Explained with ayahs 3–6
قیامت آکر رہے گی۔
پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھاکر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورة یونس میں (وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 53) 10۔ یونس :53) لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہی ہے ؟ تو کہہ دے کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم وہ یقینا حق ہی ہے اور تم اللہ کو مغلوب نہیں کرسکتے۔ دوسری آیت یہی۔ تیسری آیت سورة تغابن میں (زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة سَبـَا 5
یہ بات وہ طنز اور تمسخر کے طور پر چندرا چندرا کر کہتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت دنوں سے یہ پیغمبر صاحب قیامت کے آنے کی خبر سنا رہے ہیں، مگر کچھ خبر نہیں کہ وہ آتے آتے کہاں رہ گئی۔ ہم نے اتنا کچھ انہیں جھٹلایا، اتنی گستاخیاں کیں، ان کا مذاق تک اڑایا، مگر وہ قیامت ہے کہ کسی طرح نہیں آ چکتی۔
سورة سَبـَا 6
پروردگار کی قسم کھاتے ہوئے اس کے لیے " عالم الغیب " کی صفت استعمال کرنے سے خود بخود اس امر کی طرف اشارہ ہوگیا کہ قیامت کا آنا تو یقینی ہے مگر اس کے آنے کا وقت خدائے عالم الغیب کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ یہی مضمون قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان ہوا ہے۔ تفصیل…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہ آئے گی، آپ فرما دیجئے کہ کیوں نہیں (آویگی) قسم اپنے پروردگار عالم الغیب کی کہ وہ ضرور تم پر آوے گی (اس کا علم ایسا وسیع اور محیط ہے کہ) اس (کے علم) سے کوئی ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ آسمانوں میں نہ زمین میں (بلکہ سب اس کے علم میں حاضر ہیں) اور نہ کوئی چیز اس (مقدار مذکور) سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی چیز (اس سے) بڑی ہے مگر یہ سب (بوجہ احاطہ علم الٰہی کے) کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (مرقوم) ہے (قیامت کے متعلق کفار کے کئی شہبات تھے، ایک یہ کہ اگر آنے والی ہے تو اس کا وقت بتلایئے، کما قال تعالیٰ (آیت) ایان مرسہا، دوسرا یہ کہ جن اجزاء کو جمع کر کے…
Read the full tafseer →وقل الذین کفروا لاتاتینا الساعۃ قل بلی و ربی لتاتینکم علم الغیب لایعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السموات ولا فی الارض ولا اصغر من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین (3)
یعنی جب اللہ حکیم وخبیر ہے، اس کا علم ہر چیز کا احاطہ بھی کیے ہوئے ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قیامت ضرور آئے لیکن جو ہٹ دھرم ہیں وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور بڑے غرور کے ساتھ انکار کرتے ہیں کہ قیامت ہر گزر نہیں آئے گی۔
’ قل بلی وربی لتاتینکم جس طنطنہ کے ساتھ منکرین کا انکار تھا اسی زور کے ساتھ پیغمبر ﷺ کی زبان سے بقید قسم، جواب دلوایا کہ ان کو سنا دو کہ ہاں، میرے رب کی قسم ! وہ تم پر ضرور آ کے رہے گی۔
’ علم الگیب، لایعزب عنہ…
Read the full tafseer →3۔ 1 قسم بھی کھائی اور صیغہ بھی تاکید کا اور اس پر مزید لام تاکید یعنی قیامت کیوں نہیں آئے گی ؟ وہ تو بہر صورت یقینا آئے گی۔
3۔ 2 یعنی جب آسمان و زمین کا کوئی ذرہ اس سے غائب اور پوشیدہ نہیں، تو پھر تمہارے اجزائے منتشرہ کو، جو مٹی میں مل گئے ہوں گے، جمع کر کے دوبارہ تمہیں زندہ کردینا کیوں ناممکن ہوگا
3۔ 3 یعنی وہ لوح محفوظ میں موجود اور درج ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
1: جو کافر لوگ آخرت کی زندگی کا انکار کرتے تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ انسان کے مٹی میں مل جانے کے بعد اس کو از سرِ نو زندگی دینا کیسے ممکن ہے ؟ ان آیتوں میں جواب یہ دیا جارہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کو انسان پر قیاس کر رہے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم تو اس کائنات کے ہر چھوٹے سے چھوٹے ذرے کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہے، اور جو ذات آسمان و زمین جیسی عظیم الشان مخلوقات کو بالک عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ مردہ جسم کے ذرات کو دوبارہ اکٹھا کر کے انہیں نئی زندگی عطا کردے ؟ اور آیت نمبر 4 میں آخرت کی زندگی کی عقلی ضرورت بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ کہ اگر یہ دنیا ہی سب کچھ ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (3 – 5)
کافروں کی جانب سے آخرت کا انکار اس وجہ سے تھا کہ وہ تخلیق انسانیت میں پنہاں حکمت الہیہ اور تقدیر الٰہی کا ادراک نہ کرسکے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو شتر بےمہار کی طرح نہ چھوڑ دیا جائے کہ جو اچھائی کرے اس کی بھی مرضی ہے اور جو برائی کرے اس کی بھی مرضی ہے۔ نہ محسن کو جزاء ملے اور نہ بدکار کو سزا ملے۔ اللہ نے اپنے رسولوں کی زبانی لوگوں کو متنبہ کردیا تھا کہ جزاء کا ایک حصہ آخرت کے لیے باقی رہتا ہے اور سزا کا ایک حصہ بھی آخرت کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کو حکمت تخلیق کا ادراک ہوجائے وہ جان لیتے ہیں کہ اللہ کی اسکیم کی تکمیل کے لیے…
Read the full tafseer →4 کیوں نہیں آئے گی۔ اس کا منشاء آگے آتا ہے۔ " اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۙ اِنَّكُمْ لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ۔ "
5 یعنی وہ معصوم و مقدس انسان جس کے صدق و امانت کا اقرار سب کو پہلے سے تھا اور اب براہین ساطعہ سے اس کی صداقت پوری طرح روشن ہوچکی، مؤکد قسم کھا کر اللہ کی طرف سے خبر دیتا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی، پھر تسلیم نہ کرنے کی کیا وجہ، ہاں اگر کوئی محال یا خلاف حکمت بات کہتا تو انکار کی گنجائش ہوسکتی تھی لیکن نہ یہ محال ہے نہ خلاف حکمت۔ پھر انکار کرنا ہٹ دھرمی نہیں تو کیا ہے۔
6 یعنی اس عالم الغیب کی قسم جس کے علم محیط سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ یا ذرہ سے چھوٹی بڑی کوئی چیز بھی غائب…
Read the full tafseer →آیت 3 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُ } ”اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت کبھی نہیں آئے گی۔“
عام طور پر ”السَّاعۃ“ کا ترجمہ قیامت ہی کردیا جاتا ہے ‘ مگر جیسا کہ سورة لقمان کی آیت 34 کے ضمن میں بھی بتایا جا چکا ہے السَّاعۃ اور قیامت دو مختلف الفاظ ہیں اور دونوں کے معانی بھی الگ الگ ہیں۔ السَّاعۃ سے مراد وہ خاص گھڑی ہے جب زمین میں ایک عظیم زلزلہ برپا ہوگا ‘ ستاروں اور سیاروں کا پورا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور دنیا مکمل طور پر تباہ ہوجائے گی۔ جبکہ القیامۃ اس کے بعد کی کیفیت کا نام ہے جب دنیا دوبارہ نئی شکل میں پیدا ہوگی اور تمام انسانوں کو زندہ کر کے ایک جگہ اکٹھے…
Read the full tafseer →5 جس دعویٰ پر کوئی ظاہری دلیل موجود نہ ہو یا مخاطب اسے تسلیم کرنے سے منکر ہو تو اللہ کی قسم سے اپنے دعویٰ کو موکد کیا جاتا ہے۔ یہاں قسم کھانے والی وہ ہستی ہے جسے کفار مکہ صادق اور امین سمجھتے تھے اولاً تو انھیں اس بات یا دعویٰ پر یقین کرلینا چاہئے تھا کیونکہ وہ صادق اور امین ہے ثانیاً وہ اللہ کی قسم اٹھا کر اپنے دعویٰ کو موکد بنا رہا ہے۔ اور ضمناً اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قیامت کا علم صرف اسے ہوسکتا ہے جو عالم الغیب ہو اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
6 یعنی کائنات کی ہر چھوٹی بڑی، خفیہ اور علانیہ غرض ہر چیز سے اللہ تعالیٰ واقف ہی نہیں بلکہ کائنات میں کوئی بھی چھوٹا یا بڑا پیش آنے والا…
Read the full tafseer →3۔ یعنی علاوہ حق تعالیٰ کے علم ذاتی کے وہ خدائی رجسٹر میں بھی باضابطہ درج ہے۔ (آیت) ” کتب مبین “۔ یعنی لوح محفوظ۔ وھو اللوح المحفوظ عند الاکثرین (روح) (آیت) ” فی السموت ولا فی الارض “۔ یعنی کائنات میں کہیں بھی ہو۔ (آیت) ’ لااصغر من ذلک ولا اکبر “۔ یعنی کسی مقدار وحجم کا بھی ہو۔ (آیت) ” بلی وربی “۔ ایک خدا پرست کیلئے خدا کی قسم سے بڑھ کر تاکید و توثیق کی اور کون سی چیز ہوسکتی ہے۔ نہ کہ کوئی مخصوص قوم وقبیلہ۔ اراد بالضمیر المتکلم جنس البشر قاطبۃ لا انفسھم اومعاصر یھم (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے (اس کلام) کے ذریعہ اپنی تعریف فرمائی ہے، اور مراد اس کلام سے، اس کلام کے مضمون کے ذریعہ، کہ وہ ثبوت حمد ہے تعریف کرنا ہے، اور حمد اللہ تعالیٰ کے لئے صفات کمالیہ کا بیان کرنا ہے ملک کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار سے اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور دنیا کے مانند آخرت میں بھی اسی کی حمد ہے، اس کے اولیاء جب جنت میں داخل ہوں گے تو اس کی حمد بیان کریں گے وہ اپنے فعل میں بڑی حکمتوں والا ہے اور…
Read the full tafseer →وقال الذین کفروا لاتاتینا الساعۃ . اور کافروں نے کہا : ہم پر قیامت (کبھی) نہیں آئے گی۔
قل بلی وربی لتاتینکم . آپ کہہ دیجئے : کیوں نہیں ‘ اپنے رب کی قسم ! ضرور ضرور تمہارے لئے قیامت آئے گی۔
علم الغیب . وہ رب جو غیب کو جاننے والا ہے۔
عالم الغیب کے لفظ سے اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کا وجود امور غیبیہ میں سے ہے جس جو جاننے والا سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں ‘ لہٰذا اسی کی شہادت قیامت کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے اور غیب کی چیزوں کا اقرار یا انکار کسی کیلئے بغیر اللہ کے بتائے ہوئے جائز نہیں۔
لا یعزب عنہ مثقال ذرۃٍ فی السموت ولا فی الارض اس کے علم سے کوئی چھوٹی چیونٹی کے برابر (چیز)
آسمانوں میں پوشیدہ ہے…
Read the full tafseer →اور کفار مکہ یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی وغیرہ کہتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہوگی۔
آپ ان سے فرما دیجیے کہ کیوں نہیں قیامت ضرور قائم ہوگی قسم ہے اپنے پروردگار عالم الغیب کی وہ ضرور تم پر آئے گی۔
بندوں کے اعمال میں سے اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی پوشیدہ نہیں اور نہ کوئی چیز اس مقدار مذکور سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی بڑی ہے مگر یہ سب لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ : یہ بیان کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو بےحساب نعمتیں کی ہیں، ان پر دنیا کے علاوہ آخرت میں بھی حمد اور شکر اسی کے لیے ہے، یہ بیان فرمایا کہ کفار اپنے خالق ومالک کی حمد کے بجائے دوبارہ زندہ ہو کر اس کے سامنے پیش ہونے کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔
قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ : قسم اٹھا کر بات کرنے سے اس بات کی اہمیت اور اس کے واقع ہونے کی تاکید مقصود ہوتی ہے، جس پر قسم اٹھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بات جتنی شدت سے کی گئی ہو اس کا رد اتنی ہی یا اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اہل مکہ ہیں۔ مقاتل نے کہا : ابو سفیان نے کفار مکہ سے کہا : لات و عزیٰ کی قسم ! ہم پر قیامت کبھی نہیں آئے گی اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت : قل اے محمد کہیے : آیت بلا وربی لتاتینکم، ہارون طلق معلم سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے اپنے مشائخ کو پڑھتے ہوئے سنا : آیت قل بلی وربی لیاتیینکم یا، کے ساتھ۔ اسے معنی پر محمول کیا ہے، گویا کہا : تمہیں بعث اور اس کا امر ضرور آے گا جس طرح فرمایا : آیت : ھل ینظرون الا ان تا تیھم الملیکۃ او یاتی ربک (الانعام 158) یہ کفارا بتدا کا انکار کرتے اور عادہ کے منکر تھے۔ انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وہوالحکیم الخبیر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حکیم ہے اپنے کام میں باخبر ہے اپنی مخلوق سے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) روایت کیا کہ آیت یعلم مایلج فی الارض (وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں) یعنی بارش آیت وما یخرج منہا (اور جو چیز نکلتی ہے اس میں سے) یعنی سبزے میں سے آیت وما ینزل من السماء اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے یعنی فرشتے آیت وما یعرج فیہا اور جو اس میں چڑھتے ہیں یعنی فرشتہ۔
3۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت قل بل وربی لتاتینکم۔ علم الغیب کیوں نہیں اور میرا رب جو…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ [اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] لَا تَاْتِيْنَا [نہیں آئے گی ہمارے پاس ] السَّاعَةُ ۭ [وہ گھڑی (قیامت)] قُلْ بَلٰى [آپ ﷺ کہیے کیوں نہیں ] وَرَبِّيْ [میرے اس رب کی قسم ] لَتَاْتِيَنَّكُمْ ۙ [وہ لازما آگی تم لوگوں کے پاس ] عٰلِمِ الْغَيْبِ ۚ [جوعالم الغیب ہے ] لَا يَعْزُبُ [پوشیدہ نہیں ہوتی ] عَنْهُ [اس سے ] مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ [کسی ذرہ کے ہم وزن (چیز)] فِي السَّمٰوٰتِ [آسمانوں میں ] وَلَا فِي الْاَرْضِ [اور نہ زمین میں ] وَلَآ اَصْغَرُ [اور نہ زیادہ چھوٹی (چیز)] مِنْ ذٰلِكَ [اس سے ] وَلَآ اَكْبَرُ [اور نہ زیادہ بڑی ] اِلَّا [مگر (یہ کہ)] فِيْ كِتٰبٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
اللہ تعالیٰ مستحق حمد ہے اسے ہر چیز کا علم ہے، اہل ایمان کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے
یہاں سے سورة سباء شروع ہو رہی ہے۔ سباء ایک قوم تھی جو یمن میں رہتی تھی، اس سورت کے دوسرے رکوع میں ان لوگوں کی بودوباش اور باغوں سے منتفع ہونے کا پھر ناشکری کی وجہ سے ان کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے اس لیے اس سورة کا نام سورة سباء معروف ہوا۔
شروع سورة میں ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی مستحق حمد ہے، اس دنیا میں بھی اس کے لیے حمد ہے اور آخرت میں بھی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ بیان فرمائیں، اولاً تو یہ فرمایا کہ وہ حکیم ہے حکمت والا ہے اس کا کوئی فعل اور کوئی فیصلہ حکمت سے خالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
اثبات معاد مقرون بہ قسم برائے تہدید اہل کفر وعناد
قال اللہ تعالی۔ وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب۔
(ربط) اوپر تحمید اور توحید کا ذکر تھا اب آئندہ آیت میں منکرین حشر کی ایک بیہودہ بات کا ذکر کر کے اس کا رد فرماتے ہیں اور بیہودگی پر تہدید بھی فرماتے ہیں۔ (شیخزادہ ص 79 ج 4)
اور یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت ضرور آئے گی اور جو لوگ قیامت کے ساتھ استہزا کرتے ہیں ان کو ان کے اعمال کی ضرور سزا ملے گی چناچہ فرماتے ہیں اور کافر اور مشرک جو امانت کے ثواب اور خیانت کے عقاب کے منکر ہیں اور حیات دنیاوی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی ہمیں کسی…
Read the full tafseer →5:۔ وقال الذین کفرو الخ : یہ شکوہ ہے کفار نہ صرف توحید کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ قیامت کے بھی منکر ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی۔ قل بلی الخ : یہ جواب شکوہ ہے اور توحید کی دوسری عقلی دلیل ہے۔ فرمایا جواب دو ۔ کیوں نہیں آئیگی ؟ ضرور آئے گی مجھے اپنے مالک و مربی کی قسم جو عالم الغیب ہے اور زمین و آسمان میں ایک ذرہ بلکہ اس سے بھی کوئی چھوٹی چیز بھی اس سے اوجھل نہیں۔ ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے علم میں ہے کتاب مبین سے یا تو لوح محفوظ یعنی علم الٰہی مراد ہے یا صحائف ملائکہ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک یہی راجح ہے یعنی تمام اعمال صغیرہ و کبیرہ کو فرشتے اپنے صحائف میں لکھ رہے ہیں تاکہ ان کے مطابق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة سبا ہے جو کہ اس کی آیت۔ 51 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ سبا ایک شخص ، قبیلے ، شہر اور ملک کا نام تھا جس کا ذکر اس سورة مبارکہ کے دوسرے رکوع میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة نور سے لے کر سورة سجدہ تک ساری مکی سورتیں تھیں۔ اس کے بعد پچھلی سورة الاحزاب مدنی تھی اور یہ سورة پھر مکی ہے۔ آگے پھر تین سورتیں متواتر مدنی ہیں اور اس کے بعد مکی اور مدنی مخلوط سورتیں آئیں گی۔
اس سورة کی چون آیتیں اور چھ رکوع ہیں یہ سورة مبارکہ 388 الفاظ اور 2151 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکی دور کے زمانہ وسطیٰ میں سورة لقمان کے بعد نازل ہوئی۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط
سابقہ سورة احزاب کے آخر میں…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَۃُ 0 ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ 0 ۙ عٰلِمِ الْغَيْبِ 0 ۚ لَا يَعْزُبُ عَنْہُ مِثْـقَالُ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 3 ۤ ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب : فی السٰموٰت متعلق یثبت فی الآخرۃ یجوزان یتعلق بالحمد یعلم مستانف وقیل حال موکدۃ عالم الغیب بالجر صفۃ لربی اوبدل و یقرء بالرفع اے ھو عالم اصغر بالرفع عطفاً علی مثقال، وبالجر عطفا علی ذرۃ، لیجزی متعلق بمعنی لایعزب فکانہ قال یحصی ذلک لیجزی، الیم بالجر صفۃ لرجزو بالرفع صفۃ لعذاب۔ والرجز مطلق العذاب۔
تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سورة سبا مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس قسم کی سورتیں کہ جن کے اول میں الحمدللہ ہے، پانچ ہیں ان میں سے دو نصف اول میں ہیں۔ انعام و کہف اور دو اخیر قرآن میں ہیں۔ ایک یہ دوسری ملائکہ، پانچویں الحمد کہ جس کو چاہو نصف اول میں شمار کرو خواہ نصف اخیر میں اور سر اس میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لاَ تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُ ط قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّـکُمْ لا عٰلِمِ الْغَیْبِ ج لاَ یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرُ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ط اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ (السباء : 3، 4)
(اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی، کہہ دیجیے، ہاں قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی، وہ تم پر ضرور آکے رہے گی، اس سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے، نہ آسمانوں میں اور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح صرف ” اللہ “ ہی جانتا ہے کہ جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اور جو اس میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اوپر چڑھتا ہے۔ قیامت کب قائم ہوگی صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے لوگوں کو ایک وقت تک مہلت دے رکھی جس سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے منکرین قیامت اپنی ہٹ دھرمی کی بناء پر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے تو پھر اسے کس طرح اٹھایا جاسکتا ہے۔
اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ انہیں اپنے رب کی قسم اٹھا کر بتلائیں کہ مجھے اپنے رب کی قسم ہے…
Read the full tafseer →علم قیامت عقوبات باری تعالیٰ ہے :
3: وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور کافر کہتے ہیں) جو کہ منکرین بعث ہیں لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُ (ہم پر قیامت نہ آئے گی) اٹھنے کی نفی اور قیامت کی آمد کا انکار کرنا ہے۔
قُلْ بَلٰی (آپ فرما دیجئے کہ کیوں نہیں) یعنی قیامت ضرور آئے گی۔
مسئلہ : نفی کے بعد اثبات کیلئے بلٰی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی اس کی آمد کے سوا کوئی بات نہیں۔
وَرَبِّیْ لَتَاْ تِیَنَّکُمْ (قسم ہے مجھے پروردگار کی وہ ضرور آئے گی) اس میں بلیٰ کے ایجاب کو دوبارہ تاکید سے لوٹایا۔ اور ایسی چیز لائے جو تاکید میں بہت بڑھ کر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانا ہے۔ اور اس تاکید میں مزید اضافہ اس طرح کردیا کہ…
Read the full tafseer →3، وقال الذین کفروالاتاتینا الساعۃ قل بلی وربی لتاتینکم ، جب قیامت آجائے گی۔ ، عالم الغیب ، قراء اہل مدینہ اور اہل شام عالم رفع کے ساتھ جملہ مستانفہ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے جر کے ساتھ پڑھا ہے لفظ رب کی صفت ہونے کی وجہ سے۔ ، ای وربی عالم الغیب، حمزہ اور کسائی نے علام وزن فعال پر پڑھا ہے اور میم مجرور کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، لایغزب، وہ اس سے غائب نہیں۔ ، عنہ مثقال ذرۃ فی السموات ولافی الارض ولا اصغرمن ذلک، اس کے تھوڑے سے ذرہ میں سے، ولا اکبر الافی کتاب مبین،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3‘ 4۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے جگہ جگہ قیامت کے آن پر قسم کھانے کو فرمایا ہے چناچہ سورة یونس میں فرمایا قل ای وربی اور یہاں اس سورة میں فرمایا قل بلیٰ وربی اور سورة تغابن میں فرمایا قل بلیٰ وربی لتبعثن جگہ جگہ اس تاکید سے قیامت کا ذکر فرمانے سے ایک تو بڑی تاکید سے ان منکر لوگوں کا جواب دنیا مضود ہے جو قیامت کے منکر تھے اور آنحضرت ﷺ جب قیامت کا ذکر فرماتے تھے تو یہ لوگ لڑا تعجب کرتے تھے اور اللہ کے رسول کو دیوانہ بتلاتے تھے دوسرا مقصود یہ ہے کہ قیامت کے ساتھ اس دن حساب و کتاب عملوں کا تو لنا جنت اور دوزخ میں داخل ہونا جن جن باتوں کا ذکر ہے ان باتوں پر مسلمانوں کا ایمان خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
آیت 3
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت بیان کی جس کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو موصوف کیا ہے اور یہ چیز اس کی تعظیم و تقدیس اور اس پر ایمان کی موجب ہے تو ذکر فرمایا کہ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے اپنے رب کی قدر کی نہ اس کی تعظیم کی جیسا کہ اس کا حق ہے، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اور قیامت کی گھڑی کا انکار کیا اور اس کے بارے میں اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کی مخالفت کی، لہٰذا فرمایا : (وقال الذین کفروا) یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ ، اس کے رسولوں اور ان کی دعوت کا انکار کیا، انہوں نے اپنے کفر کی بنا پر کہا : (لاتاتینا الساعۃ) ” ہم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
9 قیام قیامت کی قطعیت کا ذکر : سو منکرین نے جس غرور اور طنطنے کے ساتھ قیامت کا انکار کیا تھا اسی زور کے ساتھ پیغمبر کو اس کی تردید کا حکم دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " کہو کیوں نہیں ؟ قسم ہے میرے رب کی "۔ سو اس سے نبی اور غیر نبی کے کلام و مقام کا فرق ظاہر اور واضح ہوجاتا ہے کہ غیر نبی خواہ کوئی بڑے سے بڑا فلسفی ہی کیوں نہ ہو اپنی عقل و فکر اور اپنے فلسفہ و کلام کی بنا پر اس قدر قوت و وثوق سے کوئی بات نہیں کہہ سکتا کہ اس کا سارا فکر و فلسفہ ہی ظن وتخمین پر قائم ہوتا ہے۔ یقین و ایمان کی دولت اسے خود نصیب نہیں ہوتی تابہ دیگراں چہ رسد ؟ بخلاف نبی کے کہ وہ وحی خداوندی کی بنا پر جس ایمان و یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
ﷲ کی قدرتیں اور کفار کی بےوقوفی اور ضد
تشریح : جیسا کہ پہلے اللہ کی حکمتوں کا ذکر ہوچکا ہے اور ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور واحد ہے اس نے پوری کائنات کو تخلیق کیا تو اس کی ہر چیز کا حساب کتاب اس نے اپنے پاس لوح محفوظ میں محفوظ کر رکھا ہے یعنی پیدا ہونا پھولنا اور پھلنا پھر ختم ہو کر اللہ کی طرف ہی لوٹ جانا ہے کیونکہ اس نے کوئی چیز جاندار ہو یا بےجان بےمقصد پیدا نہیں کی۔ سب کی پیدائش کا ایک مقصد ہے۔ جو بھی اپنے مقصد سے ہٹ کر زندگی گزارے گا وہ ضرور دنیا میں تکلیف اٹھائے گا پھر اس امتحان کی زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی آئے گی جو قیامت کے بعد شروع ہوگی اس وقت اس دنیا کے حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة السبا
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 9:
اسرار و معارف :
تمام خوبیاں اور سب کمالات اللہ کو سزا وار ہیں کہ جو آسمانوں اور زمینوں کا اور ان میں موجود ہر ذرے کا خالق اور اکیلا مالک ہے اور وہ بہت ہی حکمت والا ہے اور ہر ذرے سے خوب واقف ہے اس جہان میں اور آخرت میں ہر ذرہ اس کی تاثیرات اور نتائج سب کا مالک وہی ہے۔ اللہ کو خوب علم ہے کہ زمین کے ذرات میں کس طرح بارش کا پانی سورج اور چاند کی کرنیں یا مختلف گیسیں داخل ہو کر کیا عمل کرتی ہیں اور پھر وہ ذرات کس طرح پھلوں پھولوں یا غذا میں تبدیل ہو کر نکلتے ہیں اور کون سا ذرہ کس جسم کی تعمیر کے لیے تیار کرکے کس کس طویل راستے سے اس بدن تک پہنچے گا نیز اللہ خوب…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی اخروی نعمتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ حمد و ستائش کے مستحق ہیں مگر کچھ لوگ کہ اخروی نعمت کے منکر ہیں اور قیامت جس کے بعد آخرت میں نعمتیں حاصل ہونگی اس کا انکار کر رہے ہیں۔ ( کبیر) ۔10 یہ آیت ان تینوں آیتوں میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو قیامت کے آنے پر قسم کھانے کا حکم دیا ہے۔ دوسری آیت سورة یونس میں ہے ” ولستبلوانک احق ھو “ الایۃ۔ اور تیسری آیت سورة تغابن میں ہے۔” رعم الدین کفروا “ (الایۃ)
Read the full tafseer →(34:3) لا تاتینا۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ اتیان (باب ضرب) مصدر نا ضمیر جمع متکلم وہ ہمارے پاس نہیں آئے گی۔ الساعۃ القیامۃ۔ یعنی ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ بلی۔ ہاں۔ بلی کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے :۔
(1) نفی ما قبل کی تردید کے لئے مثلاً زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا۔ قل بلی وربی لتبعثن (64:7) جو لوگ کافر ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ آپ (ان سے) کہئے ضرور اور قسم ہے میرے پروردگار کی تم ضرور اٹھائے جائو گے۔
(2) اس استفہام کے جواب میں جو نفی پر واقع ہو :۔
(الف) خواہ یہ استفہام حقیقی ہو مثلاً ۔ الیس زید بقائم (کیا زید کھڑا نہیں ؟ ) اور جواب میں کہا جائے بلی (ہاں یعنی ہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
لغات القرآن : آیت نمبر 3 تا 6
لا یعزب : دور نہیں کرتا۔ دور نہیں ہے
مثقال : برابر
اصغر : چھوٹا
رزق کریم : عزت کا رزق
سعوا : انہوں نے کوشش کی
معجزین : بےبس اور عاجز کرنے والے
رجز : سخت عذاب
یھدی : وہ ہدایت دیتا ہے
تشریح : آیات نمبر 3 تا 6
کفار مکہ رسمی طور پر قیامت کا انکار نہیں کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کو اپنے قیاس کرکے اس بات کو ممکن سمجھتے تھے کہ جب انسان مرنے کے بعد گل سڑ جائے گا اور اس کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے یا کائنات ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائے گی تو دوبارہ انسان اور کائنات کیسے پیدا ہوسکے گی ؟ وہ اپنی بےعقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسان کے دوبارہ پیدا ہونے ، اس کے ذرات جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
قیامت میں دوبارہ اٹھنے کا ذکر۔
(ف 1) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا آناجگہ جگہ قسم کھاکر تاکید سے فرمایا کہ اس سے ایک تو ان منکروں کا جواب دینامقصود تھا جو قیامت کے منکر تھے اور نبی ﷺ جب قیامت کا ذکر فرماتے تو یہ بڑا تعجب کرتے تھے اور دوسرامقصود یہ تھا کہ قیامت کے دن حسبا کتاب عملوں کا تولنا، جنت اور دوزخ میں داخل ہونا، جن جن باتوں کا ذکر ہے اس باتوں پر مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہوجائے کیونکہ جب تک ان باتو پر ایمان مضبوط نہ ہوگا خلوص سے نیک کام آدمی سے نہ ہوسکے گا جب تک نیک نیت سے نیک کام نہ کیا جائے تو اوپری دل سے کیا کام مقبول نہیں ہے قرآن شریف اور حدیث شریف میں قیامت کا نام یوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
[8] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →ف 2: حشیراجساد کا مسئلہ مکہ والوں کے لئے ہمیشہ ابتلاد کا باعث رہا ہے ۔ ان کی سمجھ میں یہ حقیقت کبھی نہیں آئی ۔ کہ جس خدا نے کتم عدم سے دنیا کو نکالا ہے ۔ اور خلعت وجود بخشا ۔ وہ جب چاہے گا پھر اپنے بندوں کو قبروں سے اٹھا کر کھڑا کردیں گا ۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ جب خدا کو تسلیم کرلیا ۔ اس کی قدرتوں اور وسعتوں پر ایمان لے آئے ۔ تو پھر استحالہ اور اشکال کے لئے کون گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟
وہ قادر مطلق بمجرد اپنے ارادہ کے ہزاروں عالم بیک وقت پیدا کرسکتا ہے ۔ اور فنا کرسکتا ہے ۔ اس کی ایک نگاہ غضب تمہاری کائناتکو چشم زون میں تباہی کے گھاٹ اتار سکتی ہے ۔ اور اس التفات کی نظر سے دیکھ لینا زندگی…
Read the full tafseer →(3) اور دین حق کے منکر یوں کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئی گی آپ ان سے کہہ دیجئے کیوں نہیں آئے گی۔ قسم ہے میرے پروردگار کی وہ قیامت تم پر ضرور آئے گی۔ وہ میرا پروردگار عالم الغیب ہے یعنی وہ عالم بالعلم المحیط ہے ذرہ برابر بھی کوئی چیز اس سے غائب نہیں ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہو خواہ وہ زمین میں ہو اور نہ ذرے کی مقدار سے کوئی چیز چھوٹی ہے اور نہ اس سے بڑی ہے لیکن وہ سب کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی موجود ہے۔
قیامت کے متعلق منکر جو شکوک و شبہات کیا کرتے تھے ان شبہات کا تفصیلی جواب قرآن کریم میں مختلف جگہ آتا رہتا ہے۔ یہاں لا تاتینا الساعۃ کا جواب دیا گیا ہے اور چونکہ منکر پوری قوت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 4۔ یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →کافر کہتے ہیں کہ قیامت آکیوں نہیں جاتی ؟ ان کو سمجھایاجارہا ہے کہ جلدی نہ کرو
3 ۔ یہ کفار کا پرانا مطالبہ ہے کہ آپ ہم کو بار بار کہتے ہیں کہ قیامت آئے گی ، قیامت آئے گی پھر آخر وہ آکیوں نہیں جاتی ؟ ان کو بتایا جارہا ہے کہ جس وثوق سے تم اس کا انکار کرتے ہو اور اپنے انکار سے خدا کو تھکا دینا چاہتے ہو یہ تمہاری بھول ہے خدا وہ ذات نہیں ہے کہ تھک جائے اور نہ وہ ایسا ہے کہ تمہارے چڑدلانے سے چڑ جائے اور اس کو فوراً تمہارے سامنے لا کھڑا کردے بہرحال تمہارا یہ مطالبہ اس وجہ سے ہے کہ دراصل تم اس کا انکار کر رہے ہو اور کرتے رہو بالکل نہ مانو اور اپنی زندگیوں کی اچھی طرح حفاظت کرو اور اس وقت تک تم بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Commentary
عَالِمِ الْغَيْبِ (the knower of the unseen). This is an attribute of the Rabb (Lord) in whose name an oath has been taken in verse 3. At this place, out of the many attributes of Allah Ta’ ala, the attribute of all-encompassing knowledge and the knowledge of the unseen has, perhaps, been mentioned particularly because the text is dealing with the matter of the deniers of the day of Resurrection. The major reason why the disbelievers rejected the inevitability of Qiyamah, the day of doom, was their inability to comprehend how the whole thing would work out. When all human beings…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5 This they said satirically and mockingly. What they meant was: "This Prophet has been giving us the news of his coming of Resurrection for along tune now, but Resurrection has not overtaken us so far although we have openly denied and rejected him as a Prophet, have been insolent to him and have ridiculed him in every way."
6 The use of the attribute "Knower of the unseen" for Allah while swearing by him by itself points to the fact that the coming of Resurrection is certain, but no one knows except AIlah, Knower of the unseen, when exactly it will come. This same theme has been explained…
Read the full tafseer →