Saba 34:43

Saba · from ayah 43

34:43

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ ۚ— وَقَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًی ؕ— وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ ۙ— اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ ۟وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالُوۡا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُكُمۡ‌ ۚ وَقَالُوۡا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡكٌ مُّفۡتَـرً ىؕ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ ۙ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ

اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے (جو اپنی طرف سے) بنا لیا گیا ہے۔ اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when our verses are recited to them as clear evidences, they say, "This is not but a man who wishes to avert you from that which your fathers were worshipping." And they say, "This is not except a lie invented." And those who disbelieve say of the truth when it has come to them, "This is not but obvious magic."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:43

اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ "یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو اُن معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں" اور کہتے ہیں کہ "یہ (قرآن) محض ایک جھوٹ ہے گھڑا ہوا" اِن کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہیں نے کہہ دیا کہ "یہ تو صریح جادو ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے (جو اپنی طرف سے) بنا لیا گیا ہے۔ اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان کے سامنے ہماری صاف صاف آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایسا شخص ہے جو تمہیں تمہارے باپ دادا کے معبودوں سے روک دینا چاہتا ہے۔ (اس کے سوا کوئی بات نہیں)، اور کہتے ہیں کہ یہ تو گھڑا ہوا جھوٹ ہے اور حق ان کے پاس آچکا پھر بھی کافر یہی کہتے رہے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ہماری آیتیں جو مکمل وضاحت کی حامل ہیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ (ہمارے پیغمبر کے بارے میں) کہتے ہیں کہ : کچھ نہیں، یہ شخص بس یہ چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو ان معبودوں سے برگشتہ کردے جنہیں تمہارے باپ دادے پوجتے آئے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ : یہ (قرآن) کچھ بھی نہیں، ایک من گھڑت جھوٹ ہے۔ اور جب ان کافروں کے پاس حق کا پیغام آیا تو انہوں نے اس کے بارے میں یہ کہا کہ : یہ تو ایک کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں تو کہتے ہیں یہ تو نہیں مگر ایک مرد کہ تمہیں روکنا چاہتے ہیں تمہارے باپ دادا کے معبودو ں سے اور کہتے ہیں یہ تو نہیں مگر بہتان جوڑا ہوا، اور کافروں نے حق کو کہا جب ان کے پاس آیا یہ تو نہیں مگر کھلا جادو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب اُن پر ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں: یہ (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ایک ایسا شخص ہے جو تمہیں صرف اُن (بتوں) سے روکنا چاہتا ہے جن کی تمہارے باپ دادا پوجا کیا کرتے تھے، اور یہ (بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض من گھڑت بہتان ہے، اور کافر لوگ اس حق (یعنی قرآن) سے متعلق جبکہ وہ اِن کے پاس آچکا ہے، یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تو محض کھلا جادو ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جو چاہتا ہے کہ تمہیں اس سے روک دے جس کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے تھے اور کہتے ہیں یہ نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہوا جھوٹ۔ اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، حق کے بارے میں کہا، جب وہ ان کے پاس آیا، یہ نہیں ہے مگر کھلا جادو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں : یہ آدمی تو ایسا ہے جو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ان (معبودوں) سے روک دے جنہیں تمہارے آباء و اجداد پوجا کرتے تھے۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو جھوٹ ہی گھڑا ہوا ہے۔ اور ان کافروں کے پاس جب حق آگیا تو کہنے لگے کہ : یہ تو صریح جادو ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کو ہماری روشن آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ تو محض ایک شخص ہے جو چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں سے روک دے جن کو تمہارے باپ دادا پوجتے آئے۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ تو بس ایک من گھڑت جھوٹ ہے۔ اور ان کافروں نے حق کی بابت، جب کہ وہ ان کے پاس آگیا، کہا کہ یہ تو بس کھلا ہوا جاد و ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیتیں کھلی کھلی تو یہ لوگ (پوری ہٹ دھرمی سے) کہتے ہیں کہ اس شخص کا مقصد تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ (کسی طرح) تم کو روک دے ان (بتوں کی پوجا) سے جن کی پوجا تمہارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں اور (قرآن کے بارے میں) کہتے ہیں کہ یہ تو محض ایک جھوٹ ہے گھڑا ہوا اور کافر لوگ حق کے بارے میں کہتے ہیں جب کہ وہ ان کے پاس آگیا کہ یہ کچھ نہیں مگر ایک جادو ہے کھلم کھلا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب انہیں ہماری صاف صاف آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص کا تو بس منشا اتنا ہے کہ تم کو ان چیزوں سے باز رکھے جن کی پرستش تمہارے بڑے کرتے چلے آئے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) ایک تراشا ہوا جھوٹ ہے اور کافر (اس) امر حق کی نسبت کہتے ہیں جب وہ ان کے پاس پہنچا کہ یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو وہ (آپس میں ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم کو ان سے روک دے جن کی عبادت تمہارے آباء و اَجداد کرتے تھے اور وہ (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہوا جھوٹ۔ } اور ان کافروں نے حق کے بارے میں جبکہ یہ ان کے پاس آگیا کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک کھلا ہواجادو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان کو ہماری روشن آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایک شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے ”اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ”یہ قرآن بالکل جھوٹ ہے جو اپنی طرف سے بنا لیا گیا ہے“۔ اور کفار کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ ”یہ تو صریح جادو ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When Our Clear Signs are rehearsed to them they say: “This is a person who wants to turn you away from the deities whom your ancestors worshipped.” They say: “This is nothing but an invented falsehood.” And when the Truth came to the unbelievers they declared: “This is nothing but plain sorcery,”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When Our evident verses are recited to them, they say, :He is nothing but a man who wishes to divert you from what your fathers used to worship. And they say, :This is nothing but a forged lie. And the disbelievers say about the Truth, when it came to them, :This is nothing but an explicit magic.

— Muhammad Taqi Usmani

When Our evident verses are recited to them, they say, :He is nothing but a man who wishes to divert you from what your fathers used to worship. And they say, :This is nothing but a forged lie. And the disbelievers say about the Truth, when it came to them, :This is nothing but an explicit magic.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when Our Clear Verses are recited to them, they say: "This is naught but a man who wishes to hinder you from that which your fathers used to worship." And they say: "This is nothing but an invented lie." And those who disbelieve say of the truth when it has come to them: "This is nothing but evident magic!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if Our revelations are recited unto them in plain terms, they say: This is naught else than a man who would turn you away from what your fathers used to worship; and they say: This is naught else than an invented lie. Those who disbelieve say of the truth when it reacheth them: This is naught else than mere magic.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when our verses are recited to them as clear evidences, they say, "This is not but a man who wishes to avert you from that which your fathers were worshipping." And they say, "This is not except a lie invented." And those who disbelieve say of the truth when it has come to them, "This is not but obvious magic."

— Saheeh International

When Our illustrious revelations are recited to them, they say, "This man only wants to prevent you from worshipping what your father's had worshipped." They say "This, (the Quran), is a mere invented lie." The unbelievers have said about the truth when it came to them, "This only is plain magic."

— Muhammad Sarwar

And when Our clear communications are recited to them, they say: This is naught but a man who desires to turn you away from that which your fathers worshipped. And they say: This is naught but a lie that is forged. And those who disbelieve say of the truth when it comes to them: This is only clear enchantment.

— Muhammad Habib Shakir

And when there are rehearsed Unto them Our plain revelations, they this messenger is naught but as a man who seeketh to prevent you from that which your fathers have been worshipping. And they say: this message is naught but a fraud fabricated. And those who disbelieve say of the truth When it is come Unto them: this is naught but manifest magic.

— Abdul Majid Daryabadi

When Our Clear Signs are rehearsed to them, they say, "This is only a man who wishes to hinder you from the (worship) which your fathers practised." And they say, "This is only a falsehood invented!" and the Unbelievers say of the Truth when it comes to them, "This is nothing but evident magic!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 43–45

کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے ؟ کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول ﷺ کی زبان سے سنتے ہیں، قبول کرنا، ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف، کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں، بالکل ظاہر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں کوئی رسول آیا ہے۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 41–43

سورة سَبـَا 62 یعنی وہ جواب دیں گے کہ حضور کی ذات اس سے منزہ اور بالا تر ہے کہ کوئی دوسرا خدائی و معبودیت میں آپ کا شریک ہو۔ ہمارا ان لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ ہم ان سے اور ان کے افعال سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو حضور کے بندے ہیں۔ سورة سَبـَا 63 اس فقرے میں جن سے مراد شیاطین جن ہیں۔ فرشتوں کے اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر تو یہ ہمارے نام لے کر، اور اپنے تخیلات کے مطابق ہماری صورتیں بنا کر گویا ہماری عبادت کرتے تھے، لیکن دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ شیا طین کی بندگی کر رہے تھے، کیونکہ شیاطین ہی نے ان کو یہ راستہ دکھایا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا حاجت روا سمجھو اور ان کے آگے نذر و نیاز پیش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–44

خلاصہ تفسیر اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں جو (حق اور ہادی ہونے کی صفت میں) صاف صاف ہیں پڑھی جاتی ہیں تو یہ لوگ (پڑھنے والے یعنی نبی ﷺ کی نسبت) کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) یہ محض ایک ایسا شخص ہے جو یوں چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں (کی عبادت) سے باز رکھے جن کو (قدیم سے) تمہارے بڑے پوجتے (آ رہے) تھے (اور ان سے باز رکھ کر اپنا تابع بنانا چاہتا ہے۔ مطلب ان کم بختوں کا یہ تھا کہ یہ نبی نہیں اور ان کی دعوت منجانب اللہ نہیں بلکہ اس میں خود ان کی ذاتی غرض اپنی ریاست کی ہے) اور (قرآن کی نسبت) کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) یہ محض ایک تراشا ہوا جھوٹ ہے (یعنی خدا کی طرف اس کی نسبت کرنا محض تراشی ہوئی بات ہے)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

…آیت (43) یہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور مکابرت پر اظہار تعجب اور ان کی محرومی و بدبختی پر اطہار افسوس ہے کہ یہ آفتاب پر خاک ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب ان کو ہماری نہایت روشن، محکم اور عقل و دل کو منور کردینے والی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ اپنے عوام کو ان کے خلاف یہ کہہ کر بھڑکاتے ہیں کہ یہ شخص تمہارے ان معبودوں سے تم کو برگشتہ کرنا چاہتا ہے جن کو تمہارے بزرگ اسلاف برابر پوجتے آئے۔ حقائق کے خلاف عوام کو مشتعل کرنے کے لئے اسلاف کا حوالہ ہمیشہ سے مفسدین کے ہاتھ میں ایک کارگر حربہ رہا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو کہ یہ واحد دلیل ہے جو ضلالت کے علمبردار لیڈروں نے اپنی ضلالتوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

43۔ 1 شخص سے مراد، حضرت نبی ﷺ ہیں، باپ دادا کا دین، ان کے نزدیک صحیح تھا، اس لئے انہوں نے آپ ﷺ کا ' جرم ' یہ بیان کیا کہ یہ تمہیں ان معبودوں سے روکنا چاہتا ہے جن کی تمہارے آبا عبادت کرتے رہے۔ 43۔ 2 اس دوسرے ھٰذَا سے مراد قرآن کریم ہے، اسے انہوں نے تراشا ہوا بہتان یا گھڑا ہوا جھوٹ قرار دیا۔ 34۔ 3 قرآن کو پہلے گھڑا ہوا جھوٹ کہا اور یہاں کھلا جادو۔ پہلے کا تعلق قرآن کے مفہوم و مطالب سے ہے اور دوسرے کا تعلق قرآن کے معجزانہ نظم و اسلوب اور اعجاز و بلاغت سے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–43

19: یہاں جنات سے مراد شیاطین ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ شیاطین سے بہت سے کام نکالا کرتے تھے، اور ان کے کہنے پر عمل کرتے تھے، انہوں نے ہی ان کو شرک کا عقیدہ بجھایا تھا، اس لیے حقیقت میں یہ شیاطین کی عبادت کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 198 ایک نظر میں اس سورة کے اس آخری سبق کا آغاز مشرکین اور نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں ان کے اقوال سے ہوتا ہے۔ ان کو یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ ان جیسے لوگوں کا انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ انسانی تاریخ کی ایسی اقوام کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو ان سے زیادہ قوی ، زیادہ علم والی اور زیادہ مالدار تھیں ، جن کو اس دنیا ہی میں پکڑ لیا گیا۔ اس کے بعد عقل و خرد کے تاروں پر مسلسل شدید ترین ضربات لگائی جاتی ہیں۔ پہلی ضرب میں ان کو یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ ذرا تنہائی میں ، تمام رکاوٹوں اور پردوں کو ہٹا کر جو انہیں صحیح فکر و نظر سے روکتے ہیں اللہ کے بارے میں سوچیں۔ دوسری ضرب میں ، ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یہ رسول کریم ﷺ کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ یہ شخص نبی رسول کچھ نہیں۔ بس اتنی غرض ہے کہ ہمارے باپ داداوں کا طریقہ چھڑا کر (جس کو ہم قدیم سے حق جانتے چلے آئے ہیں) اپنے ڈھب پے لے آئے اور خود حاکم و متبوع بن کر بیٹھ جائے۔ گویا صرف حکومت و ریاست مطلوب ہے۔ (العیاذ باللہ) 6 یعنی قرآن کیا ہے (العیاذ باللہ) چند جھوٹی باتیں جو خدا کی طرف منسوب کردی گئی ہیں۔7 یعنی یہ نبوت کا دعویٰ جس کے ساتھ چند معجزات و خوارق کی نمائش کی گئی ہے یا مذہب اسلام جس نے آخر میاں کو بیوی سے اور باپ کو بیٹے سے جدا کردیا ہے۔ یا قرآن جس کی تاثیر لوگوں کے دلوں پر غیر معمولی ہوتی ہے، صریح جادو کے سوا اور کچھ نہیں (العیاذ باللہ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43 { وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّکُمْ عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُکُمْ } ”اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات ‘ تو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم کو ان سے روک دے جن کی عبادت تمہارے آباء و اَجداد کرتے تھے“ { وَقَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّآ اِفْکٌ مُّفْتَرًی } ”اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہواجھوٹ۔“ یعنی یہ قرآن دراصل محمد ﷺ کا اپنا کلام ہے جس کو وہ وحی کے نام سے پیش کر رہے ہیں۔ { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

66 یعنی ہمیں ہمارے طرز زندگی سے ہٹا کر ایک نئی راہ پر ڈالنا چاہتا ہے۔ ہمارا طرز زندگی وہ ہے جو ہمارے آباؤ اجداد سے بڑی مدت سے رائج چلا آرہا ہے اور یہ شخص جس راہ پر ڈالنا چاہتا ہے اس کی بنیاد محض اس کی اپنی اختراع کردہ باتیں ہیں۔ اور چاہتا یہ ہے کہ یہ خود ہمارا متبوع بن جائے اور ہم اس کے تابع بن کر رہیں۔ ہم بھلا یہ بات کیسے گوارا کرسکتے ہیں ؟ گویا قریش مکہ کے نزدیک پیغمبر اسلام کی دعوت محض ایک اقتدار کا مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ وہ کوئی بات یا دلیل ماننے کو تیار نہ تھے۔ 67 اللہ کے کلام یا قرآن کریم کو کفار مکہ کا جادو کہنا اس لحاظ سے تھا کہ قرآن کی جادو اثر تاثیر سے وہ خود خائف رہتے تھے۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

60۔ تاکہ اس تقریر سے عوام میں برہمی اور اشتعال اور زیادہ پیدا ہو۔ اور خلوئے ذہن کے ساتھ وہ پیام نبوت پر غور کرنے کے قابل ہی نہ رہ جائیں، یہ چلتا ہوا جادو اہل باطل کے ہاتھ میں ہمیشہ رہا ہے۔ اور آج بھی اس زبردست ومؤثر حربہ سے اہل حق کے مقابلہ میں برابر کام لیا جا رہا ہے۔ 61۔ (اور اسی سحر کے تقاضہ سے اس قدر مؤثر ہے) قرآن کے معجز ہونے سے تو منکرین بھی انکار نہیں کرسکتے تھے۔ بس شیطنت یہ تھی کہ اس کی قوت اعجازی کو وہ معمول سحر پر کردیتے تھے۔ ٹھیک اسی طرح آج بھی فرنگیوں کو رسول اکرم ﷺ کے اعجازی کارناموں سے مجال انکار ہی نہیں۔ البتہ بجائے اس کے کہ ان واقعات کو تائید غیبی پر اور آپ ﷺ کی حقانیت پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–45

آیت نمبر 37 تا 45 ترجمہ : اور تمہارے مال و اولاد ایسی چیز نہیں جو تم کو ہمارا مقرب بنادیں، ہاں ! جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے مثلاً نیک اعمال کی جزاء دس گنا یا اس سے بھی زیادہ اور وہ جنت کے بالا خانوں میں موت وغیرہ سے بےخوف ہوں گے اور ایک قراءت میں اَلغُرْفَۃُ ہے اور یہ معنی میں جمع کے ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں قرآن کے باطل کرنے کی تگ ودو میں ہم کو عاجز سمجھ کر لگے رہتے ہیں، یہ سمجھ کر ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، یہی ہیں وہ جو عذاب میں پکڑ کر حاضر کئے جائیں گے، آپ کہہ دیجئے میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے روزی امتحاناً کشادہ کردیتا ہے اور اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا تتلی علیھم ایتنا بینت قالوا ما ھذا الا رجل یرید ان یصدکم عما کان یعبد اباؤکم وقالوا ما ھذا الا افک مفتری اور جب ان (اہل مکہ) کے سامنے ہماری (قرآنی) آیات (رسول اللہ ﷺ کی زبانی) کھلی کھلی پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ نہیں ہے یہ (شخص یعنی رسول اللہ ﷺ مگر ایک ایسا آدمی جو تم کو ان چیزوں (کی پوجا) سے روکنا چاہتا ہے جن کی پوجا تمہارے اسلاف کرتے تھے اور یہ (قرآن) محض خود تراشیدہ جھوٹ ہے۔ یعنی محمد (رسول اللہ ﷺ نے خود بنا کر اللہ کی طرف نسبت کردی ہے (یہ خدا کا کلام نہیں ہے) ۔ وقال الذین کفروا للحق لما جاء ھم ان ھذا الا سحر مبین . اور یہ امر حق جب ان کے پاس پہنچ گیا تو کافر کہتے ہیں کہ یہ تو بس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جب ان کفار مکہ کے سامنے قرآنی آیات جو حلال و حرام کو واضح کرنے والی ہیں پڑھی جاتی ہیں تو یہ لوگ رسول اکرم کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ آپ یوں چاہتے ہیں کہ تمہیں ان معبودوں کی عبادت سے باز رکھیں جنہیں تم پوجتے آئے ہو اور یوں کہتے کہ جو رسول اکرم پڑھ کر سناتے ہیں یہ محض ایک خود گھڑا ہوا جھوٹ ہے اور یہ کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں جبکہ رسول اکرم اسے ان کے پاس لے کر آئے یوں کہتے ہیں یہ محض ایک جادو ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا۔۔ : یہ ذکر کرنے کے بعد کہ قیامت کے دن مشرکین جہنم میں جائیں گے اور ان کے بنائے ہوئے معبود ان کے کچھ کام نہ آئیں گے، اب ان کے اس عذاب کا حق دار ہونے کی وجہ بیان فرمائی، جو یہ تھی کہ جب رسول اللہ ﷺ نے یا اسلام کے کسی داعی نے ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھیں تو انھوں نے وہ الفاظ کہے جو اس آیت میں ذکر ہوئے ہیں۔ قَالُوْا مَا ھٰذَآ اِلَّا رَجُلٌ۔۔ : یعنی یہ شخص تمہیں ان ہستیوں کی عبادت سے روکنا چاہتا ہے جن کی عبادت تمہارے آبا و اجداد مدت سے کرتے چلے آئے ہیں۔ مقصد ان کا لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے والے کے خلاف بھڑکانا تھا، یہ کہہ کر کہ یہ شخص تمہیں تمہارے آباء…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : ایتنا بینات سے مراد قرآن حکیم ہے۔ رجل سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ آباء کم سے مراد تمہارے اسلاف ہیں یعنی تمہارے اسلاف جن بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ یہ من گھڑت بات ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ان میں سے کچھ نے کہا : یہ جادو ہے اور کچھ نے کہا : یہ من گھڑت بات ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–45

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم یقول للمئکۃ اھء لاء ایاکم کانوا یعبدون پھر ہم فرشتوں سے کہیں گے کیا یہ لوگ خاص کر تمہاری عبادت کرتے تھے یعنی یہ بطور استفہام کے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ءانت قلت للناس (المائدہ آیت 116) کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو) 2۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل کانوا یعبدون الجن (بلکہ یہ جنات کی عبادت کرتے تھے) یعنی شیاطین کی۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کی۔ آیت وما اتینہم من کتب یدرسونہا اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں کہ ان کو پڑھنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ [اور جب پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] اٰيٰتُنَا [ہماری آیات ] بَيِّنٰتٍ [واضح ہوتے ہوئے ] قَالُوْا [تو وہ لوگ کہتے ہیں ] مَا ھٰذَآ [نہیں ہے یہ ] اِلَّا رَجُلٌ [مگر ایک ایسا مرد ] يُّرِيْدُ [جو ارادہ رکھتا ہے ] اَنْ يَّصُدَّكُمْ [کہ وہ روک دے تو لوگوں کو ] عَمَّا [ان سے جن کی ] كَانَ يَعْبُدُ [بندگی کرتے تھے ] اٰبَاۗؤُكُمْ ۚ [تمہارے باب دادا ] وَقَالُوْا [اور وہ کہتے ہیں ] مَا ھٰذَآ [نہیں ہے یہ (قرآن)] اِلَّآ اِفْكٌ مُّفْتَرًى ۭ [مگر ایک گھڑا ہوا جھوٹ ] وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [اور وہ لوگ کہتے ہیں جنہوں نے انکار کیا ] لِلْحَقِّ [حق کا ] لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۙ [جب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 43–44

اس کے بعد مشرکین کی تکذیب والی باتیں نقل فرمائیں : (وَ اِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ ) (الآیۃ) اور جب ان پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ شخص (جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے) یہ تو بس ایک ایسا ہی آدمی ہے جو تمہیں ان چیزوں سے روکتا ہے جن کو تمہارے باپ دادے پوجتے تھے، اور دوسری بات یہ کہتے تھے کہ یہ تو ایک تراشا ہوا جھوٹ ہے، اور تیسری بات یہ کہتے تھے کہ محمد ( رسول اللہ ﷺ جو کچھ سناتے ہیں یہ تو کھلا ہوا جادو ہے، ان کے بارے میں فرمایا : (وَمَآ اٰتَیْنٰھُمْ مِّنْ کُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَھَا وَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمْ قَبْلَکَ مِنْ نَّذِیْرٍ ) (اور ہم نے انہیں کتابیں نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–45

عیش پرستوں کے ایک شبہ کا جواب قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں ان عیش پرستوں کے وبال اور نکال کا ذکر تھا کہ جو نبوت کے منکر تھے اب ان آیات میں ان عیش پرستوں کا ایک شبہ ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ متکبرین کی اس قسم کی باتوں سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں۔ مشرکین اور کفار اپنے مال و دولت کی کثرت پر فخر کرتے تھے اور اس کو اپنی مقبولیت کی دلیل قرار دیتے تھے ان آیات میں ان کے اس شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا کہ مال و دولت اور جاہ و حشمت اور کثرت اولاد کو اپنی مقبولیت اور افضلیت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

44:۔ واذا تتلی الخ : یہ شکوی ہے۔ مشرکین ضد وعناد میں اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ جب ان کے سامنے ہمارے پیغمبر ﷺ ہماری واضح اور روشن آیتیں پڑھتے ہیں تو ان میں غور فکر کرنے اور انہیں ماننے کے بجائے وہ کہتے ہیں کہ اصل میں یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمیں اپنے باپ دادا کے معبودوں اور ان کے دین سے ہٹا کر اپنے پیچھے لگا لے اور خود بڑا بن کر ہمیں اپنے ماتحت کرلے۔ وقالوا ما ھذا الخ : اور یہ جو قرآن پڑھتا ہے اور جو دین ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور یہ سب کچھ خدا کی طرف سے بتاتا ہے یہ سب اس کا اپنا ساختہ پرداختہ ہے۔ اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ وقال الذین الذین کفروا الخ : الحق سے نبوت اور معجزات مراد ہیں۔ للحق ای لامر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 40–45

ربط آیات گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ رسالت کا انکار عام طور پر آسودہ حال لوگ ہی کرتے تھے کیونکہ نبی کی سیادت کو تسلیم کرنے سے ان کی اپنی سرداری اور چودھراہٹ متاثر ہوتی تھی۔ اللہ نے خوشحالی کو اسباب گمراہی میں شمار کیا ہے۔ اللہ کے ہاں مقبولیت کا تعلق مال و دولت یا جہ و حشمت سے نہیں بلکہ ایمان اور اعمال صالحہ سے ہے۔ اللہ نے رزق کا قانون بھی بیان فرمایا کہ یہ تقسیم اس کے اپنے قبضہ قدرت میں ہے ، جس کا چاہے رزق وسیع کردے اور جس کا چاہے تنگ کردے۔ یہ تقسیم اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوتی ہے جسے مخلوق نہیں جان سکتی۔ مخلوق کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو زندگی کا لائحہ عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالُوْا مَا ھٰذَآ اِلَّا رَجُلٌ يُّرِيْدُ اَنْ يَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُكُمْ۝ 0 ۚ وَقَالُوْا مَا ھٰذَآ اِلَّآ اِفْكٌ مُّفْتَرًى۝ 0 ۭ وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَہُمْ۝ 0 ۙ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ۝ 43 تلو تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 37–45

اور مال و اولاد کہ جس پر تم کو تفاخر ہے، اللہ کے نزدیک اس سے تمہارا کوئی مرتبہ بلند نہیں ہوجاتا ہے۔ ایماندار اس دنیا میں مسافر ہے، اس کا گھر اوپر ہے، اس کا عیش و آرام اور اس کی زینت و تجمل کی ہمیشہ رہنے والی چیزیں وہیں ہیں، اس کی طرف اس جملہ میں اشارہ فرماتا ہے۔ الامن آمن وعمل صالحا الخ اور وہ اس غرور میں آکر یسعون فی آیتنا معاجزین ہماری آیات کے ابطال میں کوشش کرتے ہیں، وہ وہاں عذاب دائمی میں گرفتار رہیں گے۔ یہ مال و اولاد کچھ کام نہ آوے گا اور یہ بھی خیال نہ کرو کہ کفر کرنے سے دنیا ملتی ہے اور نیکوں کو یہاں کچھ ملتا ہی نہیں بلکہ کہہ دیجئے ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء الخ میرا رب جس کو چاہتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 43–44

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰـتُـنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَاھٰذَآ اِلاَّ رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّکُمْ عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُکُمْ ج وَقَالُوْا مَاھٰذَآ اِلَّآاِفْکٌ مُّفْتَرًی ط وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ لا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ وَمَآ اٰتَیْنٰـہُمْ مِّنْ کُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَھَآ وَمَآ اَرْسَلْنَـآ اِلَیْہِمْ قَبْلَـکَ مِنْ نَّذِیْرٍ ۔ (السباء : 43، 44) (جب انھیں ہماری روشن آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ تو محض ایک آدمی ہے جو چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں سے روک دے جن کو تمہارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں۔ اور وہ (یہ بھی) کہتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 43–45

فہم القرآن ربط کلام : توحید کی دعوت کے مقابلے میں مشرکین کا ردّ عمل۔ مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی آیات پڑھ کر سنائی جاتیں تو ان کے کئی قسم کے ردّعمل ہوا کرتے تھے۔ کبھی آپ ﷺ کو مجنون اور جادو گر قرار دیتے اور کبھی جادو زدہ کہتے تھے۔ کبھی جھوٹا ہونے کا الزام لگایا کرتے اور لوگوں کو باور کرانے کی کوشش کرتے کہ یہ آدمی اپنی طرف سے آیات بنا بنا کر ہمیں اپنے آباء و اجداد کے طریقۂ عبادت سے ہٹانا چاہتا ہے۔ جب دیکھتے کہ ہمارے تمام الزامات اور ہتھکنڈوں کے باوجود لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہوتے جارہیں ہیں تو یہ لوگ قرآن مجید کو کھلا جادو قرار دے دیتے۔ ان کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اس سے پہلے ان کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قرآن کو سحر کہنے والے شرک کے مدعی کس طرح بن بیٹھے : 43: وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ ٰایٰتُنَا (جب ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں) یعنی جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے۔ بَیِّنٰتٍ (جو صاف صاف ہیں) واضح ہیں۔ قَالُوْا (وہ کہتے ہیں) یعنی مشرکین مَا ھٰذَا ( نہیں ہے یہ) محمد ﷺ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّکُمْ عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ ٰابَآ ؤُکُمْ وَقَالُوْا مَا ھٰذَآ اِلَّآ اِفْکٌ مُّفْتَرًی وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (مگر یہ ایک ایسا شخص ہے جو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں ان چیزوں سے باز رکھے جن کی عبادت تمہارے بڑے کرتے تھے۔ اور کہتے ہیں کہ یہ محض تراشا ہوا جھوٹ ہے اور کافر کہتے ہیں) ھذا کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

43، واذتتلی علیھم آیاتنا بینات قالواماھذا، یعنی محمد (ﷺ) ، الا رجل یرید ان یصدکم عما کان بعبد اباء کم وقالواماھذا الا افک مفتری، یعنی یہ قرآن ، وقال الذین کفرواللحق لما جاء ھم ان ھذا الا سحرمبین، واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 43–45

43 تا 45۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف سے پہلے نہ کوئی کتاب عرب پر اتاری اور نہ آنحضرت ﷺ سے پیشتر کوئی رسول ان کی طرف بھیجا گیا عرب کے لوگ پہلے بہت چاہتے تھے اور کہتے تھے اگر کوئی ڈرانے والا ہمارے پاس آتا یا کوئی کتاب ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اور قوموں کی بہ نسبت زیادہ ہدایت پر ہوتے پھر جب خدا تعالیٰ نے رسول بھیجا اور کتاب بھیجی تو بغیر کسی سند کے اللہ کے رسول کو جھوٹا کہنا اور کتاب آسمانی کو جادو بتلانا ان لوگوں کی نادانی ہے پھر فرمایا ان سے پہلے ایسی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا ہے کہ دولت اور قوت کے حساب سے یہ لوگ ان پہلی قوموں کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 43–49

آیت 43 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرما رہا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیشکئے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے۔ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انہوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیا کرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 43–44

94 منکرین و معاندین کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان لوگوں کو ہماری کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص تم کو اپنے باپ دادا کے طریقوں سے روکنا چاہتا ہے "۔ یہ ہے نتیجہ وثمرہ، عناد و مکابرہ اور ضد و ہٹ دھرمی کا کہ حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود یہ لوگ اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب انکو ہماری ایسی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن سے حق پوری طرح واضح ہوجاتا ہے تو یہ اس کو ماننے اور قبول کرنے کی بجائے الٹا داعی حق کیخلاف اپنے عوام کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ اس طرح ایسے لوگ اپنی محرومی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–50

کفار کو غور وفکر کی دعوت تشریح : ان آیات میں کفار مکہ کو دعوت ایمان دی گئی ہے مگر ہمیشہ کی طرح یہی اعتراضات کہ نبی جھوٹا ہے ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے مذہب سے ہٹانا چاہتا ہے۔ دوسرا بڑا اعتراض کہ یہ قرآن اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب نہیں بلکہ خود اپنے پاس سے ہی بنالی گئی ہے۔ تیسری بات یہ کہ سب کچھ جادو ہے۔ یہی سب باتیں ہر زمانے میں ہر پیغمبر کو سننی پڑی تھیں۔ لوگ اسی طرح پیغمبر کو جھٹلاتے جادوگر کہتے، مجنوں کہتے اور پھر خوب اذیتیں دیتے بلکہ بہت سے تو اپنے پیغمبروں کو قتل ہی کردیتے۔ یہی کچھ نبی ﷺ کے ساتھ ان کے ہم وطنوں نے کیا۔ مندرجہ بالا آیات میں انہی کے حالات، خیالات، اعتقادات اور اعمال کا ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 37–45

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 37 ۔ تا۔ 45 اسرار و معارف : دنیا کی نعمتوں میں مال اور اولاد بیشک بہت بڑی نعمت ہیں لیکن یہ سب کچھ طاقتور اقتدار اور صحت وغیرہ سب عظیم نعمتیں ہیں مگر انہیں اللہ کی رضا مندی کی دلیل سمجھ لینا سب سے بڑی جہالت ہے کہ یہ سب سب کچھ تو کفار و مشرکین کے پاس بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنی حکمت سے تقسیم فرماتا ہے اور اس کی حکمت سے وہ خود ہی واقف ہے ہاں اس کی رضامندی کی دلیل یہ ہے کہ ایمان کامل نصیب ہو اور نیک اعمال کی توفیق ارزاں ہو ایسے لوگوں کو یقینا ان کے اعمال سے کئی گنا زیادہ اجر دیا جائے گا اور یہ لوگ خوبصورت بالا خانوں کے جھروکوں میں مزے سے بیٹھے ہوں گے بغیر کسی قسم کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی کبھی تو قرآن کے متعلق کہتے کہ یہ جھوٹ جو خدا سے غلط طور پر منسوب کردیا گیا اور کبھی اسے جادو بتاتے یا ھذا کا ارشاد توحید کیط طرف ہو یعنی یہ کہ توحید کا دعویٰ محض جھوٹ ہے اور یہ قرآن جادو ہے۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں کہ توحید سے انکار تو صرف مشرکین ہی کرتے تھے لیکن قرآن اور معجزات سے انکار مشرکین اور اہل کتاب دونوں کرتے تے اس لئے ” کفروا “ کا لفظ دونوں کو شامل ہے۔ ( کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:43) ما ھذا میں ما نافیہ ہے نہیں ہے یہ (شخص) ۔ ان یصدکم ان صدریہ ہے۔ یصد مضارع منصوب (بوجہ عمل ان ، واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر کہ روک دے تمہیں۔ عما۔ ان سے جنہیں۔ یہ مرکب ہے عن اور ما سے۔ افک۔ جھوٹ۔ بہتان، کسی شی کا اس کی اصل جانب سے منہ پھرنے کا نام افک ہے۔ پس جو بات اپنی اصلی صورت سے پھر گئی اس کو افک کہیں گے جھوٹ اور بہتان میں چونکہ یہ صفت بدرجہ تم موجود ہے اس لئے ان کو افک کہا گیا ہے۔ مفتری۔ اسم مفعول افتراء (افتعال) مصدر۔ فری مادہ۔ خود ساختہ۔ خود گھڑا ہوا۔ للحق۔ ای للقران۔ ان ھذا میں ان نافیہ ہے اور ھذا سے مراد یا الحق ہے یا القرآن۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 39–45

لغات القرآن : آیت نمبر 39 تا 45 یخلف : کسی چیز کے بعد دیتا ہے تتلی : تلاوت کی گئی یصد : وہ روکتا ہے افک : جھوٹ مفتری : گھڑا ہوا۔ بنا یا ہوا یدرسون : وہ پڑھتے ہیں بلغوا : وہ پہنچے معشار : دسواں حصہ نکر : عذاب تشریح آیت نمبر 39 تا 45 اللہ تعالیٰ عزت و سر بلندی اور قربت و نجات ان لوگوں کو عطا کرتا ہے جو اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ انہیں جو کچھ دیا گیا ہے اس کی وہ قدر کرتے ہیں ۔ اللہ کی طرف سے جو احکامات نازل کئے گئے ہیں اس کی پابندی کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گذارتے ہیں ۔ وہ مال و دولت کی کثرت اور کمی کو ایک آزمائش سمجھتے ہیں اللہ کے نزدیک یہی کامیاب اور با…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 43–45

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف سے پہلے نہ کوئی کتاب ان عرب پر اتاری اور نہ نبی ﷺ سے پہلے کوئی رسول انکی طرف بھیجا گیا عرب کے لوگ پہلے چاہتے تھے کہ اور کہتے تھے کہ اگر کوئی ڈرانے والاہمارے پاس آتایا کوئی کتاب ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اور قوموں کی نسبت زیادہ ہدایت پر ہوتے ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو بھیجا، اور قرآن بھیجا تو بغیر کسی سند کے اللہ کے رسول کو جھوٹا کہنا اور آسمانی کتاب کو جادو بتلانا ان لوگوں کی نادانی ہے پھر فرمایا ان سے پہلے ایسی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا ہے کہ دولت اور قوت کے حساب سے یہ لوگ پہلی قوموں کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جب اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[30] یعنی قرآن جس کی تاثیر لوگوں کے دلوں پر غیر معمولی ہوتی ہے۔ صریح جادو کے سوا اور کچھ نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–43

تقلید آباء قرآن حکیم اپنے مطالب کی وضاحت میں اور دلائل کے استحکام میں بےنظیر کتاب ہے ۔ حضور ﷺ کی نبوت اس درجہ تابان اور روشن ہے کہ اس میں شک وشبہ قطعاً راہ نہیں پاسکتا ۔ بالخصوص ان لوگوں کے لئے جنہوں نے یہ معجزہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو کہ کیونکر ایک شخص چالیس سال کی عمر کے بعد الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور یکایک فلسفہ و حکمت کے دریا بہانے لگتا ہے ۔ وہ جو کتاب پیش کرتا ہے شیریں ہے ۔ اس کی تعلیم دل میں اترجانے والی ہے ۔ اور خواب عفلت سے چونکا دینے والی ہے ۔ اس کا انداز بیان بالکل نرالا اور اچھوتا ہے اس کو پیش کرنے والا صادق القول اور صحیح العقل ہے اس کا چہرہ سچائی کے نور سے چراغ کی طرح روشن…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(43) اور ان منکرین دین حق کے سامنے جب ہماری واضح اور روشن آیات پڑھی جاتی ہیں تو پیغمبر ﷺ کے بارے میں یہ منکر لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ کچھ نہیں محض ایک آدمی ہے جو یہ چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں کی پرستش اور ان معبودوں کی پوجا سے روک دے اور باز رکھے جن کو تمہارے بڑے بوڑھے اور تمہارے باپ دادا پوجا کرتے تھے اور قرآن کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ قرآن کچھ نہیں محض ایک جھوٹ ہے گھڑا ہوا اور یہ منکر اس امر حق کے متعلق جب وہ امر حق ان کے پاس پہچا یوں کہتے ہیں کہ یہ کچھ نہیں صرف ایک صریح جادو ہے۔ یعنی نہ پیغمبر خدا ﷺ کو نبی اور خدا کا فرستادہ مانتے ہیں آپ کی نبوت سے انکار کرتے ہیں بلکہ یوں کہتے ہیں یہ ایک آدمی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 43–44

ف 1۔ مطلب ان کمبختوں کا یہ تھا کہ یہ نبی نہیں، اور ان کی دعوت من جانب اللہ نہیں بلکہ اس میں خود ان کی ذاتی غرض ریاست کی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبی اعظم وآخر ﷺ پر الزام اور اس کا وضاحت سے جواب 43 ۔ ” اور جب ہماری واضح آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ جن کی تمہارے باپ دادا پرستش کرتے تھے ان سے تم کو روک دے “۔ غور کرو کہ بات کہنے والے کون لوگ ہیں جو اس وقت مترفین ، سردار ، صاحب دولت و ثروت لوگ تھے اور ان کے سیاسی اور مذہبی پیشوا اور اسلام کی زبان میں ظالم اور مشرک لیکن انہوں نے بات کتنی سچی کہہ دی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بعض اوقات انسان کتنا ہی برا ، ظالم اور مشرک کیوں نہ ہو لیکن وہ سچی بات بھی کہہ دیتا ہے اور جو بات کسی نے سچی کہی ہو اس کو ہر حال میں سچ ہی کہنا چاہیے اگرچہ وہ سچ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–45

Commentary The word: مِعْشَارَ‌ (mi'shar) in verse 45: وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ‌ مَا آتَيْنَاهُمْ (while these (infidels of Makkah) have not reached even one tenth of what We gave to those (before them) has been taken to mean: عُشُر ('ushr: a tenth) by some early commentators. Some scholars have interpreted it as: عُشرُ العُشر (ushr-ul-` ushr: a hundredth) while others call it: عُشرُ العَشِیر (` ushr-ul ` ashir: a thousandth). Obviously, the later has a higher degree of exaggeration as compared to 'ushr or ten. The sense of the verse is that not even a tenth, rather a thousandth, of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–43

63 In this sentence, jinn implies the satans among the jinns. The answer means: "Apparently these people worshipped us, by mentioning our names and by making our images according to their imaginations. But, in fact, they did not worship us but worshipped the satans, for the satans only had shown them the way that they should regard others than Allah as fulfillers of their needs, and should make offerings before them. " This verse clearly brings out the error of the view of those people who take the word "jinn" to mean the dwellers of the mountains and deserts and rural areas. Can a sensible…

Read the full tafseer →