Saba 34:5

Saba · from ayah 5

34:5

وَالَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ ۟وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡ فِىۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ

اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرا دیں گے۔ ان کے لئے سخت درد دینے والے عذاب کی سزا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But those who strive against Our verses [seeking] to cause failure - for them will be a painful punishment of foul nature.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:5

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرا دیں گے۔ ان کے لئے سخت درد دینے والے عذاب کی سزا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی جنہوں نے کوشش کی ہے یہ وه لوگ ہیں جن کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے بارے میں یہ کوشش کی ہے کہ انہیں ناکام بنائیں، ان کے لیے بلا کا دردناک عذاب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کی ان کے لیے سخت عذاب دردناک میں سے عذاب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں (مخالفانہ) کوشش کی (ہمیں) عاجز کرنے کے زعم میں انہی لوگوں کے لئے سخت دردناک عذاب کی سزا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیات میں کوشش کی، اس حال میں کہ نیچا دکھانے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب کی سزا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے (تردید کرنے) پر زور لگایا ان کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو ہماری آیات کو زک پہنچانے کی سعی میں سرگرم ہیں وہی ہیں جن کے لئے درد ناک عذاب کا خاص حصہ ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگاتے رہے ان کے لئے ایک بڑی ہی سختی کا دردناک عذاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے باب میں کوشش کرتے رہتے ہیں ہرانے کے لئے ایسے لوگوں کیلئے سختی کا دردناک عذاب ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو لوگ ہماری آیات کو شکست دینے کے لیے کوشاں رہے ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرا دیں ان کے لیے سخت درد دینے والے عذاب کی سز ا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those who worked against Our Signs in order to frustrate them, they shall suffer a painful chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who strived against Our signs to defeat (the messenger), for such people there is a painful punishment of the divine wrath.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who strived against Our signs to defeat (the messenger), for such people there is a painful punishment of the divine wrath.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But those who strive against Our Ayat to frustrate them -- those, for them will be a severe painful torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But those who strive against Our revelations, challenging (Us), theirs will be a painful doom of wrath.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But those who strive against Our verses [seeking] to cause failure - for them will be a painful punishment of foul nature.

— Saheeh International

However, those who try to challenge Our revelations will face the most painful torment.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who strive hard in opposing Our communications, these it is for whom is a painful chastisement of an evil kind.

— Muhammad Habib Shakir

And those who endeavoured to frustrate Our signs - those! theirs shall be a torment of afflictive calamity.

— Abdul Majid Daryabadi

But those who strive against Our Signs, to frustrate them,- for such will be a Penalty,- a Punishment most humiliating.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 3–6

قیامت آکر رہے گی۔ پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھاکر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورة یونس میں (وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 53؀) 10۔ یونس :53) لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہی ہے ؟ تو کہہ دے کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم وہ یقینا حق ہی ہے اور تم اللہ کو مغلوب نہیں کرسکتے۔ دوسری آیت یہی۔ تیسری آیت سورة تغابن میں (زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 8 اوپر آخرت کے امکان کی دلیل تھی، اور یہ اس کے وجوب کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا وقت ضرور آنا ہی چاہیے جب ظالموں کو ان کے ظلم کا اور صالحوں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیا جائے۔ عقل یہ چاہتی ہے اور انصاف یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو نیکی کرے اسے انعام ملے اور جو بدی کرے وہ سزا پائے۔ اب اگر تم دیکھتے ہو کہ دنیا کی موجودگی میں نہ ہر بد کو اس کی بدی کا اور نہ ہر نیک کو اس کی نیکی کا پورا بدلہ ملتا ہے، بلکہ بسا اوقات بدی اور نیکی کے الٹے نتائج بھی نکل آتے ہیں، تو تمہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ عقل اور انصاف کا یہ لازمی تقاضا کسی وقت ضرور پورا ہونا چاہیے۔ قیامت اور آخرت اسی وقت کا نام ہے۔ اس کا آنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اور ان کے مقابل (آیت) الذین سعوافی ایتنا، یعنی وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات پر اعتراض کئے اور لوگوں کو ان کے ماننے سے روکنے کی کوشش کی۔ معجزین یعنی ان کی یہ کوشش گویا اس لئے تھی کہ وہ ہمیں گرفت سے عاجز کردیں گے اور قیامت کی حاضری سے چھوٹ جائیں گے۔ (آیت) اولئک لہم عذاب من رجز الیم، یعنی ایسے لوگوں کے لئے عذاب ہوگا رجز الیم کا جس کے معنی سخت عذاب کے ہیں جو دردناک ہو۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–5

لیجزی الذی امنوا وعملوالصلحت اولئک لھم مغفرۃ ورزق کریم والذین سعو فی ایتنا معجزن اولئک لھم عذبا من رجز الیم (4۔ 5) یہ قیامت کی ضرورت واجح فرمائی کہ اس کا آنا کیوں ضروری ہے۔ فرمایا کہ اس لئے ضروری ہے کہ وہ نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کے نزدیک نیک و بد دونوں یکساں ہیں حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے اس وجہ سے لازمی ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ ایمان و عمل صالح والوں کو ان کی نیکیوں کا صلہ اور جنہوں نے اللہ کی باتوں کو شکست دینے کی کوشش کی ان کو ان کی اس سعئی نامراد کی سزا دے۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ قیامت کا اصل مقصد ایل ایمان کو صلہ دینا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یعنی ہماری ان آیتوں کے بطلان اور تکذیب کی جو ہم نے پیغمبروں پر نازل کیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم ان کی گرفت سے عاجز ہونگے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد ہم مٹی میں مل جائیں گے تو ہم کس طرح دوبارہ زندہ ہو کر کسی کے سامنے اپنے کیے دھرے کی جواب دہی کریں گے ؟ ان کا یہ سمجھنا گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا مواخذہ کرنے پر قادر ہی نہیں ہوگا، اس لئے قیامت کا خوف ہمیں کیوں ہو ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–7

1: جو کافر لوگ آخرت کی زندگی کا انکار کرتے تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ انسان کے مٹی میں مل جانے کے بعد اس کو از سرِ نو زندگی دینا کیسے ممکن ہے ؟ ان آیتوں میں جواب یہ دیا جارہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کو انسان پر قیاس کر رہے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم تو اس کائنات کے ہر چھوٹے سے چھوٹے ذرے کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہے، اور جو ذات آسمان و زمین جیسی عظیم الشان مخلوقات کو بالک عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ مردہ جسم کے ذرات کو دوبارہ اکٹھا کر کے انہیں نئی زندگی عطا کردے ؟ اور آیت نمبر 4 میں آخرت کی زندگی کی عقلی ضرورت بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ کہ اگر یہ دنیا ہی سب کچھ ہے،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–5

وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (3 – 5) کافروں کی جانب سے آخرت کا انکار اس وجہ سے تھا کہ وہ تخلیق انسانیت میں پنہاں حکمت الہیہ اور تقدیر الٰہی کا ادراک نہ کرسکے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو شتر بےمہار کی طرح نہ چھوڑ دیا جائے کہ جو اچھائی کرے اس کی بھی مرضی ہے اور جو برائی کرے اس کی بھی مرضی ہے۔ نہ محسن کو جزاء ملے اور نہ بدکار کو سزا ملے۔ اللہ نے اپنے رسولوں کی زبانی لوگوں کو متنبہ کردیا تھا کہ جزاء کا ایک حصہ آخرت کے لیے باقی رہتا ہے اور سزا کا ایک حصہ بھی آخرت کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کو حکمت تخلیق کا ادراک ہوجائے وہ جان لیتے ہیں کہ اللہ کی اسکیم کی تکمیل کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

7 یعنی قیامت کا آنا اس لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو ان کی نیکی اور بدی کا پھل دیا جائے اور حق تعالیٰ کی جملہ صفات کا کامل ظہور ہو (تنبیہ) " جو لوگ دوڑے ہماری آیتوں کے ہرانے کو۔ " یعنی ہماری آیتوں کے ابطال اور لوگوں کو قولا و فعلا ان سے روکنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ گویا وہ (العیاذ باللہ) اللہ کو عاجز کرنا اور ہرانا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے ہاتھ نہیں آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 { وَالَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ} ”اور جو لوگ ہماری آیات کو شکست دینے کے لیے کوشاں رہے ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

8 یعنی ایسی سازشوں اور کوششوں میں اپنی ساری عمر گزار دی کہ کہیں اسلام کو غلبہ اور سربلندی حاصل نہ ہوجائے۔ یا اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے عقیدہ آخرت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے اور انھیں ان کے ناپاک ارادوں کے عوض عذاب بھی اسی قسم کا دیا جائے گا۔ سابقہ آیات میں ایمانداروں کے لئے رزق کریم اور مغفرت دونوں کا ذکر فرمایا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصائب و مشکلات اور فقر و فاقہ میں زندگی گزارنے والے مومنوں کو عزت کی روزی بھی ملے گی اور مغفرت بھی ہوگی اور جن ایمانداروں کو ابتلاء کا دور دیکھنا ہی نہیں پڑا ان کی بھی مغفرت ضرور ہوجائے گی۔ اسی طرح جن کافروں کا جرم صرف کفر تک ہی محدود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ یعنی ایسے لوگوں کے لئے جو آیات الہی کے ابطال کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ اے المجاھدین فی ابطالھا (روح۔ عن ابن زید) (آیت) ” من رجز “ میں من بیانیہ ہے۔ من للبیان (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے (اس کلام) کے ذریعہ اپنی تعریف فرمائی ہے، اور مراد اس کلام سے، اس کلام کے مضمون کے ذریعہ، کہ وہ ثبوت حمد ہے تعریف کرنا ہے، اور حمد اللہ تعالیٰ کے لئے صفات کمالیہ کا بیان کرنا ہے ملک کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار سے اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور دنیا کے مانند آخرت میں بھی اسی کی حمد ہے، اس کے اولیاء جب جنت میں داخل ہوں گے تو اس کی حمد بیان کریں گے وہ اپنے فعل میں بڑی حکمتوں والا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین سعوا فی ایتنا معجزین اولئک لھم عذاب من رجز الیم اور جن لوگوں نے ہماری آیات کے متعلق (ان کو باطل کرنے کیلئے) کوشش کی (ہم کو) ہرانے کیلئے ‘ ایسے لوگوں کیلئے سختی کا دردناک عذاب ہوگا۔ یعنی آیات خداوندی کو باطل کرنے اور ان کی طرف سے لوگوں کو بےرغبت اور متنفر بنانے کیلئے کوشش کرتے ہیں (مقصد یہ کہ انہوں نے اپنی دوڑ کا میدان اسی بات کو بنا رکھا کہ اللہ کی آیات کی طرف سے لوگوں کو نفرت دلائیں) ہم پر غالب آنے کیلئے (یعنی یہ بات لوگوں کو بتانے کیلئے کہ نہ کوئی قیامت ہوگی ‘ نہ حشر ہوگا اور انہوں نے فرض کرلیا ہے کہ خدا مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ‘ وہ ہم کو عاجز بنا دینا چاہتے ہیں) ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جن لوگوں نے رسول اکرم اور قرآن کریم کو جھٹلایا تھا وہ ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ سَعَوْ فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ۔۔ : ”رجز“ کا معنی ہے ”أَسْوَأُ الْعَذَابِ“ (بد ترین عذاب) یعنی جن لوگوں کی کوشش ہے کہ ہماری آیات کا مقابلہ کرتے ہوئے عاجز کردیں اور نیچا دکھا دیں، کبھی انھیں جادو کہتے ہیں، کبھی شعر اور کبھی پہلے لوگوں کے افسانے، تاکہ لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکیں، ان کے لیے بدترین قسم کے عذاب کی سزا ہے، جو نہایت المناک ہے۔ مراد جہنم ہے، جس سے زیادہ بری اور درد ناک سزا کوئی نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت 5 :۔ والذین سعوفی ایتنا جنہوں نے ہمارے اولہ کو باطل کرنے اور ہماری آیات کو جھٹلانے کی کوشش کی۔ معجذین وہ سبقت کی کوشش کرتے ہیں، وہ گمان کرتے تھے کہ وہ ہماری قدرت سے باہر نکل جائیں گے۔ وہ یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں دوبارہ اٹھانے پر قادر نہیں۔ وہ گمان کرتے تھے کہ ہم انہیں مہلت دے دیں گے۔ آیت : لھم عذاب من رجذالیم یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یوں کہا جاتا ہے : عاجذہ اعجذہ جب اس پر غالب آجائے اور اس پر سبقت لے جائے۔ الیم کسرہ کے ساتھ نافع کی قراءت ہے۔ یہ رجذ کی صفت ہے، کیونکہ رجذ سے مراد عذاب ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت : فانذلناعلی الذین ظلموارجذمن السماء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–9

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وہوالحکیم الخبیر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حکیم ہے اپنے کام میں باخبر ہے اپنی مخلوق سے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) روایت کیا کہ آیت یعلم مایلج فی الارض (وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں) یعنی بارش آیت وما یخرج منہا (اور جو چیز نکلتی ہے اس میں سے) یعنی سبزے میں سے آیت وما ینزل من السماء اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے یعنی فرشتے آیت وما یعرج فیہا اور جو اس میں چڑھتے ہیں یعنی فرشتہ۔ 3۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت قل بل وربی لتاتینکم۔ علم الغیب کیوں نہیں اور میرا رب جو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ سَعَوْ [اور جن لوگوں نے بھاگ دوڑ کی ] فِيْٓ اٰيٰتِنَا [ہماری آیات (احکام) میں ] مُعٰجِزِيْنَ [(ان کو) عاجز کرنے والے ہوتے ہوئے ] اُولٰۗىِٕكَ [یہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ہے ] عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِــيْمٌ [گندگی میں سے ایک دردناک عذاب ] نوٹ۔ 1: آیت 5 سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کافر تو ہو مگر دین حق کے مقابلے میں عناد و مخالفت کی روش بھی اختیار نہ کرے، وہ عذاب سے تو نہ بچے گا مگر بد ترین عذاب اس کے لئے نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَالَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مَعٰجِزِیْنَ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ) (اور جن لوگوں نے ہماری آیات کے بارے میں عاجز کرنے کی کوشش کی ان لوگوں کے لیے سختی والا درد ناک عذاب ہے) اس میں ان لوگوں کی سزا کا تذکرہ فرمایا ہے جو اہل ایمان کے مخالف ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلا کر باطل کردیں یعنی قیامت کے وقوع کو نہ مانیں اور قیامت کی خبر دینے والے (یعنی رسول اللہ ﷺ کو ہرا دیں۔ قیامت قائم ہو کر جس طرح اہل ایمان اور اعمال صالحہ والوں کو مغفرت اور رزق کریم کا انعام ملے گا اسی طرح منکرین کو درد ناک عذاب ہوگا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کی غایت جزا اور سزا دینے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–9

اثبات معاد مقرون بہ قسم برائے تہدید اہل کفر وعناد قال اللہ تعالی۔ وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب۔ (ربط) اوپر تحمید اور توحید کا ذکر تھا اب آئندہ آیت میں منکرین حشر کی ایک بیہودہ بات کا ذکر کر کے اس کا رد فرماتے ہیں اور بیہودگی پر تہدید بھی فرماتے ہیں۔ (شیخزادہ ص 79 ج 4) اور یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت ضرور آئے گی اور جو لوگ قیامت کے ساتھ استہزا کرتے ہیں ان کو ان کے اعمال کی ضرور سزا ملے گی چناچہ فرماتے ہیں اور کافر اور مشرک جو امانت کے ثواب اور خیانت کے عقاب کے منکر ہیں اور حیات دنیاوی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی ہمیں کسی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

6:۔ لیجزی الذین الخ : یہ بشارت اخروی ہے اور لام لتاتینکم کے متعلق ہے اور یہ اس کی علت ہے یعنی قیامت ضرور آئے گی۔ تاکہ مومنوں کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے ایمان والوں کی جزاء یہ ہوگی کہ ان کی کوتاہیوں سے در گذر کیا جائیگا اور جنت میں انہیں باعزت زندگی نصیب ہوگی۔ والذین سعو الخ : یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ نہایت بیباکی سے ہماری آیتوں میں الحادو زندقہ سے کام لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ خداوند تعالیٰ کے ہاتھ نہیں آسکیں گے ان کو شدیدی ترین عذاب میں مبتلا کیا جائیگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة سبا ہے جو کہ اس کی آیت۔ 51 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ سبا ایک شخص ، قبیلے ، شہر اور ملک کا نام تھا جس کا ذکر اس سورة مبارکہ کے دوسرے رکوع میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة نور سے لے کر سورة سجدہ تک ساری مکی سورتیں تھیں۔ اس کے بعد پچھلی سورة الاحزاب مدنی تھی اور یہ سورة پھر مکی ہے۔ آگے پھر تین سورتیں متواتر مدنی ہیں اور اس کے بعد مکی اور مدنی مخلوط سورتیں آئیں گی۔ اس سورة کی چون آیتیں اور چھ رکوع ہیں یہ سورة مبارکہ 388 الفاظ اور 2151 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکی دور کے زمانہ وسطیٰ میں سورة لقمان کے بعد نازل ہوئی۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة احزاب کے آخر میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ سَعَوْ فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِــيْمٌ۝ 5 سعی السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] ، وقال : نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8] ، وقال : وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] ، وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] ، وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] ، إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] ، وقال تعالی: وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] ، كانَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب : فی السٰموٰت متعلق یثبت فی الآخرۃ یجوزان یتعلق بالحمد یعلم مستانف وقیل حال موکدۃ عالم الغیب بالجر صفۃ لربی اوبدل و یقرء بالرفع اے ھو عالم اصغر بالرفع عطفاً علی مثقال، وبالجر عطفا علی ذرۃ، لیجزی متعلق بمعنی لایعزب فکانہ قال یحصی ذلک لیجزی، الیم بالجر صفۃ لرجزو بالرفع صفۃ لعذاب۔ والرجز مطلق العذاب۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سورة سبا مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس قسم کی سورتیں کہ جن کے اول میں الحمدللہ ہے، پانچ ہیں ان میں سے دو نصف اول میں ہیں۔ انعام و کہف اور دو اخیر قرآن میں ہیں۔ ایک یہ دوسری ملائکہ، پانچویں الحمد کہ جس کو چاہو نصف اول میں شمار کرو خواہ نصف اخیر میں اور سر اس میں یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْٓ اٰیٰـتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۔ (السباء : 5) (اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کی یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب کا خاص حصہ ہوگا۔ ) مُعٰجِزِیْنَ ، مُعَاجَزَۃٌ اس کا مصد رہے۔ اس کا معنی ہے ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے باہم مسابقت کرنا۔ رِجْزٌ، عذاب کو بھی کہتے ہیں اور دردناک عذاب کو بھی۔ بدترین مخالفین کا انجام جس طرح ایمان و عمل کے ساتھ ساتھ غلبہ دین کا کام کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں تکلیفیں اٹھانے والوں کو مغفرت کے ساتھ ساتھ رزق کریم سے بھی نوازا جائے گا، اسی طرح جن لوگوں نے صرف اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–5

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح صرف ” اللہ “ ہی جانتا ہے کہ جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اور جو اس میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اوپر چڑھتا ہے۔ قیامت کب قائم ہوگی صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے لوگوں کو ایک وقت تک مہلت دے رکھی جس سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے منکرین قیامت اپنی ہٹ دھرمی کی بناء پر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے تو پھر اسے کس طرح اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ انہیں اپنے رب کی قسم اٹھا کر بتلائیں کہ مجھے اپنے رب کی قسم ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نحو : یہ لتاتینکم کے متعلق ہے اور اس کی تعلیل ہے۔ 5: وَالَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْ ٰایٰتِنَا (اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کے متعلق کوشش کی تھی) یعنی قرآن کی تردید میں خوب محنت کی۔ مُعٰجِزِیْنَ (ہرانے اور عاجز کرنے کیلئے) سبقت کی اس گمان سے کہ وہ ہم سے نکل جائیں گے۔ قراءت : مُعَجّزِیْنَ مکی اور ابو عمرو نے پڑھا) یعنی اس کی اتباع اور اس میں غور کرنے سے لوگوں کو روکنے والے تھے۔ یا اللہ تعالیٰ کی نسبت عاجزی و درماندگی کی طرف کرنے والے ہیں۔ اُولٰٓپکَ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ (ایسے لوگوں کیلئے سختی کا دردناک عذاب ہوگا) ۔ قراءت : مکی نے الیمٍ کو الیمٌ پڑھا۔ عذابٌ کی صفت بنایا۔ یعنی عذابوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 5، والذین سعوفی ایاتنا، جو ہماری آیات کے باطل کرنے میں کوشش کرتے ہیں۔ ، معاجزین، اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نے ان کے دلائل کو باطل کردیا۔ ، اولئک لھم عذاب من رجزالیم ، ابن کثیر ، حفص و یعقوب نے پڑھا (الیم) رفع ہے اور سورة جاثیہ میں عذاب کی صف ہے اور دوسرے قراء نے مجرور پڑھا ہے رجز کی صفت ہونے کی وجہ سے ۔ قتادہ کا قولے کہ رجز کہتے ہیں برے عذاب کو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–6

5‘ 6۔ اوپر نیک لوگوں کا اور ان کی نیکیوں کی جزا کا ذکر فرمایا کر اب بدلوگوں کا اور ان کی سزا کا ذکر فرمایا کہ لوح محفوظ میں جس طرح نیکیوں کی جزا کا حال لکھا ہوا ہے اسی طرح یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے کی کوشش کی اور ان کو شعر اور جادو کہا تاکہ ان آیتوں سے لوگوں کو روکیں اور اسی طرح رسول کو شاعر اور جادو گر کہہ کر جھٹلایا ان بدبختوں کے واسطے بلا کی مار ہے دکھ دینے والی رجز کے معنی بری طرح کے عذاب کے ہیں ‘ اب آگے فرمایا لوح محفوظ میں قیامت کا آنا جہاں لکھا ہے اور نیک وبد کی جزا وسزا کا حال لکھا ہے وہاں قیامت کے آنے کا یہ فائدہ بھی لکھا ہے کہ علم الٰہی کے موافق جن لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–5

آیت 3 جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کی جس کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور یہ چیز اس کی تعظیم و تقدیس اور اس پر ایمان کی موجب ہے تو ذکر فرمایا کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے رب کی قدر کی نہ اس کی تعظیم کی جیسا کہ اس کا حق ہے، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اور قیامت کی گھڑی کا انکار کیا اور اس کے بارے میں اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کی مخالفت کی، لہٰذا فرمایا : (وقال الذین کفروا) یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ ، اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کا انکار کیا، انہوں نے اپنے کفر کی بنا پر کہا : (لاتاتینا الساعۃ) ” ہم پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14 سزا کے حق داروں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جو لوگ ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لیے بڑا ہی سخت دردناک عذاب ہے "۔ سو جو لوگ اللہ کی آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ان کے بارے میں طرح طرح کے اعتراضات کرکے اور شکوک و شبہات ڈال کر۔ اور اس طرح وہ اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں کو راہ حق و صواب سے روک دیں گے اور حق کو نیچا دکھا دیں گے اور ہماری گرفت اور پکڑ سے بچ جائیں گے۔ لیکن نہیں ہرگز نہیں۔ ایسے نہیں ہوگا۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ان کا ایسا مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔ البتہ یہ لوگ اپنے ایسے سنگین جرائم کی بڑی شدید اور سخت دردناک سزا بھگت کر رہیں گے۔ صرف آج…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–9

ﷲ کی قدرتیں اور کفار کی بےوقوفی اور ضد تشریح : جیسا کہ پہلے اللہ کی حکمتوں کا ذکر ہوچکا ہے اور ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور واحد ہے اس نے پوری کائنات کو تخلیق کیا تو اس کی ہر چیز کا حساب کتاب اس نے اپنے پاس لوح محفوظ میں محفوظ کر رکھا ہے یعنی پیدا ہونا پھولنا اور پھلنا پھر ختم ہو کر اللہ کی طرف ہی لوٹ جانا ہے کیونکہ اس نے کوئی چیز جاندار ہو یا بےجان بےمقصد پیدا نہیں کی۔ سب کی پیدائش کا ایک مقصد ہے۔ جو بھی اپنے مقصد سے ہٹ کر زندگی گزارے گا وہ ضرور دنیا میں تکلیف اٹھائے گا پھر اس امتحان کی زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی آئے گی جو قیامت کے بعد شروع ہوگی اس وقت اس دنیا کے حساب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة السبا رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 9: اسرار و معارف : تمام خوبیاں اور سب کمالات اللہ کو سزا وار ہیں کہ جو آسمانوں اور زمینوں کا اور ان میں موجود ہر ذرے کا خالق اور اکیلا مالک ہے اور وہ بہت ہی حکمت والا ہے اور ہر ذرے سے خوب واقف ہے اس جہان میں اور آخرت میں ہر ذرہ اس کی تاثیرات اور نتائج سب کا مالک وہی ہے۔ اللہ کو خوب علم ہے کہ زمین کے ذرات میں کس طرح بارش کا پانی سورج اور چاند کی کرنیں یا مختلف گیسیں داخل ہو کر کیا عمل کرتی ہیں اور پھر وہ ذرات کس طرح پھلوں پھولوں یا غذا میں تبدیل ہو کر نکلتے ہیں اور کون سا ذرہ کس جسم کی تعمیر کے لیے تیار کرکے کس کس طویل راستے سے اس بدن تک پہنچے گا نیز اللہ خوب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی قیامت کا آنا اس لئے ضروری ہے کہ نیک و بد اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے، کیونکہ اس دنیا میں تو ہم دیکھتے ہیں بعض نیک آدمی عمر بھر تکالیف میں مبتلا رہتے ہیں اور بعض بد کردار لذت و عیش میں بسر کرتے ہیں، اور یہاں ان کے اعمال کے نتائج کا ظہور نہیں ہوتا، لہٰذا جزاء، سزا کے لئے کسی دن کا ہونا ضروری ہے ورنہ اس زندگی کی حیثیت کھلونے سے زیادہ نہ رہے گی اور یہ اللہ تعالیٰ کے حکیم و خیبر ہونے کے منافی ہے۔ ( کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:5) سعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب سعی (باب فتح) مصدر ۔ بمعنی کام کرنا۔ چلنا دوڑنا۔ مشی سریع۔ تیز روی۔ بمعنی حال وہ دوڑتے ہیں۔ یعنی کوشش کرتے ہیں۔ معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر معاجز واحد۔ معاجزۃ (مفاعلۃ) مصدر مقابلہ کر کے اپنے حریف کو عاجز کردینا۔ ہرا دینا۔ سعوا فی ایتنا معجزین (جو لوگ) ہماری آیات کے بارہ میں (ہمیں) ہرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے واعلموا انکم غیر معجزی اللہ (9:2) اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے۔ بڑھیا کو عجوز اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اکثر امور سے عاجز ہوجاتی ہے۔ رجز عقوبت، عذاب، بلا، سزا۔ الرجز کے اصل معنی اضطراب کے ہیں محاورہ ہے ارتجزت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 3–6

لغات القرآن : آیت نمبر 3 تا 6 لا یعزب : دور نہیں کرتا۔ دور نہیں ہے مثقال : برابر اصغر : چھوٹا رزق کریم : عزت کا رزق سعوا : انہوں نے کوشش کی معجزین : بےبس اور عاجز کرنے والے رجز : سخت عذاب یھدی : وہ ہدایت دیتا ہے تشریح : آیات نمبر 3 تا 6 کفار مکہ رسمی طور پر قیامت کا انکار نہیں کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کو اپنے قیاس کرکے اس بات کو ممکن سمجھتے تھے کہ جب انسان مرنے کے بعد گل سڑ جائے گا اور اس کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے یا کائنات ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائے گی تو دوبارہ انسان اور کائنات کیسے پیدا ہوسکے گی ؟ وہ اپنی بےعقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسان کے دوبارہ پیدا ہونے ، اس کے ذرات جمع…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–6

قیامت میں دوبارہ اٹھنے کا ذکر۔ (ف 1) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا آناجگہ جگہ قسم کھاکر تاکید سے فرمایا کہ اس سے ایک تو ان منکروں کا جواب دینامقصود تھا جو قیامت کے منکر تھے اور نبی ﷺ جب قیامت کا ذکر فرماتے تو یہ بڑا تعجب کرتے تھے اور دوسرامقصود یہ تھا کہ قیامت کے دن حسبا کتاب عملوں کا تولنا، جنت اور دوزخ میں داخل ہونا، جن جن باتوں کا ذکر ہے اس باتوں پر مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہوجائے کیونکہ جب تک ان باتو پر ایمان مضبوط نہ ہوگا خلوص سے نیک کام آدمی سے نہ ہوسکے گا جب تک نیک نیت سے نیک کام نہ کیا جائے تو اوپری دل سے کیا کام مقبول نہیں ہے قرآن شریف اور حدیث شریف میں قیامت کا نام یوم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

تابشِ نظر 1: پیغمبر کی نظروں میں اہام اور وحی کی وجہ سے اس درجہ تابش آجاتی ہے ۔ کہ وہ ان واقعات وحقائق کو اس طرح محسوس کرتے ہیں جو آئندہ کئی صدیوں کے بعد آنے والے ہیں جس طرح ہم موجودہ مناظر کو دیکھتے ہیں ۔ وہ ان کے متعلق محکم یقین رکھتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے جانے کا ذریعہ کمزور استدلال نہیں ہوتا ۔ جس میں شک وشبہ کو اصلاً دخل نہیں ۔ وہ پیغمبر از بصیرت سے دیکھتے ہیں اور القاء وکشف سے حقائق وواقعات کو جانتے ہیں ان کے زمانے کے لوگ صرف الہام کی عظمت سے آگاہ نہیں ہوتے ۔ بلکہ پرلے درجے کے توگ ماہ نظر بھی ہوتے ہیں ۔ وہ ان کی باتوں کو محض جنون اور کذب سمجھتے ہیں ۔ ان کی نظریں سلیحی ہوتی ہیں ۔ اس لئے وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اور جو لوگ ہم کو عاجز کرنے اور ہمارے ہرانے کو ہماری آیتوں کیخلاف دوڑے دوڑے پھرے تو یہ لوگ وہ ہیں جن کو سخت قسم کا دردناک عذاب ہونے والا ہے۔ یعنی قیامت قائم ہوگی تاکہ دین حق پر ایمان لانے اور نیک اعمال کی پابندی کرنیوالوں کو اور ان کی کارکردگی کا صلہ عطا کیا جائے اور جو لوگ ہماری آیات کا رد اور ابطال کرنے کی کوشش اور دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہوئے کرتے ہیں کہ وہ ہم کو کہیں بھاگ کر عاجز کردیں گے اور ہم کو ہرا دیں گے تو ان کو ان کے کئے کی پاداش میں بری قسم کا دردناک عذاب کیا جائے۔ کسی نے کہا ہماری آیتوں کے ابطال کیلئے کوشش کی پیغمبر کے ہرانے کو ہم نے صاحب مدراک کے قول کی بنا پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–7

ف 5۔ آیات قرآنیہ کی تکذیب پر یہ سزا ہونا ہی چاہئے، کیونکہ اول تو قرآن فی نفسہ امر حق منزل من اللہ ہے، اور ایسے امر حق کی تکذیب خود حق تعالیٰ کی تکذیب ہے، اس پر جتنی سزاہو بجا ہے، دوسرے قرآن راہ راست مرضی عنداللہ کی تعلیم و ہدایت کرتا ہے، جو شخص اس کو نہ مانے گا وہ راہ راست سے قصدا دور رہے گا، نہ اس کو عقائد حقہ کا پتہ لگے گا، نہ اعمال صالحہ کا اور یہی طریقہ تھا نجات کا، پس طریق نجات سے قصدا دور رہنے پر سزا ہونا بےجا نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ ہماری آیتوں کو عاجز کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے 5 ۔ کتنے بدبخت اور کوتاہ عقل ہیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں ان کو بدبخت اور کوتاہ عقل اس لئے کہا جارہا ہے کہ ان کے پاس قیامت کے جھٹلانے اور دوبارہ اٹھائے نہ جانے کی کوئی دلیل عقلی اور نقلی موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ ایسے نادان ہیں کہ جھٹلاتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ان کو ایک نہیں بیسیوں نشانیاں دی ہیں جن کا تقاضا ہے کہ قیامت آئے اور ضرور آئے اور یہ بھی کہ وہ اپنے وقت سے پہلے نہ آئے اور یہ بھی کہ اس کا جو وقت متعین ہے اس کی واضح نشاندہی کردی گئی ہے اور ان کو بار بار بتایا جاچکا ہے لیکن یہ ایسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

And in contrast to them stand: الَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا (5) i.e. those who made efforts to find faults with Our verses and tried to stop people from believing in them. The word: مُعَاجِزِينَ which appears immediately after the verse cited above means that this effort by them was as if they would render Us helpless in seizing them and would thus go scot-free from having to be present on the last day of Qiyamah. The sentence that follows immediately after: أُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّ‌جْزٍ أَلِيم ; means that these people shall receive punishment, a severe punishment that will…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 The above was an argument for the possibility of the Hereafter: this is an argument for its need ard necessity. It means: A time must come when the wicked should be requited for their wickedness and the righteous rewarded for their righteousness. Reason wants and justice demands that a worker of goodness should be rewarded and a worker of evil punished. Now when you see that in the present worldly life neither is an evildoer fully requited for his evil nor a worker of goodness for his goodness, rather there are opposite results of evil and goodness in most cases, you should admit that this…

Read the full tafseer →