Explained with ayahs 1–2
اوصاف الٰہی۔
چونکہ دنیا اور آخرت کی سب نعمتیں رحمتیں اللہ ہی کی طرف سے ہیں۔ ساری حکومتوں کا حاکم وہی ایک ہے۔ اس لئے ہر قسم کی تعریف وثناء کا مستحق بھی وہی ہے۔ وہی معبود ہے جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اسی کیلئے دنیا اور آخرت کی حمد وثناء سزاوار ہے۔ اسی کی حکومت ہے اور اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جاتے ہیں۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اس کے ماتحت ہے۔ جتنے بھی ہیں سب اس کے غلام ہیں۔ اس کے قبضے میں ہیں سب پر تصرف اسی کا ہے۔ آخرت میں اسی کی تعریفیں ہوں گی۔ وہ اپنے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت سب میں حکومت والا ہے اور ایسا خبردار ہے جس پر کوئی چیز مخفی نہیں، جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں، جو اپنے…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 1
حمد کا لفظ عربی زبان میں تعریف اور شکر دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہاں دونوں معنی مراد ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کا مالک ہے تو لامحالہ اس کائنات میں جمال و کمال اور حکمت وقدرت اور صناعی و کاری گری کی جو شان بھی نظر آتی ہے اس کی تعریف کا مستحق وہی ہے۔ اور اس کائنات میں رہنے والا جس چیز سے بھی کوئی فائدہ یا لطف و لذت حاصل کر رہا ہے اس پر خدا ہی کا شکر اسے ادا کرنا چاہئے۔ کوئی دوسرا جب ان اشیاء کی ملکیت میں شریک نہیں ہے تو اسے نہ حمد کا استحقاق پہنچتا ہے نہ شکر کا۔
سورة سَبـَا 2
یعنی اس طرح اس دنیا کی ساری نعمتیں اسی کی بخشش ہیں اسی طرح آخرت میں بھی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خلاصہ تفسیر
تمام تر حمد (وثنا) اسی اللہ کو سزاوار ہے، جس کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور کچھ زمین میں ہے (جس طرح وہ فی الحال مستحق حمد ہے اسی طرح) اسی کو حمد (وثناء) آخرت میں (بھی) سزاوار ہے (اس کا ظہور اس طرح ہوگا کہ اہل جنت، جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد ان الفاظ میں کریں گے، (آیت) الحمد للہ الذی ھدانا لہٰذا، الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن، الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ، وغیرہ) اور وہ حکمت والا ہے (کہ آسمان و زمین کی تمام مخلوقات کو بیشمار مصالح اور منافع پر مشتمل بنایا ہے، اور وہ) خبردار (بھی) ہے (کہ ان مصالح اور منافع کو پیدا کرنے سے پہلے سے جانتا ہے، ہر چیز میں مصالح اور…
Read the full tafseer →ا۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
الحمد اللہ الذی لہ ما فی السموات وما فی الارض ولہ الحمد فی الاخرۃ وھو الحکیم الخبیر (1)
اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة کی بنیاد شکر اور اسکے لوازم و مقتضیات پر ہے۔ ا۔ (سورة فاتحہ کی تفسیر میں یہ حقیقت بھی واضح ہوچکی ہے کہ شکر ہی پر توحید اور پھر پورے دین کی عمارت قائم ہے۔ منعم کے شکر کا واجب ہونا انسانی فطرت کی بدیہیات میں سے ہے۔ انسان پر جس کا بھی کوئی احسان ہوتا ہے وہ اس کا ممنون شکر گزا رہوتا ہے۔ اگر کوئی اپنے محسن کا شکر گزار نہ ہو تو وہ لئیم و کمینہ ہے۔ اسی اصل پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آسمان و زمین کی تمام نعمتیں، جن سے انسان ہر لمحہ متمتع ہو…
Read the full tafseer →1۔ 1 یعنی اسی کی ملکیت اور تصرف میں ہے اسی کا ارادہ اور فیصلہ اس میں نافذ ہوتا ہے انسان کو جو نعمت بھی ملتی ہے وہ اسی کی پیدا کردہ ہے اور اسی کا احسان ہے اسی لیے آسمان و زمین کی ہر چیز کی تعریف دراصل ان نعمتوں پر اللہ ہی کی حمد و تعریف ہے جن سے اس نے اپنی مخلوق کو نوازا ہے۔
1۔ 2 یہ تعریف قیامت والے دن اہل ایمان کریں گے مثلا (الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ) (الحمدللہ الذی ھدٰنا لھذا) (الحمدللہ الذی اذھب عنا الحزن) تاہم دنیا میں اللہ کی حمد و تعریف عبادت ہے جس کا مکلف انسان کو بنایا گیا ہے اور آخرت میں یہ اہل ایمان کی روحانی خوراک ہوگی جس سے انھیں لذت و فرحت محسوس ہوا کرے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
الحمدللہ الذی لہ ۔۔۔۔۔ وھو الرحیم الغفور (1 – 2) ” ۔ “۔
یہ اس سورة کا آغاز ہے جس میں مشرکین کے شرک ، ان کی جانب سے رسول اللہ کی تکذیب ، آخرت میں تشکیک ، اور ان کی طرف سے بعث بعد الموت کو مستبد سمجھنے کے موضوعات پر کلام کیا گیا ہے۔ آغاز ان کلمات کے ساتھ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہے۔ جو بذات خود محمود ہے اگرچہ مخلوقات میں سے کوئی بھی اس کی تعریف نہ کرے۔ وہ اس پوری کائنات میں محمود ہے اور اس کائنات کی پوری قوتیں اور مخلوقات اللہ کی حمد کرتی ہیں اگرچہ یہ انسان اس کی حمد نہ کرے۔
حمد کے ساتھ اللہ کی اس صفت کا ذکر ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ نہ…
Read the full tafseer →1 یعنی سب خوبیاں اور تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جو اکیلا بلا شریک غیرے تمام آسمانی و زمینی چیزوں کا مالک و خالق اور نہایت حکمت و خبرداری سے ان کی تدبیر کرتا ہے اس نے یہ سلسلہ بیکار پیدا نہیں کیا۔ ایسے حکیم و دانا کی نسبت یہ گمان نہیں ہوسکتا۔ ضرور ہے کہ یہ نظام آخر میں کسی اعلیٰ نتیجہ پر منتہی ہو، اسی کو آخرت کہتے ہیں۔ اور جس طرح دنیا میں وہ اکیلا تمام تعریفوں کا مستحق ہے، آخرت میں بھی صرف اسی کی تعریف ہوگی۔ بلکہ یہاں تو بظاہر اور کسی کی بھی تعریف ہوجاتی تھی کیونکہ مخلوق کا فعل خالق کے فعل کا پردہ اور اس کا کمال اس کے کمال حقیقی کا پردہ تو ہے لیکن وہاں سب وسائط اور پردے اٹھ جائیں گے جو کچھ ہوگا…
Read the full tafseer →آیت 1 { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس کی ملکیت ہے ہر وہ شے جو آسمانوں اور زمین میں ہے“
{ وَلَہُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَۃِط وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ } ”اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہوگی ‘ اور وہ کمال حکمت والا ‘ ہرچیز سے باخبر ہے۔“
آخرت کی حمد کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : لِوَائُ الحَمْدِ یَوْمَئِذٍ بِیَدِیْ 1 ”اس دن یعنی میدانِ حشر میں حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا“۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس روز میں جو حمد کروں گا وہ آج نہیں کرسکتا۔ -۔ - آخرت کی اس حمد کا اس آخری امت کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ حضور…
Read the full tafseer →1 فی الآخرۃ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس دنیا میں اگر کسی انسان کے کارناموں کی تعریف کی جائے۔ تو وہ بالآخر اللہ کی ہی تعریف ہوگی۔ کیونکہ انسان کو ہر طرح کی قوت، صلاحیت اور استعداد عطا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ یعنی فی الاخرۃ کا لفظ یہاں بالآخر کا معنی دے رہا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو کچھ اسباب ظاہر ہیں جو سب کو دکھائی دینے یا محسوس ہوتے ہیں لیکن اچھ اسباب ایسے بھی ہیں جن پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ آخرت میں ایسے سب پردے اور جماعت اٹھ جائیں گے اور ہر ایک کو یہ نظر آئے گا کہ قابل تعریف ذات تو صرف اللہ ہی کی ہے۔
2 اور حکم اس لحاظ سے ہے کہ اس نے کائنات میں جو چیز بھی بنائی ہے وہ ایک نہیں…
Read the full tafseer →1۔ وہ حکیم ایسا کہ عالم کائنات کے ذرہ ذرہ کو منافع ومصالح سے بھر دیا ہے وہ خبیر ایسا کہ موجودات کے گہرے سے گہرے نقوش اس پر عیاں۔ (آیت) ” لہ الحمد فی الاخرۃ “۔ یعنی جس طرح آج سزاوار حمد وہ ذات اپنے تمام مظاہر تکوینی کے لحاظ سے کل بروز کامل اور انکشاف حقائق کے وقت بھی قابل حمد وہی نظر آئے گی ..... یہ بھی کہا گیا ہے کہ قابل حمد ہے وہ ذات ابتداء یعنی ازل میں باعتبار تخلیق وایجاد کے اور آخرت میں باعتبار ربوبیت وعطائے انعامات کے۔ (آیت) ” للہ۔ لہ مافی السموت۔ لہ الحمد “۔ تینوں میں ل اختصاص کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے (اس کلام) کے ذریعہ اپنی تعریف فرمائی ہے، اور مراد اس کلام سے، اس کلام کے مضمون کے ذریعہ، کہ وہ ثبوت حمد ہے تعریف کرنا ہے، اور حمد اللہ تعالیٰ کے لئے صفات کمالیہ کا بیان کرنا ہے ملک کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار سے اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور دنیا کے مانند آخرت میں بھی اسی کی حمد ہے، اس کے اولیاء جب جنت میں داخل ہوں گے تو اس کی حمد بیان کریں گے وہ اپنے فعل میں بڑی حکمتوں والا ہے اور…
Read the full tafseer →الحمد اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض . تمام حمد ہے اس اللہ کیلئے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ‘ سب اسی کا ہے۔
یعنی وہی سب کا مالک اور خالق ہے اسی لئے وہی ہر ظاہری ‘ باطنی ‘ جہری اور سّری حمد کا مستحق ہے ‘ دوسرا کوئی حمد کا مستحق نہیں ہے۔ اللہ کے سوا دوسرے کی ستائش مجازاً کی جاتی ہے کیونکہ اس کے ہاتھوں سے بظاہر کچھ نعمتیں دوسروں کو پہنچتی ہیں۔
ولہ الحمد فی الاخرۃ اور آخرت میں (بھی) حمد اسی کیلئے ہے کیونکہ آخرت کی نعمتوں کی عطاء اسی کیلئے مخصوص ہے۔
یہ جملہ پہلے جملہ پر معطوف ہے۔ بظاہر پہلا جملہ مطلق تھا اور یہ جملہ آخرت کے ساتھ مقید ہے (پہلے جملہ میں مطلق حمد اللہ…
Read the full tafseer →تمام تر حمد وثناء اسی اللہ کے لیے ہے جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام مخلوقات ہیں اس کی حمد وثناء اہل جنت پر جنت میں بھی واجب ہے۔
وہی اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے کہ اس بات کا حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے اور وہ مخلوق اور اس کے اعمال سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۔۔ : حمد کا معنی کسی کی خوبی کی وجہ سے تعریف ہے۔ یہ سورت ان پانچ سورتوں میں سے ایک ہے جن کی ابتدا ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ سے ہوتی ہے اور وہ ہیں سورة فاتحہ، انعام، کہف، سبا اور فاطر۔ پانچوں میں سب تعریف اللہ کے لیے ہونے کی الگ الگ دلیل بیان کی گئی ہے، اگرچہ ان سب کا ایک دوسری کے ساتھ بھی تعلق ہے۔ ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہنے میں صرف یہی بات نہیں آتی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ یہ بات بھی آتی ہے کہ تمام خوبیوں کا مالک بھی وہی ہے، کیونکہ خوبی نہ ہو تو تعریف کیسی ؟ اور سب تعریف اور تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہونے کی دلیل یہ ہے…
Read the full tafseer →الحمد للہ الزی لہ ما فی السموت وما فی الارض، الزی محل جر میں ہے نعت ہونے کے اعتبار سے یا بدل ہونے کے اعتبار سے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مبدا کے مضمر ہونے کے اعتبار سے محل رفع میں ہو اور اعنی کے مضمر ہونے کے اعتبار سے محل نصب میں ہو۔
سیبویہ نے یہ حکایت بیان کی ہے الحمد للہ اھل الحمد لفظ اہل رفع، نصب اور جر کے ساتھ ہے۔ کامل حمد اور ثناء شامل سب اللہ کے لیے ہے، کیونکہ تمام تر نعمتیں اس کی جانب سے ہیں۔
سورة فاتحہ کے آغاز میں گفتگو گزر چکی ہے۔ حدیث۔ ولہ الحمد فی الاخرۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، آیت : وقا لو الحمد للہ الزی صدقنا وعدہ (الز مر : 74) ایک قول یہ کیا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وہوالحکیم الخبیر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حکیم ہے اپنے کام میں باخبر ہے اپنی مخلوق سے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) روایت کیا کہ آیت یعلم مایلج فی الارض (وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں) یعنی بارش آیت وما یخرج منہا (اور جو چیز نکلتی ہے اس میں سے) یعنی سبزے میں سے آیت وما ینزل من السماء اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے یعنی فرشتے آیت وما یعرج فیہا اور جو اس میں چڑھتے ہیں یعنی فرشتہ۔
3۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت قل بل وربی لتاتینکم۔ علم الغیب کیوں نہیں اور میرا رب جو…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ [تمام شکرو سپاس ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [اس اللہ کے لئے ہے ] لَهٗ [جس کے لئے ہی ہے ] مَا فِي السَّمٰوٰتِ [وہ جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ [اور جو زمین میں ہے ] وَلَهُ الْحَمْدُ [اور اس کے لئے ہی تمام شکر و سپاس ہے ] فِي الْاٰخِرَةِ ۭ [آخرت میں (بھی)] وَهُوَ [اور وہ ہی ] الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ [حکمت والا ہے باخبر ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آغاز سورت بہ تحمید و توحید خداوند رب العزت
قال اللہ تعالی۔ الحمد للہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ وھو الرحیم الغفور۔
حق جل شانہ نے قرآن کریم میں پانچ سورتوں کو الحمد سے شروع فرمایا۔ (1) سورة فاتحہ۔ (2) سورة الانعام۔ (3) سورة کہف۔ (4) چوتھی سورت یہ سورة سبا ہے۔ (5) پانچویں سورت جو اس کے بعد آنے والی ہے یعنی سورة فاطر۔ جسے سورة ملائکہ بھی کہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی نعمتیں بیشمار ہیں لیکن بظاہر وہ نعمتیں دو قسم کی ہیں ایک نعمت ایجاد اور ایک نعمت بقا ایجاد کے معنی معدوم کو موجود کرنے کے ہیں اور بقا کے معنی موجود کو باقی اور زندہ رکھنے کے اور زندہ رہنے کے سامان عطا…
Read the full tafseer →2:۔ الحمد للہ الخ : یہ اصل مدعا پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اس دلیل کے دو حصے ہیں۔ اول، ساری کائنات میں متصرف و مختار اور سارے جہان کا مالک اللہ ہی ہے۔ دوم، وہ عالم الغیب ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں پہلی آیت میں دلیل کا پہلا حصہ مذکور ہے یعنی تمام صفات کارسازی کا مالک اللہ ہے۔ ساری کائنات اسی کے ملک اور تصرف میں ہے۔ اس عالم کون و فساد میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اسی کے اختیار و تصرف سے ہو رہا ہے اس میں غیر خدا کا سرِ مو دخل نہیں۔ ای لہ عز و جل خلقا وملکا و تصرفا بالایجاد والاعدام والاحیاء و الاماتۃ جمیع ما وجد فیھما واخلافی حقیقتہما او خارجا عنہما متمکنا فیہما فکانہ قیل لہ ھذا العالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة سبا ہے جو کہ اس کی آیت۔ 51 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ سبا ایک شخص ، قبیلے ، شہر اور ملک کا نام تھا جس کا ذکر اس سورة مبارکہ کے دوسرے رکوع میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة نور سے لے کر سورة سجدہ تک ساری مکی سورتیں تھیں۔ اس کے بعد پچھلی سورة الاحزاب مدنی تھی اور یہ سورة پھر مکی ہے۔ آگے پھر تین سورتیں متواتر مدنی ہیں اور اس کے بعد مکی اور مدنی مخلوط سورتیں آئیں گی۔
اس سورة کی چون آیتیں اور چھ رکوع ہیں یہ سورة مبارکہ 388 الفاظ اور 2151 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکی دور کے زمانہ وسطیٰ میں سورة لقمان کے بعد نازل ہوئی۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط
سابقہ سورة احزاب کے آخر میں…
Read the full tafseer →سورة السباء
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِيْ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَلَہُ الْحَمْدُ فِي الْاٰخِرَۃِ 0 ۭ وَہُوَالْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 1
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود :
إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب : فی السٰموٰت متعلق یثبت فی الآخرۃ یجوزان یتعلق بالحمد یعلم مستانف وقیل حال موکدۃ عالم الغیب بالجر صفۃ لربی اوبدل و یقرء بالرفع اے ھو عالم اصغر بالرفع عطفاً علی مثقال، وبالجر عطفا علی ذرۃ، لیجزی متعلق بمعنی لایعزب فکانہ قال یحصی ذلک لیجزی، الیم بالجر صفۃ لرجزو بالرفع صفۃ لعذاب۔ والرجز مطلق العذاب۔
تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سورة سبا مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس قسم کی سورتیں کہ جن کے اول میں الحمدللہ ہے، پانچ ہیں ان میں سے دو نصف اول میں ہیں۔ انعام و کہف اور دو اخیر قرآن میں ہیں۔ ایک یہ دوسری ملائکہ، پانچویں الحمد کہ جس کو چاہو نصف اول میں شمار کرو خواہ نصف اخیر میں اور سر اس میں یہ…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَلَـہُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَۃِ ط وَھُوَالْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ۔ (السباء : 1) (حمد صرف اس اللہ کے لیے ہے جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے، وہ دانا اور باخبر ہے۔ )
حمد کا مفہوم
حمد کا لفظ عربی زبان میں تعریف اور شکر دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور مآل کار حمد کے مفہوم میں دونوں معنی جمع ہوجاتے ہیں۔ قدرت نے انسانی فطرت کے جو مقتضیات مقرر فرمائے ہیں ان میں یہ بات شامل ہے کہ انسان جب کسی کی عنایات سے متمتع ہوتا ہے اور ہر طرح کے حالات میں جس کے احسانات سے فیض یاب ہوتا ہے تو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
الاحزاب کے آخر میں فرمایا کہ منافقین اور مشرکین کو ان کے کیے کی ٹھیک ٹھیک سزا دینا اور ایمانداروں کی کمزوریوں کو معاف کرتے ہوئے ان پر اپنا کرم فرمانا یہ اللہ تعالیٰ کی بخشش اور مہربانی کا نتیجہ ہے۔ سورة سبا کا آغاز اس ارشاد سے ہو رہا ہے کہ اس پر مومنوں کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
عربی زبان میں ” ال “ کا لفظ کئی معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں استغراق بھی شامل ہے۔ استغراق کا معنٰی ہے جس میں ہر چیز کا احاطہ کرلیا جائے۔ گویا کہ ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ “ سے مراد ہے کہ ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ تعریف با لواسطہ ہو یا بلا واسطہ۔ مفہوم یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص پھول کے…
Read the full tafseer →ہر قسم کے تمام محامد کا حقدار :
1: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (تمام تر حمد اسی اللہ تعالیٰ کے لائق ہے جس کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور) وَلَہُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَۃِ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (جو کچھ زمین میں ہے اور اسی کی حمد آخرت میں سزا وار ہے اور وہ حکمت والا خبردار ہے) ۔ اَلْحَمْدُ اگر الف لام عہد کا لیا جائے تو اس سے مراد وہ ہے جس سے اس کی تعریف کی جائے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے محمود ہے نمبر 2۔ اور اگر الف لام استغراق کا مانیں تو وہ تمام محامد ظاہریہ، باطنیہ، سریہ ‘ جہریہ کا حقدار ہے۔ للّٰہ لام تملیک کا ہے کیونکہ تمام حمد کرنے…
Read the full tafseer →تفسیر 1۔ ، الحمد اللہ الذی لہ مافی السموات ومافی الارض ، وہی سب کا مالک ہے اور وہی سب کا خالق ہے۔ ، ولہ الحمد فی الا خرۃ ، جیسا کہ اس کے یے دنیا میں تعریفیں تھیں کیونکہ دونوں جہانوں میں اسی کی تعریفیں ہیں اور بعض نے کہا کہ الحمد اللہ آخرت میں لوگوں کی زبان پر ہوگی ۔ اہل جنت اس سے تعریف بجالائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ، وقالو ا الحمد اللہ الذی اذھب عناالحزن، اور الحمد اللہ الذی صدقنا وعدہ، وھو الحکیم الخبیر ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1‘ 2۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ دنیا اور آخرت میں سب تعریف اللہ ہی کو زیبا ہے کیوں کہ انعام کرنے والا دنیا اور آخرت کے لوگوں پر وہی ہے اور وہی سب کا مالک ہے اور سب کے اوپر اسی کا حکم جاری ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد کیا وھواللہ لا الہ الاھو الحمد فی الاولیٰ والآخرۃ ولہ الحکم والیہ ترجعون جس کا حاصل یہ ہے کہ سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں اس لیے اسی کے لیے تعریف ہے دنیا اور آخرت میں اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم پھیرے جاؤگے ‘ پھر فرمایا وہی اپنے ہر کام میں بڑی حکمت والا ہے اور بڑا خبردار ہے جس پر کوئی چیز چھپی نہیں رہتی ہے پھر فرمایا پانی کی بوندیں جس قدر زمنر میں جانے والی ہیں اور جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 1
حمد سے مراد، صفات حمیدہ اور افعال حسنہ کے ذریعہ سے، ثنا بیان کرنا ہے، لہٰذا ہر قسم کی حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے کیونکہ وہ اپنے اوصاف کی بنا پر مستحق حمد ہے، اس کے تمام اوصاف، اوصاف کمال ہیں۔ وہ اپنے افعال پر مستحق حمد ہے کیونکہ اس کے افعال، اس کے فضل پر مبنی ہیں جس پر اس کی حمد اور اس کا شکر کیا جاتا ہے اور اس کے عدل پر مبنی ہیں جس کی بنا پر اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اسمیں اس کی حکمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد اس بنا پر بیان کی ہے کہ (لہ ما فی السموت وما فی الارض) ” زمین اور آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے “ یعنی ہر چیز اسی کی ملکیت اور اسی کی غلام…
Read the full tafseer →1 شکر منعم انسانی فطرت کی بدیہیات میں سے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سب تعریفیں اس اللہ ہی کیلئے ہیں جس کیلئے وہ سب کچھ ہے جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے "۔ خَلْقًا وَمِلْکًا وتَصَرُّفًا، یعنی آسمان و زمین کی اس عظیم الشان کائنات کا خالق بھی وہی ہے، مالک بھی وہی اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ پس عبادت و بندگی کے لائق اور اس کا حقدار بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب اس کی صفات و شؤون میں کوئی بھی اسکا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی کے حق میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو منعم کے شکر کا واجب ہونا انسانی فطرت کی بدیہیات میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ﷲ کی حمد وثناء
تشریح : اللہ الہ العٰلمین ہے۔ رب العٰلمین ہے۔ خالق کون و مکان ہے۔ رب المشرقین و المغربین ہے۔ حافظ و ناصر ہے۔ علی العظیم ہے۔ حی القیوم ہے یعنی اسی کا سب کچھ پیدا کیا ہوا ہے اسی کے حکم اور ارادے سے ہر چیز حرکت کرتی ہے۔ پیدا ہوتی ہے نشو ونما پاتی ہے پھر ختم ہوجاتی ہے اور پھر اسی کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ یہ سب کچھ کرنے میں نہ تو اس کو کسی کی مدد کی ضرورت ہے اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔ انسانی عقل میں اللہ کا وجود نہیں آسکتا اسی طرح اس کی تعریف اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں کی تعریف نہ تو انسان کے بس میں ہے اور نہ ہی کسی میں اتنی ہمت اور طاقت ہے کہ وہ اس کی تخلیقات کو گن سکے یا ان کی پوری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة السبا
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 9:
اسرار و معارف :
تمام خوبیاں اور سب کمالات اللہ کو سزا وار ہیں کہ جو آسمانوں اور زمینوں کا اور ان میں موجود ہر ذرے کا خالق اور اکیلا مالک ہے اور وہ بہت ہی حکمت والا ہے اور ہر ذرے سے خوب واقف ہے اس جہان میں اور آخرت میں ہر ذرہ اس کی تاثیرات اور نتائج سب کا مالک وہی ہے۔ اللہ کو خوب علم ہے کہ زمین کے ذرات میں کس طرح بارش کا پانی سورج اور چاند کی کرنیں یا مختلف گیسیں داخل ہو کر کیا عمل کرتی ہیں اور پھر وہ ذرات کس طرح پھلوں پھولوں یا غذا میں تبدیل ہو کر نکلتے ہیں اور کون سا ذرہ کس جسم کی تعمیر کے لیے تیار کرکے کس کس طویل راستے سے اس بدن تک پہنچے گا نیز اللہ خوب…
Read the full tafseer →ف 4 مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی البتہ اس کی آیت ( ویری الذین اوتو العلم) کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض اسے مکی قرار دیتے ہیں اور بعض مدنی۔ ( شوکانی) ۔5 یعنی جس طرح دنیا کی ہر نعمت اسی کی عطا کردہ ہے اسی طرح آخرت میں نیک بندوں کو بھی نعمت حاصل ہوگی وہ اسی کی عطا کردہ ہوگی۔ یہاں بھی ہر تعریف و ستائش کا مستحق وہی ہے اور وہاں بھی وہی ہوگا چناچہ نیک بندے جب جنت میں داخل ہونگے تو کہیں گے ( الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ) شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا فرمایا۔ ( زمر : 74) نیز دیکھئے۔ ( اعراف : 43، فاطر : 35)6 یعنی اس کا ہر غایت درجہ حکمت پر مبنی ہے اور اسے اپنی ہر مخلوق کے…
Read the full tafseer →(34:1) الحمد۔ میں الف لام استغراق کا ہے۔ یعنی ہمہ نوع حمدوثنائ۔ صاحب تفسیر حقانی رقمطراز ہیں کہ :۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ سورة سبا مکہ میں نازل ہوئی۔ اس قسم کی سورتیں کہ جن کے اول میں الحمد للہ ہے پانچ ہیں۔ ان میں سے دو نصف اول میں ہیں۔ الانعام الکہف اور دو اخیر قرآن میں ہے ایک یہ دوسری ملائکہ پانچویں الحمد جس کو چاہو نصف اول میں شمار کرو۔ خواہ نصف آخر میں اور سر (راز) اس میں یہ ہے کہ خدا کی بیشمار نعمتیں دو قسم کی ہیں :۔
(1) ایک نعمت ایجاد ہے کہ اس نے معدوم سے ہم کو موجود کردیا۔
(2) دوسری نعمت بقا ہے کہ ہم کو باقی رکھا۔ اور زندہ رہنے کے سامان عطا کئے۔ اور بندہ کی بھی دو حالتیں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 2
یلج : داخل ہونا ہے
یخرج : نکلتا ہے
ینزل : اترتا ہے
یعرج : چڑھتا ہے
تشریح :ـ آیت نمبر 1 تا 2
اللہ جو کامل ہستی ہے اس نے اپنی قدرت کا مل سے اس کائنات کے ذرے ذرے کو پیدا کر کرے ہر چیز میں ایک ایسا حسن و خوبی ، کمال و جلال اور ان کے درمیان حسین تو ازن پیدا کیا ہے کہ اگر اس میں ذرا بھی غور و فکر کیا جائے تو انسان بےساختہ کہہ اٹھتا ہے فتبرک اللہ احسن الخالقین : وہ اللہ کتنی برکتوں والا ہے جو سارے پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر ین خالق ہے ۔ اللہ ہر چیز کی حکمت کو جانتا ہے اور وہ اپنی بنائی ہوئی کائنات سے بیخبر نہیں ہے۔ بلکہ وہ ہر چیز کی کیفیات اور حالات سے پوری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
توحید کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ دنیا اور آخرت میں سب تعریف اللہ ہی کو زیبا ہے کیونکہ انعام کرنے والا دنیا اور آخرت کے لوگوں پر وہی ہے اور وہی سب کا مالک ہے اور سب کے اوپراسی کا حکم جاری ہے سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں اسی لیے اس کی تعریف ہے دنیا اور آخرت میں، اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم پھیرے جاؤ گے پھر فرمایا کہ پانی کی بوندیں جس قدرزمین میں جانے والی ہیں اور جس قدر دانے زمین کے اندر بوئے ہوئے اور چھپے ہوئے ہیں ان سب کی گنتی وہ جانتا ہے اوجو کچھ زمین سے نکلتا ہے اس کی کیفیت اور شمار کو بھی جانتا ہے ، اور اسی طرح جس قدر قطرے اور روزی آسمان سے اتری ہے اور جو نیک عمل…
Read the full tafseer →[1] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 7 صفحہ 4۔
[2] بااعتبار ربوبیت اور عطائے انعامات کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة سبا
1: قرآن حکیم کا اصلی موضوع بیان یہ ہے کہ ذات باری کے متعلق جو شکوک و شبہات لوگوں کے دلوں میں جہالت کی وجہ سے پیدا ہوگئے ہیں ۔ ان کو دور کرے ۔ اور اس کے تصور کو اس طرح ایمان آفرین شکل میں پیش کرے کہ وہ نفیس انسانیت کے لئے بلندی اور رفعت کا سبب بن سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے صفات وشیون کو جس وضاحت کے ساتھ قرآن حکیم نے بیان فرمایا ہے اس کی مثال کسی مذہبی کتاب میں ملنا مشکل ہے ۔ بلکہ حق تو یہ ہے ۔ کہ فکر انسانی اس سے زیادہ اونچا نہیں اڑ سکتا ۔ اور خدا کے متعلق جس قدر قرآن نے بیان کیا ہے ۔ اس پر سرموا اضافہ ممکن نہیں ۔
فرمایا ستائش اور تعریفیں اس خدائے برتر کو سزاوار ہیں ۔ جو تمام بلندیوں…
Read the full tafseer →(1) تمام تعریفیں اسی اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہی اور اسی کے لائق ہیں جو ایسا ہے اور جس کی شان یہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے اور آخرت میں بھی تمام تعریفیں اسی کو سزا وار اور لائق ہیں اور وہی کمال حکمت کا مالک اور جملہ امور سے باخبر ہے۔ یعنی تمام حمدوثناء اور مدح و شکر اسی کو سزاوار اور لائق ہے جو ہر اس چیز کا مالک ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے یعنی تمام ارضیہ و سماویہ اشیاء اسی کی ملک اور مملوک ہیں اور جس طرح اس عالم میں وہی حمدوثناء کا مستحق اور سزاوار ہے۔
اسی طرح آخرت میں بھی وہی لائق حمدوثناء ہے جیسا کہ اہل آخرت کو حمد قرآن کریم میں کئی جگہ…
Read the full tafseer →ف 1۔ کہ موجودات ارضیہ و سماویہ کو منافع و مصالح پر متضمن بنایا ہے۔
2۔ کہ ان مصالح و منافع کو پیدا کرنے کے قبل سے جانتا تھا، پھر ان کو پیدا کر کے ارضیات و سماویات میں رکھ دیا۔
Read the full tafseer →سب اچھی تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے جو حکیم وخبیر ہے
1 ۔ اس کائنات کی بلندیوں اور پستیوں میں جو کچھ ہے خواہ کوئی چھوٹی چیز ہے یا بڑی سب کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ہرچیز اس کے فرمان کے سامنے سر بسجود ہے جو خوبی اور اچھائی کہیں بھی پائی جاتی ہے اور کسی چیز میں بھی پائی جاتی ہے سب اس کی طرف سے ہے اور اس کے لطف وکرم کا پر تو ہرچیز پر ہے پھر دنیا تو بہرحال دنیا ہے آخرت کی ہرچیز پر بھی اس کا جلوہ ہے وہی آخرت اور آخرت کی چیز کا خالق ومالک بھی ہے اس موجودہ آسمان و زمین کا خالق ومالک بھی ہے اس کو پیدا کرنیوالا بھی وہی ہے ، اس کی قدرت کاملہ سے اس کا قیام ہے وہی اس کا منتظم حقیقی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Commentary
عَالِمِ الْغَيْبِ (the knower of the unseen). This is an attribute of the Rabb (Lord) in whose name an oath has been taken in verse 3. At this place, out of the many attributes of Allah Ta’ ala, the attribute of all-encompassing knowledge and the knowledge of the unseen has, perhaps, been mentioned particularly because the text is dealing with the matter of the deniers of the day of Resurrection. The major reason why the disbelievers rejected the inevitability of Qiyamah, the day of doom, was their inability to comprehend how the whole thing would work out. When all human beings…
Read the full tafseer →1 The Arabic word hamd is used both for praise and for gratitude and both the meanings are implied here. When Allah alone is the Owner of the whole universe and of everything in it, then inevitably He alone deserves to be praised for every beauty, perfection, wisdom, power and excellent skill and design shown and manifested by it. Therefore, every inhabitant of the world must thank AIlah alone for any benefit and pleasure that he draws from anything here. For when no one else is a partner in the ownership of these things, no one else deserves to be praised or thanked.
2 That is, "Just as…
Read the full tafseer →