Saba 34:2

Saba · from ayah 2

34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْهَا ؕ— وَهُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ ۟يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِى الۡاَرۡضِ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا ؕ وَهُوَ الرَّحِيۡمُ الۡغَفُوۡرُ‏

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اُترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He knows what penetrates into the earth and what emerges from it and what descends from the heaven and what ascends therein. And He is the Merciful, the Forgiving.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Saba

All translations of 34:2

جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے، ہر چیز کو وہ جانتا ہے، وہ رحیم اور غفور ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اُترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے جو آسمان سے اترے اور جو چڑھ کر اس میں جائے وه سب سے باخبر ہے۔ اور وه مہربان نہایت بخشش واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو زمین کے اندر جاتی ہیں اور ان کو بھی جو اس سے باہر نکلتی ہیں، ان کو بھی جو آسمان سے اترتی ہیں اور ان کو بھی جو اس میں چڑھتی ہیں اور وہی ہے جو بڑا مہربان ہے، بہت بخشنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جانتا ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو زمین سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے اور وہی ہے مہربان بخشنے والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ اُن (سب) چیزوں کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور جو اس میں سے باہر نکلتی ہیں اور جو آسمان سے اترتی ہیں اور جو اس میں چڑھتی ہیں، اور وہ بہت رحم فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے اور وہی نہایت رحم والا، بےحد بخشنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے یا اس سے نکلتا ہے نیز جو کچھ آسمان سے اترتا اور جو کچھ آسمان میں چڑھتا ہے، وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ رحم کرنے والا ہے اور معاف کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو اس سے برآمد ہوتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہی رحم فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ داخل ہوتا ہے زمین میں اور وہ سب کچھ بھی جو کہ نکلتا ہے اس سے اور جو اترتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں اور وہی ہے بڑا مہربان انتہائی بخشنے والا

— مولانا اسحاق مدنی

وہ (سب) جانتا ہے جو کچھ زمین کے اندر داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے اور بڑا رحم والا ہے بڑا مغفرت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے اور وہ نہایت رحم کرنے والا بہت بخشنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے اور وہ مہربان اور بخشنے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

He knows what penetrates into the earth and what goes forth from it, what descends from the heaven and what ascends to it. He is the Most Merciful, the Most Forgiving.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He knows all that goes into the earth and all that comes out from it, and all that comes down from the sky and all that ascends thereto. He is the Very-Merciful, the Most-Forgiving.

— Muhammad Taqi Usmani

He knows all that goes into the earth and all that comes out from it, and all that comes down from the sky and all that ascends thereto. He is the Very-Merciful, the Most-Forgiving.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He knows that which goes into the earth and that which comes forth from it, and that which descends from the heaven and that which ascends to it. And He is the Most Merciful, the Oft-Forgiving.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He knoweth that which goeth into the earth and that which cometh forth from it, and that descendeth from the heaven and that which ascendeth into it. He is the Merciful, the Forgiving.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He knows what penetrates into the earth and what emerges from it and what descends from the heaven and what ascends therein. And He is the Merciful, the Forgiving.

— Saheeh International

He knows all that enters the earth, all that comes out of it, all that descends from the sky and all that ascends to it. He is All-merciful and All-forgiving.

— Muhammad Sarwar

He knows that which goes down into the earth and that which comes out of it, and that which comes down from the heaven and that which goes up to it; and He is the Merciful, the Forgiving.

— Muhammad Habib Shakir

He knoweth whatsoever penetrateth into the earth and whatsoever cometh forth therefrom and whatsoever descendeth from the heaven and whatsoever ascendeth thereto. And He is the Merciful, the Forgiving.

— Abdul Majid Daryabadi

He knows all that goes into the earth, and all that comes out thereof; all that comes down from the sky and all that ascends thereto and He is the Most Merciful, the Oft-Forgiving.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 34:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–2

اوصاف الٰہی۔ چونکہ دنیا اور آخرت کی سب نعمتیں رحمتیں اللہ ہی کی طرف سے ہیں۔ ساری حکومتوں کا حاکم وہی ایک ہے۔ اس لئے ہر قسم کی تعریف وثناء کا مستحق بھی وہی ہے۔ وہی معبود ہے جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اسی کیلئے دنیا اور آخرت کی حمد وثناء سزاوار ہے۔ اسی کی حکومت ہے اور اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جاتے ہیں۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اس کے ماتحت ہے۔ جتنے بھی ہیں سب اس کے غلام ہیں۔ اس کے قبضے میں ہیں سب پر تصرف اسی کا ہے۔ آخرت میں اسی کی تعریفیں ہوں گی۔ وہ اپنے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت سب میں حکومت والا ہے اور ایسا خبردار ہے جس پر کوئی چیز مخفی نہیں، جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں، جو اپنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة سَبـَا 4 یعنی ایسا نہیں ہے کہ اس کی سلطنت میں اگر کوئی شخص یا گروہ اس کے خلاف بغاوت کرنے کے باوجود پکڑا نہیں جا رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ دنیا اندھیر نگری اور اللہ تعالیٰ اس کا چوپٹ راجہ ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم ہے اور درگزر سے کام لینا اس کی عادت ہے۔ عاصی اور خاطی کو قصور سرزد ہوتے ہی پکڑ لینا، اس کا رزق بند کردینا، اس کے جسم کو مفلوج کردینا اس کو آناً فاناً ہلاک کردینا، سب کچھ اس کے قبضے میں ہے، مگر وہ ایسا کرتا نہیں ہے۔ یہ اس کی شان رحیمی کا تقاضا ہے کہ قادر مطلق ہونے کے باوجود وہ نافرمان بندوں کو ڈھیل دیتا ہے، سنبھلنے کی مہلت عطا کرتا ہے، اور جب بھی وہ باز…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر تمام تر حمد (وثنا) اسی اللہ کو سزاوار ہے، جس کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور کچھ زمین میں ہے (جس طرح وہ فی الحال مستحق حمد ہے اسی طرح) اسی کو حمد (وثناء) آخرت میں (بھی) سزاوار ہے (اس کا ظہور اس طرح ہوگا کہ اہل جنت، جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد ان الفاظ میں کریں گے، (آیت) الحمد للہ الذی ھدانا لہٰذا، الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن، الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ، وغیرہ) اور وہ حکمت والا ہے (کہ آسمان و زمین کی تمام مخلوقات کو بیشمار مصالح اور منافع پر مشتمل بنایا ہے، اور وہ) خبردار (بھی) ہے (کہ ان مصالح اور منافع کو پیدا کرنے سے پہلے سے جانتا ہے، ہر چیز میں مصالح اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعلم ما یلض فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا وھو الرحیم الغفور (2) یہ اسی صفت خبیر کی وضاھت ہے کہ اس کا علم اس کائنات کے ایک ایک ذرے اور ایک ایک حرکت و سکون کو محیط ہے۔ جو دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے وہ اس سے بھی باخبر ہوتا ہے اور جو پودا اس سے برآمد ہوتا ہے اس کو بھی وہ جانتا ہے۔ اسی طرح آسمان سے جو خیرو شر نازل ہوتا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہوتا ہے اور جو چیزیں اس میں صعود کرتی ہیں ان سے بھی وہ آگاہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا علم تمام کلیات و جزئیات کو محیط ہے اور وہ ہر چیز کی نگرانی فرما رہا ہے۔ اس کی مملکت میں کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہ تو اس کے دائرہ علم سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 مثلا بارش خزانہ اور دفینہ وغیرہ۔ 2۔ 2 بارش اولے گرج، بجلی اور برکات الٰہی وغیرہ، نیز فرشتوں اور آسمانی کتابوں کا نزول۔ 2۔ 3 یعنی فرشتے اور بندوں کے اعمال۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

الحمدللہ الذی لہ ۔۔۔۔۔ وھو الرحیم الغفور (1 – 2) ” ۔ “۔ یہ اس سورة کا آغاز ہے جس میں مشرکین کے شرک ، ان کی جانب سے رسول اللہ کی تکذیب ، آخرت میں تشکیک ، اور ان کی طرف سے بعث بعد الموت کو مستبد سمجھنے کے موضوعات پر کلام کیا گیا ہے۔ آغاز ان کلمات کے ساتھ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہے۔ جو بذات خود محمود ہے اگرچہ مخلوقات میں سے کوئی بھی اس کی تعریف نہ کرے۔ وہ اس پوری کائنات میں محمود ہے اور اس کائنات کی پوری قوتیں اور مخلوقات اللہ کی حمد کرتی ہیں اگرچہ یہ انسان اس کی حمد نہ کرے۔ حمد کے ساتھ اللہ کی اس صفت کا ذکر ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی آسمان و زمین کی کوئی چھوٹی بڑی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ جو چیز زمین کے اندر چلی جاتی ہے۔ مثلا جانور کیڑے مکوڑے نباتات کا بیج، بارش کا پانی، مردہ کی لاش، اور جو اس کے اندر سے نکلتی ہے مثلا کھیتی، سبزہ، معدنیات وغیرہ اور جو اوپر چڑھتی ہے مثلا روح، دعاء، عمل اور ملائکہ وغیرہ ان سب انواع و جزئیات پر اللہ کا علم محیط ہے۔ 3 یعنی یہ سب بستی اور چہل پہل اس کی رحمت اور بخشش سے ہے ورنہ بندوں کی ناشکری اور حق ناشناسی پر اگر ہاتھوں ہاتھ گرفت ہونے لگے تو ساری رونق ایک لمحہ میں ختم کردی جائے۔ (وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ ) 35 ۔ فاطر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 { یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا } ”وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔“ { وَہُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ } ”اور وہ نہایت رحم کرنے والا ‘ بہت بخشنے والا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 زمین میں داخل ہونے والی چیزیں یہ ہیں : ہر قسم کی نباتات کے بیج، بارش کا پانی، تمام جانوروں کے مردہ اجسام۔ اور حشرات الارض وغیرہ اور زمین سے نکلنے والی چیزیں مثلاً کھیتی، پودے، درخت، معدنیات۔ کئی قسم کے تیل اور گیسیں وغیرہ اور آسمان سے اترنے والی چیزیں مثلاً بارش اللہ کی رحمت و برکت، وحی الٰہی، فرشتے وغیرہ اور جو آسمان کی طرف چڑھنے والی چیزیں مثلاً دعا، فرشتے، انسانوں کے اعمال وغیرہ ان سب انواع اور ان کی جزئیات سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ 4 یعنی انسانوں کی بداعمالیوں پرانیں فوراً سزا نہیں دے ڈالتا۔ یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ انسانوں کو سنبھلنے کی مہلت دیتا ہے اور جو سنبھل جائے تو اس کی ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (آیت) ” رحیم “۔ مبداء کے لحاظ سے .... سب کو وجود میں لانے والی اس کی شان رحمت ہی ہے۔ (آیت) ” غفور “۔ منتہی کے لحاظ سے۔ سب کو حسن انجام تک پہنچانے والی اس کی شان غفوریت ہی ہے۔ (آیت) ” مایلج فی الارض “۔ زمین کے اندر داخل ہونے والی چیزیں مثلا بارش یا تخم نباتات وغیرہا۔ (آیت) ” مایخرج منھا “۔ زمین سے باہر نکلنے والی چیزیں مثلا نباتات، معدنیات وغیرہا۔ (آیت) ’ ’ ماینزل من السمآء “۔ آسمان سے اترنے والی چیزیں مثلا ملائکہ، احکام الہی وغیرہا۔ (آیت) ” مایعرج فیھا “۔ آسمان پر چڑھنے والی چیزیں مثلا ملائکہ۔ اعمال انسانی، دعائیں۔ (آیت) ” یعلم “۔ الخ آیت سے تمام اصناف معلومیت کا احاطہ کرلیا۔ یعنی بڑی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے (اس کلام) کے ذریعہ اپنی تعریف فرمائی ہے، اور مراد اس کلام سے، اس کلام کے مضمون کے ذریعہ، کہ وہ ثبوت حمد ہے تعریف کرنا ہے، اور حمد اللہ تعالیٰ کے لئے صفات کمالیہ کا بیان کرنا ہے ملک کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار سے اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور دنیا کے مانند آخرت میں بھی اسی کی حمد ہے، اس کے اولیاء جب جنت میں داخل ہوں گے تو اس کی حمد بیان کریں گے وہ اپنے فعل میں بڑی حکمتوں والا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یعلم ما یلج فی الارض . وہ جانتا ہے اس چیز کو زمین کے اندر داخل ہوتی ہے۔ مثلاً بارش کا پانی زمین کے مسامات کے اندر داخل ہوتا ہے ‘ یا مردے یا خزانے (دفینے وغیرہ) ۔ وما یخرج منہا . اور اس چیز کو جو زمین سے نکلتی ہے۔ یعنی سبزہ ‘ مختلف دھاتیں ‘ کنوؤں اور چشموں کا پانی۔ پھر قیامت کے دن مردے بھی زمین سے نکلیں گے۔ وما ینزل من السمآء . اور اس چیز کو جو آسمان سے اترتی ہے۔ جیسے بارش ‘ کڑکا ‘ بجلی ‘ ملائکہ ‘ اللہ کی کتابیں ‘ مقادیرخلق ‘ رزق ‘ طرح طرح کی برکتیں اور بلائیں۔ وما یعرج فیھا . اور اس چیز کو جو آسمان میں چڑھتی ہے۔ جیسے ملائکہ ‘ بندوں کے اعمال اور دعائیں۔ وھو الرحیم . اور وہی بڑا مہربان ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور بارش و پانی اور مدے اور خزانے جو چیزیں زمین میں داخل ہوتی ہیں وہ سب کچھ جانتا ہے اور اسی طرح جو چیزیں اس سے نکلتی ہیں جیسا کہ نباتات پانی خزانے مردے اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے۔ مثلا پانی اور رزق وغیرہ اور فرشتے اور کراما کاتبین جو بھی چیزیں اس پر چڑھتی ہیں وہ سب کو جانتا ہے۔ اور وہ اہل ایمان پر رحمت فرمانے والا اور تائبین کی مغفرت فرمانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی کچھ تفصیل بیان فرمائی۔ وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور جو اس سے نکلتی ہیں اور جو آسمان سے اترتی ہیں اور اس میں چڑھتی ہیں، جو شمار سے باہر ہیں اور جنھیں صرف وہی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کمال علم بھی اس کے اکیلے مستحق حمد ہونے کی دلیل ہے، کسی اور کو دوسری چیزیں تو ایک طرف رہیں خود اپنی ذات کا بھی پورا علم نہیں، پھر وہ ”الحمد“ کے لائق کیسے ہوگیا۔ وَهُوَ الرَّحِيْمُ الْغَفُوْر : یعنی ہر چیز کا مالک ہونے، حکیم وخبیر ہونے اور ذرّے ذرّے کا علم رکھنے کے باوجود بندوں کی نافرمانی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت : یعلم ما یلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج و ھو الرحیم الغفور وہ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے نیز وہ جانتا ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو آسمان کی طرف عروج کرتا ہے اور وہی ہمیشہ رحم فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے۔ آیت 2 :۔ زمین میں جو قطرہ وغیرہ داخل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آیت : فسل کہ ینا بیع فی الارض (الزمر : 21) یعنی خزانے، دفینے اور مردے زمین جن کو محفوظ کرنے کی جگہ ہے۔ زمین سے جو نباتات وغیرہ اگتی ہے اسے بھی جانتا ہے۔ آسمان سے جو بارش، برف، بجلیاں، عزق، مفادیر اور برکات نازل ہوتی ہیں اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–9

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وہوالحکیم الخبیر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حکیم ہے اپنے کام میں باخبر ہے اپنی مخلوق سے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) روایت کیا کہ آیت یعلم مایلج فی الارض (وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں) یعنی بارش آیت وما یخرج منہا (اور جو چیز نکلتی ہے اس میں سے) یعنی سبزے میں سے آیت وما ینزل من السماء اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے یعنی فرشتے آیت وما یعرج فیہا اور جو اس میں چڑھتے ہیں یعنی فرشتہ۔ 3۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت قل بل وربی لتاتینکم۔ علم الغیب کیوں نہیں اور میرا رب جو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَعْلَمُ [وہ جانتا ہے ] مَا يَـلِجُ [اس کو جو گھستا ہے ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] وَمَا يَخْرُجُ [اور اس کو جو نکلتا ہے ] مِنْهَا [اس میں سے ] وَمَا يَنْزِلُ [اور اس کو جو اترتا ہے ] مِنَ السَّمَاۗءِ [آسمان سے ] وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ [اور اس کو جو چڑھتا ہے اس میں ] وَهُوَ الرَّحِيْمُ [اور وہ ہی رحم کرنے والا ہے ] الْغَفُوْرُ [بے انتہا بخشنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–3

اللہ تعالیٰ مستحق حمد ہے اسے ہر چیز کا علم ہے، اہل ایمان کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے یہاں سے سورة سباء شروع ہو رہی ہے۔ سباء ایک قوم تھی جو یمن میں رہتی تھی، اس سورت کے دوسرے رکوع میں ان لوگوں کی بودوباش اور باغوں سے منتفع ہونے کا پھر ناشکری کی وجہ سے ان کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے اس لیے اس سورة کا نام سورة سباء معروف ہوا۔ شروع سورة میں ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی مستحق حمد ہے، اس دنیا میں بھی اس کے لیے حمد ہے اور آخرت میں بھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ بیان فرمائیں، اولاً تو یہ فرمایا کہ وہ حکیم ہے حکمت والا ہے اس کا کوئی فعل اور کوئی فیصلہ حکمت سے خالی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

آغاز سورت بہ تحمید و توحید خداوند رب العزت قال اللہ تعالی۔ الحمد للہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ وھو الرحیم الغفور۔ حق جل شانہ نے قرآن کریم میں پانچ سورتوں کو الحمد سے شروع فرمایا۔ (1) سورة فاتحہ۔ (2) سورة الانعام۔ (3) سورة کہف۔ (4) چوتھی سورت یہ سورة سبا ہے۔ (5) پانچویں سورت جو اس کے بعد آنے والی ہے یعنی سورة فاطر۔ جسے سورة ملائکہ بھی کہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی نعمتیں بیشمار ہیں لیکن بظاہر وہ نعمتیں دو قسم کی ہیں ایک نعمت ایجاد اور ایک نعمت بقا ایجاد کے معنی معدوم کو موجود کرنے کے ہیں اور بقا کے معنی موجود کو باقی اور زندہ رکھنے کے اور زندہ رہنے کے سامان عطا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ یعلم ما یلج الخ : یہ پہلی عقلی دلیل کا دوسرا حصہ ہے یعنی وہ عالم الغیب ہے اور کائنات کے ذرے ذرے جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے، بیج وغیرہ جس سے پیداوار ہوتی ہے اور جو کچھ زمین سے نکلتا یعنی سبزہ جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے بارش، اولے برکات اور اللہ کے فرشتے وغیرہ اور جو کچھ آسمان کی طرف جاتا ہے۔ اعمال، ارواح، فرشتے، مقصد تعمیم و احاطہ ہے یعنی وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ وھو الرحیم الغفور : یہ بھی بمنزلہ علت ہے اس دلیل کے دونوں حصوں سے ثابت ہوگیا کہ سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی مہربان اور بخشائش گر ہے اور کوئی اس سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة سبا ہے جو کہ اس کی آیت۔ 51 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ سبا ایک شخص ، قبیلے ، شہر اور ملک کا نام تھا جس کا ذکر اس سورة مبارکہ کے دوسرے رکوع میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة نور سے لے کر سورة سجدہ تک ساری مکی سورتیں تھیں۔ اس کے بعد پچھلی سورة الاحزاب مدنی تھی اور یہ سورة پھر مکی ہے۔ آگے پھر تین سورتیں متواتر مدنی ہیں اور اس کے بعد مکی اور مدنی مخلوط سورتیں آئیں گی۔ اس سورة کی چون آیتیں اور چھ رکوع ہیں یہ سورة مبارکہ 388 الفاظ اور 2151 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکی دور کے زمانہ وسطیٰ میں سورة لقمان کے بعد نازل ہوئی۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة احزاب کے آخر میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْہَا۝ 0 ۭ وَہُوَالرَّحِيْمُ الْغَفُوْرُ۝ 2 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا ولج الوُلُوجُ : الدّخول في مضیق . قال تعالی: حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] ، وقوله : يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ [ الحج/ 61] فتنبيه علی ما ركّب اللہ عزّ وجلّ عليه العالم من زيادة اللیل في النهار، وزیادة النهار في اللیل، وذلک بحسب مطالع الشمس ومغاربها . ( و ل ج ) الولوج ( ض ) کے معنی کسی تنک جگہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب : فی السٰموٰت متعلق یثبت فی الآخرۃ یجوزان یتعلق بالحمد یعلم مستانف وقیل حال موکدۃ عالم الغیب بالجر صفۃ لربی اوبدل و یقرء بالرفع اے ھو عالم اصغر بالرفع عطفاً علی مثقال، وبالجر عطفا علی ذرۃ، لیجزی متعلق بمعنی لایعزب فکانہ قال یحصی ذلک لیجزی، الیم بالجر صفۃ لرجزو بالرفع صفۃ لعذاب۔ والرجز مطلق العذاب۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سورة سبا مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس قسم کی سورتیں کہ جن کے اول میں الحمدللہ ہے، پانچ ہیں ان میں سے دو نصف اول میں ہیں۔ انعام و کہف اور دو اخیر قرآن میں ہیں۔ ایک یہ دوسری ملائکہ، پانچویں الحمد کہ جس کو چاہو نصف اول میں شمار کرو خواہ نصف اخیر میں اور سر اس میں یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْھَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَاط وَھُوَالرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ ۔ (السباء : 2) (وہ جانتا ہے ہر اس چیز کو جو زمین میں داخل ہوتی ہے، اور ہر اس چیز کو جو اس سے نکلتی ہے، اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے، اور وہ رحم فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔ ) صفتِ خبیر کی وضاحت گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت خبیر بیان فرمائی ہے۔ پیش نظر آیت میں اسی کی مزید وضاحت ہے۔ اور اس وضاحت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعتوں اور اس کے محیط کلی ہونے کو بیان فرمایا ہے۔ کیونکہ جہاں تک علم کا تعلق ہے مخلوقات میں بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے باخبر ہونے کی انتہا ہی نہیں۔ اس سے پہلی آیت کے ابتدائی الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر ہوا ہے۔ ایک یہ کہ ہر چیز اس کی حمدوثنا میں رطب اللّسان ہے اور دوسری یہ کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ مالک کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اپنی مملوک کی زبان کو جانتاہو اور اسے یہ بھی معلوم ہو کہ کونسی چیز کہاں اور کس حالت میں ہے۔ انسان کو یہ حقیقت سمجھانے کے لیے بتلایا گیا ہے کہ ” اللہ “ وہ ہے جو سب کچھ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ آسمان سے کیا نازل ہوتا ہے اور کیا اوپر جاتا ہے۔ یہ بات بتلا کر انسان کو یہ عقیدہ سمجھایا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2: یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ (وہ سب کچھ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے) ۔ یعلم یہ جملہ مستانفہ ہے۔ مایلجؔ کا معنی جو داخل ہوتی ہے۔ مراد اموات اور دفائن ہیں۔ وَمَا یَخْرُجُ مِنْھَا (اور جو چیز اس میں سے نکلتی ہے) یعنی نبات، اور معادن سے نکلنے والے جواہرات وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآ ئِ (اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے) ۔ یعنی بارش سے قسم قسم کی برکات۔ وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَا ( اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے) اس کی طرف چڑھنے والی چیزیں یعنی ملائکہ اور دعائیں۔ وَھُوَ الرَّحِیْمُ (اور وہ رحیم ہے) ان چیزوں کو نازل کرتا ہے جن کی ان کو ضرورت ہے۔ الْغَفُوْرُ (وہ غفور ہے) ان چیزوں کا جن کی وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2، یعلم مایلج فی الارض ، جو کچھ زمین میں داخل ہوتی ہے مثلا بارش کا پانی یامردے جو زمین میں دفن کیے جاتے ہیں۔ ، وما یخرج منھا، نباتا، سبزہ اور میدان محشر میں مردوں کا دوبارہ زندہ ہوکراٹھنا ۔ ، وما ینزل من السماء ، اس سے مراد بارش کا پانی ہے۔ ، وما یعرج، اور جو آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ ، فیھا، فرشتے اور بندوں کے اعمال وغیرہ۔ ، وھوالرحیم الغفور،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–2

1‘ 2۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ دنیا اور آخرت میں سب تعریف اللہ ہی کو زیبا ہے کیوں کہ انعام کرنے والا دنیا اور آخرت کے لوگوں پر وہی ہے اور وہی سب کا مالک ہے اور سب کے اوپر اسی کا حکم جاری ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد کیا وھواللہ لا الہ الاھو الحمد فی الاولیٰ والآخرۃ ولہ الحکم والیہ ترجعون جس کا حاصل یہ ہے کہ سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں اس لیے اسی کے لیے تعریف ہے دنیا اور آخرت میں اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم پھیرے جاؤگے ‘ پھر فرمایا وہی اپنے ہر کام میں بڑی حکمت والا ہے اور بڑا خبردار ہے جس پر کوئی چیز چھپی نہیں رہتی ہے پھر فرمایا پانی کی بوندیں جس قدر زمنر میں جانے والی ہیں اور جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

آیت 1 حمد سے مراد، صفات حمیدہ اور افعال حسنہ کے ذریعہ سے، ثنا بیان کرنا ہے، لہٰذا ہر قسم کی حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے کیونکہ وہ اپنے اوصاف کی بنا پر مستحق حمد ہے، اس کے تمام اوصاف، اوصاف کمال ہیں۔ وہ اپنے افعال پر مستحق حمد ہے کیونکہ اس کے افعال، اس کے فضل پر مبنی ہیں جس پر اس کی حمد اور اس کا شکر کیا جاتا ہے اور اس کے عدل پر مبنی ہیں جس کی بنا پر اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اسمیں اس کی حکمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد اس بنا پر بیان کی ہے کہ (لہ ما فی السموت وما فی الارض) ” زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے “ یعنی ہر چیز اسی کی ملکیت اور اسی کی غلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو اس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے کمال علم کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو اس وحدہ لا شریک کے کمال علم کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ داخل ہوتا ہے زمین میں "۔ جیسے بارش کے قطرے، مختلف قسم کے بیچ، مردے اور دفینے وغیرہ۔ سو اس علیم وخبیر خداوند قدوس سے ان چیزوں میں سے کوئی بھی چیز مخفی اور پوشیدہ نہیں ہوسکتی۔ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی صفت اور اسی کی شان ہے۔ اس لیے اس کے حقِّ عبادت و بندگی میں بھی کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 5 زمین سے نکلنے والی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے : سو ارشاد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–2

ﷲ کی حمد وثناء تشریح : اللہ الہ العٰلمین ہے۔ رب العٰلمین ہے۔ خالق کون و مکان ہے۔ رب المشرقین و المغربین ہے۔ حافظ و ناصر ہے۔ علی العظیم ہے۔ حی القیوم ہے یعنی اسی کا سب کچھ پیدا کیا ہوا ہے اسی کے حکم اور ارادے سے ہر چیز حرکت کرتی ہے۔ پیدا ہوتی ہے نشو ونما پاتی ہے پھر ختم ہوجاتی ہے اور پھر اسی کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ یہ سب کچھ کرنے میں نہ تو اس کو کسی کی مدد کی ضرورت ہے اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔ انسانی عقل میں اللہ کا وجود نہیں آسکتا اسی طرح اس کی تعریف اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں کی تعریف نہ تو انسان کے بس میں ہے اور نہ ہی کسی میں اتنی ہمت اور طاقت ہے کہ وہ اس کی تخلیقات کو گن سکے یا ان کی پوری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة السبا رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 9: اسرار و معارف : تمام خوبیاں اور سب کمالات اللہ کو سزا وار ہیں کہ جو آسمانوں اور زمینوں کا اور ان میں موجود ہر ذرے کا خالق اور اکیلا مالک ہے اور وہ بہت ہی حکمت والا ہے اور ہر ذرے سے خوب واقف ہے اس جہان میں اور آخرت میں ہر ذرہ اس کی تاثیرات اور نتائج سب کا مالک وہی ہے۔ اللہ کو خوب علم ہے کہ زمین کے ذرات میں کس طرح بارش کا پانی سورج اور چاند کی کرنیں یا مختلف گیسیں داخل ہو کر کیا عمل کرتی ہیں اور پھر وہ ذرات کس طرح پھلوں پھولوں یا غذا میں تبدیل ہو کر نکلتے ہیں اور کون سا ذرہ کس جسم کی تعمیر کے لیے تیار کرکے کس کس طویل راستے سے اس بدن تک پہنچے گا نیز اللہ خوب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 جیسے فرشتے یا بندوں کے اعمال وغیرہ اور فیہا سے اشارہ ہے کہ وہ اعمال آسمانوں میں نفوذ کر کے باری تعالیٰ کے ہاں مرتبہ قبولیت حاصل کرلیتے ہیں۔ جیسے فرمایا :” الیہ یحمد الکلم الطیب “۔8 یعنی وہ اپنے بندوں کی بد اعمالیوں سے باخبر ہے لیکن چونکہ وہ رحیم و غفو رہے اس لئے وہ ان کی فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ توبہ کی مہلت دیتا ہے اور جو توبہ کرلیتا ہے اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں یعنی وہ جو کچھ رزق وغیرہ اتارتا ہے اپنی رحمت سے اتارتا ہے اور جو اعمال وارواح اس کی طرف عروج کر کے پہنچتے ہیں ان پر مغفرت فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(34:2) ما یلج فی الارض۔ ما موصولہ ہے یلج مضارع صیغہ واحد مذکر غائب ہے ولوج مصدر (باب ضرب) بمعنی داخل ہونا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے لا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل نہ ہوجائے۔ جو زمین کے اندر داخل ہوتا ہے مثلاً پانی، اموات، تخم وغیرہ۔ وما یخرج منھا۔ اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے مثلاً پانی کے چشمے ۔ نباتات، معدنیات وغیرہ۔ منھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب الارض کے لئے ہے۔ وما ینزل من السماء اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے مثلاً ملائکہ، احکام الٰہی وغیرہ۔ وما یعرج فیھا۔ اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے عروج (باب نصر) مصدر سے مضارع کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 2 یلج : داخل ہونا ہے یخرج : نکلتا ہے ینزل : اترتا ہے یعرج : چڑھتا ہے تشریح :ـ آیت نمبر 1 تا 2 اللہ جو کامل ہستی ہے اس نے اپنی قدرت کا مل سے اس کائنات کے ذرے ذرے کو پیدا کر کرے ہر چیز میں ایک ایسا حسن و خوبی ، کمال و جلال اور ان کے درمیان حسین تو ازن پیدا کیا ہے کہ اگر اس میں ذرا بھی غور و فکر کیا جائے تو انسان بےساختہ کہہ اٹھتا ہے فتبرک اللہ احسن الخالقین : وہ اللہ کتنی برکتوں والا ہے جو سارے پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر ین خالق ہے ۔ اللہ ہر چیز کی حکمت کو جانتا ہے اور وہ اپنی بنائی ہوئی کائنات سے بیخبر نہیں ہے۔ بلکہ وہ ہر چیز کی کیفیات اور حالات سے پوری طرح…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

توحید کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ دنیا اور آخرت میں سب تعریف اللہ ہی کو زیبا ہے کیونکہ انعام کرنے والا دنیا اور آخرت کے لوگوں پر وہی ہے اور وہی سب کا مالک ہے اور سب کے اوپراسی کا حکم جاری ہے سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں اسی لیے اس کی تعریف ہے دنیا اور آخرت میں، اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم پھیرے جاؤ گے پھر فرمایا کہ پانی کی بوندیں جس قدرزمین میں جانے والی ہیں اور جس قدر دانے زمین کے اندر بوئے ہوئے اور چھپے ہوئے ہیں ان سب کی گنتی وہ جانتا ہے اوجو کچھ زمین سے نکلتا ہے اس کی کیفیت اور شمار کو بھی جانتا ہے ، اور اسی طرح جس قدر قطرے اور روزی آسمان سے اتری ہے اور جو نیک عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] مثلاً تخم نباتات، مردوں کی لاشیں اور تمام چیزیں جو زمین میں گاڑی جاتی ہیں۔ [4] مثلاً نباتات، معدنیات وغیرہ۔ [5] مثلاً پانی، ملائکہ، احکام الٰہی۔ [6] مثلاً ملائکہ، اعمال انسانی، دعائیں۔ [7] یعنی یہ سب چہل پہل اس کی رحمت اور بخشش سے ہے ورنہ بندوں کی ناشکری اور حق ناشناسی پر اگر ہاتھوں ہاتھ گرفت ہونے لگے تو ساری رونق ایک لمحہ میں ختم کردی جائے۔ یہ اس کی رحیمی کا تقاضا ہے کہ نافرمان بندوں کو ڈھیل دیتا ہے اور سنبھلنے کی مہلت عطا کرتا ہے اور جب بھی وہ باز آجائیں تو معاف کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–2

سورة سبا 1: قرآن حکیم کا اصلی موضوع بیان یہ ہے کہ ذات باری کے متعلق جو شکوک و شبہات لوگوں کے دلوں میں جہالت کی وجہ سے پیدا ہوگئے ہیں ۔ ان کو دور کرے ۔ اور اس کے تصور کو اس طرح ایمان آفرین شکل میں پیش کرے کہ وہ نفیس انسانیت کے لئے بلندی اور رفعت کا سبب بن سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے صفات وشیون کو جس وضاحت کے ساتھ قرآن حکیم نے بیان فرمایا ہے اس کی مثال کسی مذہبی کتاب میں ملنا مشکل ہے ۔ بلکہ حق تو یہ ہے ۔ کہ فکر انسانی اس سے زیادہ اونچا نہیں اڑ سکتا ۔ اور خدا کے متعلق جس قدر قرآن نے بیان کیا ہے ۔ اس پر سرموا اضافہ ممکن نہیں ۔ فرمایا ستائش اور تعریفیں اس خدائے برتر کو سزاوار ہیں ۔ جو تمام بلندیوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس زمین سے نکلتی ہے اور ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز آسمان میں چڑھتی ہے اور وہ نہایت مہربانی اور بڑی مغفرت و بخشش کرنے والا ہے۔ زمین میں داخل ہونا پانی، بیج، مردے دفینے اور جو نکلتا ہے نباتات، معدنیات، حشر میں مردے وغیرہ مثلاً اترنا آسمان سے بارش کا پانی، برکتیں، ملائکہ، کتابیں وغیرہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آسمان میں چڑھنا، ملائکہ اعمال عباد، بندوں کی دُعائیں، مرنے والوں کی ارواح وغیرہ مثلاً وہ بڑی مہربانی کرنے والا ہے کہ بندے جس چیز کے محتاج ہیں وہ نازل کرتا اور اتارتا ہے اور بڑی مغفرت کرنے والا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ مثلا ملائکہ کہ نزول و عروج کرتے ہیں اور مثلا احکام جن کا نزول ہوتا ہے اور اعمال جن کا صعود ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے جو نکلتا ہے اور یہی حال آسمان کا ہے 2 ۔ زمین کو دیکھو صرف اتنا ہی خیال نہ کرو کہ وہ ایک گیند کی مانند ہے اس کی وسعت پر نظر کرو اس کی موٹائی کو دیکھو ، قشرارض پر غور کرو ، اس کی گہرائی پر دھیان دو پھر زمین پر سمندر ہیں ، پہاڑ ہیں اور دریا ہیں اس کے دفینوں کو شمار کرو اور ساری عمر کرتے رہے تو تم ان کو شمار نہ کرسکو کیونکہ جو ظاہر ہوچکے ہیں وہ تو ہو ہی چکے ہیں لیکن ابھی کیا کچھ ہے جو ظاہرہی نہیں ہوا اس کے اندر جو قوت نمو ہے اس پر غور کرو۔ تم نے جب یہ معلوم کیا کہ پانی فلاں فلاں گیس سے ملی کر تیار ہوا ہے تو تم پھولے نہ سمائے اور پالیا ، پالیا کے نعرے بلند…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

Commentary عَالِمِ الْغَيْبِ (the knower of the unseen). This is an attribute of the Rabb (Lord) in whose name an oath has been taken in verse 3. At this place, out of the many attributes of Allah Ta’ ala, the attribute of all-encompassing knowledge and the knowledge of the unseen has, perhaps, been mentioned particularly because the text is dealing with the matter of the deniers of the day of Resurrection. The major reason why the disbelievers rejected the inevitability of Qiyamah, the day of doom, was their inability to comprehend how the whole thing would work out. When all human beings…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 That is, "If a person (or persons) is not being seized in spite of rebellion against Him in His Kingdom, it is not because this world is a lawless kingdom and Allah is ruler, but because Allah is an inept All-Merciful and All-Forbearing, Although it lies in His power to seize the sinner and the wrongdoer immediately on the commission of sin, to withhold his sustenance, to paralyse his body, and to put rum to death suddenly, yet He does not do so. It is the demand of His Beneficence that" in spite of being All-Powerful He gives the disobedient servant plenty of rope and enough respite to…

Read the full tafseer →