Saba 34:42

Saba · from ayah 42

34:42

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّلَا ضَرًّا ؕ— وَنَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ ۟فَالۡيَوۡمَ لَا يَمۡلِكُ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ؕ وَنَـقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِىۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ

تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

But today you do not hold for one another [the power of] benefit or harm, and We will say to those who wronged, "Taste the punishment of the Fire, which you used to deny."

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:42

(اُس وقت ہم کہیں گے کہ) آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آج تم میں سے کوئی (بھی) کسی کے لئے (بھی کسی قسم کے) نفع نقصان کا مالک نہ ہوگا۔ اور ہم ﻇالموں سے کہہ دیں گے کہ اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے رہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے، نہ نقصان پہنچانے کا۔ اور جن لوگوں نے ظلم کی روش اختیار کی تھی، ان سے ہم کہیں گے کہ : اس آگ کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو آج تم میں ایک دوسرے کو بھلے برے کا کچھ اختیار نہ رکھے گا او رہم فرمائیں گے ظالموں سے اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آج کے دن تم میں سے کوئی نہ ایک دوسرے کے نفع کا مالک ہے اور نہ نقصان کا، اور ہم ظالموں سے کہیں گے: دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو آج تمہارا کوئی کسی کے لیے نہ نفع کا مالک ہے اور نہ نقصان کا اور ہم ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے ظلم کیا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اس وقت ہم کہیں گے کہ) آج تم میں سے کوئی بھی دوسرے کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا اور ظالموں سے ہم کہیں گے کہ اس آگ کا مزا چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس آج تم میں سے کوئی ایک دوسرے کو نہ تو کوئی نفع پہنچا سکتے گا اور نہ نقصان۔ اور ہم ان ظالموں سے کہیں گے کہ اب اس دوزخ کے عذاب کا مزا چکھو جس کو جھٹلاتے رہے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو (اس موقع پر ان سے کہا جائے گا کہ) اب نہ تم میں سے کوئی کسی کے نفع کا اختیار رکھتا ہے نہ نقصان کا اور (اس روز) ہم کہیں گے ان لوگوں سے جو (دنیا میں) اڑے رہے ہوں گے اپنے ظلم پر کہ اب چکھو تم مزہ اس آگ کے عذاب کا جس کو تم لوگ (دنیا میں) جھٹلایا کرتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

سو آج تم میں سے کوئی کسی کو نہ نفع پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے اور نہ نقصان پہنچانے کا اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو آج کے دن تم میں سے کوئی کسی دوسرے کے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا نہ نفع کا اور نہ نقصان کا } اور ہم کہیں گے ان ظالموں سے کہ اب چکھو اس آگ کے عذاب کا مزا جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے، مزہ چکھو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Today none of you has the power to benefit or harm another; and We shall say to the evil-doers: “Taste now the chastisement of the Fire which you used to deny, calling it a lie.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, you have no power today to benefit or harm one another, and We will say to the wrongdoers, :Taste the punishment of the Fire that you used to deny.

— Muhammad Taqi Usmani

So, you have no power today to benefit or harm one another, and We will say to the wrongdoers, :Taste the punishment of the Fire that you used to deny.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So Today, none of you can profit or harm one another. And We shall say to those who did wrong: "Taste the torment of the Fire which you used to deny."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That day ye will possess no use nor hurt one for another. And We shall say unto those who did wrong: Taste the doom of the Fire which ye used to deny.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But today you do not hold for one another [the power of] benefit or harm, and We will say to those who wronged, "Taste the punishment of the Fire, which you used to deny."

— Saheeh International

None of them can help or harm each other on this day. We shall tell the unjust ones, "Suffer the torment of the fire which you had called a lie."

— Muhammad Sarwar

So on that day one of you shall not control profit or harm for another, and We will say to those who were unjust: Taste the chastisement of the fire which you called a lie.

— Muhammad Habib Shakir

To-day ye own not for one another either benefit or hurt. And We shall say Unto those who did wrong: taste the torment of the Fire which ye were wont to belie.

— Abdul Majid Daryabadi

So on that Day no power shall they have over each other, for profit or harm: and We shall say to the wrong-doers, "Taste ye the Penalty of the Fire,- the which ye were wont to deny!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 40–42

مشرکین سے سوال۔ مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کیلئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہوگا۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں۔ سوال ہوگا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا ؟ جیسے سورة فرقان میں ہے (ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ 17؀ۭ) 25۔ الفرقان :17) یعنی کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا ؟ یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے ؟ حضرت عیسیٰ ؑ سے یہی سوال ہوگا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا ؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزا وار نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 41–43

سورة سَبـَا 62 یعنی وہ جواب دیں گے کہ حضور کی ذات اس سے منزہ اور بالا تر ہے کہ کوئی دوسرا خدائی و معبودیت میں آپ کا شریک ہو۔ ہمارا ان لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ ہم ان سے اور ان کے افعال سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو حضور کے بندے ہیں۔ سورة سَبـَا 63 اس فقرے میں جن سے مراد شیاطین جن ہیں۔ فرشتوں کے اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر تو یہ ہمارے نام لے کر، اور اپنے تخیلات کے مطابق ہماری صورتیں بنا کر گویا ہماری عبادت کرتے تھے، لیکن دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ شیا طین کی بندگی کر رہے تھے، کیونکہ شیاطین ہی نے ان کو یہ راستہ دکھایا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا حاجت روا سمجھو اور ان کے آگے نذر و نیاز پیش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–42

خلاصہ تفسیر اور (وہ دن قابل ذکر ہے) جس روز اللہ تعالیٰ ان سب کو (میدان قیامت میں) جمع فرمائے گا، پھر فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے (ملائکہ سے یہ سوال مشرکین کو لاجواب کرنے کے لئے ہوگا، جو ملائکہ اور غیر الملائکہ کو اس خیال سے پوجتے تھے کہ یہ راضی ہو کر ہماری شفاعت کریں گے، جیسے ایک آیت میں اس طرح کا سوال حضرت عیسیٰ ؑ سے کیا گیا ہے، (آیت) أانت قلت للناس۔ مطلب سوال کا یہ ہے کہ کیا تمہاری رضا سے تمہاری عبادت کیا کرتے تھے، ونیز جواب میں بھی اسی قید کا قرینہ ہے جیسا ترجمہ جواب سے معلوم ہوگا) وہ (اول حق تعالیٰ کا شریک سے بالاتر اور پاک ہونا ظاہر کرنے کے لئے) عرض…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولا ضرا۔ ونقول للذین ظلموا ذوق عذاب النار التی کتن بھا تکذبون (42) یعنی فرشتوں کے اس جواب کے بعد ان کے پجاریوں سے کہہ دی جائے گا کہ تمہارا سارا اعتماد جن فرشتوں پر تھا ان کی گواہی تم نے علی رودس الشہاد سن لی۔ پس آج کے دن کوئی بھی ایک دوسرے کے کام آنے والا نہ بن سکے گا۔ نہ وہ تمہیں کوئی نفع یا ضرر پہنچا سکتے اور نہ تم ان کو۔ ’ ونقول للذین ظلموا ذوقا……میں الذین ظلموا۔ سے مشرکین مراد ہیں۔ جنہوں نے بےدلل خدا کے شریک بنا کر ظلم عظیم کا ارتکاب کیا اور جب پیغمبر نے ان کو خدا کے عذاب سے ڈایا تو انہوں نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کی تکذیب کی۔ فرمایا کہ اس آخرت اتمامِ حجت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 یعنی دنیا میں تم یہ سمجھ کر ان کی عبادت کرتے تھے کہ یہ تمہیں فائدہ پہنچائیں گے، تمہاری سفارش کریں گے اور اللہ کے عذاب سے تمہیں نجات دلوائیں گے جیسے آج بھی پیر پرستوں اور قبر پرستوں کا حال ہے لیکن آج دیکھ لو کہ یہ لوگ کسی بات پر قادر نہیں۔ 42۔ 2 ظالموں سے مراد، غیر اللہ کے پجاری ہیں،۔ کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور مشرکین سب سے بڑے ظالم۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–43

19: یہاں جنات سے مراد شیاطین ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ شیاطین سے بہت سے کام نکالا کرتے تھے، اور ان کے کہنے پر عمل کرتے تھے، انہوں نے ہی ان کو شرک کا عقیدہ بجھایا تھا، اس لیے حقیقت میں یہ شیاطین کی عبادت کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 40–42

ویوم یحشرھم جمیعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنتم بھا تکذبون (40 – 42) ان فرشتوں کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے یا ان کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ اب ان کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ گویا یہ بندگی اور عبادت ان کی جانب سے لغو اور کالعدم حرکت تھی۔ گویا یہ ہوئی ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بندگی دراصل شیطان کی بندگی کرتے تھے تو گویا شیطان کی بندگی کرتے تھے۔ جنوں کی بندگی تو عربوں میں ۔۔۔ تھا۔ بعض لوگ ایسے تھے جو جنوں کی بندگی بھی کرتے تھے اور ان سے استعانت بھی کرتے تھے۔ بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون (34:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی آج عابد اور معبود دونوں کا عجز واضح ہوگیا کہ کوئی کسی کو ذرہ بھر نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ جن معبودین کا بڑا سہارا سمجھتے تھے انہوں نے اس طرح وقت پر بیزاری ظاہر کردی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42 { فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّلَا ضَرًّا } ”تو آج کے دن تم میں سے کوئی کسی دوسرے کے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا ‘ نہ نفع کا اور نہ نقصان کا“ { وَنَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ کُنْتُمْ بِہَا تُکَذِّبُوْنَ } ”اور ہم کہیں گے ان ظالموں سے کہ اب چکھو اس آگ کے عذاب کا مزا جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

65 اس وقت اللہ کے حضور فرشتے بھی موجود ہوں گے، مشرکین بھی اور شیاطین بھی۔ اور یہ سب کے اللہ کے سامنے محکوم اور بےبس ہوں گے۔ فرشتے بھی مشرکوں سے بیزار اور شیاطین بھی اور مشرک فرشتوں کے جواب کی وجہ سے ان سے بھی بیزار اور شیطانوں سے بھی جنہوں نے انہیں شرک کی راہ پر ڈالا تھا۔ گویا ہر ایک کو دوسرے سے بیزاری بھی ہوگی اور ہر ایک بےبس بھی ہوگا تو اس صورت میں دوسرے کو کیا فائدہ پہنچا سکے گا اور کیوں فائدہ پہنچائے گا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

59۔ یعنی اس روز مشرکوں کو نظر آجائے گا کہ جیسے عاجز وبے حس وہ خود ہیں ویسے ہی ان کے دیوی دیوتا بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–45

آیت نمبر 37 تا 45 ترجمہ : اور تمہارے مال و اولاد ایسی چیز نہیں جو تم کو ہمارا مقرب بنادیں، ہاں ! جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے مثلاً نیک اعمال کی جزاء دس گنا یا اس سے بھی زیادہ اور وہ جنت کے بالا خانوں میں موت وغیرہ سے بےخوف ہوں گے اور ایک قراءت میں اَلغُرْفَۃُ ہے اور یہ معنی میں جمع کے ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں قرآن کے باطل کرنے کی تگ ودو میں ہم کو عاجز سمجھ کر لگے رہتے ہیں، یہ سمجھ کر ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، یہی ہیں وہ جو عذاب میں پکڑ کر حاضر کئے جائیں گے، آپ کہہ دیجئے میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے روزی امتحاناً کشادہ کردیتا ہے اور اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولا ضرا . اس روز نہ کوئی کسی کو نفع پہنچانے کا اختیار رکھے گا نہ ضرر پہنچانے کا۔ یعنی کوئی مخلوق جن ہو یا انسان یا ملائکہ ‘ دوسرے کو نفع پہنچانے یعنی ثواب دینے یا شفاعت کرنے کا اختیار رکھے گا نہ عذاب دینے کا کیونکہ (اس روز) یہ سارے معاملات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوں گے۔ ونقول للذین ظلموا ذوقوا عذاب النار التی کنتم بھا تکذبون . اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ (اب) آگ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو (دنیا میں) تم جھوٹ قرار دیتے تھے۔ (ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو بےمحل رکھنا یا بےمحل استعمال کرنا) کافر عبادت کا عمل بےمحل کرتے ہیں (ان کے سوا دوسروں کی پوجا کرتے ہیں) اس لئے ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

غرض کہ قیامت کے دن فرشتوں اور جنات میں سے کوئی سفارش کر کے نہ ان کو نفع پہنچائے گا اور نہ ان سے عذاب ہی کو دور کرے گا اور اس روز ہم مشرکین سے کہیں گے کہ دنیا میں تم جس عذاب کو جھٹلایا کرتے تھے کہ وہ نہیں ہوگا اب اس کا مزہ چکھو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَالْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّلَا ضَرًّا : یہ فرشتوں اور ان کی عبادت کرنے والوں دونوں سے خطاب ہے۔ یعنی دنیا میں یہ لوگ یہ سمجھ کر تمہاری عبادت کرتے تھے کہ تم انھیں کوئی فائدہ پہنچاؤ گے، یا نقصان سے بچا لو گے اور اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھو گے، جیسے آج کل پیر پرستوں اور قبر پرستوں کا حال ہے، مگر آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے نہ نقصان سے بچانے کا۔ عابد و معبود دونوں عاجز ہیں، جیسا کہ فرمایا : (ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ) [ الحج : 73 ]”کمزور ہے مانگنے والا اور وہ بھی جس سے مانگا گیا۔“ وَنَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تفعا سے مراد شفاعت اور نجات ہے ضرا سے مراد عذاب اور ہلاکت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : فعشتے اپنی عبادت کرنے والوں سے تکلیف دور نہیں کرسکتے مضاف کو حذف کردیا گیا، یعنی اصل میں دفع ضر تھا۔ یہ جائز ہے کہ قائل اللہ تعالیٰ کی ذات ہو فرشتے ہوں وہ کہیں : ذوقوا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–45

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم یقول للمئکۃ اھء لاء ایاکم کانوا یعبدون پھر ہم فرشتوں سے کہیں گے کیا یہ لوگ خاص کر تمہاری عبادت کرتے تھے یعنی یہ بطور استفہام کے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ءانت قلت للناس (المائدہ آیت 116) کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو) 2۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل کانوا یعبدون الجن (بلکہ یہ جنات کی عبادت کرتے تھے) یعنی شیاطین کی۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کی۔ آیت وما اتینہم من کتب یدرسونہا اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں کہ ان کو پڑھنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَالْيَوْمَ [پس آج کے دن ] لَا يَمْلِكُ [اختیار نہیں رکھتا ] بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ [تمہارا کوئی کسی کے لئے ] نَّفْعًا وَّلَا ضَرًّا ۭ[کسی نفع کا اور نہ کسی تکلیف کا ] وَنَقُوْلُ [اور ہم کہیں گے ] لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا [ان لوگوں سے جنھوں نے ظلم کیا ] ذُوْقُوْا [تم لوگ چکھو ] عَذَابَ النَّارِ الَّتِيْ [اس آگ کے عذاب کو ] كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ [تم لوگ جس کو جھٹلایا کرتے تھے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

چونکہ مشرکین غیر اللہ کی عبادت اس عقیدہ سے بھی کرتے تھے کہ وہ آخرت میں سفارش کریں گے اور عذب سے بچالیں گے، اس لیے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا) (سو آج تم میں سے بعض بعض کے کسی نفع یا ضرر کا مالک نہیں) لہٰذا غیر اللہ کی عبادت کرکے جو امیدیں باندھ رکھی تھیں وہ سب جھوٹی نکلیں اور اپنے بنائے ہوئے خیال سب باطل نکلے۔ (وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَاب النَّارِ الَّتِیْ کُنْتُمْ بِھَا تُکَذِّبُوْنَ ) (اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کو چکھ لو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ )

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–45

عیش پرستوں کے ایک شبہ کا جواب قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں ان عیش پرستوں کے وبال اور نکال کا ذکر تھا کہ جو نبوت کے منکر تھے اب ان آیات میں ان عیش پرستوں کا ایک شبہ ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ متکبرین کی اس قسم کی باتوں سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں۔ مشرکین اور کفار اپنے مال و دولت کی کثرت پر فخر کرتے تھے اور اس کو اپنی مقبولیت کی دلیل قرار دیتے تھے ان آیات میں ان کے اس شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا کہ مال و دولت اور جاہ و حشمت اور کثرت اولاد کو اپنی مقبولیت اور افضلیت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

43:۔ فالیوم الخ : آج تمہارے یہ مزعومہ معبود اور سفارشی تمہیں کسی قسم کا نفع نہیں پہنچا سکیں اور نہ تمہیں عذاب ہی سے بچا سکیں گے۔ اس لیے آج جہنم کے اس ہولناک عذاب کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے ای لا یقع لکم نفع ممن کنتم ترجون نفعہ الیوم من الانداد والاوثان التی ادخرتم عبادتہا لشدائدکم و کر بکم الیوم لا یملکون لکم نفعا ولا ضرا (ابن کثیر ج 3 ص 542) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 40–45

ربط آیات گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ رسالت کا انکار عام طور پر آسودہ حال لوگ ہی کرتے تھے کیونکہ نبی کی سیادت کو تسلیم کرنے سے ان کی اپنی سرداری اور چودھراہٹ متاثر ہوتی تھی۔ اللہ نے خوشحالی کو اسباب گمراہی میں شمار کیا ہے۔ اللہ کے ہاں مقبولیت کا تعلق مال و دولت یا جہ و حشمت سے نہیں بلکہ ایمان اور اعمال صالحہ سے ہے۔ اللہ نے رزق کا قانون بھی بیان فرمایا کہ یہ تقسیم اس کے اپنے قبضہ قدرت میں ہے ، جس کا چاہے رزق وسیع کردے اور جس کا چاہے تنگ کردے۔ یہ تقسیم اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوتی ہے جسے مخلوق نہیں جان سکتی۔ مخلوق کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو زندگی کا لائحہ عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَالْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّلَا ضَرًّا۝ 0 ۭ وَنَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِہَا تُكَذِّبُوْنَ۝ 42 ملك ( مالک) فالمُلْك ضبط الشیء المتصرّف فيه بالحکم، والمِلْكُ کالجنس للمُلْكِ ، فكلّ مُلْك مِلْك، ولیس کلّ مِلْك مُلْكا . قال : قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وقال : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 37–45

اور مال و اولاد کہ جس پر تم کو تفاخر ہے، اللہ کے نزدیک اس سے تمہارا کوئی مرتبہ بلند نہیں ہوجاتا ہے۔ ایماندار اس دنیا میں مسافر ہے، اس کا گھر اوپر ہے، اس کا عیش و آرام اور اس کی زینت و تجمل کی ہمیشہ رہنے والی چیزیں وہیں ہیں، اس کی طرف اس جملہ میں اشارہ فرماتا ہے۔ الامن آمن وعمل صالحا الخ اور وہ اس غرور میں آکر یسعون فی آیتنا معاجزین ہماری آیات کے ابطال میں کوشش کرتے ہیں، وہ وہاں عذاب دائمی میں گرفتار رہیں گے۔ یہ مال و اولاد کچھ کام نہ آوے گا اور یہ بھی خیال نہ کرو کہ کفر کرنے سے دنیا ملتی ہے اور نیکوں کو یہاں کچھ ملتا ہی نہیں بلکہ کہہ دیجئے ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء الخ میرا رب جس کو چاہتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَالْیَوْمَ لاَ یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّلاَ ضَرًّا ط وَنَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِالَّتِیْ کُنْتُمْ بِہَا تُکَذِّبُوْنَ ۔ (السباء : 42) (پس آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، نہ نقصان، اور ہم ان ظالموں سے کہیں گے کہ اب چکھو اس جہنم کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ) فرشتوں کی گواہی کے بعد پروردگار کا حکم مشرکین کی بات سے فرشتوں کی براءت کے بعد پروردگار مشرکین سے فرمائے گا کہ تم زندگی میں جو کچھ کرتے رہے ہو، نجات کے لیے تمہارا سارا اعتماد فرشتوں پر تھا کہ وہ تمہاری شفاعت کریں گے۔ اب جبکہ تم نے ان کا جواب سن لیا اور انھوں نے تمہارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 40–42

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں مال کو کفر و شرک کا ایک سبب قرار دیا ہے جس پر اترا کر لوگ کفر و شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس کے بعد مال کا انجام ذکر کیا اور اس کے ساتھ ہی نیکو کار مخیرحضرات کا تذکرہ فرمایا کہ وہ جو خرچ کرتے ہیں انہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب ان مشرکوں کا عقیدہ اور انجام ذکر کیا جاتا ہے جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ مشرکین میں ہمیشہ سے ایک طبقہ ایسا رہا ہے جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتا اور ان سے مدد طلب کرتا ہے ان کا کہنا ہے کہ قیامت کے دن ملائکہ ہماری سفارش کریں گے۔ ایسے لوگوں کے سامنے ملائکہ کو کھڑے کر کے سوال کیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

42: فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّلاَ ضَرًّا (پس آج کے دن تم میں سے نہ کوئی کسی کو نفع پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے اور نہ نقصان پہنچانے کا) کیونکہ اختیار تمام تر اللہ تعالیٰ وحدہ ہی کے لئے ہے۔ اس میں کوئی کسی کیلئے ذرہ بھر منفعت و ذرہ بھر نقصان کا اختیار نہیں رکھتا اس لئے کہ یہ ثواب و عقاب کی جگہ ہے اور ثواب دینے اور سزا دینے والا وہ خود ہے۔ پس اس جہان کی حالت دنیا کی حالت سے بہت مختلف ہے۔ کیونکہ دنیا دار التکلیف ہے۔ اور لوگوں کو دنیا میں آزادانہ طور پر ایک دوسرے سے نفع اٹھانے اور پہنچانے اور نقصان دینے اور دلانے کا پورا اختیار حاصل ہے۔ مراد یہ ہے کہ اس دن اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42، فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا، نہ شفاعت کے ذریعے سے نفع دے سکیں گے۔ ، ولا ضرا، نہ عذاب ۔ مراداس سے یہ ہے کہ وہ اس بات سے عاجز ہیں نہ وہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان ۔ ، ونقول للذین ظلمواذوقواعذاب النار التی کنتم بھاتکذبون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–42

40 تا 42۔ اوپر گزر چکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگوں میں کا ایک گروہ فرشتوں کی مورتوں کی پوجا اس اعتقاد سے کیا کرتا تھا کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشت اپنی پوجا کرنے والوں کی شفاعت بارگاہ الٰہی میں کر کے انہیں عذاب دوزخ سے بچالیں گے اس کے جواب میں فرمایا کہ جس دن ان فرشتہ پر ستوں کو سب مخلوقات کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو ان کے قائل کرنے کے لیے فرشتوں سے خفگی کے طور پر اللہ تعالیٰ یہ دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری مورتوں کی دنیا میں پوجا کیا کرتے تھے اللہ کے فرشتے یہ بات سن کر عرض کریں گے یا اللہ تو اس سے پاک ہے کہ تیرے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہو تو ہمارا کارساز ہے اور ہم تیرے بندے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 42 (ویوم یحشرھم جمیعاً ) ” اور وہ جس دن ان سب کو جمع کرے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیر اللہ یعنی فرشتوں وغیرہ کی عبادت کرنے والے مشرکین اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کرے گا۔ (ثم یقول للملئکۃ) ” پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا “ مشرکین کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے (اھولآء ایاکم کانوا یعبدون) ” کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے “ اور وہ جواب میں ان مشرکین کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ (قالوا سبحنک) ” وہ کہیں گے : تو پاک ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس چیز سے تنزیہ و تقدیس کرتے ہوئے کہ اس کا کوئی شریک یا ہمسر ہو، کہیں گے : (انت و لینا من دونھم) ” ہمارا سرپرست اور والی تو ہی ہے نہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–54

اسلام میں مصوری کی ممانعت قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔ نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

93 فرشتوں کے پجاریوں کے لیے مایوس کن اعلان : سو فرشتوں کے اس جواب کے بعد ان کے پجاریوں سے کہا جائے گا کہ فرشتوں کا صاف جواب تم نے خود سن لیا۔ سو اب نہ تم میں سے کوئی کسی کے نفع کا اختیار رکھتا ہے نہ نقصان کا۔ یعنی تم نے جو سمجھ رکھا تھا کہ ہم اللہ کے ان پیاروں کی عبادت و بندگی کرتے رہیں گے اور یہ کل ہمیں اللہ تعالیٰ کے یہاں چھڑوا دیں گے کہ ان کی بات کو وہ رد نہیں کرتا تو آج اس طرح کی کوئی چیز بھی تمہیں نصیب نہ ہوسکی۔ آج سب معاملہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے اذن کے بغیر کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ (المراغی، وغیرہ) ۔ سو فرشتوں کے اس جواب اور اس اظہار براءت کے بعد ان پجاریوں سے کہہ دیا جائے گا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–42

مشرکین اللہ کے سامنے تشریح : یہاں ان مشرکین کا ذکر ہے جو غلط تعلیم و تربیت کی وجہ سے مشرک بنے رہے۔ ایسے لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ کوئی فرشتہ کوئی دیوی، کوئی دیوتا تمہیں اس آگ کے عذاب سے ہرگز نہ بچاسکے گا جس کا ذکر دنیا میں بیشمار دفعہ ہوتا رہا ہے اور تم نے نہ توجہ دی نہ اس کو سچ سمجھا۔ قیامت کے دن یہ چیزیں یعنی اللہ کے سوا ان کے بنائے ہوئے معبود مثلاً جن، دیو، پتھر وغیرہ وغیرہ، ان کے نہ تو کچھ کام آسکیں گے نہ اور نہ ہی عذاب سے بچا سکیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں اللہ ہے مگر پوجتے غیروں کو ہیں اور انہیں ہی اپنا مشکل کشا، حاجت روا، بگڑی بنانے والا، اولاد دینے ولا سمجھتے ہیں اور پھر انہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 37–45

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 37 ۔ تا۔ 45 اسرار و معارف : دنیا کی نعمتوں میں مال اور اولاد بیشک بہت بڑی نعمت ہیں لیکن یہ سب کچھ طاقتور اقتدار اور صحت وغیرہ سب عظیم نعمتیں ہیں مگر انہیں اللہ کی رضا مندی کی دلیل سمجھ لینا سب سے بڑی جہالت ہے کہ یہ سب سب کچھ تو کفار و مشرکین کے پاس بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنی حکمت سے تقسیم فرماتا ہے اور اس کی حکمت سے وہ خود ہی واقف ہے ہاں اس کی رضامندی کی دلیل یہ ہے کہ ایمان کامل نصیب ہو اور نیک اعمال کی توفیق ارزاں ہو ایسے لوگوں کو یقینا ان کے اعمال سے کئی گنا زیادہ اجر دیا جائے گا اور یہ لوگ خوبصورت بالا خانوں کے جھروکوں میں مزے سے بیٹھے ہوں گے بغیر کسی قسم کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی تم میں سے کوئی شخص نہ دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان، جیسا کہ یہ لوگ دنیا میں سمجھا کرتے تھے کہ ہم اپنے دیوتائوں یا بزرگوں یا پیروں کا دامن تھام لیں گے اور خدا کی پکڑ سے محفوظ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:42) فالیوم۔ میںترتیب کے لئے ہے الیوم سے مراد یوم قیامت ہے۔ یوم بوجہ مفعول فیہ ہونے کے منصوب ہے۔ فالیوم سے قبل یقال لہم یا قال اللہ مصدر ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 39–45

لغات القرآن : آیت نمبر 39 تا 45 یخلف : کسی چیز کے بعد دیتا ہے تتلی : تلاوت کی گئی یصد : وہ روکتا ہے افک : جھوٹ مفتری : گھڑا ہوا۔ بنا یا ہوا یدرسون : وہ پڑھتے ہیں بلغوا : وہ پہنچے معشار : دسواں حصہ نکر : عذاب تشریح آیت نمبر 39 تا 45 اللہ تعالیٰ عزت و سر بلندی اور قربت و نجات ان لوگوں کو عطا کرتا ہے جو اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ انہیں جو کچھ دیا گیا ہے اس کی وہ قدر کرتے ہیں ۔ اللہ کی طرف سے جو احکامات نازل کئے گئے ہیں اس کی پابندی کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گذارتے ہیں ۔ وہ مال و دولت کی کثرت اور کمی کو ایک آزمائش سمجھتے ہیں اللہ کے نزدیک یہی کامیاب اور با…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–42

خدا کے رسول کو جھٹلانے کا انجام۔ (ف 1) مکہ کے مشرک لوگوں میں ایک گروہ فرشتوں کی مورتوں کی پوجا اس اعتقاد سے کیا کرتا تھا کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشتے اپنی پوجا کرنے والوں کی سفارش کرکے انہیں عذاب سے بچالیویں گے اس کے جواب میں فرمایا کہ جس دن ان فرشتہ پرستوں کو سب مخلوقات کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو ان کے قائل کرنے کے لیے فرشتوں سے اللہ تعالیٰ یہ دریافت کرے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری مورتوں کی دنیا میں عبادت کیا کرتے تھے ؟ اللہ کے فرشتے یہ بات سن کر عرض کریں گے خدایا تو تو پاک ہے تیرا دوسراشریک کیا ہوسکتا ہے، ہمارا تو ہی کارساز ہے اور ہم تیرے بندے ہیں تو خوب جانتا ہے وہ توشیطانوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–42

[29] یعنی یہ بدبخت ہمارا نام لے کر دراصل شیاطین کی عبادت کرتے تھے۔ شیاطین ان کو جس طرف ہانکتے ادھر ہی مڑ جاتے خواہ فرشتوں کا نام لے کر یا کسی نبی یا ولی کا۔ یہیں سے معلوم ہوا کہ عبادت صرف پرستش اور پوجا پاٹ ہی کا نام نہیں ہے بلکہ کسی کے حکم پر چلنا اور اس کی بےچوں و چراں اطاعت کرنا بھی عبادت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–43

تقلید آباء قرآن حکیم اپنے مطالب کی وضاحت میں اور دلائل کے استحکام میں بےنظیر کتاب ہے ۔ حضور ﷺ کی نبوت اس درجہ تابان اور روشن ہے کہ اس میں شک وشبہ قطعاً راہ نہیں پاسکتا ۔ بالخصوص ان لوگوں کے لئے جنہوں نے یہ معجزہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو کہ کیونکر ایک شخص چالیس سال کی عمر کے بعد الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور یکایک فلسفہ و حکمت کے دریا بہانے لگتا ہے ۔ وہ جو کتاب پیش کرتا ہے شیریں ہے ۔ اس کی تعلیم دل میں اترجانے والی ہے ۔ اور خواب عفلت سے چونکا دینے والی ہے ۔ اس کا انداز بیان بالکل نرالا اور اچھوتا ہے اس کو پیش کرنے والا صادق القول اور صحیح العقل ہے اس کا چہرہ سچائی کے نور سے چراغ کی طرح روشن…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(42) بہرحال آج تم میں سے نہ کوئی کسی کو نفع پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے اور نہ کوئی کسی کو نقصان اور ضرر پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے اور ہم ان لوگوں سے جنہوں نے ظلم اور ناانصافی کا ارتکاب کیا تھا فرمائیں گے کہ جس آگ کے عذاب کی تم تکذیب کیا کرتے تھے اس آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ان معبودان باطلہ کی عبادت پر نازاں تھے اور فرشتوں کی اور شیاطین کی سفارشوں اور شفاعت پر بھروسہ اور گھمنڈ رکھتے تھے اس کی حقیقت فالیوم لا یملک فرما کر آشکارا کردی گئی کہ نہ پوجا کرنیوالوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی کو ان معبودوں میں سے کوئی نفع یا ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان فرضی معبودوں ہی کو یہ اختیار ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 39–42

ف 4۔ اس صورت میں امساک سے رزق بڑھ نہیں سکتا، اور انفاق سے حسب الشرع سے گھٹ نہیں سکتا، پس مال سے زیادہ تعلق مت رکھو، بلکہ جہاں جہاں حقوق اللہ و حقوق العیال و حقوق الفقراء وغیرہا میں خرچ کرنے کا حکم ہے بےدھڑک خرچ کرتے رہو کہ اس سے رزق مقسوم میں تو کمی کا ضرر نہ ہوگا اور آخرت کا نفع ہوگا۔ 5۔ رازقین جمع لانا اس اعتبار سے ہے کہ جو لوگ ظاہر میں اپنے ہاتھ سے دیتے دلاتے ہیں ان کو مجازا رازق قرار دے دیا گیا، اور چونکہ اللہ تعالیٰ رازق حقیقی ہے اس لئے اس کا خیر الرازقین ہونا ظاہر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آج کوئی کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکے گا ، ظالموں کو عذاب جہنم چکھنا ہوگا 42 ۔ ” پس آج تم میں سے کوئی بھی کسی کو نفع ونقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا “۔ یہ بات اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا اور یہ بات قیامت کے روز ہوگی لیکن اس کی اطلاع بطور پیش گوئی پہلے ہی بیان کردی کہ تم جن جن لوگوں کو بھی اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو ان کو الٰہ اور معبود قرار دیتے ہو خواہ وہ جن ہوں یا فرشتے ، خواہ وہ انسان ہیں یا اجرام سماوی ، خواہ وہ ولی ، پیروبزرگ ہیں یا انبیاء ورسل اس معاملہ میں سب کی حالت یکساں ہے کیوں ؟ اس لئے کہ یہ مقابلہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے کیا جارہا ہے اور اللہ کے سامنے تو ہرچیز اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–45

Commentary The word: مِعْشَارَ‌ (mi'shar) in verse 45: وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ‌ مَا آتَيْنَاهُمْ (while these (infidels of Makkah) have not reached even one tenth of what We gave to those (before them) has been taken to mean: عُشُر ('ushr: a tenth) by some early commentators. Some scholars have interpreted it as: عُشرُ العُشر (ushr-ul-` ushr: a hundredth) while others call it: عُشرُ العَشِیر (` ushr-ul ` ashir: a thousandth). Obviously, the later has a higher degree of exaggeration as compared to 'ushr or ten. The sense of the verse is that not even a tenth, rather a thousandth, of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–43

63 In this sentence, jinn implies the satans among the jinns. The answer means: "Apparently these people worshipped us, by mentioning our names and by making our images according to their imaginations. But, in fact, they did not worship us but worshipped the satans, for the satans only had shown them the way that they should regard others than Allah as fulfillers of their needs, and should make offerings before them. " This verse clearly brings out the error of the view of those people who take the word "jinn" to mean the dwellers of the mountains and deserts and rural areas. Can a sensible…

Read the full tafseer →