Explained with ayahs 34–39
نبی اکرم کے لئے تسلیاں۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے۔ فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا، ہاں غربا نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنی نبی سے کہا تھا (قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ01101ۭ) 26۔ الشعراء :111) ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ یہی مضمون دوسری آیت (وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ 27 ) 11۔ ھود :27) ، میں ہے۔ قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے ہیں (اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
سورة سَبـَا 57
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ سے قریب کرنے والی چیز مال اور اولاد نہیں ہے بلکہ ایمان و عمل صالح ہے۔ دوسرے یہ کہ مال اور اولاد صرف اس مومن صالح انسان ہی کے لیے ذریعہ تقرُّب بن سکتے ہیں جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اپنی اولاد کو اچھی تعلیم و تربیت سے خدا شناس اور نیک کردار بنانے کی کوشش کرے۔
سورة سَبـَا 58
اس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ ان کی یہ نعمت لازوال ہوگی اور اس اجر کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ کیونکہ جس عیش کے کبھی ختم ہوجانے کا خطرہ ہو اس سے انسان پوری طرح مطمئن ہو کر لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ اس صورت میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(آیت) فاؤ لئک لہم جزاء الضعفب بما عملوا وہم فی الغرفات امنون، یہ ایمان و عمل صالح والوں کا حال بتلایا گیا ہے، کہ اللہ کے نزدیک مقبول یہی لوگ ہیں، دنیا میں کوئی ان کی قدر پہچانے یا نہ پہچانے، آخرت میں ان کو جزائے ضعف ملے گی۔ ضعف بکسر ضاد مصدر ہے جس کے معنی ایک شے کے مثل یا امثال کے آتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں دولت والے اپنی دولت کو بڑھانے میں لگے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی جزاء کو آخرت میں بڑھا دیں گے، کہ ایک عمل کی جزاء اس کے دس امثال ہوں گے اور اس میں بھی منحصر نہیں، اس کے اخلاص عمل اور دوسرے اسباب سے ایک عمل کی جزا اس کے سات سو گنا تک ملنا بھی احادیث صحیحہ میں ثابت ہے۔…
Read the full tafseer →وما اموالکم ولا اولادک مبالتی تقریبکم عندنا زلفی الا من امن وعمل صالحا فائو لئک لھم جاء الضعف بما عملوا وھم فی الغرفت امنون (37)
’ زلفی ‘ مصدر ہے جس سے مقصود فعل کی تاکید ہے یعنی تقربکم قربۃ۔ مطلب یہ ہے کہ مال و اولاد ان چیزوں میں سے نہیں ہیں جو خدا کے ہاں ذرا بھی وجہ قربت ہوسکیں۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کا امتحان کے لئے دیتا ہے کہ ان کو پاکر بندہ اسکی ناشکری کرتا ہے یا ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرتا ہے اس وجہ سے خدا کے ہاں تقرب کا ذریعہ مال و اولاد نہیں بلکہ ایمان و عمل صالح ہے۔ اگر کسی نے ایمان وعمل صالح کی کمائی نہیں کی تو اس کے لئے مال و اولاد کی زیادتی صرف اس کے وبال میں اضافہ کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 1 یعنی یہ مال اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہمیں تم سے محبت ہے اور ہماری بارگاہ میں تمہیں خاص مقام حاصل ہے۔
37۔ 2 یعنی ہماری محبت اور قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تو صرف ایمان اور عمل صالح ہے جس طرح حدیث میں فرمایا ' اللہ تعالیٰ تمہاری شکلیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا، وہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے (صحیح مسلم)
37۔ 3 بلکہ کئی کئی گنا، ایک نیکی کا اجرکم از کم دس گنا مزید سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
18: اصل بات نہ سمجھنے کی وجہ سے انہیں یہ خیال ہوگیا ہے کہ جب دنیا میں انہیں مال و دولت میسر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں، حالانکہ دنیا میں رزق دینے کا معیار اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ جو جتنا مقرب ہو، اسے اتنا ہی زیادہ رزق دیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے تحت یہاں جس کو چاہتا ہے، رزق زیادہ دیتا ہے، اس کا اللہ تعالیٰ کے تقرب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
وما اموالکم ولا اولادکم ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (27 – 28)
نہایت صراحت کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ رزق کی فراوانی کے ذریعہ کوئی اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوجاتا۔ ہاں اگر کوئی اپنی دولت میں سے فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے تو وہ اللہ کے ہاں مفید ہے۔
Read the full tafseer →8 یعنی مال و اولاد کی کثرت نہ قرب الٰہی کی علامت ہے جیسا کہ اوپر کی آیت میں گزرا ہے۔ اور نہ قرب حاصل کرنے کا سبب ہے۔ بلکہ اس کے برعکس کافر کے حق میں زیادت بعد کا سبب بن جاتا ہے۔ ہاں مومن اگر مال و دولت اور شائستہ بنائے، ایسا مال و اولاد ایک درجہ میں قرب الٰہی کا سبب بنتا ہے۔ بہرحال وہاں مال و اولاد کی پوچھ نہیں۔ محض ایمان و عمل صالح کی پرسش ہے۔
9 یعنی کام پر جتنے اجر کا استحقاق ہے اس سے زائد بدلہ ملے گا۔ کم از کم دس گنا اور زیادہ سے ہو تو سات سو گنا بلکہ اللہ چاہے تو اس سے بھی زیادہ جس کی کوئی حد نہیں۔ ( ۭوَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ) 2 ۔ البقرۃ :261) یہاں…
Read the full tafseer →آیت 37 { وَمَآ اَمْوَالُکُمْ وَلَآاَوْلَادُکُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓی } ”اور دیکھو ! تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایسی چیزیں نہیں کہ وہ تمہیں مرتبے میں ہمارا مقرب ّبنا دیں“
{ اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا } ”سوائے اس شخص کے جو ایمان لایا اور اس نے نیک اعمال کیے۔“
{ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمْ جَزَآئُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَہُمْ فِی الْْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ } ”تو ایسے لوگوں کے لیے ان کے اعمال کا دو گنا اجر ہے اور وہ بالا خانوں میں امن سے رہیں گے۔“
Read the full tafseer →55 اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ مال اور اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جو اللہ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکیں۔ بلکہ یہی چیزیں اکثر انسانوں کے لئے اللہ کے تقرب کے بجائے الٹا اس کے غضب اور غصہ کا سبب بن جاتی ہیں اور اسے لے ڈوبتی ہیں۔ اس کے بجائے اللہ کے ہاں تقریب کا معیار ایمان اور اعمال صالحہ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان لائے اور اعمال صالحہ بھی لائے تو یہی مال اور اولاد اس کے لئے اللہ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ وہ یوں کہ اپنے مال و دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے اور اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت کرکے اسے اللہ کا فرمانبردار بنادے۔
56 ضَعُفَ (ضد نصف یعنی آدھا) یعنی کسی چیز…
Read the full tafseer →54۔ آسمانی بادشاہت میں قدروقیمت تو صرف صحیح ایمانی دستور العمل اور اس کے عملی نفاذ کی ہے۔ (آیت) ” اموالکم ولآ اولادکم “۔ آیت ماقبل کی طرح یہاں بھی ان الفاظ سے مراد لازمی طور پر شخصی جائیدادیں اور افراد کی اولادیں نہیں۔ قوم ہی کی کثرت آبادی اور قومی ہی ثروت مراد ہے۔ (آیت) ” الا من امن وعمل صالحا “۔ یعنی ایمان وعمل صالح کو دستور حیات بنا لینے کے بعد پھر مال واولاد باعث بعد حق نہیں رہ جاتے بلکہ اور موجب برکت بن جاتے ہیں۔ قال سعید بن جبیر المعنی الا من امن وعمل صالحا فلن یغیرہ مالہ وولدہ فی الدنیا (قرطبی) (آیت) ” جزآء الضعف “۔ ضعف سے مراد مطلق زیادتی ہے محض دو گنامراد نہیں۔ اے یجاوز الضعف الی عشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
آیت نمبر 37 تا 45
ترجمہ : اور تمہارے مال و اولاد ایسی چیز نہیں جو تم کو ہمارا مقرب بنادیں، ہاں ! جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے مثلاً نیک اعمال کی جزاء دس گنا یا اس سے بھی زیادہ اور وہ جنت کے بالا خانوں میں موت وغیرہ سے بےخوف ہوں گے اور ایک قراءت میں اَلغُرْفَۃُ ہے اور یہ معنی میں جمع کے ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں قرآن کے باطل کرنے کی تگ ودو میں ہم کو عاجز سمجھ کر لگے رہتے ہیں، یہ سمجھ کر ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، یہی ہیں وہ جو عذاب میں پکڑ کر حاضر کئے جائیں گے، آپ کہہ دیجئے میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے روزی امتحاناً کشادہ کردیتا ہے اور اسی کی…
Read the full tafseer →وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی الا من امن وعمل صالحا اور تمہارے
اموال و اولاد ایسی چیز نہیں جو درجہ میں تم کو ہمارا مقرب بنا دے ‘ مگر ہاں جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے۔
اخفش نے کہا : زلفٰی (یعنی تقرب) اسم مصدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے مال و اولاد کے ساتھ (تمہارے اندر) ایسی خصلت نہیں ہے جو تم کو اللہ کے قرب میں پہنچا دے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بالَّتِی میں ب زائد ہو ‘ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ تم کے مال و اولاد ایسی چیز نہیں جو قرب الٰہی میں پہنچا دے۔
اِلاَّ مِنْ اٰمَنَ الخ میں استثناء منقطع ہے۔ مطلب یہ ہوگا : لیکن جو نیکوکار مؤمن ہو ‘ اس کا ایمان اور عمل قرب الٰہی میں پہنچا…
Read the full tafseer →مکہ والو تمہارے اموال اور اولاد کی زیادتی ایسی چیز نہیں جو تمہیں درجہ میں ہمارا مقرب بنا دے البتہ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور نیک اعمال کرے تو اس کا ایمان و نیک اعمال اسے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب کردیں گے۔ سو ایسے لوگوں کے لیے جو انہوں نے حالت ایمانی میں نیکیاں کی ہیں ان کا دگنا صلہ ہے اور وہ بالاخانوں میں موت وزوال سے بےخوف ہوں گے۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ۔۔ : اس جملے کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ مال و اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکیں، بلکہ یہی چیزیں اکثر انسانوں کے لیے تقرب کے بجائے الٹا اس کے غضب اور غصے کا سبب بن جاتی ہیں اور اسے لے ڈوبتی ہیں۔ اس کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب کا معیار ایمان اور اعمال صالحہ ہیں۔ ”اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا“ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان لائے اور اعمال صالحہ بھی لائے تو یہی مال اور اولاد اس کے لیے اللہ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ وہ یوں کہ اپنے مال و دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے اور اولاد کی صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت : فا و لئک لھم جذاء الضعف بما عملوا اس سے مراد یہی قول ہے ـ: آیت : من جاء با لحسنتہ فلہ عشر امثالھا (الانعام : 160) ضعف کا معنی زیادتی ہے، یعنی ان کے لیے کئی گنا بدلہ ہے یہ اس باب سے ہے کہ مصدر مفعول کی طرف مضاف ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا : ان کے لیے کئی گنا بدلہ ہے۔ ضعف جمع کے معنی میں ہے ضعف کی نسبت جزا کی طرف اسی طرح ہے جس طرح شی کی نسبت اس کی ذات کی طرف ہوتی ہے، جس طرح حق الیعقین، صلاۃ الاولی، یعنی ان کے لیے کئی گنا بدلہ ہے، ایک کے بدلہ میں دس اور اس سے زیادہ جتنا اللہ تعالیٰ ارادہ کرے۔
اس آیت سے استدلال کیا جاتا ہے اس نے جس نے غنا کو فقر پر فضیلت دی۔ محمد بن کعب نے کہا : مومن جب غنی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عندنا زلفی کہ ہمارے نزدیک قرب باعث نہیں۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں کا اندازہ مال کی زیادتی اور اولاد کی زیادت سے نہ لگاؤ کیونکہ کافر کو بھی مال دیا جاتا ہے اور بعض اوقات مومن سے اس کو روک لیا جاتا ہے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ وہ یوں دعا کرتے تھے اے اللہ مجھے ایمان اور نیک عمل عطا فرما اور مجھے مال اور اولاد سے دور رکھ۔ کیونکہ میں نے تیرا ارشاد سنا ہے آیت وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی اور تمہارے مال اور…
Read the full tafseer →وَمَآ اَمْوَالُكُمْ [اور نہیں ہیں تمہارے مال ] وَلَآ اَوْلَادُكُمْ [اور نہ تمہاری اولاد ] بِالَّتِيْ [وہ جو ] تُقَرِّبُكُمْ [نزدیک کردیں تم کو ] عِنْدَنَا [ہمارے پاس ] زُلْفٰٓي [بلحاظ زیادہ قریب ہونے کے ] اِلَّا مَنْ [مگر وہ جو ] اٰمَنَ [ایمان لایا ] وَعَمِلَ صَالِحًا ۡ [اور عمل کیا نیک ] فَاُولٰۗىِٕكَ [تو وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ہے ] جَزَاۗءُ الضِّعْفِ [دوگنے کا (دوہرا) بدلہ ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] عَمِلُوْا [انھوں نے عمل کیا ] وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ [اور وہ لوگ بالا خانوں میں ] اٰمِنُوْنَ [امن میں ہونے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد ایک قاعدہ کلیہ بیان فرمایا (وَمَآ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ ) (الآیۃ) ارشاد فرمایا کہ تمہارے اموال اور اولاد تمہیں ہمارا مقرب بنانے والے نہیں ہیں، جو کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ چونکہ میرے پاس مال اولاد زیادہ ہے اس لیے اللہ کا مقرب ہوں، اور اپنے اعمال کو نہیں دیکھتا وہ شخص احمق ہے اور گمراہ ہے، (اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا) اللہ تعالیٰ کے ہاں تو وہ مقرب ہے جو ایمان لایا اور اعمال صالحہ میں لگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–45
عیش پرستوں کے ایک شبہ کا جواب
قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں ان عیش پرستوں کے وبال اور نکال کا ذکر تھا کہ جو نبوت کے منکر تھے اب ان آیات میں ان عیش پرستوں کا ایک شبہ ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ متکبرین کی اس قسم کی باتوں سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں۔ مشرکین اور کفار اپنے مال و دولت کی کثرت پر فخر کرتے تھے اور اس کو اپنی مقبولیت کی دلیل قرار دیتے تھے ان آیات میں ان کے اس شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا کہ مال و دولت اور جاہ و حشمت اور کثرت اولاد کو اپنی مقبولیت اور افضلیت کی…
Read the full tafseer →39:۔ وما اموالکم الخ یہ زجر ہے۔ زلفی، تقرب کا مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ۔ یہ خطاب کفار سے ہے یعنی مال و اولاد کی کثرت اللہ تعالیی کی بارگاہ میں قرب و کرامت کی دلیل نہیں ہے۔ الا من امن الخ : استثناء منقطع ہے اور یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ فاولئک کی خبر محذوف ہے۔ ای مقربون اور لھم جزاء الضعف الخ جملہ ماقبل کا معلول ہے قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے وہ خدا کے یہاں مقرب ہیں اور اسی وجہ سے انہیں ان کے اعمال کی دگنی جزاء ملے گی۔ اور وہ جنت کے بالا خانوں میں امن و سکون سے رہیں گے۔ جزاء الضعف میں اضافت بیانیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
پہلے توحید اور اس کے دلائل بیان ہوئے پھر اللہ نے قرآن کی حقانیت و صداقت کو واضح کیا اور منکرین کا رد فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے رسالت کا ذکر بھی کیا اور پھر مجرمین کا حال بیان کیا اور حشر میں پیش آنے والے بعض حالات سے آگاہ کیا۔ اب آج کے درس میں اللہ نے نبوت و رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ جب بھی کوئی نبی یا رسول کسی بستی شہر یا علاقے میں مبعوث ہوا اور اس نے لوگوں کو کتاب ، شریعت ، ایمان اور توحید کی دعوت دی تو سب سے پہلے اس بستی کے آسودہ حال لوگوں نے ہی مخالفت کی۔ ارشاد ہوتا ہے وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بستی میں کوئی ڈر سنانے والا یعنی نبی اور رسول الا قال مرفوھا…
Read the full tafseer →وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓي اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا 0 ۡفَاُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ جَزَاۗءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَہُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ 37
ميل
المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین،
والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا،
( م ی ل ) المیل
اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں
اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔
ولد
الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ،
( و ل د )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
اور مال و اولاد کہ جس پر تم کو تفاخر ہے، اللہ کے نزدیک اس سے تمہارا کوئی مرتبہ بلند نہیں ہوجاتا ہے۔ ایماندار اس دنیا میں مسافر ہے، اس کا گھر اوپر ہے، اس کا عیش و آرام اور اس کی زینت و تجمل کی ہمیشہ رہنے والی چیزیں وہیں ہیں، اس کی طرف اس جملہ میں اشارہ فرماتا ہے۔ الامن آمن وعمل صالحا الخ اور وہ اس غرور میں آکر یسعون فی آیتنا معاجزین ہماری آیات کے ابطال میں کوشش کرتے ہیں، وہ وہاں عذاب دائمی میں گرفتار رہیں گے۔ یہ مال و اولاد کچھ کام نہ آوے گا اور یہ بھی خیال نہ کرو کہ کفر کرنے سے دنیا ملتی ہے اور نیکوں کو یہاں کچھ ملتا ہی نہیں بلکہ کہہ دیجئے ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء الخ میرا رب جس کو چاہتا…
Read the full tafseer →وَمَآ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلاَ دُکُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓی اِلاَّ مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ز فَاُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ جَزَآئُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَھُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ ۔ (السباء : 37)
(اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد وہ چیز نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کردے، مگر جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے، پس یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا مضاعف صلہ ہوگا اور وہ بالاخانوں میں اطمینان سے رہیں گے۔ )
زُلْـفٰٓی مصدر ہے جس سے مقصود فعل کی تاکید ہے۔ یعنی تُقَرِّبُکُمْ قُرْبَۃً ۔
ایک غلط تصور کی تردید
گزشتہ سے پیوستہ آیت میں ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ قریش اموال اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
فہم القرآن
ربط کلام : بےدین مال دار طبقہ کا جواب اور رزق کی حقیقت۔
مال دار آدمی کا آہستہ آہستہ یہ ذہن بن جاتا ہے کہ مال کی فراوانی میری محنت اور ذہانت کا نتیجہ ہے بالخصوص وہ مال دار طبقہ جنہیں کئی نسلوں سے مال کی کشادگی حاصل ہو اور وہ من مانی کی زندگی گزار رہے ہوں۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رسی دراز کردی جاتی ہے تو وہ یقین کر بیٹھتے ہیں کہ یہ مال ہماری اور ہمارے بڑوں کی محنت اور ذہانت کا صلہ ہے۔ ان لوگوں کو یہ حقیقت باور کروانے کے لیے نبی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں بتلائیں کہ رزق کی کشادگی اور اس کا کم کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔ انسان کو صرف محنت اور ذہانت کی بنیاد پر رزق کی…
Read the full tafseer →37: وَمَآ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ بِالَّتِیْ (تمہارے اموال و اولادایسی چیز نہیں) تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓی (جو تم کو درجہ میں ہمارے مقرب بنا دے) نہ تمہارے سارے اموال اور نہ تمہاری ساری اولادیں ایسی ہیں جو کہ تمہیں مقرب بنادیں۔
نحو : یہاں جماعۃ اموال و اولاد معنی کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں جمع مکسر کے صیغے دونوں ہیں اور جمع تکسیر میں عقلاء و غیر عقلاء تانیث و تذکیر میں برابر ہوتے ہیں۔ جماعۃ اگرچہ مؤنث ہے مگر اس سے کچھ فرق نہ پڑیگا۔ الزلفٰی والزلفۃ یہ القربی اور القربۃ کی طرح ہے۔ زلفی محلاً منصوب ہے ای تقربکم قربۃً جیسا کہ اس ارشاد میں واللہ انبتکم نباتًا ] نوح :…
Read the full tafseer →37، وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی ، زلفی (تقرب) اخفش کے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے واولاد کے ساتھ ایسی خصلت نہیں ہے جو تم کو اللہ کے قرب میں پہنچا دے۔ ، الا من امن ، جو نیکوکار مؤمن ہو۔ عمل صالحا، ابن عباس ؓ نے فرمایا جو نیکوکار ایمان والا ہو، اس کا عمل قرب الٰہی میں پہنچ سکتا ہے۔ ، فاولئک لھم جزاء الضعف بما عملوا، اللہ ان کے لیے نیکیوں کو دگنا کردیں گے اور ایک نیکی کے بدلے میں دس نیکیاں عطاکریں گے۔
، جزائ، منصوب ہے تنوین کے ساتھ (الضعف) مرفوع ہے۔ تقدیری عبارت یوں ہوگی ، لھم الضعف جزاء ، اور دوسرے قراء نے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، وھم فی الغرفات آمنو، حمزہ نے واحد کے صیغہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
34 تا 39۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کے سرکش دولتمندوں کا ذکر فرمایا تھا کہ وہ قرآن اور قرآن سے پہلے کسی کسی کتاب آسمانی کو نہیں مانتے اور پھر ان مشرکوں کو ڈرایا تھا کہ اب دنیا میں تو یہ لوگ سرکشی کر رہے ہیں میدان حشر میں پچتاویں گے اور ایک دوسرے کو ملامت کریں گے اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی تسکین کے لیے فرمایا ہے کہ قریش پر کچھ موقوف نہیں ہے دولتمند ہمیشہ سے اسی طرح عاقبت سے غافل اور اللہ کے رسولوں کے منکر رہے ہیں مصنف ابن ابی شیبہ تفسیر ابراہیم ابن منذر تفسیر سفیان ثوری اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی عبدالرحمن بن زید اور عبداللہ ابور زین کی روایت 2 ؎ سے بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
آیت 34
اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنہوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھات یپیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انہوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا (وقالوا نحن اکثر اموالاً و اولاداً ) ” اور انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں “ یعنی ان لوگوں سے جنہوں نے حق کی اتباع کی۔ (وما نحن بمعذبین) ” اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ “ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →84 سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ایمان وعمل صالح : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان اور عمل صالح سعادت دارین کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پاک کے یہاں اصل قدر و منزلت جس چیز کی ہے وہ ہے ایمان اور عمل صالح۔ اس کے ساتھ مال و اولاد بھی اگر مل جائے تو یہ چیزیں بھی اس کے لئے قدر و منزلت میں اضافے کا ذریعہ بن جائیں گی۔ کیونکہ مومن صالح ان میں اللہ پاک کے احکام و ہدایات کے مطابق عمل کرکے اس کی رضا و خوشنودی سے سرفراز ہونے کا سامان کرتا ہے جس سے اس کی دنیا بھی اس کیلئے دین اور نیکی بن جاتی ہے۔ سو ایمان و یقین کے ساتھ دنیا ملے تو بھی خیر اور نہ ملے تو بھی خیر۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
نیک اعمال کی اہمیت
تشریح : صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ مال اولاد اور رتبہ قیامت میں چھڑا نہ سکے گا صرف اعمال کے بدلے میں ہی جنت ملے گی یا دوزخ ملے گا۔ رزق تو اللہ اپنی مرضی اور اپنے حساب کتاب یعنی نظام دنیا کو چلانے میں توازن رکھنے کے لیے دیتا ہے۔ اور پھر اس دنیا میں آزمائش کا سب سے بڑا ذریعہ اولاد اور مال ہی تو ہے۔ یہ سب حقیقتیں بتانے کی وجہ سے ہی تو سیدنامحمد ﷺ کو ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا کہا گیا ہے، نذیر اور بشیر
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
(اقبال)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 37 ۔ تا۔ 45
اسرار و معارف :
دنیا کی نعمتوں میں مال اور اولاد بیشک بہت بڑی نعمت ہیں لیکن یہ سب کچھ طاقتور اقتدار اور صحت وغیرہ سب عظیم نعمتیں ہیں مگر انہیں اللہ کی رضا مندی کی دلیل سمجھ لینا سب سے بڑی جہالت ہے کہ یہ سب سب کچھ تو کفار و مشرکین کے پاس بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنی حکمت سے تقسیم فرماتا ہے اور اس کی حکمت سے وہ خود ہی واقف ہے ہاں اس کی رضامندی کی دلیل یہ ہے کہ ایمان کامل نصیب ہو اور نیک اعمال کی توفیق ارزاں ہو ایسے لوگوں کو یقینا ان کے اعمال سے کئی گنا زیادہ اجر دیا جائے گا اور یہ لوگ خوبصورت بالا خانوں کے جھروکوں میں مزے سے بیٹھے ہوں گے بغیر کسی قسم کے…
Read the full tafseer →ف 1 مطلب یہ ہے کہ محض کسی شخص کا صاحب مال و اولاد ہونا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب اور پسندیدہ ہونے کی علامت نہیں ہوسکتا۔ ہاں اگر مال و اولاد کو عمل صالح کا ذریعہ بنایا جائے تو بیشک یہ چیزیں قرب الٰہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔2 یعنی دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ دیکھئے سورة بقرہ آیت 261( ابن کثیر)3 یہاں ” عرفات “ سے مراد منازل و درجات ہیں اور ” کوئی فکر نہ ہوگی “ کیونکہ جنت کی نعمتیں ابدی اور دائمی ہوں گی۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(34:37) بالتی بمعنی التی صیغہ واحد مؤنث غائب اموال واولاد کے لئے آیا ہے دونوں جمع مکسر کے صیغے ہیں اور جمع مکسر ذوی العقول اور غیر ذوی العقول کے لئے ضمیر واحد مؤنث آئے گی۔ تقربکم تقرب تقریب (تفعیل) سے مضارع صیغہ واحد مؤنث غائب اور یہاں اموال واولاد کے لئے استعمال ہوا ہے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہے وہ تم کو قریب کردیں گے۔ قرب سے یہاں مراد قرب منزلت ہے۔
زلفی۔ درجہ۔ مرتبہ۔ قربت۔ قدرومنزلت، زلف وزلف وزلفی مصدر ہیں زلف (باب نصر) بمعنی آگے ہونا۔ قریب ہونا۔ ازلف باب افعال قریب کرنا۔ قریب لانا۔ مثلاً وازلفت الجنۃ للمتقین (50:21) اور بہشت پرہیزگاروں کے نزدیک لائی جائے گی
منازل لیل یعنی رات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 38
مترفون : مال دار۔ دیش پسند لوگ
یبسط : وہ کھولتا ہے
یقدر : اندازے سے دیتا ہے
تقرب : قریب کردے گی
زلفی : درجہ ۔ مقام
الضعف : دوگنا
الغرفات (غرفۃ): بالاخانہ۔ بلندو بالا
معجزین : عاجز و بےکس کرنے والے
تشریح : آیات نمبر 34 تا 38
جن لوگوں کے پاس دنیا کی قوت و طاقت، حکومت و سلطلنت اور مال و دولت ہوتی ہے اور اس وجہ سے ان کو عزت کی نظروں سے دیکھا جانے لگتا ہے تو ان کے اندر ایک غلط اور جھوٹا اعتماد سا آجاتا ہے اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جب انہیں دنیا کی دولت و حشمت اور مال وزراء اور عزت و سر بلندی دی گئی ہے تو وہ آخرت میں ذلیل و رسوا کیوں ہوں گے ؟ یہی وہ غلط اور گمراہ کن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
(ف 1) اس آیت میں نبی ﷺ کی تسکین خاطر فرمائی گئی کہ اپ ان کفار کی تکذیب و انکار سے رنجیدہ نہ ہوں کفار کا انبیاء کے ساتھ یہ دستور رہا ہے اور مال دار لوگ اسی طرح اپنے مال اور اولاد کے غرور میں انبیاء کی تکذیب کرتے رہے۔
امت کے غرباومساکین کی دین سے وفاداری۔
شان نزول : دو شخص شریک تجارت تھے ان میں سے ایک مکہ مکرمہ میں رہا اور ایک ملک شام کو گیا وہاں اس نے نبی ﷺ کی خبر سنی تو اپنے ہم شریک کو مکہ مکرمہ میں خط لکھا ور اس سے نبی ﷺ کا مفصل حال دریافت کیا، اس شریک نے جواب میں لکھا کہ محمد ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان تو کیا ہے لیکن سوائے غریب لوگوں کے کسی نے ان کا اتباع نہیں کیا، جب یہ خط اس کے پاس پہنچا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
[27] یعنی روزی کی فراخی اور تنگی اللہ کے خوش یا ناخوش ہونے کی دلیل نہیں۔ دنیا میں کتنے ہی بدمعاش، ظالم، بےایمان پھلتے
پھولتے اور مزے اڑاتے نظر آتے ہیں اور بہت سے توحید پرست، پرہیزگار اور نیک بندے تنگ دستی اور مصیبت میں مبتلا رہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ دولت و افلاس یا فراخی و تنگی اللہ کی نظر میں کسی کے محبوب یا مغضوب ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ معاملات تو دوسرے مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہیں جن کو اللہ ہی جانتا ہے مگر بہت سے لوگ اس نکتے کو نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
روحانی تقاضے
1: مکہ والوں کو مال و دولت اور اپنی اولاد پر بڑا غرور تھا وہ سمجھتے تھے کہ اس سے زیادہ سعادت اور خوش بختی اور کیا ہوسکتی ہے ۔ کہ ایک شخص دولت سے بہرہ ور ہو ۔ اور اس کے اولاد بھی ہو ۔ ان دوچیزوں کی موجودگی میں روحانیت بےمعنی شے ہے ۔ اور مذہب کی ضرورت نہیں ۔ آج بھی مادہ پرست دنیا یہی سمجھتی ہے ۔ کہ جہاں تک حظوظ دنیا کا تعلق ہے اس سے استفادہ کرنا تو ضروری ہے ۔ اور ان کو پاکر پھر ما بعد الطبعی مسرتوں کے پیچھے دوڑنا حماقت ہے چودہ سو سال کی مادیت میں کوئی فرق نیں ۔ آج بھی وہی خیالات ہیں جو آج سے پہلے مکہ کے جاہلوں میں رائج تھے ۔ اضافہ صرف یہ ہوا ہے ۔ کہ ان لوگوں کی خواہشات محدود تھیں ۔…
Read the full tafseer →(37) اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جو درجے اور مرتبے میں تم کو ہم سے قریب کردیں اور تم کو ہمارا مقرب بنادیں مگر ہاں جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرتا رہے تو یہ ایمان اور عمل صالح بیشک ہم سے قریب ہونے اور ہمارے مقرب ہونے کا ذریعہ اور سبب ہیں سو ایسے لوگوں کو ان کے اعمال کا دوگنا یعنی عمل سے زیادہ صلہ ملے گا اور وہ جنت کے بالاخانوں میں بےخوف بیٹھے ہوں گے۔ یعنی جو لوگ کثرت اموال و اولاد پر نازاں ہو کہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اموال و اولاد ہم کو خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں مقرب بنادیں گے ان کی غلطی اور جہالت کا اظہار فرمایا اور بتایا کہ اصل چیزیں تو ایمان اور عمل صالح ہیں جو ہم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 2۔ یعنی اس حقیقت سے واقف نہیں کہ وسعت رزق کا مدار قبول عنداللہ نہیں ہے بلکہ مدار اس کا دوسری مصلحتوں پر ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کے نزدیک مال و دولت نہیں بلکہ اچھے اعمال کی قدروقیمت ہے
37 ۔ گزشتہ آیت پر اگر غور کرو گے اور دور جدید کے متمول لوگوں اور اغنیاء وامراء کے کردار کو دیکھو گے تو تم پر واضح ہوجائے گا کہ وہ غلطی جو اس دور کے لوگوں کو لگی تھی آج ہمارے دور کے لوگوں کو بھی بدستور اسی طرح لگی ہوئی ہے جس طرح ان لوگوں کو لگی تھی ۔ آپ نے دیکھا کہ وہ ہلاک ہوگئے لیکن یہ غلط فہمی ان کی نہ گئی چلو وہ تو پکڑ لئے گئے اور پھر اس صفحہ ہستی سے اس طرح مٹا دیئے گئے جیسے وہ کبھی اس جگہ آباد ہی نہ ہوئے تھے لیکن افسوس تو ان موجودہ عقل کے اندھوں پر ہے جو اپنی آنکھوں سے ان کی داستانیں پڑھتے ہیں لیکن اس کے باوجود پھر وہی کہتے ہیں…
Read the full tafseer →In the last sentence of verse فَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ (Therefore, such people will have the double reward for what they did, and they will be at peace in the upper chambers (of Paradise). - 34:37), mentioned there is the state of the people of 'Iman (faith) and good deeds for they are the ones acceptable with Allah. Whether or not they are recognized in this world, their return in the Hereafter will be double or manifold. The word: ضِعف (di` f) with a kasrah of the letter: (dad) is a verbal noun which means 'like a thing' or 'the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
57 This can have two meanings and both are correct: (1) That which brings the people nearer to Allah is not wealth and children but faith and righteous deeds; and (2) wealth and children can become a means of nearness to Allah only for that believing, righteous person, who spends his wealth in the way of Allah and tries to make his children God-conscious and righteous by good education and training.
58 Here there is also a subtle allusion that their blessing shall be imperishable, and their reward endless. For one cannot enjoy with full satisfaction of the heart a reward which is likely to…
Read the full tafseer →