Saba 34:46

Saba · from ayah 46

34:46

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۚ— اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰی وَفُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا ۫— مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ ؕ— اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ ۟قُلۡ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمۡ بِوَاحِدَةٍ ۚ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ مَثۡنٰى وَفُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوۡا مَا بِصَاحِبِكُمۡ مِّنۡ جِنَّةٍ ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ لَّـكُمۡ بَيۡنَ يَدَىۡ عَذَابٍ شَدِيۡدٍ

کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "I only advise you of one [thing] - that you stand for Allah, [seeking truth] in pairs and individually, and then give thought." There is not in your companion any madness. He is only a warner to you before a severe punishment.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:46

اے نبیؐ، اِن سے کہو کہ "میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑاؤ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کونسی بات ہے جو جنون کی ہو؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجیئے! کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں، وه تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم چاہے دو دو مل کر اور چاہے اکیلے اکیلے اللہ کی خاطر اٹھ کھڑے ہو۔ پھر (انصاف سے) سوچو (توفورا سمجھ میں آجائے گا کہ) تمہارے اس ساتھی (یعنی محمد ﷺ میں جنون کی کوئی بات بھی تو نہیں ہے۔ وہ تو ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے تمہیں خبردار کررہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لیے کھڑے رہو دو دو اور اکیلے اکیلے پھر سوچو کہ تمہارے ان صاحب میں جنون کی کوئی بات نہیں، وہ تو نہیں مگر نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے ایک سخت عذاب کے آگے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: میں تمہیں بس ایک ہی (بات کی) نصیحت کرتا ہوں کہ تم اﷲ کے لئے (روحانی بیداری اور انتباہ کے حال میں) قیام کرو، دو دو اور ایک ایک، پھر تفکّر کرو (یعنی حقیقت کا معاینہ اور مراقبہ کرو تو تمہیں مشاہدہ ہو جائے گا) کہ تمہیں شرفِ صحبت سے نوازنے والے (رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرگز جنون زدہ نہیں ہیں وہ تو سخت عذاب (کے آنے) سے پہلے تمہیں (بروقت) ڈر سنانے والے ہیں (تاکہ تم غفلت سے جاگ اٹھو)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے میں تو تمہیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک کر کے کھڑے ہوجاؤ، پھر خوب غور کرو کہ تمہارے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے۔ وہ تو ایک شدید عذاب سے پہلے محض تمہیں ڈرانے والا ہی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے واسطے تم دو دو مل کر اور اکیلے اکیلے رہ کر خوب سوچو کہ آیا تمہارے صاحب (رسول اللہ ﷺ میں کوئی جنون کی بات ہے ؟ وہ تو محض ایک سخت عذاب سے پہلے تمہیں ڈرانے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہو، میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، وہ یہ کہ تم اللہ کی خاطر دو دو اور ایک ایک کرکے اٹھو پر غور کرو۔ تمہارے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے۔ وہ تو ایک شدید عذاب سے پہلے تم کو آگاہ کرنے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم لوگ اٹھ کھڑے ہوؤ اللہ کے لئے ایک ایک اور دو دو ہو کر اور پھر سوچو کہ تمہارے ساتھی میں آخر جنوں کی کون سی بات ہے وہ تو محض ایک خبردار کرنے والا ہے تمہارے لیے ایک بڑے ہی سخت (اور ہولناک) عذاب سے پہلے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ یہ کہیے میں تو کو ایک بات سمجھاتا ہوں وہ یہ کہ تم اللہ کے واسطے کھڑے ہوجاؤ دو دو اور ایک ایک پھر سوچو کہ تمہارے ان ساتھی کو جنون تو نہیں ہے یہ تو تم کو بس ایک ڈرانے والے ہیں عذاب شدید کی آمد سے پہلے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں یہ کہ تم کھڑے ہو جائو اللہ کے لیے دو دو ہو کر یا اکیلے اکیلے پھر غور کرو تمہارے ساتھی کو جنون کا کوئی عارضہ نہیں ہے } وہ نہیں ہیں مگر تمہارے لیے ایک خبردار کرنے والے ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے کام کے لیے اٹھ کھڑے ہو۔ دو دو اور ایک ایک کرکے پھر غور کرو تمہارے رفیق کو کوئی جنون نہیں وہ تو آنے والے عذاب سے صرف ڈرانے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say to them, (O Prophet): “I give you but one counsel: stand up (for heaven's sake), singly and in pairs, and then think: what is it in your companion (to wit, Muhammad) that could be deemed as madness?” He is nothing but a warner, warning you before the coming of a grevious chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :I advise you for one thing only: that you stand up before Allah, in pairs and in singles, then reflect; (you will easily appreciate that) there is no madness in your fellow (the Holy Prophet). He is none but a warner to you in the face of a stern torment.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :I advise you for one thing only: that you stand up before Allah, in pairs and in singles, then reflect; (you will easily appreciate that) there is no madness in your fellow (the Holy Prophet). He is none but a warner to you in the face of a stern torment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "I exhort you to one (thing) only, that you stand up for Allah's sake in pairs and singly, and reflect, there is no madness in your companion. He is only a warner to you in face of a severe torment."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (unto them, O Muhammad): I exhort you unto one thing only: that ye awake, for Allah's sake, by twos and singly, and then reflect: There is no madness in your comrade. He is naught else than a warner unto you in face of a terrific doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "I only advise you of one [thing] - that you stand for Allah, [seeking truth] in pairs and individually, and then give thought." There is not in your companion any madness. He is only a warner to you before a severe punishment.

— Saheeh International

Say, "I advise you to believe only in One God and worship Him individually or two people together." Think carefully; your companion is not possessed by jinn. He is only warning you of the coming severe torment.

— Muhammad Sarwar

Say: I exhort you only to one thing, that rise up for Allah's sake in twos and singly, then ponder: there is no madness in your fellow-citizen; he is only a warner to you before a severe chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: I but exhort you Unto one thing: that ye stand, for Allah's sake, by twos and singly, and then ponder; in your companion there is no madness; he is naught but a warner Unto you preceding a torment severe.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "I do admonish you on one point: that ye do stand up before Allah,- (It may be) in pairs, or (it may be) singly,- and reflect (within yourselves): your Companion is not possessed: he is no less than a warner to you, in face of a terrible Penalty."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

ضد اور ہٹ دھرمی کفار کا شیوہ۔ حکم ہوتا ہے کہ یہ کافر جو تجھے مجنوں بتا رہے ہیں، ان سے کہہ کہ ایک کام تو کرو خلوص کے ساتھ تعصب اور ضد کو چھوڑ کر ذرا سی دیر سوچو تو آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کرو کہ کیا محمد ﷺ مجنوں ہیں ؟ اور ایمانداری سے ایک دوسرے کو جواب دو۔ ہر شخص تنہا تنہا بھی غور کرے اور دوسروں سے بھی پوچھے لیکن یہ شرط ہے کہ ضد اور ہٹ کو دماغ سے نکال کر تعصب اور ہٹ دھرمی چھڑ کر غور کرے۔ تمہیں خود معلوم ہوجائے گا، تمہارے دل سے آواز اٹھے گی کہ حقیقت میں حضور ﷺ کو جنون نہیں۔ بلکہ وہ تم سب کے خیر خواہ ہیں درد مند ہیں۔ ایک آنے والے خطرے سے جس سے تم بیخبر ہو وہ تمہیں آگاہ کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 66 یعنی اغراض اور خواہشات سے پاک ہو کر خالصتہ للہ غور کرو۔ ہر شخص الگ الگ بھی نیک نیتی کے ساتھ سوچے اور دو دو چار چار آدمی سر جوڑ کر بھی بےلاگ طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ بحث کر کے تحقیق کریں کہ آخر وہ کیا بات ہے جس کی بنا پر آج تم اس شخص کو مجنون ٹھہرا رہے ہو جسے کل تک تم اپنے درمیان نہایت دانا آدمی سمجھتے تھے۔ آخر نبوت سے تھوڑی ہی مدت پہلے کا تو واقعہ تھا کہ تعمیر کعبہ کے بعد حجر اسود نصب کرنے کے مسئلے پر جب قبائل قریش باہم لڑ پڑے تھے تو تم ہی لوگوں نے بالاتفاق محمد ﷺ کو حکم تسلیم کیا تھا اور انہوں نے ایسے طریقے سے اس جھگڑے کو چکایا تھا جس پر تم سب مطمئن ہوگئے تھے۔ جس شخص کی عقل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–47

کفار مکہ کو دعوت (آیت) انما اعظکم بواحدة، اس میں اہل مکہ پر حجت تمام کرنے کے لئے ان کو تحقیق حق کا ایک مختصر راستہ بتلایا گیا ہے کہ صرف ایک کام کرلو کہ اللہ کے لئے کھڑے ہوجاؤ، دو دو اور ایک ایک، اللہ کے لئے کھڑے ہونے سے مراد حسی کھڑا ہونا نہیں کہ بیٹھے یا لیٹے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہوجائے، بلکہ اس سے مراد محاورہ کے مطابق کام کا پورا اہتمام کرنا ہے۔ اور یہاں قیام کے ساتھ لفظ للہ بڑھا کر یہ بتلانا منظور ہے کہ خالص اللہ کے راضی کرنے کے لئے پچھلے خیالات و عقائد سے خالی الذہن ہو کر حق کی تلاش میں لگو تاکہ پچھلے خیالات اور اعمال قبول حق کی راہ میں حائل نہ ہوں۔ اور دو دو یا ایک ایک میں کوئی عدد خاص مقصود…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

10۔ آگے کا مضمون۔ آیات 46۔ 54 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں مخالفین کو نہایت درد مندی کے ساتھ نصیحت بھی ہے اور نہایت پرزور وعید بھی کہ سنبھل جائو۔ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر گیا وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس وقت پچھتائو گے لیکن یہ پچھتانا بالکل بےسود ہوگا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت آیت 64 پیچھے آیات، 80 میں گزر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ جب اپنی قوم کے متمر دین کو عذاب و قیامت سے ڈراتے تو وہ آپ کی اس بات کو ایک قسم کے خبط پر محمول کرتے۔ کہتے کہ اس شخص کو ایک قسم کا مالیخولیا ہے جس کے سبب سے آگے پیچھے اس کو عذاب ہی عذاب نظر آتا ہے۔ اسی کا جواب دیتے ہوئے نہایت ناصحانہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

46۔ 1 یعنی میں تمہیں تمہارے موجودہ طرز عمل سے ڈراتا اور ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم ضد، اور انانیت چھوڑ کر صرف اللہ کے لئے ایک ایک دو دو ہو کر میری بابت سوچو کہ میری زندگی تمہارے اندر گزری ہے اور اب بھی جو دعوت میں تمہیں دے رہا ہوں کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے کہ جس سے اس بات کی نشان دہی ہو کہ میرے اندر دیوانگی ہے ؟ تم اگر عصبیت اور خواہش نفس سے بالا ہو کر سوچو گے تو یقینا سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے رفیق کے اندر کوئی دیوانگی نہیں ہے۔ 46۔ 2 یعنی وہ تو صرف تمہاری ہدایت کے لئے آیا ہے تاکہ تم اس عذاب شدید سے بچ جاؤ جو ہدایت کا راستہ نہ اپنانے کی وجہ سے تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ حدیث میں آتا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 46–47

21: اٹھ کھڑا ہونا اہتمام اور سنجیدگی سے کنایہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی تک تم لوگوں نے سنجیدگی نہیں کی، اس لیے یہ بےبنیاد الزام لگا رہے ہو کہ (معاذ اللہ) آنحضرت ﷺ جنون میں مبتلا ہیں۔ سنجیدگی سے سوچنے کا تقاضا یہ ہے کہ اول تو اس مسئلے کی اہمیت محسوس کرو، دوسرے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت سے سوچو، اور کبھی اکیلے سوچنے سے فائدہ ہوتا ہے، کبھی اجتماعی طور پر سوچنے سے، اس لیے دونوں صورتیں ذکر فرمائی گئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل انما اعظکم ۔۔۔۔۔ عذاب شدید (46) ” “۔ یعنی اللہ کے مقابلے میں غور رو ، اور یہ غور اپنی ذاتی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر دو ۔ اپنی مصلحتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے غور کرو۔ دنیا کے حالات اور میلانات سے ہٹ کر کرو ، اور ان وسوسوں اور خلجانات سے ہٹ کر گرجو دلوں میں پیدا ہوتے ہیں ، یہ سب چیزیں انسان کو اللہ سے دور کرتی ہیں ، غرض تمہاری سوسائٹی اور تمہارے معاشرے کے اندر راسخ تصورات سے ہٹ کر تم اللہ کے معاملے پر غور کرو۔ یعنی دعوت اسلامی کے مضمون کو سادہ انداز میں لو ، اپنے رائج تصورات کے حوالے سے نہ لو۔ نہ خالص منطقی اور فلسفیانہ انداز میں لو جس میں لفاظی تو بہت ہوتی ہے لیکن سیدھی سادہ حقیقت کو جاننے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی تعصب وعناد چھوڑ کر انصاف و اخلاص کے ساتھ اللہ کے نام پر اٹھ کھڑے ہو۔ اور کئی کئی مل کر بحث و مشورہ کرلو اور الگ الگ تنہائی میں غور کر کے سوچو کہ یہ تمہارا رفیق (محمد رسول اللہ ﷺ جو چالیس برس سے زیادہ تمہاری آنکھوں کے سامنے رہا جس کے بچپن سے لے کر کہولت تک کے ذرہ ذرہ حالات تم نے دیکھے جس کی امانت و دیانت، صدق و عفاف اور فہم و دانش کے تم برابر قائم رہے۔ کبھی کسی معاملہ میں نفسانیت یا غرض پرستی کا الزام تم نے اس پر نہیں رکھا۔ کیا تم واقعی گمان کرسکتے ہو کہ العیاذ باللہ اسے بیٹھے بٹھائے جنون ہوگیا ہے جو خواہ مخواہ اس نے ایک طرف سے سب کو دشمن بنا لیا۔ کیا کہیں دیوانے ایسی حکمت کی باتیں کیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 46 { قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں۔“ اس آیت کا تعلق آیت 8 سے ہے۔ مذکورہ آیت کے ضمن میں ذکر ہوچکا ہے کہ حضور ﷺ کے دعوائے نبوت کے بارے میں مختلف لوگ مختلف آراء رکھتے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ابھی شش و پنج میں تھے کہ یہ معاملہ آخر ہے کیا ؟ ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ ان کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ کچھ سمجھتے تھے کہ انہیں جنون کا عارضہ لاحق ہوگیا ہے ‘ جبکہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ آپ کسی منصوبہ بندی کے تحت جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں۔ العیاذ باللہ ! لیکن ایسے لوگوں کے ذہنوں میں ایک بہت بڑا سوال یہ بھی گردش کرتا رہتا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

70 یعنی میری صرف ایک بات مان لو۔ ضد اور تعصب کو چھوڑ کر پوری نیک نیتی سے یہ بات سوچو، اکیلے اکیلے بھی سوچو، دو دو اور اس سے زیادہ بھی مل بیٹھ کر اور سر جوڑ کر اس بات پر غور کرو کہ جو جو الزام تم مجھ پر لگا رہے ہو کیا وہ درت ہیں ؟ اور تم جو کچھ کہہ رہے ہو نیک نیتی سے کہہ رہے ہو ؟ میری بچپن سے لے کر آج تک کی زندگی سے تم خوب واقف ہو۔ میری صداقت اور میری دیانت کے تم آج تک قائل رہے ہو۔ کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ آج سے چند ہی برس پیشتر تعمیر کعبہ کے دوران جب تم میں حجر اسود کو رکھنے کے مسئلہ پر تم میں تنازعہ پیدا ہوگیا تھا تو تم نے کہا تھا کہ صبح جو شخص سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہوگا تم اسے حکم تسلیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

64۔ یعنی آؤ تمہیں اپنے دعوی رسالت کی جانچ کا ایک آسان طریقہ بتاؤں۔ تم اخلاص نیت کے ساتھ خدا کو حاضر وناظر جان کر، انفرادا بھی اور مجتمعا بھی سوچو، کہ میں جو تمہارے درمیان ہر وقت رہتا ہوں اور جس کی امانت کا دیانت کا، اصابت رائے کا تم خود اور براہ راست تجربہ رکھتے ہو، کیا مجھے جنون ہوگیا ہے، جو ایسے بڑے بڑے دعوے کرنے لگاہوں کہ دیوی دیوتاؤں کا وجود باطل ہے معبود صرف ایک ہے، یوم حشر کی آمد برحق ہے، یہ قرآن کلام الہی ہے وغیرہا۔ (آیت) ” ان تقوموا “۔ کھڑے ہوجاؤ، یعنی مستعد وآمادہ ہوجاؤ۔ یہ مراد نہیں کہ اپنے دونوں پیروں پر کھڑے ہو۔ ان تجدوا وتجتھدوا فی الامر (روح۔ عن ابن جریج) لا یراد بہ المثول علی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–54

آیت نمبر 46 تا 54 ترجمہ : آپ کہئے کہ میں تمہیں صرف ایک (مختصر سی) بات کی نصحیت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم خدا کے وسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو یا تنہا تنہا کھڑے (مستعد) ہوجاؤ، پھر سوچو تو تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے ساتھی محمد کو کوئی جنون نہیں وہ تو تم کو آخرت کے سخت عذاب سے اس کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے اگر تم اس کی بات نہ مانو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرنے اور تبلیغ پر تم سے جو معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو یعنی میں اس انذار و تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ طلب نہیں کرتا، میرا صلہ تو اللہ ہی کے ذمہ ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے میری صداقت سے واقف ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق بات اپنے نبیوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل انما اعظکم بواحدۃ ان تقوموا اللہ مثنی وفرادی ثم تتکفروا مابصاحبکم من جنۃ (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم کو صرف ایک بات سمجھاتا ہوں (وہ) یہ کہ تم محض اللہ کے واسطے دو دو اور ایک ایک (یعنی اجتماعی شکل میں یا الگ الگ تنہائی میں) کھڑے ہوجاؤ ‘ پھر سوچو کہ تمہارے اس ساتھی کو کس طرح کا جنون نہیں ہے۔ کھڑے ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ نہ بیٹھو نہ لیٹو ‘ کھڑے ہوجاؤ بلکہ مراد ہے تیار ہوجانا ‘ آمادہ ہوجانا۔ آیت اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتَامٰی بالْقِسْطِ میں بھی اسی معنی کیلئے لفظ اَنْ تَقُوْمُوْا استعمال یا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے تعصب ‘ ہٹ اور اسلاف کی تقلید کو چھوڑ کر محض اللہ کیلئے غور کرنے کیلئے تیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ میں تمہیں صرف ایک بات یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ سمجھاتا ہوں۔ یہ ایسا ہے جیسا کہ ایک شخص دوسرے سے کہے آؤ میں تم سے ایک بات کہتا ہوں پھر اس سے زیادہ بات نہ کرے۔ وہ یہ کہ تم لوگ اللہ کے واسطے دو دو اور ایک ایک ہو کر کھڑے ہوجاؤ پھر اچھی طرح غور کرو کہ محمد نعوذ باللہ ساحر یا کاہن یا کاذب یا مجنون تو نہیں ہیں تو اچھی طرح سن لو کہ تمہارے نبی میں کسی قسم کا جنون نہیں ہے۔ بلکہ اگر تم ایمان نہ لائے تو رسول اکرم تمہیں قیامت کے آنے سے پہلے اس کے عذاب سے ڈرانے والے پیغمبر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ۔۔ : ”جِنَّةٍ“ کا معنی جنون، دیوانگی اور پاگل پن ہے۔ مشرکین کے باطل اقوال کے رد کے بعد رسول اللہ ﷺ کو نہایت قوی دلائل، مؤثر اسالیب اور مختلف انداز سے حق بات سمجھانے کی تلقین فرمائی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو کذّاب اور ساحر کے علاوہ مجنون، یعنی دیوانہ بھی کہتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہو کہ میں تمہیں صرف ایک نصیحت کرتا ہوں کہ بڑی مجلسوں میں تو شوروغل، بھیڑ بھاڑ اور اجتماعی دباؤ کی وجہ سے آدمی صحیح طرح سوچ نہیں سکتا، تم ضد اور تعصّب کو نکال کر اکیلے اکیلے یا دو دو ہو کر سوچو کہ محمد ﷺ آخر تمہارا صاحب ہے، تمہارے ساتھ اس نے نبوت سے پہلے چالیس برس گزارے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : قل انما اعظکم بواحد مشرکوں پر حجت کو مکمل کردیا، یعنی اے محمد ﷺ انہیں فرما دیجئے : انما اعظکم تم جس پر ہو اس کے برے انجام سے تمہیں نصیحت کرنے اور ڈرانے والا ہوں۔ بواحد ۃ، واحدۃ کا مصوف کلمتہ محذوف ہے تقدیر کلام یہ ہے بکلمتہ واحدۃ میں تمہیں ایسی بات کی نصیحت کرنے والا ہوں جو تمام کلام کو جا مع ہے، جو شرک کی نفی اور معبود بر حق کو ثابت کرتی ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد لا الہ الا اللہ ہے (1) (تفسیر الماوردی، جلد 4، صفحہ 456 ) ۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کا قول ہے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے : اس سے مراد اللہ کی اطاعت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد قرآن ہے کیونکہ یہ تمام مواعظ کو جا مع ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل انما اعظکم بواحدۃ فرمادیجیے میں تم کو ایک بات سمجاھتا ہوں یعنی میں تم کو صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نصیحت کرتا ہوں آیت ان تقوموا للہ مثنی وفرادی یعنی تم اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک ہو کر کھڑے ہوجاؤ یعنی دو دو ایک ایک۔ 2۔ الفریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل انما اعظکم بواحدۃ فرما دیجیے میں تم کو ایک بات سمجھاتا ہوں یعنی لا الہ الا اللہ کی نصیحت کرتا ہوں۔ 3۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل انما اعظکم بواحدۃ یعنی میں لا الہ الا اللہ کی نصیحت کرتا ہوں آیت ان تقوموا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنَّمَآ [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَعِظُكُمْ [میں نصیحت کرتا ہوں تم لوگوں کو ] بِوَاحِدَةٍ ۚ [ایک (بات) کی ] اَنْ تَقُوْمُوْا [کہ تم لوگ کھڑے ہو ] لِلّٰهِ [اللہ کے واسطے ] مَثْنٰى [دو دو ] وَفُرَادٰى [اور ایک ایک ] ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا ۣ [پھر غور و فکر کرو ] مَا بِصَاحِبِكُمْ [کیا تمہارے ساتھی کو ] مِّنْ جِنَّةٍ ۭ [کسی بھی قسم کا کوئی جنون ہے ] اِنْ هُوَ [نہیں ہے وہ ] اِلَّا نَذِيْرٌ [مگر ایک خبردار کرنے والا ] لَّكُمْ [تم کو ] بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ [ایک سخت عذاب سے پہلے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 46 ۔ میں تحقیق حق کا ایک راستہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے لئے کھڑے ہوجاؤ دو ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–50

انفرادی اور اجتماعی طور پر غور و فکر کرنے کی دعوت رسول اللہ ﷺ کے اولین مخاطبین جو آپ کی تکذیب کرتے تھے وہ آپ کو دیوانگی کی طرف منسوب کرتے تھے، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں یہ نصیحت محض تمہاری ہمدردی کے لیے ہے، تم دو دو آدمی مل کر یا علیحدہ علیحدہ تنہائیوں میں سوچو اور غور و فکر کرو تمہارا یہ سوچنا صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، اس میں نفسانیت اور تعصب کا دخل نہ ہو، تم لوگ یہ سوچ لو کہ جو شخص یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میں نبی ہوں اور تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہے وہ دیوانہ نہیں ہے، اس کے احوال دیکھ لو، اس کی بات سن لو، وہ قرآن سناتا ہے اسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–54

خاتمہء سورت برکلمہء حکمت وموعظت قال اللہ تعالی۔ قل انما اعظکم بواحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ انہم کانوا فی شک مریب۔ (ربط) ابتدائے سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت اور قیامت تینوں مضمون بیان ہوئے اب سورت کو ایک نصیحت پر ختم فرماتے ہیں جس سے توحید اور رسالت اور قیامت یعنی دین کے اصول ثلاثہ کی حقانیت واضح ہوجائے۔ ان تقوموا للہ سے توحید کی طرف اشارہ ہے اور ما بصحبکم من جنۃ ان ھو الا نذیر لکم۔ سے رسالت کی طرف اشارہ ہے اور بین یدی عذاب شدید سے یوم آخرت کی طرف اشارہ ہے تفسیر کبیر ص 24 ج 7۔ اور قل ما سالتکم من اجر سے مشرکین کے اس شبہ کو قطع کرنا ہے کہ آپ ﷺ کا فرمانا کسی طمع اور غرض پر مبنی نہیں بلکہ فقط تمہاری…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

47:۔ قل انما الخ : یہ ترغیب فی التوحید اور چوتھا طریق تبلیغ ہے۔ مشرکین ازراہ عناد و تعنت حضرت پیغمبر خدا ﷺ پر جنون کی پھبتی کستے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ دیانت و امانت سے اس معاملہ کا فیصلہ کرنے کی مشرکین کو دعوت دیں اور اپنی سچائی جانچنے کا انہیں یہ طریقہ بتائیں۔ آؤ تم دیانت اور اخلاص نیت سے خدا کو حاضر و ناضر جان کر دو دو ہو کر یا تنہا تنہا ہو کر سوچو اور غور و فکر کرو کہ میں عرصہ دراز سے تم میں رہ رہا ہوں، میری امانت، راست گوئی۔ اصابت رائے اور میری فکری و ذہنی صلاحیتوں کا تم ذاتی تجربہ رکھتے ہو۔ کیا میرا دماغ چکرا گیا ہے اور مجھے جنون ہوگیا ہے کہ میں نے رسالت کا دعوی کردیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–54

ربط آیات گزشتہ آیات میں مشرکین کے باطل نظریات کا رد ہوا وہ بدبخت پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت و نبوت کا انکار کرتے تھے اور قرآن پاک کو کلام الٰہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، پھر جب قرآن کے اثر انداز ہونے کی بات ہوئی تو اسے جاننے سے تعبیر کرتے۔ اللہ نے مشرکین کو سخت تنبیہ کی اور اب آخر میں نصیحت کے پیرائے میں فرمایا کہ اگر مشرک لوگ ذرا بھی غور و فکر کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ حضور ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور ان کا لایا ہوا قرآن اللہ کی برحق کتاب ہے۔ قیامت یقینا آنے والی ہے اور سب کو محاسبے کے عمل سے گزرنا ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے سابقہ ادوار کے مشرکوں کا حال بھی بیان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَۃٍ۝ 0 ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلہِ مَثْنٰى وَفُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا۝ 0 ۣ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّۃٍ۝ 0 ۭ اِنْ ہُوَاِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ۝ 46 وعظ الوَعْظُ : زجر مقترن بتخویف . قال الخلیل . هو التّذكير بالخیر فيما يرقّ له القلب، والعِظَةُ والمَوْعِظَةُ : الاسم . قال تعالی: يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ النحل/ 90] ( و ع ظ ) الوعظ کے معنی ایسی زجر تو بیخ کے ہیں جس میں خوف کی آمیزش ہو خلیل نے اس کے معنی کئے ہیں خیر کا اس طرح تذکرہ کرنا جس سے دل میں رقت پیدا ہوا عظۃ وموعضۃ دونوں اسم ہیں قرآن میں ہے : ۔ يَعِظُكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–54

دلائل قائم کرکے ہٹ دھرم مخاطبوں کو اب ایک اور طریقہ سے ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ فقال قل انما اعظکم بواحدۃ کہ میں تم کو ایک ہی بات کہتا ہوں، نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر اس کے بھی معنی نہیں کہ آپ ان کو صرف ایک ہی حکم پر مامور کرتے تھے۔ توحید وغیرہ کہ پھر باقی شاخیں قرار دی جاویں، جیسا کہ تفسیر کبیر میں ہے بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے۔ جیسا کہ کہا کرتے ہیں۔ لو اب تم ایک کام کرو۔ ان تقوموا للّٰہ کہ ایک ایک تنہا ہو کر اور باہم مل کر خدا کے لیے یہ تو سوچو کہ تمہارے صاحب کو یعنی مجھے کچھ جنون تو نہیں ہے۔ یہ رسالت کے اثبات میں کلام ہے کہ خوب غور کرو کہ میں دیوانہ نہیں ہوں۔ جب دیوانہ نہیں تو کون عاقل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍ ج اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰہِ مَثْنٰی وَفُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْا قف مَابِصَاحِبِکُمْ مِّنْ جِنَّۃٍ ط اِنْ ھُوَا اِلاَّ نَذِیْرٌلَّـکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ ۔ (السباء : 46) (اے پیغمبر کہہ دیجیے میں تمہیں بس ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم اللہ کی خاطر دو دو اور ایک ایک کرکے اٹھو، پھر غور کرو، تمہارے صاحب کو کوئی جنون نہیں ہے وہ تو ایک شدید عذاب سے پہلے متنبہ کرنے والا ہے۔ ) ایک نصیحت بھی اور تنبیہ بھی اس کے بعد کی آیات خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں مخالفین کو نہایت دردمندی کے ساتھ نصیحت بھی کی گئی ہے اور تنبیہ بھی۔ مخالفین کے گزشتہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منکرین حق کو پے در پے پانچ استفسارات کرنے کے بعد سمجھایا گیا ہے کہ عذاب الٰہی سے بچنا چاہتے ہو تو اپنے قول و کردار پر غور کرو۔ قرآن مجید اپنی دعوت کو جبر سے منوانے کی بجائے لوگوں کو غورو فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں فرمائیں کہ اللہ کے لیے دو ، دو یا اکیلے اکیلے ہو کر سوچو کہ کیا مجھے جنون ہوگیا ہے ؟ میں تو تمہیں سخت عذاب سے متنبہ کررہا ہوں کہ اگر تم اسی روش پر چلتے رہے تو شدید عذاب میں مبتلا کیے جاؤ گے اور تمہیں کوئی بھی بچانے والا نہ ہوگا۔ نبی کریم ﷺ لوگوں کی اصلاح اور فلاح کے لیے رات دن ایک کیے ہوئے تھے۔ مگر اس کے باوجود لوگ بالخصوص…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قومی غیرت کو ایک طرف رکھ کر سوچو تو حق ضرور مل جائے گا : 46: قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍ (آپ کہہ دیجئے میں تمہیں صرف ایک بات سمجھاتا ہوں) ایک بات کی اور اس کی تفسیر اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰہِ سے کی۔ ( کہ تم اللہ تعالیٰ کیلئے کھڑے ہوجائو) ۔ : یہ اس کا عطف بیان ہے۔ یہ بدل ہے ان دونوں صورتوں میں یہ محل جر میں ہے۔ نمبر 2۔ یہ محل رفع میں ہے۔ اس کی تقدیر عبارت یہ ہوگیھی ان تقوموا۔ نمبر 3۔ اعنی کو مقدرمان کر نصب پڑھیں۔ نمبر 1۔ قیام سے مراد یہاں مجلس رسول ﷺ سے اٹھ جانا اور آپ کے پاس سے منتشر ہونا ہے۔ نمبر 2۔ قیام سے مراد اس کا قصد کرنا ہے اس سے ہٹ جانا اور اٹھ جانا مراد نہیں۔ اب مطلب یہ ہے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46، قل انما اعظکم بواحدۃ، کہ میں ایک بات سمجھا تاہوں ۔ پھر اس خصلت کو بیان کردیا اور فرمایا : ، ان تقوموا للہ، اللہ کے لیے، مثنی ، دو ، دوہوکر، وفرادی، اور ایک ایک ہوکر، ثم تتفکر وا، پھر تم سب مل کر غور و فکر کرو اور پھر حضرت محمد ﷺ کے احوال پر بھی غور و فکر کرو، پھر تم جان لوگے۔ ، مابصاحبکم من جنۃ، آپ کے ساتھی کو جنون لاحق نہیں بلکہ وہ حق بات کہہ رہا ہے ۔ کھڑے ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ نہ بیٹھونہ لیٹوکھڑے ہوجاؤ بلکہ اس سے مراد ہے تیارہوجاؤ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، وان تقومواللیتا می بالقسط، یہاں پر حقیقی کھڑا ہونا مراد نہیں بلکہ آمادہ ہونا ہے۔ ، ان ھو الا نذیر لکم بین یدی عذاب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

46۔ اوپر کی آیتوں میں یہ ذکر تھا کہ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر کبھی یہ کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ کلام اپنی طرف سے بنالیا ہے اللہ کا کلام یہ نہیں ہے اور یہ بھی کہتے کہ غرض ان کی اس کلام کے بنانے سے یہ ہے کہ ہمارے باپ دادا کے دین سے ہم کو روکنا چاہتے ہیں اور کبین یہ لوگ آنحضرت ﷺ کا معجزہ دیکھ کر جادو بتلاتے تھے اور کبھی حشر کی باتیں اور قیامت کی باتیں آپ سے سن کر آپ کو دیوانہ بتلاتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان سب بیہودہ باتوں کا دوسرح جواب دیا ایک تو یہ قیامت کی باتیں آپ سے سن کر آپ کو دیوانہ بتلاتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان سب بیہودہ باتوں کا دو طرح جواب دیا ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے بنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 43–49

آیت 43 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرما رہا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیشکئے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیا کرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

99 منکرین و معاندین کو دعوت غور وفکر : سو اس سے منکرین و معاندین کو ایک پرسوز انداز کی نصیحت اور دعوت غور و فکر دی گئی ہے کہ تم لوگ تعصب اور ہٹ دھرمی سے پاک وبالا تر ہو کر سوچو اور غور کرو تو تمہیں راہ حق و ہدایت نصیب ہوسکتی ہے۔ ورنہ محرومی ہی رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد ربانی میں منکرین و معاندین کو ایک نہایت پردرد اور دلدوز انداز میں دعوت غور و فکر دی گئی ہے کہ تم لوگ تعصب وعناد، ضد اور ہٹ دھرمی اور کبر و غرور کی آلائشوں سے پاک و صاف اور خالی الذہن ہو کردو دو اور ایک ایک کی صورت میں اٹھو اور معاملے پر سنجیدگی سے سوچو اور غور و فکر سے کام لو۔ اور نفس و شیطان کی تابعداری سے بچ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–50

کفار کو غور وفکر کی دعوت تشریح : ان آیات میں کفار مکہ کو دعوت ایمان دی گئی ہے مگر ہمیشہ کی طرح یہی اعتراضات کہ نبی جھوٹا ہے ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے مذہب سے ہٹانا چاہتا ہے۔ دوسرا بڑا اعتراض کہ یہ قرآن اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب نہیں بلکہ خود اپنے پاس سے ہی بنالی گئی ہے۔ تیسری بات یہ کہ سب کچھ جادو ہے۔ یہی سب باتیں ہر زمانے میں ہر پیغمبر کو سننی پڑی تھیں۔ لوگ اسی طرح پیغمبر کو جھٹلاتے جادوگر کہتے، مجنوں کہتے اور پھر خوب اذیتیں دیتے بلکہ بہت سے تو اپنے پیغمبروں کو قتل ہی کردیتے۔ یہی کچھ نبی ﷺ کے ساتھ ان کے ہم وطنوں نے کیا۔ مندرجہ بالا آیات میں انہی کے حالات، خیالات، اعتقادات اور اعمال کا ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–54

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 46 تا 54: اسرار و معارف : آپ ان کے اندیشوں کے جواب میں انہیں فرما دیجئے کہ ایک کام کرو محض جذباتی باتیں نہ کرو ذرا خلوص کے ساتھ جذبات سے الگ ہو کر محض اللہ کے لیے غور کرو اکیلے میں یا مل کر اور اچھی طرح سے فکر کرو کہ اللہ کا جو بندہ تم سے مخاطب ہے وہ کیسا ہے اتنا بڑا دعوی کرتا ہے اور پھر اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد یا لاؤ لشکر اور مال و دولت کے وہ بات کہہ رہا ہے جو نہ صرف اہل مکہ بلکہ دنیا بھر کے کفار کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ان کے صدیوں کے مذاہب کو باطل قرار دے رہا ہے اہل عرب کے سامنے صرف یہ ایک دعوی کہ جو کتاب میں پیش کر رہا ہوں دنیا کے سب اہل علم مل کر بھی اس جیسا ایک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 کفار آنحضرت ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لئے آپ ﷺ پر مجنوں ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ تم لوگ آپس میں سر جوڑ کر یا پھر تنہائی میں بیٹھ کر ہر شخص آنحضرت ﷺ کے معاملہ میں غور کرے کہ وہ شخص جس کی راست بازی مشہور تھی اور تم میں سے ہر شخص اسے ” امین “ کہہ کر پکارتا تھا کیونکر ممکن ہے کہ یکایک بائولا ہوجائے اور خدا تک پر بہتان باندھنے لگے ؟۔6 تاکہ ایسا نہ ہو کہ تم اسی شرک اور کفر کی حالت میں مر جائو اور خدا کے ہاں عذاب کے مستحق قرار پائو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر ” یا صباحاہ “ کہہ کر آواز دی۔ جب قریش آپ ﷺ کے گرد جمع ہوگئے تو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:46) اعظکم۔ مضارع واحد متکلم وعظ (باب ضرب) مصدر سے بمعنی نصیحت کرنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر میں تم کو نصیحت کرتا ہوں۔ بواحدۃ۔ واحدۃ اسم فاعل ۔ واحد مؤنث ای خصلۃ واحدۃ۔ ایک بات ایک عادت، ان تقوموا للہ اس خصلت واحدہ کا عطف بیان ہے اور اس کی وضاحت کرتا ہے۔ ان تقوموا۔ میں ان مصدریہ ہے تقوموا اصل تقومون تھا ان کے آنے سے نون اعرابی گرگیا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ قیام (باب نصر) مصدر سے کہ تم کھڑے ہو۔ قیام کرو۔ یا قائم رہو۔ یہاں کھڑا ہونے سے مراد پائوں پر کھڑا ہونا نہیں ہے بلکہ کسی کام میں اخلاص اور توجہ سے پوری کوشش کرنا مراد ہے۔ للہ۔ خالصا لوجہ اللہ۔ خالصۃ اللہ کے لئے۔ مثنی۔ مثانی۔ کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–54

لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 54 اعظ : میں نصیحت کرتا ہوں مثنی : دو دو فرادی : ایک ایک صاحب : ساتھی یقذف : وہ پھینکتا ہے ما یبدی : وہ ابتدا نہیں کرتا فزعوا : وہ گھبرا گئے التناوش : جھپٹ کر پکڑ لینا یشتھون : وہ خواہش رکھتے ہیں تشریح ـ : آیات نمبر 46 تا 54 اعلان نبوت سے پہلے بھی عرب کا بچہ بچہ بنی کریم حضرت محمد رسول ﷺ کی متا نت و سنجیدگی ، عقل و دانش ، دیانت و امانت ، حسن عمل اور خاندانی شرافت سے نہ صرف اچھی طرح واقف تھا بلکہ ہر شخص آپ سے ملنے کے بعد صرف آپ ہی کی تعریف کرتا نظرآتا تھا لیکن جیسے ہی آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا اور ان کی رسموں اور طریقوں کو غلط بتایا بت پرستی ، جہالت اور بہت سی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ تم کو صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لیے اور اس کے راستے کی تلاش میں کھڑے ہوتودودو ایک ایک پھر سوچو کہ یہ سچ کہتے ہیں کہ یاجھوٹ، اور پہلے یہ کیسے تھے اور سابق میں ان کی کیا عادات تھیں ان میں جھوٹ بولنے کا، اور خاص کر خدا پر افترا کرنے کا مادہ ہے یا نہیں، کہیں کسی سے انہوں نے تعلیم پائی جو یہ ایسے ایسے کلام بیان کرتے ہیں جس پر کوئی قادر نہیں کچھ یہ عقل مندی کی باتیں کرتے ہیں یا دیوانوں یا مجنونوں کی سی باتیں کرتے ہیں اگر تم تنہا یا دو دو آدمی باہم مل کر فکر کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا صاحب یعنی محمد مجنون آدمی نہیں ہے، اور یہ جو تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 46–51

[32] یعنی تعصب وعناد کو چھوڑ کر انصاف و اخلاص کے ساتھ اللہ کے نام پر اٹھ کھڑے ہو اور سب مل کر مشورہ کرلو اور الگ الگ تنہائی میں غور کر کے سوچو کہ یہ تمہارا رفیق یعنی محمد ﷺ جو چالیس برس سے زیادہ تمہاری آنکھوں کے سامنے رہا اور جس کی امانت و دیانت اور فہم و دانش کے تم برابر قائل رہے اور کبھی نفسانیت پرستی یا خود غرضی کا الزام تم نے اس پر نہیں رکھا، کیا واقعی تم گمان کرسکتے ہو کہ اسے بیٹھے بٹھائے جنون ہوگیا ہے۔ کیا کہیں دیوانے ایسی حکمت کی باتیں کیا کرتے ہیں ؟ کیا کوئی مجنون اپنی قوم کی خیرخواہی اور اس کی اخروی فلاح اور دنیوی ترقی کا اتنا زبردست لائحہ عمل پیش کرسکتا ہے ؟ وہ تو تم کو مستقبل کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–49

حضور ﷺ کی صداقت پر سب سے بڑی دلیل 1: حضور ﷺ کی صادقت پر سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ آپ محض حسیتہ اللہ لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیتے تھے ۔ اس میں آپ کی کوئی ذاتی منفعت ہرگز پہناں نہ تھی ۔ بلکہ جب آپ سے کہا گیا ۔ کہ اگر آپ نبوت کے ڈھونگ سے (معاذ اللہ) باز آجائیں ۔ تو ہم بہترین معاوضہ دینے کے لئے تیار ہیں ۔ ہم آپ کے قدموں میں سونے اور چاندی کے ڈھیر لگا سکتے ہیں ۔ ہم عرت کی جمیل ترین اور شریف ترین خاتوں کو آپ کے قصد میں دے سکتے ہیں ۔ اور ہم یہ بھی کرسکتے ہیں کہ آپ کو قیادت مطلقہ کے منصب پر سرفراز کردیں ۔ تو آپ نے پورے جوش کے ساتھ فرمایا ۔ کہ تم لوگوں نے مجھے بالکل سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ اگر تم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(46) اے پیغمبر آپ ان سے فرمایئے میں تو تم کو صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں اور تم کو ایک ہی بات سمجھتا ہوں وہ بات یہ کہ تم محض اللہ تعالیٰ کے واسطے دو دو مل کر اور تنہا تنہا کھڑے ہو جائو پھر غور کرو کہ تمہارے اس رفیق یعنی رسول اللہ ﷺ کو کچھ جنون نہیں ہے وہ تو تم کو صرف ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے۔ یعنی غور و فکر کا ایک طریقہ تعلیم فرمایا کہ کسی بڑے اجتماع میں صحیح غور و فکر کا موقع میسر نہیں آتا تم نیک نیتی کے ساتھ تعصب اور ہٹ دھرمی سے بلند ہو کر سوچو اور سمجھو دو دو آدمی مل کر اس پر آمادہ ہو جائو اور ایک ایک بھی غور کرو یعنی تنہا تنہا بیٹھ کر سوچو۔ ان تقوموا کا یہ مطلب نہیں کہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان کو دعوت دیں کہ دو دو اور ایک ایک ہوکرغور وفکر کرو 46 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ پر مکہ والوں نے مختلف طرح کے الزام لگائے مثلاً کہ قرآن کریم اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوتا بلکہ یہ خود اس کو گھڑ لیتا ہے۔ کچھ لوگ اس کے پاس آتے ہیں اور وہ اس طرح کی باتیں اس کو سکھاتے ہیں۔ اس کو معبودوں میں سے کسی کی مار لگ گئی ہے کیونکہ اس نے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیا ہے کہ کسی ایک کو بھی اپنا حاجت روا اور مشکل کشا نہیں سمجھتا۔ اس کے ذہن میں کوئی فتور آگیا ہے اور اس کا جنوں کا سایہ ہوچکا ہے۔ دراصل یہ سحر زدہ ہے۔ نہیں ! یہ تو خود جادوگر ہے اور اس جادو ہی کے ذریعہ سے اس کا سارا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Call to the disbelievers of Makkah In verse 46: إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ (I advise you for one thing only), in order to negate any excuse for the people of Makkah, they have been shown a shortcut to ascertain truth. For this, they had to do just one thing: Stand for Allah, in pairs and singles. 'Standing for Allah' does not mean standing in the physical sense, something like standing up from the posture of sitting or lying. Instead of that, it means having the resolve to show full care and concern for the assignment in sight. Then, by adding: لِلہ (lil-lah: For Allah) with the word:…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

66 That is, "Free yourselves of selfish interests and whims and prejudices and consider this sincerely for the sake of Allah: consider this singly as well as jointly in two's and three's and four's in an objective manner and consider it well and deeply: What after all can be the reason that the person whom you call a madman today was, until yesterday, being looked upon as a very wise man among you ? The incident that happened a little before his appointment to Prophethood is well known among you. When after the re-construction of the Ka'bah the different clans of the Quraish were going to…

Read the full tafseer →