Explained with ayahs 3–6
قیامت آکر رہے گی۔
پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھاکر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورة یونس میں (وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 53) 10۔ یونس :53) لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہی ہے ؟ تو کہہ دے کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم وہ یقینا حق ہی ہے اور تم اللہ کو مغلوب نہیں کرسکتے۔ دوسری آیت یہی۔ تیسری آیت سورة تغابن میں (زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة سَبـَا 9
یعنی یہ معاندین تمہارے پیش کردہ حق کو باطل ثابت کرنے کے لیے خواہ کتنا ہی زور لگائیں، ان کی یہ تدبیریں کامیاب نہیں ہو سکتیں، کیونکہ ان باتوں سے وہ جہلا ہی کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ علم رکھنے والے لوگ ان کے فریب میں نہیں آتے۔
Read the full tafseer →(آیت) ویری الذین اوتوا العلم، یہ منکرین قیامت کے بالمقابل ان مومنین کا ذکر ہے جو قیامت پر ایمان لائے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو علم رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا وہ اس علم سے مستفید ہوئے۔
Read the full tafseer →ویرہ الذین اوتو العلم الذی انزل الیک من ربک ھوالحق ویھدی الی صراط العزیز الحمید (6)
یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جنکو علم حقیقی کی روشنی عطا ہوئی۔ عام اس سے کہ وہ ان اہل کتاب میں سے ہوں جنہوں نے اپنے نبیوں اور صحیفوں کے علم کو محفوظ رکھا یا ان سلیم الفطر لوگوں میں س ہوں جن کے قلوب ان کی سلامت روی کے باعظ قرآن کی روشنی میں متیز ہوئے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اس چیز کو ابالکل حق سمجھتے ہیں جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے۔ یعنی تم جس توحید کی دعوت دے رہے ہو اور جس قیامت سے لوگوں کو ڈرا رہے ہو، وہ اس کی تائید کر رہے ہیں کہ یہی حق ہے اور جو لوگ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر بڑے طنطنہ کے ساتھ توحید اور قیامت کی…
Read the full tafseer →6۔ 1 یہاں رؤیت سے مراد رؤیت قلبی یعنی علم یقینی ہے، محض رؤیت بصری (آنکھ کا دیکھنا) نہیں اہل علم سے مراد صحابہ کرام یا مومنین ہیں۔ یعنی اہل ایمان اس بات کو جانتے اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔
6 ۔ 2 یہ عطف ہے حق پر، یعنی وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس اللہ کا راستہ ہے جو کائنات میں سب پر غالب ہے اور اپنی مخلوق میں محمود (قابل تعریف) ہے اور وہ راستہ کیا ہے ؟ توحید کا راستہ جس کی طرف تمام انبیا علیھم السلام اپنی اپنی قوموں کو دعوت دیتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
1: جو کافر لوگ آخرت کی زندگی کا انکار کرتے تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ انسان کے مٹی میں مل جانے کے بعد اس کو از سرِ نو زندگی دینا کیسے ممکن ہے ؟ ان آیتوں میں جواب یہ دیا جارہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کو انسان پر قیاس کر رہے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم تو اس کائنات کے ہر چھوٹے سے چھوٹے ذرے کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہے، اور جو ذات آسمان و زمین جیسی عظیم الشان مخلوقات کو بالک عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ مردہ جسم کے ذرات کو دوبارہ اکٹھا کر کے انہیں نئی زندگی عطا کردے ؟ اور آیت نمبر 4 میں آخرت کی زندگی کی عقلی ضرورت بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ کہ اگر یہ دنیا ہی سب کچھ ہے،…
Read the full tafseer →ویری الذین اوتوا ۔۔۔۔۔ صراط العزیز الحمید (6) ” “۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ اہل العلم سے مراد اہل کتاب ہیں جن کو اپنی مذہبی کتابوں کی پیشن گوئیاں کی وجہ سے معلوم تھا کہ قرآن کتاب برحق ہے اور وہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرنے والا ہے ، لیکن آیت کا دائرہ اطلاق اہل کتاب تک محدود نہیں ہے۔ اس سے مطلق اہل علم مراد ہیں۔ یہ آیت کسی زمان و مکان تک بھی محدود نہیں ہے۔ ہر زمانے کے اہل علم اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ ہر زمانے ، ہر نسل اور ہر قسم کے اہل علم مراد ہیں۔ بشرطیکہ ان کا علم صحیح علم ہو۔ اس لیے کہ قرآن کریم تو تمام زمانوں کے لیے کھلی کتاب ہے۔ اس کے اندر جو سچائی ہے وہ ہر زمانے اور علاقے کے اہل علم کے…
Read the full tafseer →8 یعنی اس واسطے قیامت آنی ہے کہ جن لوگوں کو یقین تھا کہ انھیں عین الیقین حاصل ہوجائے اور آنکھوں سے دیکھ لیں کہ قرآن کی خبریں موبہ مو صحیح و درست ہیں اور بیشک قرآن ہی وہ کتاب ہے جو اس زبردست خوبیوں والے خدا تک پہنچنے کا ٹھیک راستہ بتاتی ہے۔ بعض مفسرین نے " ویری الذین " الخ کا مطلب یہ لیا ہے کہ (وَالَّذِيْنَ سَعَوْ فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ ) 34 ۔ سبأ :5) کے برخلاف جو اہل علم ہیں (خواہ مسلمان یا اہل کتاب) وہ جانتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ قیامت وغیرہ کے متعلق قرآن کریم کا بیان بالکل صحیح ہے اور وہ آدمی کو وصولی الیٰ اللہ کے ٹھیک راستہ پر لے جاتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 6 { وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ہُوَ الْحَقَّ } ”اور تا کہ دیکھ لیں وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ پر جو چیز نازل کی گئی ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے“
{ وَیَہْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ } ”اور وہ راہنمائی کرتی ہے ‘ نہایت غالب ‘ لائق ِحمد و ثنا ہستی کے راستے کی طرف۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
8 یعنی ایسی سازشوں اور کوششوں میں اپنی ساری عمر گزار دی کہ کہیں اسلام کو غلبہ اور سربلندی حاصل نہ ہوجائے۔ یا اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے عقیدہ آخرت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے اور انھیں ان کے ناپاک ارادوں کے عوض عذاب بھی اسی قسم کا دیا جائے گا۔
سابقہ آیات میں ایمانداروں کے لئے رزق کریم اور مغفرت دونوں کا ذکر فرمایا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصائب و مشکلات اور فقر و فاقہ میں زندگی گزارنے والے مومنوں کو عزت کی روزی بھی ملے گی اور مغفرت بھی ہوگی اور جن ایمانداروں کو ابتلاء کا دور دیکھنا ہی نہیں پڑا ان کی بھی مغفرت ضرور ہوجائے گی۔ اسی طرح جن کافروں کا جرم صرف کفر تک ہی محدود…
Read the full tafseer →6۔ یعنی قرآن بجائے خود بھی ایک سچی کتاب ہے، اور رضائے الہی کا راستہ دکھانے والی بھی۔ (آیت) ” اوتوالعلم “۔ یعنی حقائق اشیاء کا ادراک اور کتب آسمانی کی معرفت رکھنے والے۔ (آیت) ” یری “۔ یہاں یعلم “۔ کا مرادف ہے۔ رؤیت کا تعلق صرف بصارت ظاہری سے نہیں۔ قلب بشری سے بھی ہے۔ اور فہم بھی اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ (آیت) ” صراط العزیز الحمید “۔ خدائے غالب ومحمود کا راستہ۔ یعنی اس کی رضا کا راستہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے (اس کلام) کے ذریعہ اپنی تعریف فرمائی ہے، اور مراد اس کلام سے، اس کلام کے مضمون کے ذریعہ، کہ وہ ثبوت حمد ہے تعریف کرنا ہے، اور حمد اللہ تعالیٰ کے لئے صفات کمالیہ کا بیان کرنا ہے ملک کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار سے اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور دنیا کے مانند آخرت میں بھی اسی کی حمد ہے، اس کے اولیاء جب جنت میں داخل ہوں گے تو اس کی حمد بیان کریں گے وہ اپنے فعل میں بڑی حکمتوں والا ہے اور…
Read the full tafseer →ویری الذین اوتوا العلم الذی انزل الیک من ربک ھو الحق ویھدی الی صراط العزیز
الحمید . اور جن لوگوں کو (آسمانی کتابوں کا) علم دیا گیا ہے ‘ وہ اس قرآن کو جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس بھیجا گیا ہے ‘ ایسا سمجھتے ہیں کہ وہی حق ہے اور وہ خدائے غالب و محمود (کی رضا) کا راستہ بتاتا ہے (ترجمہ مولانا اشرف علی (رح) ) ۔
اَلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ سے مراد ہیں وہ اہل کتاب جو مسلمان ہوگئے تھے۔ جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔
قتادہ نے کہا : صحابہ کرام اور ان کی راہ پر چلنے والے مراد ہیں۔ اس تفسیر پر یہ مطلب ہوگا کہ قیامت کے دن صحابہ کرام اور دوسرے مؤمنین صالحین دیکھ لیں گے کہ قرآن حق ہے ‘…
Read the full tafseer →اور تکاہ جن لوگوں کو توریت کا علم دیا گیا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی وہ قرآن کی صداقت کو سمجھ لیں اور یہ کہ وہ خدائے غالب و محمود کے دین کا راستہ بتاتا ہے۔
Read the full tafseer →وَيَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ۔۔ : ”یری“ میں رُؤیت (دیکھنے) سے مراد یہاں دل کے ساتھ دیکھنا یعنی جاننا ہے۔”3 وَيَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ‘ کا پہلا مفعول ”الَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ“ ہے اور دوسرا مفعول ”الحق“ ہے۔ ”ھو“ ضمیر فصل ہے۔ خبر ”الحق“ پر الف لام کی وجہ سے اور ضمیر فصل کی وجہ سے کلام میں حصر اور تاکید پیدا ہوگئی، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”وہی حق ہے۔“ ”الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ“ سے مراد سب سے پہلے صحابہ کرام ہیں، پھر تمام مسلمان جو فکرو دانش اور علم نافع سے بہرہ مند ہوئے، یا اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائے، جیسے عبداللہ بن سلام ؓ۔ اس آیت اور اس سے…
Read the full tafseer →جب ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جنہوں نے نبوت کو باطل کرنے کی کوشش کی تو اس امر کو واضح کیا کہ جن لوگوں کو علم دیا گیا وہ یہ جانتے ہیں کہ قرآن حق ہے۔ مقاتل نے کہا : آیت : الذین اوتوا العلم سے مراد اہل کتاب میں سے مومن ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد حضور ﷺ کے صحابہ 4 ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد تمام مسلمان ہیں۔ یہ اپنے عموم کی وجہ سے صحیح ترین ہے۔ روایت یہ علم کے معنی میں ہے۔ یہ محل نصب میں ہے اس کا عطف لیجذی پر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی لیجذی ولیری ؛ یہ زجاج اور فراء کا قول ہے۔ اس میں اعتراض کی گنجائش ہے، کین کہ کہ اس کا فرمان لیجذی اس کے فرمان لا تا تیناالساعۃ کے متعلق ہے۔ یہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وہوالحکیم الخبیر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حکیم ہے اپنے کام میں باخبر ہے اپنی مخلوق سے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) روایت کیا کہ آیت یعلم مایلج فی الارض (وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں) یعنی بارش آیت وما یخرج منہا (اور جو چیز نکلتی ہے اس میں سے) یعنی سبزے میں سے آیت وما ینزل من السماء اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے یعنی فرشتے آیت وما یعرج فیہا اور جو اس میں چڑھتے ہیں یعنی فرشتہ۔
3۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت قل بل وربی لتاتینکم۔ علم الغیب کیوں نہیں اور میرا رب جو…
Read the full tafseer →وَيَرَى [اور دیکھتے ہیں ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جن کو ] اُوْتُوا [دیا گیا ] الْعِلْمَ [علم ] الَّذِيْٓ [اس کا جو ] اُنْزِلَ اِلَيْكَ [اتارا گیا آپ ﷺ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ [آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] هُوَ الْحَقَّ ۙ [(وہ پاتے ہیں اس کو ہی) کل حق ] وَيَهْدِيْٓ [اور وہ رہنمائی کرتا ہے ] اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ [حمد کئے ہوئے بالادست کے راستے کی طرف ] ۔
ترکیب : آیت 6 ۔ یری کا فاعل الذین اوتوا العلم ہے جبکہ الذی انزل الیک اس کا مفعول اول ہے اور ھو الحق اس کا مفعول ثانی ہے۔ اگر یہ خبر ہوتا تو الحق آتا۔ اس کی نصب بتارہی ہے کہ یہ یری کا مفعول ہے۔ اس پر لام جنس ہے اور ھو ضمیر فاصل ہے۔
نوٹ۔…
Read the full tafseer →اس کے بعد اہل علم کی تعریف فرمائی (وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ) (الآیۃ) کہ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ اس قرآن کو جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف بھیجا گیا ہے حق سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا راستہ بتاتا ہے جو غالب اور مستحق حمد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
اثبات معاد مقرون بہ قسم برائے تہدید اہل کفر وعناد
قال اللہ تعالی۔ وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب۔
(ربط) اوپر تحمید اور توحید کا ذکر تھا اب آئندہ آیت میں منکرین حشر کی ایک بیہودہ بات کا ذکر کر کے اس کا رد فرماتے ہیں اور بیہودگی پر تہدید بھی فرماتے ہیں۔ (شیخزادہ ص 79 ج 4)
اور یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت ضرور آئے گی اور جو لوگ قیامت کے ساتھ استہزا کرتے ہیں ان کو ان کے اعمال کی ضرور سزا ملے گی چناچہ فرماتے ہیں اور کافر اور مشرک جو امانت کے ثواب اور خیانت کے عقاب کے منکر ہیں اور حیات دنیاوی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی ہمیں کسی…
Read the full tafseer →7:۔ ویری الذین الخ : یہ علماء اہل کتاب سے دلیل نقلی ہے وہ علماء اہل کتاب مراد ہیں جو ایمان لا چکے ہیں۔ یعنی مومنی اھل الکتاب عبداللہ بن سلام و اصحابہ (خازن و معالم ج 5 ص 232) ۔ اور ویری یہاں بمعنی یعلم ہے ای و یعلم (روح، مدارک) ۔ ھو الحق میں ھو ضمیر فصل ہے یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ تورات و انجیل کے صحیح عالم تھے وہ بھی جانتے ہیں اور اس پر شاہد ہیں کہ آپ پر جو قرآن نازل کیا گیا ہے وہ سراپا حق ہے اور توحید وتقوی کی راہ دکھاتا ہے۔ یھدی الی صراط العزیز الحمید : یہ دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے یعنی اس قرآن کی نہ صرف علمائے اہل کتاب تصدیق کرتے ہیں بلکہ خود قرآن کی اندرونی شہادتیں بھی اس کی سچائی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة سبا ہے جو کہ اس کی آیت۔ 51 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ سبا ایک شخص ، قبیلے ، شہر اور ملک کا نام تھا جس کا ذکر اس سورة مبارکہ کے دوسرے رکوع میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة نور سے لے کر سورة سجدہ تک ساری مکی سورتیں تھیں۔ اس کے بعد پچھلی سورة الاحزاب مدنی تھی اور یہ سورة پھر مکی ہے۔ آگے پھر تین سورتیں متواتر مدنی ہیں اور اس کے بعد مکی اور مدنی مخلوط سورتیں آئیں گی۔
اس سورة کی چون آیتیں اور چھ رکوع ہیں یہ سورة مبارکہ 388 الفاظ اور 2151 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکی دور کے زمانہ وسطیٰ میں سورة لقمان کے بعد نازل ہوئی۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط
سابقہ سورة احزاب کے آخر میں…
Read the full tafseer →وَيَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ہُوَالْحَقَّ 0 ۙ وَيَہْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ 6
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ…
Read the full tafseer →ترکیب : ویری معطوف علی لیجزی ویمکن ان یکون مستا نفا الذی انزل مفعول اول الحق مفعول ثانی ھو الضمیر للفصل، وقری الحق بالرفع علی الابتداء والخبر، ویہدی فاعلہ الضمیر یرجع الی الذی انزل والمرادبہ القرآن ای القرآن یھدی، ویمکن ان یرجع الی اللہ ویمکن ان یعطف علی موضع الحق بتقدیران اذامزقتم عاملہ محذوف دل علیہ مابعدہ ای تبعثون ممزق مصدر بمعنی تمزیق و یحتمل ان یکون مکانا، جدید بمعنی فاعل من جد، افتری الھمزۃ للاستفہام و ہمزۃ الوصل حذفت استغناء اً ، افلم یرو والمعنی افلم ینظر وا الی ما احاطہ بجواتبھم من السماء والارض ولم یتفکروا اھم اشد خلقا امھی وانا ان نشاء نخسف بہم الارض او نسقط علیہم قطعۃ من السماء…
Read the full tafseer →وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ھُوَالْحَقَّ لا وَیَھْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِالْحَمِیْدِ ۔ (السباء : 6)
(اور جانتے ہیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا، وہ چیز جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف اتاری گئی ہے وہ حق ہے، اور خدائے عزیزوحمید کے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ معاندین اور متمردین آپ کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے جو کچھ کررہے ہیں وہ یقینا آپ کے لیے پریشان کن ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کبھی آپ کی مساعیِ جمیلہ کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مخالفین کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے بارے میں ایک اور ثبوت۔
کسی بھی حقیقت کو جاننے کے لیے دنیا میں جو ثبوت اور دلائل پائے جاتے ہیں ان میں یہ بات ہمیشہ سے مسلّمہ رہی ہے کہ اس مسئلہ کے بارے اس دور کے منعف مزاج اہل علم کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ اگر صحیح اور ٹھوس علم رکھنے والے لوگ اس بات کی تائید کریں تو معاشرتی اعتبار سے اس کو تسلیم کرلیا جاتا ہے۔ جہاں تک قیامت برپا ہونے کا عقیدہ ہے اس کے بارے میں ہر دور کے دانش ور اور اہل علم یہ عقیدہ رکھتے ہیں اور رکھیں گے کہ قیامت ہر صورت برپا ہوگی۔ اور عقل کا بھی یہ تقاضا ہے کہ قیامت قائم ہونی چاہیے تاکہ ہر کسی کو اس کے کیے کی جزا یا سزا مل سکے۔
اسی فکر کی…
Read the full tafseer →6: وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ (اور جانتے ہیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا) یَرٰی۔ یہ یعلم جاننے کے معنی دے رہا ہے۔
: یہ موضع رفع میں جملہ مستانفہ ہے۔ اوتوا العلم سے مراد اصحاب رسول ﷺ اور ان کے پیروکار یا نمبر 2۔ علمائے اہل کتاب جنہوں نے اسلام قبول کیا جیسے عبداللہ بن سلام اور کعب احبارو غیرہم۔ الَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ (جو آپ کے رب کی طرف سے بھیجا گیا) یعنی قرآن مجید ھُوَ الْحَقَّ (وہ حق ہے) یعنی سچ ہے۔
نحو : ھُوَیہ ضمیر فصل ہے اور الحقؔ یہ مفعول ثانی ہے۔ نمبر 2۔ موضع نصب میں لیجزی پر معطوف ہے ای لیعلم اوتوا العلم عند مجئی الساعۃ انہ الحق علمًا لا یزاد علیہ فی الایقان…
Read the full tafseer →6، ویری الذین، اور وہ ان لوگوں کو دیکھتا ہے۔ ، اوتوا العلم، اس سے مراد اہل کتاب عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہیں۔ قتادہ کا بیان ہے کہ اس سے مراد آپ ﷺ کے صحابہ ہیں۔ ، الذی انزل الیک من ربک ، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، ھو الحق، یہ اللہ کی طرف سے حق ہے۔ ، ویھدی، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، الی صراط العزیز الحمید ، اس سے مراداسلام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5‘ 6۔ اوپر نیک لوگوں کا اور ان کی نیکیوں کی جزا کا ذکر فرمایا کر اب بدلوگوں کا اور ان کی سزا کا ذکر فرمایا کہ لوح محفوظ میں جس طرح نیکیوں کی جزا کا حال لکھا ہوا ہے اسی طرح یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے کی کوشش کی اور ان کو شعر اور جادو کہا تاکہ ان آیتوں سے لوگوں کو روکیں اور اسی طرح رسول کو شاعر اور جادو گر کہہ کر جھٹلایا ان بدبختوں کے واسطے بلا کی مار ہے دکھ دینے والی رجز کے معنی بری طرح کے عذاب کے ہیں ‘ اب آگے فرمایا لوح محفوظ میں قیامت کا آنا جہاں لکھا ہے اور نیک وبد کی جزا وسزا کا حال لکھا ہے وہاں قیامت کے آنے کا یہ فائدہ بھی لکھا ہے کہ علم الٰہی کے موافق جن لوگوں نے…
Read the full tafseer →(آیت 6)
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے منکرین قیامت کے انکار کا اور ان کی اس رائے کا تذکرہ فرمایا کہ جو کچھ رسول پر نازل ہوا ہے حق نہیں ہے، تو اس کے اپنے مومن بندوں کا حال بیان کیا ہے جو اہل علم ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر جو کتاب نازل کی ہے اور جن اخبار پر یہ کتاب مشتمل ہے، وہ برحق ہیں، یعنی حق صرف اسی کے اندر ہے اور جو چیز اس کتاب کی مخلاف اور اس سے متناقض ہے وہ باطل ہے کیونکہ وہ علم کے درجہ یقین پر پہنچ چکے ہیں (و) ” اور “ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اوامرونواہی کے ذریعے سے (یھدی الی صراط العزیز الحمید) ” اس ہستی کی راہ دکھاتا ہے جو غالب اور لائق حمد…
Read the full tafseer →16 نور علم وسیلہ سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا وہی حق ہے "۔ جیسے اہل کتاب کے حق پرست و منصف مزاج علمائ، صحابہ کرام ؓ اور ان کے بعد کے جملہ علمائے حق ۔ کمؤمنی اہل الکتاب أو کالصحابۃ ومن تبعہم ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 176) ۔ سو اس سے علم صحیح کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسی کے نور سے انسان کو راہ حق و صواب کی معرفت اور اس کی پہچان نصیب ہوتی ہے۔ سو کس قدر کوتاہ نظر اور قدر ناشناس ہیں وہ لوگ جو دولت علم کی اس عظمت کو نہیں پہنچانتے اور وہ اس کی تنقیص کرتے اور اس کی قدر گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
ﷲ کی قدرتیں اور کفار کی بےوقوفی اور ضد
تشریح : جیسا کہ پہلے اللہ کی حکمتوں کا ذکر ہوچکا ہے اور ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور واحد ہے اس نے پوری کائنات کو تخلیق کیا تو اس کی ہر چیز کا حساب کتاب اس نے اپنے پاس لوح محفوظ میں محفوظ کر رکھا ہے یعنی پیدا ہونا پھولنا اور پھلنا پھر ختم ہو کر اللہ کی طرف ہی لوٹ جانا ہے کیونکہ اس نے کوئی چیز جاندار ہو یا بےجان بےمقصد پیدا نہیں کی۔ سب کی پیدائش کا ایک مقصد ہے۔ جو بھی اپنے مقصد سے ہٹ کر زندگی گزارے گا وہ ضرور دنیا میں تکلیف اٹھائے گا پھر اس امتحان کی زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی آئے گی جو قیامت کے بعد شروع ہوگی اس وقت اس دنیا کے حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة السبا
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 9:
اسرار و معارف :
تمام خوبیاں اور سب کمالات اللہ کو سزا وار ہیں کہ جو آسمانوں اور زمینوں کا اور ان میں موجود ہر ذرے کا خالق اور اکیلا مالک ہے اور وہ بہت ہی حکمت والا ہے اور ہر ذرے سے خوب واقف ہے اس جہان میں اور آخرت میں ہر ذرہ اس کی تاثیرات اور نتائج سب کا مالک وہی ہے۔ اللہ کو خوب علم ہے کہ زمین کے ذرات میں کس طرح بارش کا پانی سورج اور چاند کی کرنیں یا مختلف گیسیں داخل ہو کر کیا عمل کرتی ہیں اور پھر وہ ذرات کس طرح پھلوں پھولوں یا غذا میں تبدیل ہو کر نکلتے ہیں اور کون سا ذرہ کس جسم کی تعمیر کے لیے تیار کرکے کس کس طویل راستے سے اس بدن تک پہنچے گا نیز اللہ خوب…
Read the full tafseer →ف 3 مراد صحابہ کرام ہیں یا تمام مسلمان اور با اعتبار عموم یہ دوسرا احتمال زیادہ صحیح ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان سے مراد اہل کتاب ہیں اور غالباً ترجمہ کا بریکٹ ( اگلی کتابوں کا) اسی قول کے پیش نظر ہے مگر یہ قول بوجہ ضعیف ہے۔ ( قرطبی) بعض نے (ویری الذین الایۃ) کو ولیجوی پر معطوف مانا ہے اور یہ مطلب لیا ہے یعنی اس واسطے قیامت آنی ہے کہ جن کو یقین تھا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ قرآن برحق تھا۔۔۔۔ ( وحیدی)
Read the full tafseer →(34:6) ویری الذین اوتوا العلم الذی انزل الیک من ربک ھو الحق۔ یری فعل الذین اوتوا العلم فاعل الذی انزل الیک مفعول اول ھو ضمیر الفصل الحق مفعول ثانی۔
اوتوا العلم وہ جن کو علم دیا گیا۔ مراد اس سے یا اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے اہل علم ہیں یا اہل کتاب کے علماء میں سے جو مشرف با سلام ہوئے مثلاً عبداللہ بن سلام وکعب وغیرہ ؓ ترجمہ :۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ اس قرآن کو جو تیرے پروردگار کی طرف سے تیری طرف ضمیر فاعل الذی انزل کی ضمیر ہے ای القران۔
العزیز (فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ) غالب ، زبردست، قوی، گرامی قدر۔ الحمید (حمد سے فعل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ بمعنی مفعول) ستودہ، صفت کیا ہوا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
لغات القرآن : آیت نمبر 3 تا 6
لا یعزب : دور نہیں کرتا۔ دور نہیں ہے
مثقال : برابر
اصغر : چھوٹا
رزق کریم : عزت کا رزق
سعوا : انہوں نے کوشش کی
معجزین : بےبس اور عاجز کرنے والے
رجز : سخت عذاب
یھدی : وہ ہدایت دیتا ہے
تشریح : آیات نمبر 3 تا 6
کفار مکہ رسمی طور پر قیامت کا انکار نہیں کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کو اپنے قیاس کرکے اس بات کو ممکن سمجھتے تھے کہ جب انسان مرنے کے بعد گل سڑ جائے گا اور اس کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے یا کائنات ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائے گی تو دوبارہ انسان اور کائنات کیسے پیدا ہوسکے گی ؟ وہ اپنی بےعقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسان کے دوبارہ پیدا ہونے ، اس کے ذرات جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
قیامت میں دوبارہ اٹھنے کا ذکر۔
(ف 1) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا آناجگہ جگہ قسم کھاکر تاکید سے فرمایا کہ اس سے ایک تو ان منکروں کا جواب دینامقصود تھا جو قیامت کے منکر تھے اور نبی ﷺ جب قیامت کا ذکر فرماتے تو یہ بڑا تعجب کرتے تھے اور دوسرامقصود یہ تھا کہ قیامت کے دن حسبا کتاب عملوں کا تولنا، جنت اور دوزخ میں داخل ہونا، جن جن باتوں کا ذکر ہے اس باتوں پر مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہوجائے کیونکہ جب تک ان باتو پر ایمان مضبوط نہ ہوگا خلوص سے نیک کام آدمی سے نہ ہوسکے گا جب تک نیک نیت سے نیک کام نہ کیا جائے تو اوپری دل سے کیا کام مقبول نہیں ہے قرآن شریف اور حدیث شریف میں قیامت کا نام یوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
[8] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
تابشِ نظر
1: پیغمبر کی نظروں میں اہام اور وحی کی وجہ سے اس درجہ تابش آجاتی ہے ۔ کہ وہ ان واقعات وحقائق کو اس طرح محسوس کرتے ہیں جو آئندہ کئی صدیوں کے بعد آنے والے ہیں جس طرح ہم موجودہ مناظر کو دیکھتے ہیں ۔ وہ ان کے متعلق محکم یقین رکھتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے جانے کا ذریعہ کمزور استدلال نہیں ہوتا ۔ جس میں شک وشبہ کو اصلاً دخل نہیں ۔ وہ پیغمبر از بصیرت سے دیکھتے ہیں اور القاء وکشف سے حقائق وواقعات کو جانتے ہیں ان کے زمانے کے لوگ صرف الہام کی عظمت سے آگاہ نہیں ہوتے ۔ بلکہ پرلے درجے کے توگ ماہ نظر بھی ہوتے ہیں ۔ وہ ان کی باتوں کو محض جنون اور کذب سمجھتے ہیں ۔ ان کی نظریں سلیحی ہوتی ہیں ۔ اس لئے وہ…
Read the full tafseer →(6) اور وہ لوگ جن کو کتب سماویہ کا صحیح علم دیا گیا ہے وہ تو اس کتاب کو جو آپ کے پروردگار کی جانب سے آپ ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔ یہی جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے اور وہ اس اللہ تعالیٰ کا راستہ بتاتی ہے اس کے رستے کی رہنمائی کرتی ہے جو بڑا زبردست اور جملہ صفات محمودہ سے متصف ہے۔ یعنی جو لوگ اہل علم ہیں ان کو یقین ہے کہ یہ قرآن کریم حق ہے اور چونکہ اس قرآن کریم میں قیامت کا ذکر ہے اس لئے قیامت یقینی ہے۔
بہرحال ان اہل علم سے مراد یا تو صحابہ کرام ہیں اور ان کے تابعین ہیں اور یا اہل کتاب کے وہ علماء ہیں جو اسلام قبول کرچکے تھے۔
جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور کعب بن احبار ؓ وغیرہ۔ ایسا ہی ایک مضمون سورة شعراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 5۔ آیات قرآنیہ کی تکذیب پر یہ سزا ہونا ہی چاہئے، کیونکہ اول تو قرآن فی نفسہ امر حق منزل من اللہ ہے، اور ایسے امر حق کی تکذیب خود حق تعالیٰ کی تکذیب ہے، اس پر جتنی سزاہو بجا ہے، دوسرے قرآن راہ راست مرضی عنداللہ کی تعلیم و ہدایت کرتا ہے، جو شخص اس کو نہ مانے گا وہ راہ راست سے قصدا دور رہے گا، نہ اس کو عقائد حقہ کا پتہ لگے گا، نہ اعمال صالحہ کا اور یہی طریقہ تھا نجات کا، پس طریق نجات سے قصدا دور رہنے پر سزا ہونا بےجا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →علم والے جانتے ہیں کہ جو کچھ آپ ﷺ کی طرف نازل ہوا ہے وہ بلا شبہ حق ہے
6 ۔ قرآن کریم کو بغور پڑھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کو جو ضابطے اہل لغات نے تجویز کیے ہیں قرآن کریم کی زبان اور طرز بیان اکثر اس سے انکار کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اہل لغات اس میں اپنے علم کے تیر تکے چلاتے ہی رہتے ہیں حالانکہ قرآن کریم کا طرز بیان ایسا بہترین ہے کہ وہ غیب میں بات کرتے کرتے حاضر کی طرف اور حاضر میں بات کرتے کرتے غیب کی طرف واحد متکلم میں بات کرتے کرتے جمع متکلم اور جمع متکلم میں بات کرتے کرتے واحد متکلم کی طرف کلام منتقل کردیتا ہے اسی طرح دیکھنے کو جاننے اور علم رکھنے اور علم رکھنے اور جاننے کو دیکھنے اسی…
Read the full tafseer →Verse 6: وَيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (34:6) talks about believers in contrast with those who denied the coming of the Qiyamah. The former had put their faith in it and became the beneficiaries of the knowledge given by Allah Ta’ ala to the Holy Prophet ﷺ by revelation.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
9 That is, "These antagonists cannot succeed in their object to prove the truth presented by you false, however hard they may try, for they can only delude and misguide the ignorant people by their designs. Those possessed of knowledge cannot be deceived by them. "
Read the full tafseer →