Saba 34:45

Saba · from ayah 45

34:45

وَكَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۙ— وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ ۫— فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ ۟۠وَكَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡۙ وَمَا بَلَـغُوۡا مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ فَكَذَّبُوۡا رُسُلِىۡ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيۡرِ

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میرا عذاب کیسا ہوا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those before them denied, and the people of Makkah have not attained a tenth of what We had given them. But the former peoples denied My messengers, so how [terrible] was My reproach.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juzع

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:45

اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں جو کچھ ہم نے اُنہیں دیا تھا اُس کے عشر عشیر کو بھی یہ نہیں پہنچے ہیں مگر جب انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میرا عذاب کیسا ہوا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی ہماری باتوں کو جھٹلایا تھا اور انہیں ہم نے جو دے رکھا تھا یہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے، پس انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، (پھر دیکھ کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان سے پہلے لوگوں نے بھی (پیغمبروں) کو جھٹلایا تھا، اور یہ (عرب کے مشرکین) تو اس سازوسامان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے ہیں جو ہم نے ان (پہلے لوگوں) کو دے رکھا تھا، پھر بھی انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا، تو (دیکھ لو کہ) میری دی ہوئی سزا کیسی (سخت) تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان سے اگلوں نے جھٹلایا اور یہ اس کے دسویں کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے انہیں دیا تھا پھر انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکا کرنا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اِن سے پہلے لوگوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ اس کے دسویں حصّے کو بھی نہیں پہنچے جو کچھ ہم نے اُن (پہلے گزرے ہوؤں) کو دیا تھا پھر انہوں نے (بھی) میرے رسولوں کو جھٹلایا، سو میرا انکار کیسا (عبرت ناک ثابت) ہوا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان لوگوں نے (بھی) جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے اور یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے انھیں دیا تھا، پس انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب کیسا تھا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں انہوں نے (بھی حق کو) جھٹلایا تھا اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا تھا یہ لوگ تو اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچے۔ انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو میری سزا کیسی (سخت) تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا۔ اور یہ تو اس کے عشر عشیر کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے ان کو دیا۔ تو انہوں نے میرے رسولوں کی تکذیب کی تو دیکھو، کیس ہوئی ان پر میری پھٹکار !۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا (حق و صداقت کو) جو کہ گزر چکے ہیں ان سے پہلے حالانکہ ان لوگوں کو جو کچھ ہم نے دیا تھا یہ اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچتے مگر انہوں نے جھٹلایا میرے رسولوں کو پھر (دیکھو !) کیسا ہوا میرا عذاب ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان سے پہلے جو لوگ ہوئے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی اور یہ (کافر) تو اس (سامان) کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے انہیں دے رکھا تھا غرض انہوں نے میرے پیغمبروں کی تکذیب کی سو میرا کیسا عذاب ہوا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا تھا } تو انہوں نے میرے رسولوں ؑ کو جھٹلایا پس کیسی رہی (ان کے لیے) میری پکڑ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے جھٹلایا تھا اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا سو میرا عذاب کیسا ہوا ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who went before them also denounced (Allah's Messengers) as liars. They have not attained even a tenth of what We had given them. But when they rejected My Messengers, calling them liars, how terrible was My chastisement!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And those before them had rejected (the prophets), while these (infidels of Makkah) have not reached even one tenth of what We gave to those (before them). So, they rejected my Messengers. Then (imagine) how was My censure!

— Muhammad Taqi Usmani

And those before them had rejected (the prophets), while these (infidels of Makkah) have not reached even one tenth of what We gave to those (before them). So, they rejected my Messengers. Then (imagine) how was My censure!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those before them denied; these have not received even a tenth of what We had granted to those (of old); yet they denied My Messengers. Then how (terrible) was My denial!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those before them denied, and these have not attained a tithe of that which We bestowed on them (of old); yet they denied My messengers. How intense then was My abhorrence (of them)!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those before them denied, and the people of Makkah have not attained a tenth of what We had given them. But the former peoples denied My messengers, so how [terrible] was My reproach.

— Saheeh International

These people have not one tenth of power or wealth that we had given to those who lived before them. They called Our Messengers liars. Thus, how terrible was My vengeance.

— Muhammad Sarwar

And those before them rejected (the truth), and these have not yet attained a tenth of what We gave them, but they gave the lie to My apostles, then how was the manifestation of My disapproval?

— Muhammad Habib Shakir

And those before them belied; and these have not arrived Unto a tithe of that which We vouchsafed Unto them. But they belied My apostles. So how terrible was My disapproval

— Abdul Majid Daryabadi

And their predecessors rejected (the Truth); these have not received a tenth of what We had granted to those: yet when they rejected My messengers, how (terrible) was My rejection (of them)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 43–45

کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے ؟ کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول ﷺ کی زبان سے سنتے ہیں، قبول کرنا، ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف، کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں، بالکل ظاہر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں کوئی رسول آیا ہے۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 65 یعنی مکہ کے لوگ تو اس قوت و شوکت اور اس خوشحالی کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچے ہیں جو ان قوموں کو حاصل تھی۔ مگر دیکھ لو کہ جب انہوں نے ان حقائق کو ماننے سے انکار کیا جو انبیاء (علیہم السلام) نے ان کے سامنے پیش کیے تھے، اور باطل پر اپنے نظام زندگی کی بنیاد رکھی تو آخر کار وہ کس طرح تباہ ہوئیں اور ان کی قوت و دولت ان کے کسی کام نہ آسکی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل (آیت) ومابلغوا معشار ما اتینہم، لفظ معشار بعض نے بمعنی عشر کہا ہے۔ یعنی دسواں حصہ اور بعض علماء نے عشرالعشر یعنی سوواں حصہ اور بعض نے عشرالعشیر یعنی ہزارویں حصہ کو معشار کہا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اس لفظ میں بہ نسبت عشر کے مبالغہ ہے، معنی آیت کے یہ ہیں کہ دنیا کی ثروت و دولت و حکومت اور عمر طویل اور صحت قوت وغیرہ، جو پچھلی امتوں کو دی گئی تھی اہل مکہ کو اس کا دسواں بلکہ ہزارواں حصہ بھی حاصل نہیں، اسی لئے ان کو چاہئے کہ ان پچھلی اقوام کے حالات اور انجام بد سے عبرت حاصل کریں کہ وہ لوگ رسولوں کی تکذیب کر کے خدا تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئے اور وہ عذاب آ گیا تو ان کی قوت و شجاعت اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 45 یہ ان لوگوں کو تنبیہ ہے کہ خدا کے رسول اور اس کے نذیر کی تکذیب کا لازمی نتیجہ اس قوم کی تباہی ہے اور پوری تاریخ انسانی اس سنت الٰہی کی شاہد ہے۔ ’ وما بلغوا معشارما اتینھم ‘ کلام کے بیچ میں ایک برحل تنبیہ ہے کہ یہ ان قوموں کا حوالہ دیا جا رہا ہے جو کروفر، شان و شوکت اور اسباب و وسائل کی فراوانی کے اعتبار سے اس مقام پر پہنچ چکی تھیں کہ قریش کے یہ متمروین ان کی گرد پا کر بھی نہیں پہنچے۔ لیکن جب انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی تو ان پر خدا کی پھٹکا جس طرح ہوئی اس کی تفصیلات قرآن میں بیان ہوچکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو اپنے اسباب و وسائل کا غرہ ہے تو یہ غرہ بالکل بےبنیا دہ۔ بڑی صولت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45۔ 1 یہ کفار مکہ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم نے جھٹلایا اور انکار کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ نہایت خطرناک ہے تم سے پچھلی امتیں بھی اسی راستے پر چل کر تباہ ہوچکی ہیں۔ یہ امتیں مال ودولت، قوت وطاقت اور عمروں کے لحاظ سے تم سے بڑھ کر تھیں، تم ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچتے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں، اسی مضمون کو سورة احقاف کی (وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً ڮ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ اِذْ كَانُوْا يَجْـحَدُوْنَ ۙبِاٰيٰتِ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–45

20: یعنی یہ لوگ اس قرآن کو (معاذ اللہ) من گھڑت کہہ رہے ہیں، حالانکہ من گھڑت تو خود ان کا مذہب ہے، کیونکہ ان کے پاس اس سے پہلے نہ کوئی آسمان کتاب آئی ہے، نہ کوئی پیغمبر، لہذا انہوں نے جو کوئی مذہب بنایا ہے، وہ اپنے دل سے گھڑ کر بنایا ہے۔ نیز ان کو پہلی مرتبہ کتاب اور پیغمبر سے نوازا گیا ہے تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اس نعمت کی قدر کرتے، لیکن یہ الٹے اس کے مخالف بن گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 44–45

واذا تتلی علیھم ایتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فکیف کان نکیر (43 – 45) ان لوگوں کے سامنے رسول اللہ ﷺ نہایت واضح سچائی پیش فرماتے تھے لیکن وہ اس کا مقابلہ ماضی کے افسانوں سے کرتے تھے۔ یہ چند پارینہ رسم رواج تھے اور اوہام و خرافات تھے جو انہوں نے سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ ان کے اندر کوئی جامعیت اور ربط بھی نہ تھا۔ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ قرآن مجیس سیدھی سادی سچائی پیش کر رہا ہے اور قرآن کی تعلیمات ایک مکمل اور مربوط نظام زندگی ہیں اور معقول اور دل کو لگتی ہیں تو انہوں نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ ان کے آباؤ اجداد سے منقول خرافات ، غیر معقول ، رسم و رواج اس معقول نظام زندگی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس لیے انہوں نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جیسی لمبی عمریں، جسمانی قوتیں، مال و دولت اور عیش و ترفہ ان کو دیا گیا تمہیں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ملا۔ جب انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب و مخالفت کی، دیکھ لو ! کیا انجام ہوا، سب سازو سامان دھرا رہ گیا۔ ایک منٹ بھی عذاب الٰہی کو روک نہ سکے۔ پھر تم اتنا کا ہے پر اتراتے ہو ؟ " اس برتے پر یہ تتا پانی "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 45 { وَکَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے“ { وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَـآ اٰتَـیْنٰہُمْ } ”اور یہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا تھا“ مثلاً قوم عاد کو جو شان و شوکت عطا ہوئی تھی اور اپنے علاقے میں جیسا ان کا رعب ودبدبہ تھا قریش مکہ کو تو اس کا ُ عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہے۔ { فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْقف فَکَیْفَ کَانَ نَـکِیْرِ } ”تو انہوں نے میرے رسولوں علیہ السلام کو جھٹلایا ‘ پس کیسی رہی ان کے لیے میری پکڑ !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

69 یعنی اقوام سابقہ جو تباہ کی جاچکیں وہ ان قریش مکہ سے قدو قامت، ڈیل ڈول، قوت، مال و دولت اور عیش و فراوانی غرض ہر لحاظ سے بہت زیادہ تھیں۔ یہ قریش مکہ تو ان کے مقابلہ میں دسواں حصہ بھی نہیں۔ پھر جب ان اقوام نے ہمارے رسولوں کی تکذیب کی تو انہیں اس قوت اور سطوت کے باوجود تباہ و برباد کرکے رکھ دیا گیا۔ تو آخر یہ لوگ کس کھیت کی مولی ہیں جو ہماری گرفت سے بچ سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

63۔ (اور وہ کیسے تباہ وبرباد ہو کر رہے) تو یہ موجودہ منکرین جو سامان مقاومت میں ان سے ہر طرح کمتر ہیں، یہ بیچارے کس شمار وقطار میں ہیں۔ قدیم منکرین ومکذبین اور ان کے انجام کا ذکر قرآن جو اپنے معاصرین کے سامنے کرتا رہتا ہے اس سے مقصود یہی رہتا ہے کہ یہ لوگ اپنے انجام کی طرف سے غافل نہ رہنے پائیں۔ (آیت) ” مابلغوا معشارما اتینھم “۔ یعنی سامان غفلت جو پچھلی، متمدن اوراقبال مند قوموں کو مل چکے ہیں (ان کی دولت و ثروت، ان کی جسمانی قوت و توانائی، ان کی دراز عمری وغیرہ) ان کا دسواں حصہ بھی قرآن کے مخاطب اول منکرین کو نہیں ملا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–45

آیت نمبر 37 تا 45 ترجمہ : اور تمہارے مال و اولاد ایسی چیز نہیں جو تم کو ہمارا مقرب بنادیں، ہاں ! جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے مثلاً نیک اعمال کی جزاء دس گنا یا اس سے بھی زیادہ اور وہ جنت کے بالا خانوں میں موت وغیرہ سے بےخوف ہوں گے اور ایک قراءت میں اَلغُرْفَۃُ ہے اور یہ معنی میں جمع کے ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں قرآن کے باطل کرنے کی تگ ودو میں ہم کو عاجز سمجھ کر لگے رہتے ہیں، یہ سمجھ کر ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، یہی ہیں وہ جو عذاب میں پکڑ کر حاضر کئے جائیں گے، آپ کہہ دیجئے میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے روزی امتحاناً کشادہ کردیتا ہے اور اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکذب الذین من قبلھم اور ان سے پہلے والوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی تھی۔ یعنی عاد ‘ ثمود ‘ قوم ابراہیم ‘ قوم لوط ‘ اہل مدین اور ایکہ والوں نے اپنے اپنے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا تھا۔ وما بلغوا معشارما اتینھم . اور جو کچھ (سروسامان ‘ طول عمر اور دولت و مال) ہم نے ان کو (گذشتہ امتوں) کو دیا تھا اس کے دسویں حصہ کو بھی یہ (کفار مکہ) نہیں پہنچے۔ فکذبوا رسلی . پھر انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا۔ یعنی انہوں نے میرے پیغمبروں کی تکذیب کی تو میرا عذاب ان پر آ پہنچ اور ان کو تباہ کردیا۔ فکیف کان نکیر . سو (دیکھ لو) میرا عذاب ان پر کیسا آیا۔ نَکِیْرِ یعنی عذاب اور تباہی کی شکل میں میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور آپ کی قوم سے پہلے کافروں نے انبیاء کرام کی تکذیب کی تھی تو یہ قریش اس سامان کے جو کہ ہم نے ان سے پہلے کافروں کو دے رکھا تھا دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے یا یہ کہ ان کے اموال و اولاد اور ان کی عمارتیں اور طاقتیں ان کافروں کے جو کہ ان سے پہلے گزرے ہیں دسویں حصہ کے برابر بھی نہیں۔ غرض کہ جب وہ ایمان نہیں لائے تو میں نے عذاب کے ذریعے کیسا ان کا خاتمہ کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔۔ : ”مِعْشَارَ“ اور ”عُشْرٌ“ دونوں کا معنی دسواں حصہ ہے۔ یعنی پہلی اقوام جو تباہ کی گئیں، انھیں جو قد و قامت، قوت و دولت اور شان و شوکت عطا کی گئی تھی، ان عرب کے کافروں کے پاس تو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں۔ دیکھیے سورة روم (9) ، مومن (21) اور سورة احقاف (26)۔ فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ :”نَكِيْرِ“ اصل میں ”نَکِیْرِيْ“ ہے، آیات کے فواصل (آخری حروف) کی موافقت کے لیے یاء حذف کردی اور کسرہ یہ بتانے کے لیے باقی رکھا کہ یہاں یاء محذوف ہے، یعنی میرا انکار، میرا عذاب۔ انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو اس پر میں نے انھیں کیسی سخت سزا دی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : و ما بلغوا معشار ما اتینھم اہل مکہ ان امتوں کے دسویں حصہ تک بھی نہیں پہنچے۔ معشارا اور عشر برابر ہیں۔ دونوں لغتیں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : معشار دسویں کا دسواں حصہ ہے۔ جو ہری نے کہا : معشار الشی سے مراد اس شئے کا دسواں حصہ ہے، وہ یہ نہیں کہتے کہ معشار، عشر کے علاوہ کوئی چیز ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : جو ان سے پہلے تھے شکر میں اس کے دسویں حصے تک بھی نہ پہنچے جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا، نقاش نے یہ حکایت بیان کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے ان سے قبل لوگوں کو اس کا دسواں حصہ عطا کیا جو انہیں علم، بیان، حجت اور برہان عطا کی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کوئی امت حضور ﷺ کی امت سے بڑھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–45

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم یقول للمئکۃ اھء لاء ایاکم کانوا یعبدون پھر ہم فرشتوں سے کہیں گے کیا یہ لوگ خاص کر تمہاری عبادت کرتے تھے یعنی یہ بطور استفہام کے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ءانت قلت للناس (المائدہ آیت 116) کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو) 2۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل کانوا یعبدون الجن (بلکہ یہ جنات کی عبادت کرتے تھے) یعنی شیاطین کی۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کی۔ آیت وما اتینہم من کتب یدرسونہا اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں کہ ان کو پڑھنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَكَذَّبَ الَّذِيْنَ [اور جھٹلایا انھوں نے جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۙ [ان سے پہلے تھے ] وَمَا بَلَغُوْا [اور یہ لوگ نہیں پہنچے ] مِعْشَارَ مَآ [اس (مال و دولت) کے دسویں حصے کو جو ] اٰتَيْنٰهُمْ [ہم نے دیا ان (پہلوں) کو ] فَكَذَّبُوْا [تو انھوں نے جھٹلایا ] رُسُلِيْ ۣ [میرے رسولوں کو ] فَكَيْفَ كَانَ [تو کیسی تھی ] نَكِيْرِ [میری ناواقفیت ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد مشرکین مکہ کے لیے وعید ذکر فرمائی : (وَکَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَآ اٰتَیْنٰھُمْ ) (اور ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے اور حال یہ ہے کہ ان لوگوں کو جو کچھ ہم نے دیا تھا یہ لوگ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے) (فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ ) (سو ان لوگوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا سو کیسا تھا میرا عذاب) مطلب یہ ہے کہ سابقہ امتیں تکذیب کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہیں ان کے پاس تو حکومتیں بھی تھیں، اموال بھی تھے، طرح طرح کے سامان بھی ان کے پاس تھے، قلعے تھے، بڑے بڑے مکانات تھے اور ان کی عمریں بھی بڑی تھیں انہیں ان پر گھمنڈ بھی تھا یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–45

عیش پرستوں کے ایک شبہ کا جواب قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں ان عیش پرستوں کے وبال اور نکال کا ذکر تھا کہ جو نبوت کے منکر تھے اب ان آیات میں ان عیش پرستوں کا ایک شبہ ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ متکبرین کی اس قسم کی باتوں سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں۔ مشرکین اور کفار اپنے مال و دولت کی کثرت پر فخر کرتے تھے اور اس کو اپنی مقبولیت کی دلیل قرار دیتے تھے ان آیات میں ان کے اس شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا کہ مال و دولت اور جاہ و حشمت اور کثرت اولاد کو اپنی مقبولیت اور افضلیت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

46:۔ و کذب الخ : یہ تخویف دنیوی ہے بلغوا کی ضمیر فاعل سے مشرکین عرب مراد ہیں اور اتینہم کی ضمیر مفعول الذین من قبلہم سے کنایہ ہے۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔ یعنی مشرکین مکہ سے پہلے جو قومیں گذر چکی ہیں انہیں ہم نے اس قدر دولت، قوت، شان و شوکت اور دنیوی ساز و سامان کی فراوانی عطا فرمائی تھی کہ مشرکین مکہ کے تمام وسائل و اسباب ان کے وسائل کا عشر عشیر بھی نہیں۔ جب ان قوموں نے ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو بری طرح پکڑا اور ذلیل و رسوا کر کے انہیں تہس نہس کردیا اور ان کی ساری دولت و شوکت اور شیخی دھری کی دھری رہ گئی۔ یہ مشرکین مکہ تو ان کے مقابلے میں کسی شمار میں بھی نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 40–45

ربط آیات گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ رسالت کا انکار عام طور پر آسودہ حال لوگ ہی کرتے تھے کیونکہ نبی کی سیادت کو تسلیم کرنے سے ان کی اپنی سرداری اور چودھراہٹ متاثر ہوتی تھی۔ اللہ نے خوشحالی کو اسباب گمراہی میں شمار کیا ہے۔ اللہ کے ہاں مقبولیت کا تعلق مال و دولت یا جہ و حشمت سے نہیں بلکہ ایمان اور اعمال صالحہ سے ہے۔ اللہ نے رزق کا قانون بھی بیان فرمایا کہ یہ تقسیم اس کے اپنے قبضہ قدرت میں ہے ، جس کا چاہے رزق وسیع کردے اور جس کا چاہے تنگ کردے۔ یہ تقسیم اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوتی ہے جسے مخلوق نہیں جان سکتی۔ مخلوق کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو زندگی کا لائحہ عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝ 0 ۙ وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَآ اٰتَيْنٰہُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ ۝ 0 ۣ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ۝ 45ۧ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے بلغ البُلُوغ والبَلَاغ : الانتهاء إلى أقصی المقصد والمنتهى، مکانا کان أو زمانا، أو أمرا من الأمور المقدّرة، وربما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 37–45

اور مال و اولاد کہ جس پر تم کو تفاخر ہے، اللہ کے نزدیک اس سے تمہارا کوئی مرتبہ بلند نہیں ہوجاتا ہے۔ ایماندار اس دنیا میں مسافر ہے، اس کا گھر اوپر ہے، اس کا عیش و آرام اور اس کی زینت و تجمل کی ہمیشہ رہنے والی چیزیں وہیں ہیں، اس کی طرف اس جملہ میں اشارہ فرماتا ہے۔ الامن آمن وعمل صالحا الخ اور وہ اس غرور میں آکر یسعون فی آیتنا معاجزین ہماری آیات کے ابطال میں کوشش کرتے ہیں، وہ وہاں عذاب دائمی میں گرفتار رہیں گے۔ یہ مال و اولاد کچھ کام نہ آوے گا اور یہ بھی خیال نہ کرو کہ کفر کرنے سے دنیا ملتی ہے اور نیکوں کو یہاں کچھ ملتا ہی نہیں بلکہ کہہ دیجئے ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء الخ میرا رب جس کو چاہتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَکَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ لا وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَا رَمَآ اٰتَیْنٰـھُمْ فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْ قف فَـکَیْفَ کَانَ نَـکِیْرِ ۔ (السباء : 45) (اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے اور یہ تو اس کے عشرعشیر کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے ان کو دیا تھا، تو انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار۔ ) امیوں کی ناشکری اور اللہ تعالیٰ کا احسان قریش اور دیگر اہل مکہ چونکہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے اولین مخاطب تھے اس لیے بار بار خطاب ان سے فرمایا جارہا ہے یا ان کے حوالے سے باتیں کہی جارہی ہیں۔ لیکن مقصود پوری نوع انسانی کو سمجھانا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ قریش کی طرف سے اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 43–45

فہم القرآن ربط کلام : توحید کی دعوت کے مقابلے میں مشرکین کا ردّ عمل۔ مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی آیات پڑھ کر سنائی جاتیں تو ان کے کئی قسم کے ردّعمل ہوا کرتے تھے۔ کبھی آپ ﷺ کو مجنون اور جادو گر قرار دیتے اور کبھی جادو زدہ کہتے تھے۔ کبھی جھوٹا ہونے کا الزام لگایا کرتے اور لوگوں کو باور کرانے کی کوشش کرتے کہ یہ آدمی اپنی طرف سے آیات بنا بنا کر ہمیں اپنے آباء و اجداد کے طریقۂ عبادت سے ہٹانا چاہتا ہے۔ جب دیکھتے کہ ہمارے تمام الزامات اور ہتھکنڈوں کے باوجود لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہوتے جارہیں ہیں تو یہ لوگ قرآن مجید کو کھلا جادو قرار دے دیتے۔ ان کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اس سے پہلے ان کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

45: پھر ان کی تکذیب پر ان کو ڈرایا فرمایا : وَکَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (اور ان سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے تکذیب کی تھی) یعنی ان سے پہلی جو امتیں اور زمانے گزرے انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی جیسا انہوں نے کی ہے۔ وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَآ ٰاتَیْنٰھُمْ ( اور وہ تو اس سامان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے ان کو دے رکھا تھا) یعنی اہل مکہ تو عمروں کی طوالت، قوت اجسام اور کثرت اموال میں گزشتہ امتوں کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے۔ فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ (پس انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا پس کیسا ہوا میرا عذاب۔ ) ان سے پہلے تکذیب کرنے والوں کو پھر ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

45، وکذب الذین من قبلھم، اس سے پہلی امتیں عاد، ثمود ، قوم ابراہیم قوم لوط وغیرہ ہیں۔ ، وما بلغوا، یہ مشرکین ۔ ، معشار، دسواں حصہ ہیں۔ ، مااتینھم ، گزشتہ امتوں کے مقابلے میں کہ ان کو قوت ، طاقت ، طول عمر اور مال و دولت سے بھی نواز اتھا ۔ ، کفذبوا رسلی فکیف کان نکیر، پھر ان پر میرا عذاب اور تباہی کی شکل میں میری ناراضگی کیسا رنگ لائے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 43–45

43 تا 45۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف سے پہلے نہ کوئی کتاب عرب پر اتاری اور نہ آنحضرت ﷺ سے پیشتر کوئی رسول ان کی طرف بھیجا گیا عرب کے لوگ پہلے بہت چاہتے تھے اور کہتے تھے اگر کوئی ڈرانے والا ہمارے پاس آتا یا کوئی کتاب ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اور قوموں کی بہ نسبت زیادہ ہدایت پر ہوتے پھر جب خدا تعالیٰ نے رسول بھیجا اور کتاب بھیجی تو بغیر کسی سند کے اللہ کے رسول کو جھوٹا کہنا اور کتاب آسمانی کو جادو بتلانا ان لوگوں کی نادانی ہے پھر فرمایا ان سے پہلے ایسی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا ہے کہ دولت اور قوت کے حساب سے یہ لوگ ان پہلی قوموں کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 43–49

آیت 43 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرما رہا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیشکئے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیا کرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

97 پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو پیغمبر کی تسکین وتسلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی جھٹلایا ۔ حق اور حقیقت کو ۔ "۔ پس آج کے ان منکروں کی تکذیب کوئی نئ چیز نہیں۔ پس اس پر نہ تو تعجب کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ملول خاطر اور دل برداشتہ ہونے کی کہ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں جس سے صرف آپ ﷺ ہی کو واسطہ پڑا ہو اے پیغمبر ! بلکہ ایسا اس سے پہلے بھی ہوتا آیا ہے۔ پہلے کی باغی اور سرکش قوموں نے بھی اسی طرح حق اور دعاۃِ حق کو جھٹلایا۔ پس آپ ﷺ بھی اے پیغمبر اسی طرح صبر و برداشت اور استقلال سے کام لیں جس طرح کہ گزشتہ انبیائے کرام نے لیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–50

کفار کو غور وفکر کی دعوت تشریح : ان آیات میں کفار مکہ کو دعوت ایمان دی گئی ہے مگر ہمیشہ کی طرح یہی اعتراضات کہ نبی جھوٹا ہے ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے مذہب سے ہٹانا چاہتا ہے۔ دوسرا بڑا اعتراض کہ یہ قرآن اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب نہیں بلکہ خود اپنے پاس سے ہی بنالی گئی ہے۔ تیسری بات یہ کہ سب کچھ جادو ہے۔ یہی سب باتیں ہر زمانے میں ہر پیغمبر کو سننی پڑی تھیں۔ لوگ اسی طرح پیغمبر کو جھٹلاتے جادوگر کہتے، مجنوں کہتے اور پھر خوب اذیتیں دیتے بلکہ بہت سے تو اپنے پیغمبروں کو قتل ہی کردیتے۔ یہی کچھ نبی ﷺ کے ساتھ ان کے ہم وطنوں نے کیا۔ مندرجہ بالا آیات میں انہی کے حالات، خیالات، اعتقادات اور اعمال کا ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 37–45

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 37 ۔ تا۔ 45 اسرار و معارف : دنیا کی نعمتوں میں مال اور اولاد بیشک بہت بڑی نعمت ہیں لیکن یہ سب کچھ طاقتور اقتدار اور صحت وغیرہ سب عظیم نعمتیں ہیں مگر انہیں اللہ کی رضا مندی کی دلیل سمجھ لینا سب سے بڑی جہالت ہے کہ یہ سب سب کچھ تو کفار و مشرکین کے پاس بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنی حکمت سے تقسیم فرماتا ہے اور اس کی حکمت سے وہ خود ہی واقف ہے ہاں اس کی رضامندی کی دلیل یہ ہے کہ ایمان کامل نصیب ہو اور نیک اعمال کی توفیق ارزاں ہو ایسے لوگوں کو یقینا ان کے اعمال سے کئی گنا زیادہ اجر دیا جائے گا اور یہ لوگ خوبصورت بالا خانوں کے جھروکوں میں مزے سے بیٹھے ہوں گے بغیر کسی قسم کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی پچھے کافروں کو ہم نے جو دولت اور شان و شوکت دی تھی ان عرب کے کافروں کے پاس تو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں ہے۔4 یعنی پیغمبروں کی تکذیب پر انہیں کیسی سخت سزا دی ایسا تباہ و برباد کیا کہ نام و نشان تک مٹ گیا تو پھر یہ عرب کے کافر کس بل بوتے پر اکڑتے ہیں اور کس زعم میں بغاوت کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:45) من قبلہم ۔ میں ضمیر ھم کا مرجع وہی لوگ ہیں جن کے لئے ہم، ہم کا آیۃ ما قبل میں استعمال ہے یعنی بنی اسمعیل یا قوم عرب۔ ما اتینہم میں ضمیر ہم کا مرجع الذین من قبلہم ہے۔ ما بلغوا۔ میں ما نافیہ ہے بلغوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ (ضمیر فاعل کا مرجع وہی قوم عرب ہے) بلوغ مصدر وہ نہیں پہنچے۔ معشار۔ اسم دسواں حصہ۔ عشر وعشرۃ بمعنی دس۔ جاء وا عشاری۔ وہ دس دس کی ٹولیاں بنا کر آئے۔ عشیرۃ دس کا جتھہ چونکہ دس کی تعداد کو کامل مانا جاتا ہے لہٰذا عشیرۃ بمعنی کامل خاندان۔ خاندانوں کا آپس میں برتائو۔ معشر بڑا گروہ۔ مطلب یہ ہے کہ ان اہل عرب یا کفار مکہ سے پہلے گذرے ہوئے لوگوں نے بھی (انبیا کو) جھٹلایا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 39–45

لغات القرآن : آیت نمبر 39 تا 45 یخلف : کسی چیز کے بعد دیتا ہے تتلی : تلاوت کی گئی یصد : وہ روکتا ہے افک : جھوٹ مفتری : گھڑا ہوا۔ بنا یا ہوا یدرسون : وہ پڑھتے ہیں بلغوا : وہ پہنچے معشار : دسواں حصہ نکر : عذاب تشریح آیت نمبر 39 تا 45 اللہ تعالیٰ عزت و سر بلندی اور قربت و نجات ان لوگوں کو عطا کرتا ہے جو اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ انہیں جو کچھ دیا گیا ہے اس کی وہ قدر کرتے ہیں ۔ اللہ کی طرف سے جو احکامات نازل کئے گئے ہیں اس کی پابندی کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گذارتے ہیں ۔ وہ مال و دولت کی کثرت اور کمی کو ایک آزمائش سمجھتے ہیں اللہ کے نزدیک یہی کامیاب اور با…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 43–45

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف سے پہلے نہ کوئی کتاب ان عرب پر اتاری اور نہ نبی ﷺ سے پہلے کوئی رسول انکی طرف بھیجا گیا عرب کے لوگ پہلے چاہتے تھے کہ اور کہتے تھے کہ اگر کوئی ڈرانے والاہمارے پاس آتایا کوئی کتاب ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اور قوموں کی نسبت زیادہ ہدایت پر ہوتے ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو بھیجا، اور قرآن بھیجا تو بغیر کسی سند کے اللہ کے رسول کو جھوٹا کہنا اور آسمانی کتاب کو جادو بتلانا ان لوگوں کی نادانی ہے پھر فرمایا ان سے پہلے ایسی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا ہے کہ دولت اور قوت کے حساب سے یہ لوگ پہلی قوموں کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جب اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–45

[31] یعنی ہم نے ان کے پاس اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں بھیجی نہ ایسا رسول آیا جس نے آکر ان کو تعلیم دی ہو کہ اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی کرو۔ پھر کس دلیل عقلی یا نقلی کی بناء پر یہ لوگ دعوت توحید کا انکار کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–49

حضور ﷺ کی صداقت پر سب سے بڑی دلیل 1: حضور ﷺ کی صادقت پر سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ آپ محض حسیتہ اللہ لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیتے تھے ۔ اس میں آپ کی کوئی ذاتی منفعت ہرگز پہناں نہ تھی ۔ بلکہ جب آپ سے کہا گیا ۔ کہ اگر آپ نبوت کے ڈھونگ سے (معاذ اللہ) باز آجائیں ۔ تو ہم بہترین معاوضہ دینے کے لئے تیار ہیں ۔ ہم آپ کے قدموں میں سونے اور چاندی کے ڈھیر لگا سکتے ہیں ۔ ہم عرت کی جمیل ترین اور شریف ترین خاتوں کو آپ کے قصد میں دے سکتے ہیں ۔ اور ہم یہ بھی کرسکتے ہیں کہ آپ کو قیادت مطلقہ کے منصب پر سرفراز کردیں ۔ تو آپ نے پورے جوش کے ساتھ فرمایا ۔ کہ تم لوگوں نے مجھے بالکل سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ اگر تم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(45) اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی تکذیب کا شیوہ اختیار کیا تھا اور ان کی حالت یہ تھی کہ جو سازوسامان ہم نے ان کو دیا تھا اس کے دسویں حصہ کو بھی یہ کفار مکہ نہیں پہنچے غرض ان لوگوں نے میرے رسولوں کی تکذیب کی اور جھٹلایا پھر دیکھ لو میرے انکار کا انجام ان کے حق میں کیسا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ تم سے پہلی قومیں ہر اعتیار میں تم سے کہیں زیادہ تھیں۔ قوت، شوکت، سامان عیش و ترفہ حاشیہ نشینوں کی کثرت وغیرہ ان کے مقابلہ میں تمہارے پاس تو دسواں حصہ بھی نہیں ہے مال و متاع کی کمی حمایتیوں کی قوت کم عمریں پہلوں سے کم۔ جب ہم نے ان سابقہ قوموں کو پیغمبروں کی تکذیب کے باعث نہیں چھوڑا اور تباہی کے گھاٹ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی ان کی سی قوت ان کی سی عمریں، ان کی سی ثروت ان کو نہیں ملی جو کہ مایہ اعتزاز اور مابہ الافتخار ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہاں ! جھٹلانے والے ان سے پہلے بھی تھے اور یہ تو ابھی ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے 45 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ معبوث ہوئے تو آپ ﷺ کے پہلے مخاطبین بلا شبہ مکہ والے ہی تھے جو بعثت سے پہلے آپ ﷺ کو ” الامین “ اور ” الصادق “ کے ناموں سے یاد کرتے تھے لیکن جب آپ ﷺ نے ان کو توحید الٰہی کا درس دینا شروع کیا تو وہ اس کو ایک دن بھی برداشت نہ کرسکے ، انہوں نے آپ ﷺ کی امانت ودیانت اور صدق وصفائی کا تو انکار نہ کیا اور نہ ہی کرسکتے تھے البتہ آپ ﷺ کی تعلیم کا کھلا انکار کردیا اس لئے ان کی تفہیم کے لئے بیان کیا جارہا ہے کہ تمہاری طرف تو میرا رسول محمد رسول اللہ ﷺ جو خاتم المرسلین بھی ہے ایک بہت بڑی مدت کے بعد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–45

Commentary The word: مِعْشَارَ‌ (mi'shar) in verse 45: وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ‌ مَا آتَيْنَاهُمْ (while these (infidels of Makkah) have not reached even one tenth of what We gave to those (before them) has been taken to mean: عُشُر ('ushr: a tenth) by some early commentators. Some scholars have interpreted it as: عُشرُ العُشر (ushr-ul-` ushr: a hundredth) while others call it: عُشرُ العَشِیر (` ushr-ul ` ashir: a thousandth). Obviously, the later has a higher degree of exaggeration as compared to 'ushr or ten. The sense of the verse is that not even a tenth, rather a thousandth, of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

65 That is, "The people of Makkah have not attained even one-tenth of the power and grandeur and prosperity that was possessed by those people. But just see how they went to their doom ultimately and their power and wealth could not avail them anything, when they refused to believe in the realities presented before them by the Prophets, and founded their system of life on falsehood."

Read the full tafseer →