Explained with ayahs 43–45
کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے ؟
کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول ﷺ کی زبان سے سنتے ہیں، قبول کرنا، ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف، کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں، بالکل ظاہر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں کوئی رسول آیا ہے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 64
یعنی اس سے پہلے نہ کوئی کتاب خدا کی طرف سے ایسی آئی ہے اور نہ کوئی رسول ایسا آیا ہے جس نے آ کر ان کو یہ تعلیم دی ہو کہ یہ اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی و پرستش کیا کریں۔ اس لیے یہ لوگ کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ سراسر جہالت کی بنا پر قرآن اور محمد ﷺ کی دعوت توحید کا انکار کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
خلاصہ تفسیر
اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں جو (حق اور ہادی ہونے کی صفت میں) صاف صاف ہیں پڑھی جاتی ہیں تو یہ لوگ (پڑھنے والے یعنی نبی ﷺ کی نسبت) کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) یہ محض ایک ایسا شخص ہے جو یوں چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں (کی عبادت) سے باز رکھے جن کو (قدیم سے) تمہارے بڑے پوجتے (آ رہے) تھے (اور ان سے باز رکھ کر اپنا تابع بنانا چاہتا ہے۔ مطلب ان کم بختوں کا یہ تھا کہ یہ نبی نہیں اور ان کی دعوت منجانب اللہ نہیں بلکہ اس میں خود ان کی ذاتی غرض اپنی ریاست کی ہے) اور (قرآن کی نسبت) کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) یہ محض ایک تراشا ہوا جھوٹ ہے (یعنی خدا کی طرف اس کی نسبت کرنا محض تراشی ہوئی بات ہے)…
Read the full tafseer →’ وما اتینھم من کتب یدرسونھا وما ارسلنا الیھم قبلک من نذیر (44)
یہ ان مخالفین پر اظہارِ احسان اور ان کی اس ناقدری و محرومی پر اظہارِ افسوس ہے۔ فرمایا کہ یہ امی اور قرآن و کتاب سے ناآشنا لوگ رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ اللہ نے ان کو کوئی کتاب دی تھی جو ان کے لئے تعلیم و تعلم اور ارشاد ہدایت کا ذریعہ بنتی اور نہ تم سے پہلے ان کے پاس کوئی نذیر آیا تھا جو ان کو اس غفلت کی نیند سے جگاتا اور آگے کے خطرات سے آگاہ کرتا۔ اس صورت حال کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس عظیم نعمت کی یہ دل و جان سے قدر کرتے، آگے بڑھ کر اس کو ہاتھوں ہاتھ لیتے اور اس سے اپنی دنیا بھی سنوارتے اور آخرت کی بادشاہی بھی حاصل کرتے لیکن یہ اس کی…
Read the full tafseer →44۔ 1 اس لیے وہ آرزو کرتے تھے کہ ان کے پاس بھی کوئی پیغمبر آئے اور کوئی صحیفہ آسمانی نازل ہو لیکن جب یہ چیزیں آئیں تو انکار کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
20: یعنی یہ لوگ اس قرآن کو (معاذ اللہ) من گھڑت کہہ رہے ہیں، حالانکہ من گھڑت تو خود ان کا مذہب ہے، کیونکہ ان کے پاس اس سے پہلے نہ کوئی آسمان کتاب آئی ہے، نہ کوئی پیغمبر، لہذا انہوں نے جو کوئی مذہب بنایا ہے، وہ اپنے دل سے گھڑ کر بنایا ہے۔ نیز ان کو پہلی مرتبہ کتاب اور پیغمبر سے نوازا گیا ہے تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اس نعمت کی قدر کرتے، لیکن یہ الٹے اس کے مخالف بن گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
واذا تتلی علیھم ایتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فکیف کان نکیر (43 – 45)
ان لوگوں کے سامنے رسول اللہ ﷺ نہایت واضح سچائی پیش فرماتے تھے لیکن وہ اس کا مقابلہ ماضی کے افسانوں سے کرتے تھے۔ یہ چند پارینہ رسم رواج تھے اور اوہام و خرافات تھے جو انہوں نے سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ ان کے اندر کوئی جامعیت اور ربط بھی نہ تھا۔ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ قرآن مجیس سیدھی سادی سچائی پیش کر رہا ہے اور قرآن کی تعلیمات ایک مکمل اور مربوط نظام زندگی ہیں اور معقول اور دل کو لگتی ہیں تو انہوں نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ ان کے آباؤ اجداد سے منقول خرافات ، غیر معقول ، رسم و رواج اس معقول نظام زندگی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس لیے انہوں نے یہ…
Read the full tafseer →8 یعنی محض امی تھے نہ کوئی کتاب سماوی ان کے ہاتھ میں تھی نہ اتنی مدت دراز سے کوئی نبی ان میں آیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسا عظیم الشان پیغمبر اور ایسی جلیل القدر کتاب مرحمت فرمائی۔ چاہیے کہ اسے غنیمت جانیں اور انعام الٰہی کی قدر کریں۔ خصوصا جبکہ پہلے سے خود کہا بھی کرتے تھے کہ اگر ہم میں کوئی پیغمبر آیا یا کوئی کتاب ہم پر اتاری جاتی تو اوروں سے بڑھ کر ہم فرمانبردار ہوتے۔ اب وہ چیز آئی تو لگے انکار و استکبار کرنے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے ان کے پاس کوئی کتاب یا ہادی ایسا نہیں بھیجا جو آپ کی تعلیم کے خلاف تعلیم دیتا ہو۔ پھر کس دلیل نقلی یا عقلی کی بناء پر یہ لوگ آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 44 { وَمَآ اٰتَیْنٰہُمْ مِّنْ کُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَہَا } ”اور ہم نے انہیں ایسی کوئی کتابیں نہیں دیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں“
یعنی ان لوگوں پر ہماری طرف سے کوئی ایسی کتاب تو نازل نہیں ہوئی جس میں لکھا ہو کہ لات ‘ منات اور عزیٰ ّوغیرہ کو ہم نے کچھ خصوصی اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ اگر ان کے پاس ان کے ایسے دعو وں کی کوئی سند ہے تو پیش کریں۔
{ وَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْہِمْ قَبْلَکَ مِنْ نَّذِیْرٍ } ”اور نہ ہی ہم نے آپ ﷺ سے پہلے ان کی طرف کوئی خبردار کرنے والا بھیجا تھا۔“
حضرت اسماعیل علیہ السلام اور نبی آخر الزماں ﷺ کے درمیان تین ہزار سال کا عرصہ گزر گیا۔ اس عرصے کے دوران بنو اسماعیل علیہ السلام کے…
Read the full tafseer →68 یعنی ان کے پاس نہ کوئی نبی آیا اور نہ ہی اللہ کی کتاب نازل ہوئی جو اس بات کی تعلیم دیتی ہو یا کم از کم تائید ہی کرتی ہو کہ جس آبائی اور مشرکانہ دین پر یہ لوگ چل رہے ہیں وہی دین برحق ہے یعنی ان کے پاس اپنے دین کی صداقت کے لئے کوئی سند نہیں ہے۔ یہ لوگ بس اسی بات پر مطمئن ہو بیٹھے ہیں کہ یہ ان کا آبائی دین ہے۔ ان کے پاس نہ آپ کو جھٹلانے کے لئے کوئی دلیل ہے اور نہ اپنے مشرکانہ عقائد کو درست ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →62۔ (اور اس لیے اب جب انہیں پہلی بار نبوت اور کتاب کی دولت ملی تو انہیں نعمت کی قدر اور زیادہ کرنا چاہیے تھی) (آیت) ” ھم “۔ ھم ضمیریں بنی اسمعیل یا قوم عرب کی جانب ہیں کہ انہیں میں نبوت پہلی بار آئی تھی، قوم کے مورث اعلی مراد نہیں کہ ان میں تو ابراہیم (علیہ السلام) ۔ اسمعیل (علیہ السلام) ہود، (علیہ السلام) صالح (علیہ السلام) وغیرہ متعدد انبیاء پیدا ہوچکے تھے۔ آیت کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ ہم نے کوئی کتاب ان پر نازل نہیں کی، جس کے اندر شرک کی تعلیم ہو اور نہ کوئی رسول بھیجا جس نے یہ پیام دیا ہو کہ شرک نہ کرنے پر عذاب آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
آیت نمبر 37 تا 45
ترجمہ : اور تمہارے مال و اولاد ایسی چیز نہیں جو تم کو ہمارا مقرب بنادیں، ہاں ! جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے مثلاً نیک اعمال کی جزاء دس گنا یا اس سے بھی زیادہ اور وہ جنت کے بالا خانوں میں موت وغیرہ سے بےخوف ہوں گے اور ایک قراءت میں اَلغُرْفَۃُ ہے اور یہ معنی میں جمع کے ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں قرآن کے باطل کرنے کی تگ ودو میں ہم کو عاجز سمجھ کر لگے رہتے ہیں، یہ سمجھ کر ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، یہی ہیں وہ جو عذاب میں پکڑ کر حاضر کئے جائیں گے، آپ کہہ دیجئے میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے روزی امتحاناً کشادہ کردیتا ہے اور اسی کی…
Read the full tafseer →وما اتینھم من کتب یدرسونھا وما ارسلنا الیھم قبلک من نذیر . اور ہم نے ان کو (یعنی کفارمکہ
کو) کتابیں نہیں دی تھیں کہ ان کو پڑھتے پڑھاتے ہوں اور نہ آپ سے پہلے ہم نے ان کے پاس کسی پیغمبر کو بھیجا۔
مِّنْ کُتُبٍ یعنی ایسی کتابیں نہیں دی تھیں جن میں شرک کو صحیح قرار دیا گیا ہو۔
مِنْ نَّزِیْرٍ اور نہ کوئی ایسا پیغمبر بھیجا تھا جس نے ان کو شرک کی دعوت دی ہو اور ترک شرک پر عذاب سے ڈرایا ہو ‘ پھر شرک کے مدعی یہ کہاں سے بن بیٹھے اور قرآن کو جھوٹ کہنے اور جادو قرار دینے اور نبی پر خودساختگی اور افتراء بندی کا الزام رکھنے کی اجازت ان کو کس نے دی۔ اس آیت میں مشرکوں کی جہالت و سبک سری کا اظہار ہے۔ اس سے آگے…
Read the full tafseer →اور ہم نے ان کفار مکہ کو ایسی کتابیں نہیں دی تھیں کہ جن کو یہ پڑھتے پڑھاتے ہوں جس کی بنا پر یہ باتیں بنا رہے ہیں اور اسی طرح ہم نے ان کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا پیغمبر بھی نہیں بھیجا کہ اس سے بھی انہوں نے یہی باتیں کی ہوں جو آپ کے سامنے کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَآ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ يَّدْرُسُوْنَهَا۔۔ : اس آیت کی تفسیر دو طرح سے ہوسکتی ہے، ایک یہ کہ ہم نے انھیں ان کے مشرکانہ اقوال و افعال کی اجازت پر مشتمل کوئی کتاب نہیں دی جو ان کے پاس موجود ہو اور وہ اسے پڑھتے پڑھاتے ہوں اور نہ ہی ہم نے آپ سے پہلے ان کی طرف ایسا کوئی آگاہ کرنے والا بھیجا ہے جو ان کے مشرکانہ اقوال و افعال کی تائید کرتا ہو۔ دیکھیے سورة روم (35) ، فاطر (40) ، زخرف (21) اور سورة احقاف (4) اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ ہماری طرف سے خاص ان کے لیے کوئی کتابیں نازل نہیں ہوئیں، نہ ہی آپ سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آیا، اس لیے ضروری تھا کہ ان پر کتاب نازل ہو اور ان کی طرف…
Read the full tafseer →آیت : و ما اتینھم من کتب ید رسونھا جو آپ پیغام حق لائے ہیں انہوں نے اس کے باطل ہونے کا اس کتاب میں نہیں پڑھا جو کتاب ان کو دی گئی اور جو رسول ان کی طرف مبعوث کیا گیا اس سے باطل ہونے کا نہیں سنا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون (الزخرف) ان کے جھٹلا نے کوئی وجہ نہیں جس وہ استدلال کریں اور کوئی شبہ اس سے متعلق ہے جس طرح اہل کتاب کہتے ہیں اگرچہ وہ باطل پرست ہیں : ہم اہل کتاب اور اہل شریعت ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ایک رسول کی طرف منسوب ہیں پھر اپنے حق کو ارشاد کے ساتھ ان کے جھٹلانے پر انہیں وعید سنائی : آیت : و کذب الذین من قبلھم ان سے قبل اقوام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم یقول للمئکۃ اھء لاء ایاکم کانوا یعبدون پھر ہم فرشتوں سے کہیں گے کیا یہ لوگ خاص کر تمہاری عبادت کرتے تھے یعنی یہ بطور استفہام کے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ءانت قلت للناس (المائدہ آیت 116) کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو)
2۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل کانوا یعبدون الجن (بلکہ یہ جنات کی عبادت کرتے تھے) یعنی شیاطین کی۔
3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کی۔ آیت وما اتینہم من کتب یدرسونہا اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں کہ ان کو پڑھنے…
Read the full tafseer →وَمَآ اٰتَيْنٰهُمْ [اور ہم نے نہیں دیں ان لوگوں کو ] مِّنْ كُتُبٍ [کوئی بھی ایسی کتابیں ] يَّدْرُسُوْنَهَا [یہ لوگ سبق لیتے جن سے ] وَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمْ [اور ہم نے نہیں بھیجا ان کی طرف ] قَبْلَكَ [آپ ﷺ سے پہلے ] مِنْ نَّذِيْرٍ [ کوئی بھی خبردار کرنے والا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
اس کے بعد مشرکین کی تکذیب والی باتیں نقل فرمائیں : (وَ اِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ ) (الآیۃ) اور جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ شخص (جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے) یہ تو بس ایک ایسا ہی آدمی ہے جو تمہیں ان چیزوں سے روکتا ہے جن کو تمہارے باپ دادے پوجتے تھے، اور دوسری بات یہ کہتے تھے کہ یہ تو ایک تراشا ہوا جھوٹ ہے، اور تیسری بات یہ کہتے تھے کہ محمد ( رسول اللہ ﷺ جو کچھ سناتے ہیں یہ تو کھلا ہوا جادو ہے، ان کے بارے میں فرمایا : (وَمَآ اٰتَیْنٰھُمْ مِّنْ کُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَھَا وَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمْ قَبْلَکَ مِنْ نَّذِیْرٍ ) (اور ہم نے انہیں کتابیں نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–45
عیش پرستوں کے ایک شبہ کا جواب
قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں ان عیش پرستوں کے وبال اور نکال کا ذکر تھا کہ جو نبوت کے منکر تھے اب ان آیات میں ان عیش پرستوں کا ایک شبہ ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ متکبرین کی اس قسم کی باتوں سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں۔ مشرکین اور کفار اپنے مال و دولت کی کثرت پر فخر کرتے تھے اور اس کو اپنی مقبولیت کی دلیل قرار دیتے تھے ان آیات میں ان کے اس شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا کہ مال و دولت اور جاہ و حشمت اور کثرت اولاد کو اپنی مقبولیت اور افضلیت کی…
Read the full tafseer →45:۔ وما اتینہم الخ : ان مشرکین مکہ کے پاس ہم نے کوئی آسمانی کتابیں بھی نہیں بھیجیں۔ جنہیں وہ پڑ تھے پڑھاتے رہے ہوں اور ان میں شرک کی تعلیم ہو۔ نہ آپ سے پہلے ہم نے ان میں کوئی رسول مبعوث کیا ہے۔ جس نے انہیں شرک کی دعوت دی ہو اور ترک شرک پر انہیں عذاب کی دھمکی دی ہو۔ اس لیے وہ توحید کے انکار میں اور شرک پر قائم رہنے میں ہرگز معذور نہیں ہیں اور ان کا کوئی عذر اور شبہ انہیں تکذیب کی گنجائش نہیں دے سکتا۔ ای لم یقرء وا فی کتاب اوتوہ بطلان ما جت بہ ولا سمعوہ من رسول بعث الیہم۔ فلیس لتکذیبہم وجہ یتشبث بہ (قرطبی ج 14 ص 310) ۔ وہ اپنے گمراہ اور مشرک باپ دادا کے عمل کو دلیل بنائے ہوئے ہیں جسے دلائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ رسالت کا انکار عام طور پر آسودہ حال لوگ ہی کرتے تھے کیونکہ نبی کی سیادت کو تسلیم کرنے سے ان کی اپنی سرداری اور چودھراہٹ متاثر ہوتی تھی۔ اللہ نے خوشحالی کو اسباب گمراہی میں شمار کیا ہے۔ اللہ کے ہاں مقبولیت کا تعلق مال و دولت یا جہ و حشمت سے نہیں بلکہ ایمان اور اعمال صالحہ سے ہے۔ اللہ نے رزق کا قانون بھی بیان فرمایا کہ یہ تقسیم اس کے اپنے قبضہ قدرت میں ہے ، جس کا چاہے رزق وسیع کردے اور جس کا چاہے تنگ کردے۔ یہ تقسیم اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوتی ہے جسے مخلوق نہیں جان سکتی۔ مخلوق کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو زندگی کا لائحہ عمل…
Read the full tafseer →وَمَآ اٰتَيْنٰہُمْ مِّنْ كُتُبٍ يَّدْرُسُوْنَہَا وَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْہِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِيْرٍ 44ۭ
آتینا
وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .
[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ
[ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني .
{ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
اور مال و اولاد کہ جس پر تم کو تفاخر ہے، اللہ کے نزدیک اس سے تمہارا کوئی مرتبہ بلند نہیں ہوجاتا ہے۔ ایماندار اس دنیا میں مسافر ہے، اس کا گھر اوپر ہے، اس کا عیش و آرام اور اس کی زینت و تجمل کی ہمیشہ رہنے والی چیزیں وہیں ہیں، اس کی طرف اس جملہ میں اشارہ فرماتا ہے۔ الامن آمن وعمل صالحا الخ اور وہ اس غرور میں آکر یسعون فی آیتنا معاجزین ہماری آیات کے ابطال میں کوشش کرتے ہیں، وہ وہاں عذاب دائمی میں گرفتار رہیں گے۔ یہ مال و اولاد کچھ کام نہ آوے گا اور یہ بھی خیال نہ کرو کہ کفر کرنے سے دنیا ملتی ہے اور نیکوں کو یہاں کچھ ملتا ہی نہیں بلکہ کہہ دیجئے ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء الخ میرا رب جس کو چاہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰـتُـنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَاھٰذَآ اِلاَّ رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّکُمْ عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُکُمْ ج وَقَالُوْا مَاھٰذَآ اِلَّآاِفْکٌ مُّفْتَرًی ط وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ لا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ وَمَآ اٰتَیْنٰـہُمْ مِّنْ کُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَھَآ وَمَآ اَرْسَلْنَـآ اِلَیْہِمْ قَبْلَـکَ مِنْ نَّذِیْرٍ ۔ (السباء : 43، 44)
(جب انھیں ہماری روشن آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ تو محض ایک آدمی ہے جو چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں سے روک دے جن کو تمہارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں۔ اور وہ (یہ بھی) کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فہم القرآن
ربط کلام : توحید کی دعوت کے مقابلے میں مشرکین کا ردّ عمل۔
مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی آیات پڑھ کر سنائی جاتیں تو ان کے کئی قسم کے ردّعمل ہوا کرتے تھے۔ کبھی آپ ﷺ کو مجنون اور جادو گر قرار دیتے اور کبھی جادو زدہ کہتے تھے۔ کبھی جھوٹا ہونے کا الزام لگایا کرتے اور لوگوں کو باور کرانے کی کوشش کرتے کہ یہ آدمی اپنی طرف سے آیات بنا بنا کر ہمیں اپنے آباء و اجداد کے طریقۂ عبادت سے ہٹانا چاہتا ہے۔ جب دیکھتے کہ ہمارے تمام الزامات اور ہتھکنڈوں کے باوجود لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہوتے جارہیں ہیں تو یہ لوگ قرآن مجید کو کھلا جادو قرار دے دیتے۔ ان کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اس سے پہلے ان کی…
Read the full tafseer →44: وَمَآ ٰاتَیْنٰھُمْ مِّنْ کُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَھَا (اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں کہ وہ ان کو پڑھتے پڑھاتے ہوں) یعنی ہم نے مشرکین مکہ کو کتابیں نہ دی تھیں کہ جن کو وہ پڑھتے پڑھاتے ہوں۔ جن میں شرک کے صحیح ہونے پر دلیل موجود ہو۔ وَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمْ قَبْلَکَ مِنْ نَّذِیْرٍ (اور ہم نے آپ سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا تھا) اور نہ ہی ہم نے ان کی طرف کسی کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا جو ان کو عقاب و سزا سے ڈرائے اگر وہ شرک نہ کریں مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کی طرف کوئی پیغمبر نہیں بھیجا جس نے ان کو شرک کی دعوت دی ہو اور ترک شرک پر عذاب سے ڈرایا ہو پھر یہ شرک کے مدعی کیسے بن…
Read the full tafseer →تفسیر 44۔ ، وما اتینھم یہ مشرکین ۔ ، من کتب یدرسونھا ، وہ اس کو پڑھتے ہیں ۔ ، وما ارسلنا الیھم قبلک من نذیر، عرب میں اس سے پہلے نہ کوئی ایسانبی بھیجا اور نہ ہی کوئی ایسی کتاب بھیجی جس سے ان کو شرک کی دعوت دی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
43 تا 45۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف سے پہلے نہ کوئی کتاب عرب پر اتاری اور نہ آنحضرت ﷺ سے پیشتر کوئی رسول ان کی طرف بھیجا گیا عرب کے لوگ پہلے بہت چاہتے تھے اور کہتے تھے اگر کوئی ڈرانے والا ہمارے پاس آتا یا کوئی کتاب ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اور قوموں کی بہ نسبت زیادہ ہدایت پر ہوتے پھر جب خدا تعالیٰ نے رسول بھیجا اور کتاب بھیجی تو بغیر کسی سند کے اللہ کے رسول کو جھوٹا کہنا اور کتاب آسمانی کو جادو بتلانا ان لوگوں کی نادانی ہے پھر فرمایا ان سے پہلے ایسی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا ہے کہ دولت اور قوت کے حساب سے یہ لوگ ان پہلی قوموں کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
آیت 43
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرما رہا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیشکئے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیا کرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
94 منکرین و معاندین کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان لوگوں کو ہماری کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص تم کو اپنے باپ دادا کے طریقوں سے روکنا چاہتا ہے "۔ یہ ہے نتیجہ وثمرہ، عناد و مکابرہ اور ضد و ہٹ دھرمی کا کہ حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود یہ لوگ اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب انکو ہماری ایسی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن سے حق پوری طرح واضح ہوجاتا ہے تو یہ اس کو ماننے اور قبول کرنے کی بجائے الٹا داعی حق کیخلاف اپنے عوام کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ اس طرح ایسے لوگ اپنی محرومی کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
کفار کو غور وفکر کی دعوت
تشریح : ان آیات میں کفار مکہ کو دعوت ایمان دی گئی ہے مگر ہمیشہ کی طرح یہی اعتراضات کہ نبی جھوٹا ہے ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے مذہب سے ہٹانا چاہتا ہے۔ دوسرا بڑا اعتراض کہ یہ قرآن اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب نہیں بلکہ خود اپنے پاس سے ہی بنالی گئی ہے۔ تیسری بات یہ کہ سب کچھ جادو ہے۔ یہی سب باتیں ہر زمانے میں ہر پیغمبر کو سننی پڑی تھیں۔ لوگ اسی طرح پیغمبر کو جھٹلاتے جادوگر کہتے، مجنوں کہتے اور پھر خوب اذیتیں دیتے بلکہ بہت سے تو اپنے پیغمبروں کو قتل ہی کردیتے۔ یہی کچھ نبی ﷺ کے ساتھ ان کے ہم وطنوں نے کیا۔ مندرجہ بالا آیات میں انہی کے حالات، خیالات، اعتقادات اور اعمال کا ذکر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 37 ۔ تا۔ 45
اسرار و معارف :
دنیا کی نعمتوں میں مال اور اولاد بیشک بہت بڑی نعمت ہیں لیکن یہ سب کچھ طاقتور اقتدار اور صحت وغیرہ سب عظیم نعمتیں ہیں مگر انہیں اللہ کی رضا مندی کی دلیل سمجھ لینا سب سے بڑی جہالت ہے کہ یہ سب سب کچھ تو کفار و مشرکین کے پاس بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنی حکمت سے تقسیم فرماتا ہے اور اس کی حکمت سے وہ خود ہی واقف ہے ہاں اس کی رضامندی کی دلیل یہ ہے کہ ایمان کامل نصیب ہو اور نیک اعمال کی توفیق ارزاں ہو ایسے لوگوں کو یقینا ان کے اعمال سے کئی گنا زیادہ اجر دیا جائے گا اور یہ لوگ خوبصورت بالا خانوں کے جھروکوں میں مزے سے بیٹھے ہوں گے بغیر کسی قسم کے…
Read the full tafseer →ف 2 جس نے آ کر انہیں تعلیم دی ہو کہ خدا نے تمہارے لئے دوسروں کی پرستش کرنا جائز قرار دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس شرک میں یہ مبتلا ہیں اور یہ جو آپ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں وہ کسی علم پر نہیں بلکہ سراسر جہالت اور باب دادا کی اندھی تقلید پر مبنی ہے۔ ( کبیر)
Read the full tafseer →(34:44) یعنی اس سے پہلے نہ کوئی کتاب خدا کی طرف سے ایسی آئی ہے اور نہ کوئی رسول ایسا آیا ہے جس نے آکر ان کو یہ تعلیم دی ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی پرستش کیا کریں اس لئے یہ لوگ کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ سر اسر جہالت کی بنا پر قرآن اور محمد ﷺ کی دعوت توحید کا انکار کر رہے ہیں اس کے لئے ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن) ۔
آیت ھذا میں ہم۔ ہم کی ضمیریں بنی اسمعیل یا قوم عرب کی جانب راجع ہیں کہ انہیں میں نبوت پہلی بار آئی تھی ( تفسیر الماجدی )
یدرسونھا۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ درس ودراسۃ (باب نصر ) ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (اس کا مرجع کتب ہے وہ ان کتب کو پڑھتے پڑھاتے رہے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
لغات القرآن : آیت نمبر 39 تا 45
یخلف : کسی چیز کے بعد دیتا ہے
تتلی : تلاوت کی گئی
یصد : وہ روکتا ہے
افک : جھوٹ
مفتری : گھڑا ہوا۔ بنا یا ہوا
یدرسون : وہ پڑھتے ہیں
بلغوا : وہ پہنچے
معشار : دسواں حصہ
نکر : عذاب
تشریح آیت نمبر 39 تا 45
اللہ تعالیٰ عزت و سر بلندی اور قربت و نجات ان لوگوں کو عطا کرتا ہے جو اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ انہیں جو کچھ دیا گیا ہے اس کی وہ قدر کرتے ہیں ۔ اللہ کی طرف سے جو احکامات نازل کئے گئے ہیں اس کی پابندی کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گذارتے ہیں ۔ وہ مال و دولت کی کثرت اور کمی کو ایک آزمائش سمجھتے ہیں اللہ کے نزدیک یہی کامیاب اور با…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف سے پہلے نہ کوئی کتاب ان عرب پر اتاری اور نہ نبی ﷺ سے پہلے کوئی رسول انکی طرف بھیجا گیا عرب کے لوگ پہلے چاہتے تھے کہ اور کہتے تھے کہ اگر کوئی ڈرانے والاہمارے پاس آتایا کوئی کتاب ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اور قوموں کی نسبت زیادہ ہدایت پر ہوتے ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو بھیجا، اور قرآن بھیجا تو بغیر کسی سند کے اللہ کے رسول کو جھوٹا کہنا اور آسمانی کتاب کو جادو بتلانا ان لوگوں کی نادانی ہے پھر فرمایا ان سے پہلے ایسی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا ہے کہ دولت اور قوت کے حساب سے یہ لوگ پہلی قوموں کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جب اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
[31] یعنی ہم نے ان کے پاس اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں بھیجی نہ ایسا رسول آیا جس نے آکر ان کو تعلیم دی ہو کہ اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی کرو۔ پھر کس دلیل عقلی یا نقلی کی بناء پر یہ لوگ دعوت توحید کا انکار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
حضور ﷺ کی صداقت پر سب سے بڑی دلیل
1: حضور ﷺ کی صادقت پر سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ آپ محض حسیتہ اللہ لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دیتے تھے ۔ اس میں آپ کی کوئی ذاتی منفعت ہرگز پہناں نہ تھی ۔ بلکہ جب آپ سے کہا گیا ۔ کہ اگر آپ نبوت کے ڈھونگ سے (معاذ اللہ) باز آجائیں ۔ تو ہم بہترین معاوضہ دینے کے لئے تیار ہیں ۔ ہم آپ کے قدموں میں سونے اور چاندی کے ڈھیر لگا سکتے ہیں ۔ ہم عرت کی جمیل ترین اور شریف ترین خاتوں کو آپ کے قصد میں دے سکتے ہیں ۔ اور ہم یہ بھی کرسکتے ہیں کہ آپ کو قیادت مطلقہ کے منصب پر سرفراز کردیں ۔ تو آپ نے پورے جوش کے ساتھ فرمایا ۔ کہ تم لوگوں نے مجھے بالکل سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ اگر تم…
Read the full tafseer →(44) اور نہ تو ہم نے ان اہل عرب کو آسمانی کتابیں دی تھیں جن کو یہ پڑھتے پڑھاتے ہوں اور نہ آپ سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا ہی آیا تھا۔ یعنی جس طرح بنی اسرائیل میں توریت اور انجیل وغیرہ کتابیں نازل ہوئیں اور مختلف علاقوں میں انبیاء آتے رہے اہل عرب میں یہ دستور نہیں رہا اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد کوئی رسول بھی نہیں آیا تاآنکہ نبی آخر الزماں ﷺ تشریف لائے اور ان پر قرآن نازل ہوا۔ تو ایک عرصہ کے بعد ان کو اس نعمت سے نوازا گیا تو ان کو اس کی قدر کرنی چاہیئے تھی لیکن یہ بجائے قدر کے ناشکری پر آمادہ ہوگئے تو اس سے بڑھ کر ان کی اور کیا بدقسمتی ہوسکتی ہے آگے پیغمبروں کے جھٹلانے والوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 1۔ مطلب ان کمبختوں کا یہ تھا کہ یہ نبی نہیں، اور ان کی دعوت من جانب اللہ نہیں بلکہ اس میں خود ان کی ذاتی غرض ریاست کی ہے۔
Read the full tafseer →ان کے پاس ہماری طرف سے نہ کتابیں آئی ہیں کہ ان کو پڑھتے اور نہ یہی کوئی ڈرانے والا
44 ۔ فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں کے پاس نہ تو ہم نے اس طرح کی کتابیں نازل کی ہیں کہ ان کو پڑھ کر اس طرح کی یہ باتیں کر رہے ہیں اور نہ ہی ہم نے آپ ﷺ سے پہلے ان کے پاس کوئی ایسا ڈرانے والا بھیجا ہے کہ اس نے ان سے کوئی اس طرح بات کی ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ان کے منہ میں آتا ہے یہ لوگ کہہ دیتے ہیں اور جہالت کی یہ نشانی ہے کہ اس نے کبھی سوچ سمجھ کر کچھ نہیں کہا اور نہ ہی کبھی سوچ سمجھ کر کچھ کیا ہے حالانکہ یہ ہدایت عام ہے کہ پہلے تولو پھر بولو اس طرح پہلے سوچو اور سمجھو پھر کرو لیکن جہالت چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
Commentary
The word: مِعْشَارَ (mi'shar) in verse 45: وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ مَا آتَيْنَاهُمْ (while these (infidels of Makkah) have not reached even one tenth of what We gave to those (before them) has been taken to mean: عُشُر ('ushr: a tenth) by some early commentators. Some scholars have interpreted it as: عُشرُ العُشر (ushr-ul-` ushr: a hundredth) while others call it: عُشرُ العَشِیر (` ushr-ul ` ashir: a thousandth). Obviously, the later has a higher degree of exaggeration as compared to 'ushr or ten. The sense of the verse is that not even a tenth, rather a thousandth, of the…
Read the full tafseer →64 That is, "Neither a book from God has come to them before this nor a messenger, who might have taught them to worship and serve others than God. Therefore, they arc denying the invitation to Tauhid being given by the Qur'an and Muhammad (upon whom be Allah's peace) due to sheer ignorance, and not on the basis of any knowledge. They have in fact no authority for this."
Read the full tafseer →