Saba 34:4

Saba · from ayah 4

34:4

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِیْمٌ ۟لِّيَجۡزِىَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا وَعَمِلُوۡا الصّٰلِحٰتِؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ

اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلہ دے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That He may reward those who believe and do righteous deeds. Those will have forgiveness and noble provision.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:4

اور یہ قیامت اس لئے آئے گی کہ جزا دے اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلہ دے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ وه ایمان والوں اور نیکوکاروں کو بھلائی عطا فرمائے، یہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اور قیامت اس لیے آئے گی) تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ ان کو انعام دے۔ ایسے لوگوں کے لیے مغفرت ہے اور باعزت رزق۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تاکہ صلہ دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے یہ ہیں جن کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ اﷲ ان لوگوں کو پورا بدلہ عطا فرمائے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بخشِش اور بزرگی والا (اخروی) رِزق ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ وہ ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے سراسر بخشش اور باعزت رزق ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ایسے لوگوں کے لئے بخشش اور عزت و اکرام کی روزی ہوگی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تاکہ وہ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ وہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور رزق کریم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ اللہ (تعالیٰ پورا) بدلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ایسے لوگوں کے لئے ایک بڑی ہی عظیم الشان بخشش بھی ہے اور عزت کی روزی بھی

— مولانا اسحاق مدنی

(قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ایسے لوگوں کیلئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تا کہ وہ جزا دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (آخرت میں) مغفرت بھی ہوگی اور بہت با عزت روزی بھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلہ دے یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(The Hour shall come) that He may reward those who believe and do righteous deeds. Theirs shall be forgiveness and a generous provision.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(The Hour will come,) so that He rewards those who believed and did righteous deeds. For such people, there is forgiveness (from Allah) and a noble provision.

— Muhammad Taqi Usmani

(The Hour will come,) so that He rewards those who believed and did righteous deeds. For such people, there is forgiveness (from Allah) and a noble provision.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That He may recompense those who believe and do righteous good deeds. Those, theirs is forgiveness and generous provision.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That He may reward those who believe and do good works. For them is pardon and a rich provision.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That He may reward those who believe and do righteous deeds. Those will have forgiveness and noble provision.

— Saheeh International

God will certainly reward the righteously striving believers. These are the ones who will receive forgiveness and honorable sustenance.

— Muhammad Sarwar

That He may reward those who believe and do good; these it is for whom is forgiveness and an honorable sustenance.

— Muhammad Habib Shakir

That He may recompense these who believed and worked righteous works. Those! theirs shall be forgiveness and a generous provision.

— Abdul Majid Daryabadi

That He may reward those who believe and work deeds of righteousness: for such is Forgiveness and a Sustenance Most Generous."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 3–6

قیامت آکر رہے گی۔ پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھاکر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورة یونس میں (وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 53؀) 10۔ یونس :53) لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہی ہے ؟ تو کہہ دے کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم وہ یقینا حق ہی ہے اور تم اللہ کو مغلوب نہیں کرسکتے۔ دوسری آیت یہی۔ تیسری آیت سورة تغابن میں (زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 3–4

سورة سَبـَا 5 یہ بات وہ طنز اور تمسخر کے طور پر چندرا چندرا کر کہتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت دنوں سے یہ پیغمبر صاحب قیامت کے آنے کی خبر سنا رہے ہیں، مگر کچھ خبر نہیں کہ وہ آتے آتے کہاں رہ گئی۔ ہم نے اتنا کچھ انہیں جھٹلایا، اتنی گستاخیاں کیں، ان کا مذاق تک اڑایا، مگر وہ قیامت ہے کہ کسی طرح نہیں آ چکتی۔ سورة سَبـَا 6 پروردگار کی قسم کھاتے ہوئے اس کے لیے " عالم الغیب " کی صفت استعمال کرنے سے خود بخود اس امر کی طرف اشارہ ہوگیا کہ قیامت کا آنا تو یقینی ہے مگر اس کے آنے کا وقت خدائے عالم الغیب کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ یہی مضمون قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان ہوا ہے۔ تفصیل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لیجزی الذین امنوا، اس جملہ کا تعلق اس سے پہلے جملے لتاتینکم سے ہے، یعنی قیامت ضرور آئے گی، اور قیامت آنے کا مقصد یہ ہوگا کہ ایمان والوں کو جزاء اور بہترین رزق جنت کا دیا جائے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–5

لیجزی الذی امنوا وعملوالصلحت اولئک لھم مغفرۃ ورزق کریم والذین سعو فی ایتنا معجزن اولئک لھم عذبا من رجز الیم (4۔ 5) یہ قیامت کی ضرورت واجح فرمائی کہ اس کا آنا کیوں ضروری ہے۔ فرمایا کہ اس لئے ضروری ہے کہ وہ نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کے نزدیک نیک و بد دونوں یکساں ہیں حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے اس وجہ سے لازمی ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ ایمان و عمل صالح والوں کو ان کی نیکیوں کا صلہ اور جنہوں نے اللہ کی باتوں کو شکست دینے کی کوشش کی ان کو ان کی اس سعئی نامراد کی سزا دے۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ قیامت کا اصل مقصد ایل ایمان کو صلہ دینا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یہ وقوع قیامت کی علت ہے یعنی اس لیے برپا ہوگی اور تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ اس لیے دوبارہ زندہ فرمائے گا کہ وہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا عطا فرمائے کیونکہ جزا کے لیے ہی اس نے یہ دن رکھا ہے اگر یہ یوم جزا نہ ہو تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیک و بد دونوں یکساں ہیں اور یہ بات عدل وانصاف کے قطعا منافی اور بندوں بالخصوص نیکوں پر ظلم ہوگا (وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ) 41۔ فصلت :46)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–7

1: جو کافر لوگ آخرت کی زندگی کا انکار کرتے تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ انسان کے مٹی میں مل جانے کے بعد اس کو از سرِ نو زندگی دینا کیسے ممکن ہے ؟ ان آیتوں میں جواب یہ دیا جارہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کو انسان پر قیاس کر رہے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم تو اس کائنات کے ہر چھوٹے سے چھوٹے ذرے کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہے، اور جو ذات آسمان و زمین جیسی عظیم الشان مخلوقات کو بالک عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ مردہ جسم کے ذرات کو دوبارہ اکٹھا کر کے انہیں نئی زندگی عطا کردے ؟ اور آیت نمبر 4 میں آخرت کی زندگی کی عقلی ضرورت بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ کہ اگر یہ دنیا ہی سب کچھ ہے،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–5

وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (3 – 5) کافروں کی جانب سے آخرت کا انکار اس وجہ سے تھا کہ وہ تخلیق انسانیت میں پنہاں حکمت الہیہ اور تقدیر الٰہی کا ادراک نہ کرسکے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو شتر بےمہار کی طرح نہ چھوڑ دیا جائے کہ جو اچھائی کرے اس کی بھی مرضی ہے اور جو برائی کرے اس کی بھی مرضی ہے۔ نہ محسن کو جزاء ملے اور نہ بدکار کو سزا ملے۔ اللہ نے اپنے رسولوں کی زبانی لوگوں کو متنبہ کردیا تھا کہ جزاء کا ایک حصہ آخرت کے لیے باقی رہتا ہے اور سزا کا ایک حصہ بھی آخرت کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کو حکمت تخلیق کا ادراک ہوجائے وہ جان لیتے ہیں کہ اللہ کی اسکیم کی تکمیل کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

7 یعنی قیامت کا آنا اس لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو ان کی نیکی اور بدی کا پھل دیا جائے اور حق تعالیٰ کی جملہ صفات کا کامل ظہور ہو (تنبیہ) " جو لوگ دوڑے ہماری آیتوں کے ہرانے کو۔ " یعنی ہماری آیتوں کے ابطال اور لوگوں کو قولا و فعلا ان سے روکنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ گویا وہ (العیاذ باللہ) اللہ کو عاجز کرنا اور ہرانا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے ہاتھ نہیں آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”تاکہ وہ جزا دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔“ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہر انسان کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے دنیوی لذائذ کو چھوڑا ‘ اپنی آسائشوں کو قربان کیا ‘ حق کا َعلم بلند کرنے کے لیے اپنا دنیوی مستقبل دائو پر لگا دیا ‘ اپنی جان جوکھوں میں ڈالی اور اللہ کے راستے میں جہاد و قتال کیا ‘ اگر انہیں ان کی کوششوں کا بھر پور صلہ نہیں دیا جاتا اور انہیں انعام و اکرام سے نہیں نوازا جاتا تو ان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی اور ناانصافی ہوگی۔ چناچہ تمام انسانوں کو ان کے اعمال کے مطابق…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 یہ قیامت یا اخروی زندگی پر عقلی دلیل ہے۔ اس دنیا میں بیشمار ایسے افراد موجود ہیں جنہوں نے ایمان لاکر راہ حق میں بیشمار جانی اور مالی قربانیاں دیں اور تمام عمر فقر و فاقہ پریشانیوں اور کفار کے ہاتھوں ظلم وستم سہنے میں گزارا۔ کیا یہ انصاف کا تقاضا نہیں کہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے ؟ اور دکھوں کے بدلے انھیں انعامات سے نوازا جائے ؟ لہذا ضروری ہے کہ اللہ انسانوں کو ایک دوسری زندگی عطا فرمائے۔ جس میں ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ یہ بیان وقوع قیامت کی حکمت وغایب کا ہے کہ بغیر یوم حشر کے، بغیر سزا وجزا کے یہ سلسلہ کائنات ناتمام رہ جاتا ہے۔ (آیت) ” لیجزی “۔ میں ل عاقبت کا بھی ہوسکتا ہے۔ اور تعلیل کا بھی (آیت) ” لیجزی الذین “۔ الخ کا ربط نحوی پچھلی آیت کے (آیت) ” لتاتینکم “۔ سے ہے۔ (آیت) ” رزق کریم “۔ رزق پر حاشیہ پہلے گزر چکا ہے، کہ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ہر قسم کے انعامات پر شامل۔ محض روزی اس کا بہت ناکافی ترجمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے (اس کلام) کے ذریعہ اپنی تعریف فرمائی ہے، اور مراد اس کلام سے، اس کلام کے مضمون کے ذریعہ، کہ وہ ثبوت حمد ہے تعریف کرنا ہے، اور حمد اللہ تعالیٰ کے لئے صفات کمالیہ کا بیان کرنا ہے ملک کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار سے اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور دنیا کے مانند آخرت میں بھی اسی کی حمد ہے، اس کے اولیاء جب جنت میں داخل ہوں گے تو اس کی حمد بیان کریں گے وہ اپنے فعل میں بڑی حکمتوں والا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک لھم مغفرۃ ورزق کریم . تاکہ اللہ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور (جنہوں نے) نیک کام کئے ‘ انہی لوگوں کیلئے مغفرت ہے اور عزت کا رزق ہے۔ یعنی حقوق عبدیت کی ادائیگی میں جو کوتاہی ان سے ہوگئی ہوگی (پوری ادائیگی تو ممکن ہی نہیں) اللہ اس کوتاہی کو معاف کر دے گا اور جو نیک اعمال انہوں نے کئے ہیں ‘ ان کے بدلے میں اپنی مہربانی سے جنت کے اندر اچھا رزق عطا فرمائے گا جس کے حاصل کرنے میں نہ تھکنا پڑے گا ‘ نہ کسی کا (سوائے خدا کے) احسان ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک کام کیے تھے۔ ایسے لوگوں سے دنیا میں جو گناہ سرزد ہوئے ہیں جنت میں ان کی مغفرت اور عزت کا رزق ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِّيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : ان آیات میں قیامت کا مقصد اور اس کی حکمت بیان کی گئی ہے، یعنی قیامت اس لیے برپا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کو ان کی جزا دے، کیونکہ دنیا کی محدود مدت میں نہ نیکوں کو ان کی پوری جزا ملتی ہے، نہ بدوں کو ان کی پوری سزا۔ اب اگر جزا و سزا کا کوئی دن ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیک و بد یکساں ہیں، جب کہ یہ بات عقل کے خلاف ہے۔ دیکھیے سورة ص (28) ، سجدہ (18 تا 20) اور حشر (20) اور اللہ تعالیٰ کے عدل کے بھی خلاف ہے۔ (دیکھیے انبیاء : 47) بلکہ یہ ان لوگوں پر ظلم ہوگا جن پر دنیا میں ظلم ہوتا رہا، جب کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 3–4

وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اہل مکہ ہیں۔ مقاتل نے کہا : ابو سفیان نے کفار مکہ سے کہا : لات و عزیٰ کی قسم ! ہم پر قیامت کبھی نہیں آئے گی اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت : قل اے محمد کہیے : آیت بلا وربی لتاتینکم، ہارون طلق معلم سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے اپنے مشائخ کو پڑھتے ہوئے سنا : آیت قل بلی وربی لیاتیینکم یا، کے ساتھ۔ اسے معنی پر محمول کیا ہے، گویا کہا : تمہیں بعث اور اس کا امر ضرور آے گا جس طرح فرمایا : آیت : ھل ینظرون الا ان تا تیھم الملیکۃ او یاتی ربک (الانعام 158) یہ کفارا بتدا کا انکار کرتے اور عادہ کے منکر تھے۔ انہوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–9

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وہوالحکیم الخبیر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حکیم ہے اپنے کام میں باخبر ہے اپنی مخلوق سے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) روایت کیا کہ آیت یعلم مایلج فی الارض (وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں) یعنی بارش آیت وما یخرج منہا (اور جو چیز نکلتی ہے اس میں سے) یعنی سبزے میں سے آیت وما ینزل من السماء اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے یعنی فرشتے آیت وما یعرج فیہا اور جو اس میں چڑھتے ہیں یعنی فرشتہ۔ 3۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت قل بل وربی لتاتینکم۔ علم الغیب کیوں نہیں اور میرا رب جو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لِّيَجْزِيَ [تاکہ وہ بدلہ دے ] الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ان لوگوں کو جو ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۭ [اور عمل کئے نیکیوں کے ] اُولٰۗىِٕكَ [یہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ہے ] مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ [مغفرت اور با عزت روزی ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر قیامت قائم فرمانے کی غایت بتائی (لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) (تاکہ اللہ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور نیک کام کیے) (اُولٰٓءِکَ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ) (یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے مغفرت ہے اور عزت والا رزق ہے)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–9

اثبات معاد مقرون بہ قسم برائے تہدید اہل کفر وعناد قال اللہ تعالی۔ وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب۔ (ربط) اوپر تحمید اور توحید کا ذکر تھا اب آئندہ آیت میں منکرین حشر کی ایک بیہودہ بات کا ذکر کر کے اس کا رد فرماتے ہیں اور بیہودگی پر تہدید بھی فرماتے ہیں۔ (شیخزادہ ص 79 ج 4) اور یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت ضرور آئے گی اور جو لوگ قیامت کے ساتھ استہزا کرتے ہیں ان کو ان کے اعمال کی ضرور سزا ملے گی چناچہ فرماتے ہیں اور کافر اور مشرک جو امانت کے ثواب اور خیانت کے عقاب کے منکر ہیں اور حیات دنیاوی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی ہمیں کسی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

6:۔ لیجزی الذین الخ : یہ بشارت اخروی ہے اور لام لتاتینکم کے متعلق ہے اور یہ اس کی علت ہے یعنی قیامت ضرور آئے گی۔ تاکہ مومنوں کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے ایمان والوں کی جزاء یہ ہوگی کہ ان کی کوتاہیوں سے در گذر کیا جائیگا اور جنت میں انہیں باعزت زندگی نصیب ہوگی۔ والذین سعو الخ : یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ نہایت بیباکی سے ہماری آیتوں میں الحادو زندقہ سے کام لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ خداوند تعالیٰ کے ہاتھ نہیں آسکیں گے ان کو شدیدی ترین عذاب میں مبتلا کیا جائیگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة سبا ہے جو کہ اس کی آیت۔ 51 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ سبا ایک شخص ، قبیلے ، شہر اور ملک کا نام تھا جس کا ذکر اس سورة مبارکہ کے دوسرے رکوع میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة نور سے لے کر سورة سجدہ تک ساری مکی سورتیں تھیں۔ اس کے بعد پچھلی سورة الاحزاب مدنی تھی اور یہ سورة پھر مکی ہے۔ آگے پھر تین سورتیں متواتر مدنی ہیں اور اس کے بعد مکی اور مدنی مخلوط سورتیں آئیں گی۔ اس سورة کی چون آیتیں اور چھ رکوع ہیں یہ سورة مبارکہ 388 الفاظ اور 2151 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکی دور کے زمانہ وسطیٰ میں سورة لقمان کے بعد نازل ہوئی۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة احزاب کے آخر میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِّيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۝ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۝ 4 جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب : فی السٰموٰت متعلق یثبت فی الآخرۃ یجوزان یتعلق بالحمد یعلم مستانف وقیل حال موکدۃ عالم الغیب بالجر صفۃ لربی اوبدل و یقرء بالرفع اے ھو عالم اصغر بالرفع عطفاً علی مثقال، وبالجر عطفا علی ذرۃ، لیجزی متعلق بمعنی لایعزب فکانہ قال یحصی ذلک لیجزی، الیم بالجر صفۃ لرجزو بالرفع صفۃ لعذاب۔ والرجز مطلق العذاب۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سورة سبا مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس قسم کی سورتیں کہ جن کے اول میں الحمدللہ ہے، پانچ ہیں ان میں سے دو نصف اول میں ہیں۔ انعام و کہف اور دو اخیر قرآن میں ہیں۔ ایک یہ دوسری ملائکہ، پانچویں الحمد کہ جس کو چاہو نصف اول میں شمار کرو خواہ نصف اخیر میں اور سر اس میں یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 3–4

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لاَ تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُ ط قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّـکُمْ لا عٰلِمِ الْغَیْبِ ج لاَ یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرُ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ط اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ (السباء : 3، 4) (اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی، کہہ دیجیے، ہاں قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی، وہ تم پر ضرور آکے رہے گی، اس سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے، نہ آسمانوں میں اور نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–5

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح صرف ” اللہ “ ہی جانتا ہے کہ جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اور جو اس میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اوپر چڑھتا ہے۔ قیامت کب قائم ہوگی صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے لوگوں کو ایک وقت تک مہلت دے رکھی جس سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے منکرین قیامت اپنی ہٹ دھرمی کی بناء پر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے تو پھر اسے کس طرح اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ انہیں اپنے رب کی قسم اٹھا کر بتلائیں کہ مجھے اپنے رب کی قسم ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نیکوں کو بدلہ بروں کو سزا : 4: لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (تاکہ ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے) ۔ اُولٰٓپکَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ (ایسے لوگوں کیلئے مغفرت) ان چیزوں کی جو مدارج ایمان میں ان سے کو تاہیاں ہوئیں۔ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ (اور عزت کی روزی ہے) اس لئے کہ انہوں نے احسان کے فوائد کو حاصل کرنے کیلئے ثابت قدمی دکھائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4، لیجزی الذین آمنواوعملوا الصالحات اولئک ، وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں۔ ، لھم مغفرۃ ورزق کریم، اچھا رزق مراداس سے جنت ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–4

3‘ 4۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے جگہ جگہ قیامت کے آن پر قسم کھانے کو فرمایا ہے چناچہ سورة یونس میں فرمایا قل ای وربی اور یہاں اس سورة میں فرمایا قل بلیٰ وربی اور سورة تغابن میں فرمایا قل بلیٰ وربی لتبعثن جگہ جگہ اس تاکید سے قیامت کا ذکر فرمانے سے ایک تو بڑی تاکید سے ان منکر لوگوں کا جواب دنیا مضود ہے جو قیامت کے منکر تھے اور آنحضرت ﷺ جب قیامت کا ذکر فرماتے تھے تو یہ لوگ لڑا تعجب کرتے تھے اور اللہ کے رسول کو دیوانہ بتلاتے تھے دوسرا مقصود یہ ہے کہ قیامت کے ساتھ اس دن حساب و کتاب عملوں کا تو لنا جنت اور دوزخ میں داخل ہونا جن جن باتوں کا ذکر ہے ان باتوں پر مسلمانوں کا ایمان خوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–5

آیت 3 جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کی جس کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور یہ چیز اس کی تعظیم و تقدیس اور اس پر ایمان کی موجب ہے تو ذکر فرمایا کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے رب کی قدر کی نہ اس کی تعظیم کی جیسا کہ اس کا حق ہے، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اور قیامت کی گھڑی کا انکار کیا اور اس کے بارے میں اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کی مخالفت کی، لہٰذا فرمایا : (وقال الذین کفروا) یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ ، اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کا انکار کیا، انہوں نے اپنے کفر کی بنا پر کہا : (لاتاتینا الساعۃ) ” ہم پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–4

9 قیام قیامت کی قطعیت کا ذکر : سو منکرین نے جس غرور اور طنطنے کے ساتھ قیامت کا انکار کیا تھا اسی زور کے ساتھ پیغمبر کو اس کی تردید کا حکم دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " کہو کیوں نہیں ؟ قسم ہے میرے رب کی "۔ سو اس سے نبی اور غیر نبی کے کلام و مقام کا فرق ظاہر اور واضح ہوجاتا ہے کہ غیر نبی خواہ کوئی بڑے سے بڑا فلسفی ہی کیوں نہ ہو اپنی عقل و فکر اور اپنے فلسفہ و کلام کی بنا پر اس قدر قوت و وثوق سے کوئی بات نہیں کہہ سکتا کہ اس کا سارا فکر و فلسفہ ہی ظن وتخمین پر قائم ہوتا ہے۔ یقین و ایمان کی دولت اسے خود نصیب نہیں ہوتی تابہ دیگراں چہ رسد ؟ بخلاف نبی کے کہ وہ وحی خداوندی کی بنا پر جس ایمان و یقین…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–9

ﷲ کی قدرتیں اور کفار کی بےوقوفی اور ضد تشریح : جیسا کہ پہلے اللہ کی حکمتوں کا ذکر ہوچکا ہے اور ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور واحد ہے اس نے پوری کائنات کو تخلیق کیا تو اس کی ہر چیز کا حساب کتاب اس نے اپنے پاس لوح محفوظ میں محفوظ کر رکھا ہے یعنی پیدا ہونا پھولنا اور پھلنا پھر ختم ہو کر اللہ کی طرف ہی لوٹ جانا ہے کیونکہ اس نے کوئی چیز جاندار ہو یا بےجان بےمقصد پیدا نہیں کی۔ سب کی پیدائش کا ایک مقصد ہے۔ جو بھی اپنے مقصد سے ہٹ کر زندگی گزارے گا وہ ضرور دنیا میں تکلیف اٹھائے گا پھر اس امتحان کی زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی آئے گی جو قیامت کے بعد شروع ہوگی اس وقت اس دنیا کے حساب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة السبا رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 9: اسرار و معارف : تمام خوبیاں اور سب کمالات اللہ کو سزا وار ہیں کہ جو آسمانوں اور زمینوں کا اور ان میں موجود ہر ذرے کا خالق اور اکیلا مالک ہے اور وہ بہت ہی حکمت والا ہے اور ہر ذرے سے خوب واقف ہے اس جہان میں اور آخرت میں ہر ذرہ اس کی تاثیرات اور نتائج سب کا مالک وہی ہے۔ اللہ کو خوب علم ہے کہ زمین کے ذرات میں کس طرح بارش کا پانی سورج اور چاند کی کرنیں یا مختلف گیسیں داخل ہو کر کیا عمل کرتی ہیں اور پھر وہ ذرات کس طرح پھلوں پھولوں یا غذا میں تبدیل ہو کر نکلتے ہیں اور کون سا ذرہ کس جسم کی تعمیر کے لیے تیار کرکے کس کس طویل راستے سے اس بدن تک پہنچے گا نیز اللہ خوب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یہ قیامت کے وقوع پر دلیل ہے یعنی اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ اس کے علم سے کوئی ذرہ بھر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے اس لئے وہ تمہارے منتشر اجزاء کو جمع کر کے دوبارہ زندہ کرسکتا ہے اور الصادق الامین نے اس کی خبر دی ہے۔ لہٰذا اس کے وقوع میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔ ( کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:4) لیجزی لام تعلیل کا ہے ۔ (یہ لام عاقبت کا بھی ہوسکتا ہے) اس کا تعلق لتا تینکم سے ہے کہ یہی علت ہے لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت کی۔ یجزی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ جزاء سے (باب ضرب) تاکہ وہ بدلہ دے تاکہ وہ جزا دے۔ کریم۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ عزت والا۔ عمدہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 3–6

لغات القرآن : آیت نمبر 3 تا 6 لا یعزب : دور نہیں کرتا۔ دور نہیں ہے مثقال : برابر اصغر : چھوٹا رزق کریم : عزت کا رزق سعوا : انہوں نے کوشش کی معجزین : بےبس اور عاجز کرنے والے رجز : سخت عذاب یھدی : وہ ہدایت دیتا ہے تشریح : آیات نمبر 3 تا 6 کفار مکہ رسمی طور پر قیامت کا انکار نہیں کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کو اپنے قیاس کرکے اس بات کو ممکن سمجھتے تھے کہ جب انسان مرنے کے بعد گل سڑ جائے گا اور اس کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے یا کائنات ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائے گی تو دوبارہ انسان اور کائنات کیسے پیدا ہوسکے گی ؟ وہ اپنی بےعقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسان کے دوبارہ پیدا ہونے ، اس کے ذرات جمع…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–6

قیامت میں دوبارہ اٹھنے کا ذکر۔ (ف 1) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا آناجگہ جگہ قسم کھاکر تاکید سے فرمایا کہ اس سے ایک تو ان منکروں کا جواب دینامقصود تھا جو قیامت کے منکر تھے اور نبی ﷺ جب قیامت کا ذکر فرماتے تو یہ بڑا تعجب کرتے تھے اور دوسرامقصود یہ تھا کہ قیامت کے دن حسبا کتاب عملوں کا تولنا، جنت اور دوزخ میں داخل ہونا، جن جن باتوں کا ذکر ہے اس باتوں پر مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہوجائے کیونکہ جب تک ان باتو پر ایمان مضبوط نہ ہوگا خلوص سے نیک کام آدمی سے نہ ہوسکے گا جب تک نیک نیت سے نیک کام نہ کیا جائے تو اوپری دل سے کیا کام مقبول نہیں ہے قرآن شریف اور حدیث شریف میں قیامت کا نام یوم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

تابشِ نظر 1: پیغمبر کی نظروں میں اہام اور وحی کی وجہ سے اس درجہ تابش آجاتی ہے ۔ کہ وہ ان واقعات وحقائق کو اس طرح محسوس کرتے ہیں جو آئندہ کئی صدیوں کے بعد آنے والے ہیں جس طرح ہم موجودہ مناظر کو دیکھتے ہیں ۔ وہ ان کے متعلق محکم یقین رکھتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے جانے کا ذریعہ کمزور استدلال نہیں ہوتا ۔ جس میں شک وشبہ کو اصلاً دخل نہیں ۔ وہ پیغمبر از بصیرت سے دیکھتے ہیں اور القاء وکشف سے حقائق وواقعات کو جانتے ہیں ان کے زمانے کے لوگ صرف الہام کی عظمت سے آگاہ نہیں ہوتے ۔ بلکہ پرلے درجے کے توگ ماہ نظر بھی ہوتے ہیں ۔ وہ ان کی باتوں کو محض جنون اور کذب سمجھتے ہیں ۔ ان کی نظریں سلیحی ہوتی ہیں ۔ اس لئے وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) یہ قیامت کا وقوع اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے ان کو جزا اور صلہ عطا فرمائے یہی دین حق پر ایمان لانے والے اور اعمال صالحہ کے پابند رہنے والے وہ لوگ ہیں جن کے لئے بڑی مغفرت اور باعزت روزی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ان کے ایمان لانے کی جزا ضرور دے گا 4 ۔ گزشتہ آیت کا مضمون ابھی جاری ہے اور اس جگہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کا آنا کیوں ضروری ہے ؟ اور کیوں ایسا ہے کہ وہ سارے انسانوں کے مرنے کے بعدہی آئے اور پہلے بالکل نہ آئے خواہ کوئی کتنی ہی ضد کیوں نہ کرے ؟ اس لئے کہ قیامت کا آنا بلا شبہ ضروری ہے اور اس لئے ضروری ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور محض اس ایمان لانے کا باعث وہ ظالموں کے ظلم کا شکار ہوگئے اور ظالموں نے ان پر دل کھول کر ظلم کیے اور اپنی جہالت کا ان کو نشانہ بنایا اور وہ اس طرح ظلم کرتے کرتے اس دنیا سے چلے گئے اور ایمان لانے والے اسی طرح ان کے ظلم وستم کو برداشت کرتے کرتے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لِّيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا (So that He rewards those who believed - 4) This sentence is connected with the earlier one: لَتَأْتِيَنَّكُمْ that is, al-Qiyamah or the Doomsday is bound to come and its purpose will be to reward believers and to provide for them the best sustenance from Jannah (Paradise).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–4

5 This they said satirically and mockingly. What they meant was: "This Prophet has been giving us the news of his coming of Resurrection for along tune now, but Resurrection has not overtaken us so far although we have openly denied and rejected him as a Prophet, have been insolent to him and have ridiculed him in every way." 6 The use of the attribute "Knower of the unseen" for Allah while swearing by him by itself points to the fact that the coming of Resurrection is certain, but no one knows except AIlah, Knower of the unseen, when exactly it will come. This same theme has been explained…

Read the full tafseer →