سے کوئی اجر مانگتا ہوں تو وہ تم ہی لے لو “۔ یہ اجر تمہیں ہی مبارک ہو۔ یہ…
Read the full tafseer →3 یعنی میں تم سے اپنی محنت کا کچھ صلہ نہیں چاہتا اگر تمہارے خیال میں کچھ معاوضہ طلب کیا ہو وہ سب تم اپنے پاس رکھو مجھے ضرورت نہیں میرا صلہ تو خدا کے یہاں ہے۔ تم سے جو چیز طلب کرتا ہوں یعنی ایمان و اسلام وہ صرف تمہارے نفع کی خاطر۔ اس سے زائد میری کوئی غرض نہیں۔
4 یعنی میری سچائی اور نیت اللہ کے سامنے ہے۔
Read the full tafseer →آیت 47 { قُلْ مَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَہُوَ لَکُمْ } ”آپ ﷺ کہیے کہ اگر میں نے تم سے کچھ اجرت مانگی ہو تو وہ تمہارے ہی لیے ہے۔“
یہ ایک ایسا اندازِ بیان ہے جس میں ”نفی“ کی گویا انتہا ہے کہ میں نے اس کام کے عوض اگر کوئی اجرت طلب کی ہو تو وہ تم ہی کو مبارک ہو ! میں دن رات دعوت کے اس کام میں ہمہ تن مصروف ہوں ‘ مگر میں اس پر تم لوگوں سے کسی قسم کی کوئی اُجرت ‘ کوئی معاوضہ اور کوئی صلہ طلب نہیں کرتا۔ تم لوگ اس کلام کو کبھی شاعری کہتے ہو اور کبھی پرانے زمانے کی کہانیوں سے تشبیہہ دیتے ہو۔ مگر تم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ شاعروں کی شاعری اور قصہ خوانوں کی کہانیوں کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟ وہ لوگ تو…
Read the full tafseer →72 دوسری یہ بات بھی سوچو کہ جب سے میں دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا ہے۔ دن رات اسی کام میں لگا ہوا ہوں۔ تم سب لوگوں کی دشمنی بھی مول لے لی ہے۔ اپنا روزگار بھی ختم کردیا ہے۔ تم سے بھی نہ کوئی معاوضہ طلب کرتا ہوں نہ کوئی دوسری غرض رکھتا ہوں۔ تو کیا ایک دنیادار یا فریب کار اور اقتدار کا بھوکا یہ کام کرسکتا ہے یا ایسی بےلوٹ خدمت سرانجام دے سکتا ہے ؟ میں تم سے پیسہ نہیں مانگتا البتہ یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم غلط راستہ کو چھوڑ کر سیدھے راستہ کی طرف آجاؤ۔ یہی میرا تم سے معاوضہ ہے اور یہی مطالبہ ہے اور اس میں تمہاری ہی بھلائی ہے۔
Read the full tafseer →65۔ سو یہ بھی اس پر روشن ہے کہ میرا پیام میں آمیزش دنیوی کہاں تک ہے اور حق وصداقت کہاں تک) آیت کا حاصل یہ ہے کہ جب میری دعوت اسلام کا محرک نہ حب مال وجاہ ہے، اور نہ اس کے تحت میں کوئی جنون یاخلل دماغی کار فرما ہے، تو اب بجز خالص حق وحقانیت کے اور باقی کیا رہ جاتا ہے ؟ یہی معیار آج بھی زندہ قائم ہے۔ رسول کریم ﷺ کے حالات وسوانح تو تاریخ کا ایک اہم جزو ہیں۔ اور ان کی روشنی میں آج بھی یہی سوال قائم کرکے جواب بعینہ یہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ (آیت) ” ما ....... لکم “۔ محاورہ میں یہ کنایہ ہے تاکید کے ساتھ طلب اجر کی نفی سے۔ معناہ نفی مسئلۃ الاجر راما (مدارک) (آیت) ” من اجر “۔ اجر کے تحت میں جاہ ومال ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
آیت نمبر 46 تا 54
ترجمہ : آپ کہئے کہ میں تمہیں صرف ایک (مختصر سی) بات کی نصحیت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم خدا کے وسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو یا تنہا تنہا کھڑے (مستعد) ہوجاؤ، پھر سوچو تو تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے ساتھی محمد کو کوئی جنون نہیں وہ تو تم کو آخرت کے سخت عذاب سے اس کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے اگر تم اس کی بات نہ مانو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرنے اور تبلیغ پر تم سے جو معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو یعنی میں اس انذار و تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ طلب نہیں کرتا، میرا صلہ تو اللہ ہی کے ذمہ ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے میری صداقت سے واقف ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق بات اپنے نبیوں پر…
Read the full tafseer →قل ما سالتکم من اجر فھو لکم . آپ کہہ دیجئے کہ (رسالت کا) جو معاوضہ میں تم سے طلب کروں ‘ وہ تمہارا ہی
ہے (تم اپنے پاس رکھ لو ‘ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے) یعنی میں تم سے کسی معاوضہ کا طلبگار نہیں ہوں۔
بعض اہل علم نے کہا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نے جو تم سے کہا ہے : مَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ الاَّ مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ الِیٰ رَبِّہٖ سَبِیْلاً اور یہ بھی میں نے تم سے کہا ہے : لاَ اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرً الاَّ الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی تو میری یہ طلب تمہارے ہی فائدہ کیلئے ہے ‘ راہ خدا اختیار کرنا تمہارے ہی لئے مفید ہے اور میری تمہاری قرابت ایک ہی ہے۔
میں کہتا ہوں : رسول…
Read the full tafseer →آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر میں نے تم سے کوئی معاوضہ مانگا ہو تو وہ تمہارا ہی رہا میرا ثواب و معاوضہ تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور وہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ۔۔ : یہ دوسری تلقین ہے کہ اس بات کی صراحت کردیں کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے پر میں تم سے کوئی اجرت یا معاوضہ تو نہیں مانگتا، میں نے تم سے جو بھی اجرت مانگی ہے تو وہ تمہاری ہوئی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ اگر تم نے مجھے کچھ دیا ہے تو وہ تم لے لو، جب اسے معلوم ہو کہ اس نے اسے کچھ نہیں دیا، مطلب صرف اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ تم نے مجھے کچھ دیا ہی نہیں جو میں تمہیں واپس دوں۔ ایسے ہی یہاں فرمایا کہ اگر میں نے تم سے کوئی مزدوری مانگی ہے تو وہ تمہاری ہوئی۔ مطلب یہ کہ میں نے تم سے کوئی مزدوری مانگی ہی نہیں، میری دعوت تو محض تمہاری…
Read the full tafseer →آیت : من اجر سے رسالت کی تبلیغ پر انعام (1) (زاد المسیر، جز 6، صفحہ 251 ) ، یعنی اگر میں نے تم سے انعام کا مطالبہ کیا ہے تو وہ تمہارے لیے ہے۔ شھید سے مراد تاڑنے والا، عالم اور حاضر ہے یعنی میرے اعمال اور تمہارے اعمال سے آگاہ ہے اس پر کوئی امر مخفی نہیں وہ سب کو بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل ما سألتکم من اجر آپ فرماد یجیے کہ جو معاوضہ میں تم سے طلب کروں وہ تمہارا ہی ہے اجر سے مراد انعام ہے۔ آیت فہو لکم وہ تمہارا ہی ہے۔ یعنی میں تم سے اسلام پر کوئی سوال نہیں کرتا کسی مزدوری کا آیت قل ان ربی یقذف بالحق علام الغیوب، قل جاء الحق وما ئبدء الباطل فرمادیجیے تیرا رب حق کو باطل پر غالب کر رہا ہے وہی چھپی باتوں کو خوب جاننے والا ہے آپ فرمادیجیے کہ حق آگیا اور جھوٹے معبود نہ پہلی بار پیدا کرتے ہیں اور نہ دوبارہ پیدا کریں گے۔ یعنی شیطان نہ پہلی بار پیدا کرتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا جب انسان وہ ہلاک…
Read the full tafseer →قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] مَا سَاَلْتُكُمْ [جو میں نے مانگا تم سے ] مِّنْ اَجْرٍ [کوئی بھی اجر ] فَهُوَ لَكُمْ ۭ [تو وہ تمہارے لئے ہے ] اِنْ اَجْرِيَ [نہیں ہے میرا اجر ] اِلَّا عَلَي اللّٰهِ ۚ [مگر اللہ پر ] وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [اور وہ ہر چیز پر ] شَهِيْدٌ [موجود رہنے والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
انفرادی اور اجتماعی طور پر غور و فکر کرنے کی دعوت
رسول اللہ ﷺ کے اولین مخاطبین جو آپ کی تکذیب کرتے تھے وہ آپ کو دیوانگی کی طرف منسوب کرتے تھے، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں یہ نصیحت محض تمہاری ہمدردی کے لیے ہے، تم دو دو آدمی مل کر یا علیحدہ علیحدہ تنہائیوں میں سوچو اور غور و فکر کرو تمہارا یہ سوچنا صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، اس میں نفسانیت اور تعصب کا دخل نہ ہو، تم لوگ یہ سوچ لو کہ جو شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میں نبی ہوں اور تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہے وہ دیوانہ نہیں ہے، اس کے احوال دیکھ لو، اس کی بات سن لو، وہ قرآن سناتا ہے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
خاتمہء سورت برکلمہء حکمت وموعظت
قال اللہ تعالی۔ قل انما اعظکم بواحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ انہم کانوا فی شک مریب۔
(ربط) ابتدائے سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت اور قیامت تینوں مضمون بیان ہوئے اب سورت کو ایک نصیحت پر ختم فرماتے ہیں جس سے توحید اور رسالت اور قیامت یعنی دین کے اصول ثلاثہ کی حقانیت واضح ہوجائے۔ ان تقوموا للہ سے توحید کی طرف اشارہ ہے اور ما بصحبکم من جنۃ ان ھو الا نذیر لکم۔ سے رسالت کی طرف اشارہ ہے اور بین یدی عذاب شدید سے یوم آخرت کی طرف اشارہ ہے تفسیر کبیر ص 24 ج 7۔
اور قل ما سالتکم من اجر سے مشرکین کے اس شبہ کو قطع کرنا ہے کہ آپ ﷺ کا فرمانا کسی طمع اور غرض پر مبنی نہیں بلکہ فقط تمہاری…
Read the full tafseer →49:۔ قل ما سالتکم الخ یہ پانچواں طریق تبلیغ ہے۔ آپ فرما دیں میں تبلیغ حق پر تم سے کوئی اجرت یا چند
وغیرہ نہیں مانگتا۔ اگر میں کوئی چندہ یا اجرت مانگوں تو وہ تم ہی لے لینا۔ یہ سرے سے اجرت نہ لینے سے کنایہ ہے۔ والمراد نفی السؤال راسا (روح ج 22 ص 155) ۔ ان اجری الخ : میری اجرت تو اللہ کے ذمہ ہے جو ہر چیز سے باخبر ہے اور میری سچائی اور خلوص نیت کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کے باطل نظریات کا رد ہوا وہ بدبخت پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت و نبوت کا انکار کرتے تھے اور قرآن پاک کو کلام الٰہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، پھر جب قرآن کے اثر انداز ہونے کی بات ہوئی تو اسے جاننے سے تعبیر کرتے۔ اللہ نے مشرکین کو سخت تنبیہ کی اور اب آخر میں نصیحت کے پیرائے میں فرمایا کہ اگر مشرک لوگ ذرا بھی غور و فکر کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ حضور ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور ان کا لایا ہوا قرآن اللہ کی برحق کتاب ہے۔ قیامت یقینا آنے والی ہے اور سب کو محاسبے کے عمل سے گزرنا ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے سابقہ ادوار کے مشرکوں کا حال بھی بیان…
Read the full tafseer →قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَہُوَلَكُمْ 0 ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللہِ 0 ۚ وَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَہِيْدٌ 47
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
دلائل قائم کرکے ہٹ دھرم مخاطبوں کو اب ایک اور طریقہ سے ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ فقال قل انما اعظکم بواحدۃ کہ میں تم کو ایک ہی بات کہتا ہوں، نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر اس کے بھی معنی نہیں کہ آپ ان کو صرف ایک ہی حکم پر مامور کرتے تھے۔ توحید وغیرہ کہ پھر باقی شاخیں قرار دی جاویں، جیسا کہ تفسیر کبیر میں ہے بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ جیسا کہ کہا کرتے ہیں۔ لو اب تم ایک کام کرو۔ ان تقوموا للّٰہ کہ ایک ایک تنہا ہو کر اور باہم مل کر خدا کے لیے یہ تو سوچو کہ تمہارے صاحب کو یعنی مجھے کچھ جنون تو نہیں ہے۔ یہ رسالت کے اثبات میں کلام ہے کہ خوب غور کرو کہ میں دیوانہ نہیں ہوں۔ جب دیوانہ نہیں تو کون عاقل…
Read the full tafseer →قُلْ مَا سَاَلْـتُـکُمْ مِّنْ اَجْرٍفَھُوَ لَـکُمْ ط اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ ج وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَہِیْدٌ۔ (السباء : 47)
(کہہ دیجیے میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو تمہارے ہی لیے مانگا ہے، میرا اجر تو بس اللہ پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ )
نبی کریم ﷺ کی بےلوثی
انسان کی کج اندیشیوں کے بہت سے حوالے ہیں۔ ان میں سے ایک حوالہ یہ بھی ہے کہ جب کسی کے بارے میں اسے بدگمانی ہوجاتی ہے یا اس سے دشمنی اس کے دل میں اتر جاتی ہے تو پھر اس کی ہر سیدھی بات بھی اسے الٹی دکھائی دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ جب بھی انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے، آخرت سے ڈراتے، نیکی کی تلقین کرتے، حقوق العباد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
فہم القرآن
ربط کلام : آدمی کی حماقت کی ایک وجہ اس کا مفاد اور لالچ ہوا کرتا ہے نبی معظم ﷺ کو لوگوں سے کوئی دنیوی مفاد نہ تھا جس بنا پر کفار کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے چار استفسار کیے گئے ہیں۔
اے پیغمبر ﷺ ! انہیں فرما دیں کہ کیا میں نے تم سے اس دعوت کے کام پر کسی قسم کا کوئی مطالبہ کیا ہے جس بنا پر تم مجھے مجنون کہتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں کسی لالچ کے پیش نظرتمہارے نظریات کی مخالفت کرتا ہوں ؟ ہرگز نہیں میرا مقصد تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ لہٰذا اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ میرا صلہ میرے رب کے ذمہ ہے جو میرے اور تمہارے احوال کو اچھی طرح جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رب مجھ پر حق نازل کرتا ہے جسے…
Read the full tafseer →47: پھر واضح فرمایا کہ میں اس انذار پر تم سے مزدوری کا طالب نہیں ہوں۔ قُلْ مَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ (کہہ دیجئے اگر میں نے تم سے کچھ معاوضہ مانگا ہو) اپنے اس انذار اور تبلیغ رسالت پر فَھُوَ لَـکُمْ (تو وہ تمہارا ہی رہا) یہ شرط کی جزاء ہے تقدیرکلام اس طرح ہے۔ ای شئی سالتکم من اجر ( میں نے اس پر مزدوری میں کونسی چیز تم سے مانگی ہے) ۔ یہ اس ارشاد کی طرح ہے۔ ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ ] فاطر : 2[ مطلب سرے سے مزدوری کے مطالبے کی نفی ہے۔ جیسے کہتے ہیں : مالی فی ھٰذا فھو لک ای لیس لی فیہ شیٔ اس میں میرے لئے کچھ نہیں اِنْ اَجْرِیَ (میرا معاوضہ تو )
قراءت : مدنی، شامی، حفص ‘ ابو عمرو نے نصب یاء کے…
Read the full tafseer →47، قل ماسالتکم ، رسالت کی تبلیغ پہنچانے میں ۔ ، من اجر، کوئی اجرمانگوں۔ ، فھو لکم ، وہ تمہارے لیے ہی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ رسالت پہنچا نے میں تم لوگوں سے کوئی اجرطلب نہیں کررہا کہ تم مجھے مہتم کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، فھو لکم ، کہ میں تم سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا۔ ، ان اجری الا علی اللہ وھو علی کل شیء شھید، اس کا ثواب اور اجر اللہ ہی کے پاس ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
47 تا 49۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ مشرکوں سے اس طرح کہیں کہ میں جو تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا ہوں اور خدا کی عبادت کا تم کو حکم کرتا ہوں اس کے اوپر میں تم سے کچھ اجرت نہیں طلب کرتا نہ کچھ انعام چاہتا ہوں تم اپنا بھی اور تمہاری کو بھی سب چیز اس کے سامنے ہے کچھ اس سے پوشیدہ نہیں اسے خوب معلوم ہے کہ میں تم سے کچھ اجر نہیں چاہتا قرآن یہ بھی فرمایا کہ قرآن اللہ غیب دان کا کلام ہے اس واسطے اس میں غیب کی خبریں ہیں فرمایا اس قرآن کے ذریعہ سے اب وہ دین حق آگیا جس کے سبب سے نہ آیندہ شرک کی نئی رسمیں پیدا ہوسکتی ہیں نہ مٹی ہوئی رسمیں پھر رواج پکڑ سکتی ہیں مسند امام احمد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
آیت 43
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرما رہا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیشکئے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیا کرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →103 پیغمبر کی دعوت سراسر دوسروں کے بھلے اور خیر کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ میں نے تم لوگوں سے جو اجر مانگا وہ تمہارے ہی لیے ہے "۔ یعنی اس پر مزید یہ کہ وہ کامل ہمدردی کے ساتھ اور بغیر کسی قسم کے عوض و معاوضہ کے سوال کے محض تمہاری خیر خواہی کیلئے ایسے کرتا ہے۔ اور { من اجر } کا عموم ہر طرح کے اجر اور بدلہ کو شامل ہے۔ یعنی وہ نہ تم سے کوئی نوٹ مانگتا ہے نہ ووٹ۔ نہ کوئی صلہ نہ ستائش۔ لے دے کہ وہ تم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ تم راہ حق پر آجاؤ تاکہ دائمی عذاب سے بچ کر سدا بہار نعمتوں سے ہم کنار و سرفراز ہو سکو۔ یعنی اپنے کسی فائدے کی بجائے اس کی ساری سعی و کوشش سراسر تمہارے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
کفار کو غور وفکر کی دعوت
تشریح : ان آیات میں کفار مکہ کو دعوت ایمان دی گئی ہے مگر ہمیشہ کی طرح یہی اعتراضات کہ نبی جھوٹا ہے ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے مذہب سے ہٹانا چاہتا ہے۔ دوسرا بڑا اعتراض کہ یہ قرآن اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب نہیں بلکہ خود اپنے پاس سے ہی بنالی گئی ہے۔ تیسری بات یہ کہ سب کچھ جادو ہے۔ یہی سب باتیں ہر زمانے میں ہر پیغمبر کو سننی پڑی تھیں۔ لوگ اسی طرح پیغمبر کو جھٹلاتے جادوگر کہتے، مجنوں کہتے اور پھر خوب اذیتیں دیتے بلکہ بہت سے تو اپنے پیغمبروں کو قتل ہی کردیتے۔ یہی کچھ نبی ﷺ کے ساتھ ان کے ہم وطنوں نے کیا۔ مندرجہ بالا آیات میں انہی کے حالات، خیالات، اعتقادات اور اعمال کا ذکر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 46 تا 54:
اسرار و معارف :
آپ ان کے اندیشوں کے جواب میں انہیں فرما دیجئے کہ ایک کام کرو محض جذباتی باتیں نہ کرو ذرا خلوص کے ساتھ جذبات سے الگ ہو کر محض اللہ کے لیے غور کرو اکیلے میں یا مل کر اور اچھی طرح سے فکر کرو کہ اللہ کا جو بندہ تم سے مخاطب ہے وہ کیسا ہے اتنا بڑا دعوی کرتا ہے اور پھر اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد یا لاؤ لشکر اور مال و دولت کے وہ بات کہہ رہا ہے جو نہ صرف اہل مکہ بلکہ دنیا بھر کے کفار کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ان کے صدیوں کے مذاہب کو باطل قرار دے رہا ہے اہل عرب کے سامنے صرف یہ ایک دعوی کہ جو کتاب میں پیش کر رہا ہوں دنیا کے سب اہل علم مل کر بھی اس جیسا ایک…
Read the full tafseer →ف 7 وہ جانتا ہے کہ میں اپنے دعوائے نبوت میں سچا ہوں اور یہ دعوت کسی ذاتی مفاد کے لئے نہیں ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے صدق فی الرسالۃ کی دوسری دلیل ہے۔ ( کبیر)
Read the full tafseer →(34:47) ما سالتکم۔ ما بمعی مھما۔ جو کچھ۔ من اجر۔ ای من اجر علی تبلیغ الرسالۃ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے پیغام کو تم تک پہنچانے کا معاوضہ میں نے مانگا ہے فھو لکم وہ تمہارا ہی رہا۔ وہ تم اپنے پاس ہی رکھو، مراد یہاں نفی السوال ہے یعنی میں تو اس کا تم سے اجر مانگتا ہی نہیں۔
ان اجری۔ میں ان نافیہ ہے اجری مضاف مضاف الیہ۔ میرا اجر۔ میرا معاوضہ یہ جملہ بھی تاکید نفی السوال کے لئے آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 54
اعظ : میں نصیحت کرتا ہوں
مثنی : دو دو
فرادی : ایک ایک
صاحب : ساتھی
یقذف : وہ پھینکتا ہے
ما یبدی : وہ ابتدا نہیں کرتا
فزعوا : وہ گھبرا گئے
التناوش : جھپٹ کر پکڑ لینا
یشتھون : وہ خواہش رکھتے ہیں
تشریح ـ : آیات نمبر 46 تا 54
اعلان نبوت سے پہلے بھی عرب کا بچہ بچہ بنی کریم حضرت محمد رسول ﷺ کی متا نت و سنجیدگی ، عقل و دانش ، دیانت و امانت ، حسن عمل اور خاندانی شرافت سے نہ صرف اچھی طرح واقف تھا بلکہ ہر شخص آپ سے ملنے کے بعد صرف آپ ہی کی تعریف کرتا نظرآتا تھا لیکن جیسے ہی آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور ان کی رسموں اور طریقوں کو غلط بتایا بت پرستی ، جہالت اور بہت سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
(ف 1) اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو ارشاد فرماتا ہے کہ مشرکوں سے اس طرح کہیں کہ میں جو تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام اور تبلیغ کرتا ہوں اور خدا کی عبادت کا حکم کرتا ہوں اس کے اوپر میں تم سے کچھ اجرت نہیں طلب کرتا، نہ کچھ انعام چاہتا ہوں تماپنا اجر اپنے پاس رہنے دو ، کیونکہ میں تو اللہ سے اس کا ثواب چاہتا ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے اور میرے قول کی سچائی کو بھی جانتا ہے فرمایا اس قرآن کے ذریعہ سے اب وہ دین حق آگیا جس کے سبب سے نہ آئندہ شرک کی نئی رسم پیدا ہوسکتی ہے نہ مٹی ہوئی رسم پھر رواج پکڑ سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
[32] یعنی تعصب وعناد کو چھوڑ کر انصاف و اخلاص کے ساتھ اللہ کے نام پر اٹھ کھڑے ہو اور سب مل کر مشورہ کرلو اور الگ الگ تنہائی میں غور کر کے سوچو کہ یہ تمہارا رفیق یعنی محمد ﷺ جو چالیس برس سے زیادہ تمہاری آنکھوں کے سامنے رہا اور جس کی امانت و دیانت اور فہم و دانش کے تم برابر قائل رہے اور کبھی نفسانیت پرستی یا خود غرضی کا الزام تم نے اس پر نہیں رکھا، کیا واقعی تم گمان کرسکتے ہو کہ اسے بیٹھے بٹھائے جنون ہوگیا ہے۔ کیا کہیں دیوانے ایسی حکمت کی باتیں کیا کرتے ہیں ؟ کیا کوئی مجنون اپنی قوم کی خیرخواہی اور اس کی اخروی فلاح اور دنیوی ترقی کا اتنا زبردست لائحہ عمل پیش کرسکتا ہے ؟ وہ تو تم کو مستقبل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
حضور ﷺ کی صداقت پر سب سے بڑی دلیل
1: حضور ﷺ کی صادقت پر سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ آپ محض حسیتہ اللہ لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیتے تھے ۔ اس میں آپ کی کوئی ذاتی منفعت ہرگز پہناں نہ تھی ۔ بلکہ جب آپ سے کہا گیا ۔ کہ اگر آپ نبوت کے ڈھونگ سے (معاذ اللہ) باز آجائیں ۔ تو ہم بہترین معاوضہ دینے کے لئے تیار ہیں ۔ ہم آپ کے قدموں میں سونے اور چاندی کے ڈھیر لگا سکتے ہیں ۔ ہم عرت کی جمیل ترین اور شریف ترین خاتوں کو آپ کے قصد میں دے سکتے ہیں ۔ اور ہم یہ بھی کرسکتے ہیں کہ آپ کو قیادت مطلقہ کے منصب پر سرفراز کردیں ۔ تو آپ نے پورے جوش کے ساتھ فرمایا ۔ کہ تم لوگوں نے مجھے بالکل سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ اگر تم…
Read the full tafseer →(47) اے پیغمبر ! آپ ان سے فرما دیجئے جو کچھ اس تبلیغ پر میں نے تم سے اجرت اور معاوضہ طلب کیا ہو تو وہ تمہارا اور تمہارے لئے ہے۔ میرا اجر تو بس اللہ تعالیٰ ہی پر ہے وہ ہر چیز سے خبردار اور ہر چیز پر حاضروناظر ہے۔ یعنی کسی قسم کا معاوضہ خواہ وہ اعیان کی شکل میں ہو یا اعراض کی شکل میں وہ سب تمہارا، جیسے ہمارے ہاں بھی محاورہ ہے کہ میں نے کچھ لیا ہو تو وہ تم لے لو مبالغہ کے طور پر یہ بات کہی جاتی ہے جب کسی قسم کا کوئی ذاتی نفع مقصود ہی نہیں ہے تو لینا دینا کیسا اور یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ تبلیغ محض خدا کے واسطے تھی اس تبلیغ پر کوئی نقد یا سامان وصول کرنا مقصود ہی نہ تھا۔
اس لئے فرمایا میرا نیگ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ف 5۔ یعنی تم اپنے ہی پاس رکھو یہ محاورہ میں نفی ہے طلب اجر کی، بطریق مبالغہ۔
6۔ معاوضہ میں مال اور جاہ یعنی ریاست سب آگیا، کیونکہ اعیان و اعراض دونوں میں اجر ملنے کی صلاحیت ہے، مطلب یہ کہ میں تم سے کسی غرض کا طالب نہیں ہوں۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ فرما دیجئے کہ میں جو کچھ مزدوری تم سے طلب کررہا ہوں وہ تم ہی کو مبارک ہو
47 ۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ میں نے یہ جو اللہ تعالیٰ کا پیغام تم کو پہنچایا ہے تو کیا میں نے کوئی مزدوری تم سے طلب کی ہے ؟ اور اپنی بات کو پورا کرتے ہوئے ان سے کہئے جو میں نے تم سے طلب کیا ہے وہ تم ہی کو مبارک ہو پھر اگر میں نے تم سے اس کا معاوضہ طلب نہیں کیا اور مجھے تمہارے معاوضہ کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ میرا اجر تو رب ذوالجلال والاکرام ہی کے ذمہ ہے میں تم سے آخر اس کا اجر کیوں مانگوں گا جب کہ میرا بھی رزق دینے والا وہی ہے جو تم کو رزق دینے والا ہے اور اس کا یہ پیغام میں تم کو پہنچا رہا ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
Verse 48: إِنَّ رَبِّي يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ (Say," My Lord sends forth the Truth. He is the Best-Knower of the Unseen." - 34:48) Say, "Truth has come, and falsehood (has vanished so as it) has no power to produce or reproduce (anything) ". It means that my Lord who is the Knower of the Unseen strikes out the false with a throw of the truth (as a result of which the false is destroyed, as it was said: فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ 'and there it is all gone'. Al-Anbiya', 21:18). Literally, the word: قَذَف (qadhf) means to hit by throwing. Here, the purpose is to highlight the truth…
Read the full tafseer →68 Another meaning of this can be: "I do not sock anything but your well-being: My only recompense is that you should be refomed." This thing has been expressed at another place thus; "O Prophet, say to them: I do not ask of you any recompense for this: I only ask of the one, who will, to adopt the way of his Lord." (Al-Furqan 57)
69 That is, "The accusers may say whatever they like but Allah knows everything. He is a witness that I am a selfless person:, I am not perforating this mission for any selfish motive "
Read the full tafseer →